اتوار, جولائی 26, 2026

خلیل الحیہ: حماس کے نئے منتخب سیاسی سربراہ کی کہانی

Share

خلیل الحیہ حماس کے نئے سیاسی سربراہ منتخب، تنظیم کی آئندہ حکمتِ عملی کیا ہوگی؟

فلسطینی تنظیم حماس نے خلیل الحیہ کو اپنے سیاسی بیورو کا نیا سربراہ منتخب کر لیا ہے۔ تنظیم نے 20 جولائی 2026 کو ان کے انتخاب کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ یحییٰ السنوار کے جانشین ہوں گے، جو اکتوبر 2024 میں غزہ میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں مارے گئے تھے۔

خلیل الحیہ ایک ایسے وقت میں حماس کی اعلیٰ ترین سیاسی ذمہ داری سنبھال رہے ہیں جب غزہ تباہ کن جنگ اور انسانی بحران سے دوچار ہے، جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے سے متعلق مذاکرات مسلسل دباؤ کا شکار ہیں اور فلسطینی سیاست میں حماس اور فتح کے درمیان اختلافات بدستور موجود ہیں۔

الحیہ گزشتہ برسوں کے دوران حماس کی مذاکراتی ٹیم کا نمایاں چہرہ رہے ہیں۔ اسی بنا پر ان کا انتخاب محض قیادت کی تبدیلی نہیں بلکہ تنظیم کی آئندہ سیاسی، سفارتی اور مذاکراتی حکمتِ عملی کے حوالے سے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے۔

خلیل الحیہ کون ہیں؟

خلیل الحیہ 5 نومبر 1960 کو غزہ میں پیدا ہوئے۔ وہ حماس کے قیام کے ابتدائی دور سے تنظیم کے ساتھ وابستہ رہے اور رفتہ رفتہ اس کے سیاسی ڈھانچے میں نمایاں مقام حاصل کیا۔

وہ 2006 کے فلسطینی قانون ساز کونسل کے انتخابات میں غزہ شہر سے رکن منتخب ہوئے تھے۔ ان انتخابات میں حماس نے فتح پر برتری حاصل کی تھی، تاہم بعد کے برسوں میں دونوں جماعتوں کے درمیان شدید اختلافات پیدا ہوئے اور فلسطینی سیاسی نظام عملی طور پر غزہ اور مغربی کنارے کے الگ الگ انتظامی ڈھانچوں میں تقسیم ہوگیا۔

الحیہ طویل عرصے تک غزہ میں حماس کی قیادت کا اہم حصہ رہے۔ وہ یحییٰ السنوار کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے اور بعد میں قطر میں مقیم حماس کی مذاکراتی ٹیم کے مرکزی رہنما بن گئے۔

اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی، قیدیوں اور یرغمالیوں کے تبادلے اور غزہ کی صورتِ حال سے متعلق بالواسطہ مذاکرات میں بھی وہ تنظیم کی نمائندگی کرتے رہے ہیں۔ ان مذاکرات میں قطر اور مصر ثالث کا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔

یحییٰ السنوار کے جانشین

اصل مسودے میں خلیل الحیہ کی تقرری کو اسماعیل ہنیہ کے دور کے بعد ہونے والی تبدیلی قرار دیا گیا تھا، لیکن زیادہ درست بات یہ ہے کہ وہ یحییٰ السنوار کے جانشین منتخب ہوئے ہیں۔

اسماعیل ہنیہ جولائی 2024 میں تہران میں ایک حملے میں مارے گئے تھے۔ ان کے بعد یحییٰ السنوار کو حماس کا سربراہ منتخب کیا گیا، لیکن وہ بھی اکتوبر 2024 میں غزہ میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں مارے گئے۔

السنوار کی ہلاکت کے بعد حماس کے معاملات ایک عبوری قیادتی کونسل کے ذریعے چلائے جا رہے تھے۔ خلیل الحیہ بھی اس کونسل کا حصہ تھے۔ جولائی 2026 میں داخلی انتخاب کے بعد انہیں تنظیم کے سیاسی بیورو کی قیادت سونپی گئی۔

رپورٹس کے مطابق انتخابی مرحلے میں حماس کے سابق سربراہ خالد مشعل بھی نمایاں امیدوار تھے، تاہم آخری مرحلے میں خلیل الحیہ کامیاب ہوئے۔

انتخاب کا حماس کی حکمتِ عملی پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

خلیل الحیہ کا شمار حماس کے تجربہ کار سیاسی رہنماؤں اور مذاکرات کاروں میں ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے ان کے انتخاب کو بعض مبصرین تنظیم کی جانب سے مذاکراتی اور سفارتی محاذ کو زیادہ اہمیت دینے کے امکان کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ حماس لازماً اپنی بنیادی سیاسی یا عسکری حکمتِ عملی تبدیل کر دے گی۔ الحیہ تنظیم کی موجودہ قیادت اور فیصلہ سازی کے ڈھانچے کا طویل عرصے سے حصہ رہے ہیں۔ ان کی قیادت میں تسلسل اور محدود تبدیلی، دونوں کے امکانات موجود ہیں۔

ان کی اولین ترجیحات میں غزہ میں جنگ بندی، انسانی امداد کی فراہمی، فلسطینی قیدیوں اور اسرائیلی یرغمالیوں سے متعلق مذاکرات اور جنگ کے بعد غزہ کے انتظام سے متعلق معاملات شامل ہو سکتے ہیں۔

ان کے سامنے سب سے مشکل سوال یہ ہوگا کہ حماس اپنی عسکری پالیسی، سیاسی بقا، علاقائی تعلقات اور غزہ کے شہریوں کی فوری ضروریات کے درمیان توازن کیسے قائم کرتی ہے۔

غزہ کا انسانی بحران

خلیل الحیہ کی قیادت کا سب سے بڑا امتحان غزہ کی انسانی صورتِ حال ہوگی۔ جنگ نے علاقے کے بنیادی ڈھانچے، طبی نظام، رہائش اور روزمرہ زندگی کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

غزہ کے شہریوں کے لیے خوراک، پانی، ادویات، رہائش اور تحفظ کی فراہمی فوری ضرورت ہے۔ ایسے حالات میں حماس کی نئی قیادت پر یہ دباؤ رہے گا کہ وہ جنگ بندی کے امکانات، امدادی سرگرمیوں اور علاقے کے مستقبل سے متعلق کوئی قابلِ عمل راستہ پیش کرے۔

اس تناظر میں الحیہ کا مذاکراتی تجربہ اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم مذاکرات کی کامیابی صرف حماس کے فیصلوں پر منحصر نہیں ہوگی۔ اسرائیل، امریکا، قطر، مصر اور دیگر متعلقہ فریقوں کے مؤقف بھی کسی ممکنہ معاہدے کی سمت طے کریں گے۔

قطر، مصر اور ایران سے تعلقات

خلیل الحیہ گزشتہ کئی برسوں سے قطر میں مقیم اور حماس کی بیرونی سیاسی سرگرمیوں میں فعال رہے ہیں۔ قطر نے حماس اور اسرائیل کے درمیان بالواسطہ مذاکرات میں اہم ثالثی کردار ادا کیا ہے۔

مصر بھی غزہ کے ساتھ اپنی سرحد، رفح گزرگاہ اور فلسطینی مصالحتی کوششوں کے باعث ایک اہم فریق ہے۔ الحیہ کو جنگ بندی اور غزہ سے متعلق کسی بھی سیاسی انتظام کے لیے قاہرہ کے ساتھ روابط برقرار رکھنا ہوں گے۔

دوسری جانب، ایران طویل عرصے سے حماس کا ایک اہم علاقائی حامی رہا ہے۔ نئی قیادت کو قطر اور مصر جیسے ثالثوں کے ساتھ مذاکراتی تعلقات اور ایران کے ساتھ سیاسی و تزویراتی روابط کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔

یہ توازن اس لیے بھی حساس ہے کہ خطے کے مختلف ممالک حماس، غزہ کے مستقبل اور فلسطینی سیاست کے بارے میں یکساں نقطۂ نظر نہیں رکھتے۔

حماس اور فتح کے تعلقات

خلیل الحیہ کی قیادت کا ایک اور بڑا امتحان حماس اور فتح کے درمیان دیرینہ اختلافات ہیں۔ یہ تقسیم فلسطینی سیاسی اتحاد اور مشترکہ حکمرانی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹوں میں سے ایک ہے۔

فتح فلسطینی اتھارٹی کی مرکزی جماعت ہے اور مغربی کنارے کے بعض علاقوں میں انتظام چلاتی ہے، جبکہ حماس 2007 سے غزہ میں برسراقتدار رہی ہے۔ دونوں جماعتوں کے درمیان مصالحت کی متعدد کوششیں ہو چکی ہیں، لیکن مستقل سیاسی معاہدہ سامنے نہیں آسکا۔

الحیہ ماضی میں مختلف فلسطینی اور علاقائی فریقوں سے مذاکرات کرتے رہے ہیں۔ یہ تجربہ انہیں فتح کے ساتھ بات چیت میں مدد دے سکتا ہے، لیکن دونوں جماعتوں کے درمیان سیاسی، سلامتی اور انتظامی اختلافات گہرے ہیں۔

کسی بھی بامعنی پیش رفت کے لیے غزہ کے مستقبل، فلسطینی اتھارٹی کے کردار، انتخابات، سلامتی کے انتظام اور مشترکہ سیاسی حکمتِ عملی جیسے بنیادی معاملات پر اتفاق ضروری ہوگا۔

عسکری مزاحمت اور سیاسی مذاکرات کے درمیان توازن

حماس کی قیادت کے لیے بنیادی مسئلہ ہمیشہ یہ رہا ہے کہ وہ عسکری مزاحمت اور سیاسی مذاکرات کو کس طرح ایک ساتھ آگے بڑھائے۔ خلیل الحیہ کی قیادت میں بھی یہی سوال مرکزی اہمیت کا حامل رہے گا۔

ان کا مذاکراتی پس منظر انہیں عملی سیاسی فیصلوں کی طرف مائل کر سکتا ہے، لیکن وہ ایک ایسی تنظیم کی قیادت کر رہے ہیں جس کی شناخت اور داخلی ڈھانچا مسلح مزاحمت سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔

اس لیے ان کی قیادت کا جائزہ صرف بیانات سے نہیں بلکہ جنگ بندی، قیدیوں کے تبادلے، علاقائی سفارت کاری اور غزہ کی حکمرانی سے متعلق عملی فیصلوں کی بنیاد پر لیا جائے گا۔

آنے والے دنوں میں کن باتوں پر نظر رکھی جائے؟

خلیل الحیہ کے انتخاب کے بعد سب سے پہلے یہ دیکھا جائے گا کہ جنگ بندی مذاکرات میں حماس کے مؤقف میں کوئی نمایاں تبدیلی آتی ہے یا نہیں۔

اس کے علاوہ غزہ میں انسانی امداد، اسرائیلی یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کے تبادلے، حماس اور فتح کے تعلقات اور قطر، مصر و ایران کے ساتھ تنظیم کے روابط بھی ان کی قیادت کی سمت واضح کریں گے۔

یہ بھی اہم ہوگا کہ الحیہ تنظیم کے داخلی دھڑوں کے درمیان اتفاقِ رائے کس حد تک برقرار رکھ پاتے ہیں۔ حماس کے سیاسی اور عسکری شعبوں کی ترجیحات ہمیشہ مکمل طور پر یکساں نہیں رہیں، اس لیے نئی قیادت کو داخلی ہم آہنگی بھی قائم رکھنا ہوگی۔

خلیل الحیہ کے سامنے اصل امتحان

خلیل الحیہ کا انتخاب حماس کے لیے بیک وقت تسلسل اور تبدیلی کی علامت ہے۔ وہ تنظیم کے دیرینہ رہنما ہیں، اس لیے ان سے بنیادی پالیسیوں میں فوری اور مکمل تبدیلی کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ تاہم ان کا مذاکراتی تجربہ حماس کے سیاسی اور سفارتی طرزِ عمل پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔

ان کے سامنے اصل امتحان یہ ہے کہ وہ غزہ کے انسانی بحران، جنگ بندی کی کوششوں، علاقائی تعلقات، فلسطینی سیاسی تقسیم اور تنظیم کے عسکری و سیاسی اہداف کے درمیان کس طرح توازن قائم کرتے ہیں۔

ان کی کامیابی یا ناکامی کے اثرات صرف حماس تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ غزہ کے مستقبل، فلسطینی سیاست اور وسیع تر مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال پر بھی مرتب ہوں گے۔

حماس نے 20 جولائی 2026 کو ان کے انتخاب کا اعلان کیا۔ اس کی تصدیق دی نیشنل، ڈان/اے ایف پی اور الجزیرہ سمیت متعدد ذرائع سے ہوتی ہے۔

اصل رپورٹ Hams Live News English میں شائع ہوئی تھی۔

مزید پڑھیں

مقامی خبریں