بدھ, ستمبر 30, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 411

ٹرمپ کی اپنے حامیوں سے بائیڈن کی حلف برداری تقریب کے دوران تشدد نہ کرنے کی اپیل

0
ٹرمپ کی اپنے حامیوں سے بائیڈن کی حلف برداری تقریب کے دوران تشدد نہ کرنے کی اپیل
ٹرمپ کی اپنے حامیوں سے بائیڈن کی حلف برداری تقریب کے دوران تشدد نہ کرنے کی اپیل

امریکی خفیہ ایجنسی ایف بی آئی نے مسٹر بائیڈن کی حلف برداری تقریب کے دوران تشدد کی وارننگ جاری کی تھی، جس کے بعد خطے میں سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔

واشنگٹن: امریکہ کے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ صدارتی انتخاب میں کامیابی حاصل کرنے والے جو بائیڈن کی حلف برداری تقریب کے دوران کسی بھی قسم کا تشدد نہ کریں۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق مسٹر ٹرمپ نے اپنے حامیوں سے تشدد اور کسی بھی قسم کی کشیدگی نہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ قبل ازیں مسٹر ٹرمپ نے پیر کے روز مسٹر بائیڈن کی حلف برداری تقریب کو مدنظر رکھتے ہوئے واشنگٹن ڈی سی میں اسٹیٹ آف ایمرجنسی لگانے کا اعلان کیا تھا۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ امریکی خفیہ ایجنسی ایف بی آئی نے مسٹر بائیڈن کی حلف برداری تقریب کے دوران تشدد کی وارننگ جاری کی تھی، جس کے بعد خطے میں سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ حلف برداری کی تقریب کے دوران احتیاط کے طور پر کئی ہزار پولیس اہلکاروں کو بھی تعینات کیا جائے گا۔

امریکی صدر نے کہا ’’احتجاجی مظاہروں کے خدشات کے پیش نظر میں اپیل کرتا ہوں کہ کوئی بھی کسی قسم کا تشدد نہ کرے اور نہ ہی قانون کو توڑے۔ یہ وہ نہیں ہے جس کے لئے میں کھڑا ہوں اور نہ ہی یہ وہ ہے جس کے لئے امریکہ کھڑا ہے۔ میں تمام امریکیوں سے تناؤ کو کم کرنے اور امن برقرار رکھنے میں مدد کرنے کی اپیل کرتا ہوں‘‘۔

کسان احتجاج: ملک بھر میں کسانوں نے جلائیں زرعی قوانین کی کاپیاں

0
کسان احتجاج: ملک بھر میں کسانوں نے جلائیں زرعی قوانین کی کاپیاں
کسان احتجاج: ملک بھر میں کسانوں نے جلائیں زرعی قوانین کی کاپیاں

ملک میں 18 جنوری کو تمام اضلاع میں یوم خواتین کسان منایا جائے گا، بنگال میں 20 سے 22 جنوری، مہاراشٹر میں 24 سے 26 جنوری، کیرالا، تلنگانہ، آندھرا پردیش میں 23 سے 25 جنوری اور اڈیشہ میں 23 جنوری کو گورنر کے آفس کے سامنے اجتماع کیا جائے گا۔

نئی دہلی: زرعی اصلاحات کے قوانین کی مخالفت کرنے والی کسان تنظیموں نے بدھ کے روز ملک بھر میں ان قوانین کی کاپیاں جلائیں۔

آل انڈیا کسان سنگھرش کوآرڈینیشن کمیٹی (اے آئی کے ایس سی سی) کی یہاں جاری ریلیز کے مطابق، تحریک کے 49 ویں دن، کسانوں نے مختلف ریاستوں میں ان تینوں قوانین کی کاپیاں جلائیں اور ان کی منسوخی پر زور دیا۔ اس موقع پر، دہلی کے قریب تمام اضلاع سے یوم جمہوریہ کسان ٹریکٹر پریڈ کی تیاری کی اپیل کی۔

کمیٹی نے کہا کہ آج ملک بھر میں 20 ہزار سے زائد مقامات پر قانون کی کاپیاں جلائی گئیں۔ اے آئی کے ایس سی سی نے دہلی کے آس پاس کے 300 کلومیٹر کے تمام اضلاع کے کسانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ دہلی میں یوم جمہوریہ ٹریکٹر پریڈ کی تیاری کریں اور سرحدوں پر جمع ہوں۔

18 جنوری کو ملک بھر میں یوم خواتین کسان منایا جائے گا

ملک میں 18 جنوری کو تمام اضلاع میں یوم خواتین کسان منایا جائے گا، بنگال میں 20 سے 22 جنوری، مہاراشٹر میں 24 سے 26 جنوری، کیرالا، تلنگانہ، آندھرا پردیش میں 23 سے 25 جنوری اور اڈیشہ میں 23 جنوری کو گورنر کے آفس کے سامنے اجتماع کیا جائے گا۔

اے آئی کے ایس سی سی نے کہا ہے کہ گذشتہ 50 دنوں سے حکومت نے ملک کے عوام اور کسانوں کے سامنے مستقل طور پر کوئی سچائی پیش نہیں کی ہے کہ ان قوانین سے کسانوں کو کیا فائدہ ہوگا۔ اس کا استدلال ہے کہ تکنیکی ترقی، سرمایہ کاری اور مجموعی طور پر ترقی ہوگی۔

حکومت نے سپریم کورٹ کے سامنے بھی حقائق پیش نہیں کیا

حکومت نے نجی سرمایہ کاروں کی مدد کے لئے ایک لاکھ کروڑ روپے مختص کیے ہیں، لیکن وہ تکنیکی ترقی، سرمایہ کاری اور دیگر اہم امور پر سرمایہ کاری نہیں کرنا چاہتی۔ جب کارپوریٹ سرمایہ کاری کرے گا تو اس کا مقصد زیادہ منافع حاصل کرنا اور زمین اور پانی کے وسائل پر قبضہ کرنا ہے۔

تنظیم نے الزام لگایا ہے کہ حکومت نہ صرف کسانوں کے بارے میں اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے میں ناکام رہی ہے بلکہ ملک کی سپریم کورٹ کے سامنے بھی حقائق پیش نہیں کیا ہے۔

18 جنوری سے سی بی ایس ای کی دسویں اور بارہویں جماعت کے اسکول  کھلیں گے

0
18 جنوری سے سی بی ایس ای کی دسویں اور بارہویں جماعت کے اسکول  کھلیں گے
18 جنوری سے سی بی ایس ای کی دسویں اور بارہویں جماعت کے اسکول  کھلیں گے

دہلی میں سی بی ایس ای بورڈ کے امتحانات اور پریکٹیکل کے پیش نظر 18 جنوری سے دسویں اور بارہویں کلاسوں کے لئے پریکٹیکل، پروجیکٹ اور کاؤنسلنگ وغیرہ کے لئے اسکول کھلیں گے۔ صرف والدین کی رضامندی سے ہی بچوں کو بلایا جاسکے گا۔ بچوں کو آنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔

نئی دہلی: دہلی حکومت نے بدھ کو سنٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن (سی بی ایس ای) کے امتحانات اور دیگر پریکٹیکل کے پیش نظر 18 جنوری سے دسویں اور بارہویں کلاسوں کے لئے پریکٹیکل، پروجیکٹ، کاؤنسلنگ وغیرہ کے لئے اسکول کھولنے کی اجازت دینے کا اعلان کیا۔ وزیر تعلیم منیش سسودیا نے آج ٹویٹ کرکے اس معاملے کی اطلاع دی۔

بچوں کو آنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا

مسٹر سسودیا نے بتایا "دہلی میں سی بی ایس ای بورڈ کے امتحانات اور پریکٹیکل کے پیش نظر 18 جنوری سے دسویں اور بارہویں کلاسوں کے لئے پریکٹیکل، پروجیکٹ اور کاؤنسلنگ وغیرہ کے لئے اسکول کھولنے کی اجازت دی جارہی ہے۔ صرف والدین کی رضامندی سے ہی بچوں کو بلایا جاسکے گا۔ بچوں کو آنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔‘‘

حکومت نے اس سلسلے میں ایک معیاری آپریٹنگ طریقہ کار (ایس او پی) بھی جاری کیا ہے جس پر تمام اسکولوں کو عمل کرنا ہوگا۔ آپ کو یہ ریکارڈ رکھنا ہوگا کہ کون سے بچے اسکول آرہے ہیں، لیکن یہ حاضری کے لئے استعمال نہیں کیا جائے گا۔

ایس او پی کے مطابق اسکول کے صحن میں کورونا سے متاثر کسی بھی بچہ یا ملازم کو آنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ دروازے پر تھرمل اسکریننگ لازمی ہوگی۔ اسکول کے داخلہ دروازوں، کلاس روم، لیبارٹری اور عوامی سہولیات والی جگہوں پر ہاتھوں کی صفائی کا انتظام لازمی ہے۔

کنٹینمنٹ زون سے باہر والے اسکول ہی کھلیں گے

کنٹینمنٹ زون سے باہر رہنے والے ہی اسکول کھلیں گے۔ اس کے علاوہ کنٹینمنٹ زون میں رہنے والا کوئی بھی شخص اسکول نہیں آسکے گا۔ کلاسوں اور لیبارٹریوں کا اس طرح بندوبست کرنا پڑے گا کہ کووڈ کی ہدایات کی خلاف ورزی نہ ہوسکے۔ ٹائم ٹیبل کے مطابق ملازمین کو بھی بلایا جاسکتا ہے۔

مسٹر سسودیا نے پہلے ہی کہا تھا کہ ویکسین آنے تک دارالحکومت میں اسکول نہیں کھولے جائیں گے۔ مرکزی حکومت نے 3 جنوری کو کورونا وائرس کی دو ویکسینوں کے ہنگامی استعمال کی منظوری دی ہے۔ اس کے بعد 6 جنوری کو وزیر تعلیم نے کہا کہ حکومت قومی دارالحکومت میں جلد اسکولوں کو دوبارہ کھولنے کے طریقوں پر غور کر رہی ہے۔

دہلی میں کورونا وبا کے پیش نظر پچھلے سال 16 مارچ کو کیجریوال حکومت نے تمام اسکولوں کو بند رکھنے کا حکم جاری کیا تھا۔ اس کے بعد دارالحکومت کے تمام اسکول بند ہیں۔ تاہم، اس دوران آن لائن کلاسیز چل رہی ہیں۔

ممبئی میں 16 جنوری سے لگایا جائے گا کورونا وائرس کا ٹیکہ

0
ممبئی میں 16 جنوری سے لگایا جائے گا کورونا وائرس کا ٹیکہ
ممبئی میں 16 جنوری سے لگایا جائے گا کورونا وائرس کا ٹیکہ

کورونا وائرس کا ٹیکہ [ویکسین] پونے سے آج خصوصی گاڑی کے ذریعہ ممبئی لایا گیا ہے۔ ممبئی میں ویکسین کے لئے 72 مراکز قائم کیے گئے ہیں۔

ممبئی: کورونا وائرس (کووڈ ۔ 19) کی دوا "کووی شیلڈ” آج صبح پونے سے ممبئی پہنچ گئی اور 16 جنوری سے یہاں ویکسینیشن شروع کردی جائے گی۔

یہ ٹیکہ [ویکسین] پونے سے خصوصی گاڑی کے ذریعہ ممبئی لایا گیا ہے۔ ویکسین بنانے والے سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا نے 139500 خوراکیں (ویکسینیں) برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کو بھیجا ہے۔

بی ایم سی کمشنر آئی ایس چاہل نے بتایا کہ ممبئی میں ویکسین کے لئے 72 مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگلے دو دن میں ممبئی کے مختلف ویکسین مراکز کو ویکسین بھیج دی جائے گی۔

وائٹ ہاؤس کے سینئر نمائندے کی بحالی کا مطالبہ

0
وائٹ ہاؤس کے سینئر نمائندے کی بحالی کا مطالبہ
وائٹ ہاؤس کے سینئر نمائندے کی بحالی کا مطالبہ

گریگوری میکس اور رینکنگ ریپبلکن مائیکل میک کال نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے سینئر نمائندے پاٹسی ویڈاکسوارہ کو گذشتہ ہفتہ کیپیٹل ہل پر حملے کے بارے میں وزیر خارجہ مائیک پومپیو سے سوالات پوچھنے کے بعد عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔

واشنگٹن: امریکی پارلیمنٹ میں خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین اور رینکنگ ریپبلکن نے وائس آف امریکہ (وی او اے) ایجنسی کے وائٹ ہاؤس نمائندے کو بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

کمیٹی کے چیئرمین گریگوری میکس اور رینکنگ ریپبلکن مائیکل میک کال نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے سینئر نمائندے پاٹسی ویڈاکسوارہ کو گذشتہ ہفتہ کیپیٹل ہل پر حملے کے بارے میں وزیر خارجہ مائیک پومپیو سے سوالات پوچھنے کے بعد عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا ’’اس قدم کا کوئی جواز نہیں پیش کیا گیا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ انہیں بحال کیا جانا چاہئے‘‘۔

پارلیمان اراکین نے تلخ لہجے میں کہا کہ مسٹر ویڈاکسوارا کو ہٹایا جانا ممکنہ طور پر امریکی ایجنسی فار گلوبل میڈیا (یو ایس اے جی ایم) اور وائس آف امریکہ کے اعلی عہدیداروں کے مابین کانگریس کے ذریعے قائم فائر وال کی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے کہا ’’یہ امریکہ ہے۔ ہم اپنے صحافیوں کو ان کے سوالات کے جوابات مانگنے کی سزا نہیں دے سکتے ہیں۔ ایک آزاد اور غیر جانبدارانہ پریس ہماری جمہوریت اور آئین کی بنیاد ہے‘‘۔

6 سے 7 بی جے پی ممبران پارلیمنٹ ترنمول کانگریس میں ہوسکتے ہیں شامل: جیوتری پریا ملک

0
6 سے 7 بی جے پی ممبران پارلیمنٹ ترنمول کانگریس میں ہوسکتے ہیں شامل: جیوتری پریا ملک
6 سے 7 بی جے پی ممبران پارلیمنٹ ترنمول کانگریس میں ہوسکتے ہیں شامل: جیوتری پریا ملک

ترنمول کانگریس کے صدر جیوتری پریا ملک نے دعویٰ کیا ہے کہ بی جے پی کے چھ سے سات ارکان فوری طور پر ہماری پارٹی میں شامل ہونا چاہتے ہیں اور ہماری پارٹی کے ایم ایل اے جو بی جے پی میں گئے تھے وہ واپس آنے کے لئے قطار میں کھڑے ہیں۔

کلکتہ: ایک ایسے وقت میں جب ترنمول کانگریس کے ممبران اسمبلی اور ممبر ان پارلیمنٹ پارٹی چھوڑ کر بی جے پی میں شمولیت اختیار کررہے ہیں تو ریاستی وزیر شمالی 24 پرگنہ ترنمول کانگریس کے صدر جیوتری پریا ملک نے آج دعویٰ کیا ہے کہ بی جے پی کے 6 سے 7 ممبران پارلیمنٹ ترنمول کانگریس میں شامل ہونے والے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ترنمول کانگریس کی تقسیم کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہو سکتا ہے۔ بی جے پی کے چھ سے سات ارکان فوری طور پر ہماری پارٹی میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ وہ مئی کے پہلے ہفتے میں شامل ہوں گے کچھ لوگ ووٹ سے پہلے شامل ہو سکتے ہیں اور ہماری پارٹی کے ایم ایل اے جو بی جے پی میں گئے تھے وہ واپس آنے کے لئے قطار میں کھڑے ہیں۔

دوسری جانب بی جے پی نے ملک کے اس دعویٰ کو مسترد کردیا ہے۔ بی جے پی لیڈر شیامک بھٹا چاریہ نے کہا کہ ترنمول کانگریس کے لیڈران پارٹی کو متحد رکھنے کے لئے اس طرح کے بیانات دے رہے ہیں۔ جب کہ ارجن سنگھ نے کہا کہ ملک اپنا دماغی توازن کھودیا ہے۔

اسے بھی پڑھیں:

اسدالدین اویسی کی پھرپھرا شریف کے پیرزادہ سے ملاقات کے ساتھ مغربی بنگال میں نئی سیاسی تحریک کا اغاز

نشنک نے امریکہ میں ہندوستانی سفیر سے ملک کی نئی تعلیمی پالیسی پر تبادلہ خیال کیا

0
نشنک نے امریکہ میں ہندوستانی سفیر سے ملک کی نئی تعلیمی پالیسی پر تبادلہ خیال کیا
نشنک نے امریکہ میں ہندوستانی سفیر سے ملک کی نئی تعلیمی پالیسی پر تبادلہ خیال کیا

مرکزی وزیر تعلیم رمیش پوکھریال نشنک ہندوستانی سفیر ترنجیت سنگھ سندھو سے ملاقات کر کے امریکہ کے مختلف اعلی تعلیمی اداروں میں اس کے فروغ میں ان سے تعاون کی خواہش کی۔

نئی دہلی: مرکزی وزیر تعلیم رمیش پوکھریال نشنک نے منگل کے روز امریکہ میں ہندوستان کے سفیر ترنجیت سنگھ سندھو سے ملاقات کر کے ملک کی نئی تعلیمی پالیسی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور اس کے امریکہ کے مختلف اعلی تعلیمی اداروں میں اس کی تشہیر کے لئے تعاون طلب کیا۔

ڈاکٹر نشنک نے مسٹر سندھو کو یہاں کہا کہ ہندوستان کا سفارت خانہ امریکہ کے مختلف اعلی تعلیمی اداروں میں قومی تعلیمی پالیسی 2020 کی وسیع پیمانے پر تشہیر کے لئے کئی سیمینار / ویبنار / کانفرنسوں / ورکشاپس وغیرہ کے انعقاد کی کوشش کرسکتا ہے۔ اس طرح کے اہتمام ہندوستانی قونصل خانے کی جانب سے بھی کئے جا سکتے ہیں۔

امریکی طلبا کو ہندوستان کی طرف راغب کرنے کے طریقے کی تلاش

انہوں نے مسٹر سندھو سے امریکہ کے ہندوستانی قونصل خانوں سے مشورہ کر کے مختلف فریقین سے یہ معلوم کرنے پر زور دیا کہ ہندوستان میں اپنے کیمپس کھولنے کے لئے امریکی یونیورسٹیوں کی کیا توقعات ہیں، جس سے اسٹڈی ان انڈیا اسکیم کے تحت امریکی طلباء کو ہندوستان میں متوجہ کرنے کے طریقے تلاش کئے جا سکیں۔

مرکزی وزیر نے سفیر کو یہ بھی بتایا کہ رابطے کے تحت امریکہ کی طرف سے مشترکہ تحقیقاتی تجاویز (74.80 کروڑ) کی زیادہ سے زیادہ تعداد کو منظور کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا ’’مجھے امید ہے کہ امریکہ میں ہندوستان کا سفارت خانہ اس اسکیم کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا‘‘۔

انہوں نے امریکہ میں ہندوستان کے سفارت خانہ کے ذریعہ جاری تعلیمی سرگرمیوں پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’’میں چاہتا ہوں کہ وہاں پڑھنے والے ہندوستانی طلباء کی اضافی دیکھ بھال کی جائے اور یہ بھی امید ہے کہ جب بھی ضرورت پڑے انہیں ہر ممکن امداد اور تعاون فراہم کیا جائے‘‘۔

شیوسینا کا بی جے پی پر حملہ، کیا برڈ فلو کے پیچھے بھی پاکستان اور خالصتان کا ہاتھ ہے؟

0
شیوسینا کا بی جے پی پر حملہ، کیا برڈ فلو کے پیچھے بھی پاکستان اور خالصتان کا ہاتھ ہے؟
شیوسینا کا بی جے پی پر حملہ، کیا برڈ فلو کے پیچھے بھی پاکستان اور خالصتان کا ہاتھ ہے؟

شیوسینا نے بی جے پی سے سوال کیا ہے کہ اب تک اس کی پارٹی کے ترجمانوں نے یہ اعلان کیوں نہیں کیا کہ مرغیوں اور پرندوں کی پراسرار ہلاکتوں کے پس پشت بھی پاکستانی اور نکسلیوں کا ہاتھ ہے۔


ممبئی: شیوسینا نے اپنی سابقہ ہمنوا سیاسی پارٹی بی جے پی سے سوال کیا کہ کیا ملک میں برڈ فلو کی وباء پھیلنے کے پس پشت بھی کوئی پاکستانی, خالصتانی اور ماؤ نواز تنظیموں کا ہاتھ ہے؟

سینا کے ترجمان اخبار سامنا میں لکھے گئے اداریہ میں مھاراشٹرا کی حکمراں جماعت میں شامل شیوسینا نے بی جے پی قائدین کے زرعی بل کے خلاف کسانوں کے جاری احتجاج پر دئیے گئے بیان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی نے الزام لگایا تھا کہ پاکستانیوں، خالصتانیوں، چینیوں، نکسلیوں اور ماؤن وازوں کی کسانوں کے احتجاج کو حمایت حاصل ہے اور پردے کے پیچھے یہی ملک دشمن طاقتیں ان کو اکسا رہی ہیں۔

سینا نے بی جے پی سے سوال کیا کہ کیا ملک میں برڈ فلو پھیلنے میں بھی کوئی پاکستانی، خالستانی یا نکسلی ہاتھ ہے؟

اداریہ میں مزید لکھا ہے کہ کسان نئے زرعی قانون کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں اور اس دوران برڈ فلو پھیلنے کا نیا بحران سامنے آیا ہے۔ نیز چند سرکاری عہدے داران کا کہنا ہے کہ کسانوں کے احتجاج کے پیچھے ملک دشمن طاقتیں شامل ہیں۔

سینا نے بی جے پی سے یہ سوال کیا کہ اب تک اس کی پارٹی کے ترجمانوں نے یہ اعلان کیوں نہیں کیا کہ مرغیوں اور پرندوں کی پراسرار ہلاکتوں کے پس پشت بھی پاکستانی اور نکسلیوں کا ہاتھ ہے۔

کورونا ویکسین پر وزیر اعظم کا اعلان، ویکسین پر سیاست، کمپنیوں کی چپقلش اور عوام کے خدشات

0
کورونا ویکسین پر وزیر اعظم کا اعلان، ویکسین پر سیاست، کمپنیوں کی چپقلش اور عوام کے خدشات
کورونا ویکسین پر وزیر اعظم کا اعلان، ویکسین پر سیاست، کمپنیوں کی چپقلش اور عوام کے خدشات

16 جنوری سے کورونا کے خلاف ٹیکا کاری مہم شروع کئے جانے سے متعلق وزیر اعظم کے اعلان سے پہلے اور بعد میں سیاست دانوں کے بیانات سیاست پر مبنی ہو سکتے ہیں، لیکن ویکسین تیار کرنے والی کمپنیوں کی آپسی چپقلش اور بیان بازی افسوسناک ہے

تحریر: ڈاکٹر یامین انصاری

وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ ملک کورونا کی وبا کے خلاف مہم کے فیصلہ کن مرحلے میں ہے اور سبھی کو یہ یقینی بنانا ہے کہ ویکسن کے سلسلے میں کسی طرح کی افواہ نہ پھیلے اور شرارتی عناصر اس میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ ڈالیں۔

ملک بھر میں 16 جنوری سے کورونا کی وبا کے خلاف ٹیکاکاری مہم شروع کئے جانے سے پہلے جناب مودی نے پیر کو سبھی ریاستوں اور مرکزی کے زیرانتظام علاقوں کے وزرائے اعلی کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ ویکسن کی مناسب تقسیم اور دیگر مسئلوں پر بات چیت کی۔

انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں تین کروڑ لوگوں کی ٹیکاکاری کی جائے گی جن میں طبی اہلکار اور عبوری محاذ پر تعینات ملازمین شامل ہیں۔ حکومت نے آنے والے کچھ ہی مہینوں میں 30 کروڑ لوگوں کو ٹیکا لگانے کا ہدف رکھا ہے۔

انڈیا میں کووڈ 19 کا پہلا معاملہ 30 جنوری 2020 کو منظر عام پر آیا تھا۔ شروع میں اگرچہ کورونا وائرس کے شکار لوگوں کی تعداد میںبہت دھیرے دھیرے اضافہ ہوا، لیکن چند ماہ بعد حکومت کے تمام تر اقدامات اور عوام کے ذریعہ اختیار کی گئیں ہر ممکن احتیاطی تدابیر کے باوجود مریضوں کی تعداد میں حیرت انگیز اضافہ ہوتا گیا اور پھر جانوں کا اتلاف سیکڑوں سے ہزاروں اور پھر لاکھوں میں پہنچ گیا۔

اعداد و شمار کے مطابق انڈیا میں تقریباً ایک سال کے عرصہ میں کووڈ 19 کے شکار لوگوں کی تعداد ایک کروڑ سے زائد اور مرنے والوں کی تعداد تقریباً ڈیڑھ لاکھ ہو چکی ہے۔ اس دوران انڈیا کے باشندے جن آلام و مصائب سے گزرے ہیں، وہ تقریباً ہر شہری نے محسوس کیا ہے۔

کووڈ 19 کے بارے میں شروع سے لے کر اب تک طرح طرح کی باتیں اور طرح طرح کی افواہیں ہمارے سامنے آئیں۔ بین الاقوامی اداروں اور ایجنسیوں سے لے کر حکومت ہند اور قومی اداروں تک اور سائنسدانوں سے لے کر ماہرین امراض تک، جس نے جو معلومات فراہم کی، عوام نے اس پر بھروسہ کیا اور اس وائرس سے نجات کا راستہ تلاش کرنے کی تگ و دو میں مصروف رہے۔ ملک میںکورونا وائرس کو سیاسی ہتھیار کے طور پر بھی استعمال کیا گیا اور نفرت انگیز مہم کے لئے بھی۔

انتخابات جیتنے پر مفت ویکسین لگانے کا جھوٹا وعدہ بھی کیا گیا اور وائرس کے پھیلاؤ میں ایک خاص مذہب اور جماعت کو موردلزام ٹھہرانے کی کوشش بھی کی گئی۔ بہر حال، اب جبکہ لوگوں کا کورونا کی ویکسین کا انتظار ہے ختم ہونے کو ہے تو اس پر ایک بار پھر سیاست بھی ہو رہی ہے اور کاروباری لڑائی بھی۔

انتخابات جیتنے پر مفت ویکسین لگانے کا جھوٹا وعدہ بھی کیا گیا اور وائرس کے پھیلاؤ میں ایک خاص مذہب اور جماعت کو موردلزام ٹھہرانے کی کوشش بھی کی گئی۔ بہر حال، اب جبکہ لوگوں کا کورونا کی ویکسین کا انتظار ہے ختم ہونے کو ہے تو اس پر ایک بار پھر سیاست بھی ہو رہی ہے اور کاروباری لڑائی بھی۔ اس طرح عوام کے درمیان طرح طرح کی قیاس آرائیاں اور خدشات کا اظہار فطری ہے۔

انڈیا ہی نہیں، پوری دنیا ایک سال سے کورونا کی ویکسین کا انتظار کر رہی تھی۔ خوشی اور اطمینان کی بات ہے کہ دنیا کے بہت سے ملکوں میں ویکسین تیار بھی ہو گئی اور اس کو لگانے کا عمل بھی جاری ہے۔مختلف ملکوں کے سربراہان نے ویکسین کے ٹرائل میں بھی حصہ لیا اور ما بعد ٹرائل ٹیکہ لگوا کرعوام کے خدشات کو بھی دور کیا۔ لیکن ہم اپنے ملک میں دیکھتے ہیں کہ عوام کو ٹیکہ کاری کے لئے راحتی پیغام دینے کی بجائے ان کے خدشات اور تحفظات میں مزید اضافہ کیا جا رہا ہے۔

بعض  لوگوں کا کہنا ہے کہ پہلے وزیر اعظم کو یہ ویکسین لگوانی چاہئے اور عوام کو یہ پیغام دینا چاہئے کہ یہ دوا ہے، کوئی زہر نہیں۔ کوئی سیاستداں کہہ رہا ہے کہ بی جے پی حکومت نے یہ ویکسین بنائی ہے تو ہم اسے نہیں لگوائیں گے۔ کہیں بحث ہو رہی ہے کہ ویکسین حرام ہے یا حلال، لیکن عوام کشمکش اور تذبذب کا شکار ہو رہے ہیں۔

انڈیا میں فی الحال دو ویکسین کو منظوری مل گئی ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی تنازعات بھی شروع ہو گئے ہیں۔ وزیر اعظم نے دو ویکسین کی منظوری کے بعد مبارکباد دی تو کانگریس کے لیڈران نے کہا کہ ویکسین کی اجازت جلد بازی میں دی گئی، یہ خطرناک ہے۔

بعض نے کہا کہ پہلے وزیر اعظم کو یہ ویکسین لگوانی چاہئے اور عوام کو یہ پیغام دینا چاہئے کہ یہ دوا ہے، کوئی زہر نہیں۔ کوئی سیاستداں کہہ رہا ہے کہ بی جے پی حکومت نے یہ ویکسین بنائی ہے تو ہم اسے نہیں لگوائیں گے۔ کہیں بحث ہو رہی ہے کہ ویکسین حرام ہے یا حلال۔ وہیں ایک مذہب کے لوگ  کہتے ہیں کہ اس میں خنزیر کی چربی کا استعمال ہوا ہے تو دوسرے مذہب کے لوگ کہتے ہیں کہ ویکسین میں گائے کا خون استعمال کیا گیا ہے، لہذا ہم نہیں لگوائیں گے۔ یعنی جس کو  جو صحیح لگتا ہے، وہ کہہ رہا ہے۔ لیکن عوام کشمکش اور تذبذب کا شکار ہو رہے ہیں۔

انڈیا میںجن دوویکسین کو ایمرجنسی میں استعمال کی منظوری دی گئی ہے ان میں ایک کا نام ’کووی شیلڈ‘ اور دوسری ویکسین ’کوویکسن‘ ہے۔ کووی شیلڈکو برطانیہ میں آکسفورڈ یونیورسٹی اور ایسٹرا زینیکا کمپنی نے مل کر بنایا ہے۔ دنیا میں کورونا کی سب سے پہلی ٹیکہ کاری برطانیہ نے اسی ویکسین سےشروع کی۔

جب یہ ویکسین برطانیہ میں تیار کی جارہی تھی، تب انڈیا میں سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا نے اس کے ساتھ اشتراک کیا۔ سیرم انسٹی ٹیوٹ ایک پرائیویٹ ادارہ ہے ۔ انڈیا میں آکسفورڈ نے سیرم انسٹی ٹیوٹ کی ویکسین کا نام ’کووی شیلڈ‘ رکھا۔ انڈیا کے ڈرگ کنٹرولر جنرل آف انڈیا نے 3 جنوری 2021 کو اعلان کیا کہ ہمارے ’سنٹرل ڈرگ اسٹینڈرڈ کنٹرول آرگنائزیشن‘ یعنی سی ڈی ایس سی او نے سیرم انسٹی ٹیوٹ اور بھارت بائیوٹیک دونوں کی ویکسین کے محدود استعمال کی منظوری دی ہے۔ یعنی انڈیا میں اب کچھ شرائط کے ساتھ ویکسین لگائی جاسکتی ہے۔

اس کے بعد سیرم انسٹی ٹیوٹ کے سی ای او ادار پونا والا نے بتایا کہ ان کی کمپنی ویکسین کی پہلی 10 کروڑ خوراکیں حکومت ہند کو ایک خاص قیمت پر فروخت کرے گی۔ اس کی قیمت ہوگی 200 روپے کی ایک خوراک۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اگر حکومت کے علاوہ کوئی نجی کمپنی ویکسین کی خوراک خریدتی ہے تو اسے 1000 روپے فی خوراک فروخت کیا جائے گا۔ اگرچہ مرکزی وزیر صحت نے کہا تھا کہ پہلے مرحلے میں مفت ویکسین دی جائے گی ۔ بعد میں وضاحت کی کہ ترجیحی بنیاد پر پہلے ایک کروڑ صحت کارکن کو،دوکروڑ فرنٹ لائن ورکرس کو، اس کے بعد جولائی تک27 کروڑ مزید لوگوں کو ویکسین دی جائے گی۔

دوسری ویکسین کا نام ’کوویکسین‘ ہے اور اسے پوری طرح دیسی بتایا جا رہا ہے۔ یہ انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (Indian Council of Medical Research) اور حیدرآباد کی کمپنی ’بھارت بائیوٹیک‘ نے مل کر بنایا ہے۔ یعنی سرکاری ایجنسی اور ایک نجی کمپنی نے مل کر یہ ویکسین تیار کی ہے۔ اس ویکسین کو بھی ڈرگ کنٹرولر جنرل آف انڈیا نے محدود استعمال کی منظوری دے دی ہے ۔ اسی ویکسین کی منظوری کے بعد  حزب اختلاف نے اعتراض کیا، جس سے تنازع پیدا ہو گیا۔

در اصل  ڈرگ کنٹرولر جنرل آف انڈیا کے وی جی سومانی نے کہاتھا کہ’کوویکسین 110 فیصد محفوظ ہے۔ جبکہ کووی شیلڈ 70 فیصد موثر ہے اور کوویکسین مکمل طور پر محفوظ ہے۔‘ یعنی جس ویکسین کا ٹرائل بھی ابھی مکمل نہیں ہوا ہے، اسے ڈرگ کنٹرولر جنرل 110 فیصد محفوظ بتا رہے ہیں۔ اسی پر کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے ٹوئیٹ کیا کہ ’کوویکسین کا تیسرا مرحلہ ابھی مکمل نہیں ہوا ہے۔ اس کو اتنی جلدی اجازت دےدی، جو خطرناک ہوسکتی ہے۔‘

یہ حقیقت ہے کہ بھارت بائیوٹیک کی کوویکسین کے تیسرے مرحلے کی آزمائش ابھی جاری ہے۔ آزمائشی نتائج بھی نہیں آئے ہیں۔ اسی لئے سوال اٹھ رہے ہیں کہ اس ویکسین کو استعمال کی منظوری میں اتنی عجلت کیوں کی گئی ہے؟در اصل چند روز پہلے سیرم انسٹی ٹیوٹ ادار پونا والا نے بھارت بائیو ٹیک کا نام لئے بغیر کہا تھا کہ صرف تین ہی ویکسین کے اندر کورونا سے لڑنے کی صلاحیت ہے۔ جس میں فائزر، ماڈرنا اور ایسٹرینزیکاشامل ہیں، باقی ساری ویکسین پانی کی طرح ہیں۔ جس کے بعد بھارت بائیو ٹیک کے ڈاکٹر کرشنا ایلا کا کہنا تھا کہ  ویکسین مکمل طور پر محفوظ ہے۔

ڈرگ کنٹرولر جنرل آف انڈیا کے وی جی سومانی نے کہاتھا کہ’کوویکسین 110 فیصد محفوظ ہے جبکہ کووی شیلڈ 70 فیصد موثر ہے اور کوویکسین مکمل طور پر محفوظ ہے۔‘ یعنی جس ویکسین کا ٹرائل بھی ابھی مکمل نہیں ہوا ہے، اسے ڈرگ کنٹرولر جنرل 110 فیصد محفوظ بتا رہے ہیں۔

ویکسین پر سیاست ہو رہی ہے، لہذا میں آپ کو بتادوں کہ ہم اس ویکسین کا ٹرائل نہ صرف انڈیا، بلکہ برطانیہ سمیت12 ممالک میں کررہے ہیں۔ اس پر آئی سی ایم آر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر بلرام بھارگوا اور ایمس کے ڈائریکٹر رندیپ گلیریا کا کہنا ہے کہ انڈیا بائیوٹیک کی ویکسین کو  ہنگامی استعمال کے لئے منظور کیا گیا ہے، لیکن ہم اس کو سیرم انسٹی ٹیوٹ ویکسین کی طرح استعمال نہیں کریں گے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اس ویکسین کو بیک اپ کے لئے رکھا جائے گا۔اس کے بعد پھر بھارت بائیو ٹیک نے بیان دیا کہ لوگوں کو بیان سے بچنا چاہئے۔ کو ویکسین ایک ویکسین ہے، نہ کہ ایک بیک اپ۔

بہر حال، تنازع بڑھنے کے بعد بھلے ہی بھارت بائیو ٹیک اور سیرم انسٹیٹیوٹ نے کہا ہےکہ ہمارے درمیان کوئی تنازع نہیں ہے اور ہم مل کر کام کریں گے۔ لیکن اس دوران دونوں جانب سے جو بیان بازی ہوئی اور ایک دوسری ویکسین کے بارے میں منظر عام پر بولا گیا، عوام کے ذہنوں میں کہیں نہ کہیں سیاستدانوں کی باتیں گردش کرنے لگیں۔ یعنی کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے وقت جس طرح کی باتیں اورقسم قسم کی اطلاعات سے عوام کشمکش کا شکار تھے، اب کورونا کی ویکسین آنے پر اسی طرح کے حالات کا سامنا ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ حکومت، سرکاری ادارے، ویکسین تیار کرنے والی کمپنیاںسب مل کر بیٹھیں اور عوام کے خدشات کا ازالہ کریں۔کوشش کریں کہ سائنسدانوں کی محنت ضائع نہ جائے۔

[مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں | ای میل: [email protected]]

ادارے کا مضمون نگار کے آراء و افکار سے متفق ہونا ضروری نہیں

کیپیٹل ہلس پر حملے کے بعد ٹرمپ اور پینس کی پہلی ملاقات

0
کیپیٹل ہلس پر حملے کے بعد ٹرمپ اور پینس کی وہائٹ ہاؤس میں پہلی میٹنگ
کیپیٹل ہلس پر حملے کے بعد ٹرمپ اور پینس کی وہائٹ ہاؤس میں پہلی میٹنگ

 ٹرمپ حامیوں کے کیپیٹل ہلس پر حملے کے بعد مسٹر پینس اور مسٹر ٹرمپ کے رشتے میں تلخی آگئی تھی۔ اس تشدد کے لئے ڈیموکریٹس نے مسٹر ٹرمپ پر اپنے حامیوں کو بھڑکانے کا الزام لگایا تھا۔

واشنگٹن: امریکہ میں کیپیٹل ہلس پر حملے کے بعد پہلی بار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر مائک پینس نے وائٹ ہاؤس میں ایک میٹنگ کے دوران کہا کہ وہ اپنی مدت کار کے باقی وقت ایک ساتھ کام کے لئے پابند عہد ہیں۔ صدر اور نائب صدر کی پیر کو ہوئی میٹنگ کے بعد ایک سینئر افسر نے کہا ’’دونوں لیڈروں کے مابین اچھی بات چیت ہوئی۔

انہوں نے انتظامیہ کے گزشتہ چار برسوں کے کاموں اور کامیابیوں پر تبادلہ خیال کیا اور اپنی مدت کار کے باقی دنوں کے لئے ملک کی جانب سے کام جاری رکھنے کی عہد بستگی ظاہر کی۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتہ امریکی پارلیمنٹ میں نو منتخب صدر جو بائیڈن کی فتح کی کانگریس میں تصدیق کے دوران ٹرمپ حامیوں کے کیپیٹل ہلس پر حملے کے بعد مسٹر پینس اور مسٹر ٹرمپ کے رشتے میں تلخی آگئی تھی۔ اس تشدد کے لئے ڈیموکریٹس نے مسٹر ٹرمپ پر اپنے حامیوں کو بھڑکانے کا الزام لگایا تھا۔

مزید اسے بھی پڑھیں:

ٹرمپ حالیہ واقعات کیلئے خود کو معاف نہ کریں: اٹارنی جنرل