من کی بات: زرعی اصلاحات کے قوانین نے امکانات کے نئے دروازے کھولے: مودی
تلنگانہ: کورٹلہ سوشل ویلفیئر ریزیڈنشل کالج میں 75طالبات کورونا سے متاثر
کالج کے عہدیداروں نے طالبات سے آن لائن کلاسس میں شرکت کے لئے نصابی کتب حاصل کرنے کے مقصد سے کالج آنے کو کہا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ کالج آنے والی طالبات وقفہ وقفہ سے بخار سے متاثر ہوگئیں اور 250 میں سے 75 طالبات کورونا سے مثبت پائی گئیں۔
حیدرآباد: تلنگانہ کے ضلع جگتیال کے کورٹلہ میں 75طالبات کورونا سے متاثر پائی گئیں جس سے والدین اور عہدیداروں میں تشویش کی لہر دوڑگئی ہے۔ یہ واقعہ کورٹلہ سوشل ویلفیر ریزیڈنشل کالج میں پیش آیا۔
ذرائع نے بتایا کہ کالج کے عہدیداروں نے طالبات سے خواہش کی کہ وہ آن لائن کلاسس میں شرکت کے لئے نصابی کتب حاصل کرنے کالج آئیں۔ بتایا جاتا ہے کہ کالج کو آنے والی طالبات وقفہ وقفہ سے بخار سے متاثر ہوگئیں اور 250 میں سے 75 طالبات کورونا سے مثبت پائی گئیں۔
عہدیداروں نے طالبات سے خواہش کی کہ وہ اقامتی ہاسٹل میں ہی رہیں۔ ان کے لئے تمام انتظامات کئے جائیں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ اساتذہ بھی اس سے متاثر ہوگئے ہیں۔
لندن میں لاک ڈاؤن کے خلاف مظاہرہ میں 60 افراد گرفتار
برطانیہ میں کورونا وبا کے آغاز کے بعد سے ہی لاک ڈاؤن کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں۔ اس سے قبل نومبر میں پولیس نے لاک ڈاؤن کے خلاف احتجاج کے دوران 190 مظاہرین کو گرفتار کیا تھا۔
امریکہ کا ممبئی حملہ کے مجرم ساجد پر50 لاکھ ڈالر کےانعام کا اعلان
امریکی محکمہ خارجہ نے ابھی دو روز قبل ہی ایک بیان جاری کیا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ ہندوستان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔
نئی دہلی: امریکہ نے 2008 کے ممبئی دہشت گردانہ حملہ کے قصوروار اور لشکر طیبہ کے دہشت گرد ساجد میرکے بارے میں معلومات دینے والے کو 50لاکھ ڈالر کے انعام کا اعلان کیا ہے۔
’یوایس ایوارڈز فار جسٹس پروگرام‘ کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق ساجد میر پاکستانی شدت پسند تنظیم لشکر طیبہ کا فعال ممبر ہے اور نومبر 2008 میں ممبئی میں ہونے والے دہشت گرد انہ حملے میں مطلوب ہے۔
میر کو کسی بھی ملک میں سزا دیئے جانے یا اس کی گرفتاری کے بارے میں مطلع کرنے والے شخص کو 50 لاکھ ڈالر کا انعام دیا جائے گا۔
خیال کیا جاتا ہے کہ میر پاکستان میں موجود ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے ابھی دو روز قبل ہی ایک بیان جاری کیا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ ہندوستان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔
قابل غور ہے کہ 26 نومبر 2008 میں شدت پسند تنظیم لشکر طیبہ کے 10 عسکریت پسند ممبئی میں داخل ہوئے اور انہوں نے ہندوستان کے معاشی دارالحکومت میں متعدد اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے حملے کئے۔ ان حملوں میں چھ امریکی شہریوں سمیت 166 افراد مارے گئے۔
عام آدمی پارٹی کی کسانوں کی حمایت میں مَوڑ منڈی میں اگلے ماہ ہونے والی ریلیاں ملتوی
جرنیل سنگھ نے کہا کہ پہلے یہ امید تھی کہ 26-27 کے دن کسانوں کی تحریک کے پیش نظر مودی حکومت مطالبات تسلیم کرے گی۔ مودی حکومت کے ہٹ دھرمی کے رویے کے سبب یہ تحریک طول پکڑ سکتی ہے لہٰذا یہ ریلیاں ملتوی کر دی گئی ہیں۔
چنڈی گڑھ: پنجاب عام آدمی پارٹی (اے اے پی) نے کسان، مزدور، تاجر بچاؤ مہم کے تحت دسمبر کے مہینے میں موڑ منڈی میں کی جانے والی ریلیاں ملتوی کر دی ہیں۔
پنجاب امور کے پارٹی انچارج جرنیل سنگھ نے آج یہاں ایک بیان میں کہا کہ کسان تحریک کی حمایت میں یہ ریلیاں ملتوی کر دی گئی ہیں۔ ملک کا کسان دہلی میں اپنے مطالبات کے سلسلے میں تحریک چلا رہا ہے۔ اسی کا خیال کرتے ہوئے پارٹی نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ چار، 13 اور 20 دسمبر کی ریلیاں ملتوی کر دی گئی ہیں۔ ان ریلیوں کی اگلی تاریخ بعد میں اعلان کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی رہنما، والنٹیئرز بڑی تعداد میں کسانوں کی دہلی میں جاری مظاہرے میں شامل ہیں۔ پہلے یہ امید تھی کہ 26-27 کے دن کسانوں کی تحریک کے پیش نظر مودی حکومت مطالبات تسلیم کرے گی۔ مودی حکومت کے ہٹ دھرمی کے رویے کے سبب یہ تحریک طول پکڑ سکتی ہے لہٰذا یہ ریلیاں ملتوی کر دی گئی ہیں۔
ان کے مطابق کسان ہمارے ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ ان کی جانب سے اپنے حقوق کے لیے چلائی جانے والی تحریک عام آدمی پارٹی کے رہنما اور والنٹیئرز بغیر پارٹی کے بینر جھنڈے کے اس میں حصہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہلی کی کیجریوال حکومت کی جانب سے کسانوں کی ہر ممکن مدد کی جائے گی۔
لو جہاد: یوگی حکومت کے تبدیلی مذہب مخالف آرڈیننس کو یوپی گورنر کی منظوری
آرڈیننس پر گورنر نے جمعہ کو اپنے دستخط کردئیے تھے۔ آرڈیننس کا نوٹیفکیشن محکمہ داخلہ کے ذریعہ ہفتہ کو جاری کیا گیا اور آرڈیننس میں بین مذہبی شادی کے لئے اجازت طلب کرنے کی غرض سے عرضی کا ایک ڈرافٹ بھی شامل کیا گیا ہے۔
لکھنؤ: اترپردیش کی گورنر نے ریاست کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ حکومت کی جانب سے مبینہ لو جہاد کو روکنے کے لئے کابینہ کے ذریعہ منظور کئے گئے تبدیلی مذہب آرڈیننس کو آج اپنی منظوری فراہم کردی جس کے ساتھ ہی یہ ریاست میں نافذ العمل ہوگیا۔
آفیشیل ذرائع نے یہاں بتایا کہ اس آرڈیننس پر گورنر نے جمعہ کو اپنے دستخط کردئیے تھے۔ آرڈیننس کا نوٹیفکیشن محکمہ داخلہ کے ذریعہ ہفتہ کو جاری کیا گیا۔ آرڈیننس میں بین مذہبی شادی کے لئے اجازت طلب کرنے کی غرض سے عرضی کا ایک ڈرافٹ بھی شامل کیا گیا ہے۔
وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کی صدارت میں گذشتہ منگل کو ہوئی کابینی میٹنگ میں کابینہ نے ‘غیر قانونی تبدیلی مذہب مانع آرڈیننس 2020’ کو منظوری فراہم کی تھی۔ تاکہ ریاست میں ایسے قانون کو نافذ کیا جاسکے جس کے تحت جبری تبدیلی مذہب، شادی کے لئے بہلا پھسلا کر مذہب تبدیل کرانے جیسے عمل کو قابل سزا اور غیر ضمانتی جرم قرا ر دیا جاسکے۔
تبدیلی مذہب مخالف آرڈیننس کی تفصیل
تبدیلیِ مذہب کی صورت میں اس کو چیلنج کرنے والے کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ اس ضمن میں ثبوت فراہم کرے۔ نئے قانون کے مطابق دو مختلف مذاہب والے جوڑے کو شادی سے 2 مہینے قبل ڈسٹرک مجسٹریٹ کو اپنی شادی کے لئے اجازت لینے کی غرض سے نوٹس دینی ہوگی۔ بغیر اجازت کے بین مذہبی شادی کرنے کی صورت میں 6 ماہ سے 3 سال کی جیل اور 10ہزار روپئے جرمانہ کی سزا کا مستحق ہوگا۔ شادی سے قبل نام چھپانے کی صورت میں 10سال کی قید کی سزا قانون میں رکھی گئی ہے۔
آفیشیل ذرائع نے بتایا کہ تبدیلی مذہب کو سزاوار اور غیر ضمانتی جرم میں رکھا گیا ہے۔ اس سے متعلق کیس کی سماعت فرسٹ کلاس مجسٹریٹ کی عدالت میں ہوگئی۔ قانون کی تجاویز کے مطابق ایسی تمام شادیاں جو تبدیلی مذہب کی مقصد سے کی جائیں گی وہ غیرقانونی قرار دیا جائے گا۔ جبکہ بڑے پیمانے پر تبدیلی مذہب کی صورت میں اس متعلقہ تنظیم کے رجسٹریشن کو منسوخ کردیا جائے گا۔
نئے قانون کے مطابق ایسے معاملے جس میں ایس سی ایس ٹی سماج کی خاتون نے مذہب تبدیل کیا ہوگا تو ایسی صور ت میں سخت سزا کی شق رکھی گئی ہے۔ایسی صورت میں 3 تا 5 سال کی جیل اور 25 ہزار روپے کی سزا ہوسکتی ہے۔ عام صورتحال میں قانونی دفعات کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ایک تا 5 سال کی قید اور 15 ہزار روپے کا جرمانہ ہوسکتا ہے۔ جبکہ بڑے پیمانے پر تبدیلی مذہب کی صورت میں کم سے کم 3 سال اور زیادہ سے زیادہ 10 سال کی جیل اور 50 ہزار روپے کا جرمانہ عائد کیا جائےگا۔
مجلس کے فلور لیڈر اکبرالدین اویسی اور بی جے پی صدر بنڈی سنجے کے خلاف معاملہ درج
سنجے کمار نے مجلس کے دفتر دارالسلام کو دو گھنٹے میں بی جے پی کارکنوں کے ساتھ منہدم کردینے کی دھمکی دی تھی اور اکبرالدین اویسی نے ٹینک بنڈپر واقع سابق وزیر اعظم پی وی نرسمہا راؤ کی سمادھی اور این ٹی آر گھاٹ کو منہدم کرنے کا مطالبہ کیا تھا
حیدرآباد: حیدرآباد سٹی پولیس نے بی جے پی کے ریاستی صدر بنڈی سنجے اور تلنگانہ اسمبلی میں مجلس کے فلورلیڈر اکبرالدین اویسی کے خلاف معاملات درج کئے ہیں۔
یہ معاملات،ان دونوں کی تقاریر پر درج کئے گئے۔ اشتعال انگیز بیان دینے پر ایس آر نگر پولیس نے آئی پی ایس کے سیکشن 505 کے تحت معاملہ درج کرلیا ہے۔ ایرہ گڈا ڈویژن کے روڈ شو میں شریک سنجے کمار نے مجلس کے دفتر دارالسلام کو دو گھنٹے میں بی جے پی کارکنوں کے ساتھ منہدم کردینے کی دھمکی دی تھی اور انہوں نے پرانا شہر میں سرجیکل اسٹرائیک کرنے کا بھی متنازعہ بیان دیا تھا۔
اسی طرح، اکبرالدین اویسی نے غیر مجاز قبضوں کو برخواست کرنے کے لئے پہلے ٹینک بنڈپر واقع سابق وزیر اعظم پی وی نرسمہا راؤ کی سمادھی اور این ٹی آر گھاٹ کو منہدم کرنے کا مطالبہ کیا تھا جسے اشتعال انگیز بیان قرار دیتے ہوئے پولیس نے ازخود کاروائی کے تحت دونوں لیڈروں کے خلاف معاملہ درج کیا ہے۔
محسن فخری زادہ: ایران کے ٹاپ جوہری سائنسداں کا قتل
محسن فخری زادہ وہ واحد ایرانی سائنسدان تھے جن کا نام ایران کے جوہری پروگرام اور اس کے مقصد سے متعلق سوالات کے حوالے سے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے 2015 کے ’حتمی تجزیے‘ میں شامل تھا۔
تہران: ایران کے ٹاپ جوہری سائنسدان محسن فخری زادہ کو دارالحکومت تہران کے قریب فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا۔ دہشت گردوں نے محسن فخری زادہ کی کار کو نشانہ بنایا۔ جس میں تجربہ کار سائنسدان شدید طور پر زخمی ہوگئے۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران کی وزارت دفاع نے اطلاع دی ہے کہ جدید اسلحوں سے لیس دہشت گردوں نے دماوند کاؤنٹی کے ابسرد شہر میں سینئر جوہری سائنسدان محسن فخری زادہ کی کار کو نشانہ بنایا۔ فخری زادہ کے محافظوں اور دہشت گردوں کے مابین فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں تجربہ کار سائنسدان شدید طور پر زخمی ہوگئے۔
زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال میں داخل کرایا گیا لیکن تمام تر کوششوں کے باوجود ڈاکٹروں کی ٹیم اسے بچا نہیں سکی۔
محسن فخری زادہ کو مغرب، اسرائیل اور ایران کے جلاوطن دشمنوں کی جانب سے ایران کے ایٹمی ہتھیاروں کے خفیہ پروگرام کا مشتبہ ماسٹر مائنڈ قرار دیا جاتا تھا، حالانکہ طویل عرصے سے جوہری ہتھیار بنانے کی تردید کرتا آیا ہے۔
ایرانی میڈیا نے مسلح افواج کے بیان کے حوالے سے کہا، ’’بدقسمتی سے طبی ٹیم ان کی جان نہیں بچا سکی اور چند لمحے قبل محسن فخری زادہ نے کئی برسوں کی محنت اور جدوجہد کے بعد شہادت کا اعلیٰ مقام حاصل کرلیا‘‘۔
محسن فخری زادہ کو اقوام متحدہ کے ایٹمی واچ ڈاگ اور امریکی انٹیلی جنس سروسز کی جانب سے ایران کے جوہری ہتھیاروں کے مربوط پروگرام کا سربراہ سمجھا جاتا تھا۔ تاہم ایران کا موقف رہا ہے کہ اس نے یہ پروگرام 2003 میں ملتوی کردیا تھا۔
Terrorists murdered an eminent Iranian scientist today. This cowardice—with serious indications of Israeli role—shows desperate warmongering of perpetrators
Iran calls on int'l community—and especially EU—to end their shameful double standards & condemn this act of state terror.
— Javad Zarif (@JZarif) November 27, 2020
ایران کے وزیر خارجہ جاوید ظریف نے ٹویٹ کرکے کہا ہے کہ ‘دہشت گردوں نے آج ایک نامور ایرانی سائنس دان کا قتل کر دیا ہے۔ یہ ایک بزدلانہ حرکت ہے جس میں اسرائیلی کردار کے اشارے ملتے ہیں، مجرموں کو شدت سے دیکھتی ہے۔ ایران نے عالمی برادری اور خاص طور پر یورپی اتحاد سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اپنے شرمناک دوہرے معیارات کو ختم کریں اور ریاستی دہشت گردی کے اس اقدام کی مذمت کریں۔’
محسن فخری زادہ واحد ایرانی سائنسدان
محسن فخری زادہ وہ واحد ایرانی سائنسدان تھے جن کا نام ایران کے جوہری پروگرام اور اس کے مقصد سے متعلق سوالات کے حوالے سے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے 2015 کے ’حتمی تجزیے‘ میں شامل تھا۔
آئی اے ای اے کا کہنا تھا کہ محسن فخری زادہ، نام نہاد عمَد منصوبے کے تحت ایران کے جوہری پروگرام کی ممکنہ فوجی جہت کے حوالے سے سرگرمیوں کی نگرانی کر رہے تھے۔
اسرائیل نے بھی عمد منصوبے کو ایران کا جوہری ہتھیاروں کا خفیہ پروگرام قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اس نے ایران کی جوہری ’آرکائیو‘ تفصیلات کے بڑے حصے تک رسائی حاصل کر لی ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے 2018 میں اپنی ایک تقریر کے دوران آرکائیو سے حاصل ہونے والی تفصیلات کا انکشاف کرتے ہوئے کہا تھا، ’’یہ نام یاد رکھیں، فخری زادہ، جو عمد کے سربراہ ہیں‘‘۔
ان کا کہنا تھا کہ عمد کو بند کرنے کے بعد محسن فخری زادہ، ایرانی وزارت دفاع کے ماتحت تنظیم میں ’خصوصی منصوبوں‘ پر کام جاری رکھے ہوئے تھے۔
اس واقعہ کے بعد اسلامک ریولیوشنری گارڈ کارپس کے میجر جنرل حسین سلامی نے کہا ’’جوہری سائنسدانوں کا قتل کرنے اور ہمیں جدید سائنس تک پہنچنے سے روکنے کی یہ واضح کوشش ہے‘‘۔
صومالیہ میں دہشت گردانہ حملے میں 6 افراد ہلاک، 12 زخمی
یہ حملہ سیکیورٹی کے ایک اعلی افسر اور انٹیلی جنس افسر کو نشانہ بنا کر کیا گیا تھا جس میں کم از کم 6 افراد ہلاک اور 12 زخمی ہوگئے۔ ایتھوپیائی سفارت خانے کا ایک عملہ بھی ہلاک ہوا ہے۔
مغربی بنگال: یکم دسمبر سے میڈیکل کالجوں میں کلاسز شروع
مغربی بنگال میں یکم دسمبر سے میڈیکل کالجوں میں کلاسز شروع ہوجائیں گے۔ مارچ میں لاک ڈاؤن کا اعلان ہونے کے بعد سے ہی ریاست کے میڈیکل کالجوں میں کلاسز نہیں ہو رہے ہیں۔
کلکتہ: مغربی بنگال کے تمام میڈیکل کالجوں میں یکم دسمبر سے کلاسز دوبارہ شروع ہوجائیں گے۔
ریاستی محکمہ صحت کے ایک سینئر عہدیدار نے یہ بتایا کہ انفیکشن کی روک تھام کے بعد طبی تعلیمی اداروں کی کلاسیں مرحلہ وار انداز میں شروع ہوں گے۔
خیال رہے کہ مارچ میں لاک ڈاؤن کا اعلان ہونے کے بعد سے ہی ریاست کے میڈیکل کالجوں میں کلاسز نہیں ہو رہے ہیں۔










