سعودی انٹیلی جنس سربراہ خالد الحمیدان نے بغداد میں عراقی وزیراعظم علی الزیدی سے ملاقات کی اور انھیں دورۂ ریاض کی دوبارہ دعوت دی۔
سعودی عرب کے انٹیلی جنس سربراہ خالد الحمیدان نے بغداد میں عراقی وزیراعظم علی الزیدی سے ملاقات کی ہے۔ یہ ملاقات ایسے وقت ہوئی ہے جب دونوں ممالک عراق میں حالیہ فوجی کارروائی کے بعد متاثر ہونے والے دوطرفہ تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ملاقات کے دوران الحمیدان نے عراقی وزیراعظم کو ریاض کے دورے کی دعوت دوبارہ دی۔ الزیدی نے 29 جولائی کو عراق میں ایران سے منسلک مسلح گروہوں کے خلاف مشترکہ امریکی-سعودی فضائی حملوں کے بعد سعودی عرب کا طے شدہ دورہ ملتوی کردیا تھا۔
یہ ملاقات ظاہر کرتی ہے کہ سلامتی، خودمختاری اور عراق میں سرگرم مسلح گروہوں سے متعلق اختلافات کے باوجود دونوں حکومتیں سفارتی رابطے برقرار رکھنا چاہتی ہیں۔
عراقی وزیراعظم کو دورۂ ریاض کی دوبارہ دعوت
خالد الحمیدان نے بغداد میں ہونے والی بات چیت کے دوران علی الزیدی کو سعودی دارالحکومت کے دورے کی دعوت دوبارہ پہنچائی۔ ممکنہ دورے کی نئی تاریخ کا اب تک اعلان نہیں کیا گیا۔
عراقی وزیراعظم کا سابقہ دورہ ان فضائی حملوں کے بعد ملتوی ہوا تھا جن پر بغداد نے شدید اعتراض کیا۔ عراقی حکومت نے فوجی کارروائی کو ملکی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے قومی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کیا تھا۔
سعودی انٹیلی جنس سربراہ خالد الحمیدان نے بغداد میں عراقی وزیراعظم علی الزیدی سے ملاقات کرکے انھیں دورۂ ریاض کی دوبارہ دعوت دی، جسے حالیہ امریکی-سعودی حملوں کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کم کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
حملوں میں ایران سے منسلک مسلح گروہوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی اور سعودی حکام کے مطابق کارروائی ان گروہوں کے خلاف کی گئی جن پر امریکی افواج اور سعودی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا الزام تھا۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق حملوں میں کم از کم 20 جنگجو اور چھ ایرانی مشیر ہلاک ہوئے۔ عراقی حکام نے شہریوں کے ہلاک اور زخمی ہونے کی بھی اطلاع دی، تاہم مجموعی جانی نقصان سے متعلق مختلف اعداد سامنے آئے ہیں۔
سلامتی تعاون بات چیت کا اہم موضوع
بغداد میں الحمیدان کی ملاقاتوں میں سلامتی تعاون کو مرکزی اہمیت حاصل رہی۔ دونوں ممالک کو مسلح گروہوں، سرحد پار حملوں اور عراق کے وسیع تر علاقائی تنازعات کا میدان بننے کے خدشات کا سامنا ہے۔
سعودی عرب بغداد سے مطالبہ کرتا رہا ہے کہ عراقی سرزمین کو پڑوسی ممالک کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔ دوسری جانب عراق نے کہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو دوسرے ممالک کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دے گا، تاہم بغداد نے اپنی منظوری کے بغیر ہونے والی غیر ملکی فوجی کارروائیوں کی مخالفت بھی کی ہے۔
علی الزیدی نے ان الزامات کی تحقیقات کا حکم دیا تھا کہ سعودی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے ڈرون عراق سے بھیجے گئے تھے۔
تازہ ملاقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریاض اور بغداد سلامتی سے متعلق اختلافات کو طویل سفارتی بحران بننے سے روکنے کے لیے براہ راست رابطے جاری رکھنا چاہتے ہیں۔
معاشی تعلقات بھی داؤ پر
سعودی عرب اور عراق کے تعلقات صرف سلامتی کے معاملات تک محدود نہیں۔ دونوں ممالک گزشتہ چند برسوں سے تجارت، توانائی، بنیادی ڈھانچے اور زراعت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
عراق کو اپنے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو اور معیشت کو متنوع بنانے کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ سعودی عرب بھی بغداد کے ساتھ مضبوط معاشی تعلقات کو اپنی وسیع تر علاقائی حکمت عملی کا اہم حصہ سمجھتا ہے۔
تعلقات میں مزید خرابی مجوزہ سرمایہ کاری اور دوطرفہ معاہدوں کو متاثر کرسکتی ہے۔ دورۂ ریاض کی تجدید شدہ دعوت کو سیاسی رابطے بحال کرنے اور معاشی تعاون برقرار رکھنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
قارئین مشرق وسطیٰ کی تازہ صورت حال سے متعلق مزید خبریں ہمس لائیو نیوز پر پڑھ سکتے ہیں۔
علاقائی کشیدگی بڑی رکاوٹ
سعودی عرب اور عراق کے درمیان قریبی تعلقات کی راہ میں کئی پیچیدہ رکاوٹیں موجود ہیں۔ عراق کے ایران کے ساتھ گہرے سیاسی اور معاشی تعلقات ہیں، جبکہ ایران سے منسلک متعدد مسلح گروہ بھی ملک میں سرگرم ہیں۔
ان میں سے بعض گروہ حشد الشعبی کے ذریعے عراق کے سرکاری سلامتی ڈھانچے کا حصہ ہیں۔ اس صورت حال کے باعث بغداد کے لیے داخلی عدم استحکام پیدا کیے بغیر ان گروہوں کی سرگرمیوں کو قابو کرنا مشکل ہے۔
سعودی عرب ایک مستحکم عراق کو علاقائی سلامتی کے لیے ضروری اور ایک اہم ممکنہ معاشی شراکت دار سمجھتا ہے۔ دوسری جانب بغداد کو اپنی خودمختاری کا تحفظ کرتے ہوئے سعودی عرب، ایران اور امریکا کے ساتھ تعلقات میں توازن قائم رکھنا ہے۔
عراق میں امریکی فوجی موجودگی اور ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی محاذ آرائی بھی اس سفارتی عمل کو مزید پیچیدہ بناتی ہے۔
آئندہ کیا ہوگا؟
خالد الحمیدان کا دورہ عراقی وزیراعظم کا سعودی عرب کا سفر ملتوی ہونے کے بعد اعلیٰ سطحی رابطے بحال کرنے کی کوشش ہے۔
تعلقات میں پیش رفت کا اگلا اہم اشارہ یہ ہوگا کہ آیا بغداد اور ریاض عراقی وزیراعظم کے دورے کی نئی تاریخ پر اتفاق کرتے ہیں۔ آئندہ مذاکرات میں سلامتی تعاون، علاقائی کشیدگی میں کمی اور معاشی شراکت داری اہم موضوعات ہوسکتے ہیں۔
فی الحال دورۂ ریاض کی دوبارہ دعوت سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب اور عراق حالیہ فوجی تنازعے کو دوطرفہ تعلقات کے لیے مستقل نقصان کا سبب بننے سے روکنا چاہتے ہیں۔










