بدھ, جون 24, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 53

دیوالی سے قبل مرکزی حکومت نے ملازمین کو دیا تحفہ، مہنگائی بھتہ 4 فیصد بڑھانے کا اعلان

0
دیوالی-سے-قبل-مرکزی-حکومت-نے-ملازمین-کو-دیا-تحفہ،-مہنگائی-بھتہ-4-فیصد-بڑھانے-کا-اعلان

مرکزی حکومت نے اپنے ملازمین کو دیوالی سے قبل ایک بڑا تحفہ دینے کا اعلان کر دیا ہے۔ کابینہ نے مرکزی حکومت کے ملازمین اور پنشن حاصل کرنے والوں کے لیے ڈی اے یعنی مہنگائی بھتہ میں 4 فیصد اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ گویا کہ جو مہنگائی بھتہ پہلے 42 فیصد ملتا تھا، اب یہ بڑھا کر 46 فیصد کر دیا گیا ہے۔ مرکزی حکومت کے اس فیصلہ سے ملازمین کی ماہانہ آمدنی میں اضافہ ہوگا اور وہ بڑھتی مہنگائی سے نمٹنے میں کافی حد تک کامیاب ہو جائیں گے۔

مرکزی حکومت کے اس قدم سے وَرک فورس کے ایک بڑے حصے کے ساتھ ساتھ سبکدوش ملازمین کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ معاشی چیلنجز کے درمیان یہ ان کے لیے بڑی راحت بھری خبر ہے۔ ڈی اے میں اضافہ کے فیصد سے متعلق فی الحال حتمی جانکاری نہیں دی گئی ہے۔ اس سلسلے میں جلد ہی کوئی اعلان کیا جائے گا تاکہ ملازمین کو زیادہ وضاحت مل سکے۔

مہنگائی بھتہ میں اضافہ کے فیصلے کو تہواروں سے ٹھیک پہلے حکومت کی طرف سے مرکزی حکومت کے ملازمین کو بڑا تحفہ تصور کیا جا رہا ہے۔ بدھ کے روز کابینہ نے اس کی منظوری دی ہے۔ اب ملازمین کو 46 فیصد کی شرح سے مہنگائی بھتہ ملے گا۔ اسے یکم جولائی 2023 سے نافذ کیا گیا ہے۔ اس کا فائدہ 48 لاکھ سے زیادہ مرکزی حکومت کے ملازمین اور تقریباً 65 لاکھ پنشن حاصل کرنے والوں کو ملے گا۔

موصولہ اطلاع کے مطابق مرکزی حکومت کے ملازمین اور پنشن یافتگان کو اب مہنگائی بھتہ کی نئی شرحوں کے مطابق ادائیگی کی جائے گی۔ اکتوبر کی تنخواہ کے ساتھ ہی نئی شرحوں کے حساب سے ہی تنخواہ کی ادائیگی ہوگی۔ اس میں جولائی، اگست، ستمبر کا ایریر بھی شامل ہوگا۔ سال کی دوسری سہ ماہی کے لیے مہنگائی بھتہ بڑھایا گیا ہے۔ 4 فیصد کے اضافہ کے ساتھ مہنگائی بھتہ 42 فیصد سے بڑھ کر 46 فیصد ہو گیا ہے۔ حکومت کی طرف سے جلد ہی اس بارے میں رسمی اعلان کیا جائے گا۔

اعظم خان، تزئین فاطمہ اور عبداللہ اعظم فرضی برتھ سرٹیفکیٹ معاملہ میں مجرم قرار، سات سات سال قید کی سزا

0
اعظم-خان،-تزئین-فاطمہ-اور-عبداللہ-اعظم-فرضی-برتھ-سرٹیفکیٹ-معاملہ-میں-مجرم-قرار،-سات-سات-سال-قید-کی-سزا

رامپور: سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر اعظم خان کو عدالت سے بڑا جھٹکا لگا ہے۔ بیٹے عبداللہ اعظم کے جعلی برتھ سرٹیفکیٹ کیس میں عدالت نے اعظم خان، ان کی اہلیہ تزئین فاطمہ اور بیٹے عبداللہ اعظم کو مجرم قرار دیتے ہوئے تینوں کو 7-7 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ یہ فیصلہ رامپور کی خصوصی ایم پی-ایم ایل اے کورٹ نے دیا ہے۔

فرضی برتھ سرٹیفکیٹ کا یہ معاملہ 2017 کے یوپی اسمبلی انتخابات سے متعلق ہے۔ تب عبداللہ اعظم نے ایس پی کے ٹکٹ پر رامپور کی سوار اسمبلی سیٹ سے الیکشن لڑا تھا۔ وہ یہ الیکشن بھی جیت گئے۔ لیکن انتخابی نتائج کے بعد ان کے مخالف امیدوار نواب کاظم علی ہائی کورٹ پہنچ گئے تھے۔ کاظم نے الزام لگایا کہ عبداللہ اعظم نے انتخابی فارم میں عمر کے حوالہ سے غلط بیانی کی ہے۔

کاظم نے الزام لگایا تھا کہ عبداللہ ایم ایل اے الیکشن لڑنے کے لیے عمر کے معیار پر پورا نہیں اترتے ہیں۔ تعلیمی سرٹیفکیٹ میں عبداللہ کی تاریخ پیدائش یکم جنوری 1993 ہے جب کہ برتھ سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر ان کی پیدائش 30 ستمبر 1990 بتائی گئی ہے۔ یہ معاملہ ہائی کورٹ میں پہنچنے کے بعد اس پر سماعت شروع ہوئی اور عبداللہ کی جانب سے پیش کردہ برتھ سرٹیفکیٹ جعلی پایا گیا۔ اس کے بعد سوار سیٹ سے ان کا انتخاب منسوخ کر دیا گیا۔

خیال رہے کہ عبداللہ پر پہلے برتھ سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر پاسپورٹ حاصل کرنے اور غیر ملکی دورے کرنے اور دوسرے سرٹیفکیٹ کو سرکاری مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا الزام ہے۔ اس کے علاوہ ان پر اسے جوہر یونیورسٹی کے لیے استعمال کرنے کا بھی الزام ہے۔ الزام کے مطابق عبداللہ اعظم کے پاس دو مختلف برتھ سرٹیفکیٹ ہیں۔ پہلا رام پور میونسپلٹی کی طرف سے 28 جون 2012 کو جاری کیا گیا ہے، جس میں عبداللہ کی جائے پیدائش رام پور بتائی گئی ہے، جبکہ دوسرا برتھ سرٹیفکیٹ جنوری 2015 میں جاری کیا گیا ہے، جس میں لکھنؤ کو ان کی جائے پیدائش بتایا گیا ہے۔

کسانوں کے استحصال پر ٹکیت ناراض، 23 اکتوبر کو تحریک چھیڑنے کا انتباہ

0
کسانوں-کے-استحصال-پر-ٹکیت-ناراض،-23-اکتوبر-کو-تحریک-چھیڑنے-کا-انتباہ

مظفر نگر: بھارتیہ کسان یونین (بی کے یو) کے رہنما راکیش ٹکیت نے کہا ہے کہ کسانوں کو 23 اکتوبر کو احتجاج کے لیے تیار رہیں۔مظفر نگر کے گاؤں منڈبھر میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بی کے یو کے قومی ترجمان نے کہا کہ کسان رہنماؤں نے محکمہ بجلی کی من مانی کے خلاف محاذ کھول دیا ہے۔ قلم اور کیمرے پر بندوق پہرا ہے، یہی وجہ ہے کہ کسانوں کی تحریک کو ہندوستانی میڈیا کے بجائے غیر ملکی میڈیا میں درست دکھایا جا رہا ہے۔

بی کے یو کے صدر چودھری نریش ٹکیت نے محکمہ کے افسران پر کسانوں کا استحصال کرنے کا الزام لگایا ہے۔ کسان رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ جب تک ان کے مسائل حل نہیں ہوتے احتجاج جاری رہے گا۔

راکیش ٹکیت نے کہا کہ حکومت نے کسانوں کے خلاف اپنا وعدہ توڑ دیا ہے۔ ان کے مطالبات بشمول آبپاشی کے لیے مفت بجلی اور گنے کے لیے زیادہ ایس اے پی کو پورا نہیں کیا گیا۔ ان مطالبات کی وجہ سے کسان حکومت کے خلاف اپنا احتجاج تیز کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ کسان اپنی پیداوار کا مناسب معاوضہ نہ ملنے پر حکومت سے بے حد ناخوش ہیں۔ گنے کے کاشتکاروں کو ان کے واجبات وقت پر نہیں مل رہے۔ انہوں نے کہا کہ بی کے یو آنے والے دنوں میں ہر ضلع میں احتجاج کرے گی۔

بی کے یو لیڈر نے غریب کسانوں کی قیمت پر کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے مرکز پر بھی تنقید کی۔ ٹکیت نے کہا کہ بی جے پی حکومت سیاسی فائدے کے لیے سرکاری ایجنسیوں کے اختیارات کا غلط استعمال کر رہی ہے۔ کوئی بھی سیاسی جماعت اس مسئلے کو حل نہیں کرنا چاہتی۔

ٹکیت نے کہا کہ بی جے پی نے اپنے انتخابی منشور میں کسانوں سے کئے گئے وعدوں کو پورا نہیں کیا – چاہے وہ لوک سبھا انتخابی منشور ہو یا اسمبلی انتخابی منشور۔

کسان لیڈر نے کہا کہ 23 ​​اکتوبر کو مظفر نگر میں ایک بڑی تحریک شروع کی جائے گی۔ سب سے پہلے وہاں میٹر جمع کیے جائیں گے۔ سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس آفس کا دروازہ نہ کھلا تو ٹریکٹر سے دروازہ توڑا جائے گا۔ انہوں نے کسانوں سے اپیل کی کہ بڈھانہ مل کا کوئی بھی کسان مرکز پر گنے نہ پہنچائے۔ گنے کو مظفر نگر ڈی ایم آفس لے کر جائیں، گنے وہیں پر ڈالے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اب گاؤں بچائیں گے ملک، کھاپ پنچایت بچائے گی۔

راکیش ٹکیت نے کہا کہ تحریک میں ہریانہ کے کسانوں کی بھی مدد لی جائے گی۔ یہ تحریک 23 اکتوبر کو مظفر نگر سے شروع کی جائے گی لیکن واپسی کی کوئی تاریخ طے نہیں کی گئی ہے۔ جب تک کسانوں کے مسائل حل نہیں ہوتے کسان اپنے گھروں کو واپس نہیں جائیں گے۔

’یہ گھر نہیں آئین کو بچانے کی لڑائی ہے‘، دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد راگھو چڈھا کا بیان

0
’یہ-گھر-نہیں-آئین-کو-بچانے-کی-لڑائی-ہے‘،-دہلی-ہائی-کورٹ-کے-فیصلے-کے-بعد-راگھو-چڈھا-کا-بیان

نئی دہلی: عام آدمی پارٹی کے رہنما راگھو چڈھا نے منگل کو کہا کہ وہ کسی گھر یا دکان کو بچانے کی لڑائی نہیں لڑ رہے، بلکہ یہ ہندوستان کے آئین کو بچانے کی لڑائی ہے۔ چڈھا دہلی ہائی کورٹ کی جانب سے ان کی سرکاری رہائش گاہ کی الاٹمنٹ کو منسوخ کرنے کے ٹرائل کورٹ کے حکم کو مسترد کرنے کے بعد ردعمل ظاہر کر رہے تھے۔

رکن پارلیمنٹ نے کہا، ’’میں ٹرائل کورٹ کے اس حکم کو مسترد کرنے کے لیے دہلی ہائی کورٹ کا شکریہ ادا کرتا ہوں، جو میرے خلاف تھا۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، "یہ پہلا موقع ہے کہ راجیہ سبھا کے کسی رکن کو اس طرح نشانہ بنایا گیا۔ اب تک میں نے پارلیمنٹ میں بی جے پی کی زیر قیادت مرکزی حکومت کو جوابدہ ٹھہراتے ہوئے دو تقریریں کی ہیں۔ میری پہلی تقریر کے بعد میری سرکاری رہائش گاہ کی الاٹمنٹ اور میری دوسری تقریر کے بعد رکن پارلیمنٹ کی حیثیت سے میری رکنیت معطل کر دی گئی۔‘‘

چڈھا نے مزید کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ آخر میں سچائی اور انصاف کی فتح ہوئی۔ دہلی ہائی کورٹ نے منگل کو پٹیالہ ہاؤس عدالت کے اس حکم کو مسترد کر دیا جس میں راجیہ سبھا سکریٹریٹ کو چڈھا کو قومی دارالحکومت میں ان کی سرکاری رہائش گاہ سے بے دخل کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔

فضائی آلودگ: پرانی گاڑی والوں پر عائد ہوگا بھاری جرمانہ، نوئیڈا پولیس نے شروع کی مہم

0
فضائی-آلودگ:-پرانی-گاڑی-والوں-پر-عائد-ہوگا-بھاری-جرمانہ،-نوئیڈا-پولیس-نے-شروع-کی-مہم

نوئیڈا: نوئیڈا پولیس 17 اکتوبر سے 15 روزہ مہم کا آغاز کیا ہے، جس کے تحت جی آر اے پی (گریڈڈ ریسپانس ایکشن پلان) کے اصولوں پر عمل نہ کرنے والوں پر بھاری جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

پولیس کمشنر لکشمی سنگھ کے حکم کے بعد اب ہر جگہ ٹریفک پولیس کے ساتھ عام پولیس بھی اس مہم میں شامل ہو جائے گی۔ جس میں 10 سال سے پرانی ڈیزل گاڑیوں اور 15 سال سے پرانی پٹرول گاڑیوں کا چالان کاٹا جائے گا۔ اس کے علاوہ جن گاڑیوں کا آلودگی کا سرٹیفکیٹ مکمل نہیں ہے ان کو بھی بھاری جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔

این سی آر میں نظر ثانی شدہ گریڈڈ رسپانس ایکشن پلان (جی آر اے پی) کی ہدایات پر سختی سے عمل کیا جائے گا۔ نوئیڈا پولیس کمشنریٹ میں 15 روزہ مہم چلائی جا رہی ہے جو 17 اکتوبر سے شروع ہوگئی۔ گاڑیوں کی چیکنگ کے ساتھ ساتھ پرالی جلانے اور دیگر فضائی آلودگی پھیلانے والوں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔

جی آر اے پی کے اصولوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس، ٹریفک فرسٹ اور سیکنڈ کی نگرانی میں ٹریفک انسپکٹر کی سربراہی میں چھ ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ کمشنریٹ گوتم بدھ نگر میں زون کی سطح پر بھی قواعد کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

کرناٹک: کانگریس حکومت کو گرانے کی بی جے پی کی کوششوں سے واقف ہیں، ڈی کے شیوکمار

0
کرناٹک:-کانگریس-حکومت-کو-گرانے-کی-بی-جے-پی-کی-کوششوں-سے-واقف-ہیں،-ڈی-کے-شیوکمار

بنگلورو: کرناٹک کے نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے بدھ کے روز کہا کہ وہ بی جے پی کی طرف سے ریاست میں کانگریس حکومت کو گرانے کی کوششوں سے واقف ہیں۔

ریاستی حکومت کو ہٹانے کی بی جے پی کی کوششوں پر سوال کا جواب دیتے ہوئے شیوکمار نے کہا، ’’میں سب کچھ جانتا ہوں۔ وہ ارکان اسمبلی میرے اور وزیر اعلیٰ سدارمیا کے پاس واپس آ رہے ہیں، اس بارے میں معلومات دے رہے ہیں کہ کس نے ان سے رابطہ کیا اور انہوں نے ان سے کہاں ملاقاتیں کیں۔‘‘

شیو کمار نے مزید کہا کہ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ بی جے پی نے انہیں کیا پیشکش کی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’مجھے اس بارے میں معلومات ملی ہیں۔ میں اپنے ارکان سے کہوں گا کہ وہ اسمبلی کے فلور پر بتائیں کہ ان سے کس نے رابطہ کیا اور انہیں کیا پیشکش ملی۔‘‘

دونوں پارٹیوں کے ذریعہ ان پر لگائے گئے حملوں اور الزامات کا جواب دیتے ہوئے شیوکمار نے کہا، ’’بی جے پی اور جے ڈی (ایس) مشکل میں ہیں۔ انہیں ڈاکٹروں کے ذریعہ سرجری کی ضرورت ہے۔‘‘

جب سابق وزیر اعلی اور کانگریس ایم ایل سی جگدیش شیٹر اور بی جے پی کے رکن اسمبلی اور سابق وزیر رمیش جارکی ہولی کی میٹنگ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ سب کو ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ جگدیش شیٹر نے اپنی طاقت ثابت کر دی تھی۔ انہوں نے کہا ’’میں اس کے بارے میں زیادہ بات نہیں کرنا چاہتا۔‘‘

اقتدار میں آئے تو اڈانی کے خلاف جانچ کرائیں گے: راہل گاندھی

0
اقتدار-میں-آئے-تو-اڈانی-کے-خلاف-جانچ-کرائیں-گے:-راہل-گاندھی

کانگریس  کے سابق صدر راہل گاندھی نے ایک مرتبہ پھر اڈانی معاملے پر وزیر اعظم پر حملہ کیا اور انہوں نے کہا کہ اڈانی کو صرف ایک شخص بچا رہا ہے۔ انہوں نےلندن کے  فائننشل ٹائمس میں چھپے  کوئلہ گھوٹالے کے تعلق سے انکشافات پر صحافیوں سے خطاب کیا ۔

راہل گاندھی نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر وہ اقتدار میں آئے تو اڈانی کے تمام معاملوں کی جانچ کرائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ  بجلی اور غریبوں سے جڑا ہوا  ہے لیکن ہندوستانی ذرائع ابلاغ کو اس میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی دیتی۔انہوں نے کہا کہ جو کچھ لندن کے فائننشل ٹائمس میں شائع ہوا ہے  وہ  کسی بھی حکومت کو گرانے کے لئے کافی ہے لیکن اس میں بھی کسی ہندوستانی ذرائع ابلاغ کی کوئی دلچسپی نظر  نہیں آتی۔

راہل گاندھی نے کہا کہ سیبی نے حکومت سے کہا کہ ان کو دستاویزات نہیں مل رہے لیکن فاننشل ٹائمس کو تمام دستاویزات مل جاتے ہیں جس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس شخص کو کسی کی حفاظت ملی ہوئی ہے۔  انہوں نے کہا کہ ہندوستانی نو جوانوں کو یہ بات ذہن میں رکھنی ہوگی کہ یہ معاملہ سیدھا عوام سے جڑا ہوا ہےیعنی عوام جیسے ہی بجلی کے استعمال کے لئے سویچ دباتے ہیں فورا اڈانی کی جیب میں پیسہ جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ صرف  یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ہندوستانی حکومت اڈانی کی کوئی جانچ  کیوں نہیں کرا سکتی اور وہ ان سے  کوئی سوال کیوں نہیں پوچھ سکتی۔ انہوں نے کہا کہ انہوں  نے صرف وہ ہی سوال اٹھائے ہیں  جو فاننشل ٹائمس میں شائع ہوئےہیں۔

کشمیر میں برف و باراں کے بعد موسم میں بتدریج بہتری درج

0
کشمیر-میں-برف-و-باراں-کے-بعد-موسم-میں-بتدریج-بہتری-درج

محکمہ موسمیات نے وادی کشمیر میں برف باراں کے بعد موسم میں بتدریج بہتری واقع ہونے کی پیش گوئی کی ہے۔متعلقہ محکمے کے ایک ترجمان نے بتایا کہ وادی میں 21 اکتوبر تک موسم خشک رہنے کا امکان ہے اور اس دوران دن کے درجہ حرارت میں اضافہ درج ہونے کی بھی توقع ہے۔

ترجمان نے کہا کہ بعد ازاں وادی میں 22 اور 23 اکتوبر کو ایک بار پھر موسم بگڑ سکتا ہے جس کے نتیجے میں پہاڑی علاقوں میں کہیں کہیں برف باری یا بارشوں کا امکان ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وادی میں 24 سے 28 اکتوبر تک موسم ابر آلود مگر خشک رہنے کا امکان ہے۔

موصوف ترجمان نے کہا کہ وادی میں اگلے دس دنوں کے دوران وسیع پیمانے پر موسم خراب ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ان دنوں کے دوران موسم فصل کٹائی و دیگر آئوٹ ڈور سرگرمیوں کے لئے موزوں ہے۔ادھر وادی کے میدانی علاقوں میں بدھ کی صبح دھند چھائی ہوئی تھی جو دن گذرنے کے ساتھ ساتھ اوجھل ہوتی گئی۔

وادی میں برف و باراں نے موسم سرما جیسے حالات پیدا کر دئے ہیں جس نے لوگوں کو گرم ملبوسات زیب تن کرنے اور روایتی کانگڑیوں کا استعمال کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔اطلاعات کے مطابق سیاحتی مقام گلمرگ، سادھنا ٹاپ، پیر کی گلی، سمتن پاس، گریز، تلیل، سونہ مرگ، زوجیلا پاس اور دیگر پہاڑی علاقوں میں تازہ برف باری ہوئی ہے۔

ایلون مسک کا نیا فرمان! ٹویٹر ’ایکس‘صارفین کو سالانہ 1 ڈالر ادا کرنا ہوں گا

0
ایلون-مسک-کا-نیا-فرمان!-ٹویٹر-’ایکس‘صارفین-کو-سالانہ-1-ڈالر-ادا-کرنا-ہوں-گا

اب ’ایکس‘ یعنی ٹویٹر صارفین کو اس کے استعمال کے لیے ہر سال 1 ڈالر کی سبسکرپشن رقم ادا کرنا ہوگی۔ ایلون مسک کے اس نئے حکم نامے کے بعد ایکس کے لیے سالانہ ادائیگی نہ کرنے والے صارفین اسے استعمال نہیں کر سکیں گے۔ ایلون مسک نے اس سب کے پیچھے دلیل دی ہے کہ ایسا کرنے سے’ایکس‘ پر موجود جعلی اور خودکار بوٹ اکاؤنٹ کو بلاک کر دے گا۔

بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق ایلون مسک نے ایکس پر ناٹ اے بوٹ فیچر کی جانچ شروع کردی ہے۔ اس کی جانچ فی الحال نیوزی لینڈ اور فلپائن میں شروع کی گئی ہے۔ جہاں نئے ’ایکس‘ صارفین سالانہ فیس ادا کیے بغیر ’ایکس‘استعمال نہیں کر سکتے۔ اس فیس کے بغیر آپ ’ایکس‘ پر پوسٹ، لائک، تبصرہ اور بک مارک نہیں کر سکیں گے۔

بلاگ پوسٹ کے مطابق، "یہ ’ایکس‘ پر بوٹس اور اسپامز سے لڑنے میں ہماری مدد کرنے کے لیے ممکنہ طور پر طاقتور اقدام کا اندازہ کرے گا، جبکہ پلیٹ فارم تک رسائی کو کم فیس کی رقم کے ساتھ متوازن کرتے ہوئے”۔ "اس ٹیسٹ کے اندر، موجودہ صارفین متاثر نہیں ہوتے ہیں۔”

جب سےایلون مسک نےٹویٹر  حاصل کیا ہے وہ اس کے لئے آمدنی کے نئے طریقے تلاش کر رہے ہیں۔ بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق، حصول کے بعد سے، ایلون مسک کو ایکس کے لیے ہر سال تقریباً 1.2 بلین کا سود ادا کرنا پڑتا ہے۔

ایسی صورت حال میں آمدنی کے نئے ذرائع تلاش کرنے کے لیے ایکس پر پریمیم سروسز شروع کی گئیں، جس کے لیے صارفین کو ماہانہ 7.99 ڈالر ادا کرنے پڑتے ہیں۔ ایسے میں ایکس پر ناٹ اے بوٹ فیچر کے نفاذ کے بعد ریونیو بڑھانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔

میرا بورونکر معاملے سے میراکوئی تعلق نہیں، میں ہرقسم کی انکوائری کے لیے تیار ہوں:اجیت پوار

0
میرا-بورونکر-معاملے-سے-میراکوئی-تعلق-نہیں،-میں-ہرقسم-کی-انکوائری-کے-لیے-تیار-ہوں:اجیت-پوار

سابق آئی پی ایس افسرمیرابورونکرکی کتاب میں عائد کیے گیے الزام پر نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار نے کہا ہے کہ اپوزیشن پارٹیوں نے تفتیش کا مطالبہ کیا ہے، کسی بھی قسم کی تفتیش کیجیے، میں ہرتفتیش کے لیے تیار ہوں۔کچھ لوگ کتابیں لکھتے ہوئے کچھ سنسنی خیزباتیں لکھتے ہیں تاکہ انہیں الگ قسم کی شہرت حاصل ہو، یہ معاملہ بھی ایسا ہی کچھ ہوسکتا ہے۔ اجیت پوار یہاں میڈیا کے نمائندوں سے بات کررہے تھے۔

اجیت پوار نے کہا کہ اس معاملے میں کہیں بھی میرے دستخط نہیں ہیں، میں اس میٹنگ میں بھی موجود نہیں تھا۔اس معاملے سے میرا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ نائب وزیراعلیٰ نے کہا کہ کتاب میں جوباتیں درج ہیں وہ مصنفہ نے زبانی بھی بتایا ہے، جبکہ اس کتاب میں اور بھی بہت سی باتیں ہیں اس کے باوجود صرف ایک ہی معاملے کو اچھالا جارہا ہے، یہ میری سمجھ سے بالاتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ آرآرآبا کو میں نے کبھی بھی زمین کے متعلق کوئی بات نہیں کی۔ پونے میں ترقیاتی کاموں کے لیے سرکاری زمینیں دی گئیں ہیں، زمین فراہم کرتے ہوئے شفافیت ہونی چاہئے کیونکہ وہ بالآخر عوام کی زمین اور عوام کا ہی پیسہ ہے اورہمیں بھی عوام ہی اپنی نمائندگی کے لیے منتخب کرتی ہے۔تفتیش کا مطالبہ کرنے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے اجیت پوار نے کہا کہ آپ کس کی تفتیش کی بات کررہے ہیں؟ وہ زمین جہاں تھی وہیں ہے۔ وہ محکمہ داخلہ کی زمین ہے اور اسی نے نوٹس جاری کی تھی۔

نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار نے کہا کہ سبھی جانتے ہیں کہ میرے کام پر تنقید بھی ہوتی ہے تو میں تنقید کا جواب دیے بغیر ہی آگے بڑھ جاتا ہوں لیکن گزشتہ تین روز سے میڈیا میں میرے بارے میں خبریں آرہی ہیں۔ میرا اس خبر سے دور کا بھی تعلق نہیں ہے۔میں اپنا کام ایمانداری سے کرتے ہوئے آیا ہوں۔

1999سے2004کے درمیان میں پونے کا نگراں وزیرنہیں تھا لیکن جن جن حکومتوں میں میں نے کام کیا، انہوں نے پونے کی ذمہ داری مجھ ہی کوسونپی۔ یہ معاملہ اس وقت کا ہے جب میں حکومت میں بھی نہیں تھا۔ مجھے جس ضلع کی بھی ذمہ داری سونپی گئی اس ضلع کے ترقیاتی کاموں کو میں نے فوقیت دی اور نہایت ایمانداری سے کام کیا۔لیکن اب ایک سبکدوش آئی پی ایس افسر نے کتاب لکھی کہ تواتر سے خبریں آنے لگیں کہ اجیت پوار مشکل میں، اجیت پوار کی تفتیش کی جائے اور استعفیٰ تک مانگا جانے لگا ہے۔ جبکہ میں یہ بات ایک بار پھر واضح کردینا چاہتا ہوں کہ میں نے ایسا کچھ نہیں کیا ہے جس کی بنیاد پر ہنگامہ برپا کیا جارہا ہے۔

اجیت پوار نے کہا کہ اس معاملے میں اس وقت کے ڈویژنل کمشنر دلیپ بنڈ نے تفصیلی وضاحت کی ہے۔ جب میں نے کاغذات کی جانچ کی تو معلوم ہوا کہ یہ معاملہ 2008کا ہے۔ اس معاملے میں شامل بہت سے لوگ آج اس دنیا میں نہیں ہیں۔ 19 فروری 2008 کو ریاستی محکمہ داخلہ نے ایک جی آر جاری کیا جس میں پونے شہر میں بڑھتی ہوئی صنعت کاری کو مدنظر رکھتے ہوئے محکمہ پولیس کی اراضی کے استعمال کے سلسلے میں ایک تجویز تیار کرنے اور متعلقہ افراد کی ایک کمیٹی بنانے کا فیصلہ تھا۔

حکومت کے زیر غور کمیٹی کو محکمہ پولیس کے احاطے کا معائنہ کرنے اور پولیس آفس اور رہائش کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے حکومت کو تجویز پیش کرنے کی منظوری دی گئی۔ چھ رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی جس میں چیئرمین ڈویژنل کمشنر پونے، ممبر کلکٹر، پولیس کمشنر، پونے میونسپل کمشنر، ایڈیشنل پولیس کمشنر ایڈمنسٹریشن، محکمہ تعمیرات عامہ کے چیف انجینئرشامل تھے۔اس وقت فیصلہ کیا گیا کہ مذکورہ کمیٹی تین ماہ میں اپنی تجویز حکومت کو پیش کرے۔ اس کمیٹی نے کیا فیصلہ کیا؟ اس سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے۔ حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی اس کمیٹی نے آٹھ ماہ بعد اپنی تجویز حکومت کو پیش کی۔ کمیٹی کی میٹنگ اس وقت کے وزیر داخلہ کے دفتر میں ہوئی۔ اجیت دادا پوار نے اس موقع پر یہ بھی معلومات دی کہ اس میٹنگ میں کون کون موجود تھے۔