منگل, ستمبر 29, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 419

 کسان تحریک 31 واں دن بھی جاری، کسانوں کا آج ’یوم پھٹکار‘ منانے کا فیصلہ

0
 کسان تحریک 31 واں دن بھی جاری، کسانوں کا آج ’یوم پھٹکار‘ منانے کا فیصلہ
 کسان تحریک 31 واں دن بھی جاری، کسانوں کا آج ’یوم پھٹکار‘ منانے کا فیصلہ

’یوم پھٹکار‘ حکومت کی بے حسی اور کسانوں کے گذشتہ سات ماہ کے احتجاج اور سردی میں دہلی کے ایک مہینے کے دھرنے کے باوجود مطالبات نہ ماننے کیلئے کیا جا رہا ہے۔ حکومت کسانوں کے ’تین زرعی قوانین‘ اور ’بجلی بل 2020‘ کو منسوخ کرنے کے مطالبے کو حل نہیں کرنا چاہتی۔

نئی دہلی: بھارتیہ کسان سنگھرش سمنویہ سمیتی (اے آئی کے ایس سی سی) نے اپنی سبھی اکائیوں سے 26 دسمبر کو جب دہلی کے خلاف احتجاج کا ایک ماہ مکمل ہورہا ہے ’یوم پھٹکار‘ اور ’امبانی و اڈانی کی سروسز اور مصنوعات کے بائیکاٹ‘ کی شکل میں کارپوریٹ یوم احتجاج منانے کی اپیل کی۔

’یوم پھٹکار‘ حکومت کی بے حسی اور کسانوں کے گذشتہ سات ماہ کے احتجاج اور سردی میں دہلی کے ایک مہینے کے دھرنے کے باوجود مطالبات نہ ماننے کیلئے کیا جا رہاہے۔ تنظیم نے الزام لگایا ہے کہ حکومت کسانوں کے ’تین زرعی قوانین‘ اور ’بجلی بل 2020‘ کو منسوخ کرنے کے مطالبے کو حل نہیں کرنا چاہتی۔

کسان قائدین قانون واپس کروا کر ہی اپنے گھروں کو واپس جائیں گے

آئی کے ایس سی سی ورکنگ گروپ نے کہا کہ حکومت کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ کھلے دل اور ہمدردی کے ساتھ مذاکرات کررہی ہے۔ اس کا دماغ مکمل طور پر بند ہے اور وہ قوانین میں کچھ اصلاحات پر قائم ہے۔ وہ ملک کے عوام کو دھوکہ اور کسانوں کی تحریک کو بدنام کرنا چاہتی ہے۔ اس کا منصوبہ ہے کہ یہ ظاہر کرکے کہ کسان مذاکرات کیلئے نہیں آرہے ہیں، وہ کسانوں کے حوصلہ کو توڑ دے یہ تحریک ناکام ہوجائے گی۔ ورکنگ گروپ کا کہنا ہے کہ کسان قائدین نے کبھی بھی مذاکرات سے انکار نہیں کیا۔ انہیں کوئی جلدی نہیں ہے اور وہ قانون واپس کروا کر ہی اپنے گھروں کو واپس جائیں گے۔

24 دسمبر کو حکومتی خط میں 3 دسمبر کی بات چیت میں نشانزد ایشوز کا بار بار حوالہ دیاگیا ہے، جن کے بارے میں حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے ایشوز کو حل کردیا ہے اور وہ ’دوسرے ایشوز‘ کی مانگ کررہے ہیں جن پر کسان گفت و شنید کرناچاہتے ہیں۔

اے آئی کے ایس سی سی نے کہا ہے کہ کسان یونینوں کے جواب میں، انہوں نے اس بات پر زور دیا تھا کہ حکومت نے ہی قوانین کے شقوں پر اعتراضات کا مطالبہ اٹھایا تھا۔ انہیں نشانزد کرنے کے ساتھ ہی کسان رہنماؤں نے واضح طور پر کہا تھا کہ ان قوانین کے تحت یہ شقیں کسانوں کی اراضی اور مارکیٹ کی سیکیورٹی پر حملہ کرتی ہیں اور کارپوریٹ اور غیر ملکی کمپنیوں کے ذریعہ کاشتکاری کے بازار میں داخلے کی ہمنوائی کرتی ہیں۔ انھیں یہ اسٹریٹجک، نقطہ نظر، مقصد اور آئینی بنیاد پر قبول نہیں ہے، لیکن حکومت نے جان بوجھ کر اسے نظرانداز کیا۔

حکومت گذشتہ سات ماہ سے جاری جدوجہد کے مسئلے کو حل کرنے پر راضی نہیں

یہ بات واضح ہے کہ حکومت گذشتہ سات ماہ سے جاری جدوجہد کے مسئلے کو حل کرنے پر راضی نہیں ہوئی ہے، جس میں دو لاکھ سے زائد کسان گذشتہ 30 دنوں سے غیر معینہ مدت کی ہڑتال پر بیٹھے ہیں۔

دھرنا و مظاہرہ کی چہار جانب سے طاقت بڑھ رہی ہے اور کسان کئی مہینوں کی تیاری کے بعد یہاں آئے ہیں۔ اس احتجاج و مظاہرہ میں قرب و جوار کے علاقوں اور دور دراز کی ریاستوں سے کسانوں کی شرکت بڑھ رہی ہے۔ آج مہاراشٹر سے 1000 کسانوں کا ایک جتھا شاہجہاپور پہنچا ہے، جبکہ اتراکھنڈ کے 1000 سے زیادہ کسان غازی پور کی طرف روانہ ہوچکے ہیں۔ دو سو سے زیادہ اضلاع میں باقاعدہ احتجاج اور مستقل دھرنے و مظاہرے کئے جارہے ہیں۔

اے آئی کے ایس سی سی نے حکومت کی ہٹ دھرمی والے رویے کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ حکومت کسانوں کے مستقبل، ان کی بقاء اور سردی کی وجہ سے ان کی دکھوں اور پریشانیوں سے بھی بے نیاز ہے۔ اے آئی کے ایس سی سی نے ہریانہ، اتر پردیش، مدھیہ پردیش کی بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت کے استحصال اور ظلم و زیادتی کی شدید مذمت کی ہے۔ ہریانہ کے 13 کسانوں کے ذریعہ وزیر اعلی منوہر لال کھٹر کی مخالفت کرنے پر ان تیرہ کسانوں کیخلاف دفعہ 307 کا مقدمہ درج کیا گیا ہے، جو حقیقی احتجاج و مخالفت کو دبانے کیلئے کیا گیا ہے جس سے احتجاج میں اضافہ ہوگا۔

کسان تحریک کو تیز کرنے کی کوششیں، کسان تنظیموں کے نمائندوں کا دارالحکومت آنا شروع

0
کسان تحریک کو تیز کرنے کی کوششیں، کسان تنظیموں کے نمائندوں کا دارالحکومت آنا شروع
کسان تحریک کو تیز کرنے کی کوششیں، کسان تنظیموں کے نمائندوں کا دارالحکومت آنا شروع

متحدہ کسان مورچہ کا اجلاس آج ہونے والا ہے، جس میں حکومت کی جانب سے مذاکرات کی تجویز اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

نئی دہلی: زرعی اصلاحاتی قوانین کے خلاف کسان تنظیموں کا احتجاج آج 31 واں دن بھی جاری ہے۔

کسانوں کی تنظیم قومی دارالحکومت کی سرحدوں پر مسلسل مظاہرہ کر رہی ہے۔ دریں اثنا، سرحدوں پر سیکیورٹی سخت کردی گئی ہے۔

متحدہ کسان مورچہ کا اجلاس آج ہونے والا ہے، جس میں حکومت کی جانب سے مذاکرات کی تجویز اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

کسان تنظیموں کے نمائندوں نے دارالحکومت آنا شروع کردیا ہے۔ یہ لوگ پنجاب، ہریانہ، اتر پردیش، اتراکھنڈ اور بہت سی دوسری ریاستوں سے آ رہے ہیں۔

اسے بھی پڑھیں:

کسان تحریک سے 14 ہزار کروڑ روپے کا نقصان، حکومت سے جلد سے جلد احتجاج کو ختم کرنے کا مطالبہ

شمس الرحمن فاروقی کی موت سے ممبئی کے ادبی حلقوں میں گہرے رنج و غم کا اظہار

0

شمس الرحمن فاروقی کے انتقال کی خبر کے بعد ممبئی کے ادبی حلقوں میں گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ برصغیر ہندوپاک میں اردو زبان اور ادب کا یہ سب سے بڑا نقصان ہے۔

 

ممبئی: مشہور و معروف اردو شاعر، نقاد اور مصنف اور محمد حسین آزاد کی مشہور زمانہ کتاب آب حیات کے انگریزی مترجم ڈاکٹر شمس الرحمن فاروقی کے آج الہ آباد میں انتقال کی خبر کے بعد ممبئی کے اردو ادبی حلقوں میں گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ برصغیر ہندوپاک میں اردو زبان اور ادب کا یہ سب سے بڑا نقصان ہے۔

معروف شاعر و نغمہ نگار، صحافی حسن کمال

مشہور و معروف شاعر و نغمہ نگار اور صحافی حسن کمال نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شب خون کے ذریعہ ان کی ادبی خدمات کو بھلایا نہیں جاسکتے۔ انہوں رسالہ میں حسن کمال کا ایک گیت شائع کیاتھا۔ حسن کمال کا نام اسی وجہ سے لوگوں نے جانا اور شہرت حاصل کی۔ ان سے اکثر ملاقاتیں ہو تی تھیں۔ممبئی میں قیام کے دوران بھی تعلقات بنے رہے۔

شخصیت نہایت مہربان تھے۔ ان کے مہذب انداز کا ذکر کرتے ہوئے حسن کمال نے کہا کہ ادبی اختلاف پر مشتمل ہوجانے کے بجائے وہ مدلل طریقے سے جواب دیتے تھے اور سامنے والوں کو متاثر کرتے تھے۔ اور یہ اعتراف کیا کہ اردو ادب کے بارے میں ان سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا، وہ ایک عالم تھے۔

روزنامہ ممبئی اردو نیوز کے مدیر شکیل رشید

معروف صحافی اور روزنامہ ممبئی اردو نیوز کے مدیر شکیل رشید نے کہا "میرا خیال ہے کہ یہ اردو زبان و ادب کا سب سے بڑا نقصان ہے۔ یہ برصغیر ہندوپاک کا نقصان ہے، ایک عہد کا خاتمہ ہوگیا ہے۔ میری ان سے کئی ملاقاتیں ہوئی تھیں، زبان کی معمولی معمولی غلطیاں بلاجھجک سدھارتے تھے اور میں سمجھتا ہوں کہ اردو زبان اور ادب کا اتنا قدآور کوئی نہیں بچا ہے۔” انہوں نے کہا کہ ہمیشہ نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے رہے۔

ممبئی میں انجمن اسلام اردو ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عبدالستار دلوی

ممبئی میں انجمن اسلام اردو ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر اور سابق ایچ او ڈی اردو ڈپارٹمنٹ کے صدر ڈاکٹر عبدالستار دلوی نے کہا کہ شمس الرحمن فاروقی حالیہ دور کے بہت دانشور و نقاد تھے۔ انہوں نے اردو زبان کے فروغ اور اس کی بقاء کے لئے اہم اقدامات کیے اور کئی میدانوں میں کام کیا اور اس مت میں کامیاب بھی رہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آئی اے ایس افسر اور پوسٹ ماسٹر جنرل کے عہدہ پر فائز رہتے ہوئے بھی انہوں نے اردو کے لیے جو خدمات کی۔ اور اردو ادب کے ساتھ ساتھ عالمی ادب پر بھی گہری نظر رکھتے تھے۔ ایک قابل اور لائق مصنف ہے اور یہ ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ مرحوم پروفیسر شمس الرحمن فاروقی نے محمد حسین آزاد کی تصنیف آب حیات کا ایک اردو داں امریکی خاتون مصنف فرانسیس رچرڈ کے ساتھ انگریزی میں ترجمہ کیا، وہ خود بھی انگریزی میں ایم اے تھے۔

ممبئی یونیورسٹی کے سابق کارگزار صدر شعبہ اردو ڈاکٹر یونس اگاسکر

معروف مصنف اور ممبئی یونیورسٹی کے سابق کارگزار صدر شعبہ اردو ڈاکٹر یونس اگاسکر نے کہا کہ وہ ایک پہلو دار شخصیات کے مالک تھے، اپنے رسالہ شب خون کے ذریعہ جس طرح اردو زبان و ادب کی خدمت کی ہے اس کی ہمیشہ پذیرائی کی۔ انہوں نے اردو کے ابتدائی ادوار پر ریسرچ کرتے ہوئے یہ بتایا کہ ہندی زبان کسی بھی طرح سے فطری طور پر نہیں پنپی ہے، بلکہ اسے سرکاری سرپرستی میں آگے بڑھایا گیا۔ انہیں 21 ویں صدی میں بھی انہیں شہرت حاصل رہی۔ اس میں تخلیقی اپچ بھی تھی اور ذہانت بھی رہی۔ وہ کبھی بھی بندھے ٹکے انداز میں ادب پر بات نہیں کرتے تھے بلکہ مدلل انداز میں بات کرتے تھے۔

اردوزبان میں ترقی پسند ادب کے بعد جدید یا نئے ادب کو فروغ دینے میں ان کا اہم رول رہا ہے۔

رسالہ اردو چینل کے مدیر اعلیٰ ڈاکٹر قمر صدیقی

رسالہ اردو چینل کے مدیر اعلیٰ ڈاکٹر قمر صدیقی نے شمس الرحمن فاروقی کا انتقال اردو ادب کا ناتلافی نقصان قرار دیتے ہوئے مرحوم کے ساتھ اپنے بہتر تعلقات کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ اردو ادب میں تنقید کو نئے انداز میں متعارف کرایا۔ اور تنقید کو ایک سمت عطا کی وہ بے مثال ہے۔ فاروقی صاحب جدیدیت کے رجحان کی سرپرستی کی۔ رسالہ شب خون کے ذریعہ زبان اور ادب کی خدمات ایک مثال ہے۔

قمر صدیقی نے مزید کہا کہ یہ اردو ادب کے لیے اس صدی کا بڑا صدمہ ہے۔ تقریبا 25 سال کے تعلقات رہے۔ زبان کے تعلق سے بڑے حساس تھے اور معمولی غلطی بھی برداشت نہیں کرتے تھے۔ کتنی بھی بڑی شخصیت سامنے ہو اسے ٹوک دیتے تھے۔

چین میں اویغور مسلمانوں پر ہو رہے مظالم کی تحقیقات کرے گا امریکہ

0

چین میں اویغور مسلمانوں کی جبراً نسبندی کرنا، انہیں حراستی مراکز میں رکھنا اور زبردستی مزدوری کروانا جیسی اذیتیں دی جارہی ہیں۔ جس کی بنیاد پر امریکہ نے چین پر اویغور مسلمانوں کے قتل عام کا الزام عائد کیا ہے۔

واشنگٹن: امریکہ نے چین میں اویغور مسلمانوں پر عائد کی جا رہی مختلف پابندیوں کو اقلیتی برادری کی نسل کشی قرار دیتے ہوئے اس کی تفصیلی تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ بات امریکی انتظامیہ کے ایک عہدیدار نے جمعرات کے روز بتائی۔

خبر رساں ایجنسی کیوڈو کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے عالمی فوجداری انصاف کے سفیر مورسے ٹین کو اویغور مسلمانوں پر ہورہی اذیتوں کی تحقیقات کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ مسٹر ٹین محدود وقت میں اس کی جانچ کرکے جلد ہی اپنی رپورٹ پیش کریں گے۔

اقوام متحدہ کے قوانین کے مطابق کسی بھی اقلیتی برادری کے لوگوں کا بڑی تعداد میں قتل عام ہونا اور اس کی آبادی کو کنٹرول کرنے کے لئے اٹھائے جا رہے اقدامات کو نسل کشی کے زمرہ میں شمار کیا جائے گا۔

امریکہ، چین کے سنکیانگ خودمختار خطے میں اقلیتی اویغور مسلمانوں پر ہو رہے مظالم کے پیش نظر بیجنگ پر مسلسل انسانی حقوق کی پامالی کا الزام عائد کرتا رہا ہے۔ چین میں اویغور مسلمانوں کی جبراً نسبندی کرنا، انہیں حراستی مراکز میں رکھنا اور زبردستی مزدوری کروانا جیسی اذیتیں دی جارہی ہیں۔ جس کی بنیاد پر امریکہ نے چین پر اویغور مسلمانوں کے قتل عام کا الزام عائد کیا ہے۔

برطانیہ، جنوبی افریقہ میں کورونا وائرس کی نئی شکل و صورت سے نائب صدر کو متعارف کرایا گیا

0

ڈاکٹر مشرا نے مسٹر نائیڈو کو بتایا کہ اس بات کی تحقیقات کی جارہی ہیں کہ ہندوستان میں کورونا وائرس کی نئی شکل موجود ہے یا نہیں۔

حیدرآباد: سنٹر فار سیلولر اینڈ مالی کیولر بایولوجی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر راکیش مشرا نے جمعرات کو یہاں نائب صدر ایم وینکیا نائیڈو سے ملاقات کرکے انہیں حال ہی میں برطانیہ اور جنوبی افریقہ میں ملے کورونا وائرس کی نئی شکل و صورت سے واقف کرایا۔

ڈاکٹر مشرا نے نائب صدر کو بتایا کہ کورونا وائرس کی نئی شکل سے ٹیکوں کے اثرات میں تبدیلی کا امکان کم ہے۔ اس کے علاوہ ایسا کوئی ثبوت نہیں ہے جو بتاتا ہو کہ نئی شکل مریضوں کے لئے زیادہ نقصان دہ ہے حالانکہ وہ زیادہ متعدی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وائرس کی اس شکل سے بھی اسی طرح نپٹا جاسکتا ہے جس طرح اس کی پہلی شکل سے نپٹنے کی تیاری کی جارہی ہے۔

نائب صدر نے سی سی ایم بی میں کورونا وائرس کی نئی شکل کے ہندوستان میں ہونے والے اثرات اور وائرس کے مختلف پہلوؤں پر کئے جارہے کاموں کے بارے میں معلومات کی خواہش ظاہر کی تھی۔ 

یہاں جاری ایک سرکاری بیان کے مطابق اس موقع پر سی سی ایم بی کے سینئر سائنسداں ڈاکٹر کے لکشمی راو بھی موجود تھے۔

ڈاکٹر مشرا نے مسٹر نائیڈو کو بتایا کہ اس بات کی جانچ کی جا رہی ہے کہ ہندوستان میں کورونا وائرس کی نئی شکل موجود ہے یا نہیں۔

انسانی اخوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلم کانسٹیبل نے بیمار عورت کو پیٹھ پر بٹھا کر 6 کلومیٹر پیدل چل کر اسپتال پہنچایا

0

مسلم کانسٹیبل ارشد نے لارڈ وینکٹیشورا سوامی کے درشن کے لئے انامایامارگم کی سمت پیدل چل رہی 58 سالہ شردھالو ناگیشور ماں کو پیٹھ پر بٹھا کر 6 کلومیٹر پیدل چل کر اسپتال پہنچایا۔

حیدرآباد: ایک انسانی اخوت کے مظاہرہ میں ایک مسلم کانسٹیبل نے اے پی کے تروملا ہلز کی مشہور مندر جانے کے دوران بیمار ہوئی ضعیف خاتون کو اپنی پیٹھ پر بٹھا کر تقریبا 6 کلومیٹر تک پیدل چلتے ہوئے اس کو چتور ضلع کے راجم پیٹ کے قریب واقع اسپتال میں داخل کروایا۔

اطلاعات کے مطابق 58 سالہ شردھالو ناگیشور ماں، لارڈ وینکٹیشورا سوامی کے درشن کے لئے انامایامارگم کی سمت پیدل چل رہی تھی تاہم راستہ میں ہی وہ بی پی کے زیادہ ہونے کی وجہ سے بے ہوش ہوکر گر گئی۔ یہ خاتون مدد کی منتظر تھی کہ اسپیشل پولیس پارٹی سے تعلق رکھنے والا مسلم کانسٹیبل جس کی شناخت شیخ ارشد کے طور پر کی گئی ہے، وہاں پہنچا۔ ارشد اس پہاڑی پر ڈیوٹی کررہا تھا۔ اس ضعیف خاتون کو اونچائی پر پہنچانے کیلئے کسی بھی قسم کے دوسرے ٹرانسپورٹ ذرائع نہ ہونے پر ارشد نے اس ضعیف بیمار خاتون کو اپنی پیٹھ پر بٹھالیا اور 6 کیلومیٹر پیدل چلتے ہوئے اس کو راجم پیٹ کے پرائیویٹ اسپتال میں داخل کروایا۔

اس خاتون کو اپنی پیٹھ پر بٹھا کر لے جانے والے کانسٹیبل کی تصاویر اس راستہ سے گذرنے والوں نے لیتے ہوئے اس کو سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمس پر پوسٹ کردیا۔ ان تصاویر میں دکھایا گیا ہے کہ یہ کانسٹیبل ضعیف خاتون کو پہاڑی راستوں سے کافی احتیاط کے ساتھ اپنی پیٹھ پر سوار کرتے ہوئے لے جارہا ہے۔ کانسٹیبل کے اس قدم کی ڈی جی پی گوتم سوانگ نے ستائش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانسٹیبل کا یہ قدم اپنے فرض کے تئیں جذبہ پیدا کرنے والا ہے۔

امریکہ میں اب تک 10 لاکھ سے زیادہ لوگ لے چکے ہیں کورونا ویکسین کی پہلی خوراک

0
امریکہ میں 10 لاکھ سے زیادہ لوگ لے چکے ہیں کورونا ویکسین کی پہلی خوراک
امریکہ میں 10 لاکھ سے زیادہ لوگ لے چکے ہیں کورونا ویکسین کی پہلی خوراک

امریکہ میں 10 دن قبل کورونا ویکسین کی سپلائی اور ٹیکہ کاری کا عمل شروع ہونے کے بعد سے اب تک 10 لاکھ سے زیادہ لوگوں کو پہلی خوراک دی جاچکی ہے۔

واشنگٹن: امریکہ میں 10 لاکھ سے زیادہ لوگ کورونا وائرس کو روکنے والی ویکسین کی پہلی خوراک لے چکے ہیں۔

بیماری پر کنٹرول اور روک تھام کے مرکز (سی ڈی سی) کے ڈائریکٹر رابرٹ ریڈ فیلڈ نے ایک بیان میں یہ اطلاع دی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ میں 10 دن قبل کورونا ویکسین کی سپلائی اور ٹیکہ کاری کا عمل شروع ہونے کے بعد سے اب تک 10 لاکھ سے زیادہ لوگوں کو پہلی خوراک دی جا چکی ہے۔

مسٹر ریڈ فیلڈ نے ملک کے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ جب تک کووڈ ویکسین دستیاب نہ ہو جائے تب تک ماسک پہننے اور دیگر احتیاط برتنے میں کوتاہی نہ برتیں۔

دوا ساز کمپنی فائزر ۔ بایواینٹیک اور ماڈرنا نے امریکہ میں ہفتے کے آخر تک دو ٹیکوں کے لئے ایک کروڑ ویکسین کی سپلائی کی ہے۔

ایک نظر ادھر بھی: 

جنوری تک کورونا کی چار کروڑ ویکسین تیار ہوگی: امریکہ

ایتھوپیا میں مسلح افراد کے حملے میں 90 سے زائد افراد ہلاک 

0
ایتھوپیا میں مسلح افراد کے حملے میں 90 سے زائد افراد ہلاک 
ایتھوپیا میں مسلح افراد کے حملے میں 90 سے زائد افراد ہلاک 

مشرقی افریقی ملک ایتھوپیا میں کچھ نامعلوم بندوق برداروں کے حملے میں 90 سے زائد افراد کی موت ہوگئی۔ حملہ آوروں نے اس وقت حملہ کیا جب لوگ اپنےگھروں میں سو رہے تھے۔

عدیس ابابا: مشرقی افریقی ملک ایتھوپیا کے مغربی صوبہ بینشانگول گوموز میں کچھ نامعلوم بندوق برداروں کے حملے میں 90 سے زائد افراد کی موت ہوگئی۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق حملہ آوروں نے بدھ کے روز بیکوزی کیبلے، بولین وریڈا اور میٹیکل علاقوں میں اس وقت حملہ کیا جب لوگ اپنےگھروں میں سو رہے تھے۔

نیشنل عدیس اسٹینڈرڈ نیوز میگزین نے ایک عینی شاہد کے حوالے سے بتایا کہ "لوگوں کا قتل کیا گیا اور ان کے گھروں کو لوٹا گیا۔ ایک دیگر شاہدین نے بتایا کہ علاقے کے باشندوں نے پولیس کو حملے کی اطلاع دی تھی لیکن پولیس کے پہنچنے سے پہلے حملہ آور فرار ہوچکے تھے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ ایتھوپیا کے مغربی علاقے میں متعدد قبائلی گروہ آباد ہیں۔ یہاں حملہ آور امہارا برادری کے لوگوں کو اپنا نشانہ بناتے ہیں۔ ایتھوپیا کے ہیومن رائٹس کمیشن نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

اسے بھی پڑھیں:

نائیجیریا میں اسکول پر نامعلوم ہتھیار بند افراد کا حملہ، تقریباً 400 بچوں کا اغوا

مغربی بنگال میں مدھیامک اور ہائر سیکنڈری کے امتحانات جون میں ہوں گے: وزیر تعلیم

0

وزیر تعلیم پارتھو چٹرجی نے آج اعلان کیا ہے کہ مغربی بنگال سیکنڈری اور ہائر سیکنڈری امتحانات جون میں ہوں گے۔ امتحانات کے شیڈول 2021 میں جاری کئے جائیں گے۔

کلکتہ: مغربی بنگال کے وزیر تعلیم پارتھو چٹرجی نے آج اعلان کیا ہے کہ مغربی بنگال بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن (ڈبلیو بی بی ایس ای) مدھیامک (کلاس 10) اور ہائر سیکنڈری (کلاس 12) بورڈ کے امتحانات یکے بعد دیگرے جون میں منعقد ہوں گے۔

ریاستی وزیر نے کہا کہ مدھیامک پرکچھا اور ایچ ایس ای کونسل نے یہ تجویز پیش کی ہے کہ بورڈ امتحانات جون میں منعقد کرائے جائیں۔ وزیر تعلیم نے بتایا کہ امتحان کا شیڈول 2021 میں جاری کیا جائے گا۔

گذشتہ روز مرکزی وزیر تعلیم رمیش پوکھریال نے ملک بھر کے متعدد اساتذہ سے بات چیت کے دوران اعلان کیا تھا کہ اگلے سال جنوری یا فروری میں سی بی ایس ای بورڈ کے کسی بھی امتحانات کا انعقاد نہیں کیا جائے گا کیونکہ ملک میں کووڈ 19 کے معاملات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

تعلیمی سال 2020 کے چھٹی سے نویں جماعت کے طلباء کو بغیر امتحان کے ترقی

اس سے قبل مغربی بنگال بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن نے کورونا وائرس کی وجہ سے ڈبلیو بی بی ایس ای سے وابستہ اسکولوں میں بغیر کسی سالانہ امتحان کے 2020 کے تعلیمی سال کے لئے چھٹی سے نویں جماعت کے طلباء کو اگلی کلاس میں ترقی دینے کا فیصلہ کیا تھا۔

اسکولوں کے دوبارہ کھولنے کی ممکنہ تاریخ کے بارے میں ریاستی حکومت کی طرف سے کوئی ہدایت سامنے نہیں آیا ہے۔ وزیر تعلیم پارتھو چٹرجی نے پہلے کہا تھا کہ کووڈ 19 میں صورتحال بہتر ہونے کے بعد حکومت اس معاملے میں رائے لے گی۔

چٹرجی نے مزید کہا تھا کہ جیسے نصاب کمیٹی کی سفارش کی گئی ہے مدھیامک (کلاس 10) اور ہائر سیکنڈری (کلاس 12) نصاب کے 30 فیصد کو کم کیا جائے گا کیونکہ کورونا وائرس کی وجہ سے مارچ سے ہی ملک بھر کے تعلیمی ادارے بند ہیں۔

اگر کوئی بالغ اپنی پسند کی شادی اور مذہب تبدیل کرتا ہے تو کسی کو بھی مداخلت کرنے کا کوئی حق نہیں: کلکتہ ہائی کورٹ

0

19 سالہ لڑکی کے ذریعہ اپنی پسند کے لڑکے سے شادی کئے جانے کے بعد کلکتہ ہائی کورٹ میں والد نے عرضی دائر کرتے ہوئے کہا تھا کہ لڑکی کو گمراہ کرکے شادی کی گئی ہے۔

کلکتہ: بیٹی کی شادی کو رد کرنے کی والد کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے کلکتہ ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ اگر کوئی بالغ اپنی پسند کے مطابق شادی اور مذہب تبدیل کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو اس میں کسی کو بھی مداخلت کرنے کا حق نہیں ہے۔

19 سالہ لڑکی کے ذریعہ اپنی پسند کے لڑکے سے شادی کئے جانے کے بعد کلکتہ ہائی کورٹ میں والد نے عرضی دائر کرتے ہوئے کہا تھا کہ لڑکی کو گمراہ کرکے شادی کی گئی ہے۔ ان کے ذریعہ ایف آئی آر درج کئے جانے کے بعد مجسٹریٹ کے سامنے ان کی بیٹی کا جو بیان درج کرایا تھا وہ مناسب ماحول نہیں تھا۔

اس عرضی پر سماعت کرتے ہوئے جسٹس سنجیب بنرجی اور جسٹس ارجیت بنرجی پر مشتمل ڈویژن بنچ نے کہا کہ اگر کوئی بالغ اپنی پسند کے مطابق شادی کرتا ہے اور اس کے آبائی گھر میں منتقل ہونے اور آبائی گھر واپس نہیں آنے کا فیصلہ کرتا ہے تو اس معاملے میں کوئی مداخلت نہیں کرسکتا ہے۔

والد کی شکایت پر ہائی کورٹ کی ہدایت

والد کی شکایت پر ہائی کورٹ نے ہدایت دی تھی کہ خاتون تہتہ میں سینئر ترین ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کے سامنے بیان دیں۔ بنچ نے کہا کہ ایڈیشنل جج کے سامنے لڑکی کے بیانات دینے کے باوجود والد کے شبہات ختم نہیں ہوئے ہیں۔ والد کی نمائندگی کرنے والی وکیل، سسمیتا سہا دتہ نے ڈویژن بنچ کے سامنے دعویٰ کیا کہ شوہر ندیا ضلع کے تہتہ میں عدالت کے احاطے میں موجود تھا جب خاتون جج کے سامنے پیش ہوئی تھیں۔

بنچ نے ہدایت کی کہ والدین کے شبہات کو ختم کرنے کے لئے 23 دسمبر کو ایڈیشنل پبلک پراسٹیکوسر باپولی سے ملاقات کرے گی۔ بنچ نے کہا کہ جب لڑکی باپولی سے ملاقات کریں گی اس وقت اس کے شوہر سمیت کمرے میں کوئی شخص موجود نہیں رہے گا۔ اس معاملے کی کی 24 دسمبر کو دوبارہ سماعت ہوگی۔ باپولی عدالت میں مختصر رپورٹ پیش کریں گے۔