منگل, جون 23, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 50

پی ایم مودی نے فلسطینی صدر محمود عباس سے فون پر کی بات، کہا ’اخلاقی امداد جاری رکھیں گے‘

0
پی-ایم-مودی-نے-فلسطینی-صدر-محمود-عباس-سے-فون-پر-کی-بات،-کہا-’اخلاقی-امداد-جاری-رکھیں-گے‘

اسرائیل اور حماس کے بیچ جنگ جاری ہے اور اسے روکنے کی کوئی بھی کوشش اب تک کامیاب نہیں ہوئی ہے۔ اس درمیان ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی نے فلسطینی صدر محمود عباس سے فون پر بات کی۔ اس کی جانکاری خود انھوں نے سوشل میڈیا کے ذریعہ دی اور کہا کہ انھوں نے فلسطینی صدر سے غزہ کے الاہلی اسپتال میں ہوئے دھماکہ میں ہلاک ہونے والے لوگوں کے تئیں اپنی ہمدردی کا اظہار کیا۔ ساتھ ہی انھوں نے ہندوستان-فلسطین تعلقات کو لے کر اپنا رخ بھی واضح کیا۔

پی ایم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جو پوسٹ کیا ہے اس میں لکھا ہے کہ ’’فلسطین اتھارٹی کے صدر محمود عباس کے ساتھ بات چیت کی۔ اس دوران میں نے غزہ کے الاہلی اسپتال میں لوگوں کی موت پر اپنی ہمدردی ظاہر کی۔ ہم فلسطین کے لوگوں کے لیے اخلاقی امداد بھیجنا جاری رکھیں گے۔ ہم نے علاقے میں دہشت گردی، تشدد اور بگڑتے سیکورٹی سے متعلق حالات پر اپنی گہری فکر ظاہر کی ہے۔‘‘ ساتھ ہی پی ایم مودی نے بتایا کہ ’’ہم نے اسرائیل-فلسطین ایشو پر ہندوستان کی طویل مدت سے چلی آ رہی اصولی حالت کو دہرایا۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ گزشتہ کچھ سالوں میں ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان نزدیکیاں بڑھی ہیں۔ ایسے میں پی ایم مودی کے تازہ بیان کو کافی اہم تصور کیا جا رہا ہے۔ اپوزیشن پارٹیاں بھی حکومت ہند کو فلسطین کے ساتھ کھڑے ہونے کا مشورہ دے رہی ہیں۔ دراصل حماس کے حملے کے بعد پی ایم مودی اور اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے فون پر بات کی تھی۔ اس دوران پی ایم مودی نے نیتن یاہو سے کہا تھا کہ ’’ہم آپ کے ساتھ متحد ہو کر کھڑے ہیں۔‘‘ پی ایم مودی نے حماس کے حملے کو دہشت گردانہ بھی قرار دیا تھا۔ اب فلسطینی صدر سے ان کی ہوئی گفتگو کو کئی معنوں میں اہم تصور کیا جا رہا ہے۔

گیانواپی تنازعہ: وضو خانہ کا سروے کرائے جانے کے مطالبہ پر سماعت مکمل، 21 اکتوبر کو آئے گا فیصلہ

0
گیانواپی-تنازعہ:-وضو-خانہ-کا-سروے-کرائے-جانے-کے-مطالبہ-پر-سماعت-مکمل،-21-اکتوبر-کو-آئے-گا-فیصلہ

وارانسی میں گیانواپی مسجد کا وضو خانہ اس وقت بند ہے کیونکہ اس کے اے ایس آئی سروے کرائے جانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ اس مطالبہ کو منظور کیا جائے گا یا نہیں، اس سلسلے میں فیصلہ 21 اکتوبر کو صادر کیا جائے گا۔ دراصل وضو خانہ کا اے ایس آئی سروے کرانے کے لیے راکھی سنگھ کی طرف سے داخل عرضی پر 19 اکتوبر کو سماعت مکمل ہو گئی ہے۔ دونوں فریقین کی دلیلیں سننے کے بعد ضلع جج کی عدالت نے حکم کے لیے 21 اکتوبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ماں شرنگار گوری کیس کی عرضی گزار راکھی سنگھ نے گزشتہ 29 اگست 2023 کو وکیل سوربھ تیواری اور انوپم دویدی کے ذریعہ سے گیانواپی کے سیل وضو خانہ کے اے ایس آئی سروے کے لیے 64 صفحات کی درخواست داخل کی تھی۔ مسجد کمیٹی نے راکھی سنگھ کی طرف سے داخل عرضی پر سخت اعتراض درج کرتے ہوئے وضو خانہ کے سروے کی مخالفت کی ہے۔

مسجد کمیٹی کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے 17 مئی 2022 کو وضو خانہ کو تحفظ فراہم کرتے ہوئے اسے سیل کر دیا تھا۔ سپریم کورٹ کے حکم سے بالاتر جا کر وضو خانہ کے اے ایس آئی سروے کا حکم نہیں دیا جا سکتا۔ اس معاملے میں بھی اعتراض داخل کیا گیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے 17 مئی 2022 کو وضو خانہ اور شیولنگ علاقہ کو مھفوظ کرنے کا حکم ضلع مجسٹریٹ کو دیا تھا۔

بہرحال، عدالت کو جانکاری دی گئی ہے کہ اے ایس آئی کے سائنسی سروے سے ڈھانچہ کو کسی طرح کا کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ وضو خانہ پوری طرح سے محفوظ رہے گا اور سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق موجودہ حالت بنی رہے گی۔ جمعرات کو ہوئی سماعت میں دونوں فریقین کے وکلا نے دلیل پیش کی۔ عدالت نے پورا معاملہ سننے کے بعد حکم کے لیے 21 اکتوبر کی تاریخ طے کی ہے۔

تلنگانہ: راہل گاندھی نے ذات پر مبنی مردم شماری کا کیا وعدہ، مودی-کے سی آر پر ہوئے حملہ آور

0
تلنگانہ:-راہل-گاندھی-نے-ذات-پر-مبنی-مردم-شماری-کا-کیا-وعدہ،-مودی-کے-سی-آر-پر-ہوئے-حملہ-آور

تلنگانہ اسمبلی انتخاب کے پیش نظر سبھی پارٹیاں انتخابی تشہیر میں مصروف ہیں۔ کانگریس نے جمعرات کو بھوپال پلی ضلع میں کئی نکڑ اجلاس منعقد کیے جس سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے وعدہ کیا کہ ریاست میں اقتدار میں آنے کے بعد کانگریس پارٹی ریاست میں ذات پر مبنی مردم شماری کرائے گی۔ انھوں نے ذات پر مبنی مردم شماری کو ملک کا سب سے بڑا ایشو بتاتے ہوئے اس پر وزیر اعظم مودی اور وزیر اعلیٰ کے. چندرشیکھر راؤ کی خاموشی پر سوال اٹھایا۔

تلنگانہ میں دوسرے دن انتخابی تشہیر کر رہے راہل گاندھی نے کہا کہ ذات پر مبنی مردم شماری ایک ایکسرے کی طرح ہوگی جو یہ مقرر کرے گی کہ ملک میں پسماندہ طبقات کی آبادی صرف 5 فیصد ہے یا نہیں۔ ہندوستان کے بجٹ کے صرف 5 فیصد حصے پر او بی سی کا قبضہ ہے۔ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا ملک میں او بی سی آبادی صرف 5 فیصد ہے۔

راہل گاندھی نے کہا کہ کانگریس پہلے ہی چھتیس گڑھ، راجستھان اور کرناٹک میں ذات پر مبنی مردم شماری کا حکم دے چکی ہے۔ اگر ہماری پارٹی تلنگانہ میں اقتدار میں آتی ہے تو سب سے پہلے ہم یہاں تلنگانہ کا ایکسرے کریں گے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ ’ایکسرے‘ سے یہ بھی پتہ چل جائے گا کہ وزیر اعلیٰ کے کنبہ نے تلنگانہ کے لوگوں کا کتنا پیسہ لوٹا۔ انھوں نے وعدہ کیا کہ کانگریس غریبوں، کسانوں اور مزدوروں کی حکومت دے گی۔

راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ تلنگانہ میں ایک کنبہ کی حکومت چل رہی ہے۔ ملک کی سبھی ریاستوں میں سب سے زیادہ بدعنوانی تلنگانہ میں ہے۔ بدعنوانی کا تلنگانہ ماڈل دوسری ریاستوں میں برآمد کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ تلنگانہ ریاست کے لیے تحریک کے دوران لوگوں کو امید تھی کہ نئی ریاست میں عوام کی حکومت آئے گی، لیکن ریاست کی تشکیل کے بعد وزیر اعلیٰ نے خود کو لوگوں سے دور کر لیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’آپ کا خواب عوام کی حکومت کا تھا، لیکن آپ نے پایا کہ ایک کنبہ آپ پر حکومت کر رہا ہے۔‘‘

کانگریس لیڈر نے کہا کہ اگر وزیر اعلیٰ کے سی آر واقعی میں بی جے پی کے خلاف لڑ رہے تھے تو ان کے خلاف سی بی آئی، ای ڈی یا کسی دیگر مرکزی ایجنسیوں نے جانچ کیوں نہیں کی۔ بی جے پی اپوزیشن کو مقدمات سے ڈراتی ہے۔ چونکہ میں بی جے پی سے لڑتا ہوں، اس لیے انھوں نے میرے خلاف 24 معاملے درج کرائے۔ انھوں نے میری لوک سبھا رکنیت رد کر دی اور میرا گھر چھین لیا۔ اس سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میری لڑائی بی جے پی اور آر ایس ایس کے خلاف ایک نظریاتی لڑائی ہے۔

راہل گاندھی نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ آئندہ ماہ کا اسمبلی انتخاب ’راجہ‘ اور ’پرجا‘ (عوام) کے درمیان کی لڑائی ہے۔ انھوں نے پیشین گوئی بھی کی کہ اگلے ماہ کے انتخاب میں بی آر ایس کو شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ساتھ ہی راہل گاندھی نے ایک بار پھر یہ دہرایا کہ بی آر ایس، بی جے پی اور اے آئی ایم آئی ایم ایک ساتھ ہیں۔ یہ بھی الزام لگایا کہ بی آر ایس نے پارلیمنٹ میں سبھی ایشوز پر بی جے پی کو حمایت دی۔

’نوکیا‘ کمپنی میں 14000 ملازمین کی نوکری کو خطرہ، جلد مل سکتی ہے بری خبر!

0
’نوکیا‘-کمپنی-میں-14000-ملازمین-کی-نوکری-کو-خطرہ،-جلد-مل-سکتی-ہے-بری-خبر!

موبائل بنانے والی مشہور کمپنی ’نوکیا‘ مبینہ طور پر تقریباً 14 ہزار ملازمین کو نوکری سے نکالنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ امریکہ جیسے بازاروں میں 5جی پروڈکٹس کی دھیمی فروخت کے سبب تیسری سہ ماہی میں اس کی مجموعی فروخت 20 فیصد تک کم ہو گئی ہے۔ اس گراوٹ کے بعد کمپنی اپنی لاگت میں تخفیف کے لیے 14000 لوگوں کو ملازمت سے نکالنے کے منصوبہ پر کام کر رہی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ملازمین کی تعداد میں کمی کر نوکیا اپنی لاگت میں 2026 تک 800 ملین یورو سے 1.2 بلین یورو تک کی تخفیف کرنا چاہتی ہے۔ کمپنی 2026 تک اپنی آپریٹنگ مارجن کم از کم 14 فیصد رکھنا چاہتی ہے۔ فی الحال نوکیا کے پاس 85 ہزار ملازمین ہیں اور کمپنی کا ہدف یہ تعداد 72000 سے 77000 تک کرنے کا ہے۔

واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں نوکیا نے امید سے کمزور کمائی درج کی ہے۔ تیسری سہ ماہی میں کمپنی کا آپریٹنگ پروفٹ 467 ملین ڈالر رہا تھا۔ فی شیئر ایڈجسٹ آمدنی 5 سینٹ پر پہنچ گئی ہے جو تجزیہ کاروں کے اندازہ 7 سینٹ سے کم ہے۔ اس درمیان نوکیا کے چیف ایگزیکٹیو افسر پیکا لُنڈمارک نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’سب سے مشکل کاروباری فیصلے وہ ہیں جو ہمارے لوگوں کو متاثر کرتے ہیں۔ نوکیا میں ہمارے بے حد باصلاحیت ملازمین ہیں اور ہم اس عمل سے متاثر ہونے والے سبھی لوگوں کی حمایت کریں گے۔‘‘

ہندوستان کا پہلا ’ریجنل ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم‘ بن کر تیار، پی ایم مودی کل کریں گے افتتاح

0
ہندوستان-کا-پہلا-’ریجنل-ریپڈ-ٹرانزٹ-سسٹم‘-بن-کر-تیار،-پی-ایم-مودی-کل-کریں-گے-افتتاح

ہندوستان کا پہلا ریجنل ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم (آر آر ٹی ایس) کوریڈور بن کر تیار ہو چکا ہے اور مسافروں کو 20 اکتوبر کا انتظار ہے جب وزیر اعظم نریندر مودی اس کا افتتاح کریں گے۔ مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے دہلی-میرٹھ آر آر ٹی ایس تیار ہونے پر پی ایم مودی کو مبارکباد پیش کی ہے۔ انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کچھ تصویریں شیئر کی ہیں اور پی ایم مودی کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی 150 کلومیٹر کی دوری میں قصبوں اور شہروں کو جوڑنے کے لیے آر آر ٹی ایس کی ایک اور سوچ کی شروعات کر رہے ہیں۔ یہ پیش قدمی ہندوستان میں پہلی بار شروع کی جا رہی ہے۔‘‘

ہردیپ سنگھ پوری نے پوسٹ میں پی ایم مودی کی خوب تعریف بھی کی ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ دنیا نے شاید ہی کبھی ایسا لیڈر دیکھا ہو جو غریبوں اور عام آدمی کے لیے اَربن موبیلٹی کو بہتر بنانے پر اتنی اہمیت دیتا ہو۔ گجرات کے وزیر اعلیٰ کی شکل میں مودی جی نے بی آر ٹی ایس کی شروعات کی تھی جو اس بات کی بہترین مثال ہے کہ کس طرح شہری ٹرانسپورٹیشن کو کامیاب بنانے اور عام آدمی کے لیے زندگی کو آسان بنانے کا منصوبہ بنایا جانا چاہیے۔

بہرحال، دہلی-میرٹھ آر آر ٹی ایس ملک کا پہلا ریجنل ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم ہے۔ وزیر اعظم مودی 20 اکتوبر کو اس کا افتتاح کریں گے۔ اس کے بعد آر آر ٹی ایس کوریڈور کا صاحب آباد-دُہائی ڈیپو سیکٹر 21 اکتوبر سے مسافروں کے لیے کھل جائے گا۔ اس کے لیے ایک اسمارٹ ریپڈایکس کارڈ جاری کر کے بھی کیا جائے گا۔ صاحب آباد اور دُہائی ڈیپو کے درمیان پانچ اسٹیشن ہیں صاحب آباد، غازی آباد، گلدھر، دُہائی اور دُہائی ڈیپو۔

سپریم کورٹ نے مبینہ منی لانڈرنگ کیس میں ستیندر جین کی ضمانت میں 6 نومبر تک توسیع کر دی

0
سپریم-کورٹ-نے-مبینہ-منی-لانڈرنگ-کیس-میں-ستیندر-جین-کی-ضمانت-میں-6-نومبر-تک-توسیع-کر-دی

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے مبینہ منی لانڈرنگ کیس میں دہلی کے سابق وزیر ستیندر جین کی ضمانت میں 6 نومبر تک توسیع کر دی ہے۔ سپریم کورٹ نے 10 اکتوبر کے اپنے حکم میں ستیندر جین کو عبوری ضمانت دی تھی، جس میں اب 6 نومبر کو اگلی سماعت تک توسیع کی گئی ہے۔

ستیندر جین کو مئی میں کئی شرائط کے ساتھ طبی بنیادوں پر چھ ہفتوں کے لیے عبوری ضمانت دی گئی تھی، جس میں میڈیا سے بات کرنے اور بغیر اجازت کے دہلی چھوڑنے پر پابندی بھی شامل ہے۔ معاملہ 6 نومبر 2023 کو سہ پہر 03:00 بجے جسٹس اے ایس بوپنا اور جسٹس بیلا ایم ترویدی کی بنچ کے سامنے فہرست بند کیا جائے گا۔

وہیں، پہلے دی گئی عبوری ضمانت کو سماعت کی اگلی تاریخ یعنی 6 نومبر 2023 تک بڑھا دیا گیا ہے۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے عدالت کو بتایا تھا کہ جین کا علاج حراست میں بھی کیا جا سکتا ہے۔ قبل ازیں سپریم کورٹ نے طبی بنیادوں پر جین کو دی گئی ضمانت میں 8 اکتوبر تک توسیع کر دی تھی۔ جین کی 21 جولائی کو سرجری ہوئی تھی۔

عآپ لیڈر نے منی لانڈرنگ کے معاملات میں ای ڈی کے ذریعہ ضمانت کے لئے سپریم کورٹ کا رخ کیا تھا، جس میں ان کی ضمانت کی درخواست کو مسترد کرنے کے دہلی ہائی کورٹ کے حکم کو چیلنج کیا گیا تھا۔ اپریل میں، دہلی ہائی کورٹ نے عآپ لیڈر ستیندر جین کی ضمانت کی عرضی کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا تھا کہ درخواست گزار ایک بااثر شخص ہے اور ثبوت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر سکتا ہے۔

غزہ پر اسرائیلی بمباری، گھروں پر حملے جاری

0
غزہ-پر-اسرائیلی-بمباری،-گھروں-پر-حملے-جاری

غزہ: اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان کشیدگی دوسرے ہفتے میں جاری ہے، غزہ پر مسلسل اسرائیلی بمباری اور گھروں اور رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنانے کے نتیجے میں مزید فلسطینیوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ فلسطینی میڈیا کا کہنا ہے کہ جمعرات کو غزہ کے جنوب میں وسطی خان یونس میں ایک مکان پر بمباری کے نتیجے میں 8 افراد جان سے گئے اور درجنوں زخمی ہوئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ گھر ایک گنجان آباد محلے میں واقع ہے۔ اس سے پہلے فلسطینی ٹیلی ویژن نے کہا تھا کہ شمالی غزہ کی پٹی میں جبالیہ کیمپ میں ایک مکان پر اسرائیلی بمباری میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ ٹیلی ویژن نے مرنے اور زخمی ہونے والوں کی تعداد نہیں بتائی۔

یہ بات ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب فلسطینی میڈیا نے کہا ہے کہ اسرائیلی فورسز غزہ میں دیر البلح میں 3 ٹاوروں کو بم سے اڑانے کی دھمکی دے رہی ہیں۔ مکینوں کو فوری طورپر وہاں سے نکلنے کی دھمکی دی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی فورسز نے دیر البلح میں مدینۃ الزہرہ کے ایک ٹاور پر انتباہی میزائل داغا تاکہ اسے تباہ کرنے کی تیاری کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ دوسرے انتباہی میزائل نے دوسرے ٹاور کو نشانہ بنایا جس میں رہائشی اپارٹمنٹس کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔

فلسطینی میڈیا نے کل شام بدھ کو رات گئے اطلاع دی ہے کہ غزہ کے جنوب میں واقع شہر رفح کے مغرب میں اسرائیلی بمباری میں 13 شہری مارے گئے جب کہ متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ فلسطینی میڈیا نے بتایا کہ بمباری میں ایک خاندان کے گھر کو نشانہ بنایا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی کے شمال میں واقع جبالیہ کیمپ کے انڈونیشیا کے ہسپتال میں پانچ افراد مارے گئےاور 12 زخمی ہوئے ہیں۔

دوسری جانب فلسطینی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ اسرائیلی طیاروں نے غزہ کے مختلف علاقوں میں حملوں کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ پٹی کے جنوبی علاقے خان یونس میں ایک مکان کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 9 فلسطینی شہید اور درجنوں زخمی ہوگئے۔ اسرائیل غزہ کی پٹی پر 7 اکتوبر کو حماس کی جانب سے شروع کیے گئے حملے کے جواب میں زمینی حملے کی تیاری کر رہا ہے۔ اسرائیلی فوج کی کارروائیوں میں اب تک غزہ میں تین ہزار سے زاید افراد مارے جا چکے ہیں جب کہ ہزاروں کی تعداد میں زخمی ہیں۔

کرناٹک: بی جے پی سے اتحاد پر جے ڈی ایس میں گھمسان، دیوگوڑا نے کرناٹک صدر کو پارٹی سے نکالا

0
کرناٹک:-بی-جے-پی-سے-اتحاد-پر-جے-ڈی-ایس-میں-گھمسان،-دیوگوڑا-نے-کرناٹک-صدر-کو-پارٹی-سے-نکالا

لوک سبھا انتخاب سے پہلے بی جے پی کے ساتھ اتحاد کرنا جے ڈی ایس (جنتا دل سیکولر) کے لیے مہنگا ثابت ہو رہا ہے۔ پارٹی کے اندر بغاوت کی آوازیں لگاتار بلند ہو رہی ہیں اور لیڈران و کارکنان کا پارٹی چھوڑنے کا ایک سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ مخالفین میں بیشتر کا تعلق اقلیتی طبقہ سے ہے۔ اس درمیان بڑی خبر یہ سامنے آ رہی ہے کہ جے ڈی ایس کے قومی صدر ایچ ڈی دیوگوڑا نے کرناٹک کے پارٹی صدر سی ایم ابراہیم کو پارٹی سے باہر نکال دیا ہے۔

دراصل سی ایم ابراہیم لگاتار جے ڈی ایس اور بی جے پی اتحاد کے خلاف آواز اٹھا رہے تھے، جبکہ ایچ ڈی دیوگوڑا اس اتحاد سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایچ ڈی دیوگوڑا نے جمعرات کو اعلان کر دیا کہ پارٹی نے کرناٹک جے ڈی ایس صدر ابراہیم کو معطل کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایک میٹنگ میں اتفاق رائے سے لیا گیا اور ایچ ڈی کماراسوامی کو کرناٹک میں جے ڈی ایس کا نیا ریاستی صدر منتخب کیا گیا ہے۔ میٹنگ کے بعد دیوگوڑا نے کہا کہ ’’ہم نے جے ڈی ایس کور کمیٹی کے اراکین کی میٹنگ بلائی، تبادلہ خیال کیا، سبھی کی رائے لی اور اس کے بعد سی ایم ابراہیم کو ریاستی صدر کے عہدہ سے ہٹا دیا۔‘‘

دراصل سی ایم ابراہیم نے اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’میں پارٹی کا ریاستی صدر ہوں، تو مجھے پارٹی کیوں چھوڑنی چاہیے؟‘‘ ان کے اس رخ سے دیوگوڑا اور ایچ ڈی کماراسوامی سمیت جے ڈی ایس کے دیگر لیڈران بھی حیران رہ گئے۔ ابراہیم لگاتار جے ڈی ایس کا این ڈی اے اتحاد میں شامل ہونے کی مخالفت کر رہے تھے۔ انھوں نے سابق وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کماراسوامی کے بی جے پی کے ساتھ اتحاد کو لے کر ناراضگی ظاہر کی تھی۔ انھوں نے صاف طور پر کہا کہ ہم ایک سیکولر پارٹی ہیں اور کسی بھی وجہ سے بی جے پی سے ہاتھ نہین ملائیں گے۔ انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ’’میں (جے ڈی ایس کا) ریاستی صدر ہوں… ہم طے کریں گے کہ بی جے پی کو چھوڑ کر کس کے ساتھ اتحاد کرنا ہے… میں ان سے (کماراسوامی سے) واپس آنے کے لیے کہوں گا۔‘‘

واضح رہے کہ ایچ ڈی دیوگوڑا نے جب بی جے پی کے ساتھ جے ڈی ایس اتحاد کا اعلان کیا تو پارٹی کا ایک بڑا طبقہ اس سے حیران رہ گیا۔ یہی وجہ ہے کہ اتحاد کے فیصلہ کے بعد سے اب تک سینکڑوں لینڈران و کارکنان پارٹی کا ساتھ چھوڑ چکے ہیں۔ ان میں سے بیشتر مسلم طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ بدھ کے روز میسور شہر کے نرسمھ راجہ اسمبلی حلقہ سے عبدالقادر سمیت 100 سے زیادہ عہدیداروں نے جے ڈی ایس سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ جے ڈی ایس کے نشان پر اسمبلی انتخاب لڑنے والے عبدالقادر نے کہا کہ ’’بی جے پی اور آر ایس ایس پورے ملک میں مسلم طبقہ کو نشانہ بنا رہی ہے۔ نفرت کی سیاست کر رہی ہے۔ وہ مسلم طبقہ کو پریشان کر رہے ہیں۔ بی جے پی لیڈران کھلے طور پر کہتے ہیں کہ وہ نہیں چاہتے کہ مسلم ووٹ دیں۔ ایسے میں ہم سبھی اس بات سے افسردہ ہیں کہ جے ڈی ایس کرناٹک میں بی جے پی کے ساتھ اتحاد میں ہے۔‘‘

مسلم لیڈران کا کہنا ہے کہ ان کے دل میں جے ڈی ایس لیڈر ایچ ڈی کماراسوامی اور سابق وزیر اعظم ایچ ڈی دیوگوڑا کے لیے احترام ہے، لیکن بی جے پی کے لیے نہیں۔ استعفیٰ دینے والے جے ڈی ایس کے اقلیتی لیڈران لگاتار کرناٹک جے ڈی ایس چیف سی ایم ابراہیم سے بھی گزارش کر رہے تھے کہ وہ فوراً استعفیٰ دے دیں۔ حالانکہ اب ایچ ڈی دیوگوڑا نے خود ابراہیم کو پارٹی سے نکالنے کا اعلان کر دیا ہے۔

چندرا بابو نائیڈو کی عدالتی حراست میں یکم نومبر تک توسیع

0
چندرا-بابو-نائیڈو-کی-عدالتی-حراست-میں-یکم-نومبر-تک-توسیع

وجئے واڑہ: وجئے واڑہ اے سی بی کورٹ نے جمعرات کو سابق وزیر اعلیٰ این۔ چندرا بابو نائیڈو کی عدالتی حراست میں یکم نومبر تک توسیع کر دی گئی۔ نائیڈو کو عملی طور پر راجمندری سنٹرل جیل سے عدالت میں پیش کیا گیا۔ جج نے ریمانڈ میں دو ہفتے کی توسیع کر دی۔

نائیڈو نے جج سے کہا کہ انہیں جیل میں خطرہ ہے۔ جج نے ان سے اس بات کو تحریری طور پر دینے کو کہا۔ جج نے جیل حکام کو ہدایت دی کہ وہ نائیڈو کی طرف سے لکھے گئے خط کو عدالت کے سامنے رکھیں۔ تلگو دیشم پارٹی (ٹی ڈی پی) کے صدر نے جج کو صحت کے مسائل سے بھی آگاہ کیا۔

جج نے جیل حکام کو چندرابابو نائیڈو کی میڈیکل رپورٹ بھی پیش کرنے کی ہدایت کی۔ عدالت نے جیل حکام سے ان کی صحت اور علاج کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے بارے میں معلومات لیں۔ سی آئی ڈی نے نائیڈو کو 9 ستمبر کو ایک مبینہ گھوٹالے میں گرفتار کیا تھا جو اس وقت ہوا تھا جب وہ وزیر اعلیٰ تھے۔ اگلے دن وجئے واڑہ اے سی بی کورٹ نے انہیں 22 ستمبر تک عدالتی حراست میں بھیج دیا۔ بعد ازاں انہیں جیل بھیج دیا گیا۔

یہ معاملہ ریاست آندھرا پردیش میں کلسٹرس آف سینٹرز آف ایکسیلنس (سی او ای) کے قیام سے متعلق ہے، جس کی کل تخمینہ لاگت 3300 کروڑ روپے تھی، جب نائیڈو وزیر اعلیٰ تھے۔ سی آئی ڈی نے دعویٰ کیا ہے کہ مبینہ دھوکہ دہی سے ریاستی حکومت کو 371 کروڑ روپے کا بھاری نقصان ہوا ہے۔

اتر پردیش: پولیس کی بھرتی میں خواتین کو ملے گا 30 فیصد ریزرویشن، حکومت کا اعلان

0
اتر-پردیش:-پولیس-کی-بھرتی-میں-خواتین-کو-ملے-گا-30-فیصد-ریزرویشن،-حکومت-کا-اعلان

اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے آج ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خواتین سے متعلق ایک بڑا اعلان کیا۔ انھوں نے یوپی پولیس کی بھرتی میں خواتین کے لیے 30 فیصد ریزرویشن دینے کی بات کہی اور ساتھ ہی مرکزی حکومت و ریاستی حکومت کے فلاحی منصوبوں کو بھی شمار کرایا۔

وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے یہ اعلان ہاتھرس کے باگلا ڈگری کالج میدان میں منعقد ’ناری شکتی وندن‘ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انھوں نے ساتھ ہی کہا کہ ’’2017 سے پہلے ریاست میں انارکی کا ماحول رہتا تھا، بہن بیٹیاں خود کو غیر محفوظ محسوس کرتی تھیں، لیکن اب خواتین خود کو محفوظ محسوس کرتی ہیں۔ بی جے پی جو کہتی ہے وہ کر کے دکھاتی ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’گزشتہ ساڑھے نو سال کے اندر ایک نئے ہندوستان کو دیکھا ہے، جہاں ذات اور مذہب کی بنیاد پر نہیں، بلکہ ’سب کا ساتھ، سب کا وِکاس‘ کے جذبہ کے ساتھ ملک آگے بڑھ رہا ہے۔‘‘

یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ ریاست نے ساڑھے نو سال میں اتر پردیش کو بدلتے ہوئے دیکھا ہے۔ آج 55 لاکھ لوگوں کو گھر مل چکے ہیں، مفت میں بجلی کنکشن ملے ہیں۔ ’پی ایم آیوشمان یوجنا‘ کے تحت 10 کروڑ لوگوں کو فائدہ ملا ہے۔ کووڈ دور میں لوگوں کو 220 کروڑ کی مفت ویکسین لگائی گئی۔