بدھ, ستمبر 30, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 412

ٹرمپ حالیہ واقعات کیلئے خود کو معاف نہ کریں: اٹارنی جنرل

0
ٹرمپ حالیہ واقعات کیلئے خود کو معاف نہ کریں: اٹارنی جنرل
ٹرمپ حالیہ واقعات کیلئے خود کو معاف نہ کریں: اٹارنی جنرل

6 جنوری کو مسٹر ٹرمپ کے ہزاروں حامیوں نے کیپیٹل ہلس بلڈنگ پر حملہ کردیا تھا جہاں کانگریس صدارتی انتخابات کے نتائج کی تصدیق کرنے کی کوشش کررہی تھی۔ مسٹر ٹرمپ نے اپنے حامیوں کو انتخابی عمل کو روکنے کے لئے لڑنے کو کہا تھا۔

واشنگٹن: امریکی انتظامیہ کے دو سابق سینئر ارکان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ خود کو معاف نہ کریں۔ سی این این نے یہ رپورٹ دی ہے۔

میڈیا رپورٹوں میں مختلف ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ سابق اٹارنی جنرل ولیم بر نے گزشتہ ماہ اپنے استعفی سے قبل مسٹر ٹرمپ کو صورتحال سے واقف کرایا تھا، جبکہ وائٹ ہاؤس کے ایک دیگر افسر پیٹ سپولون نے بھی صدر کو اسی طرح کا مشورہ دیا ہے۔

ذرائع کو اس سلسلے میں شبہ ہے کہ نائب صدر مائک پنس، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اشتعال انگیز تقریر کے بعد کیپیٹل ہلس پر ہوئے حملے کے لئے مسٹر ٹرمپ کو معاف کریں گے۔

واضح رہے کہ چھ جنوری کو مسٹر ٹرمپ کے ہزاروں حامیوں نے کیپیٹل ہلس بلڈنگ پر حملہ کردیا تھا جہاں کانگریس صدارتی انتخابات کے نتائج کی تصدیق کرنے کی کوشش کررہی تھی۔ مسٹر ٹرمپ نے اپنے حامیوں کو انتخابی عمل کو روکنے کے لئے لڑنے کو کہا تھا۔

رپورٹ کے مطابق مسٹر ٹرمپ کی حال ہی میں اپنے اور اپنے کاروباریوں کو معاف کرنے کی بات سامنے آئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صدر کے پاس خود کو معاف کرنے کی طاقت ہے لیکن خود کو معافی کرنا صرف فیڈرل کرائم تک ہی محدود ہے۔

انڈین یونین مسلم لیگ نے قومی اقلیتی کمیشن کو اہم مطالبات پر مشتمل عرضداشت سونپا

0
انڈین یونین مسلم لیگ نے قومی اقلیتی کمیشن کو اہم مطالبات پر مشتمل عرضداشت سونپا
انڈین یونین مسلم لیگ نے قومی اقلیتی کمیشن کو اہم مطالبات پر مشتمل عرضداشت سونپا

انڈین یونین مسلم لیگ کے اے ایم محمد ابوبکر ایم ایل اے نے اقلیتی برادری کے مسائل پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے بلائی گئی میٹنگ میں شرکت کی اور انڈین یونین مسلم لیگ کی جانب سے مندرجہ ذیل مطالبات پر مشتمل ایک عرضداشت سونپا۔

چنئی: گورنمنٹ گیسٹ ہاؤس، چیپاک، چنئی میں قومی اقلیتی کمیشن کے ساتھ اقلیتی برادری کے مسائل پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے بلائی گئی میٹنگ میں انڈین یونین مسلم لیگ کے اے ایم محمد ابوبکر ایم ایل اے نے شرکت کی اور انڈین یونین مسلم لیگ کی جانب سے مندرجہ ذیل مطالبات پر مشتمل ایک عرضداشت سونپا۔

حکومت ہند کی طرف سے اقلیتوں کی ترقی کے لیے وزیر اعظم کے 15نکاتی منصوبے کمیونٹی تک پہنچ نہیں پارہے ہیں۔ پہلے کی طرح اسے تشہیر کرکے اس منصوبے کو فروغ دیا جانا چاہیے۔ اقلیتی برادری کے طلباء کو اسکالرشپ تک رسائی حاصل کرنے میں دشواری محسوس ہوتی ہے۔ خاص کر اسکولوں کے ذریعہ اسکالرشپ کے لیے درخواست دینے کے عمل کی وجہ سے طلباء اسکالر شپ سے محروم ہورہے ہیں۔ لہذا، اسلامی برادری کے فطری ڈھانچہ یعنی محلہ جماعت کے ذریعہ بھیجے جانے والے تعلیمی درخواست فارم کو حکومت قبول کرے۔ اس سے مسلم طلبہ کو سرکاری اسکالرشپ حاصل کرنے میں آسانی ہوگی۔

جسٹس رنگاناتھ مشرا کمیشن کی سفارش کی بنیاد پر مرکزی او ر ریاستی حکومتوں کی طرف سے مسلمانوں کو سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں 10فیصد ریزرویشن فراہم کیاجائے۔

جیسا کہ وزیر اعظم کے 15نکاتی منصوبے میں ذکر کیا گیا ہے، ان اضلاع میں جہاں اقلیتوں کی آبادی زیادہ ہے ان اضلاع میں سرکاری منصوبوں کو نافذ کرنے کے لیے اقلیتی برادری کے درمیان بیداری مہم چلائی جائے۔ اس کے علاوہ، جب اس منصوبے کے جائزہ اجلاس ریاستی وضلعی سطح پر ہوتے ہیں تو ان اجلاس میں اقلیتی برادری کے اراکین پارلیمان، اراکین اسمبلی اور بلدیہ کے نمائندوں کو بھی مدعو کیا جائے۔

منصوبے میں اردو زبان کی ترقی پر توجہ دینے کی بات کہی گئی ہے۔لیکن تمل ناڈو میں اردو اکیڈمی گزشتہ ساڑھے نو سالوں سے غیر فعال ہے اور ہم آپ سے گذارش کرتے ہیں اس سلسلے میں مناسب کارروائی کریں۔

پولیس تھانوں میں متعدد حکام کی سفارش کے مطابق بعض مخصوص برادریوں کے ساتھ ہونے والے ناانصافی کو روکنے کے لیے اقلیتی مسلم کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے کسی فرد کو اسسٹنٹ انسپکٹر آف پولیس کے عہدے پر مقرر کیا جانا چاہیے۔

ہندوستان میں مقبوضہ وقف جائیداد کی بازیابی کرکے وقف جائیدا د کا تحفظ کرکے مسلمانوں کی ترقی کے لیے استعمال کرنے کے لیے اقدامات اٹھایا جانا چاہیے۔

مرکزی حکومت کی آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے ماتحت جو (مندروں، گرجاگھروں اور مساجد) بند پڑے ہیں انہیں کو دوبارہ کھولنے اور اس میں عبادت کرنے کے لیے مرکزی حکومت کو مناسب اقدامات کرنا چاہیے۔

ورشیپ پلیس اسپیشل ایکٹ1991کے حوالے سے مرکزی حکومت کو تمام ریاستوں کو ایک سرکولر جاری کرنا چاہیے۔ تب ہی تمام عبادت گاہوں کا تحفظ کیا جاسکتا ہے اور زہر افشانی کو ختم کیا جاسکتا ہے اور مذہبی ہم آہنگی بحال کیا جاسکتا ہے۔

معیشت میں تمام لوگوں کی ترقی کے لیے ہندوستان میں بلاسودی بینک کاری کو متعارف کرایا جائے۔

ہندوستان جس کو دنیا کی سب سے بڑ ی جمہوریت کی حیثیت سے سراہا جاتا ہے، تمام برادریوں کو اسمبلی اور پارلیمنٹ میں مناسب نمائندگی ہونی چاہیے۔ نچلے سطح سے جمہوریت کو مستحکم کرنے کے لیے ہندوستان میں متناسب نمائندگی انتخابی نظام لاگو کرنے کی ضرورت ہے۔

تمل ناڈو میں مسلم قیدیوں کو بار بار حکومت کے ذریعہ خصوصی ادوار کے دوران اعلان کردہ عمر قید سزا یافتہ قیدیوں کو رہائی سے انکار کیا گیا ہے۔ آئین ہند کی دفعہ 161کے تحت ریاست تمل ناڈو کے گورنر کو حاصل اختیار کے مطابق تمل ناڈو حکومت ہی سفارش کرکے قیدیوں کو رہا کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔ اس کے مطابق،وہ تمام افراد بلا تفریق نسل، مذہب یا مقدمہ جو 14سال سے زیادہ عرصہ جیل کی سزا کاٹ چکے ہیں انہیں ہمدردی کی بنیاد پر رہا کیا جانا چاہیے۔ اسی طرح تمل ناڈو کے جیلوں میں 47مسلم عمر قیدیوں کو بھی بلا امتیاز رہا کیا جانا چاہیے۔

شہریت ترمیمی قانون کے خلاف جمہوری طریقے سے لڑنے والوں کے خلاف درج ایف آئی آر کو واپس لیا جائے۔

لو جہاد اور گؤ رکشا کے نام پراقلیتی برادری پر بھیڑ تشدد کے وحشیانہ منصوبہ بند حملوں کو فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔

ہندوستان کے انتھروپولوجیکل سروے کے مطابق ہندوستان میں 4924 کمیونیٹیز آباد ہیں۔ ہندوستان میں تمام برادریوں کی انفرادیت،ثقافت اور وقار کو برقرار رکھنے سے ہی دنیا میں ہم ہندوستانیوں کا وقار قائم رہ سکتا ہے۔ حکومت کا فرض ہے کہ نفرت بھڑکانے والے، ذات پات اور مذہبی منافرت پھیلانے سے روکنے اور اقلیتوں کے تحفظ کے لیے سخت قوانین بناکر اقلیتوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

[پریس ریلیز]

دہلی مارچ کو نکلے کسان یونین کے سربراہ اکھل سنگھرشی حراست میں

0
دہلی مارچ کو نکلے کسان یونین کے سربراہ اکھل سنگھرشی حراست میں
دہلی مارچ کو نکلے کسان یونین کے سربراہ اکھل سنگھرشی حراست میں

آل انڈیا کسان یونین کے سربراہ اکھل سنگھرشی کو متعدد کسان لیڈروں کے ساتھ پولیس نے آج نیشنل ہائی وے ۔ 91 سے حراست میں لے لیا۔ کسان یونین لیڈران اور کارکنان کسانوں کی 26 جنوری کو دہلی میں ہونے والی پیریڈ میں شامل ہونے جارہے تھے۔

ایٹہ: زرعی قوانین کے خلاف اترپردیش کے ضلع ایٹہ سے سینکڑوں کارکنوں کے ساتھ دہلی تک مارچ پر نکلے آل انڈیا کسان یونین کے سربراہ اکھل سنگھرشی کو متعدد دیگر کسان لیڈروں کے ساتھ پولیس نے آج حراست میں لے لیا۔

آل انڈیا کسان یونین کے لیڈروں و کارکنوں کو نیشنل ہائی وے ۔ 91 سے حراست میں لیا گیا۔ کسان یونین لیڈران اور کارکنان کسانوں کی 26 جنوری کو دہلی میں ہونے والی پیریڈ میں شامل ہونے جارہے تھے۔ اکھل سنگھرشی نے کہا کہ پولیس کا رویہ ہراساں کرنے کا ہے۔ ان کے مارچ سے ریاست میں نظم ونسق خراب نہیں ہونا تھا۔

اسے بھی پڑھیں:

سپریم کورٹ نے مذاکرات میں پیشرفت نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے زرعی قوانین پر روک لگانے کا عندیہ دیا

سپریم کورٹ نے مذاکرات میں پیشرفت نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے زرعی قوانین پر روک لگانے کا عندیہ دیا

0
سپریم کورٹ نے مذاکرات میں پیشرفت نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے زرعی قوانین پر روک لگانے کا عندیہ دیا
سپریم کورٹ نے مذاکرات میں پیشرفت نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے زرعی قوانین پر روک لگانے کا عندیہ دیا

سپریم کورٹ نے کہا کہ کچھ کسانوں نے خودکشی کی ہے، بوڑھے مرد اور خواتین اس تحریک کا حصہ بن رہے ہیں۔ آخر ہو کیا رہا ہے؟ آج تک ایک بھی درخواست دائر نہیں کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہو کہ زرعی قوانین اچھے ہیں۔‘‘

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت اور کسانوں کے درمیان مذاکرات میں پیشرفت نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے دریافت کیا ہے کہ تینوں قوانین پر پابندی کیوں نہیں لگائی جائے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس شرد اروند بوبڈے، جسٹس اے ایس بوپنا اور جسٹس وی راما سبرامنیم پر مشتمل ڈویژن بنچ نے سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیوں نہ تینوں قوانین پر اس وقت تک روک لگادی جائے جب تک عدالت کے ذریعہ تشکیل کمیٹی اس پر غور نہ کرلے اور اپنی رپورٹ نہ سونپ دے۔

حالانکہ اٹارنی جنرل کے ۔ کے وینو گوپال نے قوانین کو روکنے کی عدالت کے مشورہ کی سخت مخالفت کی۔

جسٹس بوبڈے نے دریافت کیا کہ "آپ ہمیں بتائیں کہ کیا آپ کسانوں کے قوانین پر پابندی عائد کرتے ہیں یا ہم لگائیں”۔ ان قوانین کو ملتوی کیجئے۔ اس میں کیا مسئلہ ہے؟ ہم اسے آسانی سے روکنے کے حق میں نہیں ہیں، لیکن ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اس وقت اس قانون کو نفاذ نہ کریں۔‘‘

بوڑھے مرد اور خواتین اس تحریک کا حصہ بن رہے ہیں۔ آخر ہو کیا رہا ہے؟

عدالت نے کہا کہ کچھ کسانوں نے خودکشی کی ہے، بوڑھے مرد اور خواتین اس تحریک کا حصہ بن رہے ہیں۔ آخر ہو کیا رہا ہے؟ آج تک ایک بھی درخواست دائر نہیں کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہو کہ زرعی قوانین اچھے ہیں۔‘‘

چیف جسٹس نے مرکزی حکومت اور کسانوں کے درمیان مذاکرات پر کسی پیشرفت نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسان تنظیموں اور حکومت کے درمیان مذاکرات کے آٹھ دور ہوچکے ہیں لیکن کوئی پیشرفت نہیں ہوسکی ہے۔ جب کہ اگلی میٹنگ 15 جنوری کو طے ہے۔

طویل بحث کے بعد اٹارنی جنرل نے بنچ سے جلد بازی میں کوئی حکم پاس نہ کرنے کی درخواست کی، لیکن جسٹس بوبڈے نے اس پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ "مسٹر اٹارنی جنرل آپ ہمیں صبر سے متعلق لیکچر نہ دیں۔ ہمیں جلد بازی میں کیوں نہ روک لگانی چاہئے؟”

جسٹس بوبڈے نے سماعت مکمل کرتے ہوئے کہا کہ وہ آج یا کل اس معاملے میں اپنا حکم جاری کریں گے۔ ممکن ہے کہ آج ایک جزوی آرڈر جاری ہو اور کل ایک مکمل آرڈر۔

نومنتخب صدر بائیڈن نے اپنی کابینہ ارکان کے ناموں کو حتمی شکل دے دی

0
نومنتخب صدر بائیڈن نے اپنی کابینہ ارکان کے ناموں کو حتمی شکل دے دی
نومنتخب صدر بائیڈن نے اپنی کابینہ ارکان کے ناموں کو حتمی شکل دے دی

سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ میری کابینہ کے ارکان میں بے حد ٹیلنٹ ہے، جس پر مجھے فخر ہے۔ میری کابینہ شاندار 24 مرد و خواتین پر مشتمل ہے۔

واشنگنٹن: امریکہ کے نومنتخب صدر جوزف بائیڈن نے کہا ہے کہ انہوں نے اپنی کابینہ ارکان کے نام فائنل کر لئے ہیں۔

سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ میری کابینہ کے ارکان میں بے حد ٹیلنٹ ہے، جس پر مجھے فخر ہے۔

انہوں نے کہا کہ میری کابینہ شاندار 24 مرد و خواتین پر مشتمل ہے۔

واضح رہے کہ نومنتخب صدر کی حلف برداری کی تقریب رواں ماہ جنوری کی 20 تاریخ کو ہوگی۔

امریکہ کے سبکدوش ہونے والے نائب صدر مائیک پینس نومنتخب صدر جو بائیڈن کی تقریب حلف برداری میں شرکت کریں گے۔

بائیڈن نے پینس کو اپنی تقریب حلف برداری میں شرکت کی دعوت دی تھی۔ وہیں مسٹر بائیڈن نے رخصت پذیر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ان کی تقریب حلف برداری میں شرکت نہ کرنے کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ اچھی بات ہے۔

امریکہ میں فائرنگ، 5 افراد ہلاک، ملزم بھی ہلاک

0

شکاگو کے ایوانسٹن میں ہوئی فائرنگ میں ایک سیکیورٹی گارڈ سمیت 5 افراد ہلاک ہوگئے۔

شکاگو: امریکہ کے النیاس صوبہ کے شکاگو کے ایوانسٹن میں ہوئی فائرنگ میں ایک سیکیورٹی گارڈ سمیت 5 افراد ہلاک اور 2 زخمی ہوگئے۔

این بی سی نے شکاگو کے عہدیداروں کے حوالے سے بتایا کہ پولیس کو پہلی مرتبہ ایک فارمیسی میں گولی چلنے کی اطلاع ملی تھی۔ جب پولیس اہلکار جائے حادثہ پر پہنچے تو ملزم ایوانسٹن میں واقع ریستوراں میں فرار ہوگیا، جہاں اس نے ایک خاتون کو یرغمال بنا لیا۔

خاتون کو مشتبہ شخص نے گولی مار دی اور تب سے وہ اسپتال میں بھرتی ہے۔ پولیس کی فائرنگ سے ملزم بھی زخمی ہوا تھا اور بعد میں اسے اسپتال میں مردہ قرار دے دیا گیا۔

بی جے پی کے احتجاجی مظاہرے کی کسانوں نے کی شدید مخالفت

0

کسانوں کی مخالفت پر مسٹر اشونی شرما نے کہا کہ جمہوریت میں جس آئین نے لوگوں کو احتجاجی مظاہرہ کر کے اپنی بات رکھنے کی اجازت دی ہے، اسی آئین نے بی جے پی کو احتجاج کرنے کی اجازت دی ہے۔

جالندھر: پنجاب میں بگڑتی امن و قانون کی صورتحال اور موجودہ سیاسی حالت پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی احتجاجی ریلی کی کسان تنظیموں نے شدید مخالفت کی۔

بی جے پی کے ریاستی صدر اشونی شرما سمیت دیگر سینئر لیڈروں کے ساتھ مقامی کمپنی باغ چوک پر امن و امان کی بگڑتی صورتحال اور موجودہ سیاسی صورتحال کے سلسلے میں آج احتجاجی مظاہرہ کرنے پہنچے تھے۔ اس کی اطلاع موصول ہوتے ہی سیکڑوں کسانوں نے احتجاجی مظاہرے کی مخالفت کرنا شروع کر دی۔

کسانوں کو احتجاجی مظاہرے کے مقام تک پہنچنے سے روکنے کے لئے پولیس نے ٹرک کھڑے کردیئے اور سڑک پر بیریکیڈس لگائے، لیکن کسانوں نے بریکیڈس توڑ کر احتجاجی مقام تک پہنچنے کی کوشش کی۔ اس دوران کسانوں کی پولیس کے ساتھ دھکا مکی بھی ہوئی۔ کسانوں نے بی جے پی کے احتجاجی مقام کے نزدیک سڑک پر دھرنا لگا دیا۔

بی جے پی کے ریاستی صدر مسٹر شرما دوسرے راستے سے احتجاج کے مقام پر پہنچے۔ انہوں نے میڈیا سے دوری بنائے رکھی۔ کسانوں کی مخالفت پر مسٹر شرما نے کہا کہ جمہوریت میں جس آئین نے لوگوں کو احتجاجی مظاہرہ کر کے اپنی بات رکھنے کی اجازت دی ہے، اسی آئین نے بی جے پی کو احتجاج کرنے کی اجازت دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بی جے پی کسانوں کا احترام کرتی ہے لیکن مخالفت کرنے والے کسان نہیں ہوسکتے ہیں۔

مدھیہ پردیش کے 13 اضلاع میں کوؤں میں ہوئی برڈ فلو کی تصدیق

0
مدھیہ پردیش کے 13 اضلاع میں کوؤں میں ہوئی برڈ فلو کی تصدیق
مدھیہ پردیش کے 13 اضلاع میں کوؤں میں ہوئی برڈ فلو کی تصدیق

مدھیہ پردیش کے 13 اضلاع میں کوؤں میں برڈ فلو کی تصدیق ہوئی ہے۔ 9 جنوری تک ریاست کے 27 ضلعوں میں تقریباً 1100 کوؤں اور جنگلی پرندوں کی موت کی اطلاع حاصل ہوئی ہے۔

بھوپال: مدھیہ پردیش میں مویشی پروری کے محکمے نے 9 جنوری تک ریاست کے 13 ضلعوں میں کوؤں میں برڈ فلو ہونے کی تصدیق کی ہے۔

مویشی پروری کے محکمے سے موصول معلومات کے مطابق مدھیہ پردیش کے اندور، مندسور، آگرہ، نیمچ، دیواس، اجین، کھنڈوہ، کھرگون، گنا، شیوپوری، راج گڑھ، شاجا پور اور ویدیشا ضلعوں میں کوؤں میں برڈ فلو کی تصدیق ہوچکی ہے۔

9 جنوری تک ریاست کے 27 ضلعوں میں تقریباً 1100 کوؤں اور جنگلی پرندوں کی موت کی اطلاع حاصل ہوئی ہے۔ مختلف ضلعوں سے 32 نمونے نیشنل ہائی سیکیورٹی ڈیسیز ریسرچ لیب بھوپال کو جانچ کے لئے بھیجے گئے ہیں۔ مرغی پالنے والوں میں غیر ضروری شبہ کی حالت پیدا نہ ہو اس کے لئے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں۔ سبھی ضلعوں میں بیماری کے کنٹرول کی کارروائی مرکزی حکومت کی ہدایات کے مطابق جاری ہیں۔

ضلع آگرہ میں مرغی بازار کی دکانوں سے ٹیول اسویو کے ایک نمونے میں برڈ فلو وائرس پائے جانے کے بعد یہاں مرغی بازار کو احتیاط کے پیش نظر آئندہ سات روز کے لئے بند کردیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی مرغیوں اور انڈوں وغیرہ کی حفاظت کی کارروائی ضلع انتظامیہ کے ذریعہ کی جا رہی ہے۔ ضلع سیہور، بالاگھاٹ، دموہ، اجین، بیتول، بھنڈ سے نیشنل ہائی سیکیورٹی ڈیسیز ریسرچ لیب بھوپال کو جانچ کے لئے بھیجے گئے نمونوں میں برڈ فلو وائرس نہیں پایا گیا ہے۔

پینس، بائیڈن کی تقریب حلف برداری میں کریں گے شرکت، ٹرمپ کو اقتدار سے ہٹانے کے لئے کرسکتے ہیں 25 ویں ترمیم کا استعمال

0
پینس، بائیڈن کی تقریب حلف برداری میں کریں گے شرکت، ٹرمپ کو اقتدار سے ہٹانے کے لئے کرسکتے ہیں 25 ویں ترمیم کا استعمال
پینس، بائیڈن کی تقریب حلف برداری میں کریں گے شرکت، ٹرمپ کو اقتدار سے ہٹانے کے لئے کرسکتے ہیں 25 ویں ترمیم کا استعمال

مسٹر بائیڈن نے پینس کو اپنی تقریب حلف برداری میں شرکت کی دعوت دی تھی۔ وہیں بائیڈن نے رخصت پذیر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ان کی تقریب حلف برداری میں شرکت نہ کرنے کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ اچھی بات ہے۔

واشنگٹن: امریکہ کے سبکدوش ہونے والے نائب صدر مائیک پینس نو منتخب صدر جو بائیڈن کی تقریب حلف برداری میں شرکت کریں گے۔ وہیں مائیک پینس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اقتدار سے ہٹانے کے لئے 25 ویں ترمیم کے استعمال سے انکار نہیں کیا ہے۔

اے بی سی نیوز چینل نے ذرائع کے حوالے سے یہ اطلاع دی۔ قبل ازیں بائیڈن نے پینس کو اپنی تقریب حلف برداری میں شرکت کی دعوت دی تھی۔ اسی دوران مسٹر بائیڈن نے رخصت پذیر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ان کی تقریب حلف برداری میں شرکت نہ کرنے کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ اچھی بات ہے۔

سی این این نے ذرائع کے حوالہ سے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اگر مسٹر ٹرمپ کا طرز عمل مزید بے قابو ہو گیا تو انہیں 25 ویں ترمیم کے تحت عہدے سے ہٹایا جاسکتا ہے۔

امریکہ میں 25 ویں ترمیم کے ذریعہ صدر کو عہدہ سے ہٹائے جانے کیلئے نائب صدر اور اکثریتی کابینہ کو اختیار حاصل ہے.

قابل ذکر ہے کہ جو بائیڈن 20 جنوری کو امریکی صدر کے عہدے کا حلف لیں گے۔

ملک میں 16 جنوری سے کورونا وائرس کی ٹیکہ کاری مہم کا ہوگا آغاز

0
ملک میں 16 جنوری سے کورونا وائرس کی ٹیکہ کاری مہم کا ہوگا آغاز
ملک میں 16 جنوری سے کورونا وائرس کی ٹیکہ کاری مہم کا ہوگا آغاز

16 جنوری سے کورونا وائرس کی ٹیکہ کاری مہم کا آغاز ہوگا سب سے پہلے تقریبا تین کروڑ طبی عملہ اور صف اول میں تعینات اہلکاروں کو ٹیکے لگائے جائیں گے۔

نئی دہلی: ملک میں کورونا وائرس کے خلاف ٹیکہ کاری مہم 16 جنوری سے شروع ہوگی اور سب سے پہلے تقریبا تین کروڑ طبی عملہ اور صف اول میں تعینات اہلکاروں کو ٹیکے لگائے جائیں گے۔

حکومت کی طرف سے یہاں ہفتہ کے روز جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے کووڈ – 19 کی صورتحال اور ویکسین کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے۔

بیان کے مطابق تفصیلی جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ آنے والے تہواروں کے پیش نظر لوہری، مکر سنکرانتی، پونگل، ماگھ بیہو وغیرہ کے بعد 16 جنوری 2021 سے ٹیکے لگانے کا کام شروع کیا جائے گا۔

ہیلتھ سروس اور فرنٹ لائن پر تعینات افراد کے بعد 50 سال سے زیادہ عمر کے افراد اور 50 سال سے کم عمر کے ان افراد کو ویکسین کے لیے ترجیح دی جائے گی جو کسی سنگین بیماری میں مبتلا ہیں۔ ایسے لوگوں کی تعداد تقریبا 27 کروڑ ہے۔

حکومت نے کہا کہ "قومی ریگولیٹر نے دو ٹیکوں (کووی شیلڈ اور کو ویکسین) کے ہنگامی استعمال کی اجازت دے دی ہے، جو حفاظت اور مدافعتی نظام کی کسوٹی پر کھرا اترے ہیں۔