بدھ, جون 24, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 55

’بی جے پی چاہتی ہے ہر فیصلہ دہلی میں ہو لیکن ہم اس کے خلاف‘، میزورم میں راہل گاندھی کا بیان

0
’بی-جے-پی-چاہتی-ہے-ہر-فیصلہ-دہلی-میں-ہو-لیکن-ہم-اس-کے-خلاف‘،-میزورم-میں-راہل-گاندھی-کا-بیان

کانگریس رکن پارلیمنٹ اس وقت میزورم میں ہیں۔ وہ مختلف تقاریب اور پریس کانفرنس میں بی جے پی کے ساتھ ساتھ میزورم کی ریاستی پارٹیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ انھوں نے ایک پریس کانفرنس میں بیشتر بی جے پی لیڈروں کے بچوں کو نسل پرست ٹھہرایا۔ انھوں نے صحافیوں سے سوال کیا کہ ’’امت شاہ، راج ناتھ سنگھ جیسے تمام بی جے پی لیڈروں کے بچے کیا کر رہے ہیں؟ آخری بار سنا تھا کہ امت شاہ کا بیٹا ہندوستانی کرکٹ چلا رہا ہے۔‘‘

راہل گاندھی نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ میزورم کے لوگوں کو ایک واضح پیغام دینا چاہتے ہیں۔ وہ صاف لفظوں میں بتانا چاہتے ہیں کہ کانگریس پارٹی کے پاس ایک پروگرام ہے، ایک ریکارڈ ہے۔ باقی دونوں پارٹیاں زیڈ پی ایم اور ایم این ایف تو بی جے پی اور آر ایس ایس کے ریاست میں داخل ہونے کا ایک ذریعہ ہیں۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ ’’جب ہم ثقافت، مذہب پر حملے کی بات کرتے ہیں تو اس حملے کے ذرائع بی جے پی-آر ایس ایس اور وہ پارٹیاں ہیں جو انھیں ریاست میں داخل ہونے کی اجازت دیتے ہیں۔‘‘

راہل گاندھی نے مرکز کی مودی حکومت کے خلاف متحد ہوئی اپوزیشن پارٹیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا اتحاد ملک کے 60 فیصد حصے کی نمائندگی کر رہا ہے۔ اتحاد اپنے اقدار، آئینی ڈھانچے اور آزادی کی حفاظت کر کے ہندوستانی نظریات کی دفاع کرے گا۔ انھوں نے اپنے بیان میں آر ایس ایس اور بی جے پی کو مقامی تہذیب و نظریات کی بنیاد کے لیے انتہائی خطرناک قرار دیا۔

اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ہم ’ڈی سنٹرلائزیشن‘ میں یقین کرتے ہیں، جبکہ بی جے پی کا ماننا ہے کہ سبھی فیصلے دہلی میں ہونے چاہئیں۔ دوسری طرف آر ایس ایس کا ماننا ہے کہ ہندوستان پر ایک نظریہ اور تنظیم کی حکومت ہونی چاہیے۔ اس کی ہم شدید مخالفت کرتے ہیں۔

مشن گگن یان: ’2040 تک چاند پر پہلا ہندوستانی بھیجنے کا ہدف‘، پی ایم مودی کا بیان

0
مشن-گگن-یان:-’2040-تک-چاند-پر-پہلا-ہندوستانی-بھیجنے-کا-ہدف‘،-پی-ایم-مودی-کا-بیان

ہندوستان خلائی شعبہ میں نئی اونچائیاں چھو رہا ہے اور نئی تاریخیں بھی رقم کر رہا ہے۔ چندریان-3 کی کامیابی کے بعد اب ہندوستانی سائنسدانوں نے اپنی پوری توجہ ’مشن سورج‘ (آدتیہ ایل-1) اور ’مشن گگن یان‘ کی طرف مرکوز کر دی ہے۔ ’مشن گگن یان‘ کو لے کر آج ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ بھی ہوئی جس میں پی ایم مودی بھی موجود تھے۔ انھوں نے ’مشن گگن یان‘ کی تیاریوں کا جائزہ لیا اور اس دوران سائنسدانوں سے کہا کہ ہندوستان کو 2040 تک چاند پر ایک انسان بھیجنے اور 2035 تک ایک خلائی اسٹیشن نصب کرنے کا ہدف رکھنا چاہیے۔ سائنسدانوں سے پی ایم مودی نے نئے اہداف کے تحت ’وینس آربیٹر مشن‘ اور ’منگل لینڈر‘ پر کام کرنے کے لیے بھی کہا۔

وزیر اعظم دفتر (پی ایم او) نے آج جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ ’مشن گگن یان‘ پر پی ایم مودی کی صدارت میں اعلیٰ سطحی میٹنگ کا انعقاد ہوا۔ اس دوران خلائی محکمہ نے مشن کا ایک وسیع پریزنٹیشن پیش کیا جس میں اب تک تیار مختلف ٹیکنالوجیز، مثلاً ہیومن-ریٹیڈ لانچ وہیکل اور سسٹم اہلیت شامل ہیں۔ پی ایم او کے مطابق ہیومن ریٹیڈ لانچ وہیکل (ایچ ایل وی ایم 3) کے تین انکروڈ مشنز سمیت تقریباً 20 اہم ٹیسٹنگ کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ میٹنگ میں مشن کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا اور 2025 تک اس کے لانچ کرنے کی تصدیق کی گئی۔

اس میٹنگ میں وزیر اعظم نریندر مودی نے ہدایت دی کہ ہندوستان کو اب نئے دیرینہ اہداف پر کام کرنا چاہیے، جس میں 2035 تک ہندوستانی خلائی اسٹیشن نصب کرنا اور 2040 تک چاند پر انسان کو بھیجنا شامل ہے۔ ہندوستان کی خلائی تحقیقی کوششوں کے مستقبل پر ایک میٹنگ کے دوران پی ایم مودی نے ہندوستانی سائنسدانوں سے ’بین سیارہ مشن‘ کی سمت میں کام کرنے کی اپیل کی، جس میں ایک ’وینس آربیٹر مشن‘ اور ایک ’منگل لینڈر‘ شامل ہوگا۔

سسرال میں تشدد کا شکار بنی بیٹی کو بینڈ اور آتش بازی کے ساتھ واپس لایا باپ

0
سسرال-میں-تشدد-کا-شکار-بنی-بیٹی-کو-بینڈ-اور-آتش-بازی-کے-ساتھ-واپس-لایا-باپ

رانچی: رانچی میں ایک بارات کافی موضوع بحث ہے۔ اس بارات کے ذریعے بیٹی کی مائیکے سے الوداعی نہیں ہوئی بلکہ اسے سسرال کے تشدد سے نجات دلانے کے لیے نکالا گیا۔ باپ نے اپنی شادی شدہ بیٹی کو واپس لانے کے لیے آلات موسیقی اور آتش بازی کے ساتھ جلوس نکالا، جس کا اس کے سسرال والے استحصال کر رہے تھے۔

والد نے سوموار کو اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر 15 اکتوبر کو نکالی جانے والی اس بارات کی ویڈیو پوسٹ کی اور لکھا کہ ’’لوگ اپنی بیٹیوں کی شادی بڑے ارمانوں اور دھوم دھام سے کرتے ہیں لیکن اگر شریک حیات اور سسرال والے غلط نکلے یا غلط کام کریں تو آپ اپنی بیٹی کو عزت و احترام کے ساتھ اپنے گھر واپس لائیں کیونکہ بیٹیاں بہت قیمتی ہوتی ہیں۔‘‘

اس بہادر باپ کا نام پریم گپتا ہے جو رانچی کے کیلاش نگر کمہارٹولی کے رہنے والے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 28 اپریل 2022 کو بڑی دھوم دھام سے انہوں نے اپنی بیٹی ساکشی گپتا کی شادی سچن کمار نامی نوجوان سے کی تھی۔ وہ جھارکھنڈ الیکٹرسٹی ڈسٹری بیوشن کارپوریشن میں اسسٹنٹ انجینئر کے طور پر کام کر رہا ہے اور سرویشوری نگر، رانچی کا رہنے والا ہے۔

ان کا الزام ہے کہ کچھ دنوں بعد بیٹی کو سسرال والوں نے ہراساں کرنا شروع کر دیا۔ کبھی کبھار اس کا شوہر اسے گھر سے نکال دیتا تھا۔ تقریباً ایک سال بعد ساکشی کو معلوم ہوا کہ جس شخص کے ساتھ اس کی شادی ہوئی ہے وہ پہلے ہی دو شادیاں کر چکا ہے۔ اس کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔

ساکشی کا کہنا ہے کہ سب کچھ جاننے کے بعد بھی میں نے ہمت نہیں ہاری اور کسی طرح رشتہ بچانے کی کوشش کی۔ لیکن، جب اسے لگا کہ استحصال اور ہراسانی کی وجہ سے اس کے ساتھ رہنا مشکل ہے، تو اس نے رشتہ کی قید سے نکلنے کا فیصلہ کیا۔

والد اور مائیکے والوں نے ساکشی کے فیصلے کو منظور کیا اور باقاعدہ بینڈ اور آتش بازی کے ساتھ اس کے سسرال سے بارات نکالی اور اسے واپس لایا گیا۔

پریم گپتا کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ قدم اس خوشی میں اٹھایا کہ ان کی بیٹی کو استحصال سے نجات مل گئی ہے۔ ساکشی نے طلاق کے لیے عدالت میں کیس دائر کیا ہے۔ لڑکے نے ناق نفقہ دینے کی بات کہی ہے۔ توقع ہے کہ جلد ہی طلاق کو قانونی طور پر منظور کر لیا جائے گا۔

منی لانڈرنگ کیس: جموں میں 8 مقامات پر ای ڈی کے چھاپے

0
منی-لانڈرنگ-کیس:-جموں-میں-8-مقامات-پر-ای-ڈی-کے-چھاپے

جموں: انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے منگل کی صبح جموں میں سابق وزیر لال سنگھ کی اہلیہ اور سابق سرکاری آفیسر کے ذریعے چلائے جا رہے ایجوکیشن ٹرسٹ کے خلاف منی لانڈرنگ کیس کے سلسلے میں آٹھ مقامات پر چھاپے مارے۔

ذرائع نے بتایا کہ ایجوکیشن ٹرسیٹ کے قیام کی خاطر زمین کی خریداری میں مبینہ بے ضابطگیوں کا معاملہ سامنے آنے کے بعد ای ڈی نے تحقیقات شروع کی ہے۔اطلاعات کے مطابق ای ڈی نے منگل کی صبح جموں ، کٹھوعہ ، پٹھان کورٹ میں آر بی ایجوکیشن ٹرسٹ کی جانب سے مبینہ بے ضابطگیوں کے بعد چھاپے مارے۔

ذرائع نے بتایا کہ آر بی ایجوکیشن ٹرسٹ کی چیرپرسن سابق وزیر لال سنگھ کی اہلیہ کانتا اندوترا ہے ۔منی لانڈرنگ کا یہ کیس اکتوبر 2021 میں درج کیا گیا اور سی بی آئی نے اس ضمن میں چار ج شیٹ بھی عدالت مجاز میں پیش کی ہے۔سی بی آئی چارج شیٹ کے مطابق ایجوکیشن ٹرسٹ کو پانچ جنوری اور سات جنوری 2011 میں 329 کنال اراضی غیر قانونی طورپر فراہم کی گئی۔

ذرائع نے بتایا کہ ای ڈی کی تحقیقات کے دوران منکشف ہوا کہ ایجوکشن ٹرسٹ کو جو 329 کنال اراضی فراہم کی گئی اس کو تجارتی مقاصد کی خاطر استعمال میں لایا گیا جبکہ اس اراضی پر دہلی پبلک سکول بھی چل رہا ہے جو قانون کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔

ذرائع کے مطابق منگل کی صبح ای ڈی نے چیئرپرسن اور اس ایجوکیشن ٹرسٹ سے منسلک دوسرے عہدیداروں کے ساتھ ساتھ اس وقت کے محکمہ مال کے آفیسران کے گھروں کو بھی کھنگالا۔ آخری اطلاعات موصول ہونے تک چھاپہ ماری کا سلسلہ جاری تھا۔ اس سلسلے میں مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔

ہم جنس پرستوں کو نہ شادی کی اجازت اور نہ بچہ گود لینے کا اختیار، سپریم کورٹ کا فیصلہ

0
ہم-جنس-پرستوں-کو-نہ-شادی-کی-اجازت-اور-نہ-بچہ-گود-لینے-کا-اختیار،-سپریم-کورٹ-کا-فیصلہ

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے منگل کو ہم جنس پرستوں کی شادی کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ قانون سازی حکومت کا کام ہے اور اگر حکومت چاہے تو اس پر پارلیمنٹ سے قانون منظور کر سکتی ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ حکومت ایک کمیٹی بنا سکتی ہے، جو ہم جنس جوڑوں سے متعلق خدشات کو دور کرے گی اور ان کے حقوق کو یقینی بنائے گی۔

پانچ ججوں پر مشتمل بنچ نے اکثریت سے فیصلہ دیا ہے کہ ہم جنس پرست جوڑوں کو بچہ گود لینے کا حق نہیں دیا جا سکتا۔ سپریم کورٹ نے ہم جنس پرستوں کی شادی کو تسلیم نہ کرنے پر اسپیشل میرج ایکٹ اور فارن میرج ایکٹ کو ختم کرنے سے انکار کر دیا۔ سپریم کورٹ کا ماننا ہے کہ ایک ٹرانس جینڈر شہری کو موجودہ قوانین کے تحت مخالف جنس کے شہری سے شادی کرنے کا حق ہے، یعنی ایک ہم جنس پرست لڑکا ایک لڑکی سے شادی کر سکتا ہے۔

قبل ازیں، سپریم کورٹ نے ہم جنس پرستوں کی شادی کو قانونی حیثیت دینے والی درخواستوں پر اپنا فیصلہ پڑھ کر سنایا۔ چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی سربراہی میں پانچ ججوں کی بنچ نے مئی کے مہینے میں 10 دن تک اس کیس کی سماعت کی۔ اس کے بعد اس نے 11 مئی کو اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا اور آج اس فیصلے کا اعلان کیا گیا۔

سی جے آئی چندر چوڑ کے علاوہ بنچ کے دیگر ارکان میں جسٹس سنجے کشن کول، جسٹس ایس رویندر بھٹ، جسٹس ہیما کوہلی اور جسٹس پی ایس نرسمہا شامل ہیں۔ جسٹس ہیما کوہلی کے علاوہ باقی چار ججوں نے فیصلہ پڑھا۔ اس معاملہ پر سپریم کورٹ نے کل چار فیصلے دیے ہیں۔

ججوں نے کیا کیا کہا؟

چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندر چوڑ:

چیف جسٹس نے کہا کہ ہم جنس پرستی ایک ایسا موضوع ہے جو صرف شہر کے اعلیٰ طبقے تک محدود نہیں۔ اس معاشرے کے لوگ ہر جگہ موجود ہیں۔ انہوں نے حکومت سے اس شادی کو قانونی حیثیت دینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا کام شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔ شادی کو قانونی حیثیت حاصل ہے لیکن اسے بنیادی حق نہیں کہا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 200 سالوں میں شادی میں بہت سی تبدیلیاں آئی ہیں۔

چیف جسٹس نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ہم جنس پرستوں کی شادی کے لیے اسپیشل میرج ایکٹ کو منسوخ کرنا غلط ہے لیکن یہ ضروری ہے کہ حکومت ایسے رشتوں کو قانونی حیثیت دے، تاکہ انہیں ان کے ضروری حقوق مل سکیں۔ سی جے آئی نے کہا کہ ہر کسی کو اپنا ساتھی چننے کا حق ہے۔ جس طرح دوسروں کو یہ حق ملا ہے اسی طرح ہم جنس پرست برادری کو بھی اپنے ساتھی کے ساتھ رہنے کا حق حاصل ہے۔ آرٹیکل 21 کے تحت یہ بنیادی حق ہے۔

فیصلے میں، سی جے آئی نے کہا کہ غیر شادی شدہ جوڑوں کو بچہ گود لینے سے روکنے کی شق غلط ہے، جس کی وجہ سے ہم جنس پرست جوڑوں کو بھی امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ آرٹیکل 15 کی خلاف ورزی ہے۔

سی جے آئی نے کہا کہ حکومت کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ ہم جنس پرستوں کے ساتھ امتیازی سلوک نہ ہو۔ ابتدائی تفتیش مکمل ہونے پر ہی ایسے جوڑے کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے۔ پولیس کو ہم جنس پرستوں کی مدد کرنی چاہیے۔

چیف جسٹس نے اپنے فیصلے میں سفارش کی کہ مرکزی حکومت ایک کمیٹی بنائے، جس کا کام ایک ایسا نظام بنانا ہوگا جس میں ہم جنس پرست جوڑوں کو راشن کارڈ، بینک میں نامزد ہونے، طبی ضروریات کے لیے فیصلے لینے، پنشن وغیرہ جیسے فوائد مل سکیں۔

جسٹس سنجے کشن کول نے اپنے فیصلے میں کیا کہا؟

جسٹس کول نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ہم جنس پرستی قدیم زمانے سے موجود ہے۔ ہم جنس پرستوں کو بھی قانونی حقوق ملنے چاہئیں۔ حکومت اس کے لیے ایک کمیٹی بنائے۔ تاہم، میں اس نظریے سے متفق نہیں ہوں کہ اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت ایسی شادیوں کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔

فیصلے میں جسٹس کول نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم جنس پرست برادری کے خلاف تاریخی امتیاز کو دور کیا جائے۔ ان کی شادی کو تسلیم کرنا بھی ایک قدم ہو سکتا ہے لیکن میں اس بات سے اتفاق نہیں کرتا کہ ایک کمیٹی بنائی جائے اور ہم جنس پرستوں کو قانونی حقوق دینے پر غور کیا جائے۔

جسٹس کول نے کہا کہ وہ چیف جسٹس سے پوری طرح متفق ہیں کہ امتیازی سلوک کے خلاف قانون کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’انسداد امتیازی قانون کے لیے میری تجاویز یہ ہیں کہ اسے باہمی تفریق کو دور کرنا چاہیے۔ ہم جنس پرست جوڑوں کو شادی کے لیے تسلیم کرنا مساوات کی طرف پہلا قدم ہے۔‘‘

جسٹس ایس رویندر بھٹ کے فیصلے کے اہم نکات:

جسٹس بھٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ’’میں چیف جسٹس سے متفق ہوں کہ شادی بنیادی حق نہیں ہے۔ لیکن میں مانتا ہوں کہ رشتہ رکھنا ایک حق ہے۔ ہم حکومت کو قانون بنانے کا حکم نہیں دے سکتے۔ تاہم، ہم سمجھتے ہیں کہ ہم جنس پرستوں کو بھی اپنے ساتھی کا انتخاب کرنے اور اس کے ساتھ رہنے کا حق حاصل ہے۔

جسٹس بھٹ نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ میں چیف جسٹس کے اس حکم سے اتفاق نہیں کرتا کہ ہم جنس پرست جوڑوں کو بچہ گود لینے کا حق ملنا چاہیے۔ سی جے آئی نے گود لینے کا حق دینے کی وکالت کی تھی۔ جسٹس رویندر بھٹ نے یہ بھی کہا کہ حکومت کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ ہم جنس پرستوں کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہ ہو۔ لیکن ساتھ رہنے کو قانونی حیثیت نہیں دی جا سکتی۔

جسٹس پی ایس نرسمہا نے اپنے فیصلے میں کیا کہا؟

جسٹس پی ایس نرسمہا نے کہا ’’میں بھی جسٹس بھٹ سے متفق ہوں لیکن میرے فیصلے میں کچھ مختلف نکات بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شادی بنیادی حق نہیں ہے۔ اگر کوئی کسی کے ساتھ رہنا چاہتا ہے تو وہ ایسا کر سکتا ہے۔ اپنے فیصلے میں جسٹس نرسمہا نے کہا کہ میں جسٹس بھٹ سے متفق ہوں کہ ہم جنس پرست جوڑوں کو بچہ گود لینے کا حق نہیں مل سکتا۔ انہوں نے کہا کہ شادی کا کوئی ناقابل تنسیخ حق نہیں ہے۔ جسٹس ہیما کوہلی نے بھی جسٹس بھٹ سے اتفاق کیا۔

مدھیہ پردیش: کانگریس نے اسمبلی انتخابات کے لیے ’وچن پتر‘ جاری کیا

0
مدھیہ-پردیش:-کانگریس-نے-اسمبلی-انتخابات-کے-لیے-’وچن-پتر‘-جاری-کیا

بھوپال: مدھیہ پردیش اسمبلی انتخابات کے لیے، اہم اپوزیشن پارٹی کانگریس نے آج عہد کیا کہ ریاست میں اس کی حکومت بننے پر کسانوں کے 2 لاکھ روپے تک کے قرضے معاف کرنے کی اسکیم کو جاری رکھا جائے گا اور اس کے علاوہ خواتین کو ماہانہ 1500 روپے ناری سمان ندھی کے طور پر فراہم کیے جائیں گے۔

ریاستی کانگریس کے صدر کمل ناتھ نے دیگر سینئر لیڈروں کی موجودگی میں پارٹی کا ’وچن پتر‘ جاری کیا۔ اس موقع پر سابق وزیر اعلیٰ دگوجے سنگھ اور ’وچن پتر‘ کمیٹی کے سربراہ راجندر کمار سنگھ بھی موجود تھے۔ ’وچن پتر‘ میں بنیادی طور پر 101 اہم ضمانتیں دی گئی ہیں۔ ’وچن پتر‘ کے ذریعے کسانوں اور غریبوں کے ساتھ ساتھ خواتین اور نوجوانوں تک پہنچنے کی کوشش کی گئی ہے۔

اس موقع پر مسٹر کمل ناتھ نے کہا کہ پارٹی 2018 کے اسمبلی انتخابات کے دوران کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے کے لئے پرعزم ہے اور اس کے علاوہ دیگر وعدے بھی کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس وقت کی کانگریس حکومت نے پہلے مرحلے میں 27 لاکھ کسانوں کے قرض معاف کیے تھے۔ اس سکیم کو جاری رکھا جائے گا۔ کانگریس ریاست میں خوشحالی لانے کے لیے پرعزم ہے اور صنعتی سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ کھیلوں کی بھی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔

کانگریس کے ’وچن پتر‘کے مطابق خواتین کو ناری سمان ندھی کے طور پر ماہانہ 1500 روپے فراہم کیے جائیں گے۔ گھریلو گیس سلنڈر 500 روپے میں دیا جائے گا۔ اندرا گرہ جیوتی یوجنا کے تحت 100 یونٹ تک بجلی مفت اور 200 یونٹ نصف شرح پر دی جائے گی۔ ملازمین کے لیے پرانی پنشن اسکیم 2005 نافذ کی جائے گی۔ کسانوں کو آبپاشی کے لیے پانچ ہارس پاور تک مفت بجلی دی جائے گی۔ کسانوں کے بجلی کے بقایا بل معاف کیے جائیں گے۔ کسانوں کی تحریک اور بجلی سے متعلق جھوٹے اور بے بنیاد واقعات واپس ہوں گے۔

مدھیہ پردیش کی تمام 230 اسمبلی سیٹوں کے لیے ووٹنگ 17 نومبر کو ہوگی اور 3 دسمبر کو ووٹوں کی گنتی کے ساتھ ہی نئی حکومت کے حوالے سے تصویر واضح ہو جائے گی۔

ہم جنس پرستوں کی شادی پر سپریم کورٹ کا فیصلہ، ’امتیازی سلوک نہیں ہونا چاہیے‘

0
ہم-جنس-پرستوں-کی-شادی-پر-سپریم-کورٹ-کا-فیصلہ،-’امتیازی-سلوک-نہیں-ہونا-چاہیے‘

سپریم کورٹ نے منگل کو ملک میں ہم جنس پرستوں کی شادی کا مطالبہ کرنے والی درخواستوں پر اپنا فیصلہ سنا دیا۔ چیف جسٹس چندرچوڑ نے مرکزی حکومت اور ریاستی حکومتوں کو ہدایت دی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہم جنس پرستوں کے لیے سامان اور خدمات تک رسائی میں کوئی امتیازی سلوک نہ کیا جائے اور حکومت کو ہدایت دی کہ وہ ہم جنس پرستوں کے حقوق کے بارے میں عوام کو حساس بنائے۔ عدالت نے کہا کہ حکومت ہم جنس پرستوں کے لیے ہاٹ لائنز بنائے گی، تشدد کا سامنا کرنے والے ہم جنس پرست جوڑوں کے لیے ‘ڈیگنیٹی ہوم’ بنائے گی اور اس بات کو یقینی بنائے گی کہ مختلف جنس والے بچوں کو آپریشن کرنے پر مجبور نہ کیا جائے۔

سی جے آئی نے کہا، "جنسی رجحان کی بنیاد پر یونین میں داخل ہونے کے حق پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔ متضاد تعلقات میں ٹرانس جینڈر افراد کو موجودہ قوانین بشمول پرسنل لاز کے تحت شادی کرنے کا حق ہے۔ غیر شادی شدہ جوڑے، بشمول ہم جنس پرست جوڑے، مشترکہ طور پر بچے کو گود لے سکتے ہیں۔‘‘

سی جے آئی چندرچوڑ نے کہا، ’’مرکزی حکومت ہم جنس پرستوں کی یونینوں میں افراد کے حقوق اور اختیارات کے بارے میں فیصلہ کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے گی۔ یہ کمیٹی راشن کارڈ میں ہم جنس جوڑوں کو ‘خاندان’ کے طور پر شامل کرنے پر بھی غور کرے گی۔ اس کے علاوہ کمیٹی ہم جنس پرست جوڑوں کو مشترکہ بینک اکاؤنٹس وغیرہ کھولنے کے لیے نامزدگی میں اہل بنانے، پنشن، گریجویٹی وغیرہ کے حوالے سے دیئے جانے والے حقوق پر غور کرے گی۔ کمیٹی کی رپورٹ پر مرکزی سطح پر غور کیا جائے گا۔‘‘

سی جے آئی چندرچوڑ نے کہا، "اختیارات کی علیحدگی کا اصول بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے ہدایات جاری کرنے والی عدالت کے راستے میں حائل نہیں آ سکتا۔ عدالت قانون نہیں بنا سکتی بلکہ صرف اس کی تشریح کر سکتی ہے اور اس کی عمل درآمد کو یقینی بنا سکتی ہے۔‘‘

سی جے آئی نے کہا، "یہ کہنا غلط ہے کہ شادی ایک جامد اور ناقابل تغیر ادارہ ہے۔ اگر اسپیشل میرج ایکٹ کو ختم کر دیا جاتا ہے، تو یہ ملک کو آزادی سے پہلے کے دور میں واپس لے جائے گا۔ اسپیشل میرج ایکٹ کے نظام میں تبدیلی کرنی چاہئے یا نہیں، اس کا فیصلہ پارلیمنٹ کو کرنا ہے۔ اس عدالت کو محتاط رہنا چاہیے کہ وہ قانون سازی کے میدان میں داخل نہ ہوں۔‘‘

میرٹھ میں پٹاخہ فیکٹری میں دھماکہ، چار افراد ہلاک، دو زخمی

0
میرٹھ-میں-پٹاخہ-فیکٹری-میں-دھماکہ،-چار-افراد-ہلاک،-دو-زخمی

میرٹھ: اتر پردیش میں میرٹھ کے لوہیا نگر علاقے میں منگل کی صبح غیر قانونی طور پر چلائی جانے والی پٹاخہ فیکٹری میں زبردست دھماکے میں چار مزدوروں کی موت ہو گئی جبکہ دو دیگر شدید زخمی ہو گئے۔ ضلع مجسٹریٹ دیپک مینا نے یو این آئی کو بتایا کہ لوہیا نگر میں ایک بند مکان میں غیر قانونی طور پر پٹاخے کی فیکٹری چلائی جا رہی تھی۔ آج صبح اچانک زور دار دھماکے کے بعد مکان کا بالائی حصہ گر گیا اور آگ لگ گئی۔

انہوں نے بتایا کہ اس حادثے میں دو مزدوروں کی موقع پر ہی موت ہوگئی جبکہ دو دیگر نے اسپتال میں علاج کے دوران دم توڑ دیا۔ دھماکے میں زخمی ہونے والے ایک اور شخص کی حالت بھی تشویشناک ہے۔ اس دوران راحت اور بچاؤ کے کاموں میں مصروف جے پی سی ڈرائیور ملبہ کا ایک حصہ اس پر گرنے سے زخمی ہو گیا ہے۔ متوفی کی شناخت کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ دھماکا اتنا شدید تھا کہ قریبی گھروں اور ایک اسکول کی کھڑکیوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے جس سے افراتفری مچ گئی۔ اس کے علاوہ قریب سے گزرنے والی 33 ہزار ہائی وولٹیج بجلی کی لائنوں کے کھمبے بھی ٹیڑھے ہو گئے۔ پولیس نے بتایا کہ یہ مکان سنجے گپتا کا تھا اور گورو تیاگی نامی شخص نے اسے کرائے پر لیا تھا۔ موقع سے بڑی تعداد میں پٹاخے برآمد ہوئے ہیں۔ پولیس معاملے کی تفتیش کر رہی ہے۔

نوح تشدد: گئو رکشک مونو مانیسر کی درخواست ضمانت منظور

0
نوح-تشدد:-گئو-رکشک-مونو-مانیسر-کی-درخواست-ضمانت-منظور

گروگرام: ہریانہ کی نوح ضلع عدالت نے پیر کو خود ساختہ گئو رکشک موہت یادو عرف مونو مانیسر کو ریاست میں 31 جولائی کو ہونے والے فرقہ وارانہ تشدد سے متعلق ایک معاملے میں ضمانت دے دی۔ نوح فرسٹ کلاس جوڈیشل مجسٹریٹ امت کمار ورما کی عدالت نے ضمانت منظور کی۔

مونو مانیسر نے وکیل نے کہا ’’مونو مانیسر کو ضمانت مل گئی ہے اور اس نے ایک لاکھ روپے کا بانڈ پیش کر دیا۔‘‘ خیال رہے کہ 30 سالہ مونو مانیسر راجستھان میں ناصر جنید قتل کیس اور گروگرام کے پٹودی میں قتل کی کوشش کیس کا بھی ملزم ہے، ان دونوں معاملات میں ضمانت ملنے تک وہ جیل میں ہی رہے گا۔

مانیسر کو نوح پولیس نے 12 ستمبر کو گرفتار کیا تھا اور اسی دن راجستھان پولیس نے ناصر جنید قتل کیس میں اسے ٹرانزٹ ریمانڈ پر لے لیا تھا۔ اسے ہریانہ پولیس 7 اکتوبر کو ٹرانزٹ ریمانڈ پر واپس لائی اور وہ فی الحال گروگرام کی بھونڈی جیل میں قید ہے۔

ہریانہ کے نوح ضلع میں 31 جولائی کو فرقہ وارانہ تشدد شروع ہوا اور گروگرام، سوہنا اور ریاست کے دیگر اضلاع تک پھیل گیا، جو کئی دنوں تک جاری رہا۔ تشدد میں کم از کم چھ افراد ہلاک جب کہ 200 دیگر زخمی ہوئے۔

ممبئی ایئرپورٹ آج بند رہے گا! چھ گھنٹے تک کوئی پرواز نہیں اڑائے گی

0
ممبئی-ایئرپورٹ-آج-بند-رہے-گا!-چھ-گھنٹے-تک-کوئی-پرواز-نہیں-اڑائے-گی

ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ، جسے چھترپتی شیواجی مہاراج انٹرنیشنل ایئرپورٹ  ( سی ایس ایم آئی اے)کے نام سے جانا جاتا ہے، منگل یعنی آج بند رہنے والا ہے۔ مانسون کے موسم کے بعد ہوائی اڈے کے دو رن ویز پر دیکھ بھال کے کام کے لئے  عارضی طور پر بند کر دئے جائیں گے۔ سی ایس ایم آئی اے کے بیان کے مطابق فلائٹ آپریشن چھ گھنٹے کے لیے بند کیا جا رہا ہے۔ رکھ رکھاؤ  کا کام صبح 11 بجے سے شام 5 بجے تک جاری رہے گا۔

ہوائی اڈے کے ایک ترجمان نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا، ’سی ایس ایم آئی اے ‘کے مانسون کے بعد کے رن وے کی بحالی کے منصوبے کے ایک حصے کے طور پر، دونوں رن ویز 17 اکتوبر کو عارضی طور پر غیر فعال رہنے والے ہیں۔ یہ طے شدہ عارضی بندش سی ایس ایم آئی اے کے مانسون کے بعد کے دیکھ بھال   پلان کا ایک حصہ ہے۔ اس سلسلے میں، چھ ماہ قبل ایک نوٹس بھی جاری کیا گیا ہے۔

ایئرپورٹ حکام کے مطابق ایئرپورٹ کی عارضی بندش کا مقصد رن وے کی مرمت اور دیکھ بھال کرنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف اس کے ذریعے ہی ہوائی اڈے کے بنیادی ڈھانچے کو اعلیٰ معیار تک برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ سی ایس ایم آئی اے کا کہنا ہے کہ ہر سال مانسون سیزن کے بعد رن وے کو دیکھ بھال کے لیے بند کر دیا جاتا ہے۔ یہ اس کام کا حصہ ہے جس کے ذریعے نہ صرف فلائٹ آپریشن بلکہ مسافروں کی حفاظت کو بھی یقینی بنایا جاتا ہے۔

ممبئی ہوائی اڈے نے کہا کہ یہ عارضی بندش ظاہر کرتی ہے کہ کس طرح مسافروں کی حفاظت اس کے آپریشنز میں پہلا نقطہ نظر ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ہوائی اڈے نے تمام اہم اسٹیک ہولڈرز سے بات کی ہے اور انہیں اس بارے میں آگاہ کیا ہے۔ تاکہ دیکھ بھال کی مناسب تکمیل کے لیے پروازوں کا شیڈول بنایا جا سکے۔ ہوائی اڈے نے کہا کہ وہ مسافروں سے تعاون اور تعاون کی بھی توقع کر رہا ہے۔ ممبئی ہوائی اڈے سے روزانہ 900 پروازیں اڑتی ہیں۔