منگل, جون 23, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 49

بڑا سوال یہ ہے کہ آرٹیفیشیل انٹلیجنس کا ذمہ داری سے استعمال کیسے کریں: چیف جسٹس چندرچوڑ

0
بڑا-سوال-یہ-ہے-کہ-آرٹیفیشیل-انٹلیجنس-کا-ذمہ-داری-سے-استعمال-کیسے-کریں:-چیف-جسٹس-چندرچوڑ

اے آئی یعنی آرٹیفیشیل انٹلیجنس (مصنوعی ذہانت) کے بے شمار فوائد ہیں، لیکن اس کے مضر اثرات بھی سامنے آنے لگے ہیں۔ ڈیپ فیک کے بڑھتے معاملوں نے وزیر اعظم نریندر مودی اور صدر جمہوریہ دروپدی مرمو تک کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ اب اے آئی سے متعلق چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندرچوڑ کا انتہائی اہم بیان سامنے آیا ہے۔ چیف جسٹس چندرچوڑ نے ہفتہ کے روز بنگلورو میں منعقد 36ویں لواسیا تقریب میں شرکت کے دوران اے آئی کے اخلاقی استعمال کو لے کر کچھ اہم باتیں لوگوں کے سامنے رکھیں۔ انھوں نے کہا کہ ان دنوں ہم اے آئی کے اخلاقی استعمال کے بنیادی سوالات کا لگاتار سامنا کر رہے ہیں۔

لواسیا تقریب میں چیف جسٹس چندرچوڑ کی تقریر کا عنوان تھا ’شناخت، شخص اور ریاست: آزادی کے نئے راستے‘۔ دراصل لواسیا ایشیا پیسفک علاقوں کے وکلا، ججوں، جیورسٹ اور آئینی اداروں کا ایک ایسو سی ایشن ہے۔ اسی نے ہفتہ کے روز ایک تقریب کا انعقاد کیا جس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس چندرچوڑ نے کہا کہ آزادی کچھ اور نہیں بلکہ اپنے لیے فیصلے لینے کی اہلیت ہے جس سے ہماری زندگی بدل جائے۔ کسی شخص کی پہچان اس کی زندگی میں لیے گئے اس کے فیصلوں سے جڑی ہوتی ہے۔ ساتھ ہی ڈی وائی چندچوڑ نے یہ بھی کہا کہ لوگ اپنی ذات، مذہب، جنس یا جنسی رجحان کے سبب تفریق کا سامنا کرتے ہیں۔ انھیں ہمیشہ استحصال کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ یہ سماجی طور سے اثرانداز ہے۔

آرٹیفیشیل انٹلیجنس سے متعلق بات کرتے ہوئے چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندرچوڑ نے بتایا کہ ڈیجیٹل دور میں آرٹیفیشیل انٹلیجنس کے کئی پرکشش پہلوؤں کا سامنا کس طرح کیا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ آرٹیفیشیل انٹلیجنس یعنی اے آئی اور شخصیت کے درمیان ایک پیچیدہ رشتہ ہے۔

کیا چین میں پھیلنے والی پراسرار بیماری ہندوستان کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے؟

0
کیا-چین-میں-پھیلنے-والی-پراسرار-بیماری-ہندوستان-کے-لیے-خطرناک-ہو-سکتی-ہے؟

نئی دہلی: کورونا کی وبا نے جہاں پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے وہیں ایک بار پھر نئی بیماری کی آمد کا خدشہ ہے۔ اس بار بھی یہ نئی بیماری چین سے ہی شروع ہوئی ہے۔ چین کے شمال مشرقی علاقے میں واقع لیاؤننگ صوبے کے بچوں میں اس پراسرار بیماری پھیپھڑوں میں سوجن، سانس لینے میں دشواری کے ساتھ ساتھ کھانسی اور تیز بخار نمونیا کی علامات ظاہر ہو رہی ہیں۔

بیماری کی وبا اتنی شدید ہے کہ حکومت نے یہاں کے اسکول بند کرنے کی تیاریاں کر لی ہیں۔ اس بیماری کی علامات نمونیہ سے ملتی جلتی ہیں لیکن اس کی کچھ علامات نمونیہ سے بالکل مختلف ہیں۔ ڈبلیو ایچ او نے بھی اس بیماری کے حوالے سے وارننگ جاری کی ہے۔

نمونیا آپ کے پھیپھڑوں میں بیکٹیریا، وائرس یا فنگی کی وجہ سے ہونے والا انفیکشن ہے۔ نمونیا آپ کے پھیپھڑوں کے ٹشووں کو سوجن کا باعث بنتا ہے اور آپ کے پھیپھڑوں میں سیال یا پیپ جمع ہونے کا سبب بن سکتا ہے۔ بچوں اور بوڑھوں کو اس انفیکشن کا زیادہ سامنا کرنا پڑتا ہے اور اس سے موت کا خطرہ ہوتا ہے۔ نمونیا کی علامات ہلکے سے شدید تک ہوسکتی ہیں۔ ڈبلیو ایچ او کی 2022 کی رپورٹ کے مطابق ایشیائی اور افریقی ممالک میں اس انفیکشن سے ہونے والی اموات کی تعداد بہت زیادہ ہے۔

اگر ہم نمونیا کی عام علامات کی بات کریں تو اس میں بلغم کے ساتھ یا بغیر کھانسی، بخار، سردی لگنا اور سانس لینے میں دشواری شامل ہے۔ لیکن اگر ہم چین میں پھیلنے والے اس پراسرار نمونیا کی بات کریں تو اس کی علامات میں کھانسی کے بغیر تیز بخار اور پھیپھڑوں میں سوجن شامل ہیں۔ نمونیا کا علاج اینٹی بائیوٹکس، اینٹی وائرل اور اینٹی فنگل ادویات کی مدد سے کیا جا سکتا ہے۔ کسی شخص کو اس انفیکشن سے صحت یاب ہونے میں چند ہفتوں سے ایک مہینہ لگ سکتا ہے۔

یہ سنگین انفیکشن شکار کے پھیپھڑوں پر حملہ کرتا ہے۔ یہ اتنا خطرناک ہے کہ نمونیا میں مبتلا بچوں کو فوری طور پر اسپتال میں داخل کرنے کی ضرورت ہے۔

ڈبلیو ایچ او نے پریس کانفرنس میں کہا کہ چین نے مقامی میڈیا کو اس بیماری کے بارے میں 13 نومبر 2023 کو بتایا تھا۔ صحت کے ادارے نے چین سے بھی کہا ہے کہ وہ اس بیماری سے متعلق معاملات پر گہری نظر رکھے۔ اس کے علاوہ ڈبلیو ایچ او نے چین سے اس بیماری کے بارے میں مزید معلومات فراہم کرنے کو بھی کہا ہے۔

ڈبلیو ایچ او نے چین میں پھیلنے والے اس خطرناک نمونیا وائرس کے حوالے سے کچھ ہدایات جاری کی ہیں۔ ان ہدایات میں لوگوں کو محتاط رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ لوگوں سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ صفائی کا خاص خیال رکھیں اور اگر جسم میں کوئی علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔ اس کے علاوہ سماجی دوری پر عمل کریں اور ماسک کا استعمال کریں۔

مرکزی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں اس وائرس کے پھیلنے کا خطرہ بہت کم ہے۔ اس کے باوجود وزارت اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ وزارت کے ایک بیان کے مطابق، ‘ہندوستان کو ایویئن انفلوئنزا کیس کے ساتھ ساتھ چین سے رپورٹ ہونے والے سانس کی بیماری کے جھرمٹ سے کم خطرہ ہے۔’ اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہندوستان چین میں پھیلنے والے اس خطرناک وائرس سے پیدا ہونے والی کسی بھی ہنگامی صورتحال کے لیے تیار ہے۔

بچوں کو نمونیا کے اس خطرناک وائرس سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ والدین اپنے بچوں کی خوراک اور قوت مدافعت کا خاص خیال رکھیں۔ بچوں کی خوراک میں ایسی چیزیں شامل کرنا بہت ضروری ہے تاکہ ان کا مدافعتی نظام مضبوط ہو اور وہ اس خطرناک انفیکشن سے لڑ سکیں۔ اس کے علاوہ گھر میں صفائی کا خیال رکھنا اور بچوں کو بھیڑ والی جگہوں پر جانے سے روکنا ضروری ہے۔ جب آپ کا بچہ کھانستا ہے یا چھینکتا ہے تو اسے اپنی ناک اور منہ ڈھانپنا سکھائیں۔ آپ کے بچے کو بھی بار بار ہاتھ دھونے چاہئیں۔ ان اقدامات سے دیگر انفیکشنز کو روکنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

تلنگانہ میں کانگریس اقتدار حاصل کرے گی: راہل گاندھی

0
تلنگانہ-میں-کانگریس-اقتدار-حاصل-کرے-گی:-راہل-گاندھی

کریم نگر (تلنگانہ): کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے جمعرات کو امید ظاہر کی کہ تلنگانہ میں کانگریس کی لہر ہوگی اور پارٹی اقتدار میں آئے گی۔ ریاست میں ’وجئے بھیری یاترا‘ کے حصے کے طور پر کئی میٹنگوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ کانگریس اگلے ماہ ہونے والے اسمبلی انتخابات میں کامیابی حاصل کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ اسے لکھ لیں۔ تلنگانہ میں کانگریس برسراقتدار آ رہی ہے۔ انہوں نے دہرایا کہ اقتدار میں آنے کے بعد وہ ریاست میں ذات پر مبنی مردم شماری کرائیں گے۔ انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ وہ تلنگانہ کے لئے ہمیشہ دستیاب رہیں گے۔

انہوں نے کہا، ’’تلنگانہ کو جب بھی راہل گاندھی کی ضرورت ہوگی، وہ یہاں موجود ہوں گے۔ آپ کا سپاہی دہلی میں بیٹھا ہے اور جب بھی آپ کو میری ضرورت ہوگی، وہ آ جائے گا۔”

بھوپال پلی، پیڈا پلی اور کریم نگر اضلاع میں جلسوں اور سڑکوں پر جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے ساتھ ان کا رشتہ سیاسی نہیں بلکہ خاندانی اور محبت کا ہے، جیسا کہ جواہر لال نہرو، اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کا ریاست کے ساتھ تھا۔

کانگریس رکن پارلیمنٹ نے یاد دلایا کہ یہ سونیا گاندھی تھیں جنہوں نے یہ جانتے ہوئے کہ اس سے کانگریس کو سیاسی نقصان ہوسکتا ہے تلنگانہ کی تشکیل کی۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے یہ کام تلنگانہ کے غریبوں، کسانوں اور مزدوروں کے لیے کیا ہے۔

راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ گزشتہ 10 سالوں میں چیف منسٹر کے سی آر نے تلنگانہ کے عوام کے خواب چکنا چور کر دیئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی انتخابات ‘ڈورل تلنگانہ اور پرجالا تلنگانہ’ (جاگیرداروں کا تلنگانہ اور عوام کا تلنگانہ) کے درمیان مقابلہ ہوگا۔

انہوں نے کہا، ’’کے سی آر اور ان کے خاندان کے افراد زمین، ریت اور شراب سے متعلق تمام اہم محکموں کو کنٹرول کرتے ہیں۔ آپ کے وزیر اعلیٰ ایک بادشاہ کی طرح کام کرتے ہیں، وزیر اعلیٰ کی طرح نہیں۔‘‘ انہوں نے الزام لگایا کہ کے سی آر نے کالیشورم پروجیکٹ کی لاگت میں ایک لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کا اضافہ کیا اور لوگوں کی زمینیں چھین لیں۔

انہوں نے کہا کہ اس پروجیکٹ سے صرف بڑے ٹھیکیداروں کو فائدہ ہوا جو کے سی آر کے دوست ہیں۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ نے الزام لگایا کہ بی آر ایس حکومت نے زمینی ریکارڈ میں تبدیلی کرکے دھرانی پورٹل کے نام پر بھی زمینیں چھین لی ہیں اور کے سی آر پر تنقید کی کہ وہ دلتوں اور قبائلیوں کو زمین دینے کے وعدے کو پورا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ لوگوں کو ڈبل بیڈروم مکانات نہیں ملے جبکہ کسانوں کے قرضے معاف نہیں کئے گئے۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ ریتھو بندھو اسکیم سے صرف بڑے زمینداروں کو فائدہ ہوا۔ راہل گاندھی نے قبل ازیں سرکاری ملکیت والی سنگارینی کولیریز کمپنی لمیٹڈ (ایس سی سی ایل) کے ملازمین سے بات چیت کی، انہیں یقین دلایا کہ کانگریس اس کی نجکاری کی اجازت نہیں دے گی۔ انہوں نے ملازمین کو یقین دلایا کہ کانگریس ان کی حفاظت کرے گی۔

مرکز کی بی جے پی حکومت پر بڑے پیمانے پر نجکاری کرنے کا الزام لگاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی اس کی مخالفت کرتی ہے اور ملازمین کی حفاظت کے لیے کام کرے گی۔

وزیر اعظم نریندر مودی کو نشانہ بناتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ انہوں نے عوام سے جھوٹے وعدے کیے جیسے ہر شہری کے بینک اکاؤنٹ میں 15 لاکھ روپے جمع کرائے جائیں۔ انہوں نے نوٹ بندی کے ذریعے کالے دھن کو ختم کرنے کے مودی کے وعدے کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ مودی اور کے سی آر کی طرح جھوٹ نہیں بولتے۔

انہوں نے تلنگانہ کے لیے پارٹی کی طرف سے اعلان کردہ چھ ضمانتوں کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ’’میں جھوٹ بولنے نہیں آیا ہوں۔ میں اپنے خاندان کے افراد سے جھوٹ نہیں بول سکتا۔‘‘ کانگریس لیڈر نے کہا کہ لوگ جا کر دیکھ سکتے ہیں کہ کرناٹک، راجستھان اور چھتیس گڑھ میں کانگریس نے اپنے وعدوں کو کیسے پورا کیا۔

جموں و کشمیر کانگریس میں ردوبدل، ایگزیکٹو کمیٹی کا قیام، 5 سینئر نائب صدور کا تقرر

0
جموں-و-کشمیر-کانگریس-میں-ردوبدل،-ایگزیکٹو-کمیٹی-کا-قیام،-5-سینئر-نائب-صدور-کا-تقرر

نئی دہلی: کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے نے جمعرات کو پارٹی کی جموں و کشمیر یونٹ میں ایک بڑا ردوبدل کیا اور ایک ایگزیکٹو کمیٹی تشکیل دی، جس میں پارٹی کے سینئر لیڈر کرن سنگھ کو ممبر بنایا گیا۔ کانگریس نے پانچ سینئر نائب صدور، 22 نائب صدور، 51 جنرل سکریٹری، 62 سکریٹری اور 21 ضلعی سربراہوں کا تقرر کیا ہے۔

پارٹی نے ایک بیان میں کہا کہ کھڑگے نے 22 رکنی ایگزیکٹیو کمیٹی بنانے کی تجویز کو منظوری دی جس میں تجربہ کار لیڈر کرن سنگھ اور سیف الدین سوز کے ساتھ سینئر لیڈر غلام احمد میر، طارق حمید قرہ اور تارا چند شامل ہیں۔

کھڑگے نے پانچ نائب صدر نامزد کیے جن میں مولا رام، جی این مونگا، بلوان سنگھ، رویندر شرما، اور محمد انور بھٹ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ رجنیش شرما کو یونٹ کا خزانچی مقرر کیا گیا ہے۔ جبکہ وقار رسول وانی جے کے پی سی سی کے سربراہ ہیں۔

کانگریس کی دوسری فہرست پر کمل ناتھ کا ردعمل، ‘ایم پی میں 18 سال کی بدانتظامی جلد ختم ہوگی’

0
کانگریس-کی-دوسری-فہرست-پر-کمل-ناتھ-کا-ردعمل،-‘ایم-پی-میں-18-سال-کی-بدانتظامی-جلد-ختم-ہوگی’

بھوپال: کانگریس نے مدھیہ پردیش میں ہونے والے انتخابات کے لیے جمعرات کی رات دیر گئے اپنے امیدواروں کی دوسری فہرست جاری کی۔ اس فہرست میں 88 امیدواروں کے ناموں کا اعلان کیا گیا ہے۔ فہرست جاری ہونے کے بعد ریاستی کانگریس صدر کمل ناتھ نے اپنے بیان میں تمام امیدواروں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا ’’کانگریس پارٹی کے امیدوار صرف ایم ایل اے بننے کے لیے نہیں لڑ رہے ہیں بلکہ مدھیہ پردیش کے مستقبل کو سنوارنے کے لیے انتخابی میدان میں بھی اترے ہیں۔ آج کے بعد سے ہم سب اپنی پوری طاقت کے ساتھ اپنے فرائض میں شامل ہوں اور مدھیہ پردیش سے 18 سال کی بدانتظامی کو ختم کرنے کے لیے تیار رہیں۔ مدھیہ پردیش میں بھاری اکثریت کے ساتھ کانگریس پارٹی کی حکومت بنائیں۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ کانگریس نے مدھیہ پردیش میں 230 ممبران اسمبلی کے انتخابات کے لیے ایک کو چھوڑ کر تمام امیدواروں کا اعلان کیا ہے۔ ریاست میں 17 نومبر کو ووٹنگ ہوگی۔ اس سے قبل 15 اکتوبر کو پارٹی نے 144 سیٹوں کے لیے پہلی فہرست میں امیدواروں کے نام جاری کیے تھے لیکن پارٹی نے دوسری فہرست میں تین سیٹوں پر امیدواروں کو تبدیل کیا ہے۔

کانگریس نے اپنی دوسری فہرست میں دتیا، گوٹیگاؤں اور پچور سیٹوں سے امیدواروں کو تبدیل کیا ہے۔ دتیا سے اودھیش نائک کا ٹکٹ منسوخ کر کے کانگریس کے سینئر لیڈر راجندر بھارتی کو ٹکٹ دیا گیا ہے۔ وہ بی جے پی امیدوار اور ایم پی وزیر داخلہ نروتم مشرا سے مقابلہ کریں گے۔ پچھور میں شیلیندر سنگھ کا ٹکٹ منسوخ کر دیا گیا ہے۔ ان کی جگہ اروند سنگھ لودھی کو امیدوار بنایا گیا ہے۔

اسی طرح پارٹی نے گوٹیگاؤں ایس سی اسمبلی حلقہ سے شیکھر چودھری کی جگہ نرمدا پرساد پرجاپتی کو میدان میں اتارا ہے۔ پارٹی نے رویندر سنگھ تومر کو دیمانی اسمبلی سیٹ سے امیدوار بنایا ہے۔ ان کا مقابلہ مرکزی وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر سے ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی کانگریس نے سنیل شرما کو گوالیار اسمبلی سیٹ سے میدان میں اتارا ہے جسے مرکزی وزیر جیوترادتیہ سندھیا کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ خیال رہے کہ مدھیہ پردیش میں 230 رکنی اسمبلی کے لیے اگلے ماہ 17 نومبر کو ایک ہی مرحلے میں ووٹنگ ہوگی، جب کہ ووٹوں کی گنتی دیگر انتخابی ریاستوں کے ساتھ دسمبر میں ہوگی۔

بھارت: مردوں کے لیے مانع حمل انجکشن کا کامیاب تجربہ

0
بھارت:-مردوں-کے-لیے-مانع-حمل-انجکشن-کا-کامیاب-تجربہ

مردوں کے لیے ایک موثر مانع حمل کی تیاری کا خواب پورا ہوگیا ہے۔ بھارت میں بایو میڈیکل ریسرچ کے اعلیٰ ترین ادارے انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) نے بتایا کہ اس نے دوا کے تجربات کے تمام تینوں مراحل مکمل کرلیے ہیں۔ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ ایک انجکشن 13سال تک مانع حمل کا کام کرسکتا ہے اور اس کے بعد اس کے اثر کو پوری طرح پلٹا بھی جاسکتا ہے۔

اس انجکشن کا نام Reversible Inhibition of Sperm under Guidance یا RISUG رکھا گیا ہے۔ اسے بھارت کے موقر تعلیمی ادارے آئی آئی ٹی کھڑگ پور کے پروفیسر ڈاکٹر سوجوئے کمار گوہا نے ڈیولپ کیا ہے۔

بھارتی میڈیا میں شائع رپورٹوں کے مطابق ڈاکٹر گوہا کا تحریر کردہ آر آئی ایس یو جی پر پہلا سائنسی مقالہ سن 1979 میں شائع ہوا تھا۔ یعنی اس کا تجربہ مکمل ہونے میں 40سال سے بھی زیادہ کا عرصہ لگا۔ اطلاعات کے مطابق بین الاقوامی اوپن ایکسس والی جرنل اینڈرولوجی میں اس تجربے کے نتائج شائع ہوئے ہیں۔ جن میں بتایا گیا ہے کہ آر آئی ایس یو جی کو مادہ منویہ والی رگوں میں انجکشن کے ذریعہ ڈالا جاتا ہے۔ اس کے بعد اس میں موجود پالیمر رگوں کی اندرونی دیوار سے چپک جاتا ہے۔

یہ پالیمر جب مادہ منویہ کے رابطے میں آتا ہے تو ان کے پچھلے حصے کو تباہ کردیتا ہے، جس سے اسپرم عورت کے بیضہ دانی میں موجود انڈوں کو فرٹیلائز کرکے حمل ٹھہرانے کی اپنی صلاحیت کھو دیتے ہیں۔ آر آئی ایس یو جی نے 303 مردوں پر اس کا تجربہ کیا اور سات سالوں تک ان کی اور ان کی بیویوں کی صحت پر نگاہ رکھی گئی۔ اور ان میں کسی طرح کے منفی اثرات نہیں پائے گئے۔

یہ تمام مرد صحت مند، شادی شدہ اور جنسی عمل کے لحاظ سے سرگرم تھے اور ان کی عمر 25 سے 40 سال کے درمیان تھی۔ انہیں 60 ملی لیٹر آر ایس یو جی دی گئی۔ یہ تجربات نئی دہلی، جے پور، اودھم پور، کھڑگ پور اور لدھیانہ میں واقع ہسپتالوں میں کیے گئے۔ اس تجربے کے لیے مالی امداد بھارت کی وزارت صحت نے فراہم کی۔

تجربے کے دوران آر ایس یو جی کی مانع حمل صلاحیت 99.02 فیصد پائی گئی اور اس کوئی سنگین سائیڈ ایفکٹ بھی نہیں پائے گئے۔ اس کی ناکامی کی شرح بھی کنڈوم کے پھٹ جانے کی شرح سے کم پائی گئی۔ حالانکہ بعض مردوں میں بخار، سوجن، پیشاب کی نالی میں انفکشن جیسے کچھ مسائل پائے گئے لیکن ان پر بھی چند ہفتوں سے لے کر تقریباً تین ماہ کے دوران قابو پالیا گیا۔

آر ایس یو جی کا تعلق ہارمون سے نہیں ہے اس لیے جسم کے دیگر حصوں پر اس کا کسی طرح کا کوئی اثر نہیں پایا گیا۔ ریسرچ میں شامل ڈاکٹر آر ایس شرما کا کہنا ہے کہ یہ دوا بازار میں لانے کے لیے ریگولیٹری کی اجازت ملنے کے بعد اس کے لیے دوا بنانے والی کمپنی تلاش کرنا بھی چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔ کیونکہ کوئی بھی دوا کمپنی اتنی موثر دوا فروخت کرنا نہیں چاہے گی، بالخصوص مردوں کے لیے، جو فیملی پلاننگ میں شامل ہونے سے بچتے رہتے ہیں۔

یہ سوال بھی اپنی جگہ قائم ہے کہ آر ایس یو جی کو ریگولیٹری کی اجازت کب ملتی ہے اور دوا کب اور کیسے مارکیٹ میں آتی ہے۔ کتنے مرد اس دوا کو استعمال کرنے میں دلچسپی ظاہر کریں گے، یہ بھی ایک بڑا سوال ہے۔

بھارت میں فلسطین نواز مظاہرین کے خلاف کارروائیاں

0
بھارت-میں-فلسطین-نواز-مظاہرین-کے-خلاف-کارروائیاں

اسرائیل مخالف مظاہرین کے خلاف کارروائی کا تازہ ترین واقعہ بدھ کے روز ممبئی میں پیش آیا جب پولیس نے جنوبی ممبئی میں اسرائیلی پرچم کی مبینہ توہین کرنے کے الزام میں چار افراد کو گرفتار کرلیا۔

پولیس نے یہ کارروائی بھنڈی بازار علاقے میں ایک چوراہے پر اسرائیلی پرچم کی مبینہ توہین کا ویڈیو سوشل میڈیا پر پوسٹ کیے جانے کے بعد کی۔ ممبئی پولیس کے ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ اسرائیل اور حماس میں حالیہ لڑائی شروع ہونے کے بعد سے سوشل میڈیا پر خصوصی نگاہ رکھی جارہی ہے اور امن و قانون کو نقصان پہنچانے والے کسی بھی معاملے سے سختی سے نمٹا جائے گا۔

لیکن انتظامیہ کی جانب سے کارروائیوں کے باوجود بھارت کے مختلف ریاستوں اور اہم شہروں میں فلسطینیوں کے حق میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔ جموں و کشمیر، کولکاتہ، بنگلورو سے بھی مظاہروں کی اطلاعات ہیں۔ جب کہ متعدد جماعتوں نے جنوبی ریاست تمل ناڈو کے دارالحکومت چینئی میں مظاہروں کی اپیل کی ہے۔

بی جے پی کی حکومت والی اترپردیش ریاست کے حمیر پور میں پولیس نے ایک مسلم مذہبی رہنما کو مبینہ طورپر فلسطین کی حمایت کرنے پر "منافرت پھیلانے” کے الزام میں گرفتار کرلیا ہے۔جب کہ ایک دیگر مسلم مذہبی رہنما کو تلاش کررہی ہے۔

پولیس کا دعویٰ ہے کہ مسلم مذہبی رہنما سہیل انصاری نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ وہ فلسطین کی حمایت کرتے ہیں۔ ایک دیگر پوسٹ میں انہوں نے لوگوں کو مبینہ طور پر مسجد میں جمع ہونے کی اپیل کی تھی۔ پولیس کا مزید کہنا ہے کہ "انہوں نے اپنی پوسٹ میں بعض ایسے تبصرے کیے تھے جو ممنوع ہیں اور جن سے امن وقانون کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔” ایک مقامی عدالت نے سہیل انصاری کو 14دنوں کے لیے عدالتی تحویل میں دے دیا ہے۔

قبل ازیں اترپردیش میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں فلسطینیوں کی حمایت میں جلوس نکالنے کے الزام میں چار طالب علموں کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ خیال رہے کہ ہندو قوم پرست رہنما ریاستی وزیر اعلی یوگی ادیتیہ ناتھ نے وارننگ دیتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل فلسطین کے تنازعے میں ایسا کوئی بیان یا کوئی عمل برداشت نہیں کیا جائے گا جو مرکزی (مودی) حکومت کے موقف کے خلاف ہو۔

بھارت ایک خودمختار اور آزاد فلسطین ریاست کی حمایت کرتا ہے۔ لیکن 7 اکتوبر کو حماس کی طرف سے اسرائیل پر حملے کے چند گھنٹے کے اندر ہی وزیر اعظم نریندر مودی نے ایکس پر پوسٹ اپنے بیان میں کہا کہ انہیں "ان دہشت گردانہ حملوں سے سخت صدمہ پہنچا ہے۔اور وہ مصیبت کی اس گھڑی میں اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہیں۔ "

حالانکہ بعد میں جب اس بیان پرنکتہ چینی ہونے لگی تو بھارتی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کرکے بھارت کے دیرینہ موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ، "بھارت ایک خودمختار،آزاد اور قابل عمل فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے براہ راست مذاکرات کے دوبارہ آغازکی وکالت کرتا ہے جہاں وہ اسرائیل کے ساتھ محفوظ اور تسلیم شدہ سرحدوں کے اندر ایک دوسرے کے ساتھ امن سے رہ سکیں۔”

تجزیہ کاروں نے وزیر اعظم مودی کے بیان پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کار آنند کے سہائے کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم مودی نے "دہشت گردی کی تمام شکلوں” کی مخالفت کا ذکر بنیادی طورپر پاکستان کے پس منظر میں کیا ہے۔ لیکن یہ بھارت کی فلسطین کے حوالے سے دیرینہ پالیسی کے خلاف ہے۔

دہلی کے مشہور جنتر منتر علاقے میں بھی درجنوں افراد بالخصوص جواہر لال نہرو یونیورسٹی، دہلی یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ، اساتذہ اور دانشوروں نے فلسطین کے حق میں مظاہرے کیے۔ پولیس نے کم از کم 60 مظاہرین کو حراست میں لے لیا اور بعد میں ایک دور افتادہ جگہ پر لے جا کرچھوڑ دیا۔ مظاہرین "فلسطین کے لیے امن” اور "غزہ ہم تمہارے ساتھ ہیں” کے نعرے لگا رہے تھے۔

اپوزیشن جماعتوں نے بھی فلسطین کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے باضابطہ بیانات جاری کرنے کے ساتھ ہی ایک 20 رکنی وفد کے ساتھ دہلی میں فلسطینی سفیر سے ملاقات کی۔ فلسطینی سفیر عدنان ابوالہیجا نے بعد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا،”ہمیں امید ہے کہ بھارت غزہ کے محصور کو روکنے میں اچھا کردار ادا کرے گا اور غزہ میں ہمارے لوگوں تک انسانی امداد پہنچنے میں مدد کے لیے اسرائیلی حکومت پر دباو ڈالے گا۔”

’غزہ میں حالات ٹھیک نہیں، فی الحال ہندوستانیوں کو نکالنا مشکل‘، حکومت ہند کا بیان

0
’غزہ-میں-حالات-ٹھیک-نہیں،-فی-الحال-ہندوستانیوں-کو-نکالنا-مشکل‘،-حکومت-ہند-کا-بیان

غزہ میں اسرائیل کا فضائی حملہ جاری ہے جس سے حماس-اسرائیل جنگ نے تشویشناک صورت اختیار کر لی ہے۔ اسرائیل سے تو حکومت ہند نے ’آپریشن اجئے‘ شروع کر سینکڑوں ہندوستانیوں کو وطن واپس لایا ہے، لیکن غزہ میں پھنسے کچھ ہندوستانیوں کو وہاں سے نکالنا مشکل ہو رہا ہے۔ اس درمیان حکومت ہند نے کہا ہے کہ غزہ میں 4 ہندوستانی موجود ہیں اور فی الحال جو حالات دیکھنے کو مل رہے ہیں، اس میں ان لوگوں کو وہاں سے نکالنا ٹھیک نہیں ہوگا۔

دراصل مرکزی وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باگچی کا ایک بیان سامنے آیا ہے۔ اس میں انھوں نے کہا ہے کہ ’’غزہ میں جو حالات ہیں، اس میں کسی کو نکالنا مشکل ہے۔ لیکن اگر ہمیں موقع ملا تو ہم انھیں (ہندوستانیوں کو) ضرور باہر نکال لیں گے۔‘‘ وزارت کا کہنا ہے کہ چار ہندوستانی شہریوں میں سے ایک ویسٹ بینک میں ہے۔ یہ بھی جانکاری دی گئی کہ غزہ میں کسی بھی ہندوستان کے ہلاک ہونے یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔

اس درمیان ارندم باگچی نے غزہ کے اسپتال پر ہوئے بہیمانہ حملے میں ہلاک تقریباً 500 افراد کے تئیں اپنی ہمدردی ظاہر کی اور کہا کہ ’’وزیر اعظم نے شہریوں کی اموات پر فکر ظاہر کی ہے اور کنبوں کے تئیں اظہارِ ہمدردی کی ہے۔ ہندوستان سبھی طرح کے تشدد کی مذمت کرتا ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’فلسطین ایشو پر ہم نے اپنی بات دہرائی ہے۔ ہم دونوں ممالک کے آپسی حل کی حمایت کرتے ہیں۔‘‘

دی وائر کے ایڈیٹرس سے ضبط کردہ الیکٹرانک ڈیوائز واپس کرنے کا دہلی کورٹ نے دیا حکم

0
’دی-وائر‘-کے-ایڈیٹرس-سے-ضبط-کردہ-الیکٹرانک-ڈیوائز-واپس-کیے-جائیں،-دہلی-کورٹ-کا-پولیس-کو-حکم

دہلی کی ایک عدالت نے مجسٹریٹ کورٹ کے اس حکم کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں نیوز پورٹل ’دی وائر‘ کے ایڈیٹرس سے ضبط کردہ الیکٹرانکس ڈیوائز کو واپس کرنے کا حکم دہلی پولیس کو دیا گیا تھا۔ مجسٹریٹ کورٹ کے اس حکم کے خلاف دہلی پولیس نے دہلی کے تیس ہزاری کورٹ میں عرضی داخل کی تھی، لیکن اسے ایڈیشنل سیشن جج پون سنگھ راجاوت نے مسترد کر دیا ہے۔

دراصل بی جے پی لیڈر امت مالویہ کے ذریعہ کی گئی ایف آئی آر کو پیش نظر رکھتے ہوئے دہلی پولیس نے گزشتہ سال اکتوبر ماہ میں چھاپہ ماری کی تھی اور ’دی وائر‘ کے ایڈیٹرس کے اہم الیکٹرانک ڈیوائز کو اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔ اس معاملے میں رواں سال 23 ستمبر کو چیف میٹروپولیٹن مجسٹریٹ نے حکم دیا تھا کہ سبھی الیکٹرانک ڈیوائز کو ایڈیٹرس کے حوالے کیا جائے۔ اسی حکم کے خلاف دہلی پولیس نے عرضی داخل کی تھی، لیکن مجسٹریٹ کورٹ کے حکم کو تیس ہزاری کورٹ نے برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایڈیشنل سیشن جج پون سنگھ راجاوت نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ’’پریس کو ہماری عظیم جمہوریت کا چوتھا ستون سمجھا جاتا ہے، اور اگر اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے تو یہ ہماری جمہوریت کی بنیادوں کو شدید چوٹ پہنچانے والا عمل ہوگا۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’الیکٹرانکس ڈیوائز کی مسلسل ضبطی‘ کر کے دہلی پولیس نہ صرف ایڈیٹرس کو بے جا مشکلات میں ڈال رہی ہے بلکہ یہ عمل ان کے پیشے کی آزادی کے ساتھ ساتھ اظہار رائے کی آزادی کے بنیادی حق کو بھی متاثر کرتا ہے۔

 

کھڑگے نے غزہ کے اسپتال پر بمباری کی شدید مذمت کی، ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرانے کا مطالبہ

0
کھڑگے-نے-غزہ-کے-اسپتال-پر-بمباری-کی-شدید-مذمت-کی،-ذمہ-داروں-کو-جوابدہ-ٹھہرانے-کا-مطالبہ

کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے غزہ کے ایک اسپتال اور رہائشی علاقوں میں کیے گئے ہوائی حملے کو ’نامناسب اور سنگین انسانی بحران‘ قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس کے لیے ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔ ساتھ ہی کھڑگے نے کہا کہ کانگریس فوری جنگ بندی کرنے اور غزہ کے پریشان حال لوگوں کو اخلاقی امداد دستیاب کرانے کی اپنی اپیل دہراتی ہے۔

کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں حزب مخالف لیڈر ملکارجن کھڑگے نے ایک بیان میں کہا کہ ان کی پارٹی فوری جنگ بندی اور غزہ میں بحران کے شکار لوگوں کو اخلاقی امداد دستیاب کرانے کی اپیل کرتی ہے اور سبھی فریقین سے تشدد اور جنگ کا راستہ چھوڑ کر بات چیت و سفارتی عمل شروع کرنے کا گزارش کرتی ہے تاکہ فلسطینی لوگوں کی امیدیں پوری ہوں اور اسرائیل کی تحفظ سے متعلق فکر بھی دور ہو۔

کھڑگے نے کہا کہ غزہ میں اسپتال اور رہائشی علاقوں پر اندھا دھند بمباری کے سبب سینکڑوں بے قصور مردوں، خواتین اور بچوں کی جان چلی گئی۔ یہ ’نامناسب اور سنگین انسانی بحران ہے جس کے لیے مجرمین کو جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ کانگریس نے 8 اکتوبر کو اسرائیل کے لوگوں پر حماس کے ذریعہ کیے گئے ظالمانہ حملوں کی مذمت کی تھی۔ کھڑگے کا کہنا ہے کہ ’’اسرائیلی فوجوں کے ذریعہ شہری علاقوں میں اندھا دھند کارروائی بھی ناقابل قبول ہے، جس میں غزہ پٹی کی گھیرا بندی اور وہاں بمباری کی گئی ہے۔‘‘

کانگریس صدر نے کہا کہ ’’کانگریس فلسطینی لوگوں کے حقوق کے لیے اپنی طویل مدتی حمایت کو دہراتی ہے۔ اپنے خود مختار ملک میں وقار، اعزاز اور برابری کی زندگی کے لیے فلسطینی لوگوں کی امیدیں طویل مدت سے چلی آ رہی ہیں اور پوری طرح سے جائز ہیں۔ ان امیدوں کو مستقل طور سے دبایا اور نکارا گیا ہے۔ لاکھوں فلسطینیوں کو بے دخل اور نقل مکانی کو مجبور کیا گیا ہے۔ وہ خوف کے ماحول میں رہ رہے ہیں۔‘‘

واضح رہے کہ کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ کے دوران 9 اکتوبر کو اپنے قرارداد میں کانگریس نے کہا تھا کہ سی ڈبلیو سی مغربی ایشیا میں پیدا جنگ پر اپنی مایوسی اور تکلیف ظاہر کرتی ہے جہاں گزشتہ دو دن میں ایک ہزار سے زیادہ لوگ مارے گئے ہیں۔ سی ڈبلیو سی فلسطینی لوگوں کی زمین، اپنی حکمرانی اور وقار و اعزاز کے ساتھ زندگی گزارنے کے حقوق کے لیے اپنی طویل مدت سے چلی آ رہی حمایت کو دہراتی ہے۔ سی ڈبلیو سی فوری جنگ بندی کی اپیل کرتی ہے اور سبھی زیر التوا ایشوز پر بات چیت شروع کرنے کی اپیل کرتی ہے، وہ لازمی ایشوز جنھوں نے موجودہ جنگ کو جنم دیا ہے۔