اتوار, اگست 23, 2026

NEET پیپر لیک: سپریم کورٹ کا NTA کو مضبوط ادارہ بنانے اور تکنیکی اصلاحات پر زور

Share

سپریم کورٹ نے مبینہ NEET-UG 2026 پیپر لیک کے بعد NTA کو مضبوط بنانے اور امتحانی نظام میں تکنیکی اصلاحات کی تفصیل طلب کر لی۔

سپریم کورٹ نے نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کو ایک مستحکم، محفوظ اور پیشہ ورانہ مہارت رکھنے والے ادارے کی شکل دینے پر زور دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ قومی داخلہ امتحانات میں سوالیہ پرچوں کے افشا اور دوسری بے ضابطگیوں کی روک تھام کے لیے مستقل افرادی قوت، محفوظ بنیادی ڈھانچے اور جدید ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے۔

جسٹس پی ایس نرسمہا اور جسٹس آلوک ارادھے پر مشتمل بینچ نے یہ مشاہدات مبینہ NEET-UG 2026 پیپر لیک کے بعد دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران کیے۔

عدالت نے مرکزی حکومت کو ہدایت دی کہ وہ کے رادھا کرشنن کمیٹی کی سفارشات پر عمل درآمد میں پیش رفت اور نندن نیلیکنی کی سربراہی میں قائم ٹاسک فورس کی مجوزہ تکنیکی اصلاحات کی تفصیل حلف نامے کے ذریعے پیش کرے۔ مقدمے کی اگلی سماعت تین ہفتوں کے بعد متوقع ہے۔

عدالت کی توجہ NTA کو ادارہ جاتی شکل دینے پر

سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ اس کی تشویش کسی ایک امتحان کے حفاظتی انتظامات تک محدود نہیں۔ عدالت یہ جاننا چاہتی ہے کہ حکومت ایسا مستقل نظام کس طرح قائم کرے گی جو امتحان کے ہر دور سے حاصل ہونے والے تجربے کو محفوظ رکھتے ہوئے آئندہ طریقۂ کار کو بہتر بنا سکے۔

بینچ نے کہا کہ اگر تجربہ کار افسران کے تبادلے کے بعد ان کی معلومات اور عملی تجربہ محفوظ رکھنے کا باقاعدہ انتظام نہ ہو تو پورا ادارہ اس مہارت سے محروم ہو جاتا ہے۔

عدالت نے مناسب تعداد میں تربیت یافتہ ملازمین، محفوظ دفاتر، خفیہ کارروائیوں کے لیے مخصوص بنیادی ڈھانچے، سائبر سکیورٹی، تحقیق اور ترقی کی سہولت اور مستقل امتحانی مراکز کی ضرورت پر زور دیا۔

عدالت نے NTA میں اعلیٰ عہدوں پر تقرریوں، محفوظ ڈیٹا اسٹوریج، مرکزی نیٹ ورک آپریشنز اور خصوصی شعبوں کے قیام سے متعلق معلومات بھی طلب کیں۔

نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی NEET-UG سمیت اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلے اور اہلیت کے کئی قومی امتحانات منعقد کرتی ہے۔

کمیٹیوں کی سفارشات پر پیش رفت طلب

حکومت کو سابق چیئرمین اسرو کے رادھا کرشنن کی سربراہی میں قائم اعلیٰ سطحی کمیٹی کی سفارشات پر کیے گئے اقدامات کی تفصیل دینی ہوگی۔

یہ کمیٹی NEET-UG 2024 تنازع کے بعد امتحانی تحفظ، ڈیٹا سکیورٹی اور NTA کے انتظامی ڈھانچے کا جائزہ لینے کے لیے قائم کی گئی تھی۔ اس نے حساس امتحانی کاموں کے لیے بیرونی اداروں پر انحصار کم کرنے اور NTA کی اندرونی صلاحیت بہتر بنانے کی سفارش کی تھی۔ کمیٹی کی مکمل رپورٹ بھارتی وزارتِ تعلیم کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔

سپریم کورٹ نے نندن نیلیکنی کی سربراہی میں قائم ٹاسک فورس کی سفارشات سے متعلق بھی تفصیلات طلب کی ہیں۔ عدالت کے سامنے پیش کی گئی معلومات کے مطابق، ٹاسک فورس سرکاری امتحانات میں مصنوعی ذہانت، بلاک چین اور دوسری جدید ٹیکنالوجیز کے ممکنہ استعمال کا جائزہ لے رہی ہے۔

تاہم، عدالت کے مشاہدات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹیکنالوجی کو تربیت یافتہ عملے، جواب دہی اور مستقل بنیادی ڈھانچے کا متبادل نہیں بلکہ جامع اصلاحاتی نظام کا حصہ ہونا چاہیے۔

حکومت نے موجودہ حفاظتی انتظامات کی وضاحت کی

سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کو سوالیہ پرچے تیار کرنے، چھاپنے، منتقل کرنے اور امتحانی مراکز تک پہنچانے کے لیے استعمال ہونے والے حفاظتی انتظامات سے آگاہ کیا۔

حکومت کے مطابق، پہلے متعدد سوالیہ پرچے تیار کیے جاتے ہیں، جن میں سے استعمال ہونے والے پرچوں کا انتخاب NTA کے ڈائریکٹر جنرل کرتے ہیں۔ مخصوص پرنٹنگ پریس سی سی ٹی وی اور سکیورٹی نگرانی میں کام کرتے ہیں، جبکہ خفیہ مواد تک رسائی محدود رکھی جاتی ہے۔

عدالت کو بتایا گیا کہ سوالیہ پرچے سیل بند ڈبوں میں GPS سے منسلک گاڑیوں کے ذریعے منتقل کیے جاتے ہیں اور بینکوں کے مضبوط کمروں میں رکھے جاتے ہیں۔ امتحان کی صبح مجاز حکام کو استعمال کیے جانے والے پرچے کے سیٹ سے متعلق اطلاع دی جاتی ہے۔

مرکز نے دعویٰ کیا کہ موجودہ نظام میں کئی حفاظتی پرتیں شامل ہیں، اگرچہ بعض مراحل پر انسانی مداخلت اب بھی ضروری ہے۔

کمپیوٹر پر مبنی NEET زیر غور

کئی درخواست گزاروں نے NEET کو قلم اور کاغذ کے موجودہ طریقے سے کمپیوٹر پر مبنی امتحان، یعنی CBT، میں تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

مرکز پہلے ہی سپریم کورٹ کو بتا چکا ہے کہ اس تجویز پر سنجیدگی سے غور جاری ہے، لیکن حتمی فیصلہ نندن نیلیکنی ٹاسک فورس کی سفارشات کے بعد کیا جائے گا۔

کمپیوٹر پر مبنی امتحان سے کاغذی سوالیہ پرچوں کی طباعت اور نقل و حمل کی ضرورت کم ہو سکتی ہے۔ تاہم، اسے ملک بھر میں محفوظ ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے اور مناسب تعداد میں امتحانی مراکز درکار ہوں گے۔

سائبر حملوں، دیہی علاقوں میں سہولیات، علاقائی زبانوں، سرور کی گنجائش اور امیدواروں کے ذاتی ڈیٹا کے تحفظ جیسے مسائل کا حل بھی ضروری ہوگا۔

اس موضوع پر مزید خبریں Hams Live News کی NEET کوریج میں پڑھی جا سکتی ہیں۔

درخواستوں میں تنظیمِ نو اور جواب دہی کا مطالبہ

فیڈریشن آف آل انڈیا میڈیکل ایسوسی ایشن کی جانب سے دائر درخواست میں NTA کو تبدیل کرنے یا اس کی جامع تنظیمِ نو کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

درخواست گزار نے سوالیہ پرچوں کی ڈیجیٹل لاکنگ، امتحانی مرکز کے اعتبار سے نتائج جاری کرنے اور کمپیوٹر پر مبنی امتحان کی طرف منتقلی سمیت مختلف اقدامات تجویز کیے ہیں۔ درخواست کی تفصیل Bar & Bench کی اصل رپورٹ میں موجود ہے۔

یونائیٹڈ ڈاکٹرز فرنٹ کی ایک الگ درخواست میں مضبوط نگرانی اور براہِ راست پارلیمانی جواب دہی رکھنے والے قانونی قومی امتحانی ادارے کے قیام کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

ان درخواستوں میں کیے گئے مطالبات ابھی عدالت کے زیرِ غور ہیں۔ انہیں سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کیے گئے حتمی احکامات تصور نہیں کیا جانا چاہیے۔

NEET اصلاحات کا پس منظر

NEET-UG 2024 میں محدود علاقوں تک پیپر لیک کا معاملہ سامنے آیا تھا۔ سپریم کورٹ نے اس وقت کہا تھا کہ دستیاب شواہد سے پورے ملک کے امتحان کو متاثر کرنے والی منظم خلاف ورزی ثابت نہیں ہوتی، اس لیے تمام امیدواروں کے لیے دوبارہ امتحان کا حکم نہیں دیا گیا۔

اس کے باوجود، عدالت نے حکام کو امتحانی نظام کی خامیاں دور کرنے کی ہدایت دی تھی۔ اگست 2024 کے سپریم کورٹ فیصلے میں NEET-UG کی شفافیت سے متعلق عدالتی نتائج اور ہدایات درج ہیں۔

NEET-UG 2026 سے متعلق تازہ الزامات کے بعد عدالت نے NTA کے تنظیمی ڈھانچے اور امتحانی تحفظ کے انتظامات کا دوبارہ جائزہ لینا شروع کیا۔ 29 مئی 2026 کے عدالتی حکم میں مرکز سے پوچھا گیا تھا کہ ہر امتحانی دور سے حاصل ہونے والے تجربے کو مستقل ادارہ جاتی نظام کا حصہ کیسے بنایا جائے گا۔

آگے کیا ہوگا؟

مرکزی حکومت کے آئندہ حلف نامے میں درج ذیل امور کی تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے:

  • رادھا کرشنن کمیٹی کی سفارشات پر عمل درآمد؛
  • نندن نیلیکنی ٹاسک فورس کی تجاویز؛
  • NTA میں عملے اور اعلیٰ افسران کی تقرری؛
  • محفوظ ڈیٹا اسٹوریج اور قومی امتحانی ڈیٹا بیس؛
  • سائبر سکیورٹی اور خفیہ آپریشنل بنیادی ڈھانچہ؛
  • تحقیق اور ترقی کی مستقل سہولت؛
  • امتحانی مراکز اور مرکزی نیٹ ورک کا قیام؛ اور
  • NEET-UG کو کمپیوٹر پر مبنی امتحان میں تبدیل کرنے کی عملی صورت۔

اگلی سماعت میں یہ واضح ہو سکتا ہے کہ آیا سپریم کورٹ اصلاحات کے لیے کوئی مقررہ مدت طے کرے گی یا حکومت اور ماہر کمیٹیوں کو ان اقدامات کے طریقۂ کار اور وقت کا تعین کرنے دے گی۔

فی الحال عدالت نے نہ تو NTA کو تبدیل کرنے کا حتمی حکم دیا ہے اور نہ ہی NEET-UG کو کمپیوٹر پر مبنی امتحان بنانے کا فیصلہ سنایا ہے۔

یہ Bar & Bench کی عدالتی کارروائی سے متعلق اصل خبر، سرکاری عدالتی دستاویزات اور دستیاب معلومات کی بنیاد پر آزادانہ طور پر تحریر کردہ رپورٹ ہے۔

مزید پڑھیں

مقامی خبریں