منگل, جون 23, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 52

بی جے پی، عآپ اور دیگر پارٹی لیڈران کا کانگریس میں شامل ہونے کا سلسلہ جاری

0
بی-جے-پی،-عآپ-اور-دیگر-پارٹی-لیڈران-کا-کانگریس-میں-شامل-ہونے-کا-سلسلہ-جاری

نئی دہلی: کانگریس کے سینئر لیڈر اروندر سنگھ لولی نے جب سے دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کی کمان سنبھالی ہے تب سے دہلی کانگریس اپنی پوری طاقت کے ساتھ سرگرم نظر آ رہی ہے۔ تاہم زمینی سطح پر پارٹی کو مظبوط کرنے کے لیے بلاکوں میں میٹنگ منعقد کی جا رہی ہے، ساتھ ہی جن لوگوں نے کانگریس پارٹی سے دوری اختیار کر لی تھی ان کو دوبارہ کانگریس پارٹی میں شامل کرنے کی پالیسی پر تیزی سے کام کیا جا رہا ہے۔

اسی ضمن میں آج ریاستی صدر اروندر سنگھ لولی کی موجود گی میں عام آدمی پارٹی کے سابق کونسلر پرتھوی سنگھ راٹھور، راجیو ورما اور جئے پرکاش چوہان نے اپنے سینکڑوں ساتھیوں کے ساتھ پریس کانفرنس میں کانگریس پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ لولی نے پارٹی میں شامل ہونے والوں کا تہہ دل سے استقبال کیا اور پارٹی کا پٹکا پہنایا۔ اس موقع پر موجود سکھ سنگت نے اروندر سنگھ لولی اور مکیش شرما کو اعزاز سے نوازا۔

پریس کانفرنس میں لولی نے اپنے خطاب میں کہا کہ کانگریس پارٹی کے تئیں ملک اور دہلی کی عوام کا اعتماد دن بہ دن بڑھتا جا رہا ہے اور آج کانگریس کارکنان اپنا سر فخر سے بلند کر کے چل رہے ہیں۔ لولی نے کہا کہ آج سے وہ اپنے علاقوں میں بلاک کانگریس کمیٹی کے صدور اور مقامی کانگریس کارکنان سے بات چیت کا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ یہ میرے لئے فخر کی بات ہے کہ میں مشرقی دہلی کے لکشمی نگر اسمبلی کے چاروں بلاکس سے یہ سلسلہ شروع کر رہا ہوں جس کی نمائندگی مرحوم ڈاکٹر اے کے والیا نے طویل عرصے تک کی۔ انہوں نے کہا کہ آنجہانی ڈاکٹر والیا نے نہ صرف دہلی کی صحت کی خدمات کے لیے بے مثال کام کیا بلکہ ان کے دور میں نئے اسپتال بنائے گئے اور نئے اسپتال بنانے کے لیے زمین لی گئی۔ انہوں نے اس پروگرام کو ڈاکٹر اے کے والیا کے نام وقف کرتے ہوئے کہا کہ یہ انہیں حقیقی خراج عقیدت ہوگا۔

اس موقع پر ڈاکٹر بجیندر سنگھ نے کہا کہ اروندر سنگھ لولی کے صدر بننے کے بعد دہلی کانگریس میں نئی توانائی آئی ہے۔ آج دہلی کے کانگریس کارکنان سڑکوں پر اتر رہے ہیں اور موجودہ حکومت کی عوام مخالف پالیسی کی پرزور مخالفت میں حصہ لے رہے ہیں۔ پرتھوی سنگھ راٹھور اور راجیو ورما کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان دونوں کا فیصلہ خوش آئند ہے۔ پریس کانفرنس کے بعد سینکڑوں کارکنوں کو پارٹی میں شامل کیا گیا اور اس موقع پر مکیش شرما کے علاوہ سریندر کمار اور جے پی پنوار بھی موجود تھے۔

پارٹی کے سینئر لیڈر مکیش شرما نے کہا کہ بی جے پی اور عام آدمی پارٹی سے کانگریس میں شامل ہونے والے لوگوں کی طرف سے بڑی تعداد میں درخواستیں موصول ہوئی ہیں، جنہیں پارٹی میں منظم طریقے سے شامل کرنے سے پہلے اس بات کی تحقیق کی جا رہی ہے کہ جو لوگ پارٹی میں شامل ہونا چاہتے ہیں وہ کتنے وفادار ثابت ہوں گے۔ اس کے علاوہ پرانے کارکنان سے بھی اس مسئلہ پر تبادلہ خیال کیا جاتا ہے اور سبھی کی رضا مندی لی جاتی ہے۔

’شری رام جنم بھومی تیرتھ چھیتر ٹرسٹ‘ کو ایف سی آر اے نے دی منظوری، بیرون ملکی عطیہ کا راستہ ہموار!

0
’شری-رام-جنم-بھومی-تیرتھ-چھیتر-ٹرسٹ‘-کو-ایف-سی-آر-اے-نے-دی-منظوری،-بیرون-ملکی-عطیہ-کا-راستہ-ہموار!

ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کا کام آخری مرحلے میں ہے۔ اس درمیان شری رام جنم بھومی تیرتھ چھیتر ٹرسٹ نے ایک بڑی خوشخبری دی ہے۔ ٹرسٹ نے 18 اکتوبر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ کر جانکاری دی کہ اسے ایف سی آر اے کی منظوری مل گئی ہے۔ یعنی اب بیرون ممالک کے لوگ بھی رام مندر کے لیے عطیہ دے سکتے ہیں۔

ٹرسٹ نے ’ایکس‘ پلیٹ فارم پر کیے گئے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ ’’شری رام جنم بھومی تیرتھ چھیتر کو غیر ملکی تعاون ریگولیشن ایکٹ 2010 کے تحت عطیہ حاصل کرنے کے لیے وزارت داخلہ، حکومت ہند کے ایف سی آر اے محکمہ نے منظوری فراہم کر دی ہے۔ ساتھ ہی ٹرسٹ نے یہ بھی لکھا ہے کہ غیر ملکی ذرائع سے حاصل ہونے والا کوئی بھی عطیہ صرف ایس بی آئی کے سنسد مارگ برانچ میں ہی قابل قبول ہوگا۔ دیگر کسی بینک اور ایس بی آئی کے دیگر کسی برانچ میں بھیجی گئی رقم قابل قبول نہیں ہوگی۔

واضح رہے کہ ایودھیا میں زیر تعمیر رام مندر میں آئندہ سال 2024 میں 17 جنوری سے ’پران پرتشٹھا‘ (مورتی نصب کرنے کا عمل) کا پروگرام شروع ہو جائے گا۔ گزشتہ روز رام مندر تعمیر کی نئی تصویریں سوشل میڈیا پر شیئر کر ٹرسٹ تازہ جانکاری بھی دی ہے جس سے پتہ چل رہا ہے کہ کام ہنگامی سطح پر جاری ہے۔

چھتیس گڑھ اسمبلی انتخاب: کانگریس نے امیدواروں کی دوسری فہرست جاری کی

0
چھتیس-گڑھ-اسمبلی-انتخاب:-کانگریس-نے-امیدواروں-کی-دوسری-فہرست-جاری-کی

چھتیس گڑھ اسمبلی انتخاب کے لیے کانگریس نے امیدواروں کی دوسری فہرست آج جاری کر دی۔ دوسری فہرست میں 53 امیدواروں کو ٹکٹ دیا گیا ہے۔ ریاست میں دو مراحل میں اسمبلی انتخاب ہونے ہیں جب رائے دہندگان 90 اسمبلی سیٹوں کے لیے اپنی پسند کا امیدوار منتخب کریں گے۔ پہلے مرحلہ کی ووٹنگ 7 نومبر کو اور دوسرے مرحلہ کی ووٹنگ 17 نومبر کو ہوگی۔ نتائج 3 دسمبر کو برآمد ہوں گے۔

بہرحال، کانگریس نے چھتیس گڑھ اسمبلی انتخاب کے پیش نظر 30 امیدواروں کی پہلی فہرست گزشتہ دنوں جاری کی تھی جس میں وزیر اعلیٰ بھوپیش بگھیل، نائب وزیر اعلیٰ ٹی ایس سنگھدیو اور کچھ دیگر سینئر لیڈران کے نام شامل تھے۔ اب جبکہ 53 امیدواروں کی دوسری فہرست سامنے آ چکی ہے، تو مجموعی طور پر کانگریس نے 83 اسمبلی سیٹوں کے لیے امیدوار طے کر دیے ہیں۔

واضح رہے کہ کانگریس میں ابھی کانگریس کی حکومت ہے اور وزیر اعلیٰ بھوپیش بگھیل کی قیادت میں پارٹی ایک بار پھر برسراقتدار آنے کے لیے پرامید ہے۔ ریاست میں بی جے پی اپوزیشن کے کردار میں ہے اور مقابلہ انہی دونوں پارٹیوں کے درمیان سیدھا ہونے والا ہے۔ 2018 میں ہوئے اسمبلی انتخاب میں کانگریس 68 سیٹیں جیت کر 15 سال بعد ریاست میں برسراقتدار ہوئی تھی، جبکہ بی جے پی کو محض 15 سیٹیں حاصل ہوئی تھیں۔ دونوں پارٹیوں کے سرکردہ لیڈران انتخابی میدان میں سرگرم دکھائی دے رہے ہیں۔ ایک طرف بی جے پی ریاست میں از سر نو واپسی کرنا چاہتی ہے، تو دوسری طرف کانگریس لگاتار دوسری بار اقتدار پر قبضہ کرنا کے لیے پرعزم ہے۔

راہل گاندھی نے مہنگی بجلی کے لیے اڈانی کو ٹھہرایا ذمہ دار، 32000 کروڑ روپے گھوٹالہ کا الزام

0
راہل-گاندھی-نے-مہنگی-بجلی-کے-لیے-اڈانی-کو-ٹھہرایا-ذمہ-دار،-32000-کروڑ-روپے-گھوٹالہ-کا-الزام

کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے آج ایک بار پھر اڈانی گروپ کے مالک گوتم اڈانی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور ان پر شدید الزام عائد کیا۔ انھوں نے آج ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ گوتم اڈانی نے کوئلہ کے کاروبار میں بہت بڑی بے ضابطگی کی ہے، انھوں نے اس میں 32 ہزار کروڑ روپے کا گھوٹالہ کیا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ بجلی مہنگی ہوتی جا رہی ہے اور لوگوں کا بجلی بل بڑھتا جا رہا ہے۔ راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ بجلی مہنگی ہونے کا فائدہ سیدھا اڈانی کو پہنچ رہا ہے۔

دراصل راہل گاندھی نے پریس کانفرنس میں اڈانی پر الزام عائد کرنے کے لیے غیر ملکی انگریزی اخبار ’فنانشیل ٹائمز‘ کا حوالہ پیش کیا۔ انھوں نے کہا کہ فنانشیل ٹائمز نے سبھی کاغذات حاصل کیے ہیں جس سے کوئلہ کاروبار میں گھوٹالہ کا انکشاف ہو رہا ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ ’’کوئلہ کاروبار میں گھوٹالہ کی بات ہم نہیں کہہ رہے ہیں، لندن کے اخبار کے حوالے سے یہ خبر ہے۔ لیکن ان کے (اڈانی) خلاف جانچ نہیں ہوگی۔ سوال اٹھانے پر بھی اڈانی کی جانچ نہیں ہوگی۔ ہندوستان کا پی ایم اڈانی کی حفاظت کر رہا ہے۔‘‘

راہل گاندھی نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’’پہلے ہم لوگ 20 ہزار کروڑ روپے گھوٹالہ کی بات کہہ رہے تھے، لیکن اب اس میں 12 ہزار کروڑ روپے مزید جوڑ دیجیے۔ یعنی اب گھوٹالہ 32 ہزار کروڑ روپے کا ہو جاتا ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ آپ جو بجلی کا استعمال کرتے ہیں، بلب یا پنکھا چلاتے ہیں، اس کا پیسہ بٹن دباتے ہی فوراً اڈانی جی کی جیب میں چلا جاتا ہے۔ یہ نمبر (رقم) دھیرے دھیرے مزید بڑھے گا۔ وزیر اعظم جی اڈانی کی جانچ کیوں نہیں کرا رہے یہ پورا ملک جانتا ہے۔ سیبی کہہ رہی ہے کہ کاغذات نہیں مل رہے ہیں۔ اڈانی کو براہ راست اونچے عہدوں سے سیکورٹی ملی ہوئی ہے۔ عوام کی جیب سے پیسہ چوری کیا جا رہا ہے اور ڈائریکٹ اڈانی کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے۔

’ڈریم 11‘ پر 1.5 کروڑ روپے جیتنے والا پولیس اہلکار معطل، ڈیوٹی کے دوران لاپروائی کا الزام

0
’ڈریم-11‘-پر-1.5-کروڑ-روپے-جیتنے-والا-پولیس-اہلکار-معطل،-ڈیوٹی-کے-دوران-لاپروائی-کا-الزام

ہندوستان میں کھیلے جا رہے کرکٹ عالمی کپ 2023 کو لے کر پوری دنیا میں خمار دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ہندوستان میں کرکٹ شیدائیوں کی ایک بڑی تعداد ہے، اس لیے کرکٹ کا خمار ہندوستانیوں میں کچھ زیادہ ہی ہے۔ مختلف آن لائن گیمنگ ایپ پر آن لائن سٹہ بازی بھی خوب ہو رہی ہے۔ مہاراشٹر میں پونے پولیس کے ایک سَب انسپکٹر سومناتھ جھینڈے بھی کرکٹ کے اس خمار میں ڈوبے دکھائی دے رہے ہیں، لیکن اس کا خمیازہ انھیں اپنی معطلی کی شکل میں بھگتنا پڑا ہے۔

دراصل سَب انسپکٹر سومناتھ جھینڈے نے انگلینڈ اور بنگلہ دیش میچ کے دوران ڈیڑھ کروڑ روپے جیت کر خوب سرخیاں بٹوری تھیں۔ لیکن یہ خوشی زیادہ دیر نہیں رہی، کیونکہ انھیں پولیس محکمہ کے ذریعہ معطل کر دیا گیا ہے۔ سَب انسپکٹر (پی ایس آئی) سومناتھ کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ پمپری-چنچواڑ پولیس کمشنریٹ میں تعینات تھے۔ اس پولیس کمشنریٹ نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ سومناتھ کو معطل کر دیا گیا ہے۔

پونے کے پمپری-چنچواڑ پولیس کے سینئر افسر نے ایک میڈیا چینل کو بتایا کہ پی ایس آئی سومناتھ جھینڈے کی جانچ ڈی سی پی رینک کے افسر کو سونپی گئی تھی۔ اس میں انتظامی و قانونی پہلوؤں کی جانچ کی گئی۔ جانچ میں پایا گیا کہ سومناتھ جھینڈے نے ڈیوٹی پر لاپروائی کی، یعنی وہ ڈیوٹی کے دوران سٹہ بازی میں مصروف تھا۔

دراصل سومناتھ نے مہاراشٹر پولیس کے سول سروس کنڈکٹ رول کی خلاف ورزی کی ہے جس کے مطابق پولیس اہلکار کو یہ بتانا ہوتا ہے کہ پولیس کی ملازمت کے علاوہ وہ ایسے کسی کام میں مصروف ہے جس سے اس کی اضافی آمدنی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ انعام جیتنے کے بعد خاکی وردی میں انٹرویو دے کر ’ڈریم 11‘ کی تشہیر کرنے اور سٹہ بازی کو فروغ دینے کا بھی ان پر الزام لگا ہے۔

آسام: وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے درگا پوجا کے پیش نظر 7000 پنڈالوں کو فنڈ دینے کا کیا اعلان

0
آسام:-وزیر-اعلیٰ-ہیمنت-بسوا-سرما-نے-درگا-پوجا-کے-پیش-نظر-7000-پنڈالوں-کو-فنڈ-دینے-کا-کیا-اعلان

اپنے متنازعہ بیانات اور فیصلوں کے لیے اکثر سرخیوں میں رہنے والے ہیمنت بسوا سرما نے درگا پوجا کے پیش نظر ایک بڑا اعلان کیا ہے۔ انھوں نے درگا پوجا پنڈالوں کے لیے حکومت کا خزانہ کھول دیا ہے۔ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ پوری ریاست میں بنے تقریباً 7 ہزار پوجا پنڈالوں کو فنڈ دیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کی صدارت میں منعقد کابینہ کی میٹنگ میں اس کا اعلان کیا گیا۔ اس تعلق سے ریاستی حکومت میں وزیر برائے سیاحت جینت مال بروا نے میڈیا کو جانکاری دی۔

کابینہ میں لیے گئے فیصلے کے مطابق آسام کے 6953 پوجا پنڈالوں کو حکومت کے ذریعہ 10-10 ہزار روپے کی امدادی رقم دی جائے گی۔ جینت مال بروا نے کہا کہ ’’ریاستی کابینہ نے یہ بھی فیصلہ لیا ہے کہ سبھی کابینہ وزیر 25 دسمبر سے 10 جنوری 2024 تک ایک خاص گاو۷ں میں 5 دن اور 5 رات قیام کریں گے۔ اس دوران ہائی اسکول اور ہائیر سیکنڈری اسکولوں کی 400 نئی عمارتوں کی بنیاد رکھی جائے گی۔ ان میں سے 100 چائے باغان علاقوں میں پوری طرح سے نئے اسکول ہوں گے۔ پرانے اسکولوں کی عمارتوں کی تجدید کے لیے ہر اسکول کو 7 کروڑ روپے الاٹ کیے جائیں گے۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما مسلم طبقہ کے خلاف زہر افشانی کرنے کے لیے مشہور ہیں۔ وہ اکثر مسلمانوں کے خلاف متنازعہ بیانات دیتےرہے ہیں۔ اب درگا پوجا پنڈالوں کے لیے فنڈ دینے کا فیصلہ ہندو طبقہ کو خوش کرنے کی کوشش تصور کیا جا رہا ہے۔

ٹائٹینک: نوادرات بچانے کا منصوبہ منسوخ

0
ٹائٹینک:-نوادرات-بچانے-کا-منصوبہ-منسوخ

ٹائٹینک جہاز کے ملبے سے نوادرات، فن پاروں و دیگر اشیاء کو بچانے کے حقوق کی مالک کمپنی نے مزید نمونے حاصل کرنے کے اپنے منصوبے کو منسوخ کر دیا ہے۔مغربی ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی ہے کہ امریکی ڈسٹرکٹ کورٹ میں دائر دستاویزات کے مطابق ایسا اس لیے کیا گیا ہے کیونکہ اس مجوزہ مہم کےرہنما اب اس دنیا میں نہیں ہیں ، ان کی ٹائٹن آبدوز حادثہ میں موت ہو گئی تھی۔ اس فیصلے سے کمپنی اور امریکی حکومت کے درمیان عدالتی لڑائی پر اثر پڑ سکتا ہے، جو 2024 کے مشن کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔ امریکی اٹارنی کے مطابق کمپنی کے ٹائٹینک جہاز کے ہل (hull) میں داخل ہونے کے منصوبے اس وفاقی قانون کی خلاف ورزی کریں گے جس کے تحت ٹائٹینک کے ملبے کو ایک قبر کے طور پر دیکھا جاتاہے۔

فرانسیسی شہری پال-ہینری نارجیولٹ جارجیا میں قائم فرم’ آر ایم ایس ٹائٹینک ‘کے زیرِ آب تحقیق کے ڈائریکٹر تھے جو ٹائٹینک کے نوادرات اور اشیاء کی بازیابی اور نمائش کرتی ہے۔ اس سال جون میں نارجیولٹ اپنی مہارت ایک الگ کمپنی ’اوشین گیٹ ‘کو فراہم کر رہے تھے جب وہ اور چار دیگر افراد ٹائٹینک کے قریب ٹائٹن آبدوز حادثہ میں جاں بحق ہوگئے۔ واضح رہے کہ امریکی کوسٹ گارڈ کے مطابق اس نےگزشتہ ہفتہ ’ممکنہ انسانی باقیات‘ برآمد کر لی ہیں اور خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ٹائٹن آبدوز کا آخری ملبہ ہے۔ حکام نے بتایا کہ ملبہ کو امریکی بندرگاہ پر پہنچا دیا گیاہے، جہاں فہرست بنانےکے بعد اس ملبہ کاتجزیہ کیا جائے گا۔

ٹائٹن آبدوز کے اس المناک غوطہ سے پہلے، جارجیا کی اس کمپنی نے ٹائٹینک کے ملبے کی اندر اور باہر سے تصاویر لینے کا منصوبہ بنایاتھا۔ ملبے سے نوادرات کے ساتھ ساتھ کمپنی ڈوبے ہوئے سمندری لائنر سے دیگر اشیاء بھی بازیاب کرنا چاہتی تھی۔ اس مہم میں نارجیولٹ کو انچارج ہونا تھا۔ فرانسیسی بحریہ کے اس سابق افسر نے پہلے ہی 37 غوطے مکمل کرلیے تھے اور ٹائٹینک کے تقریباً 5000 نوادرات اور اشیاء کی بازیابی ان کی نگرانی میں ہوئی تھی۔ کمپنی کی نمائشوں میں چاندی کے برتنوں سے لے کر جہاز کے ہل کے ٹکڑے تک کی اشیاء دکھائی گئی ہیں۔

کمپنی کے 2024 مہم کے اصل منصوبے میں جہاز کے مشہور مارکونی کمرے سے ممکنہ طور پر اشیاء کو بازیاب کرنا بھی شامل تھا۔ یہیں سے ٹائٹینک کے ریڈیو نے جہاز کے برف کے تودے سے ٹکرانے کے بعد فوری مدد کے لیے ڈسٹریس سگنل نشر کیے تھے۔ مورس کوڈ میں پیغامات دوسرے جہازوں اور ریسیونگ اسٹیشنوں کو موصول ہوئے تھے، جس کی وجہ سے لائف بوٹس میں سوارتقریباً 700 لوگوں کی جانیں بچانے میں مدد ملی تھی۔ انگلینڈ کے شہر ساؤتھمپٹن سے نیویارک تک ٹائٹینک کے واحد سفر میں 2208 مسافر اور عملہ سوار تھا۔

کمپنی نے عدالت کو بتایا کہ اس کے منصوبوں میں اب صرف ملبے کی جگہ پر امیجنگ اور ’مستقبل میں نوادرات کی بازیابی‘ کو بہتر بنانے کے لیے سروے شامل ہیں۔عدالت میں دائر اپنی درخواست میں کمپنی نے لکھا، نارجیولٹ اور دیگر چار افراد جو اس مقام پر ہلاک ہوئےہیں، اور ان کے خاندانوں کے احترام میں، کمپنی نے فیصلہ کیا ہے کہ اس وقت نوادرات کی بازیابی مناسب نہیں ہوگی ۔ کمپنی نے یہ بھی کہا کہ وہ اس وقت تک ٹائٹینک کے لیے ایک اور آبدوز نہیں بھیجے گی جب تک کہ ٹائٹن آبدوز سانحہ کی وجہ کے بارے میں مزید تفتیش نہیں ہو جاتی۔ واضح رہے کہ ٹائٹن کے پھٹنے کی تحقیقات امریکی کوسٹ گارڈ کے زیر قیادت ہو رہی ہے۔

دریں اثنا، ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ منصوبوں میں تبدیلی کس طرح امریکی حکومت کے ساتھ کمپنی کی قانونی لڑائی کو متاثر کر سکتی ہے۔ عدالت میں کمپنی کے رخ سے ایسا لگتا ہے کہ وہ اب جہاز کے ہل میں داخل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتی، جس کے بارے میں حکومت کاکہنا ہے کہ ایسا کرناقانون کو توڑ دے گا۔ اس موقع پر آر ایم ایس ٹائٹینک کی سی ای او جیسیکا سینڈرز نے ایک بیان میں کہا کہ عدالت میں کمپنی کا رخ اس بات کی نشاندہی کرتاہے کہ ہم اپنی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ اوشین گیٹ سانحہ میں ہمارے پیارے ساتھی نارجیولٹ کی موت اور جاری تحقیقات کے سبب ہم نے اس وقت صرف بغیر پائلٹ کے امیجنگ اور سروے کے کام کرنے کے لیے اپنی پچھلی درخواست میں ترمیم کی ہے ۔ دوسری جانب اس ضمن میں امریکی حکومت کے وکلاء نے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔عدالتی مقدمہ وفاقی قانون اور امریکہ اور برطانیہ کے درمیان ایک معاہدے پر منحصر ہے جس کے تحت ڈوبے ہوئے ٹائٹینک کو 1500 سے زیادہ لوگوں کی یادگار کے طور پر دیکھاجاتا ہے جو مر گئے تھے۔

ٹائٹینک ملبے کی دریافت کے صرف ایک سال بعد، امریکی کانگریس نے1986 میں ٹائٹینک میری ٹائم میموریل ایکٹ کو منظوری دی ۔ اس کا مقصد بین الاقوامی برادری ، تلاش کرنے والوں اور مہم جوئیوں کی حوصلہ افزائی کرنا تھا تاکہ جہاز کی تباہی کے حوالے سے مناسب تحقیق، تلاش اور اگر مناسب ہو تو بچاؤ کی سرگرمیاں ممکن ہو سکیں۔ اس ایکٹ پر صدر رونالڈ ریگن نے 21 اکتوبر 1986 کو دستخط کیے تھے۔

اگست میں، امریکی حکومت نے عدالت میں دلیل دی تھی کہ’ ٹائٹینک کے کٹے ہوئے ہل میں داخل ہونا یا اس کے ملبے کو تبدیل کرنا ‘ وفاقی قانون اور برطانیہ کے ساتھ اس کے معاہدے کے ذریعے منظم کیا جاتا ہے۔ حکومت کے خدشات میں ،نوادرات اور کسی بھی انسانی باقیات کی ممکنہ خرابی ہے، جو اب بھی جہاز کے ملبے میں موجود ہو سکتے ہیں۔

کمپنی نے عدالت میں حکومت کے دعووں کا براہ راست جواب نہیں دیا ہے۔ لیکن پچھلے معاملات میں، اس نے بین الاقوامی پانیوں میں ملبے کو بچانے کے اپنے حقوق کی ’خلاف ورزی‘ کرنے کی امریکی کوششوں کی آئینی حیثیت کو چیلنج کیا ہے۔ صدیوں سے قائم سمندری قانون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کمپنی نے دلیل دی ہے کہ یہ معاملہ صرف نورفولک عدالت کے دائرہ اختیار میں ہے ۔ اس سال کے شروع میں عدالت میں دائر کی گئی درخواست میں کمپنی نے کہا تھا کہ اس کا مہم کے اصل منصوبوں کے بارے میں حکومت سے اجازت لینے کا ارادہ نہیں ہے۔ لیکن اب وہ منصوبے بدل گئے ہیں۔ کمپنی نے کہا ہے کہ وہ اس وقت نوادرات یا اشیابازیاب نہیں کرے گی، اور نہ ہی کوئی دوسری سرگرمی کرے گی جو ملبے کو تبدیل کرے ۔

چندرابابو نائیڈو کی اہلیہ نے تلگودیشم قائدین کے خلاف پولیس کارروائی کی مذمت کی

0
چندرابابو-نائیڈو-کی-اہلیہ-نے-تلگودیشم-قائدین-کے-خلاف-پولیس-کارروائی-کی-مذمت-کی

امراوتی: تلگو دیشم پارٹی (ٹی ڈی پی) کے صدر این چندرا بابو نائیڈو کی اہلیہ این بھونیشوری نے پولیس کی زیادتیوں کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کے ذریعہ تلگودیشم قائدین اور کارکنوں کی گرفتاری تشویشناک ہے۔ انہوں نے سابق وزیر کولو رویندر کے خلاف کارروائی کرنے پر پولیس کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے سوال کیا کہ ’’ملک میں اور کہاں ایک سابق وزیر کو اپنی والدہ کی برسی میں شرکت سے روکا جاتا ہے؟ یہ کیسا قانون اور انصاف ہے؟‘‘ انہوں نے کہا کہ اس واقعہ سے یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ چندرا بابو نائیڈو نظام کی ناکامی پر تشویش کا اظہار کیوں کرتے تھے۔

دریں اثنا، آندھرا پردیش ہائی کورٹ نے پولیس کو ہدایت دی ہے کہ وہ کولو رویندرا کی تحویل سے متعلق تمام تفصیلات کے ساتھ حلف نامہ داخل کرے۔

ہائی کورٹ نے یہ ہدایت ان کی بیوی نیلیما کی طرف سے دائر کی گئی ہیبیس کارپس کی درخواست پر دی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کولو رویندر کو پولیس نے غیر قانونی طور پر چند گھنٹوں کے لیے حراست میں رکھا تھا۔ پولیس نے عدالت کو بتایا کہ رویندر کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ اگرچہ پولیس نے انہیں نوٹس دینے کی کوشش کی لیکن انہوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔

عدالت نے پولیس کو تمام معلومات پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔ اگلی سماعت دسہرہ کی تعطیلات کے بعد ہوگی۔ خیال رہے کہ ٹی ڈی پی پولت بیورو کے رکن رویندرا کو پیر کے روز پولیس نے حراست میں لیا تھا تاکہ انہیں جیل میں بند چندرا بابو نائیڈو کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے راجمندری جانے سے روکا جا سکے۔

انہیں مبینہ طور پر دن بھر حراست میں رکھنے کے بعد شام کو رہا کر دیا گیا۔ منگل کو انہیں دوسرے دن بھی خانہ نظر بند رکھا گیا۔ پولیس نے رویندر کو اپنی ماں کی برسی کے پروگرام میں شرکت کی بھی اجازت نہیں دی۔

کرناٹک: ’بھکت بھگوا جھنڈا لگی دکانوں پر ہی جائیں‘، وی ایچ پی نے کی مسلم کاروباریوں کی مخالفت

0
کرناٹک:-’بھکت-بھگوا-جھنڈا-لگی-دکانوں-پر-ہی-جائیں‘،-وی-ایچ-پی-نے-کی-مسلم-کاروباریوں-کی-مخالفت

کرناٹک کے منگلور واقع منگلا دیوی مندر احاطہ میں ہندو اور مسلم کاروباریوں کو لے کر تنازعہ شروع ہو گیا ہے۔ وی ایچ پی کارکنان نے مندر احاطہ میں موجود سبھی ہندو کاروباریوں کی دکانوں میں بھگوا جھنڈے لگا دیے ہیں اور انھوں نے بھکتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ بھگوا جھنڈا لگی دکانوں سے ہی سامان کی خریداری کریں۔

وی ایچ پی کے جنوبی کنڑ ضلع چیف ایچ کے پروشوتم کا اس سلسلے میں بیان سامنے آیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ تہواروں کے موقع پر ضلع کے سبھی مندروں کو چاہیے کہ وہ صرف ہندو کاروباریوں کو ہی دکان لگانے کی اجازت دیں۔ انھوں نے کہا کہ ان دنوں تہواروں کا موسم چل رہا ہے، ایسے میں منگلا دیوی مندر کی انتظامیہ کمیٹی کا شکریہ جنھوں نے تہوار کے دوران ہندو کاروباریوں کو کاروبار کرنے کا موقع فراہم کیا۔ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ ضلع انتظامیہ کے ذریعہ غیر ہندو افراد کو اسٹال لگانے کی اجازت دینی ہی نہیں چاہیے تھی۔ ساتھ ہی پرشوتم نے کہا کہ ’’مذہبی مقام پر ہمارا حق ہے جہاں دوسرے طبقہ کے لوگوں کے لیے رتھ بیڑھی پر کاروبار کرنے کا کوئی سوال ہی نہیں۔‘‘

واضح رہے کہ مندر احاطہ میں ہندو اور مسلم کاروباریوں کو لے کر تنازعہ کئی دنوں سے چل رہا ہے۔ جمعہ کے روز جنوبی کنڑ اور اڈوپی ضلع تہوار کاروبار کوآرڈنیشن کمیٹی نے مسلم کاروباریوں کی حمایت میں مظاہرہ بھی کیا تھا۔ اس دوران تہوار کاروباری کوآرڈنیشن کمیٹی نے مسلم کاروباریوں کے لیے اسٹال کا مطالبہ کیا تھا۔ بعد ازاں کچھ مسلم کاروباریوں کو اسٹال کے لیے جگہ کی نیلامی میں حصہ لینے کی اجازت ملی تھی۔

انتظامیہ کے اس فیصلے پر ایچ کے پرشوتم نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ہندو مذہبی ادارے اور مذہبی بندوبست ایکٹ 1997 کے تحت غیر ہندوؤں کو رتھ بیڑی پر کاروبار کرنے کی اجازت دینے کا کوئی التزام نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ سبھی ہندو کاروباری صرف تہواروں کے دوران ہونے والے کاروبار پر ہی منحصر ہیں جو ان کی روزی روٹی کا اہم ذریعہ ہے۔ ایسے میں سبھی بھکتوں کو انہی دکانوں پر جانا چاہیے جن پر بھگوا جھنڈے لگے ہوئے ہیں۔

ڈی وائی ایف آئی نے وی ایچ پی کے اس قدم کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ڈی وائی ایف آئی کا کہنا ہے کہ وی ایچ پی غریب ہندو اور مسلم کاروباریوں کے درمیان شگاف پیدا کر رہی ہے۔ ڈی وائی ایف آئی ضلع چیف بی کے امتیاز نے ضلع انتظامیہ سے منگلا دیوی مندر کے ساتھ ہی دیگر مندروں میں سبھی کاروباریوں کی سیکورٹی یقینی بنانے کی گزارش کی۔

آر ایس ایس ‘ہتک عزتی’ کا معاملہ، راہل گاندھی نے بامبے ہائی کورٹ سے رجوع کیا

0
آر-ایس-ایس-‘ہتک-عزتی’-کا-معاملہ،-راہل-گاندھی-نے-بامبے-ہائی-کورٹ-سے-رجوع-کیا

ممبئی: کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے بامبے ہائی کورٹ میں درخواست کی ہے کہ بنگلورو میں مقیم صحافی گوری لنکیش کے قتل سے آر ایس ایس کو جوڑنے کے معاملہ میں ان کے خلاف دائر 2017 کے ہتک عزتی کے مقدمہ کو منسوخ کیا جائے۔ جسٹس سارنگ کوتوال کے سامنے آنے والے اس کیس کی سماعت 5 دسمبر تک ملتوی کر دی گئی۔

راہل نے اپنے وکیل کشال مور کے ذریعے بوریولی مجسٹریٹ کورٹ کے 2019 کے حکم کو چیلنج کیا ہے جس میں آر ایس ایس کے نظریاتی اور وکیل دھرتیمان جوشی کی طرف سے دائر نجی ہتک عزت کی شکایت کو خارج کرنے سے انکار کیا گیا تھا۔

راہل گاندھی نے کہا ہے کہ انہیں سی پی آئی-ایم کے جنرل سکریٹری سیتارام یچوری کے ساتھ اس معاملے میں غلط طریقہ سے ملزم بنایا گیا ہے، جنہوں نے کرناٹک میں 5 ستمبر 2017 کو گوری لنکیش کے قتل کے بعد مبینہ طور پر ایک مختلف جگہ اور وقت پر علیحدہ بیان دیا تھا۔

اس نے دلیل دی ہے کہ جوشی کی شکایت سی آر پی سی کے سیکشن 218 کی خلاف ورزی کرتی ہے جو مختلف جرائم کے لیے الگ الگ چارجز کا تعین کرتی ہے اور مشترکہ ٹرائل کا تصور نامعلوم ہے، قانون کے تحت لازمی یا منظور شدہ نہیں ہے۔

گوری لنکیش کے قتل کے بعد جوشی نے راہل گاندھی کے خلاف 6 ستمبر 2017 کو شکایت درج کرائی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ٹی وی پر خبریں دیکھتے ہوئے انہوں نے کانگریس کے ایک لیڈر کو پارلیمنٹ کے باہر یہ بات کرتے ہوئے سنا کہ جو بھی بی جے پی آر ایس ایس کے نظریے کے خلاف آواز اٹھاتا ہے اس پر دباؤ ڈالا جاتا ہے، حملہ کیا جاتا ہے یا مار دیا جاتا ہے۔

اسی طرح جوشی نے دعویٰ کیا کہ یچوری نے مبینہ طور پر میڈیا سے بات کی تھی کہ صحافی گوری لنکیش کے قتل کے لیے آر ایس ایس ذمہ دار ہے۔ جوشی نے دلیل دی کہ یہ بیانات بغیر کسی ثبوت کے دیے گئے ہیں تاکہ عام لوگوں کی نظروں میں آر ایس ایس کی شبیہ کو داغدار کیا جا سکے۔

شکایت کے بعد بوریولی مجسٹریٹ کی عدالت نے راہل گاندھی اور سیتارام یچوری کو فروری 2019 میں سمن جاری کیا۔ دونوں جولائی 2019 میں عدالت میں پیش ہوئے اور ضمانت کی درخواست کی، لیکن بعد میں دونوں نے مختلف بنیادوں کا حوالہ دیتے ہوئے شکایت کو منسوخ کرنے کے لیے درخواستیں دائر کیں۔

نومبر 2019 میں بوریولی کے مجسٹریٹ نے گاندھی اور یچوری کی طرف سے دائر کی گئی دونوں درخواستوں کو مسترد کر دیا تھا۔ راہل گاندھی اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ راہل نے عدالت سے نچلی عدالت کے حکم کو کالعدم قرار دینے، ان کے خلاف کارروائی کو منسوخ کرنے اور شکایت کو خارج کرنے کی درخواست کی ہے۔