اتوار, جولائی 26, 2026

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر: جین زی، حکومت اور میڈیا

Share

جس طرح حکومت نے ’جین زی‘ کو سمجھنے میں غلطی کی، اسی طرح حکومت نواز ٹی وی اینکروں نے بھی نئی نسل کو سمجھنے میں بہت دیر کر دی۔

ملک میں پیپر لیک، امتحانی بے ضابطگیوں اور تعلیمی نظام میں بدعنوانی کے خلاف شروع ہونے والا احتجاج بالآخر رنگ لایا۔ ’جین زی‘ (Generation Z)، یعنی نئی نسل، نے ایک ایسی حکومت کو جھکنے پر مجبور کر دیا جس کے نمائندے کہتے تھے کہ اس حکومت میں استعفے نہیں ہوتے۔

ملک گیر تحریک میں تبدیل ہو جانے والا طلبہ کا احتجاج مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے پر منتج ہوا۔ اس تحریک نے واضح کر دیا کہ نئی نسل نہ کسی ایک سیاسی جماعت کی نمائندہ ہے اور نہ کسی مخصوص نظریاتی خانے میں قید ہے۔ اس کے بنیادی مطالبات شفافیت، میرٹ، احتساب اور انصاف ہیں۔

جین زی کا احتجاج دوسری تحریکوں سے مختلف کیوں تھا؟

اقتدار میں بیٹھے لوگ یہ سمجھ نہیں سکے کہ سیاسی جماعتوں، سماجی تنظیموں یا کسانوں کے احتجاج اور نوجوانوں کی اس تحریک میں بنیادی فرق ہے۔

ابتدا میں جین زی کے احتجاج کو نظرانداز کرنے کی کوشش کی گئی۔ تحریک میں شدت آئی تو لاٹھی چارج، آنسو گیس اور یہاں تک کہ پیلیٹ گن کے ذریعے اسے کچلنے کی کوشش کی گئی۔ طاقت کے بے دریغ استعمال نے، تاہم، آگ میں گھی ڈالنے کا کام کیا۔

جنتر منتر پر چند سو طلبہ اور نوجوانوں سے شروع ہونے والا یہ احتجاج ملک کے درجنوں شہروں میں پھیل گیا۔ شرکا کی تعداد سیکڑوں سے بڑھ کر ہزاروں اور پھر لاکھوں تک پہنچ گئی۔ یہاں تک کہ احتجاج کی بازگشت ملکی سرحدوں سے باہر بھی سنائی دینے لگی۔

اپوزیشن کی حمایت اور حکومت کا ردعمل

احتجاج کی شدت دیکھتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں کو حالات کا اندازہ ہوا اور وہ کھل کر طلبہ کے شانہ بشانہ کھڑی ہو گئیں۔ پارلیمنٹ سے سڑک تک ایسے مناظر دیکھنے کو ملے جن کا موجودہ دور میں تصور مشکل تھا۔

اس تحریک کے دوران قائد حزب اختلاف کو پولیس کے ذریعے سڑک پر گھسیٹا گیا اور اپوزیشن کے متعدد رہنماؤں کو حراست میں لیا گیا۔ اس کے باوجود حکومت طلبہ کی بے چینی اور مطالبات کی نوعیت کو سمجھنے میں ناکام رہی۔ حکمراں طبقہ طلبہ کے احتجاج اور اس میں اپوزیشن کی شرکت کو مسلسل سیاسی عینک سے دیکھتا رہا۔

وزیر تعلیم کے استعفے سے پہلے، جب نئی نسل کے خلاف کوئی حربہ کارگر ثابت نہ ہوا، تو حکومت کو مذاکرات کی میز پر آنا پڑا۔ بعض افسران کے خلاف کارروائی کی گئی، تعلیمی اور مقابلہ جاتی امتحانات میں اصلاحات کا اعلان ہوا اور سابق وعدے دوبارہ دہرائے گئے۔

سرکاری نمائندوں کو سوشل میڈیا پر سرگرم ہونے کی ہدایت بھی دی گئی۔ خود وزیر اعظم ’جین زی‘ کو متاثر کرنے کے لیے انسٹاگرام پر ویڈیوز بنانے لگے۔ مگر بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے: کیا صرف سوشل میڈیا پر ویڈیوز بنا لینے سے نوجوانوں کا اعتماد واپس آ سکتا ہے؟

حکومت نے جین زی کو سمجھنے میں کہاں غلطی کی؟

حکومت کو شاید یہ گمان تھا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے جین زی کو آسانی سے متاثر کیا جا سکتا ہے۔ لیکن نئی نسل کو سمجھنے میں ایک مرتبہ پھر غلطی کی گئی۔

یہی غلطی حکومت نواز میڈیا نے بھی کی، جسے آج عرف عام میں ’گودی میڈیا‘ کہا جاتا ہے۔ اسٹوڈیو میں بیٹھے اینکر یہ سمجھ ہی نہیں سکے کہ حکومت نوازی اور نفرت انگیزی کے جو ریکارڈ انہوں نے قائم کیے، جین زی ایک طویل عرصے سے انہیں محسوس کر رہی ہے۔

ایک طرف حکومت نوجوان نسل کے غصے اور بے چینی کو سمجھنے میں ناکام رہی، تو دوسری طرف ٹی وی اینکر بھی اس حقیقت کا ادراک نہ کر سکے کہ آج کی نئی نسل محض ٹی وی اسکرین پر ہونے والے مباحثوں سے اپنی رائے قائم نہیں کرتی۔ اسے معلومات کے متعدد ذرائع تک براہِ راست رسائی حاصل ہے۔

نوجوانوں کا ٹی وی میڈیا پر عدم اعتماد

صحافت کے اصول اور اقدار کو بالائے طاق رکھنے والے بعض ٹی وی اینکروں نے گزشتہ چند برسوں میں جو کچھ بویا، اس کی فصل کاٹنے کے لیے نوجوان اور نئے رپورٹر میدان میں بھیج دیے گئے۔

خود سرکاری ایجنڈے کے زیر اثر ٹی وی اسٹوڈیوز میں بیٹھنے والے اینکروں نے زمینی حالات کا جائزہ لینے کے لیے رپورٹرز کو جین زی کے درمیان بھیجا۔ نئی نسل نے ان کے ساتھ وہی رویہ اختیار کیا جو یہ اینکر اسٹوڈیو میں بیٹھ کر حکومت سے سوال کرنے والوں، ناانصافیوں کو نمایاں کرنے والوں اور عوامی مسائل اٹھانے والوں کے ساتھ اختیار کرتے رہے ہیں۔

صرف دہلی کے جنتر منتر پر ہی نہیں بلکہ جہاں جہاں احتجاج ہوا، وہاں ’گودی میڈیا گو بیک‘ کے نعرے بلند کیے گئے۔

یہ بات بھی اہم ہے کہ احتجاجی طلبہ نے تمام صحافیوں کے ساتھ یکساں رویہ اختیار نہیں کیا۔ جو رپورٹر زمینی حقائق کو غیر جانب داری سے پیش کر رہے تھے، طلبہ نے انہیں سنا اور ان سے بات بھی کی۔ اعتراض زیادہ تر ان اینکروں اور چینلوں پر تھا جنہوں نے ہر عوامی تحریک کو کبھی ’غیر ملکی سازش‘، کبھی ’پاکستان کنکشن‘، کبھی ’چین کنکشن‘ اور کبھی ’اربن نکسل‘ جیسے بیانیوں سے جوڑنے کی کوشش کی۔

جب صحافی سوال پوچھنے کے بجائے پہلے سے طے شدہ نتائج پیش کرنے لگیں تو عوام کا اعتماد متزلزل ہونا فطری ہے۔

بعض اینکروں کو کیوں کہنا پڑا کہ ’میں صحافی ہوں‘؟

بالآخر بعض اینکروں نے ہوش کے ناخن لیے اور ان کے رویے میں بظاہر تبدیلی دکھائی دینے لگی۔ کچھ اینکر محتاط انداز میں طلبہ کے مطالبات پر بات کرنے لگے، جب کہ بعض کو ویڈیو بنا کر یہ کہنا پڑا کہ ’میں صحافی ہوں‘۔

انہیں پہلے یہ سوچنا چاہیے تھا کہ آخر یہ نوبت کیوں آئی کہ خود اعلان کرنا پڑا کہ وہ صحافی ہیں۔ حکومت کی طرح حکومت نواز ٹی وی اینکروں نے بھی جین زی کو سمجھنے میں بہت دیر کر دی۔

صحافی ہونے کا فیصلہ کسی کے خود کو صحافی قرار دینے سے نہیں ہوتا۔ اس کی بنیاد برسوں کی پیشہ ورانہ دیانت داری، غیر جانب داری اور عوامی اعتماد پر ہوتی ہے۔

صحافت اور پروپیگنڈے کے درمیان دھندلی لکیر

صحافت کی تاریخ بتاتی ہے کہ صحافی کا بنیادی فرض اقتدار سے سوال کرنا، حقائق جاننا اور عوام تک غیر جانب دارانہ معلومات پہنچانا ہے۔

بدقسمتی سے گزشتہ چند برسوں کے دوران ٹی وی صحافت کے ایک حصے میں اسٹوڈیو کی چیخ و پکار، سنسنی خیزی اور مخصوص ایجنڈے نے زمینی رپورٹنگ کو بہت پیچھے چھوڑ دیا۔ رپورٹر کی محنت سے زیادہ اینکر کی رائے کو اہم سمجھا جانے لگا۔

اس صورتِ حال کا نتیجہ یہ نکلا کہ صحافت اور پروپیگنڈے کے درمیان موجود باریک لکیر دھندلی ہونے لگی۔

جو اینکر اب یہ کہہ رہے ہیں کہ ’میں صحافی ہوں‘، انہیں خود سے یہ سوال بھی کرنا چاہیے کہ صحافی ہونے کا فیصلہ خود اعلان کرنے سے ہوتا ہے یا برسوں کی پیشہ ورانہ دیانت داری، غیر جانب داری اور عوامی اعتماد سے؟

انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ صحافت صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک مشن بھی ہے۔ جب کوئی میڈیا ادارہ یا اینکر مسلسل اقتدار اور طاقت کے حق میں یک طرفہ بیانیہ اختیار کرے، مخالف آوازوں کو دبانے کی کوشش کرے یا معاشرے میں نفرت پھیلانے والی زبان استعمال کرے تو عوام کی جانب سے اس پر سوال اٹھنا فطری اور جمہوری عمل ہے۔ البتہ یہ تنقید پرامن اور مہذب انداز میں ہونی چاہیے۔

نئی نسل خبر اور پروپیگنڈے میں فرق جانتی ہے

آج کی نئی نسل ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ باشعور ہے۔ اس کے ہاتھ میں اسمارٹ فون ہے، اسے مختلف ذرائع سے معلومات تک رسائی حاصل ہے اور وہ خبر اور پروپیگنڈے کے درمیان فرق کرنا جانتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ محض ٹی وی مباحثے یا یک طرفہ بیانیے اب اس کی رائے پر پہلے جیسا اثر نہیں ڈالتے۔ اگر حکومت، سیاسی جماعتیں یا میڈیا اس حقیقت کو نظرانداز کریں گے تو وہ خود کو عوام سے مزید دور کر لیں گے۔

جین زی صرف مواد نہیں دیکھتی بلکہ اس کا تقابل بھی کرتی ہے۔ وہ مختلف ذرائع سے خبر کی تصدیق کرتی اور واقعات پر اپنی رائے قائم کرتی ہے۔ اسے متاثر کرنے کے لیے نمائشی سوشل میڈیا سرگرمی کافی نہیں؛ اعتماد کے لیے عملی اقدامات، شفافیت اور جواب دہی ضروری ہیں۔

صحافت کو اپنی اصل روح کی طرف لوٹنا ہوگا

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ صحافت اپنی اصل روح کی طرف واپس لوٹے۔ اسٹوڈیو کی چیخ و پکار کے بجائے میدان میں موجود نمائندوں کی محنت کو اہمیت دی جائے۔

خبر کو رائے پر ترجیح، سوال کو الزام پر فوقیت اور کسی مخصوص ایجنڈے کے بجائے حقائق کو بنیادی اہمیت دی جائے۔

جب صحافت اپنی غیر جانب داری، دیانت داری اور عوامی اعتماد دوبارہ حاصل کرے گی، تبھی جمہوریت مضبوط ہوگی اور نوجوان نسل بھی محسوس کرے گی کہ اس کی آواز سنی جا رہی ہے۔

بصورتِ دیگر نئی نسل سوالات پوچھتی رہے گی، کیونکہ تاریخ بتاتی ہے کہ سچ کو وقتی طور پر دبایا جا سکتا ہے، ہمیشہ کے لیے نہیں۔

اعتماد کی بحالی اب بھی ممکن ہے

ابھی وقت مکمل طور پر ہاتھ سے نہیں نکلا۔ اگر اقتدار عوام کی آواز سننے اور میڈیا اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھانے کا عزم کر لے تو اعتماد کی بحالی ممکن ہے۔

نئی نسل کو محض سوشل میڈیا کی ویڈیوز، نعروں یا یک طرفہ بیانیوں سے متاثر نہیں کیا جا سکتا۔ اسے اپنے سوالات کے واضح جواب، نظام میں شفافیت، میرٹ کی بالادستی اور عملی احتساب درکار ہے۔

علامہ اقبال کے درج ذیل الفاظ امید کا چراغ بن سکتے ہیں:

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

اس مضمون میں پیش کیے گئے خیالات اور آرا مکمل طور پر مضمون نگار کے ذاتی ہیں۔ ادارے، مدیر یا ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مضمون نگار انقلاب کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں۔
ای میل: [email protected]

مزید پڑھیں

مقامی خبریں