بدھ, جون 24, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 60

’یو پی ایس سی کی تیاری کر رہے طلبا کو دیے جائیں گے 7500 روپے‘، اودے ندھی کا اعلان

0
’یو-پی-ایس-سی-کی-تیاری-کر-رہے-طلبا-کو-دیے-جائیں-گے-7500-روپے‘،-اودے-ندھی-کا-اعلان

تمل ناڈو حکومت نے یو پی ایس سی کی تیاری کر رہے طلبا کے لیے آج ایک بڑا اعلان کیا ہے۔ تمل ناڈو حکومت میں وزیر اودے ندھی اسٹالن نے ہفتہ کے روز کہا کہ سول سروس کی تیاری کر رہے امیدواروں کو وظیفہ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حکومت 1000 طلبا کو 10 ماہ کے لیے 7500 روپے کی مالی امداد کرے گی تاکہ ان کو امتحان کی تیاری کرنے میں مدد مل سکے۔

وزیر برائے فلاح نوجواں و ترقی کھیل اودے ندھی اسٹالن نے کہا کہ ’’دراوڑ ماڈل کا مقصد یو پی ایس سی، انڈین بینک سروس، ریلوے وغیرہ کی ملازمت کو حاصل کرنا ہے۔ پیریار انّا اور کروناندھی نے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کے لیے کام کیا ہے۔ اسی طرح سے موجودہ وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن بھی اسی سمت میں کام کر رہے ہیں۔‘‘

خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق اودے ندھی کا کہنا ہے کہ ’’ہماری نان مدھلون اسکیم بہت اچھی ہے جس سے 13 لاکھ طلبا مستفید ہوئے اور 1.5 لاکھ طلبا کو ملازمت بھی حاصل ہوئی ہے۔ نوجوانوں کو مرکزی حکومت کی ملازمتیں ملنی چاہئیں۔ یہ نان مدھلون اسکیم نوجوانوں کے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرنے میں مددگار ہوگی۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ تمل ناڈو میں ریاستی حکومت کی طرف سے کئی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، اس کے باوجود ریاست کے نوجوانوں کی شراکت داری مرکزی حکومت کی ملازمت میں کم ہوئی ہے۔ تمل ناڈو ریاست کے نوجوانوں کا یو پی ایس سی امتحان میں کامیابی کا فیصد بہت کم ہو گیا ہے جو کہ بے حد حیران کرنے والا ہے۔ اودے ندھی نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ 2016 میں مرکزی حکومت کی ملازمتیں حاصل کرنے میں تمل ناڈو کے نوجوانوں کی تعداد 10 فیصد تھی، لیکن اب یہ گھٹ کر محض 5 فیصد رہ گئی ہے۔

اعداد و شمار پیش کیے جانے کے بعد اودے ندھی اسٹالن نے فکر کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ حکومت نے حالات کو دیکھتے ہوئے یو پی ایس سی کی تیاری کرنے والے امیدواروں کے لیے ٹریننگ سنٹر شروع کیے ہیں۔ اتنا ہی نہیں، 1000 طلبا کو 10 ماہ کے لیے مالی امداد کے طور پر 7500 روپے دینے جا رہی ہے۔

خاتون ریزرویشن قانون جلد نافذ کرنے کے لیے جنگ شروع کرے گا ’انڈیا اتحاد‘: سونیا گاندھی

0
خاتون-ریزرویشن-قانون-جلد-نافذ-کرنے-کے-لیے-جنگ-شروع-کرے-گا-’انڈیا-اتحاد‘:-سونیا-گاندھی

کانگریس کی سابق صدر سونیا گاندھی نے خاتون ریزرویشن بل جلد از جلد نافذ کرنے کے لیے جنگ شروع کیے جانے کا اعلان کیا ہے۔ انھوں نے ہفتہ کے روز اپنے ایک بیان میں کہا کہ اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ پارلیمنٹ میں حال ہی میں پاس خاتون ریزرویشن قانون کو نافذ کرنے کے لیے جنگ شروع کرے گا۔ انھوں نے یہ بیان تمل ناڈو میں برسراقتدار ڈی ایم کے کے ذریعہ چنئی میں منعقد ’خاتون حقوق سمیلن‘ سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔

تقریب میں شریک عوام سے خطاب کرتے ہوئے سونیا گاندھی نے کہا کہ آنجہانی راجیو گاندھی پنچایتی راج میں خواتین کے لیے تاریخی 33 فیصد ریزرویشن لائے، جس نے زمینی سطح پر خواتین کی قیادت کو فروغ دیا اور ایک طرح سے نئی فضا قائم کی۔ سونیا گاندھی نے کہا کہ یہ قانون ساز اداروں میں ایک تہائی سیٹ پر ریزرویشن کی سمت میں ایک اہم قدم تھا۔ کانگریس پارلیمنٹ کے اندر اور باہر ہر جگہ خاتون ریزرویشن کی راہ نما رہی ہے۔

سونیا گاندھی کا کہنا ہے کہ اب خاتون ریزرویشن بل بالآخر صرف کانگریس ہی نہیں، بلکہ ہم سبھی کی انتھک محنت اور کوششوں کے سبب پاس ہو گیا ہے۔ لیکن ہم سبھی جانتے ہیں کہ اس سمت میں اب بھی ایک طویل راستہ طے کرنا باقی ہے۔ انھوں نے بل کے حقیقی صورت میں نفاذ پر اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ کے ذریعہ پارلیمنٹ میں اٹھائے گئے سوالات کی طرف توجہ دلائی اور پوچھا کہ کیا اس (قانون) پر عمل ایک سال، دو سال یا تین سال میں ہوگا؟ سونیا گاندھی نے کہا کہ ’’ہمیں کوئی اندازہ نہیں ہے۔ حالانکہ کچھ مرد خوش ہیں، لیکن ہم خوش نہیں ہیں، ہم خواتین خوش نہیں ہیں۔‘‘

سونیا گاندھی نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ انڈیا اتحاد خاتون ریزرویشن ایکٹ کے جلد نفاذ کے لیے جنگ کرنے جا رہا ہے۔ یو پی اے کی دوسری مدت کار میں پیش کردہ خاتون ریزرویشن بل راجیہ سبھا میں پاس ہو گیا تھا، لیکن عام اتفاق کی کمی کے سبب اسے لوک سبھا میں لایا نہیں جا سکا تھا۔ لیکن اب جبکہ یہ پارلیمنٹ سے پاس ہو گیا ہے تو اس کو جلد از جلد نافذ کرنے کی کوششیں کی جائیں گی۔

خام تیل کی قیمتیں بڑھنے سے ہندوستان کی پریشانی بڑھی، حماس-اسرائیل جنگ سے حالات ہوئے خراب

0
خام-تیل-کی-قیمتیں-بڑھنے-سے-ہندوستان-کی-پریشانی-بڑھی،-حماس-اسرائیل-جنگ-سے-حالات-ہوئے-خراب

بین الاقوامی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اکتوبر-دسمبر سہ ماہی میں زبردست اضافہ ہوا ہے، جس سے ہندوستان کے لیے ہائی کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ (سی اے ڈی) کا اندیشہ بڑھ گیا ہے اور آگے چل کر روپے پر بھی زیادہ دباؤ پڑنے کا اندیشہ پیدا ہو گیا ہے۔ اس درمیان اسرائیل-حماس جنگ نے خام تیل کی قیمتوں، عالمی معاشی اصلاح پر مزید غیر یقینی بڑھا دی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ کوئی بھی ملک تب سی اے ڈی میں چلا جاتا ہے جب اس کی چیزوں اور سروسز کی درآمدات کی قیمت اس کی برآمدات سے زیادہ ہوتی ہے۔ اس سے معیشت کے وسیع معاشی بنیادی اصول کمزور ہو جاتے ہیں اور مقامی کرنسی بیشتر غیر مستحکم ہو جاتی ہے۔ ہندوستان اپنی خام تیل کی ضرورت کا تقریباً 85 فیصد درآمدات کرتا ہے اور عالمی قیمتوں میں کسی بھی اضافہ سے درآمدات بل میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

چونکہ خام تیل خریدنے کے لیے بڑی ادائیگی ڈالر میں کرنی پڑتی ہے، اس لیے امریکی کرنسی کے مقابلے میں روپے پر اثر پڑتا ہے۔ کمزور روپیہ درآمدات کو مزید مہنگا بنا دیتا ہے کیونکہ ڈالر خریدنے کے لیے زیادہ مقامی کرنسی کی ادائیگی کرنی پڑتی ہے۔

ہندوستان کے لیے مشکل یہ ہے کہ خام تیل کی قیمتیں پھر سے بڑھنے لگی ہیں اور فی الحال یہ 95 ڈالر فی بیرل کے آس پاس منڈلا رہی ہیں۔ ستمبر تک تین ماہ میں تیل کی قیمتیں تقریباً 30 فیصد بڑھ گئیں جو تقریباً دو دہائیوں میں تیسری سہ ماہی کا سب سے بڑا اضافہ ہے۔ حال کے ہفتوں میں بنچ مارک برینٹ کروڈ 95 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔

بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی بڑھتی قیمتوں کے سبب ڈالر کی طلب میں اضافہ سے امریکی ڈالر کے مقابلے ہندوستانی روپیہ 83 روپے کی ذیلی سطح پر آ گیا ہے۔ ہندوستان کی تجارتی برآمد آمدنی، جو گھٹنے لگی ہے، کو بھی مزید جھٹکا لگ سکتا ہے کیونکہ جغرافیائی سیاسی اتھل پتھل کے سبب عالمی معاشی اصلاح پر بحران کے بادل منڈلا رہے ہیں۔

جیکلین فرنانڈیز کے لیے ٹھگ سکیش چندرشیکھر جیل میں رکھے گا ورَت، خط لکھ کر بتایا حالِ دل

0
جیکلین-فرنانڈیز-کے-لیے-ٹھگ-سکیش-چندرشیکھر-جیل-میں-رکھے-گا-ورَت،-خط-لکھ-کر-بتایا-حالِ-دل

کروڑوں روپے کی ٹھگی کے معاملے میں دہلی کی جیل میں بند مہاٹھگ سکیش چندرشیکھر نے ایک بار پھر بالی ووڈ اداکارہ جیکلین فرنانڈیز کو خط لکھا ہے۔ اس خط میں سکیش نے کہا ہے کہ ’’جیکلین اور میرے آس پاس پھیلی منفی باتوں کو دور کرنے کے لیے وہ اس بار نوراتری میں ورَت (روزہ) رکھے گا۔ اسے یقین ہے کہ ماں بھوانی کا کرم اس پر ضرور برسے گا۔‘‘

سکیش نے اپنے اس خط میں جیکلین فرنانڈیز کی خوبصورت کی تعریف بھی کی ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ دوحہ ایونٹ میں وہ بے حد خوبصورت لگ رہی تھیں۔ جلد ہی دونوں پھر سے ایک ساتھ رہیں گے۔ سکیش نے ساتھ ہی یہ بھی لکھا ہے کہ ’’دنیا کا کوئی جیل مجھے تم سے (جیکلین فرنانڈیز) دور نہیں کر سکتا۔‘‘ سکیش کے مطابق وہ پورے 9 دن ورَت رکھے گا۔ ماں شکتی کا رحم برسے گا اور جلد ہی سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سکیش نے جو خط لکھا ہے اس میں تذکرہ کیا ہے کہ جلد ہی خوشیاں لوٹنے والی ہیں۔ سچائی کا وقت آ گیا ہے۔ وہ اسے (جیکلین) پاگلوں کی طرح پیار کرتا ہے۔ اس کے خلاف جو بھی الزامات ہیں، وہ سچ کبھی ثابت نہیں ہوں گے۔ الٹی گنتی شروع ہو گئی ہے۔ سکیش خط میں آگے لکھتے ہیں ’’فکر مت کرو۔ میں تمھاری مدد کے لیے ہمیشہ تیار رہوں گا۔ مجھے پتہ ہے کہ تم (جیکلین) مجھ سے کتنی محبت کرتی ہو۔ میں تمھارے لیے جی رہا ہوں۔ تم میری لائف لائن ہو۔‘‘

ہر سال 23 اگست کو منایا جائے گا ’نیشنل اسپیس ڈے‘، مرکزی حکومت نے جاری کیا نوٹیفکیشن

0
ہر-سال-23-اگست-کو-منایا-جائے-گا-’نیشنل-اسپیس-ڈے‘،-مرکزی-حکومت-نے-جاری-کیا-نوٹیفکیشن

مرکزی حکومت نے 23 اگست کو ’نیشنل اسپیس ڈے‘ (قومی یومِ خلا) کی شک میں منانے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ چندریان-3 کے کامیابی کے ساتھ چاند کے جنوبی قطب پر اترنے کے ٹھیک بعد وزیر اعظم نریندر مودی کے ذریعہ کیا گیا تھا، اور اب اس سلسلے میں مرکزی حکومت نے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ 23 اگست کو چاند کے جنوبی قطب پر وِکرم لینڈر کی کامیاب لینڈنگ اور پھر پرگیان رووَر کی تعیناتی کے ساتھ ہی چندریان-3 مشن کامیاب ہو گیا تھا اور پھر لینڈر ماڈیول نے چاند پر سے کئی اہم ڈاٹا بھیجے جس پر سائنسدانوں کی تحقیق جاری ہے۔ اس کامیابی کا جشن پورے ملک میں منایا گیا تھا اور اِسرو کے سائنسدانوں سے جب پی ایم مودی نے ملاقات کر انھیں مبارکباد پیش کی تھی تو اسی وقت اعلان کیا تھا کہ ہر 23 اگست کو ’نیشنل اسپیش ڈے‘ کی شکل میں منایا جائے گا۔

بہرحال، اسپیس ڈپارٹمنٹ کی طرف سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ ’’23 اگست کو وکرم لینڈر کی لینڈنگ اور چاند کی سطح پر پرگیان رووَر کی تعیناتی کے ساتھ چندریان-2023 مشن کی کامیابی کے ساتھ ہندوستان خلائی سفر کرنے والے ممالک کے ایک خاص گروپ میں شامل ہو گیا، جو چاند پر اترنے والا چوتھا ملک اور چاند کے جنوبی قطب کے پاس اترنے والا پہلا ملک بن گیا۔ اس تاریخی مشن کے نتائج آنے والے سالوں میں انسانی برادری کو فائدہ پہنچائے گا۔‘‘

نوٹیفکیشن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’’یہ دن خلائی مشنوں میں ملک کی ترقی میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی کو آگے بڑھانے کے لیے نوجوان نسل کو ترغیب دیتا ہے اور خلائی شعبہ کو ایک اہم حوصلہ فراہم کرتا ہے۔ اس لیے حکومت ہند نے اس تاریخی لمحہ کو ہر سال اگست کے 23ویں دن کو ’نیشنل اسپیس ڈے‘ کی شکل میں منانے کا اعلان کیا ہے۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ چاند پر زمین کے 14 دنوں کے برابر دن اور رات ہوتے ہیں۔ جب چندریان-3 کا لینڈر چاند پر 23 اگست کو اترا تھا تو چاند پر دن نکل رہا تھا۔ یہی وجہ رہی کہ 14 دنوں تک کام کرنے کے بعد لینڈر اور رووَر سلیپ موڈ میں چلے گئے تھے۔ 14 دنوں تک لینڈر ماڈیول نے بہت اچھا کام کیا اور کافی ڈاٹا اِسرو نے جمع کر لیے ہیں۔ جب چاند پر رات ہونے لگی تو لینڈر اور رووَر کو سلیپ موڈ میں ڈال دیا گیا تھا۔ امید کی جا رہی تھی کہ جب دوبارہ چاند پر سورج طلوع ہوگا تو وکرم لینڈر اور پرگیان رووَر دوبارہ فعال ہوں گے، لیکن بہت کوششوں کے بعد بھی یہ ممکن نہیں ہو سکا۔ لیکن چندریان-3 سے جو امیدیں وابستہ کی گئی تھیں، اس میں وہ پوری طرح کامیاب ہو چکا ہے۔

10 سالوں میں ’بھاجپا رشتہ دار سمیتی‘ نے تلنگانہ کو تباہ کر دیا، راہل گاندھی کا بی آر ایس پر شدید حملہ

0
10-سالوں-میں-’بھاجپا-رشتہ-دار-سمیتی‘-نے-تلنگانہ-کو-تباہ-کر-دیا،-راہل-گاندھی-کا-بی-آر-ایس-پر-شدید-حملہ

کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے تلنگانہ میں مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کرنے والی ایک طالبہ کی مبینہ خودکشی معاملے پر ریاست کی بی آر ایس حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ہفتہ کے روز راہل گاندھی نے تلنگانہ کی کے. چندرشیکھر راؤ حکومت پر حملہ آور رخ اختیار کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ بی آر ایس دراصل ’بھاجپا رشتہ دار سمیتی‘ ہے اور بی جے پی نے مل کر اس ریاست کو تباہ کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کر رہی 23 سالہ لڑکی نے حیدر آباد کے اشوک نگر واقع اپنے ہاسٹل کے کمرے میں مبینہ طور پر پھندا لگا کر خودکشی کر لی۔ اس کے بعد مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کر رہے امیدواروں نے علاقے میں زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اس واقعہ کے بعد تلنگانہ کی بی آر ایس حکومت کو اپوزیشن پارٹیوں کی شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

اس خودکشی معاملے پر راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنا رد عمل ظاہر کیا ہے۔ پوسٹ میں انھوں نے لکھا ہے کہ ’’کل حیدر آباد میں ایک طالبہ کی خودکشی کی خبر انتہائی افسوسناک ہے۔ یہ خودکشی نہیں، قتل ہے- نوجوانوں کے خوابوں کا، ان کی امیدوں اور خواہشات کا۔‘‘ پھر وہ لکھتے ہیں ’’تلنگانہ کا نوجوان آج بے روزگاری سے پوری طرح ٹوٹ چکا ہے۔ گزشتہ 10 سالوں میں بھاجپا رشتہ دار سمیتی- بی آر ایس اور بی جے پی نے مل کر اپنی نااہلی سے ریاست کو تباہ کر دیا ہے۔‘‘

اپنے پوسٹ میں راہل گاندھی نے ریاست میں کانگریس حکومت تشکیل پانے پر اہم پیش رفت کی یقین دہانی بھی کی ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ’’تلنگانہ میں کانگریس کی حکومت جاب کیلنڈر جاری کرے گی، 1 ماہ میں یو پی ایس سی کے طرز پر ٹی ایس پی ایس سی کی از سر نو تشکیل کرے گی اور ایک سال کے اندر 2 لاکھ خالی سرکاری عہدوں کو بھرے گی۔ یہ گارنٹی ہے۔‘‘

لولو مال: ہندوستانی پرچم کی بے حرمتی کی جھوٹی خبر پھیلانے والے بی جے پی کارکن پر کیس درج

0
لولو-مال:-ہندوستانی-پرچم-کی-بے-حرمتی-کی-جھوٹی-خبر-پھیلانے-والے-بی-جے-پی-کارکن-پر-کیس-درج

لولو مال میں ہندوستانی پرچم کی بے حرمتی کی جھوٹی خبر پھیلائے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ کرناٹک پولیس نے اس معاملے مین بی جے پی میڈیا سیل سے جڑی بی جے پی کارکن شکنتلا نٹراج کے خلاف کیس درج کیا ہے۔ نٹراج پر الزام ہے کہ انھوں نے کیرالہ کے کوچی واقع لولو مال میں ہندوستانی پرچم کی بے حرمتی کی جھوٹی خبر پھیلائی ہے۔

ہفتہ کے روز پولیس نے اس سلسلے میں جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ شکنتلا نٹراج نے ہندوستانی پرچم کی بے حرمتی سے متعلق ایک پوسٹ سوشل میڈیا پر ڈالا تھا۔ تمکورو شہر کی جئے نگر پولیس نے بی جے پی کارکن کے خلاف از خود نوٹس لیتے ہوئے تعزیرات ہند کی دفعہ 153(بی) کے تحت کیس درج کیا ہے۔ پولیس نے ایک نوٹس بھی جاری کیا ہے جس میں انھیں پوچھ تاچھ کے لیے جانچ افسر کے سامنے پیش ہونے کے لیے کہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق فیکٹ چیک وِنگ نے یہ پتہ لگا لیا ہے کہ بی جے پی کارکن کے ذریعہ شیئر کی گئی پوسٹ فرضی اور جھوٹی تھی، جس کے بعد ان کے خلاف کیس درج کیا گیا۔ شکنتلا نٹراج نے پوسٹ میں لکھا تھا کہ ’’کیا آپ کے پاس جنرل نالج نہیں ہے کہ کسی دیگر ملک کا پرچم ہندوستانی پرچم سے اوپر نہیں ہونا چاہیے۔‘‘ انھوں نے اس پوسٹ کو کرناٹک کے نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار کو ٹیگ بھی کیا تھا اور لولو مال کا بائیکاٹ کرنے کے لیے ایک ہیش ٹیگ بھی بنایا تھا۔

قابل ذکر ہے کہ لولو مال میں عالمی کپ کرکٹ ٹورنامنٹ کی نمائندگی کرنے والے مختلف ممالک کے پرچم لگائے گئے تھے۔ سبھی پرچم کو یکساں اونچائی پر رکھا گیا تھا، حالانکہ تصویر ایسے زاویے سے لی گئی تھی جس میں ہندوستانی پرچم دیکھنے میں پاکستانی پرچم سے نیچے معلوم پڑ رہا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تصویر قصداً پریشانی پیدا کرنے کے لیے کھینچی گئی اور ایڈٹ کی گئی۔ انھوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ پوسٹ کے ذریعہ لوگوں کو مشتعل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمین نے نائب وزیر اعلیٰ شیوکمار اور لولو مال کو جوڑنے کی کوشش کی ہے جو مناسب نہیں۔ پولیس نے کہا کہ کوچی کے لولو مال کی تصویر کا استعمال کر بنگلورو میں لوگوں کو مشتعل کرنے کی کوشش کی گئی۔

تلنگانہ میں طالبہ کی خودکشی، کانگریس ریاستی حکومت پر حملہ آور ’اقتدار سے باہر کر دیں گے نوجوان‘

0
تلنگانہ-میں-طالبہ-کی-خودکشی،-کانگریس-ریاستی-حکومت-پر-حملہ-آور-’اقتدار-سے-باہر-کر-دیں-گے-نوجوان‘

نئی دہلی: تلنگانہ میں ریاستی پبلک سروس کمیشن کے امتحان میں بار بار التوا اور بے ضابطگیوں کی وجہ سے 23 سالہ طالبہ کی مبینہ خودکشی کے بعد ریاست کی سیاست میں ہلچل نظر آ رہی ہے۔ کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے ہفتہ کو تلنگانہ میں برسراقتدار بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ کے چندر شیکھر راؤ حکومت کی بے حسی سے ریاست کے ہزاروں نوجوان مایوس اور ناراض ہیں اور وہ اسے یقینی طور پر اقتدار سے بے دخل کریں گے۔

کھڑگے نے ایک پوسٹ میں کہا، ’’تلنگانہ میں ایک 23 سالہ طالبہ کی خودکشی سے صدمہ اور گہرا دکھ ہوا، جس نے کمیشن کے امتحانات میں بار بار ملتوی ہونے اور بے قاعدگیوں کی وجہ سے اپنی زندگی کا خاتمہ کرنے کا سخت قدم اٹھایا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ غم اور غصے کے اس وقت میں، "ہماری تعزیت میری پراویلیکا کے خاندان کے ساتھ ہیں۔‘‘

حیدرآباد کے آر ٹی سی چوراہے پر اس وقت کشیدگی پھیل گئی جب گروپ 2 کی ایک امیدوار نے جمعہ کی رات تقریباً 8:35 بجے اپنے ہاسٹل میں چھت کے پنکھے سے لٹک کر خودکشی کر لی۔ معاملہ اس وقت مزید بڑھ گیا جب آس پاس کے طلباء اور امیدواروں نے دعویٰ کیا کہ خودکشی کی وجہ 30 نومبر کو ہونے والے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر گروپ 2 کا امتحان ملتوی کرنا ہے۔

ہزاروں طلبہ وہاں جمع ہو گئے اور متوفی پراویلیکا کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال لے جانے کی اجازت نہیں دی۔ اس کے بعد پولیس نے حالات پر قابو پانے کے لیے لاٹھی چارج کیا اور پھر متوفی طالبہ کی لاش کو اسپتال لے جایا گیا۔ ریاست میں اپوزیشن جماعتوں کے قائدین موقع پر پہنچے اور خودکشی کو بی آر ایس حکومت کی طرف سے کیا گیا قتل قرار دیا۔ دریں اثنا، پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ طالبہ نے ذاتی وجوہات کی بنا پر خودکشی کی ہے۔

اسمبلی انتخابات: امیدواروں کے خرچ پر الیکشن کمیشن سخت، چائے اور سموسا تک کی قیمت طے!

0
اسمبلی-انتخابات:-امیدواروں-کے-خرچ-پر-الیکشن-کمیشن-سخت،-چائے-اور-سموسا-تک-کی-قیمت-طے!

پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کی تاریخیں سامنے آ گئی ہیں۔ پارٹیاں اپنے اپنے امیدواروں کی فہرست جاری کرنے میں مصروف ہیں اور الیکشن کمیشن ہر طرح کی سرگرمی پر اپنی گہری نگاہ بنائے ہوئے ہے۔ انتخابی کمیشن کی طرف سے امیدواروں اور سیاسی پارٹیوں کو لے کر کئی اہم فیصلے لیے گئے ہیں۔ اس بار امیدواروں کے ذریعہ کیے جانے والے خرچ کی ریٹ لسٹ بھی تیار کر دی گئی ہے۔ اس لسٹ میں انتخابی تشہیر کے دوران چائے، کافی، سموسا، رس گلہ، آئسکریم سمیت ہر سامان کی قیمت طے کر دی گئی ہے۔ یہ سبھی خرچ امیدوار کے اکاؤنٹ میں جوڑا جائے گا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق انتخابی کمیشن نے انتخابی مواد اور جلسہ میں استعمال کی جانے والی سبھی چیزوں کی قیمت مقرر کر دی ہے۔ کمیشن اپنی ریٹ لسٹ کے مطابق ہی امیدوار کے اخراجات کا اندازہ لگائے گا۔ دراصل انتخاب کے دوران امیدواروں لاکھوں کروڑوں روپے خرچ کر دیتے ہیں، لیکن اب ایسا ممکن نہیں ہو سکے گا۔ انتخابی کمیشن کی طرف سے امیدواروں کے ہر خرچ پر نظر رکھی جائے گی۔ ضلع انتخابی افسر کی طرف سے ہر امیدوار کے خرچ کی مانیٹرنگ کا انتظام کیا جائے گا۔

انتخابی کمیشن نے انتخابات کے دوران استعمال ہونے والے سامان کی ایک ریٹ لسٹ تیار کی ہے۔ اس ریٹ لسٹ کے مطابق ایک پلاسٹک کرسی 5 روپے، پائپ کی کرسی 3 روپے، وی آئی پی کرسی 105 روپے، لکڑی کی ٹیبل 53 روپے، ٹیوب لائٹ 10 روپے، ہیلوجین 500 واٹ 42 روپے، 1000 واٹ 74 روپے، وی آئی پی صوفا سیٹ 630 روپے فی روز کے حساب سے جوڑا جائے گا۔ اسی طرح انتخابی پروگرام کے دوران کھانے کی چیزوں پر بھی انتخابی کمیشن کی نظر رہے گی۔ اس میں آم کے لیے 63 روپے، کیلا کے لیے 21 روپے، سیب کے یے 84 روپے، انگور کے لیے 84 روپے فیلو کلو رقم طے کی گئی ہے۔ آر او پانی کے 20 لیٹر والے بوتل کے لیے 20 روپے اور کولڈ ڈرنک-آئسکریم کے لیے پرنٹ ریٹ جوڑے جائیں گے۔ گنے کا رَس ہر چھوٹا گلاس 10 روپے، برف کی سلّی 2 روپے اور ہر پلیٹ کھانے پر 71 روپے مقرر کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ پلاسٹک جھنڈا 2 روپے، کپڑے کا جھنڈا 11 روپے، اسٹیکر چھوٹا 5 روپے، پوسٹ 11 روپے، کٹ آؤٹ ووڈن، کپڑا اور پلاسٹک کے 53 روپے فی فیٹ، ہورڈنگ 53 روپے، پمفلٹ 525 روپے فی ہزار کے حساب سے خرچ امیدوار کے کھاتے میں جوڑا جائے گا۔

انتخابی کمیشن کی ریٹ لسٹ پر مزید نظر ڈالی جائے تو امیدوار 5 سیٹر کار پر روزانہ 2625 روپے، منی بس 20 سیٹر پر 6300 روپے، 35 سیٹر بس پر 8400 روپے خرچ کر سکتے ہیں۔ ٹیمپو کا ریٹ 1260 روپے، ویڈیو ویب کا 5250 روپے، گاڑی ڈرائیور کے لیے 630 روپے روزانہ کے حساب سے امیدوار خرچ کر سکتے ہیں۔ انتخابی کمیشن کی ریٹ لسٹ کے مطابق امیدوار چائے 5 روپے، کافی 13 روپے، سموسا 12 روپے، رس گلہ 210 روپے کلو کے حساب سے خرید سکتا ہے۔ اس کے علاوہ مزید کئی چیزیں ہیں جس کی قیمت انتخابی کمیشن نے طے کر دی ہیں۔

واضح رہے کہ انتخابی کمیشن کو انتخابی تشہیر میں خرچ کی گئی رقم کی تفصیل دینا لازمی ہوتا ہے۔ 2018 کے اسمبلی انتخاب میں جن امیدواروں نے انتخابی خرچ کی تفصیل نہیں دی، ان کے خلاف انتخابی کمیشن کی طرف سے بڑا ایکشن لیا گیا ہے۔ حال ہی میں انتخابی کمیشن نے راجستھان کے 46 لیڈران کو نااہل قرار دیا ہے اور ان کے انتخاب لڑنے پر روک لگائی ہے۔

قوت سماعت سے محروم افراد ریزرویشن سے محروم! دہلی ہائی کورٹ میں ’کے وی ایس‘ کی سرزنش

0
قوت-سماعت-سے-محروم-افراد-ریزرویشن-سے-محروم!-دہلی-ہائی-کورٹ-میں-’کے-وی-ایس‘-کی-سرزنش

نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے کیندریہ ودیالیہ سنگٹھن (کے وی ایس) کو تدریسی عہدوں کے لیے ریزرویشن کے عمل سے قوت سماعت سے محروم اور ان افراد کو جنہیں کم سنائی دیتا ہے، خارج کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ چیف جسٹس ستیش چندر شرما اور جسٹس سنجیو نرولا کی ایک ڈویژن بنچ نے کے وی ایس کے دسمبر 2022 کے بھرتی کے اشتہار میں متعلقہ اصول اور سرکاری نوٹیفکیشن کو نظر انداز کرنے پر ناراضگی کا اظہار کیا۔

بنچ نیشنل ایسوسی ایشن آف دی ڈیف (این اے ڈی) کی طرف سے اشتہار کو چیلنج کرنے والی اور اس معاملہ میں از خود نوٹ مفاد عامہ کی عرضی پر سماعت کر رہی تھ۔ جسٹس شرما نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’’مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ہم ان لوگوں کے ساتھ دشمنی کیوں رکھتے ہیں۔ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ کیندریہ ودیالیہ یہ سب کچھ کرے گا۔ مجھے کیندریہ ودیالیہ تنظیم پر افسوس ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ کیندریہ ودیالیہ کی پیداوار کے طور پر انسٹی ٹیوٹ کے ساتھ ان کے ذاتی تعلق نے اس معاملے کو ان کے لیے اور زیادہ معنی خیز بنا دیا ہے۔ یہ جاننے پر کہ اشتہار کے بعد بھرتی پہلے ہی ہو چکی ہے، عدالت نے حکومتی قوانین کی تعمیل کرنے کی ضرورت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ کے وی ایس کو ہدایت دے گی کہ وہ معذور افراد کے لیے خالی آسامیوں کے بیک لاگ کو مکمل کرے۔

کے وی ایس نے استدلال کیا کہ ایک داخلی کمیٹی نے معذور افراد کے مخصوص زمرے کی خدمات حاصل کرنے کے خلاف سفارش کی تھی لیکن عدالت نے کہا کہ چونکہ مرکزی حکومت نے کے وی ایس کو معذوری کوٹہ پر عمل آوری سے استثنیٰ نہیں دیا ہے، اس لیے وہ اسے نظر انداز کرنے کے حقدار نہیں ہیں۔

عدالت نے معذور افراد کے حقوق (آر پی ڈبلیو ڈیی) ایکٹ 2016 اور حکومتی نوٹیفکیشن کی دفعات پر عمل کرنے کی کے ویی ایس کی اہمیت پر بھی زور دیا۔