بدھ, جون 24, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 56

مودی نے گوگل کے سی ای او سندر پچائی سے بات کی، اے آئی سمٹ کے لیے بھی کیا مدعو

0
مودی-نے-گوگل-کے-سی-ای-او-سندر-پچائی-سے-بات-کی،-اے-آئی-سمٹ-کے-لیے-بھی-کیا-مدعو

کل یعنی 16 اکتوبر کووزیر اعظم نریندر مودی نے ڈیجیٹل میڈیم کے ذریعے گوگل اور الفابیٹ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) سندر پچائی سے بات کی۔ پی ایم مودی نے ہندوستان میں الیکٹرانک مینوفیکچرنگ ایکو سٹم کی توسیع میں حصہ لینے کے لئے ٹیکنالوجی کے شعبے کی گوگل کے منصوبے پر تبادلہ خیال کیا۔

پی ایم مودی اور گوگل کے سی ای او سندر پچائی کے درمیان دسمبر 2023 میں نئی ​​دہلی میں ہندوستان کی طرف سے منعقد ہونے والی اے آئی(مصنوعی ذہانت) سمٹ کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی۔ پی ایم مودی نے گوگل کو آئندہ اے آئی سمٹ میں عالمی شراکت داری میں تعاون کرنے کی دعوت بھی دی۔

وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) نے کہا کہ پی ایم مودی نے ہندوستان میں کروم بوکس بنانے کے لیے ایچ پی کے ساتھ گوگل کی شراکت کی تعریف کی۔نیوز پورٹل ’اے بی پی ‘ پر شائع خبر کے مطابق  پی ایم او نے کہا، "وزیراعظم نے گوگل کے 100 زبانوں کے اقدام کی تعریف کی اور مصنوعی ذہانت سے متعلق حل ہندوستانی زبانوں میں دستیاب کرانے کی اس کی کوششوں کی حوصلہ افزائی کی۔ انہوں نے گوگل کو اچھی قیادت  کے لیے اے آئی حل پر کام کرنے کی ترغیب دی۔”

پی ایم مودی نے گاندھی نگر میں گجرات انٹرنیشنل فائنانس ٹیک سٹی (گفٹ) میں عالمی فن ٹیک آپریشن سینٹر کھولنے کے لیے گوگل کی اسکیم کا خیرمقدم کیا۔ پی ایم او نے کہا کہ سندر پچائی نے پی ایم مودی کو ‘گوگل پے’ اور یو پی آئی کی پہنچ کو بڑھا کر ہندوستان میں مالی شمولیت کو بہتر بنانے کے گوگل کے منصوبوں کے بارے میں آگاہ کیا۔

گوگل کے سی ای او سندر پچائی نے کہا کہ ہمیں گفٹ سٹی، گجرات میں گلوبل فنٹیک آپریشن سینٹر کے افتتاح کے بارے میں بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے۔ ڈیجیٹل انڈیا کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی کا ویژن ہمیشہ وقت سے آگے رہا ہے۔ میرے خیال میں یہ ایک بلیو پرنٹ ہے جس پر دوسرے ممالک عمل کرتے نظر آئیں گے۔

چھتیس گڑھ میں ‘اشتعال انگیز’ تقریر پر کانگریس کی شاہ پر تنقید، الیکشن کمیشن سے مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ

0
چھتیس-گڑھ-میں-‘اشتعال-انگیز’-تقریر-پر-کانگریس-کی-شاہ-پر-تنقید،-الیکشن-کمیشن-سے-مقدمہ-درج-کرنے-کا-مطالبہ

نئی دہلی: کانگریس نے پیر کو مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ پر ریاست میں فرقہ وارانہ تشدد میں مارے گئے بھونیشور ساہو کے قتل پر ان کے ’اشتعال انگیز‘ بیان پر تنقید کی اور الیکشن کمیشن سے بی جے پی لیڈر کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی اپیل کی۔ ساہو کی اپریل میں بیمیٹارا ضلع کے بیران پور گاؤں میں فرقہ وارانہ تشدد میں موت ہوئی تھی۔ بی جے پی نے ان کے والد ایشور ساہو کو سجاٹ اسمبلی حلقہ سے میدان میں اتارا ہے۔

کانگریس کے جنرل سکریٹری (مواصلات) جے رام رمیش نے ایک پوسٹ میں کہا، ’’وزیر داخلہ امت شاہ نے چھتیس گڑھ میں ایک انتہائی اشتعال انگیز بیان دییا۔ ایک قتل کے معاملہ میں انہوں نے اپنی انتخابی ریلی میں براہ راست طور پر کہا ’تشٹی کرن (خوشنودی) اور ووٹ بینک کی سیاست کے لیے چھتیس گڑھ کے بیٹے بھونیشور ساہو کو کا بھوپیش بگھیل حکومت نے قتل کر دیا تھا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم ساہو کے قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے اور اس کی علامت کے طور پر ان کے والد ایشور ساہو کو الیکشن میں امیدوار بنایا گیا ہے۔‘‘

کانگریس لیڈر نے کہا، ’’امت شاہ کا یہ بیان نہ صرف قابل اعتراض ہے بلکہ اس کا واحد مقصد پرامن ریاست چھتیس گڑھ میں فرقہ وارانہ تشدد کو ہوا دینا ہے۔ وزیر داخلہ نے یہ بیان انتخابی فائدے کے لیے جنون کو ہوا دینے کی نیت سے دیا ہے۔ انہوں نے جو کہا ہے وہ بالکل غلط ہے۔‘‘

رمیش نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ تشدد اور بدلے کے اس معاملے میں حکومت نے فوری کارروائی کی اور ملزمین کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا۔ انہوں نے کہا، "لیکن شاہ، چھتیس گڑھ میں اپنی واضح طور پر نظر آنے والی شکست سے مایوس ہو کر اب فرقہ پرستی کا سہارا لینا چاہتے ہیں۔”

رمیش نے مزید کہا کہ یہ الیکشن کمیشن کی پہلی ذمہ داری ہے کہ وہ اس ‘اشتعال انگیز’ بیان کا نوٹس لے اور شاہ کے خلاف مقدمہ درج کرکے مناسب کارروائی کرے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا ایم پی نے کہا، ’’اگر ایسا نہیں ہوتا ہے، تو اس بات کا خدشہ ہے کہ بی جے پی مستقبل میں بھی چھتیس گڑھ میں اپنی انتخابی مہم میں فرقہ پرستی پھیلانے سے باز نہیں آئے گی۔‘‘

موسم کا حال: دہلی این سی آر میں سردی کا آغاز، 5 ڈگری تک گرا پارہ

0
موسم-کا-حال:-دہلی-این-سی-آر-میں-سردی-کا-آغاز،-5-ڈگری-تک-گرا-پارہ

نئی دہلی: ملک بھر میں بارش کے بعد اس وقت موسم خوشگوار ہے۔ اس کے ساتھ ہی درجہ حرارت میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ دارالحکومت دہلی میں پیر کو رات بھر کی بارش کے بعد لوگوں کو گرمی سے راحت ملی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق منگل (17 اکتوبر) کو بھی کئی ریاستوں میں بارش کا امکان ہے۔ آئی ایم ڈی کا کہنا ہے کہ اگلے 24 گھنٹوں کے دوران تمل ناڈو اور کیرالہ میں بھاری سے بہت بھاری بارش ہو سکتی ہے۔

دارالحکومت دہلی کے کچھ حصوں میں پیر (16 اکتوبر) کو تیز ہواؤں کے ساتھ بارش ہوئی، جس کی وجہ سے موسم خوشگوار ہو گیا۔ پی ٹی آئی ایجنسی کے مطابق، دہلی میں آج ہواؤں کی وجہ سے پارہ 30.5 ڈگری سیلسیس تک گر گیا، جو سیزن کے اوسط سے تین ڈگری کم ہے۔ نوئیڈا، اندرا پورم، جنوبی دہلی اور مشرقی دہلی کے کچھ حصوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش ریکارڈ کی گئی۔

اسکائی میٹ ویدر کے نائب صدر مہیش پلاوت نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، ’’دہلی اور این سی آر پر شدید گرج چمک اور بارش کے بادل نظر آ رہے ہیں۔ موسلادھار بارش اور ژالہ باری کا امکان ہے۔ خیال رکھیں۔‘‘ ایک اور پوسٹ میں انہوں نے لکھا کہ ہلکی بارش اور ٹھنڈی ہواؤں کی وجہ سے دہلی کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت پانچ ڈگری سیلسیس گر گیا ہے۔ پنجاب اور ہریانہ سمیت کئی میدانی علاقوں میں بارش کے بعد فصلوں کو کافی نقصان پہنچا ہے۔

محکمہ موسمیات نے ملک کے شمال مغربی علاقوں میں آج بارش کا سلسلہ جاری رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔ اگلے 24 گھنٹوں کے دوران تمل ناڈو اور کیرالہ میں موسلادھار بارش جاری رہنے کی توقع ہے۔ اتراکھنڈ کے چاردھام سمیت اونچائی والے علاقوں بدری ناتھ، کیدارناتھ، گنگوتری اور یمونوتری دھام میں برف باری کی وجہ سے کم از کم درجہ حرارت صفر سے نیچے پہنچ گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی دیگر تمام اضلاع میں بارش کا یلو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

بابر پور ضلع سے سماجوادی پارٹی کے درجنوں کارکنان کانگریس میں شامل

0
بابر-پور-ضلع-سے-سماجوادی-پارٹی-کے-درجنوں-کارکنان-کانگریس-میں-شامل

نئی دہلی: دہلی پردیش کانگریس صدر اروندر سنگھ لولی کی قیادت میں آج شمال مشرقی دہلی کے بابر پور ضلع سے وابستہ سماجوادی پارٹی کے درجنوں کارکنان کانگریس میں شامل ہوئے ہیں۔ کانگریس میں شامل ہونے والے لیڈروں میں ریکھا وشسٹھ، سنیل کمار کے نام قابل ذکر ہیں جو اپنے درجنوں حامیوں کے ساتھ کانگریس میں شامل ہوئے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ اروندر سنگھ لولی نے ریاستی صدر بننے کے فوراً بعد پارٹی چھوڑنے والے دہلی کے تمام لیڈروں سے کانگریس میں شامل ہونے کی اپیل کی تھی جس کے تحت ریاستی سطح، ضلع سطح کے لیڈر، سابق کارپوریشن کونسلر، بی جے پی اور عام آدمی پارٹی سمیت دیگر جماعتوں کے عہدیداران مسلسل کانگریس میں شامل ہو رہے ہیں۔

آج سماجوادی پارٹی لیڈروں کے کانگریس میں شامل ہونے کے موقع پر ریاستی صدر اروندر سنگھ لولی نے پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ راہل گاندھی جی کی بھارت جوڑو یاترا کے بعد لوگوں میں راہل جی کا احترام بڑھتا جا رہا ہے اور کانگریس کے نظریہ پر اعتماد مسلسل بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بی جے پی کی مرکزی حکومت اور ریاستی حکومت کے لاتعلق رویہ اور دہلی میں آپسی الزام تراشی کی سیاست کی وجہ سے دہلی کی ترقی مکمل طور پر ٹھپ ہو کر رہ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں پارٹیوں نے نہ صرف دلکش وعدے کر کے دہلی کے عوام کو دھوکہ دیا ہے بلکہ دہلی میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور مہنگائی پر بھی قابو نہیں پایا ہے۔

اروندر لولی نے کہا کہ بی جے پی کا ایجنڈا صرف سماج میں نفرت پھیلانا ہے، وہیں دوسری طرف دہلی حکومت ترقیاتی کاموں کی کمی کا الزام بی جے پی پر ڈال کر اپنی ذمہ داری سے بھاگ رہی ہے، جس کی وجہ سے دہلی کے عوام بنیادی سہولتوں سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جہاں ایک طرف دوسری پارٹیوں کے کانگریس کارکنوں کی گھر واپسی سے تنظیم مضبوط ہو رہی ہے، وہیں دوسری طرف ہم کانگریس کارکنوں کو ذمہ داریاں دے کر بوتھ لیول تک ووٹروں سے رابطہ کرنے کی مہم چلا رہے ہیں۔

بابر پور ضلع کانگریس کمیٹی کے صدر چودھری زبیر احمد نے کہا کہ جب سے اروندر سنگھ لولی جی نے دہلی کی کمان سنبھالی ہے تب سے لوگوں میں ایک نیا جوش آگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس ایسے لیڈران اور معزز لوگوں کی لمبی فہرست موجود ہے جنہوں نے کانگریس سے دوری بنا لی تھی لیکن وہ اب دوبارہ کانگریس میں شامل ہونا چاہتے ہیں، انہیں بھی جلد کانگریس کی رکنیت دلائی جائے گی اور کانگریس کا کارواں مزید مضبوط بنایا جائے گا۔

پی ایم مودی ہی نہیں، بی جے پی کے 25 اراکین پارلیمنٹ نے بھی راجستھانی عوام کو دھوکہ دیا: کھڑگے

0
پی-ایم-مودی-ہی-نہیں،-بی-جے-پی-کے-25-اراکین-پارلیمنٹ-نے-بھی-راجستھانی-عوام-کو-دھوکہ-دیا:-کھڑگے

کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے پیر کے روز راجستھان کے باراں میں ای آر سی پی معاملے پر مرکز کی مودی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ای سی آر پی جن جاگرن مہم کے تحت منعقد جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ راجستھان سے بی جے پی کے 25 اراکین پارلیمنٹ ہیں اور مودی حکومت میں کئی مرکزی وزیر بھی ہیں۔ عوام نے بی جے پی اراکین پارلیمنٹ کو چن کر پارلیمنٹ بھیجا، لیکن یہ بی جے پی اراکین پارلیمنٹ راجستھان کو نہ پیسہ دلا پائے اور نہ ہی پانی۔ پی ایم مودی ہی نہیں، بلکہ بی جے پی کے 25 اراکین پارلیمنٹ نے بھی راجستھان کی عوام کو دھوکہ دیا ہے۔

کانگریس صدر نے راجستھان کی کانگریس حکومت کے فلاحی منصوبوں کی تعریف کرتے ہوئے اس کے فائدے بھی شمار کرائے۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت، کانگریس کے تنظیمی جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال، ریاستی کانگریس انچارج سکھجندر سنگھ رندھاوا، ریاستی صدر گووند سنگھ ڈوٹاسرا، اسمبلی اسپیکر سی پی جوشی سمیت کانگریس کے تمام سینئر لیڈران موجود تھے۔

تقریب میں شریک زبردست بھیڑ کو خطاب کرتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ راجستھان میں وزیر اعظم نریندر مودی نے وعدہ کیا تھا کہ وہ آبپاشی منصوبہ کے لیے پیسے دیں گے، لیکن آج تک اس کا پتہ نہیں ہے۔ راجستھان کی کانگریس حکومت خود 25 ہزار کروڑ روپے خرچ کر اس منصوبہ کو آگے بڑھا رہی ہے۔ لیکن مودی حکومت نے اس کے لیے پیسے نہیں دیے۔ راجستھان میں پانی کا مسئلہ ہے، لیکن ایسے منصوبوں میں بھی مودی حکومت مدد نہیں کرتی۔ راجستھان سے بی جے پی کے 25 اراکین پارلیمنٹ ہیں اور مودی حکومت میں کئی مرکزی وزرا ہیں۔ عوام نے جن اراکین پارلیمنٹ کو چن کر بھیجا وہ بھی راجستھان کو نہ پیسہ دلا پائے اور نہ ہی پانی۔

کھڑگے کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت غریبوں کے لیے منریگا کا پیسہ بھی ریاستوں کو نہیں دے رہی ہے۔ مشکل حالات میں بھی راجستھان کو کانگریس حکومت نے معاشی، سماجی، تعلیمی اور طبی شعبہ میں آگے بڑھایا ہے۔ غریبوں کے لیے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے کئی اقدام کیے ہیں۔ یہ سب کچھ عوام کے لیے کیا گیا ہے۔ راجستھان کی کانگریس حکومت نے 21 لاکھ کسانوں کا 16 ہزار کروڑ روپے کا قرض معاف کیا۔ کانگریس حکومت نے صحت کا حق دیا۔ راجستھان میں کئی لوگوں کو پیسہ کی کمی کے سبب علاج کرناے میں پریشانی ہوتی تھی۔ کانگریس حکومت ان کے لیے ’چرنجیوی یوجنا‘ لے کر آئی جس کے تحت 25 لاکھ روپے تک کا علاج مفت ہوتا ہے۔ کانگریس حکومت نے شہری روزگار گارنٹی منصوبہ شروع کیا، بجلی بل میں راحت دی اور سلنڈر بھی 500 روپے میں دیا۔ راجستھان حکومت نے گارنٹیاں دیں اور اس گارنٹی کو پورا بھی کیا۔ دوسری طرف وزیر اعظم مودی نے وعدہ کیا تھا کہ وہ ہر سال دو کروڑ ملازمتیں دیں گے، 15 لاکھ روپے دیں گے، لیکن کچھ نہیں دیا۔ پی ایم مودی اپنی زبان سے پیچھے ہٹ گئے، لیکن راجستھان کے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے اپنے سبھی وعدے پورے کیے۔ وزیر اعظم مودی نے راجستھان میں لال ڈائری کا تذکرہ کیا تھا۔ لال ڈائری میں لکھا ہے کہ آنے والے انتخاب میں راجستھان میں پھر سے کانگریس آنے والی ہے۔

شمالی ہند میں بدلا موسم کا مزاج، پہاڑ پر ہو رہی برف باری اور میدانی علاقوں میں بارش!

0
شمالی-ہند-میں-بدلا-موسم-کا-مزاج،-پہاڑ-پر-ہو-رہی-برف-باری-اور-میدانی-علاقوں-میں-بارش!

مغربی ڈسٹربنس کے سبب پورے شمالی ہند کے موسم نے اپنا مزاج بدل لیا ہے۔ پیر کی صبح ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ کی اونچی پہاڑیوں پر جہاں موسم کی پہلی برف باری ہوئی، وہیں نشیبی علاقوں میں بارش کی وجہ سے سردی نے دستک دے دی ہے۔ یوپی سمیت دیگر ریاستوں کے کئی اضلاع میں ہوئی بارش سے موسم میں اچانک تبدیلی دیکھی گئی۔ محکمہ موسمیات کی سائنسداں سوما سین کا کہنا ہے کہ شمال مغربی ہند میں ایک مغربی ڈسٹربنس فعال ہے، اس کی وجہ سے پورے علاقے میں بارش اور آندھی کے آثار ہیں۔ آنے والے دنوں میں پہاڑی علاقوں کے اوپری حلقوں میں برف باری اور نشیبی علاقوں میں بارش ہو سکتی ہے۔

دہلی اور این سی آر:

محکمہ موسمیات نے دہلی میں ہلکی بارش ہونے یا گرج کے ساتھ چھینٹیں پڑنے اور آسمان میں جزوی بادل چھائے رہنے کا اندازہ ظاہر کیا ہے۔ اس دوران کم از کم درجہ حرارت 20 ڈگری سلسیس اور زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 32 ڈگری کے آس پاس رہنے کی امید ہے۔ این سی آر کے حالات بھی کچھ ایسے ہی بتائے جا رہے ہیں۔ موسم میں کچھ سردی کا احساس بھی ہونے لگا ہے۔

ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ:

ہماچل میں لاہول، کلو، کنور، دھرمشالہ اور چنبا کی اونچی چوٹیاں سفید چادر سے ڈھک گئی ہیں۔ شملہ کے نارکنڈا کے پاس ہاٹو پیک، سرمور کے چوڑدھار اور منڈی کے شکاری دیوی میں بھی برف باری ہوئی ہے۔ دوسری طرف اتراکھنڈ میں کیدارناتھ مندر سمیت کیدارپوری اور بدری ناتھ دھام کی چوٹیوں پر ژالہ باری کی خبر ہے۔ علاوہ ازیں نشیبی علاقوں جوشی مٹھ، گوپیشور، پوکھری، نندانگر، پیپل کوٹی میں تیز ہوا کے ساتھ بارش اور کچھ جگہ ژالہ باری بھی ہوئی۔

ہریانہ اور پنجاب:

ہریانہ میں بھی موسم نے کروٹ لے لی ہے۔ کہیں 15 ایم ایم تو کہیں 17 ایم ایم بارش ہوئی ہے۔ ہریانہ کے فتح آباد میں پہلے تیز آندھی اور پھر گرج کے ساتھ بجلی چمکتی رہی۔ کچھ ہی دیر میں ضلع ہیڈکوارٹر کے شہری علاقے میں 15 ایم ایم بارش ہوئی۔ اس سے شہر میں کئی جگہ آبی جماؤ کا مسئلہ بھی پیدا ہو گیا۔ علاوہ ازیں اناج منڈیوں میں کھلے میں رکھی دھان کی فصل بھی بھیگ گئی۔ دوسری طرف پنجاب میں بھی موسم بدل گیا ہے۔ کئی علاقوں میں بارش ہوئی ہے۔ لدھیانہ میں صبح سات بجے اتنے بادل چھائے کہ لگا رات ہو گئی ہے۔ سیاہ بادل کے ساتھ ساتھ تیز ہوائیں اور آندھی بھی چلی۔ اس میں سب سے زیادہ پریشانی اسکول جانے والے بچوں کو ہوئی۔ اس کے بعد تیز بارش اور ساتھ چلتی ٹھنڈ ہواؤں نے درجہ حرارت میں گراوٹ لا دی۔ موگا، مکتسر، نواں شہر، جالندھر اور فرید کوٹ میں بھی بارش ہوئی ہے۔

کچھ دیگر ریاستوں میں بھی بارش اور تیز ہواؤں نے موسم کو سرد کر دیا ہے۔ اتر پردیش میں اتوار کو دو مغربی ڈسٹربنس فعال ہونے کے سبب میرٹھ سمیت مغربی اتر پردیش کے ضلعوں میں بارش ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی درجہ حرارت میں گراوٹ بھی آ گئی اور نوراتر سے ہی گلابی ٹھنڈ شروع ہو گئی۔ میرٹھ سمیت مغربی یوپی کے کئی اضلاع میں بارش سے درجہ حرارت میں کمی آئی ہے۔ سہارنپور ضلع میں تو ژالہ باری کی بھی خبر ہے۔ بجنور اور مظفر نگر میں تیز بارش جاری رہنے کی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔

سابق لوک سبھا اسپیکر سمترا مہاجن گھر میں گرنے سے شدید زخمی، سر میں لگے 4 ٹانکے

0
سابق-لوک-سبھا-اسپیکر-سمترا-مہاجن-گھر-میں-گرنے-سے-شدید-زخمی،-سر-میں-لگے-4-ٹانکے

سابق لوک سبھا اسپیکر کے ساتھ اندور واقع گھر میں حادثہ پیش آیا ہے۔ وہ گرنے کی وجہ سے شدید زخمی ہوئی ہیں جس کے بعد انھیں سر میں چار ٹانکے لگانے کی ضرورت پڑ گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق حادثہ ہفتہ کے روز پیش آیا اور آج ان کا سی ٹی اسکین کرایا گیا ہے تاکہ چوٹ کے اثرات کا جائزہ لیا جا سکے۔

قابل ذکر ہے کہ سمترا مہاجن امریکہ کے دورے پر تھیں اور گزشتہ ہفتہ کے روز یعنی 14 اکتوبر کو ہی وطن واپس آئی ہیں۔ ہندی نیوز پورٹل ’امر اجالا‘ میں شائع ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ حادثہ ہفتہ کے روز صبح کے وقت ہوا۔ سمترا مہاجن کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ صبح میں وہ شری شری روی شنکر کی ایک تقریب سے لوٹ کر آئیں تھی جب یہ حادثہ پیش آیا۔ روزانہ کی طرح سورج کو پانی چڑھانے جا رہی تھیں تبھی ان کے پیر میں ایک رسّی الجھ گئی اور وہ گر پڑیں۔

اہل خانہ کا کہنا ہے کہ سمترا مہاجن کے گرنے کی آواز سنائی دی اور چوٹ لگنے سے ان کی چیخ بھی نکلی جو سمترا مہاجن کے بیٹے ملند نے سنی۔ وہ فوراً ماں کے پاس پہنچے تو دیکھا کہ سر سے خون بہہ رہا تھا۔ انھیں فوری طور پر قریبی پرائیویٹ اسپتال لے جایا گیا جہاں انھیں شام تک نگرانی میں رکھا گیا۔ ان کے سر پر چار ٹانکے لگائے گئے اور شام کو ان کی گھر واپسی ہو گئی۔ سر میں چوٹ لگنے کی وجہ سے پیر کے روز ان کا سی ٹی اسکین کروایا گیا۔

ہندی نیوز پورٹل ’امر اجالا‘ نے اپنی رپورٹ میں سمترا مہاجن سے ہوئی بات چیت کا بھی تذکرہ کیا ہے۔ اس نے لکھا ہے کہ سمترا مہاجن نے بتایا کہ ہفتہ کے روز گھر میں کام کے دوران توازن بگڑنے سے وہ گر گئی تھیں۔ اس کی وجہ سے سر میں چوٹ لگی اور چار ٹانکے لگائے گئے ہیں۔ ساتھ ہی سمترا مہاجن نے یہ بھی کہا کہ اب وہ کافی بہتر محسوس کر رہی ہیں اور فکر کی کوئی بات نہیں ہے۔

ہم جنس پرستوں کو شادی کی اجازت ملے گی یا نہیں؟ سپریم کورٹ کل سنائے گی فیصلہ

0
ہم-جنس-پرستوں-کو-شادی-کی-اجازت-ملے-گی-یا-نہیں؟-سپریم-کورٹ-کل-سنائے-گی-فیصلہ

ہم جنس پرستوں کی شادی کو لے کر سپریم کورٹ منگل کے روز یعنی 17 اکتوبر کو انتہائی اہم فیصلہ سنا سکتا ہے۔ سپریم کورٹ میں داخل عرضیوں میں یکساں جنس کے لوگوں کے درمیان شادی (ہم جنس پرستوں کی شادی) کو بھی اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت لا کر ان کا رجسٹریشن کیے جانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

دراصل عرضی دہندگان نے اپنی عرضی میں کہا ہے کہ 2018 میں سپریم کورٹ کی آئینی بنچ نے ہم جنس پرستی کو جرم ماننے والی تعزیرات ہند کی دفعہ 377 کے ایک حصے کو رد کر دیا تھا۔ اس کے سبب دو بالغوں کے درمیان آپسی اتفاق سے بنے ہم جنس پرستی پر مبنی رشتے کو اب جرم نہیں مانا جاتا ہے۔ ایسے مین ہم جنس پرستوں کی شادی کو بھی منظوری ملنی چاہیے۔

قابل ذکر ہے کہ چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندرچوڑ کی قیادت والی آئینی بنچ نے مذکورہ عرضی پر 10 دن کی سماعت کے بعد رواں سال 11 مئی کو اس معاملے میں اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔ اس آئینی بنچ میں چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کے علاوہ جسٹس سنجے کشن کول، جسٹس ایس رویندر بھٹ، جسٹس ہیما کوہلی اور جسٹس پی ایس نرسمہا شامل تھے۔

فلسطینی سفارتخانہ پہنچے منی شنکر ایر، دانش علی اور منوج جھا سمیت کئی لیڈران، متاثرین کے تئیں اتحاد کا مظاہرہ

0
فلسطینی-سفارتخانہ-پہنچے-منی-شنکر-ایر،-دانش-علی-اور-منوج-جھا-سمیت-کئی-لیڈران،-متاثرین-کے-تئیں-اتحاد-کا-مظاہرہ

اسرائیل اور حماس کے درمیان گزشتہ دس دنوں سے جاری جنگ کے درمیان فلسطینی عوام کے تئیں ہمدردی کا اظہار دن بہ دن بڑھتا جا رہا ہے۔ تازہ ترین خبروں کے مطابق سابق مرکزی وزیر منی شنکر ایر، سی پی آئی (ایم ایل) لبریشن کے جنرل سکریٹری دیپانکر بھٹاچاریہ، جنتا دل یو لیڈر کے سی تیاگی، بی ایس پی رکن پارلیمنٹ دانش علی اور آر جے ڈی رکن پارلیمنٹ منوج جھا سمیت کئی لیڈران فلسطین کے تئیں اتحاد کا مظاہرہ کرنے کے لیے نئی دہلی واقع فلسطینی سفارتخانہ پہنچے۔

دیپانکر بھٹاچاریہ نے خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم یہاں اتحاد اور فکر ظاہر کرنے آئے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ امن قائم ہو۔‘‘ فلسطینی سفیر کے ساتھ میٹنگ کے بعد کے سی تیاگی اور منی شنکر ایر سمیت کئی اپوزیشن لیڈران نے مشترکہ بیان بھی جاری کیا ہے۔

دراصل فلسطینی تنظیم حماس نے 7 اکتوبر کی صبح اسرائیل پر راکیٹ سے حملہ کیا تھا۔ اس دوران دراندازی بھی ہوئی تھی۔ پھر اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے جنگ کا اعلان کر دیا اور کہا کہ ’’اس جنگ میں ہماری جیت ہوگی۔‘‘ اب اسرائیل رہ رہ کر غزہ پر ہوائی حملے کر رہا ہے۔

تازہ ترین خبروں کے مطابق خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی نے اسرائیلی فوج کے حوالے سے بتایا ہے کہ غزہ میں 199 لوگوں کو یرغمال بنا کر رکھا گیا ہے۔ یہ تعداد پرانے اندازوں سے زیادہ ہے۔ اس درمیان خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق دونوں طرف سے اب تک 4000 سے زیادہ لوگوں کی جانیں جا چکی ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ حماس کے قلعہ غزہ پٹی میں تقریباً 23 لاکھ لوگ رہتے ہیں جہاں پوری طرح سے گھیرابندی کر دی گئی ہے۔ پی ٹی آئی کے مطابق فلسطینی تنظیم حماس کے ساتھ جاری جنگ کے چلتے اسرائیل نے غزہ پٹی میں کھانا، پانی اور ایندھن کی فراہمی بند کر دی ہے۔ اسرائیل کے وزیر دفاع یوو گیلنٹ نے پیر کے روز کہا کہ علاقہ کی مکمل طور سے گھیرا بندی کی جائے گی۔

’منی پور کے نظریات کو بی جے پی نے تباہ کر دیا‘، میزورم راہل گاندھی کا بیان

0
’منی-پور-کے-نظریات-کو-بی-جے-پی-نے-تباہ-کر-دیا‘،-میزورم-راہل-گاندھی-کا-بیان

میزورم میں 7 نومبر کو ہونے والے اسمبلی انتخاب سے پہلے کانگریس لیڈر راہل گاندھی پارٹی کی تشہیر کے لیے پیر کو دو روزہ دورے پر آئیزول پہنچے۔ وہاں پہنچنے کے فوراً بعد کانگریس رکن پارلیمنٹ نے ریاست کی راجدھانی چانماری علاقہ سے راج بھون تک پد یاترا میں حصہ لیا، اور پھر اس کے بعد جلسہ عام سے خطاب کیا۔

راہل گاندھی نے عوام سے خطاب کرتے ہوئے منی پور کے واقعات کا تذکرہ کیا اور پی ایم مودی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ راہل گاندھی نے کہا کہ ’’کچھ ماہ پہلے میں منی پور گیا تھا۔ منی پور کے نظریات کو بی جے پی نے تباہ کر دیا ہے۔ اب یہ ایک ریاست نہیں بلکہ دو ریاست ہے۔ لوگوں کا قتل کر دیا گیا ہے، خواتین سے چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے، لیکن وزیر اعظم کو وہاں سفر کرنا ضروری نہیں لگتا۔

بہرحال، منگل کے روز راہل گاندھی پہلے آئیزول کلب میں ریاست کے پارٹی لیڈران کے ساتھ میٹنگ کریں گے اور پھر لنگلوئی جانے سے پہلے میڈیا کو خطاب کریں گے۔ کانگریس نے حال ہی میں دو مقامی پارٹیوں پیپلز کانفرنس (پی سی) اور زورم نیشنلسٹ پارٹی (زیڈ این پی) کے ساتھ میزورم سیکولر الائنس (ایم ایس اے) کی تشکیل کی ہے۔

ریاستی کانگریس صدر لالساوتا نے کہا کہ ایم ایس اے کی تشکیل بی جے پی کے خلاف متحد ہو کر لڑنے کے لیے کیا گیا ہے۔ ایم ایس اے کے عزائم میں کہا گیا ہے کہ ’’یہ الزام ہے کہ جب سے بھگوا پارٹی اور اس کے ساتھی 2014 میں مرکز میں اقتدار میں آئے ہیں تب سے اقلیتی طبقات، خصوصاً قبائلیوں کو تباہ کرنے اور کئی قوانین کے ذریعہ ہندو ریاست قائم کرنے کی ٹھوس کوششیں کی گئی ہیں۔ جس پر ایم ایس اے خاموش تماشائی نہیں رہنا چاہتا۔‘‘