بدھ, جون 24, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 59

’انڈیا‘سے کیوں گھبرا رہی بی جے پی؟

0
’انڈیا‘سے-کیوں-گھبرا-رہی-بی-جے-پی؟

ذات پر مبنی مردم شماری کے نتائج جاری کرکے بہار نے ملک کی سیاست کو ایک بار پھر موڑ دیا ہے۔ 70 کی دہائی میں ایمرجنسی کے خلاف جے پی تحریک ہو یا 90 کی دہائی میں شروع ہونے والی منڈل سیاست ، دونوں مواقع پر بہار نے تبدیلی کی قیادت کی تھی۔ اب جب پچھلی ایک دہائی سے قوم پرست سیاست ملک پر حاوی ہوتی نظر آرہی ہے، نام نہاد سیکولر سیاست کو بے دخل کرتے ہوئے بہار نے ذات پات کی بنیاد پر ہونے والے حساب کتاب کے نتیجے میں ایسا دھماکہ کیا ہے، جس میں تبدیلی کی صلاحیت موجود ہے۔ خیر ابھی توسب اسی حساب کتاب میں مصروف ہیں کہ اگر پسماندہ اور انتہائی پسماندہ لوگ مل کر ریاست کی آبادی کا دو تہائی حصہ ہوجاتے ہیں تو اس کی کاٹ کے طور پر دوسرا کون سا جغرافیہ پیش کیا جا سکتا ہے؟

جب سے بہار حکومت نے ذات کی بنیاد پر مردم شماری کی رپورٹ کو عام کیا ہے، مرکز کی بی جے پی حکومت میں کہرام مچا ہوا ہے،اسی وجہ سے بی جے پی کی یہ دلیل کہ قومی سطح پر ایسا کرنا عملی طور پر ممکن نہیں ہے، بے معنی ہو گیا ہے۔ اب ہر طرف یہی سوال اٹھ رہا ہے کہ جب ایک ریاست میں ایسا ممکن ہے تو دوسری ریاستوں میں اور قومی سطح پر یہ کام کیوں نہیں ہو سکتا۔ چونکہ اس سوال کا کوئی تسلی بخش جواب نہیں ہے، اس لیے بی جے پی لیڈروں کا بنیادی لہجہ بھی بدل گیا ہے اور اب بھگوا پارٹی کے لوگوں نے یہ کہنا شروع کردیا ہے کہ وہ ذات پر مبنی مردم شماری کے خلاف نہیں ہیں اور وہ بہار حکومت کے فیصلے میں بھی شروع سے شامل رہے ہیں۔ صاف ہے کہ بہار حکومت نے بی جے پی کی روایتی سیاست کو زمیں دوز کرنے کا کام کیا ہے۔

ذات پر مبنی مردم شماری کے معاملے پر ’مثبت‘ موقف دکھا کر بی جے پی’انڈیا اتحاد‘ کی سبقت کو متاثر کرنا چاہتی ہے مگر اب بہت دیرہوچکی ہے کیونکہ ’انڈیا‘ کا گھوڑا بی جے پی کی فرقہ وارانہ سیاست کو پیروں تلے روندتے ہوئے کافی آگے نکل چکا ہے۔ اب تک یہی دیکھا گیا ہے کہ جس نے جس مسئلے پر پہل کی ، نسبتاً اس کوہی زیادہ فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ ذات پات کی مردم شماری کے معاملے میں یہ کام جے ڈی یو اور آر جے ڈی نے کیا ہے، جو بی جے پی کے خلاف بنائے گئے ’انڈیا‘ اتحاد کا اہم حصہ ہیں۔ بی جے پی نے جس سیاست کو قائم کرنے کی کوشش کی ہے وہ اب خود اسی پارٹی کے لئے ’زہر‘بنتا دکھا دے رہا ہے کیونکہ بی جے پی کے ذریعہ پلائی گئی گھٹی نے عوام کو کہیں کا نہیں چھوڑا ہے۔

بہار حکومت کے اقدام سے بی جے پی کو ہونے والے نقصان پر ابھی بھگوا خیمے میں ماتم ہی ہو رہا تھا کہ کانگریس کے سابق صدرراہل گاندھی نے ’جس کی جتنی سنکھیا بھاری، اس کی اتنی بھاگیداری‘ ( جتنی زیادہ آبادی ،اتنی بڑی سیاست اور معیشت میں حصہ داری) کا نعرہ دے کر 2024 کے لوک سبھا انتخابات سے قبل ایک بڑی ہلچل مچا دی ہے۔ ماہرین کی مانیں تو ذات پر ابھرتی ہوئی سیاست 2014 کے بعد قائم کئے گئے انتخابی جغرافیہ کو تہس نہس کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے؟ ملک کے کئی حصوں میں ( کچھ میں آبادی کے نصف سے دو تہائی کے درمیان ) او بی سی کا بڑا اہم حصہ ہے ۔ ان حالات میں یہ بھی طئے ہے کہ سیاسی پارٹیاں انہیں خوش کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گی۔

یہ دیکھتے ہوئے کہ قومی اور ریاستی سطحوں پر ہماری زیادہ تر فلاحی پالیسیاں مخصوص طبقات پر مرکوز ہوتی ہیں، کچھ لوگ اس بات سے متفق نہیں ہوں گے کہ تفصیلی سماجی و اقتصادی ڈیٹا پالیسی کی تشکیل اور نفاذ میں زیادہ مددگار ثابت ہوگا۔ تاہم ذات پر مبنی مردم شماری کے مطالبے سے متعلق قلیل مدتی اور درمیانی مدت کے انتخابی اثرات کئی وجوہات کی بنا پر غیر واضح ہیں۔ لیکن بہار کی نتیش حکومت نے جن حالات میں ذات پرمبنی مردم شماری کے اعداد وشمار جاری کئے ہیں، اس نے بی جے پی اور وزیر اعظم مودی کے نعرے’سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس‘ کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگلے سال ہونے والے عام انتخابات کے پیش نظرفرقہ وارانہ سیاست میں ماہربی جے پی حواس باختہ نظرآرہی ہے۔

بی جے پی کو اعلی ذات والوں کی جماعت بھی کہا جاتا رہا ہے۔ بی جے پی اس امیج کو بدلنے کی کوشش بھی کرتی رہی ہے لیکن اس نے کبھی بھی سنجیدگی کے ساتھ پسماندہ طبقات کی بہتری کے لیے اقدامات پر توجہ نہیں دی۔ صرف وعدے اور دعوے کرتے ہوئے ان کی تائید حاصل کرنے کی کوششیں کرتی رہی۔ انتخابات میں کچھ اہمیت ضرور دی گئی اور انتخابات کا عمل مکمل ہونے کے بعد انہیں پھر سے نظر انداز کردیا گیا۔ ایسے ایک سے زائد مواقع پر ہوا ہے لیکن پارٹی اپنی روش میں کوئی تبدیلی نہیں لائی ہے اور نہ ہی جن ریاستوں میں اس کی اپنی حکومتیں ہیں وہاں ذات پات کی بنیاد پر مردم شماری کے لیے کوئی اقدامات کئے گئے ہیں۔ بہار میں جے ڈی یو اور آر جے ڈی و کانگریس کے اشتراک والی مخلوط حکومت نے اس سلسلہ میں پہل کرتے ہوئے دوسری ریاستوں کے لیے مثال قائم کی ہے۔

بہار میں ذات پات پر مبنی مردم شماری سے ثابت ہوگیا ہے کہ ریاست میں 84 فیصد عوام او بی سی، ایس سی اور ایس ٹی ہیں اور ان کا حصہ ان کی آبادی کے مطابق ہونا چاہئے۔ ان حالات میں اب کئی ریاستوں کی طرف سے مرکز سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ وہ قومی سطح پر فوری ایسا سروے کرادے تاکہ سماجی انصاف یقینی ہو اور سماج کو بااختیار بنانے کے پروگرامس کو ٹھوس بنیاد فراہم ہوجائے۔ اس میں ملک میں سب بڑی آبادی والا صوبہ اترپردیش سرفہرست ہے۔ لوگوں کا کنا ہے کہ ذات پات کی مردم شماری ہمارے سماج کو متحد کرے گی۔ وہ ذاتیں جو پیچھے رہ گئی ہیں، جنہیں ابھی تک عزت اور حقوق نہیں دیے گئے اور جو سمجھتے ہیں کہ ان کی آبادی زیادہ ہے لیکن انہیں اس کے مطابق کچھ نہیں مل رہا ہے، انہیں ذات پات کی بنیاد پر مردم شماری ہمارے معاشرے کو مربوط کر دے گی۔

ملک کی مختلف ریاستوں اور خاص طور پر ہندی بولنے والی ریاستوں میں پسماندہ طبقات کو کافی اہمیت حاصل ہے۔ تمام جماعتیں ان سے ہمدردی کا دعوی کرتی ہیں اور ان کے کاز کی چمپئن بننے کی بات کرتی ہیں۔ تاہم عملی طور پر اقدامات کی جب بات آتی ہے تو یہ جماعتیں اپنے وعدوں پر عمل کرنے میں پس و پیش کا شکار ہوجاتی ہیں اور نت نئے بہانے اختیار کئے جاتے ہیں۔ بی جے پی آج مرکز میں اور ملک کی بیشتر ریاستوں میں برسراقتدار ہے۔ وہ ملک بھر میں جہاں کہیں انتخابات ہوتے ہیں پسماندہ طبقات کے لیے کئی اقدامات کرنے کے دعوے کرتی ہے۔ انہیں سبز باغ دکھائے جاتے ہیں۔ انہیں انتخابی فائدہ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے لیکن کبھی بھی ان کے جائز مطالبات کی تکمیل کے لیے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے۔

دراصل، ہندوستان ایک ایسا ملک ہے، جہاں کئی مذاہب کے ماننے والے رہتے ہیں۔ ان مذاہب میں کئی ذاتیں اور ان کے الگ الگ ریت رواج ہیں۔ ان کے طریقہ کار اور روایات بھی مختلف ہیں۔ پسماندہ طبقات میں ذات پات کی خاصی اہمیت ہونے کی بنا پر ان کی شناخت بھی الگ ہے۔ کئی صوبوں میں ذات پات کے اعداد وشمار اہم ہونے کی وجہ سے وہاں کے انتخابی نتائج پر ان کا اثر پڑتا ہے۔ اس بنا پر کئی افراد کا ذات پات کی بنیاد پر مردم شماری کرانے کا اصرار تھا۔ امید ہے کہ اس سے لوگوں کے ساتھ انصاف ہوسکے گا اور وہ سماجی طور پر برابری حاصل کر سکیں گے۔ انہیں اپنی تعداد کے تناسب سے تعلیم اور روزگار کے شعبوں میں مناسب نمائندگی مل سکے گی۔

خواتین ریزرویشن فوری طور پر نافظ کیا جائے، خواتین کے پاس ضائع کرنے کے لیے وقت نہیں! پرینکا گاندھی

0
خواتین-ریزرویشن-فوری-طور-پر-نافظ-کیا-جائے،-خواتین-کے-پاس-ضائع-کرنے-کے-لیے-وقت-نہیں!-پرینکا-گاندھی

پرینکا گاندھی: کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے تمل ناڈو کی راجدھانی چنئی میں ڈی ایم کے کی خواتین حقوق کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ خواتین ریزرویشن بل کو فوری نافذ کرنے کا مطالبہ کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی خواتین کے پاس اب ضائع کرنے کے لیے وقت نہیں ہے۔ انہوں نے تمل ناڈو میں اپنے والد اور سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کے قتل کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ یہ کتنا افسوسناک لمحہ تھا۔

پرینکا نے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب میں 32 سال پہلے تمل ناڈو آئی اور یہاں اتری تو ہم سب رات کی تاریکی میں ڈوبے ہوئے تھے۔ سب کے ذہنوں میں خوف تھا۔ میرے والد کو چند گھنٹے پہلے قتل کر دیا گیا تھا۔ اس رات میں نے اپنی ماں سونیا گاندھی سے کچھ کہا جسے سن کر وہ بہت دکھی ہوئیں۔ انہوں نے بتایا کہ جب میں اپنے والد کے جسم کے اعضاء اکٹھا کر رہی تھی تو مجھے کوئی خوف نہیں تھا۔ میں اس وقت بالکل اکیلی تھی۔

کانگریس جنرل سکریٹری نے بتایا کہ کس طرح نیلی ساڑی پہنے خواتین کے ایک گروپ نے انہیں گھیر لیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ خواتین میری والدہ کو بازوؤں میں پکڑ کر رونے لگیں۔ درد بانٹنے کے ان آنسوؤں نے مجھے تمل ناڈو کی ماؤں اور بہنوں سے جوڑ دیا۔ پرینکا نے اپنے خطاب میں کہا کہ آپ سب میری مائیں ہیں۔ آپ سے بات کرنے کا موقع ملا، بہت خوشی ہوئی۔ میں یہ بتانے آئی ہوں کہ ہم عورتیں اس باوقار اور خوبصورت قوم کی طاقت ہیں جسے ہم اپنا مادر وطن کہتے ہیں۔

پرینکا نے اپنے خطاب میں کہا کہ ملک کی خواتین کو کسی نہ کسی وقت محرومیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ محرومیوں اور مصائب کو برداشت کرنے کی اپنی بے پناہ صلاحیت کی بنیاد پر ہم نے اپنی استقامت اور قوت ارادی سے سب کچھ حاصل کیا ہے۔ انہوں نے کہا ’’میں آپ کو بتانا چاہتی ہوں کہ ہم اس سے بہت زیادہ ہیں۔ ہم وہ افرادی قوت ہیں جو ہمارے براعظم کو ترقی کی راہ پر گامزن کرے گی۔ ہم لاکھوں اور کروڑوں نوجوان خواتین بھی ہیں جو اپنی آنکھوں اور دلوں میں ایک بہتر مستقبل کا خواب سجاتی ہیں۔

خواتین ریزرویشن بل کے بارے میں بات کرتے ہوئے پرینکا نے کہا ’’میں خواتین ریزرویشن بل کو فوری نافذ کرنے کا مطالبہ کرتی ہوں۔ ہندوستانی خواتین کے پاس اب ضائع کرنے کا وقت نہیں ہے۔ سیاسی عمل میں حصہ لینا ہمارا حق ہے۔ میں مطالبہ کرتی ہوں کہ ہماری خودارادیت کو سمجھا جائے اور ایک سیاسی قوت کے طور پر ہماری اہمیت کو بااختیار بنانے کے لیے احترام کیا جائے۔

‘ہماچل چاہتا ہے کہ سیاح آئیں اور خوشگوار ماحول سے لطف اندوز ہوں’

0
‘ہماچل-چاہتا-ہے-کہ-سیاح-آئیں-اور-خوشگوار-ماحول-سے-لطف-اندوز-ہوں’

شملہ: ہماچل پردیش کے وزیر اعلیٰ سکھوندر سنگھ سکھو کا دعویٰ ہے کہ حکومت کی کوششوں سے خوفناک تباہی کے باوجود ہماچل پردیش ایک ماہ کے اندر دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت نے جنگی بنیادوں پر راحت اور بچاؤ کا کام کیا ہے اور ہماچل کے لوگوں نے اس میں تعاون کیا لیکن ان کا یہ شکوہ ہے کہ اس بحران کے دوران نہ تو مرکزی حکومت اور نہ ہی ہماچل پردیش کی اپوزیشن پارٹی بی جے پی نے تعاون کیا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے ہماچل آفت کو قومی آفت قرار دینے کی تجویز کی حمایت نہیں کی۔

سکھوندر سنگھ سکھو نے کہا ہے کہ سیاحوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر ریاست میں نئے شہر قائم کرنے کے منصوبے پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پالن پور اور جاکھیا دیوی میں دو نئے شہر قائم کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ کانگڑا کو سیاحتی دارالحکومت کے طور پر ترقی دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ آفت سے متاثرہ لوگوں کو راحت پہنچانے کے لیے ہماچل پردیش نے ریلیف مینول میں تبدیلی کی ہے اور اس میں بیس گنا اضافہ کیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ہماچل پردیش ملک کی پہلی ریاست بن گئی ہے جس نے اس طرح کا ریلیف پیکیج دیا ہے۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ہماچل کے لوگوں نے ان پر بھروسہ کیا ہے اور وہ اس یقین کو برقرار رکھنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔

نیشنل ہیرالڈ، نوجیو اور قومی آواز کے لیے سکھوندر سنگھ سکھو کی نوجیون کے ڈیجیٹل ایڈیٹر تسلیم خان کے ساتھ گفتگو:

سوال: سوال: آپ کو حکومت کی باگ ڈور سنبھالے بمشکل چھ ماہ ہوئے تھے کہ ریاست پر یکے بعد دیگرے دو آفات آئیں لیکن تقریباً ایک ماہ میں ہماچل اپنے پیروں پر کھڑا نظر آنے لگا، آپ نے یہ کرشمہ کس طرح کیا؟

یہ کوئی کرشمہ نہیں بلکہ یہ میرا فرض تھا، میری ذمہ داری تھی۔ یقیناً جب آفت آئی تو یہ بہت بڑا بحران تھا۔ میں ہر جگہ میدان میں پہنچا، اسے محسوس کیا، حکام کو ہدایات دیں، اور تمام عہدیداروں، کابینہ کے ساتھیوں نے کام کیا۔ میں سب کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ سب نے ہمارا ساتھ دیا اور اسی کی وجہ سے آج ہم دوبارہ اپنے پیروں پر مضبوطی سے کھڑے ہیں۔

انفراسٹرکچر بنانے میں ایک ڈیڑھ سال کا وقت لگے گا لیکن آج ہم نے تمام سڑکیں کھول دی ہیں اور ہم ہر قسم کے سیاحوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ ہماچل محفوظ ہے۔ آپ تشریف لائیں اور یہاں کے خوشگوار ماحول سے لطف اندوز ہوں۔ ہماچل پردیش میں تباہی سے جو افرا تفری پیدا ہوئی تھی وہ اب ختم ہو چکی ہے اور اب یہاں سب کچھ ٹھیک ہے۔

سوال: آپ نے میدان میں اتر کر قیادت کی اور ایک مثال پیش کی لیکن ہم وفاقی نظام ہیں، ایسی صورتحال میں مرکزی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ آفت زدہ ریاست کے ساتھ کھڑا ہو۔ مرکز سے آپ کو کتنی، کس قسم کی اور کب مدد ملی؟

دیکھیں، ابھی تک مرکزی حکومت کی طرف سے کوئی تعاون نہیں ملا ہے۔ اب تک جو کچھ ملا ہے وہ پورے ملک کی ریاستوں کے لیے پہلے سے طے شدہ ڈیزاسٹر بجٹ سے حاصل کیا گیا ایڈوانس ہے لیکن ہم جس خصوصی ریلیف کا مطالبہ کر رہے ہیں وہ پیکیج حاصل ہوگا یا نہیں یہ ابھی تک واضح نہیں ہے۔ ہم نے اپنی ہماری طرف سے (ہماچل حکومت کی جانب سے) ریاست کے لیے 4500 کروڑ روپے کا خصوصی پیکیج شروع کیا ہے۔ تاہم، مرکز کے قواعد کے مطابق ہمیں جو فنڈ ملنا چاہئے وہ بھی ابھی تک نہیں ملا۔ خصوصی پیکج کا تو ذکر ہی کیا کریں، ہمیں تو ہمارے حقوق بھی نہیں ملے۔

یہ بہت افسوسناک ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی ہماچل یونٹ نے اس تجویز کی حمایت نہیں کی جس میں ہم نے ہماچل میں ہونے والی تباہی کو قومی آفت قرار دینے کا مطالبہ کیا تھا، ہماچل کے مفادات کو مدنظر رکھے بغیر انہوں نے ہمارے 12 ہزار کروڑ روپے کے خصوصی پیکیج کو مسترد کر دیا۔

سوال: تباہی سے ہونے والے نقصانات اور اس کی وجوہات پر واپس آتے ہیں۔ بہت باتیں ہوئیں، الزام برائے الزام کا دور بھی جاری رہا۔ آپ نے بھی کچھ باتیں کیں اور اندازہ لگانے کا ذکر بھی کیا۔ کیا تشخیص وغیرہ مکمل ہو چکی اور آفت کی وجوہات معلوم کر لی گئیں؟ اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں کہ ایسا دوبارہ نہ ہو؟

دیکھئے، ہماچل پردیش کو سب سے زییادہ نقصان بادل پھٹنے اور شددی بارشوں کی وجہ سے ہوا۔ جب پاور ہاؤسز کے ڈیم بھر گئے اور ان سے پانی چھوڑا گیا تو اس سے بھی کافی نقصان ہوا۔ بنیادی ڈھانچہ، پینے کا پانی، بجلی اور آبپاشی وغیرہ سب متاثر ہوئے ہیں۔ ان سب کا اندازہ لگانے کے بعد ہم نے محسوس کیا کہ اس سب کی عارضی طور پر مرمت کی جائے، اسی لیے ہماچل پردیش میں اتنی بڑی تباہی کے بعد بھی کوئی چیخ و پکار نہیں تھی، کوئی انارکی نہیں تھی، ہر چیز پرامن طریقے سے نمٹائی گئی۔

سوال: ہم نے تمام خبریں دیکھی ہیں کہ نہ صرف بڑی سڑکیں بلکہ کئی راستوں اور لوگوں کے مکانات وغیرہ کو بھی کافی نقصان پہنچا ہے، خاص طور پر دیہی علاقوں میں، آپ نے اس سلسلے میں کیا کیا ہے اور ریلیف مینوئل میں آپ نے کا تبدیل کی؟

ایک مرکزی حکومت کا ریلیف مینوئل ہے اور دوسرا ریاستی حکومت کا ریلیف مینوئل ہے۔ ریاستی دستور کے مطابق گھر کے مکمل تباہ ہونے کی صورت میں ایک لاکھ روپے اور جزوی طور پر 6500 روپے کی امداد دستیاب تھی۔ ہم ملک کی پہلی ریاست ہے جہاں مکان کے پوری طرح تباہ ہونے پر ریلیف ایک لاکھ روپے سے بڑھا کر سات لاکھ روپے کر دیا گیا ہے۔ بجلی اور پانی کے کنکشن مفت کر دیے گئے ہیں۔ گھر بنانے کے لیے استعمال ہونے والے سیمنٹ سے ٹیکس ہٹا کر اسے کم کر کے صرف 280 روپے فی بوری کر دیا گیا ہے۔ 16 ہزار خاندانوں کو ریلیف دیا گیا ہے، جن میں سے 3500 خاندانوں کے گھر مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں، ہماچل حکومت انہیں 7 لاکھ روپے فی گھر دے گی اور جن کے گھر جزوی طور پر تباہ ہو گئے ہیں انہیں حکومت ایک لاکھ روپے دے گی۔ حکومت ان کسانوں یا خاندانوں کو فی جانور 55 ہزار روپے دے گی جن کی گائے، بھینس وغیرہ ہلاک ہو گئیں، گھوڑا وغیرہ مرنے پر 55 ہزار روپے فی جانور، بھیڑ یا بکری مارے جانے پر 6500 روپے دیے جائیں گے۔ پورے ہندوستان میں کسی ریاست نے اتنا ریلیف پیکج نہیں دیا ہوگا جتنا ہماری حکومت نے دیا ہے۔

سوال: جب ہم دہلی سے آرہے تھے تو دیکھا کہ کئی مقامات پر پہاڑ سیدھے کاٹے گئے ہیں یعنی تقریباً 90 ڈگری پر، ماہرین نے اس بارے میں بہت کچھ کہا ہے کہ پہاڑوں کو اس طرح کاٹنا مصیبت کو دعوت دیتا ہے!

بلاشبہ۔ جب بھی سڑکیں بنتی ہیں تو لینڈ سلائیڈنگ ہوتی ہے۔ لیکن پہاڑ کو ڈھلواں کاٹنا چاہئے اور ویسے بھی پہاڑ کاٹنے پر اسے معمول پر آنے میں چار سے پانچ سال کا وقت لگتا ہے۔ انہوں نے تو اسے 90 ڈگر پر کاٹ دیا۔ ابھی ایین ایچ اے آئی کے ساتھ بات ہوئی،، انہوں نے اس پر غور کیای اور اب انہوں نے کہا ہے کہ وہ پہاڑوں کو اب ڈھلواں طریقہ سے ہی کاٹیں گے۔

سوال: اوور ٹورزم (حد سے زیادہ سیاحت) کی بات ہو رہی ہے، خاص طور پر شملہ، منالی یا دھرم شالہ جیسے شہر سیاحوں کے زیادہ دباؤ میں ہیں اور وہ سیاحوں کا دباؤ برداشت نہیں کر پا رہے ہیں۔ کیا آپ کے پاس اس پر قابو پانے کے لیے کوئی منصوبہ یا کوئی اور حل ہے؟

دیکھئے، ہمارے یہاں سیاحوں کے لیے تمام انتظامات ہیں۔ ہوم اسٹے، ہوٹل وغیرہ ہیں اوور ٹورزم کی کوئی بات نہیں۔ اور شہروں پر دباؤ کا آفت سے کوئی تعلق نہیں۔ کبھی کبھی سیاح زیادہ آتے ہیں، گاڑیاں ضرورت سے زیادہ آتی ہیں، ٹریفک کا مسئلہ ہے، حکومت اس نظام کو ٹھیک کر رہی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اب تک آنے والے 1.50 کروڑ سیاحوں کی تعداد بڑھ کر پانچ کروڑ ہو جائے، اس کے لیے ہم کنسلٹنسی کر رہے ہیں۔

سوال: ایک خیال یہ بھی ہے کہ شملہ یا منالی جیسے نئے شہر آباد کئے جائیں، آپ کی حکومت اس سمت میں کیا کر رہی ہے؟

آپ نے صحیح کہا، ہماری حکومت اس سمت میں کام کر رہی ہے۔ ہم نے بات کی ہے کہ نئے سیاحتی مقامات بنائے جائیں، نئے شہر بنائے جائیں۔ ایک جاکھیا دیوی جگہ ہے جہاں ایک نیا شہر قائم کرنے کا خیال ہے۔ پالن پور میں ایک نیا شہر قائم کرنے کا خیال ہے۔ ہماچل میں 75 سالوں میں کوئی نیا شہر نہیں بنایا گیا ہے، ہم اس پر غور کر رہے ہیں۔ جہاں پانی ملے گا وہاں نیا شہر بن سکتا ہے۔

سوال: آفت کے بعد آپ نے ایک خصوصی امدادی فنڈ بنایا۔ اس کے ذریعے لوگوں کی مدد کی جا رہی ہے۔ آپ نے اپنے ذاتی اکاؤنٹ سے اس فنڈ میں 51 لاکھ روپے کا عطیہ دیا۔ کیا دوسروں نے ترغیب حاصل کی؟

دیکھیں، چھوٹے چھوٹے بچے بھی اپنی گلک لے کر امدادی فنڈ میں چندہ دینے آ گئے۔ یہ پیسوں کا سوال نہیں تھا، احساسات اور جذبات کا سوال تھا۔ میرا رجحان کچھ ایسا ہی رہا ہے۔ اس لیے میں نے بھی اپنی پوری بچت سے 51 لاکھ روپے ریلیف فنڈ میں عطیہ کیے، میں نے کورونا کے دور میں بھی عطیہ کیا تھا۔ میرے پاس 51 لاکھ دینے کے بعد صرف 17 ہزار روپے رہ گئے لیکن میں پریشان نہیں تھا۔ ہمیں تو اگلے مہینے تنخواہ مل جاتی ہے اور اخراجات پورے ہو جاتے ہیں۔ کورونا اس وقت بی جے پی کی حکومت تھی۔ اس وقت میں نے 19 لاکھ روپے عطیہ کیے تھے اور اس اقدام کی وجہ سے ہمارے ریلیف فنڈ میں تاریخی تقریباً 200 کروڑ روپے کی رقم جمع ہوئی۔

سوال: آپ نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ آپ ہماچل کو ہندوستان کا سیاحتی دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔ یہ موجودہ انفراسٹرکچر سے ممکن ہے؟ اس کے لیے کیا کام کیا جا رہا ہے، جیسے ہوائی رابطہ وغیرہ؟

دیکھئے، میں نے کہا تھا کہ ہماچل پردیش شمالی ہندوستان کے پھیپھڑوں کی طرح کام کرتا ہے۔ اس کے 68 فیصد فارسٹ کور ہے اور اس فارسٹ کور کا ہمیں کچھ نہیں ملتا، مرکزی حکومت کو بھی اس بات کو ذہن میں رکھنا چاہیے۔ وفاقی ڈھانچہ، ریاستی حکومتیں جو اپنے جنگلات کا تحفظ کرتی ہیں، نئے درخت لگاتی ہیں، ماحول کو بچاتی ہیں، انہیں اس کے لیے کچھ معاوضہ ملنا چاہیے۔ اس نقطہ نظر سے میں نے یہ کہا تھا، جہاں تک سیاحتی دارالحکومت کا تعلق ہے، ہم کانگڑا کو سیاحتی دارالحکومت بنانے جا رہے ہیں لیکن اس وقت یہ بہت مشکل ہے۔

سوال: سیاست سے جڑا ایک اور سوال، انڈا اتحاد قائم ہو چکا ہے۔ پوری اپوزیشن متحد ہے اور اس کے ساتھ ساتھ بی جے پی کا ردعمل مختلف شکلوں میں ہمارے سامنے ہے۔ آپ کا کہنا چائیں گے؟

دیکھئے جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ جمہوریت کے لیے اچھا نہیں ہے۔ میرا ماننا ہے کہ جو اتحاد بنا ہے وہ ملک کے مفاد میں ہے۔ اس وقت میں کہنا چاہتا ہوں کہ کانگریس سب سے بڑی پارٹی ان کی قیادت میں اتحاد کو آگے بڑھنا چاہیے، ورنہ وہ علاقائی پارٹیوں کو اسی طرح ہراساں کریں گے۔ کانگریس کے نظریات کے لوگ ہر جگہ موجود ہیں۔ کانگریس پارٹی کے سینئر لیڈر راہل گاندھی کو قیادت سونپی جائے اور یہ کہا جانا چاہئے کہ وہ اس اتحاد کی قیادت کریں گے۔ یہ بات یقینی ہے کہ بی جے پی اب اقتدار میں نہیں آئے گی۔

سوال: آپ کی حکومت دسمبر میں ایک سال مکمل کر رہی ہے، آفت میں کیے گئے کام کے علاوہ، آپ ایک سال کی کامیابی کے طور پر کیا کہنا چاہیں گے؟

بہت سے محاذوں پر تبدیلیاں آئی ہیں، ہم نے بہت سی چیزیں بدلی ہیں۔ ہم نے عوام کا اعتماد جیتا ہے اور ہم اسے جیتنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ لوگ ہماری باتوں پر یقین کرتے ہیں کیونکہ ہم نے کام کر کے دکھایا ہے اور کرپشن پر لگام لگائی ہے۔ تمام محکموں کے نظام میں تبدیلیاں کی گئی ہیں، جہاں کام ہونے میں مہینوں لگتے تھے، ہم نے 20 دن میں کام مکمل کرنے کے انتظامات کیے ہیں۔ بہت سی چیزیں ہوئی ہیں اور بہت کچھ کیا جا رہا ہے۔ صحت کے شعبے میں ہم کافی کام کر رہے ہیں۔

کیرالہ میں شدید بارش، نو اضلاع میں یلو الرٹ

0
کیرالہ-میں-شدید-بارش،-نو-اضلاع-میں-یلو-الرٹ

ترواننت پورم: کیرالہ کے مختلف حصوں میں شدید بارشوں کے پیش نظر محکمہ موسمیات نے نو اضلاع پتھاناماتھیٹا، کوٹائم، ایرناکولم، اڈوکی، تھریسور، پالکاڈ، ملاپورم، کوزی کوڈ اور وایناڈ کے لیے یلو الرٹ جاری کیا ہے۔

موسلا دھار بارش اور تیز ہواؤں کی وجہ سے دارالحکومت ترواننت پورم کے کئی علاقوں میں سیلاب آ گیا ہے۔ شہر کے چکہ میں ترواننت پورم بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طرف جانے والی سڑک مکمل طور پر پانی میں ڈوب گئی اور کئی گاڑیاں پھنس گئیں۔

نئی دہلی جانے والے ایک مسافر رمیش نائر نے آئی اے این ایس کو بتایا، ’’ایئر پورٹ کی طرف جانے والی سڑک سیلابی پانی سے بھر گئی ہے۔ میں پیدل ہی ایئرپورٹ پہنچا۔ گاڑیاں سڑک پر پھنسی ہوئی ہیں اور ٹریفک متاثر ہوا ہے۔‘‘ دریں اثنا، ترواننت پورم میں کازاکوٹم میں مشہور ٹیکنوپارک کمپلیکس، جس میں کئی سافٹ ویئر کمپنیاں ہیں، بھی ڈوب گئی۔

ایک معروف عالمی ٹیکنالوجی کمپنی میں سافٹ ویئر پروفیشنل جاب تھامس نے بتایا، ’’آج ہماری کمپنی میں چھٹی ہے لیکن ہمارے دفتر کے لوگوں نے مجھے بتایا کہ احاطے میں پانی بھر گیا ہے۔ اگر بارش اسی طرح جاری رہی تو یہ ہم سب کے لیے ایک بڑا مسئلہ پیدا کر دے گی۔‘‘

انڈین نیشنل سینٹر فار اوشین انفارمیشن سروسز (آئی این سی او آئی ایس) نے اتوار کی رات تک کیرالہ کے ساحل کے ساتھ اونچی سمندری لہروں اور سمندری پانی میں اضافے کی پیش گوئی کی ہے۔

لوگوں کو ساحلوں پر جانے اور کشتیوں کو سمندر میں لے جانے سے منع کیا گیا ہے۔ ماہی گیروں کو بھی سمندر میں نہ جانے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

ہندوستان کے محکمہ موسمیات نے اتوار کو ایک بیان میں کہا کہ نشیبی علاقوں اور شہروں میں پانی جمع ہو سکتا ہے۔ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے عوام اور حکومتی نظام کو الرٹ رہنے کی تاکید کی گئی ہے۔

وی کے سکسینہ اور انوراگ ٹھاکر نے ’ویدانتا دہلی ہاف میراتھن‘ کو جھنڈی دکھا کر روانہ کیا

0
وی-کے-سکسینہ-اور-انوراگ-ٹھاکر-نے-’ویدانتا-دہلی-ہاف-میراتھن‘-کو-جھنڈی-دکھا-کر-روانہ-کیا

نئی دہلی: دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر وی کے سکسینہ اور مرکزی وزیر کھیل انوراگ ٹھاکر نے اتوار کی صبح جواہر لال نہرو اسٹیڈیم سے ‘ویدانتا دہلی ہاف میراتھن’ کو جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔

میٹرو اور دیگر ذرائع سے اسٹیڈیم پہنچنے والے لوگوں کی بڑی تعداد میں ہاف میراتھن کو بڑے جوش و خروش کے ساتھ دیکھا گیا۔ میراتھن میں ہر عمر کے لوگوں کو حصہ لیتے دیکھا گیا ہے۔ آج تین طرح کے میراتھن مقابلوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ جس میں ہاف میراتھن ایمیچور، 10 کلو میٹر روٹ اور ہاف میراتھن ایلیٹ شامل ہیں۔

پہلی ہاف میراتھن ایمیچور صبح تقریباً 5 بجے سے، جواہر لال نہرو اسٹیڈیم سے شروع ہو کر، بھیشم پتامہ مارگ، لودھی روڈ، سری اروبندو مارگ، لودھی روڈ، متھرا روڈ، سبرامنیم بھارتی مارگ، ڈاکٹر ذاکر حسین مارگ، سی-ہیکساگون، کرتویہ پتھ، رفیع مارگ، ریل بھون، رفیع مارگ، سنسد مارگ ہوتے ہوئے واپس جواہر لال نہرو اسٹیڈیم پر ختم ہوگی۔

دوسری میراتھن تقریباً صبح پانچ بجے سنسدمارگ پر جیون دیپ بیلڈنگ سے شروع ہوکر جے ایل این اسٹیڈیم کامپلیکس پر اختتام پذیر ہوگی جبکہ تیسری ہاف میراتھن ایلیٹ صبح سات بجے سے جی ایل این اسٹیڈیم کامپلیکس سے شروع ہو کر انڈیا گیٹ کینوپی ، سی ہیکساگن ہوتے ہوئے اسٹیڈیم کے باہر ختم ہوگی۔

اسمبلی انتخابات: کانگریس نے تین ریاستوں مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور تلنگانہ کے لیے جاری کی امیدواروں کی فہرست

0
اسمبلی-انتخابات:-کانگریس-نے-تین-ریاستوں-مدھیہ-پردیش،-چھتیس-گڑھ-اور-تلنگانہ-کے-لیے-جاری-کی-امیدواروں-کی-فہرست

بھوپال: انڈین نیشنل کانگریس نے اتوار کو تین ریاستوں میں ہونے جا رہے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر امیدواروں کی فہرست جاری کر دی۔ پارٹی نے مدھیہ پردش کی 144، چھتیس گڑھ 30 اور تلنگانہ کی 55 سیٹوں پر اپنے امیدواروں کے ناموں کا اعلان کر دیا۔

کانگریس نے مدھیہ پردیش اسمبلی انتخابات کے لیے 144 امیدواروں کی فہرست جاری کی ہے۔ پارٹی نے ریاستی کانگریس صدر اور سابق وزیر اعلیٰ کمل ناتھ کو چھندواڑہ سے میدان میں اتارا ہے۔ پارٹی نے سینئر لیڈر گووند سنگھ کو لہار سیٹ سے میدان میں اتارا ہے۔ وہیں گوالیار دیہی سے صاحب سنگھ گوجر اور گوالیار ایسٹ سے ستیش سیکروار کو ٹکٹ دیا گیا ہے۔

کانگریس نے سنجے شکلا کو اندور 1 سے بی جے پی امیدوار کیلاش وجے ورگیہ کے خلاف میدان میں اتارا ہے۔ اندور 2 سے چنتامنی چوکسے چنٹو اور اندور 4 سے راجہ مادھوانی کو میدان میں اتارا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پارٹی نے اپنے سینئر لیڈر عارف مسعود کو دتیا سے اودھیش نائک، شیو پوری سے کے پی سنگھ، راگھو گڑھ سے جے وردھن سنگھ، ستنا سے سدھارتھ کشواہا، سیونی سے آنند پنجوانی، بیتول سے نلے ڈاگا، ہردا اور بھوپال سینٹرل سے رام کشور ڈونگے کو ٹکٹ دیا ہے۔

چھتیس گڑھ میں وزیر اعلیٰ بھوپیش بگھیل اور نائب وزیر اعلیٰ ٹی ایس سنگھ دیو کے نام امیدواروں کی پہلی فہرست میں شامل ہیں۔ بھوپیش بگھیل پٹن سیٹ سے اور سنگھ دیو امبیکاپور سیٹ سے الیکشن لڑیں گے۔ کوربا سے پارٹی کے جئے سنگھ اگروال، کاوردھا سے محمد اکبر، خیر گڑھ سے یشودا ورما، کانکیر سے شنکر دھرو، نارائن پور سیٹ سے چندن کشیپ، دنتے واڑہ سے چھابیندر مہندر کرما اور بستر سے لکھیشور بگھیل کو امیدوار بنایا گیا ہے۔

کانگریس نے جنوبی ریاست تلنگانہ کے لیے بھی 55 امیدواروں کی فہرست جاری کی ہے۔ پارٹی نے ریاستی صدر ریونت ریڈی کو کونڈاگل سیٹ سے اپنا امیدوار بنایا ہے۔ وہیں گوشامحل سیٹ سے موگلی سنیتا، چندرائن گٹہ سیٹ سے بویا ناگیش، ملک پیٹ سیٹ سے شیخ اکبر اور نامپلی سیٹ سے محمد فیروز خان کو ٹکٹ دیا گیا ہے۔

ممبئی-ناگپور ایکسپریس وے پر اندوہناک حادثہ، 12 افراد ہلاک، 23 زخمی

0
ممبئی-ناگپور-ایکسپریس-وے-پر-اندوہناک-حادثہ،-12-افراد-ہلاک،-23-زخمی

اورنگ آباد: ممبئی-ناگپور سمردھی ایکسپریس وے پر ویجا پور کے قریب اتوار کی صبح ایک تیز رفتار ٹرک کے ایک کھڑی بس سے ٹکرا جانے سے اندوہناک حادثہ پیش آیا۔ پولیس کے مطابق اس واقعہ میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور 23 دیگر زخمی ہو گئے۔ ایک اہلکار نے بتایا کہ یہ واقعہ دیر رات گئے تقریباً 1.15 بجے پیش آیا، جب مسافر بس درگاہ پر زیارت کے بعد بلڈھانا سے اورنگ آباد (چھترپتی سمبھا جی نگر) کے راستے ناسک جا رہی تھی۔

عہدییدار نے بتایا، ’’بس بلڈھانا سے چھترپتی سمبھاجی نگر آ رہی تھی اور شاہراہ کے کنارے کچھ دیر کے لیے رکی تھی، اچانک ایک ٹرک نے اسے پیچھے سے ٹکر مار دی۔ حادثے میں کم از کم 12 مسافر ہلاک اور 23 زخمی ہو گئے۔‘‘ متاثرین بلڈھانا کی مشہور سیلانی بابا درگاہ کی زیارت کرنے کے بعد ناسک میں اپنے گھروں کو لوٹ رہے تھے۔

عہدیدار نے بتایا کہ زخمیوں کو اورنگ آباد کے اسپتالوں، کچھ کو ناسک اور کچھ سنگین مریضوں کو پونے کے اسپتالوں میں لے جایا گیا ہے۔ممبئی-ناگپور سمردھی ایکسپریس وے پر جامبرگاؤں ٹول بوتھ سے تھوڑے فاصلے پر پیش آنے والے اس حادثہ میں جان بحق ہونے والوں میں دو نابالغ اور زخمیوں میں آٹھ خواتین شامل ہیں۔

مختار انصاری اور بیٹے عباس انصاری پر ای ڈیی کی کاررواوئی، 73.41 لاکھ روپے کے اثاثے ضط

0
مختار-انصاری-اور-بیٹے-عباس-انصاری-پر-ای-ڈیی-کی-کاررواوئی،-73.41-لاکھ-روپے-کے-اثاثے-ضط

نئی دہلی: انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے ہفتے کے روز کہا کہ اس نے منی لانڈرنگ کی تحقیقات کے سلسلے میں مختار انصاری اور ان کے بیٹے عباس انصاری کے 73.43 لاکھ روپے کے اثاثے ضبط کر لیے ہیں۔

ای ڈی نے ایک بیان میں کہا کہ اس نے عباس کے اثاثے ضبط کر لئے ہیں، جس میں اراضی نمبر 604، موضع راجدیہ پور دیہات، تحصیل صدر، غازی پور میں واقع 1538 مربع فٹ زمین اور اس پر تعمیر کی گئی تجارتی عمارت، اراضی نمبر 169، موضع جہانگیر آباد، پرگنہ اور تحصیل صدر، ضلع مؤ میں واقع 6020 مربع فٹ اراضی شامل ہے۔

ای ڈی نے الزام لگایا کہ عباس نے یہ اثاثے 6.23 کروڑ روپے کے سرکاری نرخ کے مقابلے 71.94 لاکھ روپے کی کم قیمت پر حاصل کئے تھے۔ ای ڈی نے یہ بھی کہا کہ اس نے منی لانڈرنگ کی روک تھام ایکٹ (پی ایم ایل اے) 2002 کی دفعات کے تحت مختار کے بینک اکاؤنٹ میں بقایہ کے طور پر 1.5 لاکھ روپے ضبط کیے ہیں۔

ای ڈی کا معاملہ اتر پردیش پولیس کی جانب سے مختار اور اس کے ساتھیوں کے خلاف درج متعدد ایف آئی آر پر مبنی ہے۔ ای ڈی نے کہا کہ مختار اور اس کے خاندان کے افراد نے سرکاری زمین پر قبضہ کیا اور اس پر گودام بنایا۔ ای ڈی نے کہا، "گودام کو فوڈ کارپوریشن آف انڈیا لمیٹڈ نے کرایہ پر لیا تھا اور کرایہ مختار کے خاندان کے افراد کو ادا کیا گیا تھا۔‘‘

قبل ازیں، ای ڈی نے اتر پردیش کے مؤ اور جالون اضلاع میں زمین کے پلاٹوں کی شکل میں 1.5 کروڑ روپے کی بک ویلیو والی سات غیر منقولہ جائیدادیں ضبط کی تھیں جو مختار کی بیوی افشاں انصاری اور مختار اور اس کے رشتہ داروں کے زیر کنٹرول فرم وکاس کنسٹرکشن کی ہیں۔

اب تک تین لوگوں مختار، اس کا بیٹا عباس، جو کہ مؤ صدر حلقہ سے موجودہ ایم ایل اے ہیں، مختار کے بہنوئی عاطف رضا کو ای ڈی نے گرفتار کیا ہے، جو فی الحال عدالتی حراست میں ہیں۔ ای ڈی نے ان تینوں لوگوں کے خلاف خصوصی پی ایم ایل اے عدالت میں چارج شیٹ داخل کی ہے، جس کا عدالت نے نوٹس لیا ہے۔

حکومت نے 23 اگست کو ‘قومی خلائی دن’ کے طور پر مطلع کیا

0
حکومت-نے-23-اگست-کو-‘قومی-خلائی-دن’-کے-طور-پر-مطلع-کیا

نئی دہلی: حکومت نے ہفتے کے روز کہا کہ 23 ​​اگست کو، جس دن چندریان-3 چاند کے قطب جنوبی پر اترا، اسے قومی خلائی دن کے طور پر منایا جائے گا۔ خلائی محکمہ کی طرف سے 13 اکتوبر کو جاری کردہ ایک نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ تاریخی لمحے کو یادگار بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا، ’’ہندوستان چاند پر خلائی جہاز اتارنے والا دنیا کا چوتھا ملک اور چاند کی سطح کے جنوبی قطب کے قریب اترنے والا پہلا ملک بن گیا ہے۔ وکرم لینڈر نے چاند کی سطح کا مطالعہ کرنے کے لیے پرگیان روور کو بھی تعینات کیا تھا۔ اس تاریخی مشن کے نتائج آنے والے سالوں تک بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچائیں گے۔‘‘

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ 23 ​​اگست خلائی مشنوں میں ملک کی پیشرفت میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے، جس نے نوجوان نسلوں کو ’ایس ٹی ای ایم‘ کے تعاقب میں دلچسپی بڑھانے اور خلائی شعبے کو بڑا فروغ دینے کی ترغیب دی۔ خیال رہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے 26 اگست کو بنگلورو میں انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) کے صدر دفتر کے دورے کے دوران 23 اگست کو قومی خلائی دن کے طور پر منانے کا اعلان کیا تھا۔

ہندوستانی طالب علم عالمی کوریائی زبان مقابلے کا فاتح بن گیا

0
ہندوستانی-طالب-علم-عالمی-کوریائی-زبان-مقابلے-کا-فاتح-بن-گیا

سیجونگ ہاکڈانگ فاؤنڈیشن نے جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں ثقافت، کھیل اور سیاحت کی وزارت کے تعاون سے ایک ہندوستانی طالب علم کو ‘سیجونگ ہاکڈانگ آؤٹ اسٹینڈنگ لرنرز انویٹیشنل ٹریننگ پروگرام 2023 میں فاتح کے طور پر منتخب کیا ہے۔

اس پروگرام میں 67 ممالک کے تقریباً 2,477 شرکاء نے شرکت کی۔ ان میں سے کل 168 شرکاء کو کوریا میں مدعو کیا گیا تھا اور صرف 10 شرکاء ہی فائنل مرحلے تک پہنچ سکے تھے۔کورین کلچرل سنٹر کے زیر اہتمام یہ مقابلہ ہندوستانی طالبہ شریجا پال نے جیتا۔ سریجا 2021 میں انوبھوتی کاکاتی کے بعد یہ ایوارڈ جیتنے والی دوسری ہندوستانی طالبہ ہیں۔

مقابلہ ‘کورین میں میرے خواب اور چیلنجز’ کے موضوع پر مبنی تھا۔ سریجا پال نے ’ایک خواب کا پیچھا کرنا اور کوریا میں گلوکارہ بننے کے لیے چیلنجز پر قابو پانا‘ کے موضوع پر اپنی تقریر کی۔ سریجا پال نے کہاکہ "میں نے مشہور کوریائی موسیقی کے۔پوپ کے رجحان سے متاثر ہو کر کورین زبان سیکھنا شروع کی۔ اس فتح نے مجھے اپنے مقصد کے ایک قدم اور قریب کر دیا۔ میں اگلے سال کوریا میں زبان کے مطالعہ کے پروگرام کے موقع کے بارے میں خاص طور پر پرجوش ہوں۔

تقریری مقابلے کے علاوہ شرکاء کو دیگر عصری کوریائی ثقافت کا تجربہ کرنے کا موقع ملا۔ واضح رہے کہ کورین کلچرل سینٹر-انڈیا فی الحال کورین زبان، تائیکوانڈو اور روایتی کورین تال موسیقی، سمولنوری سمیت متعدد کلاسز پیش کرتا ہے۔ یہ مرکز کورین زبان اور ثقافت دونوں پر فوکس کرتا ہے۔