منگل, جون 23, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 51

حکومت ہند کو بیرونی ممالک کی جنگ کے تئیں اپنے موقف پر مضبوطی سے قائم رہنا چاہئے: مایاوتی

0
حکومت-ہند-کو-بیرونی-ممالک-کی-جنگ-کے-تئیں-اپنے-موقف-پر-مضبوطی-سے-قائم-رہنا-چاہئے:-مایاوتی

لکھنؤ: بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی سربراہ مایاوتی نے آج کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے یوکرین جنگ پر کہا تھا کہ آج کا زمانہ جنگ کا نہیں ہے۔ اب حکومت ہند کو غزہ میں جاری جنگ پر بھی اپنے اسی موقف پر قائم رہنا چاہیے۔

مایاوتی نے آج ایک ٹویٹ میں کہا، ‘جب مودی جی نے روس- یوکرین جنگ کے بارے میں کہا کہ آج کا دور جنگ کا نہیں ہے، تو مغربی لیڈروں نے ان کی بہت تعریف کی تھی۔ اب ہندوستان کو غزہ جنگ کے حوالے سے بھی اپنے موقف پر مضبوطی سے قائم رہنے کی ضرورت ہے، جس کا احساس سب کو ہونا چاہیے۔”

انہوں نے کہا، ’’دنیا میں کہیں بھی جنگ کیوں نہ ہو، آج کی عالمی نظام میں زیادہ تر ممالک کی معیشتیں آپس میں جڑی ہوئی ہیں۔ یوکرین کی جنگ جاری ہے اور پوری دنیا اس سے متاثر ہے۔ اس لیے کسی کے لیے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ دنیا میں کسی بھی دوسری نئی جنگ انسانیت کے لیے کتنی تباہ کن ہوگی۔‘‘

بی ایس پی سپریمو نے کہا، ’’اپنی آزادی کے بعد سے، ہندوستان دنیا میں امن، ہم آہنگی اور آزادی اور غیرجانبداری وغیرہ کے حوالے سے بہت سرگرم رہا ہے، جس کی تحریک اور طاقت اسے اس کے مساواتی اور انسانیت پسند آئین سے ملی ہے۔ ہندوستان کی یہ امتیازی شناخت دنیا بھر میں قائم رہنی چاہیے۔‘‘

سپریم کورٹ نے یو اے پی اے معاملے میں نیوز کلک ایڈیٹر کی عرضی پر دہلی پولیس کو نوٹس کیا جاری

0
سپریم-کورٹ-نے-یو-اے-پی-اے-معاملے-میں-نیوز-کلک-ایڈیٹر-کی-عرضی-پر-دہلی-پولیس-کو-نوٹس-کیا-جاری

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعرات کو نیوز کلک کے بانی اور ایڈیٹر ان چیف پربیر پورکایستھ اور ایچ آر ہیڈ امت چکرورتی کی طرف سے دائر درخواستوں پر دہلی پولیس کو نوٹس جاری کیا۔ درخواستوں میں ان کی پولیس حراست کو غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت کیس میں چیلنج کیا گیا ہے۔

بنچ میں جسٹس بی آر گوائی اور جسٹس پی کے مشرا نے دلائل سنے اور تین ہفتوں کے اندر جواب طلب کرتے ہوئے نوٹس جاری کیا۔اس معاملے کی مزید سماعت 30 اکتوبر کو کی جائے گی۔ الزام ہے کہ نیوز پورٹل کو چین نواز پروپیگنڈہ چلانے کے لیے رقم ملی تھی۔

گزشتہ ہفتے، دہلی ہائی کورٹ نے پورکایستھ اور چکرورتی کی درخواست کو مسترد کر دیا تھا اور پولیس ریمانڈ کو برقرار رکھا۔ یہ دونوں 10 اکتوبر سے عدالتی حراست میں ہیں۔

خیال رہے کہ 3 اکتوبر کو دہلی پولیس نے نیوز کلک کے دفتر اور نیوز پورٹل کے ایڈیٹرز اور صحافیوں کی رہائش گاہوں سمیت متعدد چھاپوں کے بعد دونوں کو گرفتار کیا تھا۔ ہائی کورٹ کی جانب سے درخواستوں کو مسترد کیے جانے کے بعد پورکایستھ پیر کو سپریم کورٹ پہنچے۔

تلنگانہ میں صرف ایک خاندان کا راج، لوگوں کا سی ایم سے کوئی لینا دینا نہیں: راہل گاندھی

0
تلنگانہ-میں-صرف-ایک-خاندان-کا-راج،-لوگوں-کا-سی-ایم-سے-کوئی-لینا-دینا-نہیں:-راہل-گاندھی

حیدرآباد: کانگریس لیڈر راہل گاندھی تلنگانہ میں پارٹی کی انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ تلنگانہ کے بھوپال پلی سے پنور گاؤں تک کانگریس کی انتخابی مہم کے دوران لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے راہل نے بی جے پی، بی آر ایس اور اے آئی ایم آئی ایم کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ’’وزیر اعلیٰ کے سی آر انتخابات ہارنے والے ہیں۔ یہ لڑائی بادشاہ اور عوام کی لڑائی ہے۔ آپ تلنگانہ میں عوام کی حکمرانی چاہتے تھے لیکن یہاں صرف ایک خاندان کی حکومت ہے۔‘‘

ریلی سے خطاب کرتے ہوئے راہل نے کہا کہ تلنگانہ میں صرف ایک خاندان کی حکومت ہے۔ وزیراعلیٰ کو عوام سے کوئی سروکار نہیں۔ ملک میں بدعنوانی کی سب سے زیادہ سطح تلنگانہ میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی، بی آر ایس اور ایم آئی ایم، تینوں ایک ساتھ ہیں۔ سی بی آئی یا ای ڈی تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ کے پیچھے کیوں نہیں جاتی؟ ای ڈی کو لے کر ان دنوں ملک میں کافی سیاست چل رہی ہے۔ کانگریس سمیت اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ ای ڈی کو جان بوجھ کر اپوزیشن لیڈروں کے پیچھے لگایا جا رہا ہے۔

دریں اثنا، راہل گاندھی نے ذات پر مبنی مردم شماری کا مسئلہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے کہا ’’ملک میں سب سے اہم مسئلہ ذات پر مبنی مردم شماری کا ہے، جس سے معلوم چلے گا ہ ملک میں کتنے دلت، او بی سی، قبائلی اور عام زمرے کے لوگ ہیں اور کس کی کتنی شراکت داری ہے۔‘‘ انہوں نے ہکا کہ یہ ایکس رے کی طرح ہے اور اس سے معلوم ہوگا ملک کی دولت کس طرح تقسیم کی جا رہی ہے۔

بجلی کے شدید بحران کا خطرہ! کوئلے کی وجہ سے کالے ہو سکتے ہیں تہوار

0
بجلی-کے-شدید-بحران-کا-خطرہ!-کوئلے-کی-وجہ-سے-کالے-ہو-سکتے-ہیں-تہوار

نئی دہلی: ملک بھر میں تہواروں کا آغاز ہو چکا ہے اور یہ سلسلہ آئندہ ایک دو ماہ تک مسلسل جاری رہے گا۔ تاہم، تہواروں کے موسم کے اختتام پر، اس بات کا خطرہ ہے کہ تقریبات ختم ہو جائیں گی۔ جوں جوں صورتحال بہتر ہو رہی ہے، خدشہ ہے کہ تہواروں کے دوران بجلی کا بحران پیدا ہو سکتا ہے اور لوگوں کے گھروں کی روشنیاں بھی چل سکتی ہیں۔

روئٹرز کی ایک حالیہ رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ اکتوبر کے پہلے دو ہفتوں کے دوران ملک کے پاور پلانٹس کے کوئلے کے ذخائر میں تیزی سے کمی واقع ہوئی ہے۔ درحقیقت بجلی کی مانگ بڑھ گئی ہے جس کی وجہ سے پیداوار بڑھانا پڑی ہے۔ مجموعی صورتحال یہ ہے کہ طلب رسد کی نسبت کم ہو رہی ہے۔ حکومتی اعداد و شمار کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اکتوبر کے پہلے دو ہفتوں کے دوران پاور پلانٹس کے کوئلے کے ذخائر میں جس رفتار سے کمی آئی ہے وہ دو سالوں میں سب سے زیادہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق اکتوبر کے پہلے دو ہفتوں کے دوران پاور پلانٹ کے کوئلے کا ذخیرہ 12.6 فیصد کم ہو کر 20.58 ملین میٹرک ٹن پر آ گیا ہے۔ یہ نومبر 2021 کے بعد کوئلے کے ذخائر کی کم ترین سطح ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ ستمبر 2021 کے دوسرے پندرھوڑے کے بعد کوئلے کے ذخائر میں یہ سب سے زیادہ کمی ہے۔

گرڈ ریگولیٹر کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ اکتوبر کے پہلے دو ہفتوں کے دوران کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس میں بجلی کی پیداوار میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ سالانہ بنیادوں پر تقریباً 33 فیصد رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اکتوبر 2022 کے پہلے پندرہ دن کے مقابلے میں اکتوبر 2023 کے پہلے پندرہ دن میں کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس کی پیداوار 33 فیصد زیادہ رہی ہے۔ اس سے پہلے ستمبر کے مہینے میں 21.6 فیصد اضافہ ہوا تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ ستمبر کے مہینے کے مقابلے اکتوبر کے پہلے دو ہفتوں کے دوران ترقی کی رفتار تیز رہی۔

اس عرصے کے دوران قابل تجدید توانائی کے ذرائع سے بجلی کی پیداوار میں کمی آئی ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ زیر جائزہ مدت کے دوران پن بجلی کی پیداوار میں 26.8 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ بجلی کی کل پیداوار میں قابل تجدید توانائی کے ذرائع یعنی ہوا کی توانائی، شمسی توانائی وغیرہ کا حصہ اکتوبر کے پہلے پندرہ دن میں کم ہو کر 10.1 فیصد رہ گیا ہے۔ گزشتہ ماہ ستمبر میں یہ حصہ 12.1 فیصد تھا۔ یہ کمی ایسے وقت میں آئی ہے جب دوسری طرف بجلی کی طلب میں اضافہ ہوا ہے۔ جس کی وجہ سے کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس میں پیداوار بڑھانے کی ضرورت پیش آئی ہے۔

الجزائر نے فلسطین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے کھیل، ثقافتی سرگرمیاں ملتوی کرنے کا اعلان کیا

0
الجزائر-نے-فلسطین-کے-ساتھ-اظہار-یکجہتی-کے-لیے-کھیل،-ثقافتی-سرگرمیاں-ملتوی-کرنے-کا-اعلان-کیا

الجزائر نے غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فضائی حملوں اور ناکہ بندی کے شکار فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے حکومت کے زیر اہتمام تمام کھیلوں اور ثقافتی سرگرمیوں کو معطل کر دیا ہے۔

الجزائر کی وزارت امور نوجوانان اور کھیل نے یہ فیصلہ "فلسطینی عوام کی حمایت” اور "غزہ کی پٹی میں متاثرین کے احترام میں” کیا ہے۔مزید برآں، ملک کی وزارت ثقافت اور فنون نے ملک بھر میں تمام ثقافتی سرگرمیوں کو ملتوی کرنے کا اعلان کیا، بشمول انابا فلم فیسٹیول جو 3-9 نومبر کو ہونا تھا۔

7 اکتوبر کو فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک (حماس) نے غزہ کی پٹی سے ملحقہ اسرائیلی فوجی اہداف اور قصبوں پر راکٹ فائر کرکے اچانک حملہ کیا، جس کے بعد غزہ پر جارحانہ اسرائیلی فضائی حملے کا سلسلہ جاری ہے۔اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری تنازع میں دونوں طرف سے 4000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اعظم خان کو سزا کے بعد شیوپال یادو کا اظہار یکجہتی، ’آفتاب چھپ گیا تو کیا غم، صبح نو ضرور آئے گی‘

0
اعظم-خان-کو-سزا-کے-بعد-شیوپال-یادو-کا-اظہار-یکجہتی،-’آفتاب-چھپ-گیا-تو-کیا-غم،-صبح-نو-ضرور-آئے-گی‘

لکھنؤ: رامپور کی ایم پی ایم ایل اے عدالت نے فرضی برتھ سرٹیفکیٹ کیس میں اعظم خان، بیوی تنظیم فاطمہ اور بیٹے عبداللہ اعظم کو سات سات سال قید کی سزا سنائی ہے۔ عدالت کے اس فیصلے سے سماج وادی پارٹی کو گہرا جھٹکا لگا ہے۔ اعظم خان ایس پی کے قدآور لیڈر ہیں۔ اکھلیش یادو کے بعد چچا شیو پال سنگھ یادو نے بھی اعظم خان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ شیوپال نے شاعری میں اعظم خاندان کی سزا کے درد کو بیان کیا۔

فیصلہ آنے کے بعد اکھلیش یادو نے کہا تھا کہ اعظم خان کو مسلمان ہونے کی سزا دی گئی ہے۔ ان کے خلاف سازشیں کی گئیں۔ پچھلے مہینے ایس پی نے اعظم خان کے گھر پر انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کی کارروائی پر بھی یکجہتی کا اظہار کیا تھا۔

ایس پی لیڈر شیوپال یادو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا ’’آفتاب چھپ گیا تو کیا غم، صبح نو ضرور آئے گی، شرط بس یہی ہے کہ وقت کا تھوڑا انتظار کیجئے۔‘‘ وہیں، شکشک سمان پروگرام میں اناؤ کے دورے پر آئے ایس پی ریاستی صدر نریش اتم پٹیل نے انکم ٹیکس محکمہ کی کارروائی پر ردعمل ظاہر کیا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی حکومت انتقامی کارروائی کر رہی ہے۔ اعظم خان ملک کے بڑے اور سینئر لیڈر ہیں۔ ان کے خاندان کو جان بوجھ کر تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بدھ کو اعظم خان، تزئین فاطمہ اور عبداللہ اعظم کو 2019 کے جعلی برتھ سرٹیفکیٹ کیس میں قصوروار ٹھہرایا گیا اور انہیں سات سال قید کی سزا سنائی گئی۔

سابق ایم ایل اے عبداللہ اعظم کے خلاف دو برتھ سرٹیفکیٹس کا معاملہ 2019 کا ہے۔ بی جے پی ایم ایل اے آکاش سکسینہ نے گنج تھانے میں مقدمہ درج کرایا تھا۔ مقدمے میں اعظم خان اور اہلیہ تزئین فاطمہ کو بھی ملزم بنایا گیا تھا۔ پولیس نے تفتیش کے بعد چارج شیٹ داخل کی تھی۔ بدھ کو کیس کی سماعت کرتے ہوئے عدالت نے اپنا فیصلہ سنایا۔ سماعت کے دوران ایس پی رہنما اعظم خان، بیٹا عبداللہ اعظم اور اہلیہ تزئین فاطمہ عدالت میں موجود تھے۔ فیصلہ سننے کے لیے بی جے پی ایم ایل اے آکاش سکسینہ بھی موجود تھے۔

مسلم حکمرانوں کو جاگنے کی ضرورت ہے: مولانا پاشا

0
مسلم-حکمرانوں-کو-جاگنے-کی-ضرورت-ہے:-مولانا-پاشا

امیر ملت اسلامیہ تلنگانہ وآندھرا پردیش حضرت مولانا محمد حسام الدین ثانی عاقل جعفر پاشاہ نے غزہ میں ایک ہفتہ سے زائد جاری اسرائیلی بمباری اور معصوم و بے گناہ فلسطینیوں کی درد ناک شہادتوں پر گہرے رنج وملا ل کا اظہار کیا ہے۔

مولانا جعفر پاشاہ نے عالم اسلام کے تمام مسلمانوں سے جمعہ 20 اکتوبر کو گھروں،مساجد اور اجتماعات میں شہدا کے لئے دعائے مغفرت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لئے دعاؤں کی اپیل کی ہے۔مولانا نے کہا کہ فلسطین کے حالات اس وقت تک تبدیل نہیں ہوسکتے جب تک مسلم حکمران نہ جاگیں۔ مولانا نے کہا کہ روئے زمین پر جتنے بھی جاندار ہیں ان کے پاس کچھ نہ کچھ ہمدردی کے احساسات اور جذبات ہوتے ہیں لیکن ظالم اسرائیلیوں نے درندگی اور حیوانیت میں خونخوار وجنگلی جانوروں کو بھی پیچھے چھوڑدیاہے جس کا ثبوت غزہ کے اسپتال پر بھی بمباری ہے جس کے نتیجہ میں بے شمارجانیں گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حیرت اور افسوس اس بات کا بھی ہے کہ قومی وبین الاقوامی میڈیا ظالموں کی مذمت کے بجائے مظلوموں کو دہشت گرد قرار دے رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہر روز صبح سے شام تک اسرائیلی فوجی معصوم وبے گناہ فلسطینیوں پر ناقابل بیان مصائب ڈھارہے ہیں اور ادھر مسلم حکمراں صدائے احتجاج بلند کرنے ابھی تک اجلاس منعقد کرنے کی تاریخ طئے کرنے میں مصروف ہیں۔

مولانا جعفر پاشاہ نے جمعہ کے اجتماعات کے علاوہ گھروں اور دیگر مقامات کے علاوہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ جیسی مقدس سرزمینوں پر بسنے والے دردمندوں سے بھی خواہش کی کہ مظلوم فلسطینیوں کے لئے رورو کر گڑگڑاکر اللہ سے دعائیں کریں۔ مولانانے غزہ اور دیگر مقامات کے بدترین حالات اور وہاں جاری بر بریت پر کہا کہ اب تک ہزاروں عورتیں بیوہ اور بچے یتیم ہوگئے ہیں۔ کئی دودھ پیتے بچے اپنی ماؤں کی گودسے نہ صرف محروم ہوگئے ہیں بلکہ پانی کے ایک ایک قطرہ کو ترس رہے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے درندگی کے تمام حدود پار کردیئے ہیں۔ یہ درندے لاشوں تک کی بے حرمتی کررہے ہیں۔

اخبارارت اور الکٹرانک میڈیا وسوشل میڈیا کی اطلاعات سے معلوم ہورہا ہے کہ لاشوں کو گھسیٹا جارہا ہے اور کُچلا جارہا ہے۔ معصوم بچوں اور ضعیفوں ونوجوانوں پر وحشیانہ مظالم ڈھائے جارہے ہیں۔ اسرائیلی مظالم میں ہر دن اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے۔ اہل فلسطین کیخلاف اسرائیلی فوج کی درندگی اور وحشیانہ کاروا ئیاں ختم ہونا ضروری ہے۔سارے غزہ کو کھنڈر میں تبدیل کردیا گیا ہے اور اب فلسطینیوں کو فلسطین سے نکل جانے کو کہا گیاہے۔

گوتم اڈانی کی مشکلات جاری، سیبی نے ہنڈن برگ کیس میں تحقیقات کا دائرہ بڑھایا

0
گوتم-اڈانی-کی-مشکلات-جاری،-سیبی-نے-ہنڈن-برگ-کیس-میں-تحقیقات-کا-دائرہ-بڑھایا

صنعت کار گوتم اڈانی اور ان کی کمپنی اڈانی گروپ ایک بار پھر خبروں میں ہیں۔ دراصل امریکی شارٹ سیلر کمپنی ہنڈن برگ ریسرچ کی رپورٹ کے بعد گوتم اڈانی کے بحران کے بادل چھٹنے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔ سیبی کی تحقیقات پہلے سے ہی چل رہی ہے، جس کا دائرہ اب بڑھا دیا گیا ہے۔ سیبی ان ممالک کے مارکیٹ ریگولیٹرز سے بھی معلومات اکٹھی کر رہا ہے جہاں اڈانی گروپ کا کاروبار پھیلا ہوا ہے۔

صرف اتنا ہی نہیں سیبی نے تفتیشی صحافیوں کی تنظیم او سی سی آر پی سے بھی رابطہ کیا ہے تاکہ اڈانی گروپ سے متعلق زیادہ سے زیادہ معلومات اکٹھی کی جا سکیں۔ اس تنظیم نے اڈانی گروپ کے حوالے سے کئی رپورٹیں شائع کی ہیں اور ان میں کئی دستاویزات کا حوالہ دیا گیا ہے۔ تاہم، او سی سی آر پی نے فی الحال کسی بھی قسم کے دستاویزات فراہم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

اڈانی گروپ کی فلیگ شپ کمپنی اڈانی انٹرپرائزز نے مطلع کیا ہے کہ کارپوریٹ امور کی وزارت نے ممبئی ایئرپورٹ سے متعلق معاملات میں کھاتوں کی جانچ شروع کر دی ہے۔ ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور نوی ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے متعلق کھاتوں کی چھان بین کے لیے 14 اکتوبر کو ہی وزارت سے نوٹس موصول ہوا تھا۔ وزارت نے کمپنی سے 2017 سے 2022 تک کے اکاؤنٹس کے بارے میں معلومات مانگی ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ گوتم اڈانی کے اڈانی گروپ نے جی وی کے گروپ سے ممبئی ایئرپورٹ حاصل کیا تھا۔ اس وقت جی وی کے گروپ پر مجرمانہ سازش اور دھوکہ دہی کا الزام تھا۔ سی بی آئی اس معاملے میں تحقیقات کر رہی ہے۔ سیبی اڈانی اور گلف ایشیا فنڈ کے درمیان تعلقات کی بھی چھان بین کر رہا ہے۔

رائٹرز کی ایک خبر کے مطابق، مارکیٹ ریگولیٹر سیبی اڈانی گروپ کی کئی درج کمپنیوں کے ساتھ گلف ایشیا فنڈ کے تعلقات کی چھان بین کر رہا ہے۔ یہ فنڈ برٹش ورجن آئی لینڈ میں قائم کیا گیا ہے۔ سیبی اس بات کا بھی جائزہ لے رہا ہے کہ آیا اڈانی گروپ نے شیئر کی ملکیت کے کسی اصول کی خلاف ورزی کی ہے یا نہیں؟ گلف ایشیا فنڈ کی ویب سائٹ پر بتایا گیا کہ یہ فنڈ دبئی کے بزنس مین ناصر علی شعبان علی کا ہے۔ تاہم، یہ ویب سائٹ اب کام نہیں کر رہی ہے۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اس فنڈ نے اڈانی گروپ کی کئی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کی ہے۔

ادھر، کانگریس لیڈر راہل گاندھی اڈانی گروپ معاملے کو لے کر حکومت پر مزید حملہ آور ہو گئے ہیں۔ ایک غیر ملکی اخبار کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں کوئلے کی درآمد کو لے کر گھوٹالہ ہوا ہے، جس سے اڈانی گروپ کو ممکنہ طور پر فائدہ ہوا ہے۔ جس کی وجہ سے ملک میں بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ گھوٹالہ تقریباً 12000 کروڑ روپے کا ہے۔

این ایچ آر سی نے منی پور میں تشدد کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے 18 معاملے درج کیے

0
این-ایچ-آر-سی-نے-منی-پور-میں-تشدد-کے-دوران-انسانی-حقوق-کی-خلاف-ورزیوں-کے-18-معاملے-درج-کیے

امپھال: قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آر سی) نے گزشتہ چند مہینوں میں منی پور میں تشدد کے دوران حقوق کی خلاف ورزیوں کے 18 معاملے درج کیے ہیں۔ این ایچ آر سی کو منی پور حکومت سے آٹھ معاملات کے علاوہ تمام میں کارروائی کی رپورٹس (اے ٹی آر) موصول ہوئی ہیں۔ باقی کیسز میں بھی رپورٹس کے لیے یاد دہانی کے نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔

این ایچ آر سی نے ایک بیان میں کہا کہ مرکزی اور منی پور حکومتوں سے مزید رپورٹیں طلب کی گئی ہیں۔ ان سے کہا گیا ہے کہ وہ ریاست میں امن قائم کرنے کے لیے کیے گئے اقدامات کی وضاحت کریں۔ رپورٹ میں تشدد سے متاثرہ افراد کے لیے امداد، بحالی، خوراک، اسکولنگ، تعلیم، صحت اور دماغی صحت کی دیکھ بھال کی خدمات کے لیے اقدامات کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔

این ایچ آر سی نے منی پور حکومت کے اے ٹی آر کے حوالے سے کہا کہ ریاست میں تشدد کے واقعات کے سلسلے میں کئی اقدامات کیے گئے ہیں۔ ان میں امن و امان کی مشینری اور سیکورٹی کو مضبوط کرنا، ریلیف کیمپ اور امن کمیٹی کا قیام، کرفیو میں نرمی، انٹرنیٹ اور بینکنگ خدمات کو بتدریج بحال کرنا، مرنے والوں کے لواحقین کے لیے ایکس گریشیا کا اعلان، زخمیوں کو امداد فراہم کرنا شامل ہیں۔ معاوضے کے پیکیج میں تباہ شدہ مکانات کی تعمیر نو شامل ہے۔

یہ بھی بتایا گیا کہ مرکز نے تنازعہ کی وجوہات تک پہنچنے کے لیے ایک انکوائری کمیشن تشکیل دیا ہے اور چھ ایف آئی آر آزادانہ تحقیقات کے لیے سی بی آئی کو منتقل کر دی گئی ہیں۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں بڑی تعداد میں ریلیف کیمپ چل رہے ہیں۔

پانچ ماہ قبل ریاست میں میتئی اور کوکی برادریوں کے درمیان نسلی تشدد شروع ہونے کے بعد سے منی پور میں کم از کم 180 افراد ہلاک، 1,120 دیگر زخمی اور 32 لاپتہ ہو چکے ہیں۔ پولیس کے مطابق 4786 گھروں کو نذر آتش کیا گیا اور 386 مذہبی مقامات کو یا تو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا یا ان میں توڑ پھوڑ کی گئی۔

منی پور میں نسلی تصادم کے نتیجے میں مختلف برادریوں کے تقریباً 70000 مرد، خواتین اور بچے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو چکے ہیں۔ انہوں نے منی پور میں اسکولوں، سرکاری عمارتوں اور آڈیٹوریم میں قائم 350 کیمپوں میں پناہ لی ہوئی ہے۔ کئی ہزار لوگوں نے میزورم سمیت پڑوسی ریاستوں میں پناہ لی ہے۔

مندروں پر سے نہیں ختم ہوگا حکومتی کنٹرول، سپریم کورٹ نے عرضی کو کیا خارج!

0
مندروں-پر-سے-نہیں-ختم-ہوگا-حکومتی-کنٹرول،-سپریم-کورٹ-نے-عرضی-کو-کیا-خارج!

سپریم کورٹ نے سینئر وکیل اشونی اپادھیائے کی اس عرضی کو خارج کر دیا ہے جس میں مندروں پر سے حکومتی کنٹرول ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ عدالت عظمیٰ کا یہ فیصلہ اشونی اپادھیائے کے لیے ایک بڑا جھٹکا ہے، کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ ٹھیک اسی طرح ہندو مندروں کے انتظام و انصرام میں بھی حکومتی مداخلت نہ ہو جس طرح مسجدوں میں نہیں ہوتا۔ سپریم کورٹ نے اس عرضی کے تعلق سے واضح لفظوں میں کہہ دیا کہ عرضی سماعت کے قابل نہیں ہے۔

چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندرچوڑ نے اس عرضی کے تعلق سے ایڈووکیٹ اشونی اپادھیائے کو کہا کہ آپ یہ مطالبہ پارلیمنٹ یا حکومت سے کر سکتے ہیں، نہ کہ عدالت سے۔ اس طرح کے مطالبہ کو عدالت کیسے منظوری دے سکتا ہے، آپ اپنی عرضی واپس لے لیں۔ قابل ذکر ہے کہ مرکزی حکومت کی طرف سے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے بھی اشونی اپادھیائے کی عرضی کی مخالفت کی ہے۔

دراصل ایڈووکیٹ اشونی اپادھیائے نے مندروں پر حکومت کا کنٹرول ختم کرنے کے مطالبہ کو لے کر سپریم کورٹ میں مفاد عامہ عرضی داخل کی تھی۔ انھوں نے اپنی عرضی میں مطالبہ کیا تھا کہ ہندوؤں، بودھوں، جینیوں اور سکھوں کو بھی مسلمانوں، پارسیوں اور عیسائیوں کی طرح ریاست کی مداخلت کے بغیر اپنے مذہبی مقامات کے مینجمنٹ کا یکساں حق ملے۔ لیکن سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے کہا کہ یہ عرضی ناقابل سماعت ہے۔

اس معاملے میں سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ عرضی دہندہ اس تعلق سے ریپریزنٹیشن دے سکتے ہیں، کیونکہ عرضی میں حکومت کو ہدایت دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس کے بعد اشونی اپادھیائے نے کہا کہ اس ایشو کو اس طرح سمجھا جا سکتا ہے کہ کالکا جی مندر کا کنٹرول حکومت کے پاس ہے، لیکن جامع مسجد کا نہیں۔ یہی بنیادی ایشو ہے۔ حالانکہ جب چیف جسٹس نے اس عرضی پر سماعت کرنے سے انکار کر دیا تو اشونی اپادھیائے نے اپنی عرضی واپس لے لی۔