بدھ, جون 24, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 58

اروند سنگھ لولی کی قیادت میں شروع ہوئی  کانگریس کی ’جواب دو حساب دو‘ مہم

0
اروند-سنگھ-لولی-کی-قیادت-میں-شروع-ہوئی- کانگریس-کی-’جواب-دو-حساب-دو‘-مہم

دہلی پردیش کانگریس کمیٹی نے آج مرکز کی بی جے پی حکومت کی عوام مخالف پالیسی اور دہلی کے ساتوں اراکین پارلیمنٹ کے ذریعہ عوام کو نظر انداز کئے جانے کے خلاف مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر اروند سنگھ لولی کی قیادت میں، ہزاروں شہریوں اور کانگریس کارکنوں نے شمال مغربی دہلی پارلیمانی حلقہ بوانا میں ’جواب دو حساب دو ‘مہم کے پہلے مرحلے میں بی جے پی کو شکست دینے کے لیے نکالی گئی پرتیگیہ ریلی میں حصہ لیا اور بی جے پی کو ساتوں سیٹوں پر ہرانے، نفرت کی دکان بند کرنے اور محبت کی دکان کھولنے کا عزم  کیا ۔

پرتیگیہ ریلی کی صدرات کراری ضلع کانگریس کے صدر اور سابق ایم ایل اے سریندر کمار نے کی اور روہنی کے ضلع صدر وشال مان نے نظامت کے فرائض انجام دیے ۔ریلی میں شامل ہونے کیلئے دوپہر 2 بجے سے ہی سینکڑوں دیہاتی، کچی آبادی میں رہنے والے مزدور، کسان، خواتین اور نوجوان، بوانا کے جھنڈا چوک پر جمع ہونا شروع ہو گئے اور بی جے پی کے خلاف زوردار نعرے لگانے لگے۔ کانگریس کارکنان کے ہاتھوں میں قومی پرچم ترنگا تھے اور بوانا کی سڑکوں پر عوامی سیلاب دکھائی دے رہا تھا۔

پرتیگیہ ریلی میں ہزاروں لوگوں کے پرجوش ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے اروندر سنگھ لولی نے کہا کہ مرکز کی بی جے پی حکومت اور دہلی کی عآپ حکومت نے آج دہلی کے 365 دیہات کے لوگوں کو جنہوں نے دہلی بسائی ہے انہیں مہاجر بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی کے دیہات میں ہاؤس ٹیکس لگانا نہ گاؤں والوں پر نہ صرف  ظلم  ہے بلکہ یہ قواعد کے بھی خلاف ہے۔

 انہوں نے کہا کہ حیرت کی بات ہے کہ آج ریونیو ریکارڈ میں کسان اپنی ہی زمین کا مالک نہیں ہے۔ بات یہیں تک محدود نہیں ہے بلکہ سچ یہ ہے کہ آج ایک بزرگ کی موت کے بعد ریونیو ریکارڈ میں اس کے بچوں کے نام زمین کا اندراج نہیں ہو رہا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ گاؤں میں ٹیوب ویل کنکشن اور تھری فیز کنکشن دینے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بڑھاپے کی پنشن روک دی گئی ہے اور گاؤں کو دی جانے والی سہولیات کو غیر اعلانیہ طور پر روک دیا گیا ہے۔اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے مرکزی اور دہلی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے، لولی نے کہا کہ جو کام کانگریس کے دور حکومت میں ہوئے آج بھی دہلی کے عوام ان کو یاد کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہلی کانگریس پہلے لیفٹیننٹ گورنر سے مل کر گاؤں والوں کے مسائل اور ان مکانات کی الاٹمنٹ پر بات کرے گی اور اگر ان مسائل کو حل نہیں کیا گیا تو کانگریس ایک بڑی تحریک شروع کرے گی۔

پرتیگیہ ریلی میں ریاستی صدر ارویندر سنگھ لولی کے علاوہ  سابق مرکزی وزیر کرشنا تیرتھ،  ہارون یوسف، سابق ایم پی، سابق ایم ایل اے، کانگریس لیڈر رمیش کمار، ڈاکٹر ادت راج، راج کمار چوہان، منگت ر ام سنگھل، ڈاکٹر نریندر ناتھ، دیویندر یادو، راجیش للوٹھیا ،جئے کشن، چرن سنگھ کنڈیرا، جسونت رانا، سریندر کمار، چودھری متین احمد، نیرج بسویا، بھیشم شرما، انل بھاردواج، کنور کرن سنگھ، درشنا رام کماراور کمل کانت شرما نے خطاب کیا۔

بی جےپی حکومت میں ریاست کا نظم ونسق خستہ :اکھلیش

0
بی-جےپی-حکومت-میں-ریاست-کا-نظم-ونسق-خستہ-:اکھلیش

سماج وادی پارٹی(ایس پی) کے قومی صدر و سابق وزیر اعلی اکھلیش یادو نے اتوار کو ریاست کی بی جےپی حکومت پر تلخ تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس حکومت میں ریاست کا نظم ونسق خستہ ہے۔
خواتین و بچیوں کے ساتھ مجرمانہ واقعات تھمنے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔تمام اعداد میں اترپردیش خواتین کے خلاف  مجرمانہ معاملوں میں سب سے اوپر ہے لیکن حکومت زمینی سچائی نا جاننے اور نا ماننے کو تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی جھوٹے اعداد سے اپنی پیٹھ تھپتھپا رہے ہیں۔ ہر دن ریاست میں خواتین اور بچیوں کے ساتھ عصمت دری، قتل اور اجتماعی عصمت دری کے واقعات پیش آرہے ہیں۔ مین پوری میں اسکوٹی سے جارہی خاتون پر چاقو سے حملہ ہوا۔ بی جے پی حکومت ریاست میں جرائم کو روک پانے میں ناکام ہے۔ بی جے پی کا نظم ونسق پر زیرو ٹالیرنس کا دعوی جوھٹا اور کوری لفاظی ہے۔

بی جےپی حکومت میں پولیس انتظامیہ نظم ونسق ٹھیک کرنے کے بجائے مخالفین کو جھوٹ معاملات میں پھنسانے اور بدعنوانی میں ملوث ہے۔پولیس بی جے پی لیڈروں کے اشارے پر کام کررہی ہے۔ عوام الناس اور غریبوں کو انصاف نہیں مل رہا ہے۔ عوام بی جے پی کی خراب حکمرانی سے عاجز آچکے ہیں۔ ریاست کی عوام بی جے پی حکومت سے بری طرح سے پریشان ہیں۔

بی آرایس کےانتخابی منشور میں اعلان:چار سو روپے میں گیس سلنڈر، ہرراشن کارڈ پر 5 لاکھ تک بیمہ

0
بی-آرایس-کےانتخابی-منشور-میں-اعلان:چار-سو-روپے-میں-گیس-سلنڈر،-ہرراشن-کارڈ-پر-5-لاکھ-تک-بیمہ

تلنگانہ کی حکمراں جماعت بی آر ایس نے انتخابی منشور جاری کردیا۔ اس میں کے سی آر بیمہ لائف انشورنس اسکیم کا اعلان کیا گیا ہے جس میں ہر راشن کارڈ رکھنے والے کے لئے 5 لاکھ روپے تک لائف انشورنس کی سہولت ہوگی۔

تلنگانہ کے 93 لاکھ خاندانوں کو اس سے فائدہ ہوگا۔ دلت بندھو  بیمہ کے خطوط پر اس اسکیم پر موثر عمل کے لئے ریاستی حکومت ایل آئی سی کو مکمل پریمیم کی رقم ادا کرے گی۔ راشن کارڈ رکھنے والوں کے لئے ایک اور بڑی اسکیم تلنگانہ اناپورنا کا اعلان کیا گیا ہے جس کے ذریعہ 93 لاکھ خاندانوں کے لئے باریک چاول کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔

بی آر ایس نے دلت بندھو اسکیم کی سالانہ رقم 10ہزار روپے میں اضافہ کرتے ہوئے ہر سال 16 ہزار روپے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران یہ رقم 12ہزار روپے ہوگی اور ہر سال اس میں 16ہزار روپے تک اضافہ ہوگا۔ آسرا وظائف کی رقم 2016روپے میں مرحلہ وار طور پر اضافہ کرتے ہوئے اسے 5 ہزار روپے کیا جائے گا۔ معذورین کے وظیفے 4,016روپے کو بڑھاکر 6,000روپے کیا جائے گا۔ مرحلہ وار انداز میں یہ اضافہ ہوگا۔

 ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں مرکز کے اضافہ کے پیش نظر بی آر ایس نے غریب خواتین اور اکریڈیشن رکھنے والے صحافیوں کے لئے 400روپے میں سلنڈر فراہم کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ سوبھاگیہ لکشمی اسکیم کے تحت ماہانہ اعزازیہ تین ہزار روپے دیا جائے گا۔ آروگیہ شری اسکیم کے تحت علاج کے لئے رقم کی حد 15 لاکھ روپے کردی جائے گی جو پہلے 10 لاکھ روپے تھی۔ وزیراعلی نے مسلسل تیسری میعاد کے لئے برسراقتدار آنے پر تمام کے لئے امکنہ کے وعدے کی یاد دہانی کروائی۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین کے لئے قدیم وظیفہ کی اسکیم کے امکانات کا جائزہ لینے کمیٹی کی تشکیل عمل میں لائی جائے گی۔

ہماچل میں دارچہ-سرچو سڑک بند، نو مزدوروں کو بچایا گیا

0
ہماچل-میں-دارچہ-سرچو-سڑک-بند،-نو-مزدوروں-کو-بچایا-گیا

ہماچل پردیش کے قبائلی علاقوں لاہول اور کلّو کی اونچی چوٹیوں پر برف باری ہوئی ہے جبکہ نچلے علاقوں میں بارش ہوئی ہے۔ قومی شاہراہ 3 منالی لیہہ برف باری کی وجہ سے دارچہ اور سرچو کے درمیان بند ہے۔

اس کے ساتھ ہی دارچہ شنکولہ سڑک بھی برف باری کی وجہ سے بند ہوگئی ہے۔ پولیس نے شنکولہ میں برف باری کی وجہ سے پھنسے نو مزدوروں کو بچا لیا ہے۔ یہ کارکن رات کو برف باری میں پھنس گئے تھے۔ انہیں بچا کر بحفاظت دارچہ پہنچایا گیا۔

نیشنل ہائی وے 505 براستہ گرانفو کو برف باری کی وجہ سے بند کر دیا گیا ہے۔ گرانفو-کاجا-سمدو روڈ فی الحال ہر قسم کی گاڑیوں کے لیے بند ہے۔ تاہم تاندی-تندی، کلاڑ-سنساری روڈ پر گاڑیوں کی آمدورفت جاری ہے۔ لاہول اسپتی انتظامیہ نے سڑکوں کی حالت دیکھ کر ہی سفر کرنے کی درخواست کی ہے۔
شملہ سمیت ریاست کے کئی علاقوں میں موسلادھار بارش ہوئی ہے، جب کہ برف باری کے لیے اورنج الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ ریاست میں 17 اکتوبر تک موسم خراب رہنے کی پیش قیاسی کی گئی ہے جبکہ 18 اکتوبر سے موسم صاف رہنے کا امکان ہے۔

موسمیاتی مرکز شملہ کے مطابق چمبہ، کلّو، کانگڑا اور لاہول اسپتی کے کئی علاقوں میں اگلے دو دنوں تک ‘اورنج الرٹ’ نافذ رہے گا۔ اس دوران ان اضلاع کے اونچائی والے علاقوں میں برف باری اور دیگر علاقوں میں بارش کی وارننگ جاری کی گئی ہے۔ اس دوران باقی اضلاع کے لیے ’یلو الرٹ‘ جاری کیا گیا ہے۔

مہوا موئترا نے لوک سبھا میں پیسے لے کر  سوال پوچھے! نشی کانت دوبے نےلگائے سنگین الزامات

0
مہوا-موئترا-نے-لوک-سبھا-میں-پیسے-لے-کر- سوال-پوچھے!-نشی-کانت-دوبے-نےلگائے-سنگین-الزامات

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن پارلیمنٹ نشی کانت دوبے نے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو خط لکھ کر ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کی لیڈر مہوا موئترا پر سنگین الزامات لگائے ہیں۔ اس کے علاوہ نشی کانت دوبے نے سپریم کورٹ کے وکیل جئے اننت دیہادرائی کے خط کا حوالہ دیا اور تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

خط میں انہوں نے کہا، ’’مجھے ایڈوکیٹ جئے اننت دیہادرائی کا ایک خط ملا ہے، جس میں انہوں نے مہوا موئترا پر سوالوں کے بدلے رشوت لینے کا الزام لگایا ہے۔‘‘ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ نے خط میں لکھا ہے کہ درشن مشہور کاروباری  ہیرانندانی  کی کمپنی کے کاروباری مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے سوالات پوچھے گئے۔ نشی کانت دوبے نے خط میں لکھا کہ مہوا موئترا کے حالیہ 61 سوالات میں سے 50 ایسے سوالات تھے جو درشن ہیرانندانی اور ان کی کمپنی کے کاروباری مفادات کے تحفظ یا فائدہ کے لیے پوچھے گئے تھے۔

اوم برلا کو لکھے گئے خط میں بی جے پی رکن پارلیمنٹ نے ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ  مہوا موئترا پر لوک سبھا میں سوال پوچھنے کے نام پر رشوت لینے کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے لکھا  ہےکہ یہ ایوان کی توہین ہے۔ اس کی فوری تحقیقات ہونی چاہیے۔

نیوز پورٹل ’اے بی پی‘ میں شائع خبر کے مطابق خط میں کہا گیا ہے کہ "جب بھی پارلیمنٹ کا اجلاس ہوتا ہے، موہوا موئترا اور سوگتا رائے کسی نہ کسی بہانے ایوان کی کارروائی میں خلل ڈالتے ہیں، ہر کسی کے ساتھ بدتمیزی کرتے ہیں۔ میں اور بہت سے دیگر ممبران پارلیمنٹ ہمیشہ حیران رہتے تھے کہ موہوا موئترا ایسا کیوں کرتی ہیں ؟” ٹی ایم سی کی قیادت والی ٹی ایم سی کی چیخ و پکار بریگیڈ ایسے ہتھکنڈے اپناتی ہے جس سے دیگر اراکین کے مسائل پر بحث و مباحثہ کرنے کے آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب مہوا موئترا کا لوک سبھا میں سوال پوچھنے کے بجائے ایک تاجر سے پیسے بٹورنے اور دوسرے کاروباری گروپ کو نشانہ بنانے کا ارادہ بے نقاب ہو گیا ہے۔

’انڈیا‘ کی جیت خواتین کے حقوق کو یقینی بنائے گی: اسٹالن

0
’انڈیا‘-کی-جیت-خواتین-کے-حقوق-کو-یقینی-بنائے-گی:-اسٹالن

آئندہ لوک سبھا انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو شکست دینے کے لیے اپوزیشن جماعتوں کے درمیان اتحاد کی اپیل کرتے ہوئے تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے صدر ایم کے اسٹالن نے کہا کہ بی جے پی کو فیصلہ کن شکست دینا ہندوستان میں ہر جمہوری قوت کے لیے ایک تاریخی ضرورت ہے اور انڈیا الائنس کی جیت نہ صرف خواتین بلکہ تمام شہریوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے گی۔

ڈی ایم کے کی خواتین ونگ کے زیر اہتمام خواتین کے حقوق کانفرنس میں اپنے خطاب میں مسٹر اسٹالن نے پارلیمنٹ میں منظور شدہ خواتین ریزرویشن بل کو فوری نافذ کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے موجود تمام قائدین سے درخواست کی کہ وہ 2019 سے دکھائے گئے تمل ناڈو ماڈل کی پیروی کرتے ہوئے متحد ہوکر کام کریں تاکہ بی جے پی کو خواتین کے حقوق اور ملک کے لوگوں کے تحفظ کے لیے اقتدار سے ہٹایا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے قانون میں ایک اہم خامی او بی سی اور اقلیتی خواتین کے لیے ریزرویشن کی کمی ہے۔ نہوں نے کہا کہ اگر انہیں اندرونی ریزرویشن دیا جائے تو ہی پسماندہ اور معاشی طور پر محروم لوگوں کی آواز اسمبلیوں اور پارلیمنٹ میں سنی جائے گی۔انہوں نے کہا، ”ایسا لگتا ہے کہ بی جے پی کو کچھ اور ہی پسند ہے۔ ’’ہمیں اسے بی جے پی کی سیاسی چال کے طور پر نہیں بلکہ ممکنہ طور پر ایک وسیع تر سازش کے طور پر سمجھنا چاہیے۔‘‘

مسٹر اسٹالن نے کہا کہ انڈیا بلاک صرف انتخابی اتحاد نہیں ہے بلکہ ایک نظریاتی اتحاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کو اتحاد کے ذریعے ہی شکست دی جا سکتی ہے۔ تمل ناڈو نے 2019 کے انتخابات کے بعد سے یہ دکھایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تمل ناڈو کی طرح ہندوستان کی ہر ریاست میں مشترکہ اتحاد بنایا جانا چاہئے۔ اگر بی جے پی کے مخالفین چھوٹے چھوٹے اختلافات سے اوپر اٹھ کر متحد ہو جائیں تو ہم یقینی طور پر بی جے پی کو شکست دے سکتے ہیں جو عوام کے مفادات کے خلاف ہے۔ میں یہاں موجود اپنی بہنوں سے گزارش کرتا ہوں کہ یہ پیغام اپنی پارٹی کے لیڈروں تک پہنچائیں۔ بی جے پی کو شکست دینا ہندوستان کی ہر جمہوری قوت کے لیے ایک تاریخی ضرورت ہے۔

اسرائیل کی جارحانہ دہشت گردی کو روکنے کے لئے بین الاقوامی برادری مؤثر اقدامات کرے:ارشدمدنی

0
اسرائیل-کی-جارحانہ-دہشت-گردی-کو-روکنے-کے-لئے-بین-الاقوامی-برادری-مؤثر-اقدامات-کرے:ارشدمدنی

صدرجمعیۃعلماء ہند ورکن رابطہ عالم اسلامی مولانا ارشدمدنی نے کہا کہ جمعیۃعلماء ہند بیت المقدس، فلسطین اورغزہ کے تحفظ کے لئے روز اول سے ہر ہونے والی جد وجہد کی حامی رہی ہے وہ آج بھی فلسطین کے ساتھ کھڑی ہے۔

انہوں نے آج یہاں جاری ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل ایک غاصب ملک ہے جس نے فلسطین کی سرزمین پر بعض عالمی طاقتوں کی پشت پناہی سے غاصبانہ قبضہ کررکھا ہے اوران کی شہ پر اب اس سرزمین سے فلسطینی عوام کے وجود کو ختم کرنے کے درپے ہے۔ انہوں نے غزہ پر اسرائیلی فوج کی جارحیت، وحشیانہ حملوں اورمظالم کی شدید مذمت کرتے ہوئے دعوی کیا کہ یہ جنگ اسرائیل کی مستقل دہشت گردی کے منصوبوں کا حصہ ہے،بالآخرفطری ردعمل کے طورپر فلسطینیوں نے انتہائی جرأت وہمت کامظاہرہ کیا(تنگ آمدبجنگ آید)اورظالم اسرائیل پر ایسا جوابی حملہ کیاجس کا اسرائیل تصوربھی نہیں کرسکتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ جمعیۃعلماء ہند غزہ پر حملوں کو انسانی حقوق پرہونے والاسنگین حملہ تصورکرتی ہے اوراس کی شدید مذمت کرتی ہے،افسوس کہ آج دنیا کے وہ ممالک بھی اس ظلم پرخاموش ہیں جوعالمی امن واتحاد کے نقیب ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اورانسانی حقوق کا مسلسل راگ الاپنے والے عالمی ادارے بھی چپ ہیں، ساتھ ہی انہوں نے تمام عالمی رہنماؤں سے غزہ میں جاری اندوہناک جنگ اورنہتی آبادیوں پر ہونے والی خطرناک بم باری کو فوری طورپر رکوانے کے لئے آگے آنے کی اپیل کی ہے۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، ورلڈ مسلم لیگ اوردوسرے بااثرعالمی ادارے کسی تاخیر کے بغیر مداخلت کریں اوروہاں امن کے قیام کے لئے مثبت اورمؤثرکوششیں کریں، اگر ایسانہیں ہواتو اس جنگ کا دائرہ بڑھ سکتاہے اوریہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔

مولانا مدنی نے اس بات پر بھی سخت افسوس کا اظہارکیا کہ ایک طرف بے گناہ شہری مارے جارہے ہیں اوردوسری طرف اس پر ہونے والی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی حالیہ میٹنگ چند بڑی طاقتوں کی بے حسی کی وجہ سے ناکام ہوگئی، انہوں نے کہا کہ فلسطین کے مسئلہ پر 75برس سے یہی ہورہاہے، اس کا تاریک پہلو تویہ ہے کہ اگر کبھی اقوام متحدہ نے کوئی قرارداد منظوربھی کی تواسرائیل نے اسے تسلیم نہیں کیا اور پوری دنیا خاموش تماشائی بنی رہی یہی وجہ ہے کہ اس مسئلہ کا اب تک کوئی قابل قبول حل نہیں نکل سکا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دنیا کی بعض بڑی طاقتیں اپنے اپنے مفادکے پیش نظر مشرق وسطیٰ میں خطرناک کھیل کھیلتی آئی ہیں، جس کی وجہ سے فسلطین کے عوام مسلسل اسرائیل کے ناجائز تسلط اوراس کے ظلم وبربریت کا شکارہیں۔ امن کی ہر کوشش کو بھی اسرائیل سبوتاژکرتارہاہے اور75برس سے اسرائیل انہیں طاقتوں کے اشارے پر وہ نہ صرف اپنی آبادی کو پھیلارہا ہے بلکہ ایک ایک کرکے فلسطین کے تمام علاقوں پر قابض ہوتاجارہا ہے، یہاں تک کہ اردن، گولان پہاڑی وغیرہ پر بھی اس کے قبضہ کودنیا دیکھ رہی ہے، یعنی اہل وطن پر اپنے ہی وطن میں زمین تنگ ہوچکی ہے ایک مدت سے بچے، بوڑھوں اورعام شہریوں کونشانہ بنارہا ہے اوراسرائیل یہ کارروایاں، اورظلم مسلسل کرتاآرہاہے، فلسطین کے غیورعوام اپنی سرزمین آزادکرانے کے لئے برسوں سے اپنی جانوں کانذرانہ پیش کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جمعیۃعلماء ہنداس کوفطری ردعمل مانتی ہے اوراسرائیل کی مسلسل جارحیت کو اس کا ذمہ دارقراردیتی ہے۔

مولانا مدنی نے کہا کہ جہاں تک ہندوستان کاتعلق ہے اس نے ہمیشہ قیام امن اورفلسطینی عوام کے حقوق کی بات کی ہے، مہاتما گاندھی، پنڈت نہرومولانا ابوالکلام آزاد اوررفیع احمد قدوائی سے لیکر اٹل بہاری باجپئی تک سب نے ہمیشہ فلسطینی کازکی حمایت کی ہے لیکن وقت کی ستم ظریفی دیکھئے کہ آج ہندستان کا میڈیا اپنے حقوق کی بازیابی کے لئے لڑنے والے حماس کو دہشت گردقراردے رہا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ فلسطین کے عوام کی جدوجہد اپنے وطن کی آزادی اورقبلہ اول کی بازیابی کے لئے ہے اورتنازعہ کی اصل جڑ اسرائیل کی خطرناک توسیع پسندانہ سوچ ہے، جس کے ذریعہ وہ فلسطین کے عوام کو وہاں سے بے دخل کرکے پورے ارض فلسطین پر قبضہ جمالینا چاہتاہے۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی ہم کو اپنے بزرگوں کے قدیم موقف پر قائم رہناچاہئے اور انصاف کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ حق کا ساتھ دیاجائے کیوں کہ فلسطین کے عوام حق پر ہیں، اور اس کا حل بھی یہی ہے کہ اقوام متحدہ کے فیصلے کے مطابق خود مختار فلسطین کی ایک آزاد ریاست قائم ہو اور اوسلو کے معاہدے کے تحت اسرائل اپنے سرحدوں پر واپس چلا جائے۔ جمعیۃ علماء ہندمظلوم فلسطینیوں کی ہمت، حوصلہ اورصبرواستقامت کو خراج تحسین پیش کرتی ہے۔

دہلی-این سی آر میں زلزلے کے جھٹکے

0
دہلی-این-سی-آر-میں-زلزلے-کے-جھٹکے

نئی دہلی: دہلی-این سی آر میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔ مقامی وقت کے مطابق شام 4 بج کر 10 منٹ پر جیسے ہی زلزلہ آیا، لوگ گھروں اور دفاتر سے باہر نکل آئے۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ انہوں نے زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے ہیں۔

قومی مرکز برائے زلزلہ شناسی کے مطابق دہلی این سی آر میں آئے زلزلہ کی شدت ریکٹر اسکیل پر 3.1 تھی اور اس کا مرکز ہریانہ کے شہر فرید آباد میں تھا۔ زلزلہ سے کسی طرح کے جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ کچھ دن پہلے بھی قومی راجدھانی، اتر پردیش اور اتراکھنڈ میں زلزلہ آیا تھا، اس وقت زلزلے کا مرکزنیپال تھا۔

پاکستانی کھلاڑیوں کے سامنے ’جے شری رام‘ کے نعرے لگانا ناقابل قبول ہے: ادئے ندھی اسٹالن

0
پاکستانی-کھلاڑیوں-کے-سامنے-’جے-شری-رام‘-کے-نعرے-لگانا-ناقابل-قبول-ہے:-ادئے-ندھی-اسٹالن

چنئی: تمل ناڈو کے کھیل اور نوجوانوں کے امور کے وزیر اور ڈی ایم کے کے سینئر لیڈر ادئے ندھی اسٹالن نے احمد آباد کے نریندر مودی اسٹیڈیم میں ہندوستان-پاکستان ورلڈ کپ کرکٹ میچ کے دوران پاکستانی کھلاڑیوں کے سامنے ‘جے شری رام’ کے نعرے لگانے والے ہجوم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ناقابل قبول ہے۔ آئی اے این ایس کی رپورٹ کے مطابق، اسٹالن نے ہجوم کا ذکر کیا جو میچ میں پاکستانی کھلاڑی آؤٹ ہونے پر شور مچا رہے تھے اور ‘جے شری رام’ کے نعرے لگا رہے تھے۔

ایکس پر ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں ڈی ایم کے لیڈر نے کہا، ’’ہندوستان اپنی کھیل اور مہمان نوازی کے لیے مشہور ہے۔ تاہم نریندر مودی اسٹیڈیم میں پاکستانی کھلاڑیوں کے ساتھ جو سلوک کیا گیا وہ ناقابل قبول ہے۔ کھیلوں کو قوموں کو متحد کرنے اور حقیقی بھائی چارے کو فروغ دینا چاہیے۔ نفرت پھیلانے کے لیے اسے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا درست نہیں ہے۔‘‘

ادئے ندھی اسٹالن کے بیان کی حمایت میں تمل ناڈو میں بہت سے کرکٹ شائقین نے اگلے دس دنوں میں چیپاک میں کھیلنے والی پاکستانی کرکٹ ٹیم سے محبت اور احترام کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

لکشمی نامی ایک مداح نے اپنی فیس بک پوسٹ میں کہا، “پاکستان اگلے 10 دنوں میں چیپاک میں دو میچ کھیل رہا ہے اور ہمیں بابر اعظم اور ٹیم نے احمد آباد میں جو کچھ برداشت کیا اس کا ازالہ کرنا چاہئے۔ کھیل عالمی بھائی چارے کے لیے ہیں اور کچھ لوگ اسے نفرت پھیلانے کی جگہ بنا رہے ہیں جو کہ ناقابل قبول ہے۔

خیال رہے کہ احمد آباد کے نریندر مودی اسٹیڈیم میں ہفتے کے روز ہندوستانی ٹیم کے یک طرفہ مقابلے میں پاکستان کو سات وکٹوں سے شکست دینے کے بعد شائقین نے ‘وندے ماترم’ گایا تھا۔ پاکستان کے کپتان اور دنیا کے بہترین بلے بازوں میں سے ایک بابر اعظم جب روہت شرما کے ساتھ ٹاس کے لیے باہر آئے تو شائقین نے ان کی بھی ہوٹنگ کی تھی۔

تاہم، اسٹیڈیم میں ہندوستان کے اسٹار بلے باز وراٹ کوہلی نے اپنی دستخط شدہ ہندوستانی جرسی پاکستان کے کپتان بابر اعظم کو تحفے میں دیتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔

دہلی میں 3.20 کروڑ روپے لوٹ کی واردات، ای ڈی افسران بن آئے تھے مجرم

0
دہلی-میں-3.20-کروڑ-روپے-لوٹ-کی-واردات،-ای-ڈی-افسران-بن-آئے-تھے-مجرم

نئی دہلی: ملک کی راجدھانی دہلی میں مجرمانہ واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ بھوگل کے جیولری شو روم میں لوٹ کے بعد اب راجدھانی میں ایک اور بڑی لوٹ کی واردات انجام دی گئی ہے۔ اب بابا ہری داس نگر علاقہ میں 3.20 کروڑ روپے لوٹ لئے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بدمعاشوں نے خود وک ای ڈی افسر ظاہر کر کے لوٹ کو انجام دیا۔

متاثرہ نے بتایا کہ وہ رات کو گھر سے کھانے کے لیے کچھ لینے گیا تھا۔ اسی دوران ایک کار میں پانچ چھ لوگ ان کے گھر آئے۔ انہوں نے اپنا تعارف ای ڈی افسر کے طور پر دیا۔ بدمعاش متاثرہ کے دو گھنٹے تک متراون اور سورکھ پور علاقے میں گھماتے رہے۔ اس دوران بدمعاشوں کے ساتھی اس کے گھر سے پیسے لے کر فرار ہوگئے۔ پولیس نے اس معاملے میں کیس درج کر لیا ہے۔ پولیس نے سونی پت کے رہنے والے ایک ملزم وکی کو گرفتار کیا ہے۔ باقی ملزمان کی تلاش جاری ہے۔