جنوبی نابلس میں کم از کم چار فلسطینی گھر کے اندر پھنس گئے، اسرائیلی فوج نے آبادکاروں کو نکالنے اور گاڑیاں ضبط کرنے کا دعویٰ کیا، تاہم مقامی آبادی کو بدستور نقل و حرکت اور ضروری اشیا تک رسائی میں رکاوٹوں کا سامنا ہے
مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر نابلس کے جنوب میں واقع گاؤں قُصرہ میں اسرائیلی آبادکاروں نے ہفتہ، 29 اگست 2026 کو ایک فلسطینی گھر کو گھیر لیا، جس کے باعث کم از کم چار افراد اندر پھنس گئے۔ مقامی باشندوں اور موقع پر موجود صحافیوں کے مطابق، اس دوران قریبی زمین کو آگ لگا دی گئی اور فلسطینی گھروں پر پتھر اور آتش گیر مواد پھینکا گیا۔
اسرائیلی فوج نے بعد میں کہا کہ اس کے اہلکاروں نے آبادکاروں کو گھر سے نکال دیا اور ان کی متعدد گاڑیاں ضبط کر لیں۔ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا جب قُصرہ کے علاقے رأس العین میں تین فلسطینی خاندان تقریباً تین ہفتوں سے آبادکاروں کی سرگرمیوں، سڑکوں کی بندش اور نقل و حرکت پر پابندیوں کے باعث الگ تھلگ پڑے ہیں۔
اسرائیلی آبادکاروں نے قُصرہ میں ایک فلسطینی گھر کو گھیر لیا، جس کے باعث چار افراد اندر پھنس گئے۔ علاقے کے تین خاندان کئی ہفتوں سے پابندیوں اور ضروری اشیا تک محدود رسائی کا سامنا کر رہے ہیں۔
قُصرہ میں کیا پیش آیا؟
مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ درجنوں اسرائیلی آبادکار قُصرہ میں داخل ہوئے اور فلسطینیوں کے گھروں کی جانب پتھر اور آتش گیر اشیا پھینکیں۔ اسی دوران قریبی زرعی زمین میں آگ بھڑک اٹھی۔
الجزیرہ کی زمینی رپورٹ کے مطابق، کم از کم چار فلسطینی ایک گھر کے اندر موجود تھے جب آبادکار عمارت میں داخل ہوئے اور وہاں مورچہ بند ہو گئے۔
فلسطینی صحافی سارہ ابو الرب نے بتایا کہ چھ مقامی باشندوں کو اس وقت حملے کا سامنا کرنا پڑا جب وہ اپنے گھروں کی کھڑکیوں پر لوہے کی سلاخیں اور حفاظتی جالیاں نصب کر رہے تھے۔ ایک فلسطینی کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع دی گئی۔
مقامی لوگوں نے موقع پر موجود اسرائیلی فوجیوں پر آبادکاروں کو تحفظ فراہم کرنے اور فلسطینیوں کو اپنے گھروں اور زرعی اراضی تک پہنچنے سے روکنے کا الزام لگایا۔ تمام عینی شاہدین کے دعووں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
اسرائیلی فوج کا مؤقف
اسرائیلی فوج اور بارڈر پولیس نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انہیں قُصرہ میں اسرائیلی ’’فسادیوں‘‘ کے داخل ہونے کی اطلاع ملی تھی، جس کے بعد پتھراؤ سمیت پُرتشدد تصادم شروع ہوا۔
بیان کے مطابق، سکیورٹی اہلکاروں نے آبادکاروں کو گھر سے باہر نکالا، ان کی کئی گاڑیاں ضبط کیں اور مشتبہ افراد کی شناخت کے لیے تحقیقات شروع کر دیں۔
اسرائیلی حکام نے کہا کہ فوجی قُصرہ اور قریبی گاؤں جالود میں موجود رہیں گے تاکہ مزید بدامنی روکی جا سکے۔
مقامی فلسطینی آبادی کا مؤقف ہے کہ اسرائیلی اقدامات نے آبادکاروں کے بجائے ان کی نقل و حرکت کو زیادہ متاثر کیا ہے۔
رأس العین میں تین خاندانوں کی طویل تنہائی
تازہ واقعہ قُصرہ کے علاقے رأس العین میں تین فلسطینی گھروں کے گرد کئی ہفتوں سے جاری کشیدگی کی ایک نئی کڑی ہے۔
اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطۂ انسانی امور کے مطابق، تقریباً 9 اگست کو نئی آبادکاری چوکی قائم کیے جانے کے بعد تین فلسطینی خاندان الگ تھلگ ہو گئے تھے۔ امدادی اداروں کو ان خاندانوں تک پہنچنے اور ضروری سامان فراہم کرنے کے لیے مذاکرات کرنا پڑے۔
مقامی باشندوں کے مطابق، پابندیوں کے باعث خوراک، پانی، بجلی اور دیگر بنیادی ضروریات تک رسائی متاثر ہوئی ہے۔ متاثرہ خاندانوں کو گاؤں کے دوسرے حصوں اور اپنی زرعی اراضی تک آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت بھی نہیں مل رہی۔
متاثرہ گھروں میں سے ایک سے وابستہ فلسطینی نژاد امریکی لوئی ابو ریدی نے بتایا کہ آبادکاروں کے مزید حملوں کے خدشے کے باعث مکین رات بھر جاگ کر حفاظتی کیمروں کی نگرانی کرتے ہیں۔
ان کے مطابق، خوراک اور دوسری ضروری اشیا پہنچانے کے لیے قُصرہ کے میئر کے ذریعے رابطہ کرنا پڑتا ہے اور اجازت ملنے میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔
فوجی بندش اور نئی رکاوٹیں
اسرائیلی فوج نے متاثرہ علاقے کے ایک حصے کو بند فوجی علاقہ قرار دے رکھا ہے۔ رأس العین کی پہاڑی کے گرد مزید رکاوٹیں قائم کیے جانے سے وہاں موجود گھروں کا گاؤں کے زیریں حصے سے رابطہ مزید محدود ہو گیا ہے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ علاقے کی بندش کا مقصد تصادم روکنا اور امن و امان بحال رکھنا ہے۔ فلسطینی باشندوں کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے آبادکاروں کی سرگرمیاں مکمل طور پر نہیں رکیں، البتہ ان کی اپنی آمدورفت اور روزمرہ زندگی مزید مشکل ہو گئی ہے۔
چھ فلسطینی زیرِ حراست، بعد میں رہا
رپورٹوں کے مطابق، اسرائیلی فوج نے واقعے کے دوران ان چھ فلسطینیوں کو حراست میں لے لیا جو اپنے گھروں کو محفوظ بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔ انہیں کچھ دیر بعد رہا کر دیا گیا۔
قُصرہ کے میئر عبدالعظیم وادی نے الزام عائد کیا کہ فوجیوں نے گھیرے میں آئے بعض دیگر فلسطینیوں کو بھی حراست میں لینے کی کوشش کی۔
اسرائیلی فوج نے اپنے اقدامات کو امن و امان کی بحالی کی کوشش قرار دیا، تاہم فلسطینی باشندے سوال اٹھا رہے ہیں کہ اپنے گھروں کی حفاظت کرنے والوں کو حراست میں کیوں لیا گیا۔
نیتن یاہو اور ہرزوگ کی مذمت
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے قُصرہ اور جالود میں ہونے والے تشدد کی غیرمعمولی طور پر کھلی مذمت کی۔
انہوں نے ایک بیان میں واقعات کو مٹھی بھر فسادیوں کی جانب سے کیے گئے مجرمانہ اقدامات قرار دیا، جو قانون کی خلاف ورزی اور عالمی سطح پر اسرائیل کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ نے بھی تشدد کی مذمت کی، جبکہ وزارتِ خارجہ نے حملوں کو ’’شرمناک اور مجرمانہ‘‘ قرار دیا۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، یہ ردعمل قُصرہ میں دو ہفتوں سے زیادہ عرصے سے جاری کشیدگی اور متاثرہ خاندانوں کی صورت حال پر بڑھتی ہوئی بین الاقوامی توجہ کے بعد سامنے آیا۔
انسانی حقوق کی اسرائیلی اور بین الاقوامی تنظیمیں حکام پر آبادکاروں کے حملے روکنے اور ذمہ دار افراد کو مؤثر طور پر جواب دہ بنانے میں ناکامی کے الزامات لگاتی رہی ہیں۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ فوج اور پولیس مجرموں کی شناخت سے قطع نظر قانون نافذ کرنے اور سلامتی برقرار رکھنے کی کوشش کرتی ہیں۔
جالود میں صحافیوں پر حملہ
قُصرہ کے قریب واقع گاؤں جالود میں اسی روز ایک فلسطینی خاتون اور امریکی نشریاتی ادارے ’’این بی سی نیوز‘‘ کے صحافتی عملے پر بھی حملہ کیا گیا۔
دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق، نقاب پوش اسرائیلی آبادکاروں نے اس وقت حملہ کیا جب صحافی فلسطینی خاتون اور اس کے خاندان کا انٹرویو کر رہے تھے۔
اس واقعے میں خاتون اور صحافتی ٹیم کے بعض ارکان زخمی ہوئے۔ غیرملکی صحافیوں پر حملے نے مقبوضہ مغربی کنارے میں آبادکاروں کے تشدد پر عالمی توجہ مزید بڑھا دی ہے۔
اسرائیلی حکام نے اپنی مذمتی بیانات میں قُصرہ اور جالود دونوں مقامات پر پیش آنے والے واقعات کا ذکر کیا اور تحقیقات کا اعلان کیا۔
قُصرہ میں حملوں کا مسلسل سلسلہ
قُصرہ میں 2026 کے دوران فلسطینی باشندوں، گھروں، زرعی اراضی اور بنیادی تنصیبات کو بار بار نشانہ بنائے جانے کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
اقوام متحدہ کے انسانی امور کے دفتر نے اپریل میں بتایا تھا کہ زیرِ جائزہ عرصے کے دوران قُصرہ میں آبادکاروں کے ایسے حملوں کی تعداد کسی بھی دوسرے مغربی کنارے کے آبادیاتی علاقے سے زیادہ تھی جن میں جانی نقصان یا املاک کو نقصان پہنچا۔
مارچ میں آبادکاروں کے ایک حملے میں ایک فلسطینی ہلاک اور دیگر زخمی ہوئے تھے۔ جولائی میں بجلی کی تاروں اور متعدد گھروں کو پانی فراہم کرنے والی پائپ لائن کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔
اقوام متحدہ کی 28 اگست کی رپورٹ کے مطابق، 2026 کے آغاز سے اگست کے اواخر تک آبادکاروں کے حملوں کے دوران ایک ہزار سے زیادہ فلسطینی زخمی ہوئے۔
اقوام متحدہ کے اعدادوشمار میں آبادکاروں کے حملوں، اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور اسرائیلیوں کے خلاف فلسطینی حملوں کو الگ الگ درج کیا جاتا ہے۔
مغربی کنارے کی آبادکاری کی قانونی حیثیت
اسرائیل نے 1967 کی جنگ کے دوران مغربی کنارے پر قبضہ کیا تھا اور اس کے بعد علاقے میں بستیاں اور ان سے منسلک بنیادی ڈھانچا قائم کیا۔
اقوام متحدہ اور دنیا کی بیشتر حکومتیں مقبوضہ مغربی کنارے، بشمول مشرقی یروشلم، میں اسرائیلی بستیوں کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی سمجھتی ہیں۔
عالمی عدالتِ انصاف نے 2024 کی مشاورتی رائے میں ایک مرتبہ پھر کہا تھا کہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں اسرائیلی آبادکاریاں اور ان سے منسلک نظام بین الاقوامی قانون کے خلاف قائم اور برقرار رکھے گئے ہیں۔
اسرائیل اس قانونی تشریح سے اختلاف کرتے ہوئے علاقے سے متعلق تاریخی، مذہبی اور سلامتی کے دعوے پیش کرتا ہے۔ بعض آبادکاری چوکیاں اسرائیلی قانون کے تحت بھی غیرمجاز ہوتی ہیں، اگرچہ ان میں سے کچھ کو بعد میں سرکاری منظوری دے دی جاتی ہے۔
بستیوں کی عمومی قانونی حیثیت اور پُرتشدد کارروائیوں میں ملوث افراد کی فوجداری ذمہ داری دو الگ معاملات ہیں۔ کسی فرد کی ذمہ داری کا تعین شواہد، تحقیقات اور قانونی کارروائی کے ذریعے ہونا چاہیے۔
قُصرہ کا واقعہ کیوں اہم ہے؟
قُصرہ کی صورت حال ظاہر کرتی ہے کہ نئی آبادکاری چوکیوں، سڑکوں کی بندش، فوجی علاقوں اور نقل و حرکت کی پابندیوں کا مجموعہ فلسطینیوں کی گھروں، کھیتوں اور بنیادی خدمات تک رسائی کو کس طرح متاثر کر سکتا ہے۔
یہ واقعہ اس سوال کو بھی نمایاں کرتا ہے کہ آیا اسرائیلی قیادت کی عوامی مذمت کے بعد ذمہ دار افراد کی گرفتاری، قانونی کارروائی اور آئندہ حملوں کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔
اس بحران کو آبادکاری کے وسیع تر سیاسی تناظر میں سمجھنے کے لیے Hams Live News کی اسرائیلی آبادکاری سے متعلق رپورٹ بھی دیکھی جا سکتی ہے۔
اب کن باتوں پر نظر رہے گی؟
آنے والے دنوں میں سب سے اہم سوال یہ ہوگا کہ آیا رأس العین کے تین فلسطینی خاندانوں کے گھروں کے گرد قائم رکاوٹیں ختم کی جاتی ہیں یا نہیں۔
اس کے علاوہ یہ بھی دیکھا جائے گا کہ:
- کیا متاثرہ خاندانوں کو خوراک، پانی اور اپنی زرعی زمین تک بلا روک ٹوک رسائی ملے گی؟
- کیا اسرائیلی پولیس مشتبہ افراد کی شناخت اور تحقیقات کے نتائج جاری کرے گی؟
- کیا قُصرہ اور جالود میں حملوں کے ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی؟
- کیا نئی آبادکاری چوکی اور فوجی رکاوٹیں ہٹائی جائیں گی؟
- کیا مقامی باشندوں اور صحافیوں کو مزید حملوں سے محفوظ بنانے کے اقدامات کیے جائیں گے؟
یہ رپورٹ مقامی باشندوں اور صحافیوں کے بیانات، اسرائیلی حکام کے مؤقف، اقوام متحدہ اور ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹنگ پر مبنی ہے۔ آزادانہ طور پر ثابت نہ ہونے والے دعووں کو ان کے متعلقہ ذرائع سے منسوب کیا گیا ہے۔
اصل رپورٹ Hams Live News میں شائع ہوئی تھی۔
