جمعرات, اکتوبر 1, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 56

گوپال رائے نے فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لیے بھوپیندر یادو کو خط لکھا

0
گوپال-رائے-نے-فضائی-آلودگی-سے-نمٹنے-کے-لیے-بھوپیندر-یادو-کو-خط-لکھا

دہلی کے وزیر ماحولیات گوپال رائے نے منگل کو مرکزی وزیر ماحولیات بھوپیندر یادو کو ایک خط لکھ کر فضائی آلودگی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے این سی آر ریاستوں کے وزرائے ماحولیات کے ساتھ جلد سے جلد ایک مشترکہ میٹنگ کرنے کی اپیل کی ہے۔

مسٹر گوپال رائے نے سردیوں کے موسم میں دہلی میں فضائی آلودگی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے جلد از جلد این سی آر ریاستوں کے ماحولیات کے وزراء کے ساتھ مشترکہ میٹنگ کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے خط میں کہا ہے کہ دہلی کی آلودگی میں 31 فیصد حصہ دہلی کے اندر کے ذرائع کا ہے جبکہ 69 فیصد این سی آر ریاستوں کے ذرائع کا ہے۔

گوپال رائے نے تحریر کیا کہ  سردیوں کے موسم میں دہلی کے اندر فضائی آلودگی کی صورتحال سنگین ہو جاتی ہے۔ دہلی حکومت آلودگی کو کم کرنے کے لیے بہت سے اقدامات کر رہی ہے، لیکن جب تک این سی آر ریاستوں میں دہلی میں آلودگی کے عوامل کو روکا نہیں جاتا، ہماری طرف سے اٹھائے گئے تمام اقدامات کارگر ثابت نہیں ہوں گے۔ اس لیے این سی آر ریاستوں کے ماحولیات کے وزراء کے ساتھ فوری طور پر مشترکہ میٹنگ بلانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہلی میں سردی کے موسم میں آلودگی کا مسئلہ کافی بڑھ جاتا ہے۔ تمام عوامل کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس بار دہلی حکومت نے 15 فوکس پوائنٹس پر مبنی ایکشن پلان بنایا ہے جس پر حکومت کام کر رہی ہے۔

وزیر ماحولیات نے کہا کہ دہلی حکومت کے تمام اقدامات کے نتیجے میں دہلی کے اندر آلودگی کی سطح میں مسلسل کمی آرہی ہے۔ دہلی حکومت کے اقدامات کے نتیجے میں پچھلے آٹھ سالوں میں آلودگی کی سطح میں 30 فیصد کمی آئی ہے، لیکن جب تک این سی آر ریاستوں میں آلودگی کے عوامل کو پوری طرح سے روکا نہیں جاتا، دہلی حکومت کے یہ تمام اقدامات مؤثر نہیں ہو گا۔

کیا مہوا موئترا کی مشکلات بڑھیں گی؟ اسپیکر نے نشی کانت کی شکایت اخلاقیات کمیٹی کو بھیج دی

0
کیا-مہوا-موئترا-کی-مشکلات-بڑھیں-گی؟-اسپیکر-نے-نشی-کانت-کی-شکایت-اخلاقیات-کمیٹی-کو-بھیج-دی

لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن پارلیمنٹ نشی کانت دوبے کی ترنمول کانگریس لوک سبھا رکن مہوا موئترا کے خلاف سوال پوچھنے کے بدلے رشوت لینے کی شکایت ایوان زیریں کی اخلاقیات کمیٹی کو بھیج دی ہے۔نیوز پورٹل ’اے بی پی‘ پر شائع خبر کے مطابق یہ اطلاع  ذرائع نےدی ہے۔

بی جے پی ایم پی نے 15 اکتوبر کو لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو ایک خط لکھا تھا، جس میں موئترا پر پارلیمنٹ میں سوال پوچھنے کے لیے ایک صنعتکار سے رشوت لینے کا الزام لگایا تھا۔ مہوا نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا اور برلا پر زور دیا کہ وہ الزامات کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دیں۔ لوک سبھا کی اخلاقیات کمیٹی کے چیئرمین بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ونود کمار سونکر ہیں۔

نشی کانت دوبے نے برلا کو لکھے ایک خط میں ممبر پارلیمنٹ (لوک سبھا) مہوا موئترا پر استحقاق کی خلاف ورزی، ایوان کی توہین اور تعزیرات ہند کی دفعہ اے۔ 120 کے تحت ایک جرم میں براہ راست ملوث ہونے کا الزام لگایا ہے۔

دوبے نے ایک وکیل کی طرف سے موصول ہونے والے خط کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ وکیل نے ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) لیڈر اور ایک تاجر کے درمیان رشوت کے لین دین کے ثبوت شیئر کیے ہیں۔ بی جے پی ایم پی نے الزام لگایا ہے کہ لوک سبھا میں ان (موئترا) کی طرف سے پوچھے گئے 61 سوالات میں سے 50 اڈانی گروپ پر مرکوز تھے ۔ اڈانی گروپ ان پر لگائے گئے الزامات کی مذمت کرتا رہا ہے۔

دوبے کا براہ راست نام لیے بغیر، موئترا نے ان پر جوابی حملہ کرنے کے لیے X پر کئی پیغامات پوسٹ کیے اور اڈانی گروپ پر تازہ حملہ کیا۔ انہوں نے کہا تھا، "فرضی ڈگری والے اور بی جے پی کے دیگر لیڈروں کے خلاف مراعات کی خلاف ورزی کے کئی مقدمات زیر التوا ہیں۔ لوک سبھا اسپیکر کے ذریعہ ان کے نمٹانے کے بعد میرے خلاف کسی بھی تحریک کا خیر مقدم کیا جائے گا۔

مہوا موئترا نے بی جے پی رکن پارلیمنٹ نشی کانت دوبے کے خلاف ہتک عزتی کا کیا کیس

0
مہوا-موئترا-نے-بی-جے-پی-رکن-پارلیمنٹ-نشی-کانت-دوبے-کے-خلاف-ہتک-عزتی-کا-کیا-کیس

ترنمول کانگریس رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے بی جے پی رکن پارلیمنٹ نشی کانت دوبے، وکیل جئے اننت دیہادرائی اور کئی میڈیا اداروں کے خلاف دہلی ہائی کورٹ میں ہتک عزتی کا مقدمہ داخل کیا ہے۔ موئترا نے ان پر جھوٹے اور ہتک آمیز الزامات عائد کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ موئترا نے دوبے، دیہادرائی اور کئی میڈیا آؤٹ لیٹس کو قانونی نوٹس جاری کرنے کے بعد ہتک عزتی کا مقدمہ داخل کیا ہے، جس میں کسی بھی غلط کام سے انکار کیا گیا ہے۔

اس سے قبل بی جے پی رکن پارلیمنٹ نشی کانت دوبے نے لوک سبھا اسپیکر کے پاس شکایت درج کرائی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ موئترا نے پارلیمنٹ میں سوال اٹھانے کے بدلے میں رشوت لی تھی۔ دوبے کے مطابق یہ الزام دیہادرائی کے ذریعہ انھیں لکھے ایک خط سے پیدا ہوا ہے۔ مہوا موئترا نے مبینہ طور پر دیہادرائی کے خلاف 24 مارچ اور 23 ستمبر کو دو پولیس شکایت درج کرائی تھی اور بعد میں سمجھوتہ بات چیت کے سبب انھیں واپس لے لیا تھا۔

مہوا موئترا نے اپنی عرضی میں کہا ہے کہ مدعا علیہ نمبر 2 (دیہادرائی) مدعی کا قریبی دوست تھا اور حال ہی میں اس دوستی کے خاتمہ نے جلد ہی ایک خراب موڑ لے لیا۔ مدعا علیہ نمبر 2 نے مدعی کو گندے، دھمکی آمیز، فحش پیغامات بھیجنے کا سہارا لیا اور مدعی کی سرکاری رہائش میں بھی تجاوزات کیا اور مدعی کی کچھ ذاتی ملکیت چھین لی۔

عرضی میں کہا گیا ہے کہ مدعا علیہ نمبر 2 آگے بڑھا اور مدعی کے خلاف مضر کہانیاں چلانے کے لیے قابل اعتماد صحافی سے رابطہ کر کے مدعی کے وقار کو مندمل کرنے اور بدنام کرنے کا فیصلہ کیا۔ حالانکہ ایسے کسی بھی صحافی نے ان کے تعصب اور بدلے کے منصوبوں میں حصہ لینے کے لیے اتفاق کا اظہار نہیں کیا۔ عدالت میں موئترا کے ذریعہ کیے گئے ہتک عزتی کا مقدمہ جمعہ کو سماعت کے لیے فہرست بند کیا گیا ہے۔ ان کے قانونی نوٹس میں کہا گیا ہے کہ دوبے نے فوری سیاسی فائدہ کے لیے لوک سبھا اسپیکر کو بھیجے گئے خط میں انتہائی جھوٹے اور قابل اعتراض الزامات کو دہرایا ہے۔

عرضی میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دوبے اور دیہادرائی دونوں اپنے ذاتی اور سیاسی مقاصد کے لیے موئترا کے وقار کو مندمل کرنے کے لیے سیدھے طور پر ذمہ دار ہیں۔ نوٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ موئترا نے ایک رکن پارلیمنٹ کی شکل میں اپنی ذمہ داریوں سے متعلق کسی بھی طرح کا محنتانہ یا تحفہ کبھی قبول نہیں کیا ہے، جس میں پارلیمنٹ میں ان کے ذریعہ اٹھائے گئے سوال بھی شامل ہیں۔

’گنگا جل‘ پر جی ایس ٹی معاملے میں کانگریس نے مودی حکومت کی کھولی قلعی

0
’گنگا-جل‘-پر-جی-ایس-ٹی-معاملے-میں-کانگریس-نے-مودی-حکومت-کی-کھولی-قلعی

مرکز کی مودی حکومت کے ذریعہ ’گنگا جل‘ پر جی ایس ٹی لگائے جانے کے معاملے میں آج کانگریس نے کچھ ایسی باتیں میڈیا کے سامنے رکھیں جس نے حکومت کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔ کانگریس ترجمان سپریا شرینیت نے ایک پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ مودی حکومت نے گنگا جل پر جی ایس ٹی لگایا، اور جب کانگریس نے اس معاملے میں مخالفت والا رویہ اختیار کیا تو دباؤ میں جی ایس ٹی لگانے کا فیصلہ حکومت نے واپس لے لیا۔ اپنے دعویٰ کے حق میں کانگریس لیڈر نے کچھ ثبوت بھی پیش کیے۔

سپریا شرینیت نے آج پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’’جب کانگریس کو پتہ چلا کہ ماں گنگا کو بھی نہیں بخشا جا رہا ہے اور گنگا جل پر جی ایس ٹی لگایا جا رہا ہے تو پارٹی نے اس کی سخت مخالفت کی۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ حکومت کو مجبور ہو کر اپنا فیصلہ واپس لینا پڑا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’بی جے پی ترجمان، ٹرول آرمی اور ان کے فرضی نیوز آپریٹرز نے کہا کہ گنگا جل پر کوئی جی ایس ٹی نہیں ہے کیونکہ گنگا کا پانی پوجا کے سامان کے زمرے میں آتا ہے۔ لیکن یہ پروپیگنڈہ جھوٹ پر مبنی تھا۔ میڈیا اس جھوٹ کو سامنے رکھ کر ہی خبریں چلاتا رہا۔ حالانکہ سچ یہ ہے کہ گنگا جل پر 18 فیصد جی ایس ٹی لگایا گیا تھا۔‘‘

کانگریس ترجمان کا کہنا ہے کہ گنگا جل پر جی ایس ٹی لگانے کے پیچھنے مرکزی حکومت کا مقصد بذریعہ ڈاک گنگا کے پانی کو صارفین تک بھیج کر پوسٹ آفس کی آمدنی میں اضافہ کرنا تھا۔ پہلے 250 ملی لیٹر کی بوتل 30 روپے میں ملتی تھی، لیکن 18 فیصد جی ایس ٹی کے بعد اس کی قیمت 35 روپے ہو گئی۔ انڈیا پوسٹ نے 18 اگست کو ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں یہ اطلاع دی بھی تھی۔ اس پوسٹ میں صاف لکھا گیا تھا کہ 30 روپے کی بوتل پر 18 فیصد جی ایس ٹی لگے گا۔ حالانکہ حکومت کہتی رہی ہے کہ گنگا جل پوجا کے سامان کے زمرے میں آتا ہے، اس لیے اس پر کوئی جی ایس ٹی نہیں ہوگا، جو بالکل غلط تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سپریا شرینیت نے آج پریس کانفرنس میں پوجا میں استعمال کیے جانے والے سامان لے کر پہنچی تھیں۔ ان سامانوں کو دکھاتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ جی ایس ٹی کا محکمہ سی بی آئی سی کے تحت آتا ہے اور سی بی آئی سی کی ویب سائٹ پر لکھا ہے کہ رودراکش مالا، رولی، وبھوتی، یگیوپویت، کلاوا، بغیر برانڈ والا شہد، لکڑی کا کھڑاؤں، چرنامرت، چندن تلک اور دیے کے باتی پر کوئی جی ایس ٹی نہیں ہے… باقی سب پر جی ایس ٹی ہے۔ ان ناموں میں گنگا جل شامل نہیں ہے۔ کانگریس لیڈر نے بتایا کہ ہندو مذہب میں حاملہ ہونے سے لے کر موت تک 16 رسومات ہیں اور سبھی میں گنگا کے پانی کا استعمال لازمی ہے۔ اس پر جی ایس ٹی لیا جانا قطعی مناسب نہیں تھا، اور جب ہم نے دستاویزات کے ساتھ اس کا پردہ فاش کیا تو انہوں (مرکزی حکومت) نے ٹیکس ہٹا دیا۔

تمل ناڈو: شیوکاشی واقع 2 پٹاخہ فیکٹریوں میں دھماکہ، 6 خواتین سمیت 113 افراد کی موت، کئی دیگر زخمی

0
تمل-ناڈو:-شیوکاشی-واقع-2-پٹاخہ-فیکٹریوں-میں-دھماکہ،-6-خواتین-سمیت-113-افراد-کی-موت،-کئی-دیگر-زخمی

تمل ناڈو واقع وِرُدھونگر ضلع کے شیوکاشی میں منگل کے روز 2 الگ الگ پٹاخہ فیکٹریوں میں دھماکہ ہونے سے تقریباً 13 لوگوں کی موت ہو گئی۔ اس حادثہ میں کئی افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جنھیں مقامی اسپتالوں میں علاج کے لیے داخل کرایا گیا ہے۔ پولیس نے اس حادثہ کے تعلق سے جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ مہلوکین میں 6 خواتین شامل ہیں۔ ہلاک ہونے والوں کی شناخت کو لے کر جانچ کا عمل جاری ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ایک ہفتہ پہلے شیوکاشی میں ہی ایک پٹاخہ یونٹ میں دھماکہ سے 7 لوگوں کی جان چلی گئی تھی۔ وِردھو نگر ضلع میں گزشتہ 15 دنوں میں پٹاخہ بنانے والی جگہ پر دھماکہ کے 5 الگ الگ واقعات میں 30 لوگوں کی جان جا چکی ہے۔ شیوکاشی کو ہندوستان میں پٹاخہ کی راجدھانی کی شکل میں جانا جاتا ہے جہاں پٹاخہ فیکٹریوں کا سالانہ کاروبار تقریباً 6000 کروڑ روپے ہے۔ لیکن لگاتار ہو رہے حادثات نے لوگوں میں فکر پیدا کر دی ہے۔

’انتخاب کے لیے فوج کا سیاسی استعمال کیا جا رہا‘، کھڑگے کا پی ایم مودی پر حملہ

0
’انتخاب-کے-لیے-فوج-کا-سیاسی-استعمال-کیا-جا-رہا‘،-کھڑگے-کا-پی-ایم-مودی-پر-حملہ

کانگریس نے مرکز کی مودی حکومت پر انتخاب کے لیے سیاسی طور سے فوج کا استعمال کرنے کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے دعویٰ کیا کہ برسراقتدار پارتی نے فوجیوں کی مقبولیت کا فائدہ اٹھا کر فوج کے وقار کو ٹھیس پہنچایا ہے۔ انھوں نے ساتھ ہی کہا کہ نریندر مودی حکومت نے فوج سے ملک بھر میں سیلفی پوائنٹ لگانے کو کہا ہے جہاں فوجیوں کی بہادری کی جگہ حکومت کے منصوبوں کی تشہیر کی جائے گی۔

کانگریس صدر کا کہنا ہے کہ ملک کی حفاظت کرنے والی ہماری ہندوستانی فوج کے بہادر فوجیوں کی مقبولیت کا فائدہ اٹھا کر پی ایم مودی اپنی تشہیر کر رہے ہیں۔ انتخابات کے لیے فوج کا سیاسی استعمال کر کے مودی حکومت نے کچھ ایسا کیا ہے جو گزشتہ 75 سالوں میں کبھی نہیں ہوا۔

واضح رہے کہ مودی حکومت نے سرکاری منصوبوں کی تشہیر کے لیے فوج سے ملک بھر میں 822 سیلفی پوائنٹ قائم کرنے کو کہا ہے۔ کانگریس صدر کا الزام ہے کہ سیلفی پوائنٹ پر فوجیوں کی بہادری کی کہانی سنائے جانے کی جگہ وزیر اعظم مودی کی تصویریں لگی ہوئی ہیں اور ان کے منصوبوں کی تعریف کی جا رہی ہے۔ ملکارجن کھڑگے کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہماری پارٹی کو ہندوستانی فوج کی بہادری اور قربانی پر بہت فخر ہے، لیکن نیشنلزم کا سبق پڑھانے والی بی جے پی نے ہندوستانی فوج کے وقار کو ٹھیس پہنچایا ہے۔

آر بی آئی نے 2 بڑے بینکوں کے خلاف کی سخت کارروائی، 15 کروڑ روپے کا جرمانہ عائد!

0
آر-بی-آئی-نے-2-بڑے-بینکوں-کے-خلاف-کی-سخت-کارروائی،-15-کروڑ-روپے-کا-جرمانہ-عائد!

ہندوستان کے دو سب سے بڑے پرائیویٹ بینک آئی سی آئی سی آئی اور کوٹک مہندرا کے خلاف آر بی آئی نے سخت کارروائی کی ہے۔ ان دونوں بینکوں پر مجموعی طور پر 15 کروڑ روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ بینکنگ سے جڑے کچھ اصولوں کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق آر بی آئی نے آئی سی آئی سی آئی بینک پر 12.19 کروڑ روپے کا اور کوٹک مہندرا بینک پر 3.95 کروڑ روپے کا جرمانہ لگایا ہے۔ بینکوں پر یہ جرمانہ الگ الگ اصولوں کی خلاف ورزی کے سبب لگایا گیا ہے۔ آئی سی آئی سی آئی بینک پر جرمانہ جہاں بینکنگ ریگولیشن ایکٹ کی دفعہ 20(1) پر ٹھیک سے عمل نہیں کرنے کو لے کر لگایا گیا ہے، وہیں کوٹک مہندرا پر یہ جرمانہ ریزرو بینک کی کئی گائیڈلائنس کی خلاف ورزی کو لے کر لگایا گیا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ کوٹک مہندرا بینک نے آر بی آئی کی ریکوری ایلنٹ، بینک کے اندر کسٹمر سروس، فنانشیل سروسز کی آؤٹ سورسنگ میں جوکھم مینجمنٹ و ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ اور قرض دینے سے جڑے گائیڈلائنس پر ٹھیک طرح سے عمل نہیں کیا۔ اس لیے اس پر سنٹرل بینک نے جرمانہ عائد کیا ہے۔ بینک ان سبھی گائیڈلائنس کو لے کر سالانہ تجزیہ کرنے میں ناکام رہا ہے۔ موصولہ اطلاع کے مطابق کسٹمر کے سکون کے ایک بہت بڑے ایشو کی طرف بینک کی توجہ گئی ہے۔ وہ یہ کہ کوٹک مہندرا بینک یہ یقینی کرنے میں ناکام رہا ہے کہ قرض کی ریکوری کرنے والے ایجنٹ صارفین کو صبح 7 بجے سے شام 7 بجے کی حد سے باہر کال نہیں کریں۔

دوسری طرف سنٹرل بینک آر بی آئی نے آئی سی آئی سی آئی بینک پر فراڈ کا کلاسفکیشن کرنے اور اس کی جانکاری دینے میں کوتاہی برتنے کو لے کر جرمانہ عائد کیا ہے۔ آر بی آئی کا کہنا ہے کہ بینکنگ ریگولیشن ایکٹ کے تحت اسے اس طرح کی کارروائی کرنے کی طاقت ملی ہوئی ہے، جس کا استعمال کرتے ہوئے اس نے یہ کارروائی کی ہے۔ آئی سی آئی سی آئی بینک نے ایسی کمپنیوں کو قرض دیا ہے جس کے ڈائریکٹرس میں دو ایسے لوگ شامل ہیں جو بینک کے بورڈ میں بھی شامل ہیں۔ یہ کمپنیاں نان فنانشیل پروڈکٹ سیکٹر میں کام کرتی ہیں۔

آبکاری گھوٹالہ: منیش سسودیا کو راحت کا انتظار، سپریم کورٹ نے ضمانت عرضی پر فیصلہ رکھا محفوظ

0
آبکاری-گھوٹالہ:-منیش-سسودیا-کو-راحت-کا-انتظار،-سپریم-کورٹ-نے-ضمانت-عرضی-پر-فیصلہ-رکھا-محفوظ

دہلی کے مبینہ شراب پالیسی گھوٹالہ یعنی آبکاری گھوٹالہ اور منی لانڈرنگ معاملے میں گرفتار دہلی کے سابق نائب وزیر اعلیٰ اور عآپ لیڈر منیش سسودیا کو آج بھی راحت نہیں ملی۔ وہ سپریم کورٹ سے راحت کا انتظار کر رہے ہیں لیکن عدالت نے منگل کے روز ان کی ضمانت عرضی پر اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا۔

سپریم کورٹ کے ججوں جسٹس سنجیو کھنہ اور جسٹس ایس وی این بھٹی کی بنچ نے منیش سسودیا کی طرف سے پیش ہوئے سینئر وکیل ابھشیک منو سنگھوی اور سی بی آئی و ای ڈی کی طرف سے پیش ہوئے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایس وی راجو کی دلیلیں سنیں۔ سبھی فریقین کی دلیلیں سننے کے بعد بنچ نے فیصلہ محفوظ رکھ لیا۔

اس سے قبل پیر کے روز عدالت عظمیٰ نے سی بی آئی اور ای ڈی سے کہا تھا کہ وہ دہلی آبکاری پالیسی معاملوں میں منیش سسودیا کو ہمیشہ کے لیے جیل میں نہیں رکھ سکتے اور اے ایس جی سے سوال کیا تھا کہ ذیلی عدالت میں سسودیا کے خلاف الزام پر بحث کب شروع ہوگا؟ بنچ نے راجو سے کہا کہ ’’کسی معاملے میں ایک بار فرد جرم داخل ہو جانے کے بعد بحث فوراً شروع ہونی چاہیے۔‘‘ اے ایس جی نے دعویٰ کیا کہ منی لانڈرنگ معاملے میں اور موبائل فون کو تباہ کر ثبوتوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا جرم دکھانے کے لیے ای ڈی کے پاس موافق ثبوت ہیں۔ اس لیے ضمانت نہ دی جائے۔

واضح رہے کہ دہلی کے سابق نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا کو فروری میں سی بی آئی نے گرفتار کیا تھا اور تب سے وہ حراست میں ہیں۔ دہلی ہائی کورٹ کے ذریعہ مئی اور جولائی میں الگ الگ ضمانت عرضیوں میں ضمانت دینے سے انکار کے بعد عآپ لیڈر نے عدالت عظمیٰ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔

اراکین اسمبلی کی نااہلیت معاملے میں مہاراشٹر اسمبلی اسپیکر کو سپریم کورٹ نے دیا آخری موقع!

0
اراکین-اسمبلی-کی-نااہلیت-معاملے-میں-مہاراشٹر-اسمبلی-اسپیکر-کو-سپریم-کورٹ-نے-دیا-آخری-موقع!

مہاراشٹر میں اراکین اسمبلی کی نااہلیت سے متعلق تنازعہ حل کرنے کی جانب کسی طرح کی پیش رفت نہ ہونے سے سپریم کورٹ ناراض ہے۔ اراکین اسمبلی کی نااہلیت سے متعلق عدالت میں داخل عرضیوں پر فیصلے کے لیے مہاراشٹر اسمبلی اسپیکر کے ذریعہ طے کردہ وقت سے عدالت عظمیٰ نے عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ عدالت نے ان سے جلد از جلد اس معاملے مٰں فیصلہ لینے کے لیے کہا ہے۔

اس درمیان سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت سے کہا کہ وہ دسہرا کی چھٹیوں کے دوران ذاتی طور پر مہاراشٹر اسمبلی اسپیکر سے اس معاملے میں بات چیت کریں گے۔ پھر بھی سپریم کورٹ نے مہاراشٹر اسمبلی اسپیکر کو شیوسینا اراکین اسمبلی کے خلاف نااہلیت کی عرضیوں پر سماعت کے لیے حقیقی مدت کار بتانے کا آخری وقت دیا۔ عدالت نے ساتھ ہی مذکورہ عرضیوں پر سماعت کے لیے 30 اکتوبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔

اس سے قبل جمعہ کے روز سپریم کورٹ نے شیوسینا کے ادھو ٹھاکرے گروپ اور این سی پی کے شرد پوار گروپ کی عرضیوں پر سماعت کی تھی۔ عدالت نے سالیسٹر جنرل تشار مہتا سے کہا تھا کہ کسی کو مہاراشٹر اسمبلی اسپیکر کو مشورہ دینا ہوگا کہ وہ عدالت کے احکامات کو نظر انداز نہ کریں۔ وہ اس طرح عدالتی حکم کو خارج نہیں کر سکتے۔ عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ گزشتہ بار ہم نے سوچا تھا کہ بہتر تال میل قائم ہوگا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ شیڈول کا نظریہ سماعت کو غیر یقینی مدت تک زیر التوا میں ڈالنا نہیں ہونا چاہیے۔ اسپیکر کو اس چیز کا احساس ہونا چاہیے کہ وہ معاملے کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ جون کے بعد سے اس معاملے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی جو مناسب نہیں۔ انھیں کوئی دِکھاوا نہیں کرنا چاہے بلکہ سماعت ہونی چاہیے۔

’بی جے پی چاہتی ہے ہر فیصلہ دہلی میں ہو لیکن ہم اس کے خلاف‘، میزورم میں راہل گاندھی کا بیان

0
’بی-جے-پی-چاہتی-ہے-ہر-فیصلہ-دہلی-میں-ہو-لیکن-ہم-اس-کے-خلاف‘،-میزورم-میں-راہل-گاندھی-کا-بیان

کانگریس رکن پارلیمنٹ اس وقت میزورم میں ہیں۔ وہ مختلف تقاریب اور پریس کانفرنس میں بی جے پی کے ساتھ ساتھ میزورم کی ریاستی پارٹیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ انھوں نے ایک پریس کانفرنس میں بیشتر بی جے پی لیڈروں کے بچوں کو نسل پرست ٹھہرایا۔ انھوں نے صحافیوں سے سوال کیا کہ ’’امت شاہ، راج ناتھ سنگھ جیسے تمام بی جے پی لیڈروں کے بچے کیا کر رہے ہیں؟ آخری بار سنا تھا کہ امت شاہ کا بیٹا ہندوستانی کرکٹ چلا رہا ہے۔‘‘

راہل گاندھی نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ میزورم کے لوگوں کو ایک واضح پیغام دینا چاہتے ہیں۔ وہ صاف لفظوں میں بتانا چاہتے ہیں کہ کانگریس پارٹی کے پاس ایک پروگرام ہے، ایک ریکارڈ ہے۔ باقی دونوں پارٹیاں زیڈ پی ایم اور ایم این ایف تو بی جے پی اور آر ایس ایس کے ریاست میں داخل ہونے کا ایک ذریعہ ہیں۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ ’’جب ہم ثقافت، مذہب پر حملے کی بات کرتے ہیں تو اس حملے کے ذرائع بی جے پی-آر ایس ایس اور وہ پارٹیاں ہیں جو انھیں ریاست میں داخل ہونے کی اجازت دیتے ہیں۔‘‘

راہل گاندھی نے مرکز کی مودی حکومت کے خلاف متحد ہوئی اپوزیشن پارٹیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا اتحاد ملک کے 60 فیصد حصے کی نمائندگی کر رہا ہے۔ اتحاد اپنے اقدار، آئینی ڈھانچے اور آزادی کی حفاظت کر کے ہندوستانی نظریات کی دفاع کرے گا۔ انھوں نے اپنے بیان میں آر ایس ایس اور بی جے پی کو مقامی تہذیب و نظریات کی بنیاد کے لیے انتہائی خطرناک قرار دیا۔

اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ہم ’ڈی سنٹرلائزیشن‘ میں یقین کرتے ہیں، جبکہ بی جے پی کا ماننا ہے کہ سبھی فیصلے دہلی میں ہونے چاہئیں۔ دوسری طرف آر ایس ایس کا ماننا ہے کہ ہندوستان پر ایک نظریہ اور تنظیم کی حکومت ہونی چاہیے۔ اس کی ہم شدید مخالفت کرتے ہیں۔