ایم جے اکبر نے جموں و کشمیر پر امریکی سفیر سرجیو گور کے بیان کا خیرمقدم کرتے ہوئے مکہ دفاعی معاہدے اور امریکی علاقائی پالیسی پر وضاحت طلب کی۔
سابق مرکزی وزیر ایم جے اکبر نے امریکی سفیر سرجیو گور کی جانب سے جموں و کشمیر کو ”بھارت کا ایک اہم حصہ“ قرار دینے کا خیرمقدم کرتے ہوئے واشنگٹن سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی علاقائی پالیسی میں مستقل مزاجی دکھائے اور سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے مقصد اور مستقبل کی سمت واضح کرے۔
اکبر نے گور کے بیان کو ”انتہائی خوش آئند“ اور ”شاید بہت پہلے آنا چاہیے تھا“ قرار دیا۔ تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ کسی ایک سفارتی بیان کو امریکہ کی بھارت اور پاکستان سے متعلق مجموعی پالیسی میں بڑی تبدیلی کا قطعی ثبوت نہیں سمجھنا چاہیے۔
انہوں نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر بھی سوالات اٹھائے اور اس نئی علاقائی سکیورٹی ترتیب کے بارے میں واشنگٹن سے وضاحت طلب کی۔ ان کے مکمل ریمارکس ANI کی ایکس پوسٹ میں دیکھے جا سکتے ہیں۔
امریکی سفیر نے کشمیر پر کیا کہا؟
سرجیو گور نے سری نگر کے دورے کے دوران جموں و کشمیر کو ”بھارت کا ایک اہم حصہ“ قرار دیا تھا۔ ان کے الفاظ کو سفارتی اہمیت حاصل ہوئی کیونکہ نئی دہلی اور اسلام آباد خطے کی حیثیت کے بارے میں مختلف مؤقف رکھتے ہیں۔
بھارت کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر ملک کا اٹوٹ حصہ ہے۔ دوسری جانب پاکستان اسے ایک متنازع خطہ قرار دیتے ہوئے اس کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کا حوالہ دیتا ہے۔ بھارت کشمیر سے متعلق کسی تیسرے ملک کی ثالثی مسترد کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ مسائل کو دوطرفہ طور پر حل کرنے پر زور دیتا ہے۔
اکبر نے کہا کہ اگر اسلام آباد میں تعینات امریکی سفیر بھی یہی مؤقف دہرائیں تو اس سے واشنگٹن کی پالیسی کے دیرپا ہونے کے بارے میں بھارت کا اعتماد بڑھے گا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ تاریخی طور پر بھارت اور پاکستان کو ایک دوسرے سے منسلک علاقائی تناظر میں دیکھتا رہا ہے اور اب اس طرزِ فکر پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔
پاکستان نے امریکی سفیر کے بیان پر احتجاج کیا
گور کے ریمارکس پر پاکستان نے سفارتی احتجاج کرتے ہوئے امریکی ناظم الامور کو طلب کیا۔ اسلام آباد نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکی سفیر کا بیان کشمیر سے متعلق واشنگٹن کی روایتی پوزیشن سے مطابقت نہیں رکھتا۔
پاکستانی وزارتِ خارجہ کے مطابق، جموں و کشمیر کی حتمی حیثیت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق طے ہونی چاہیے۔
پاکستان اور بھارت کے متضاد ردعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ گور کے الفاظ کو معمول کے سفارتی بیان سے کہیں زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔
امریکی سفری ہدایت بدستور برقرار
گور نے سری نگر میں یہ اشارہ بھی دیا کہ امریکہ جموں و کشمیر کے لیے اپنی سفری ہدایات پر نظرثانی کرے گا۔
تاہم، اشاعت کے وقت امریکی محکمہ خارجہ کی بھارت سے متعلق سفری ہدایت میں جموں و کشمیر کو، مشرقی لداخ اور لیہہ کے استثنا کے ساتھ، دہشت گردی اور شہری بدامنی کے خطرات کی بنیاد پر ”لیول 4: سفر نہ کریں“ کے زمرے میں رکھا گیا تھا۔
سفری ہدایت پر نظرثانی کا عندیہ اس وقت تک سرکاری تبدیلی تصور نہیں ہوگا جب تک امریکی محکمہ خارجہ اپنی ویب سائٹ پر نئی ہدایت جاری نہ کرے۔
امریکی فوجی کمان کے نام پر بھی سوال
اکبر نے امریکی فوجی کمان کے نام سے ”انڈو“ ہٹانے اور اسے دوبارہ یو ایس پیسفک کمانڈ کہنے کے فیصلے پر بھی تنقید کی۔
انہوں نے اسے بھارت، بحرِ ہند اور مغربی ایشیا سے متعلق امریکی سکیورٹی پالیسی میں ممکنہ تبدیلی کی علامت قرار دیا۔ تاہم، امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کمان کے جغرافیائی دائرۂ کار میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔
گور پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ بھارت اور امریکہ کے دفاعی تعلقات کا جائزہ کسی فوجی کمان کے نام کے بجائے عملی تعاون کی بنیاد پر لیا جانا چاہیے۔
امریکی حکومت نے دوسرے سرکاری بیانات میں ”انڈو پیسفک“ کی اصطلاح کا استعمال جاری رکھا ہے۔ اس لیے اکبر کی تشریح کو ایک سیاسی اور تزویراتی خدشہ سمجھنا چاہیے، نہ کہ اس بات کا قطعی ثبوت کہ واشنگٹن نے انڈو پیسفک پالیسی مکمل طور پر ترک کر دی ہے۔
سابق مرکزی وزیر ایم جے اکبر نے امریکی سفیر سرجیو گور کی جانب سے جموں و کشمیر کو ”بھارت کا ایک اہم حصہ“ قرار دینے کا خیرمقدم کیا، تاہم انہوں نے واشنگٹن سے علاقائی پالیسی میں مستقل مزاجی اور سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے مکہ دفاعی معاہدے پر وضاحت طلب کی۔
مکہ دفاعی معاہدہ کیا ہے؟
سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے 7 اگست 2026 کو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے میں اجتماعی دفاع کا اصول شامل ہے، جس کے تحت کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
پاکستان اور ترکیہ کا کہنا ہے کہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں بنایا گیا۔ معاہدے کا مزید پس منظر ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ میں پڑھا جا سکتا ہے۔
اکبر نے سوال کیا کہ اس معاہدے کے آئندہ مراحل کیا ہوں گے اور آیا یہ مستقبل میں نیٹو کی طرز کے کسی وسیع اسلامی فوجی اتحاد میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
تاہم، ”اسلامی نیٹو“ معاہدے کا سرکاری نام نہیں بلکہ بعض تجزیہ کاروں اور سیاسی شخصیات کی جانب سے استعمال ہونے والی اصطلاح ہے۔ عوامی طور پر دستیاب متن میں بھارت کو دشمن قرار نہیں دیا گیا۔
کیا امریکہ نے معاہدے کی سرپرستی کی؟
اکبر نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے اس اتحاد کی سرپرستی یا توثیق کی ہے اور واشنگٹن کو اس کے مقاصد واضح کرنے چاہییں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مبینہ طور پر معاہدے کا خیرمقدم کیا، لیکن کسی معاہدے کی حمایت کرنا اور اس کی تیاری یا مذاکرات کی براہِ راست سرپرستی کرنا دو مختلف باتیں ہیں۔
اشاعت کے وقت ایسا کوئی حتمی عوامی ثبوت دستیاب نہیں تھا جس سے ثابت ہو کہ امریکہ نے معاہدے کے مذاکرات کرائے یا اس کے عملی ڈھانچے کو کنٹرول کر رہا ہے۔ اکبر کے بیان کو ان کا سیاسی تجزیہ سمجھا جانا چاہیے۔
بھارتی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ نئی دہلی قومی سلامتی اور علاقائی استحکام کے تناظر میں معاہدے کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لے رہی ہے۔ بھارت نے تاحال سرکاری طور پر یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا کہ معاہدہ اس کے خلاف ہے۔
بیان کی سفارتی اہمیت
اکبر کے ریمارکس تین الگ پیش رفت کو ایک وسیع علاقائی بحث سے جوڑتے ہیں:
- جموں و کشمیر پر سرجیو گور کا بیان؛
- امریکی فوجی کمان کے نام سے ”انڈو“ کا اخراج؛ اور
- سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دفاعی معاہدہ۔
گور کا کشمیر سے متعلق بیان نئی دہلی کے لیے مثبت سفارتی اشارہ ہو سکتا ہے، لیکن اس کی طویل مدتی اہمیت اس بات پر منحصر ہوگی کہ آیا یہ امریکی سرکاری پالیسی، سفری ہدایات اور اسلام آباد میں امریکی نمائندوں کے بیانات میں بھی ظاہر ہوتا ہے۔
اسی طرح، امریکی فوجی کمان کا نام تبدیل ہونا علامتی طور پر اہم ہے، لیکن اس سے بذاتِ خود یہ ثابت نہیں ہوتا کہ بھارت اور امریکہ کے درمیان دفاعی تعاون ختم یا نمایاں طور پر کم ہوگیا ہے۔
مکہ معاہدے کے بھارت پر حقیقی اثرات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ اس کی اجتماعی دفاعی شق کو عملی طور پر کیسے نافذ کیا جاتا ہے، آیا دوسرے ممالک اس میں شامل ہوتے ہیں اور تینوں رکن ملک کس نوعیت کا فوجی تعاون قائم کرتے ہیں۔
بھارت، امریکہ اور کشمیر سے متعلق مزید خبریں Hams Live News پر پڑھی جا سکتی ہیں۔
آگے کیا ہوگا؟
اب توجہ اس بات پر رہے گی کہ آیا امریکی محکمہ خارجہ گور کے بیان کی مزید وضاحت کرتا ہے اور جموں و کشمیر کے لیے اپنی سفری ہدایت میں کوئی تبدیلی لاتا ہے۔
اسلام آباد میں امریکی سفارتی نمائندوں کا آئندہ مؤقف بھی یہ واضح کر سکتا ہے کہ آیا واشنگٹن گور کے الفاظ کو اپنی وسیع تر سرکاری پالیسی کا حصہ سمجھتا ہے۔
مکہ دفاعی معاہدے کے سلسلے میں بھارت ممکنہ طور پر اس کے عملی نفاذ، مشترکہ فوجی ڈھانچے اور مستقبل کی رکنیت سے متعلق پیش رفت پر نظر رکھے گا۔
فی الحال اکبر کے ریمارکس کو امریکی اور علاقائی پالیسی سے متعلق ان کا تجزیہ سمجھا جانا چاہیے۔ یہ نہ تو بھارتی حکومت کا سرکاری بیان ہے اور نہ ہی اس بات کا مصدقہ ثبوت کہ امریکہ نے مکہ معاہدے کی سرپرستی کی۔
یہ رپورٹ ایم جے اکبر کے ANI کو دیے گئے بیان اور سرکاری و عوامی طور پر دستیاب ذرائع کی بنیاد پر آزادانہ طور پر تیار کی گئی ہے۔ اصل رپورٹ Hams Live News میں شائع ہوئی۔
