آر ایس ایس کے سربراہ نے مسلمانوں کی عدم موجودگی کے تصور کو ہندو فکر کے منافی قرار دیا؛ بھارتی ذرائع ابلاغ نے مذہبی ہم آہنگی جبکہ بین الاقوامی رپورٹوں نے احتجاج اور اقلیتی حقوق کے تنازعات کو نمایاں کیا
راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سرسنگھ چالک موہن بھاگوت نے 29 اگست 2026 کو نیو یارک میں ایک بین المذاہب اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مسلمانوں سے خالی بھارت کے تصور کو مسترد کر دیا۔ ان کی تقریر کے بعد بھارتی ذرائع ابلاغ نے مذہبی رواداری اور قومی یکجہتی سے متعلق ان کے بیان کو نمایاں کیا، جبکہ تقریب سے پہلے شائع ہونے والی بعض بین الاقوامی رپورٹوں میں ان کے دورے کے خلاف احتجاج، مذہبی آزادی سے متعلق خدشات اور آر ایس ایس کے کردار پر جاری اختلافات کو مرکزی حیثیت دی گئی تھی۔
نیو یارک کے میڈیسن اسکوائر گارڈن میں واقع انفوسس تھیٹر میں منعقدہ تقریب میں بھاگوت نے کہا کہ اگر کوئی ہندو یہ سمجھتا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے تو وہ ہندو نہیں رہتا۔
یہ بیان انسانی وقار، مذہبی تنوع اور بنی نوع انسان کی بنیادی وحدت سے متعلق ان کی گفتگو کا حصہ تھا۔
موہن بھاگوت نے نیو یارک میں مسلمانوں سے خالی بھارت کے تصور کو ہندو فکر کے منافی قرار دیا۔ بھارتی میڈیا نے ان کے شمولیتی پیغام جبکہ تقریب سے پہلے کی عالمی رپورٹوں نے احتجاج اور تنازعات کو نمایاں کیا۔
مسلمانوں کی عدم موجودگی ہندو فکر کے منافی
بھاگوت نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہندو فلسفہ مختلف عقائد اور روحانی راستوں کو ایک ہی بنیادی حقیقت تک پہنچنے کے الگ الگ طریقوں کے طور پر تسلیم کرتا ہے۔
ان کے مطابق، مذہبی یا ثقافتی اختلاف کسی دوسرے گروہ کے خاتمے کا جواز فراہم نہیں کرتا۔ معاشرے میں تنوع کو محض برداشت کرنے کے بجائے اس کا احترام اور تحفظ کیا جانا چاہیے۔
انڈین ایکسپریس کے مطابق، بھاگوت نے کہا کہ ظاہری اختلافات کے باوجود پوری انسانیت ایک بنیادی وحدت سے وابستہ ہے۔ انہوں نے مختلف مذہبی شناختوں کے پُرامن بقائے باہمی پر زور دیا۔
یہ خطاب یونیورسل ون نیس سیلی بریشن سے منسلک پروگرام میں کیا گیا، جسے منتظمین نے بین المذاہب ہم آہنگی اور مشترکہ انسانی اقدار کے فروغ کی کوشش قرار دیا تھا۔
بھارتی میڈیا میں مذہبی رواداری کا پہلو نمایاں
تقریر کے بعد بھارتی ذرائع ابلاغ کی بیشتر رپورٹوں نے مسلمانوں سے متعلق بھاگوت کے بیان کو اپنی سرخیوں اور ابتدائی پیراگراف میں نمایاں جگہ دی۔
ٹائمز آف انڈیا سمیت متعدد بھارتی اداروں نے ان کے خطاب کو مذہبی شمولیت، سماجی ہم آہنگی اور تنوع کے احترام کے پیغام کے طور پر پیش کیا۔
اس کوریج میں بالخصوص ان کے اس مؤقف کو اہمیت دی گئی کہ مسلمانوں کی عدم موجودگی کا تصور ہندو شناخت اور فکر کے ان کے بیان کردہ مفہوم سے مطابقت نہیں رکھتا۔
بعض بھارتی رپورٹوں میں تقریب کے خلاف ہونے والے مظاہروں اور آر ایس ایس پر تنقید کا بھی ذکر کیا گیا، تاہم خطاب کے بعد بھاگوت کا شمولیتی بیان خبروں کا غالب زاویہ بن گیا۔
بین الاقوامی رپورٹوں میں احتجاج اور تنازعات پر توجہ
تقریب سے پہلے شائع ہونے والی نمایاں بین الاقوامی رپورٹوں کا زاویہ مختلف تھا۔ ان میں نیو یارک میں بھاگوت کے دورے کی مخالفت، احتجاجی سرگرمیوں اور بھارت میں مذہبی اقلیتوں کی صورت حال سے متعلق ناقدین کے الزامات کو زیادہ اہمیت دی گئی۔
ایسوسی ایٹڈ پریس نے تقریب سے پہلے شائع ہونے والی اپنی رپورٹ میں بھاگوت کے دورے کے خلاف سرگرم گروہوں، آر ایس ایس کے سیاسی اثرورسوخ اور تنظیم کے ناقدین کے اعتراضات کا جائزہ لیا۔
الجزیرہ کی رپورٹ میں بھی احتجاج اور ہندو قوم پرستی سے متعلق ناقدین کے خدشات کو مرکزی موضوع بنایا گیا۔
یہ الزامات بنیادی طور پر مخالف تنظیموں، کارکنوں اور حقوق کے بعض گروہوں کے مؤقف پر مبنی تھے۔ آر ایس ایس اور اس کے حامی انہیں مسترد کرتے ہوئے تنظیم کو ثقافتی احیا، سماجی خدمت اور قومی یکجہتی کے لیے کام کرنے والی رضاکارانہ تحریک قرار دیتے ہیں۔
کوریج کا فرق محض نظریاتی نہیں
بھارتی اور بین الاقوامی رپورٹنگ میں نمایاں فرق ضرور موجود تھا، لیکن اسے صرف ادارتی یا نظریاتی جانب داری سے تعبیر کرنا درست نہیں ہوگا۔ اشاعت کا وقت بھی اس فرق کی ایک بنیادی وجہ تھا۔
ایسوسی ایٹڈ پریس اور الجزیرہ کی زیرِ بحث رپورٹیں بھاگوت کی تقریر سے پہلے شائع ہوئی تھیں۔ اس مرحلے پر قابلِ خبر موضوعات ان کا مجوزہ خطاب، تقریب کے خلاف احتجاج اور آر ایس ایس سے متعلق پہلے سے موجود تنازعات تھے۔
اس کے برعکس، بیشتر بھارتی رپورٹیں تقریر کے بعد سامنے آئیں۔ ان اداروں کے پاس بھاگوت کا تازہ بیان موجود تھا، اس لیے مسلمانوں اور مذہبی تنوع سے متعلق ان کے الفاظ کو سرخیوں میں جگہ ملنا ایک فطری ادارتی فیصلہ تھا۔
اس تناظر میں دونوں طرزِ کوریج کو یوں سمجھا جا سکتا ہے:
- تقریب سے پہلے کی بین الاقوامی رپورٹوں نے دورے کے گرد موجود مخالفت اور تنازعے کو نمایاں کیا۔
- تقریر کے بعد کی بھارتی رپورٹوں نے بھاگوت کے مذہبی رواداری سے متعلق بیان کو مرکزی حیثیت دی۔
- دونوں زاویوں کو یکجا کرکے دیکھنے سے دورے، احتجاج اور خطاب کی زیادہ جامع تصویر سامنے آتی ہے۔
تقریر سے پہلے شائع ہونے والی رپورٹوں پر یہ اعتراض کرنا مناسب نہیں ہوگا کہ انہوں نے مسلمانوں سے متعلق بھاگوت کے بیان کو نظرانداز کیا، کیونکہ ان کی اشاعت کے وقت وہ بیان سامنے نہیں آیا تھا۔
آر ایس ایس کے بارے میں دو متضاد تصورات
بھاگوت کا دورہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب آر ایس ایس کی نظریاتی شناخت، بھارتی سیاست میں اس کے اثرات اور مذہبی اقلیتوں کے ساتھ اس کے تعلق کے بارے میں عالمی سطح پر اختلاف پایا جاتا ہے۔
ناقدین آر ایس ایس کو ہندو اکثریت پسند سیاست کے فروغ سے جوڑتے ہیں اور بعض سیاسی و سماجی واقعات کو اس وسیع تر نظریاتی ماحول کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔
دوسری جانب، تنظیم اپنے آپ کو قومی نظم، سماجی خدمت، تہذیبی شعور اور معاشرتی یکجہتی کے لیے سرگرم رضاکارانہ ادارہ قرار دیتی ہے۔ آر ایس ایس کے حامیوں کے مطابق، اس کا تصورِ ہندوتوا کسی مخصوص مذہبی برادری کے اخراج کے بجائے بھارت کی مشترکہ تہذیبی شناخت کی ترجمانی کرتا ہے۔
بھاگوت کا نیو یارک بیان اسی مؤقف کی واضح لفظی توثیق کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
مذہبی آزادی سے متعلق بیرونی تنقید
امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی سمیت بعض ادارے بھارت میں مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے حقوق سے متعلق خدشات ظاہر کرتے رہے ہیں۔
تاہم، امریکی کمیشن ایک مشاورتی ادارہ ہے۔ اس کی رپورٹیں اور سفارشات بذاتِ خود امریکی حکومت کی باضابطہ خارجہ پالیسی نہیں ہوتیں۔ بھارتی حکومت ایسی رپورٹوں کو اکثر جانب دارانہ، یک طرفہ اور بھارت کے سماجی تناظر سے ناواقف قرار دے کر مسترد کرتی رہی ہے۔
اس لیے مذہبی آزادی سے متعلق الزامات کو ثابت شدہ اور غیر متنازع حقائق کے طور پر پیش کرنے کے بجائے ان کے ماخذ، قانونی حیثیت اور بھارتی حکومت کے جواب کو بھی شامل کرنا ضروری ہے۔
بیان کی اصل آزمائش عملی رویّہ ہوگا
بھاگوت کا بیان اپنے لفظی مفہوم میں واضح ہے: مسلمانوں سے خالی بھارت کا تصور ہندو دھرم کی اس تعبیر سے مطابقت نہیں رکھتا جو انہوں نے نیو یارک میں پیش کی۔
ان کے حامی اسے آر ایس ایس کی جامع تہذیبی فکر اور مذہبی بقائے باہمی کے عزم کا ثبوت قرار دے سکتے ہیں۔ ناقدین، تاہم، یہ دیکھیں گے کہ آیا یہ پیغام تنظیمی سطح، سیاسی گفتگو اور اقلیتوں کے روزمرہ تجربات میں بھی عملی صورت اختیار کرتا ہے۔
کسی ایک تقریر سے طویل عرصے سے جاری تمام اختلافات ختم نہیں ہو سکتے، لیکن ایسے بیان کی اہمیت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا—خصوصاً جب وہ آر ایس ایس کے اعلیٰ ترین عہدے دار کی جانب سے بین الاقوامی اجتماع میں دیا گیا ہو۔
نیو یارک خطاب نے کم از کم یہ بات غیر مبہم انداز میں واضح کر دی کہ بھاگوت نے مسلمانوں کو بھارتی معاشرے سے خارج کرنے کی سوچ کو اپنے بیان کردہ تصورِ ہندو دھرم کے منافی قرار دیا ہے۔ اب اس پیغام کی دیرپا اہمیت کا تعین اس کے عملی اور سیاسی اثرات کریں گے۔
بھارتی سیاست اور سماجی مباحث سے متعلق مزید تجزیوں کے لیے Hams Live News کی متعلقہ رپورٹیں ملاحظہ کی جا سکتی ہیں۔
اصل رپورٹ Hams Live News میں شائع ہوئی تھی۔
