منگل, ستمبر 29, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 432

شوبھندو ادھیکاری نے پارٹی نہیں چھوڑی ہے، انہیں منانے کی کوششیں جاری رہیں گی: سوگت رائے

0

شوبھندو ادھیکاری نے آج وزیر ٹرانسپورٹ کی حیثیت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ سوگت رائے نے کہا کہ وزارت سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ ان کا ذاتی قدم ہے۔ میں ان سے بات کروں گا اور انہیں پارٹی نہ چھوڑنے کی اپیل کروں گا۔

کلکتہ: ترنمول کانگریس کے سینئر ممبر پارلیمنٹ سوگت رائے نے کہا کہ گرچہ نندی گرام سے ممبر پارلیمنٹ شوبھندو ادھیکاری وزارت سے استعفیٰ دیدیا ہے تاہم انہوں نے پارٹی نہیں چھوڑی ہے۔ انہیں منانے کی کوشش جاری رہے گی اور امید ہے کہ وہ پارٹی چھوڑ کر نہیں جائیں گے۔

خیال رہے کہ آج شوبھندو ادھیکاری نے وزیر ٹرانسپورٹ کی حیثیت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے اپنا استعفیٰ ای میل کے ذریعہ گورنر کو بھیجا جسے انہوں نے قبول کر لیا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے وزیرا علیٰ ممتا بنرجی کو خط لکھ کر ریاست کے عوام کی خدمت کرنے کے لئے شکریہ ادا کیا۔

سوگت رائے نے کہا کہ انہوں نے ابھی تک ممبر اسمبلی کے عہدے سے استعفی نہیں دیا ہے۔ اور پارٹی کی ابتدائی رکنیت سے بھی استعفیٰ نہیں دیا۔ جب تک وہ ایم ایل اے ہیں، وہ پارٹی کے ممبر ہیں۔ وزارت سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ ان کا ذاتی قدم ہے۔ میں ان سے بات کروں گا اور انہیں پارٹی نہیں چھوڑنے کی اپیل کروں گا۔ انہوں نے جمعرات کو ہوگلی ریور برج کمیشن (ایچ آر بی سی) کے چیئرمین کے عہدے سے استعفی دے دیا۔ کلیان بینرجی کو اس جگہ پر نیا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔

سوگت رائے کی شوبھندو ادھیکاری کو منانے کی ذمہ داری

سوگت رائے کو پارٹی نے شوبھندو ادھیکاری سے بات چیت کرنے اور انہیں منانے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ رائے نے ان سے ملاقات کر کے ان کی ناراضگی کے وجوہات کو جاننے کی کوشش کی۔ اطلاعات کے مطابق شوبھندو ادھیکاری میں پارٹی میں اپنے پرانے عہدے کو بحال کرنا چاہتے تھے۔ وہ کئی اضلاع کے انچارج تھے۔

اس درمیان شوبھندو ادھیکاری نے ذاتی طور پر مشرقی مدنی پور اور دیگر اضلاع میں پروگرام کرتے رہے اور اشاروں میں پارٹی قیادت کے تئیں ناراضگی ظاہر کرتے رہے۔ ایک طرف جہاں کلیان بنرجی نے شوبھندو ادھیکاری کے خلاف مورچہ کھلا تو دوسری طرف ترنمول کانگریس کے کئی ممبران پارلیمنٹ ادھیکاری کو منانے اور نرم رویہ اختیار کیا جاتا رہا۔ شوبھندو ادھیکاری نے وزارت چھوڑنے کے بعد ہلدیہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین کے عہدے سے استعفی دے دیا ہے۔

راج کوٹ کے کووڈ اسپتال میں خوفناک آتشزدگی، 5 ہلاک، 28 جھلسے

0
راج کوٹ کے کووڈ اسپتال میں خوفناک آتشزدگی، 5 ہلاک، 28 جھلسے
راج کوٹ کے کووڈ اسپتال میں خوفناک آتشزدگی، 5 ہلاک، 28 جھلسے

گجرات کے راج کوٹ کے کووڈ اسپتال میں اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ اسپتال میں کل 33 مریض داخل تھے۔ آئی سی یو میں داخل 11 مریضوں میں سے 5 کی موت ہوگئی، جبکہ دیگر 6 مریض سمیت 28 افراد جھلس گئے۔

راج کوٹ: گجرات کے شہر راج کوٹ کے مالویہ نگر علاقے میں واقع ایک کووڈ اسپتال میں جمعرات کو نصف شب میں خوفناک آتشزدگی میں پانچ افراد ہلاک اور 28 زخمی ہوگئے۔
تھانہ انچارج کے این بھوکان نے بتایا کہ آنند بنگلہ چوک کے قریب واقع تین منزلہ ادے شیوانند کووڈ سنٹر اسپتال کی پہلی منزل پر اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ اسپتال میں کل 33 مریض داخل تھے۔ واقعہ میں آئی سی یو میں داخل 11 مریضوں میں سے 5 کی موت ہوگئی، جبکہ آئی سی یو کے دیگر 6 مریضوں سمیت 28 افراد جھلس گئے۔
جھلسے ہوئے افراد کو دوسرے اسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے۔ ہلاک شدگان کی شناخت اے راٹھود (57)، رام سنگھ بھائی (65)، نتن بھائی، کیشو بھائی اکبری (50) اور رسک لال اگروات (69) کی گئی ہے۔
فائر ڈپارٹمنٹ کے اہلکاروں نے بتایا کہ فائر فائٹرز نے آگ لگنے کی اطلاع ملتے ہی چھ فائر بریگیڈ گاڑیوں کے ساتھ موقع پر پہنچ گئے۔ آگ بجھانے والے عملے نے آج صبح تقریبا چھ گھنٹے کی مشقت کے بعد آگ پر قابو پالیا۔ آگ لگنے کی وجوہات کا پتہ لگایا جا رہا ہے۔
https://twitter.com/drharshvardhan/status/1332197231051476993?s=20
مرکزی وزیر ڈاکٹر ہرش وردھن نے مرنے والوں کے لیے اپنے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ انہون نے ٹویت کرکے کہا کہ ‘گجرات کے راجکوٹ کے ایک اسپتال میں خوفناک آگ سے متعدد مریضوں کی بے وقت موت بے حد افسوسناک ہے۔ خدا سے دعا ہے کہ وہ معذور افراد کی روح کو سکون اور غمزدہ کنبہ کو صبر جمیل عطا کرے۔ اس حادثے میں زخمی مریضوں کی جلد صحت یابی کی ہم تمنا کرتے ہیں۔’
[ہمس لائیو]

مزدوروں-کسانوں کی ملک گیر ہڑتال کامیاب: سی پی آئی

0

ہزاروں کسان مزدور’گرامین بھارت بند‘ کا نعرہ لے کر اپنے مطالبات کی حمایت میں اترے۔ بینک، ایل آئی سی جنرل انشورنس، کوئلہ کان، متعدد ریاستوں کے روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن میں مکمل بندی رہی۔

نئی دہلی: کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کے سینئر لیڈر و اکھل بھارتیہ کسان مہاسبھا کے جنرل سکریٹری اتل کمار انجان نے مزدوروں اور کسانوں کی ملک گیر ہڑتال کو کامیاب قرار دیتے ہوئے جمعرات کو کہا کہ ہڑتال کے سبب پبلک سیکٹر کے ادارے اور دیہی بازار 80 فیصد بند رہے۔

جناب انجان نے یہاں ایک بیان میں کہا کہ ملک کے بینک، ایل آئی سی جنرل انشورنس، کوئلہ کان، متعدد ریاستوں کے روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن میں مکمل بندی رہی اور ہزاروں کسان مزدور’گرامین بھارت بند‘ کا نعرہ لے کر اپنے مطالبات کی حمایت میں اترے۔

انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کی معاشی پالیسیاں، بڑھتی مہنگائی، بے روزگاری اور حال ہی میں پارلیمنٹ میں پاس کئے گئے مزدور و کسان مخالف قوانین کے خلاف ملک کی ٹریڈ یونیوں اور کسان تنظیموں نے مل کر ملک گیر ہڑتال اور گرامین بھارت بند کا انعقاد کیا۔ اس سے ملک میں معاشرتی اور معاشی زندگی رک سی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ 27 نومبر کو کسانوں کے ’’دہلی چلو‘‘ کی اپیل کے تحت دہلی کو چاروں جانب سے مرکزی حکومت نے پولیس کے ذریعہ سے گھیر لیا اور لاکھوں کی تعداد میں آرہے پنجاب، ہریانہ، اترپردیش، اتراکھنڈ اور جنوب کی ریاستوں کے کسانوں کا داخلہ دارالحکومت میں تقریباً روک دیا۔

’نوار‘ طوفان سے پڈوچیری میں تباہی، درختوں اور بجلی کے کھمبے اکھڑے

0
نوار طوفان سے پڈوچیری میں تباہی، درختوں اور بجلی کے کھمبے اکھڑے
نوار طوفان سے پڈوچیری میں تباہی، درختوں اور بجلی کے کھمبے اکھڑے

پڈوچیری کے سمندری طوفان ’نوار‘ نے بدھ کی رات تمل ناڈو کے ضلع ولپورم کے مرکنم کو عبور کیا، بڑے پیمانے پر تباہی

پڈوچیری: سمندری طوفان ’نوار‘نے پڈوچیری میں بڑے پیمانے پر تباہی مچا ئی ہے ،طوفان سے متعدد مقامات پر درختوں اور بجلی کے کھمبے اکھڑنے کی اطلاعات ہیں۔

سمندری طوفان ’نوار‘نے بدھ کی رات تمل ناڈو کے ضلع ولپورم کے مرکنم کو عبور کیا۔ پڈوچیری کے ایجل نگر ، وینکٹ نگر ، بالاجی نگر اور دیگر نشیبی علاقوں میں سیلاب آ گیا ہے۔ کچھ مکانات سیلاب کی زد میں ہیں ، جس کی وجہ سے لوگ گھروں سے نکلنے سے قاصر ہیں۔

لیفٹیننٹ گورنر کرن بیدی نے واٹس ایپ پوسٹ میں بتایا ہے کہ صرف گرینڈ بازارپولیس ایریا سے سات درخت گرنے کے واقعات کی اطلاع ملی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ رینبو نگر میں ایک گھر میں بے ہوشی کی حالت میں ایک بوڑھی خاتون اور بچے کو بچایا گیا ہے۔

بارش کے دوران پڈوچیری کے متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی میں خلل پڑا، جسے بحال کردیا گیا ہے۔ سمندری طوفان کے نتیجے میں جان و مال کے نقصان کو روکنے کے لئے احتیاطی تدابیرکے اقدامات کیے گئے تھے۔ سمندری طوفان کے انتباہ دینے والے تمام نشانات کو پڈوچری بندرگاہ سے ہٹا دیئے گئے تھے۔

ادھر وزیر اعلی وی نارائن سامی آج ’نوار‘ سے ہونے والے نقصانات کاجائزہ لینے کے لئے شہر کا دورہ کر رہے ہیں۔

[یواین آئی]

کورونا وائرس سے کرہ ارض کا نظام ہوا تہہ و بالا، انسانی زندگی مفلوج

0
کورونا وائرس سے کرہ ارض کا نظام ہوا تہہ و بالا، انسانی زندگی مفلوج
کورونا وائرس سے کرہ ارض کا نظام ہوا تہہ و بالا، انسانی زندگی مفلوج

کورونا وائرس کے اس سال میں معاشرت، معیشت، سیاست، نفسیات، صحت اور تمدن میں ہوئی انقلابی تبدیلیاں۔ کورونا وائرس سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر بھی اختیار کرنا ہے اور بارگاہ الہی میں اپنے گناہوں کی تلافی بھی کرنا ہے

تحریر: ڈاکٹر یامین انصاری

صدی کی خطرناک ترین وبا کورونا وائرس کو ایک سال مکمل ہو گیا۔ نومبر 2019 میں نئے کورونا وائرس (SARS-CoV-2) نے جس زبردست وبا کووڈ19- کو جنم دیا، وہ ایک ایسا تایخی واقعہ ثابت ہوا، جس نےزمین پر بسنے والے انسانوں کی زندگی کو پوری طرح بدل کر رکھ دیا ہے۔ کرہ ارض پرتقریباً 200 ممالک آباد ہیں۔ اس وباء نے کم و بیش اور کسی نہ کسی شکل میںتقریباً ان سبھی ملکوں کو اپنا شکار بنایا ہے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ بیماری کی سب سے خطرناک شکل وباء ہوتی ہے۔ جب یہ وبا انسانی زندگیوں کو اپنی گرفت میں لیتی ہے تو پوری کی پوری سلطنتیں ختم ہو جاتی ہیں اور عوام و خواص، دونوں کی زندگی تہہ و بالا ہو جاتی ہے۔ نئے کروناوائرس کے بطن سے پھوٹی وباء نے پوری دنیا میں مختلف  انسانی شعبوں خصوصاً معاشرت، معیشت، سیاست، نفسیات، صحت اور تمدن میں انقلابی تبدیلیاں پیدا کر دی ہیں۔

اگر یہ کہا جائے کہ اس وباء نے انسانی معاشرتی زندگی مفلوج کرکے رکھ دیا ہے تو بیجا نہ ہوگا۔ یہاں تک کہ ایک ہی گھر میں رہنے والے لوگ بھی ایک دوسرے سے ’معاشرتی دوری‘ (سوشل ڈسٹینسنگ) اختیار کرنے پر مجبور ہوگئے۔ اس وبائی حملے نے بنی نوع انسان کو کئی نقصان پہنچائے، تو بہت سے نئے سبق بھی عطا کیے۔

پہلا کیس رپورٹ

چین کے شہر ووہان میں 17 نومبر 2019 کو کورونا وائرس کا پہلا کیس رپورٹ ہوا تھا۔ ہندوستان میں 30 جنوری  2020کو کورونا وائرس کا پہلا معاملہ درج کیا گیا۔ حکومت نے اس بات کی تصدیق کی چین کی ووہان یونیورسٹی سے آئے ایک طالب علم میں کورونا وائرس کی علامتیں پائی گئی ہیں۔

اس طالب علم کو کیرلہ میں طبی عملہ کی نگرانی میں رکھا گیا۔ یہ الگ بات ہے کہ سب سے پہلے ووہان میں ہی کورونا وائرس پر قابو پالیا گیا۔ کہا گیا کہ کورونا وائرس جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوا۔ جب سائنسدانوں نے ایک مریض کے جسم سے لیے جانے والے وائرس کا جائزہ لیا تو سیدھا اشارہ چمگادڑوں کی جانب کیا گیا۔ اس کے بعد بھی مختلف تحقیقات کی گئیں اور یہ جاننے کی کوشیں اب تک جاری ہیں کہ آخر اس وباء کا خاتمہ کس طرح کیا جائے۔

کورونا وائرس کی عام علامات میں نظام تنفس کے مسائل (کھانسی، سانس پھولنا، سانس لینے میں دشواری)، نزلہ، نظام انہضام کے مسائل (الٹی، اسہال وغیرہ) اور تھکاوٹ جیسی علامات شامل ہیں۔ شدید انفیکشن نمونیہ، سانس نہ آنے یہاں تک کہ موت کا سبب بن سکتا ہے۔

کورونا وائرس ایک عالمی وبا

کورونا وائرس نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا کو اپنی زد میں لے لیا اور عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے 11  مارچ 2020 کو اسے عالمی وبا قرار دیا۔ اس کے بعد عام لوگوں پر اس کا براہ راست اثر ہونا شراع ہوا۔ پھر حکومتوں کی جانب سے بھی احتیاطی اقدامات کئے گئے اور لوگوں کو اس پر عمل کرنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔

کورونا وائرس کی مزید روک تھام کے لیے سفری پابندیاں، لاک ڈاؤن، کرفیو، قرنطینہ، اجتماعات اور تقریبوں کی منسوخی، عبادت گاہوں اور سیاحتی مقامات کو مقفل کر دینے جیسے سخت اقدامات بھی کیے گئے۔ تعلیمی اداروں کو بھی بند کر دیا گیا، درس و تدریس کا سلسلہ منقطع  ہو گیا، جو آج بھی معمول پر نہیں ہے۔ اگرچہ لمبے عرصہ تک اسکول کالج بند رہنے کے سبب بچوں کی تعلیم متاثر ہوئی، تاہم آن لائن کی صورت میں اداروں نے تعلیمی نقصان کو کم کرنے کی کوشش کی۔

تعلیمی ادارے متاثر

ہندوستان میں آج بھی کوئی وثوق کے ساتھ نہیں کہہ سکتا کہ اسکول کب کھلیں گے۔ بلکہ دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے تو کہہ دیا ہے کہ جب تک ویکسین نہیں آئے گی، اسکول نہیں کھولے جائیں گے۔ کورونا وائرس اگرچہ چین سے پھیلنا شروع ہوا، لیکن سب سے زیادہ  امریکہ اور یورپی ممالک متاثر ہوئے، جبکہ ایک سال کے دوران اس مہلک وائرس سے تقریبا 13 لاکھ سے زائد زندگیاں ختم ہو گئیں۔ جبکہ دنیا بھر میں کورونا کے مریضوں کی تعداد ساڑھےپانچ کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ کورونا وائرس کی وباء نے کئی ممالک میں روزمرہ زندگی لاک ڈاؤن کردی، کاروبار ٹھپ ہو کر رہ گئے۔ متعدد ادارے بند ہو گئے۔ جس کے سبب لاکھوں اور کروڑوں لوگ ذریعہ معاش سے ہاتھ دھوبیٹھے۔

جب کورونا وائرس کا سلسلہ شروع ہوا تھا، اس وقت ایسا مانا گیا تھا کہ ایک سال میں اس وبا پر قابو پا لیا جائے گا اور کوئی نہ کوئی دوا تیار کر لی جائے گی۔  لیکن ایسا کہنے والوں نے شاید اس بارے میںنہیں سوچاکہ خالق کائنات کے آگے انسان کتنا بے بس اور لاچار ہے۔ اب ایک سال مکمل ہوچکا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ کورونا وائرس کی دوسری لہر بھی آ گئی ہے۔ امریکہ، یوروپ اور ہند و پاک وغیرہ میں اس وباء کی ہلاکت خیزی میں بھی کوئی کمی نہیں آ رہی ہے۔ لیکن آج بھی سوائے احتیاطی تدابیر کے ہمارے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے۔

ویکسین اور احتیاطی تدابیر

مختلف ویکسین ابھی بھی تیاری کے مرحلے میں ہیں اور کب تک یہ ہر متاثر شخص تک پہنچے گی، کوئی دعوے کے ساتھ نہیں کہہ سکتا۔ اسی کالم میں پہلے بھی لکھا جا چکا ہے کہ ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ کورونا وائرس پوری دنیا کے لیے خالق  کائنات کی جانب سے ایک آزمائش ہے۔ ایک ایسی آزمائش، جس میں سوچنے اور سمجھنے والوں کے لیے بہت کچھ ہے۔  اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات اقدس کے آگے پوری دنیا کے سائنسداں، تحقیق داں اور میر ترین افراد مل کر بھی سارا زور لگالیں تو انسان کو مشکلات سے نہیں نکال سکتے۔

کورونا وائرس نے ایک سال کے دوران جہاں پورا نظام زندگی بدل کر رکھ دیا ہے، وہیں کوئی بھی شخص اس وباء کے خوف سے نہیں نکل سکاہے۔ کسی بھی دنیاوی چیز کی اب کوئی اہمیت نہیں رہ گئی۔ روپیہ، پیسہ، گاڑی، بنگلہ، کاروبار، آرائش کے سامان، لگژری زندگی سب بے معنی ہو کر رہ گئی ہے۔ ایک انجانے سے خوف نے انسانوں کو دنیا کے جلووں اور رنگینیوں سے متنفر کردیاہے۔ بہر حال، ماہرین کا ماننا ہے کہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے ساتھ کورونا وائرس کی خبروں سے خود کو دور رکھیں۔

روز مرہ کی سرگرمی

ایک دوسرے کی فکر ضرور کریں، لیکن ہمیشہ کورونا کے بارے میں سوچتے رہنے سے آپ ڈپریشن یا نروس بریک ڈاؤن کا شکار ہو سکتے ہیں۔ قرآن مجید، دینی تعلیم یا پسندیدہ کتابیں پڑھ کر اپنا وقت گزاریں۔ والدین اور بیوی بچوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزاریںاور بے فکر رہنے کی کوشش کریں۔ اس سے آپ کی قوت مدافعت میں اضافہ ہو گا، جس کی آج کل بہت ضرورت ہے۔

خدا کی ذات اور اس کی رحمت پر بھروسہ کریں اور یہ یقین رکھیں کہ جس طرح ہر بلا ایک دن ٹل جاتی ہے، یہ بلا بھی ٹل جائے گی۔ ہمیں اس عالمی وباء نے بتا دیا ہے قدرت کا بنایا ہوا نظام ہی بہتر ہے، اسی میں انسان کی بھلائی ہے۔ دنیا کتنی بھی ترقی کرلے قدرت کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔

کورونا کے مجاہدین

کورونا کی وباء جہاں انسانی زندگی میں بہت سی مشکلات لے کر آئی اور اس مشکل وقت میں بھی تخریب کاروں اور شر پسندوں نے غیر انسانی سلوک کا مظاہرہ کیا، وہیں اسی کرہ ارض پر ایسے لوگ بھی سامنے آئے جنہوں نے اپنی جان کی پروا کئے بغیر دوسروں کی جان بچانے کو فوقیت دی۔

ہندوستان سمیت مختلف  ملکوں میں ڈاکٹر اور نرسیں چوبیس گھنٹے مریضوں کی جانیں بچانے اور ان کی خدمت کرنے میں مصروف رہے۔ اس دوران نہ جانے کتنے ڈاکٹر اور نرسیں کورونا وائرس کا نشانہ بن کر چل بسے، مگر انہوں نے اپنے فرض سے منہ نہیں موڑا اور پوری استقامت سے وباء کا مقابلہ کرتے رہے۔

اسی طرح دیگر شعبہ ہائے زندگی میں بھی انسانیت نواز افراد نے  اپنے اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے اس وبا کے شکار لوگوں کی ہر طرح سے مدد کی۔ ایثار اور ہمدردی کی مثالیں قائم کرنے والے انہی افراد نے کرہ ارض میں ایک امید کی کرن پیدا کی ہے۔ انہوں نے ثابت کردیا کہ جب بنی نوع انسان کو غیر معمولی حالات کا سامنا ہو تو دنیا بھر کے مردو خواتین اپنی توانائی مشکل حالات کا مقابلہ کرنے میں صرف کردیتے  ہیں۔

ترکی میں دسمبر سے کورونا وائرس کے ٹیکے لگائے جائیں گے: رجب طیب ایردوان

0

صدر رجب طیب ایردوان  نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ ہم اگلے مہینے سے ہی ویکسین کا استعمال شروع کر سکتے ہیں۔

انقرہ: صدر رجب طیب ایردوان نے بدھ کو کہا ہے کہ ترکی میں دسمبر سے کورونا وائرس کے ٹیکے لگائے جانے کی امید ہے۔

ترکی کے وزارت صحت کے مطابق ترکی چینی کمپنی سینوویک سے ویکسین کی ایک کروڑ خوراک خریدنا چاہتا ہے۔

جناب ایردوان نے ترکی کی پارلیمنٹ میں بتایا کہ ’’ہم روس، چین، امریکہ اور دیگر ممالک میں ٹیکوں کے ڈویلپمنٹ کی باریکی سے نگرانی کر رہے ہیں اور پہلے ہی ایک ابتدائی حکم دے چکے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ ہم اگلے مہینے سے ہی ویکسین کا استعمال شروع کر سکتے ہیں۔‘‘

بہار اسمبلی: بی جے پی کے وجے سنہا 17 ویں اسمبلی کے اسپیکر منتخب

0

 

بہار اسمبلی میں آج اسپیکر عہدہ کیلئے کرائے گئے انتخاب میں بی جے پی کے وجے سنہا کو 126 اور مہا گٹھ بندھن کے راشٹریہ جنتادل (آر جے ڈی) امیدوار اوودھ بہاری چودھری کو 114 ووٹ حاصل ہوئے۔

پٹنہ: قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کی جانب سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے وجے سنہا نے آج اپوزیشن جماعتوں کے مہا گٹھ بندھن کے امیدوار اوودھ بہاری چودھری کو شکست دے کر 17 ویں اسمبلی کے اسپیکر منتخب کئے گئے۔

اسمبلی میں آج اسپیکر عہدہ کیلئے کرائے گئے انتخاب میں بی جے پی کے مسٹر وجے سنہا کو 126 اور مہا گٹھ بندھن کے راشٹریہ جنتادل (آرجے ڈی) امیدوار مسٹر چودھری کو 114 ووٹ حاصل ہوئے۔

مسٹر سنہا کے حق میں این ڈی اے کی حلیف بی جے پی کے 74، جنتادل یونائٹیڈ (جے ڈی یو) کے 43، ہندوستانی عوام مورچہ (ہم) کے 04، ویکاس شیل انسان پارٹی (وی آئی پی) کے 04 اور ایک آزاد رکن اسمبلی نے ووٹ کیا۔ مسٹر سنہا کو لوک جن شکتی پارٹی (ایل جے پی) کے ایک اور آزاد رکن کی حمایت ملی لیکن ہم کے جیتن رام مانجھی کے پروٹیم اسپیکر ہونے کی وجہ سے وہ ووٹنگ میں حصہ نہیں لے سکے۔

وہیں مسٹر چودھری کو مہا گٹھ بندھن کی حلیف آر جے ڈی کے 75، کانگریس کے 19، سی پی آئی ایم ایل کے 12، سی پی آئی اور سی پی آئی ایم کے 2-2، آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے پانچ اور بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کے ایک سمیت 116 اراکین کی حمایت ملی۔ لیکن دو اراکین کے ووٹنگ میں حصہ نہیں لینے کی وجہ سے مسٹر چودھری کو 114 ووٹ ملے۔

احمد پٹیل کا انتقال، صدر جمہوریہ، وزیر اعظم و گاندھی خاندان کا اظہار تعزیت

0
کانگریس کے قدآور لیڈر احمد پٹیل کا انتقال
کانگریس کے قدآور لیڈر احمد پٹیل کا انتقال

کانگریس کے سینئر رہنما احمد پٹیل کا انتقال ہوگیا۔ ان کے بیٹے فیصل پٹیل نے ٹویٹر پر اپنے والد کے انتقال کی اطلاع دی۔ جناب پٹیل ایک ماہ قبل کورونا سے متاثر ہوئے تھے۔ انہیں 15 نومبر کو میدانتا اسپتال کے آئی سی یو میں داخل کرایا گیا تھا۔

نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما احمد پٹیل کا بدھ کی صبح ساڑھے تین بجے انتقال ہوگیا۔ انہیں گروگرام کے میدانتا اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا جہاں انہوں نے اپنی آخری سانس لی۔ علاج کے دوران ان کے کئی اعضا نے کام کرنا بند کردیا تھا۔

ان کے بیٹے فیصل پٹیل نے ٹویٹر پر اپنے والد کے انتقال کی اطلاع دی۔

فیصل نے لکھا، ’’ایک ساتھ کئی اعضا نے کام کرنا بند کردیا تھا جس کی وجہ سے ان کا انتقال ہوگیا۔ اپنے سبھی خیر خواہوں سے اپیل کرتا ہوں کہ اس وقت کورونا وائرس کے اصولوں پر سختی سے عمل کریں اور سماجی دوری کے سلسلے میں پرعزم رہیں اور کسی بھی اجتماعی انعقاد میں جانے سے بچیں۔‘‘

71 سالہ جناب پٹیل ایک مہینے پہلے کورونا وائرس سے متاثر ہوئے تھے۔ انہیں 15 نومبر کو میدانتا اسپتال کے آئی سی یو میں داخل کرایا گیا تھا۔

وزیر اعظم کا احمد پٹیل کے انتقال پر اظہار تعزیت

وزیراعظم نریندر مودی نے کانگریس کے سینئر رہنما احمد پٹیل کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا ہے۔مسٹر پٹیل کا کورونا وائرس کے انفیکشن کی وجہ سے گڑگاؤں کے میدانتا اسپتال علاج چل رہا تھا جہاں ان کی موت ہوگئی۔

جناب مودی نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ "احمد پٹیل جی کے انتقال سے دکھی ہوں۔انہوں نے عوامی زندگی میں طویلے وقت تک سماج کی خدمت کی ہے۔ اپنے تیز دماغ کےلئے جانے جانے والوں مسٹر پٹیل کا کانگریس پارٹی کو مضبوط کرنے میں تعاون ہمیشہ یاد کیا جائےگا۔”

ان کے بیٹے فیصل سے بات کرکے اپنی تعزیت کا اظہار کیا۔ ایشور سے دعا کی ہے کہ احمد بھائی کی روح کو سکون پہنچے۔

صدر جمہوریہ کا اظہار تعزیت

صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند نے کانگریس کے سینئر رہنما احمد پٹیل کے انتقال پر گہری تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ مسٹر کووند نے بدھ کو ٹویٹ کے ذریعہ دئے گئے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا،’’کانگریس کے سینئر رہنما احمد پٹیل کے انتقال کے سلسلے میں جان کر دکھ ہوا۔ مسٹر پٹریل نہ صرف اہل رکن پارلیمنٹ تھے،بلکہ ان میں بہترین سیاست داں کی صلاحیت اور عوامی رہنما کا جادو بھی تھا۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ "اپنے دوستانہ جذبے کی وجہ سے پارٹی کے باہر بھی انہوں نے دوست بنائے تھے۔ ان کے گھروالوں اور دوستوں کو میری تعزیت۔”

سونیا گاندھی کا اظہار غم

کانگریس صدر سونیا گاندھی نے پارٹی کے سینئر لیڈر احمد پٹیل کے انتقال پر گہری تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ کانگریس کے لئے مختص اور بھروسے مند رہنما تھے اور ان کے انتقال سے پارٹی کو بڑا نقصان ہوا ہے۔

محترمہ گاندھی نےیہاں جاری تعزیتی پیغام میں کہا کہ "مسٹر احمد پٹیل کی شکل میں ،میں نے اپنا ایک ایسا ساتھ کھو دیا ہے جس کی زندگی کانگریس کو مختص رہی ہے۔ ان کی ایمانداری ،قربانی اور کام کے تئیں جو عزم رہا ہے وہ انہیں دوسروں سے الگ رہنما کے طورپرپیش کرتا ہے۔”


انہوں نے کہا،’’ میں نے ایک ایسا پرعزم ساتھ اور دوست کھو دیا ہے جس کا متبادل ممکن نہیں ہے ۔ میں ان کے انتقال سے صدمے میں ہوں اور سوگوار کنبے کےتئیں تعزیت کا اظہار کرتی ہوں۔” ادھر راہل گاندھی نے کہا کہ انہوں نے سچا مشیر کھو دیا۔ پرینکا گاندھی و دیگر کانگریس رہنماؤں نے بھی اظہار تعزیت کیا۔

کانگریس پارٹی کے رہنماؤں کے تعزیت کے علاوہ بی جے پی، ایس پی، بی ایس پی رہنماؤں نے بھی جناب احمد پٹیل کے انتقال پر گہرے رنج کا اظہار کیا ہے۔

جناب احمد پٹیل کی سیاسی زندگی

سونیا گاندھی کے سیاسی مشیر رہے حناب پٹیل کی پیدائش 21 اگست 1949 کو گجرات میں بھروچ ضلع کے پیرامل گاؤں میں ہوئی تھی۔ اس وقت بھروچ کانگریس کا گڑھ ہوا کرتا تھا۔ وہ پہلی بار 1977 میں 26 سال کی عمر میں بھروچ سے لوک سبھا کا الیکشن جیت کر پارلیمنٹ پہنچے تھے۔ جناب پٹیل یہاں سے تین لوک سبھا رکن پارلیمنٹ منتخب کئے گئے۔ پارٹی میں رفتہ رفتہ ان کا قد بڑھتا گیا اور 1985 میں اس وقت کے وزیراعظم راجیو گاندھی کے پارلیمانی سکریٹری بنائےگئے۔

جناب پٹیل کو 1986 میں گجرات کانگریس کا صدر بنایا گیا۔ وہ 1988 گاندھی – نہرو خاندان کے ذریعہ چلائے گئے جواہر بھون ٹرسٹ کے سکریٹری بنائے گئے۔ وہ سونیا اور راجیو دونوں کے بھروسے مند شخص رہے۔ وہ تین بار لوک سبھا رکن پارلیمنٹ بننے کے علاوہ پانچ بار راجیہ سبھا رکن بھی رہ چکے تھے۔ پردے کے پیچھے سے سیاست کرنے والے جناب پٹیل کو 2018 میں کانگریس پارٹی کا خزانچی مقرر کیا گیا تھا۔

لو جہاد قانون بنانے والے محبت سے ناآشنا: ابھیشیک مشرا

0
لو جہاد قانون بنانے والے محبت سے ناآشنا: ابھیشیک مشرا
لو جہاد قانون بنانے والے محبت سے ناآشنا: ابھیشیک مشرا

ابھیشیک مشرا نے کہا کہ حکومت میں کسان اور بے روزگار نوجوان پریشان ہیں۔ جرائم کے سبھی ریکارڈ ٹوٹ چکے ہیں۔ بیٹیاں، خواتین غیر محفوظ ہیں اور جو ‘پیار’ کے مطلب سے ناآشنا ہیں وہ لو جہاد قانون بنا رہے ہیں۔

اٹاوہ: اترپردیش میں حکمراں جماعت کی جانب سے مجوزہ لو جہاد قانون پر سوال اٹھاتے ہوئے سماج وادی پارٹی(ایس پی) لیڈر و سابق کابینہ وزیر ابھیشیک مشرا نے کہا کہ جو ‘پیار’ کے مطلب سے ناآشنا ہیں وہ لوجہاد قانون بنا رہے ہیں۔

جناب مشرا منگل کو میڈیا نمائندوں سے بات چیت میں کہا کہ اس حکومت میں کسان اور بے روزگار نوجوان پریشان ہیں۔ جرائم کے سبھی ریکارڈ ٹوٹ چکے ہیں۔ بیٹیاں، خواتین غیر محفوظ ہیں۔ ریاست کے ہر شہر میں جرائم اپنی شباب پر ہے۔ قتل، لوٹ اور عصمت دری کے واقعات عام ہوچکے ہیں۔ ریاست میں جنگل راج قائم ہے۔

اکھلیش یادو کو ریاست کی کمان سونپنے کا دعویٰ

انہوں نے دعوی کیا کہ سال 2022 کے اسمبلی انتخابات میں عوام ریاست کا نظام بدل کر اکھلیش یادو کو ریاست کی کمان سونپیں گے۔

انہوں نے کہا ‘ہم لوگ سماج وادی حکومت کے ذریعہ کرائے گئے ترقیاتی کاموں کو عوام سے متعارف کرا رہے ہیں۔ 2022 کے انتخابات میں عوام ریاست کا نظام تبدیل کرنے والے ہیں۔ عوام میں اکھلیش یادو کو ایک بار پھر اترپردیش کا وزیر اعلی بنانے کی گفتگو عام ہے۔

ایس پی لیڈر نے کہا کہ بیشک ابھی اترپردیش میں اسمبلی انتخابات کی آہٹ نہ ہو لیکن اس کے باوجود ابھی سے ہی ہر جانب ریاست کے نئے وزیر اعلی کے طور پر ایس پی کے سربراہ اکھلیش یادو کے نام موضوع گفتگو ہے۔ ریاست میں حکمراں جماعت بی جے پی کی عوام مخالف پالیسیوں سے خفا عوام اب ایک بار پھر سے ریاست میں سماج وادی حکومت کی امید کرنے لگے ہیں۔

بی جے پی پر نشانہ لگاتے ہوئے جناب مشرا نے کہا کہ بی جے پی حکومت میں برہمنوں کا استحصال ہورہا ہے۔ آئے دن برہمنوں کا قتل ہورہا ہے۔ وزیر اعلی یوگی نے برہمن سماج کے خلاف مہم کھول رکھی ہے۔

ٹرمپ نے مان لی شکست، نو منتخب صدر بائیڈن کی انتظامیہ کو ملی اقتدار کی منتقلی کی منظوری

0

 

امریکہ میں صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹ امیدوار جوزف بائیڈن کو فاتح قرار دیئے جانے کے کوئی دو ہفتے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلی بار شکست تسلیم کی ہے۔ ٹرمپ نے نو منتخب صدر بائیڈن کی انتظامیہ کو اختیارات منتقلی کی منظوری دے دی۔

واشنگٹن: انجام کار صدر امریکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے نو منتخب صدر جوزف بائیڈن کی انتظامیہ کو اختیارات منتقلی کی منظوری دے دی۔ اس کے ساتھ ہی شش و پنج کا وہ ماحول ختم ہوا جو ٹرمپ کے مسلسل ٹال مٹول کا نتیجہ تھا۔

جنرل سروس ایڈمنسٹریشن کی سربراہ ایملی مرفی نے تحریری طور پر نو منتخب امریکی صدر جو بائیڈن کو آگاہ کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ اقتدار کی باضابطہ منتقلی کا عمل شروع کرنے پر راضی ہو گئی ہے۔

ایملی مرفی کا ئی مکتوب مل جانے کے بعد اب بائیڈن انتطامیہ حکومت سازی کے لئے سرکاری فنڈ استعمال کرنے کی متحمل ہو گئی ہے۔ نومنتخب صدر جو بائیڈن نے اقتدار کی پرامن منتقلی کو خوش آئند قرار دیا ہے۔

امریکہ میں صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹ امیدوار جو بائیڈن کو فاتح قرار دیئے جانے کے کوئی دو ہفتے بعد صدر ٹرمپ نے اس اولین اقدام کے ذریعہ پہلی بار شکست تسلیم کی ہے۔

ایملی مرفی کے مکتوب کے مطابق یہ فیصلہ قانون اور دستیاب حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ صدر ٹرمپ کا بہر حال کہنا ہے کہ جہاں تک قانونی جنگ کا سوال ہے تو وہ جاری رہے گی۔