بدھ, ستمبر 30, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 402

راجیہ سبھا نے جموں و کشمیر اور لداخ میں انتظامی اصلاحات بل کی دی منظوری

0
راجیہ سبھا نے جموں و کشمیر اور لداخ میں انتظامی اصلاحات بل کی دی منظوری
راجیہ سبھا نے جموں و کشمیر اور لداخ میں انتظامی اصلاحات بل کی دی منظوری

جموں و کشمیر اور لداخ میں انتظامی اصلاحات بل میں پڈوچیری میں نافذ آئین کے آرٹیکل 239A کو جموں و کشمیر اور لداخ میں بھی لاگو کرنے کا التزام کیا گیا ہے۔

نئی دہلی: راجیہ سبھا نے ریاست جموں و کشمیر اور لداخ میں انتظامی اصلاحات سے متعلق جموں و کشمیر تنظیم نو (ترمیمی) بل 2021 کو پیر کو منظوری دے دی۔

وزیر مملکت برائے داخلہ جے کشن ریڈی نے ایوان میں مختصر بحث کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس سے دونوں نو تشکیل شدہ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ملک کے مرکزی دھارے میں شامل کرنے میں مدد ملے گی۔ اپنے بیان میں مسٹر ریڈی نے جموں و کشمیر اور لداخ میں ترقیاتی کاموں کی تفصیلات بتائی۔

یہ بل ایوان میں جمعرات کو جموں کشمیر تنظیم نو (ترمیم) آرڈیننس کی جگہ پیش کیا گیا تھا اور یہ جموں کشمیر تنظیم نو ایکٹ 2019 کی جگہ لے گا۔

اس بل میں پڈوچیری میں نافذ آئین کے آرٹیکل 239A کو جموں و کشمیر اور لداخ میں بھی لاگو کرنے کا التزام کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بل میں یہ بھی تجویز پیش کی گئی ہے کہ جموں و کشمیر میں تعینات انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس، انڈین پولیس سروس اور انڈین فاریسٹ سروس کے افسران دونوں مرکز کے زیر انتظام علاقوں جموں و کشمیر اور لداخ م میں تعینات رہیں گے۔ مستقبل میں دونوں علاقوں کے افسران ’اروناچل پردیش، گوا، میزورم یونین ٹیریٹری کیڈر‘ سے آئیں گے۔ اس بل میں جموں و کشمیر کیڈر کا ’اروناچل پردیش، گوا، میزورم یونین ٹیریٹری کیڈر‘ میں انضمام کا التزام کرتا ہے۔

 وزیراعظم کی کسانوں سے تحریک واپس لینے کی اپیل: غربت کے خاتمے کے لئے زرعی اصلاحات ضروری

0
 وزیراعظم کی کسانوں سے تحریک واپس لینے کی اپیل: غربت کے خاتمے کے لئے زرعی اصلاحات ضروری
 وزیراعظم کی کسانوں سے تحریک واپس لینے کی اپیل: غربت کے خاتمے کے لئے زرعی اصلاحات ضروری

وزیر اعظم نریندر مودی نے کسانوں کی تحریک واپس لینے کی اپیل کرتے ہوئے اعادہ کیا کہ ان کی حکومت غریبوں کے لئے وقف ہے۔ غربت کے خاتمے کے لئے زرعی اصلاحات ضروری ہیں۔

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کو تینوں زرعی قوانین پر جاری کسانوں کی تحریک واپس لینے کی اپیل کرتے ہوئے انہوں نے اعادہ کیا کہ ان کی حکومت غریبوں کے لئے وقف ہے۔ غربت کے خاتمے کے لئے زرعی اصلاحات ضروری ہیں۔

مسٹر مودی نے راجیہ سبھا میں صدر کے خطاب کے شکریہ کے ووٹ سے متعلق تین روز تک چلنے والی چرچا پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں 12 کروڑ کسانوں کے پاس دو ایکڑ سے بھی کم اراضی ہیں اور انہیں حکومت کی جانب سے دی جارہی امداد کا کوئی فائدہ نہیں مل پاتا، سرکار کا ارادہ ان امداد کو ان کسانوں تک پہنچانا ہے۔

کاشتکاروں کو اپنا احتجاج واپس لے لینا چاہئے

انہوں نے کہا کہ زرعی اصلاحات گزشتہ حکومتوں کی بھی ہمیشہ سے ترجیحات میں رہی ہیں۔ انہوں نے اس کے لئے سابق وزرائے اعظم لال بہادر شاستری اور چودھری چرن سنگھ کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ کاشتکاروں کو اپنا احتجاج واپس لے لینا چاہئے۔ کوئی قانون حتمی نہیں ہے۔ ان میں بہتری کی وسیع گنجائش ہے اور بعد میں بھی بہتری لائی جائے گی۔

انہوں نے یقین دہانی کرائی ایک بار جب قانون نافذ ہوجائے تو ان میں جو بھی کمی ہے اسے دور کردیا جائے گا۔

پورنیہ: ٹرک کی زد میں آنے سے موٹر سائیکل سوار تین نوجوانوں کی موت

0
پورنیہ: ٹرک کی زد میں آنے سے موٹر سائیکل سوار تین نوجوانوں کی موت
پورنیہ: ٹرک کی زد میں آنے سے موٹر سائیکل سوار تین نوجوانوں کی موت

موٹر سائیکل پر سوار تین افراد اتوار کی رات بارات تقریب میں شرکت کیلئے ضلع کے دھمداہا تھانہ علاقہ کے رائے پورا گاﺅں جارہے تھے تبھی فریانی گاﺅں کے نزدیک ٹرک کی زد میں آنے سے ان کی موت ہوگئی۔

پورنیہ: بہار میں پورنیہ ضلع کے مرنگا تھانہ علاقہ میں ٹرک کی زد میں آنے سے تین نوجوانوں کی موت ہوگئی۔

پولیس ذرائع نے سموار کو یہاں بتایا کہ موٹر سائیکل پر سوار تین افراد اتوار کی رات بارات تقریب میں شرکت کیلئے ضلع کے دھمداہا تھانہ علاقہ کے رائے پورا گاﺅں جارہے تھے تبھی فریانی گاﺅں کے نزدیک ٹرک کی زد میں آنے سے ان کی موت ہوگئی۔

مرنے والوں کی شناخت کٹیہار ضلع کے پھلکا تھانہ علاقہ باشندہ شمبھو محلدار، سورج رشی دیو اور گیانی رشی دیو کے طور پر کی گئی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ واقعہ کے بعد ٹرک ڈرائیور گاڑی سمیت فرار ہوگیا۔ واقعہ کی جانکاری کے بعد موقع پر پہنچی پولیس نے لاش پوسٹ مارٹم کیلئے بھیج دی ہے.

اتراکھنڈ میں تباہ شدہ سرنگ ملبے سے ٹھپ، 170 افراد لاپتہ، اب تک 10 لاشیں برآمد

0
In Uttarakhand, 170 people are missing and 10 bodies have been recovered so far
In Uttarakhand, 170 people are missing and 10 bodies have been recovered so far

چمولی میں اتوار کے روز قدرتی گلیشیر ٹوٹنے سے پیدا ہونے والی صورتحال سے پیر کی صبح تک نجات نہیں مل سکی، جہاں اب تک لگ بھگ 170 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ملی ہے۔

چمولی / دہرادون: اتراکھنڈ کے ضلع چمولی میں اتوار کے روز قدرتی گلیشیر ٹوٹنے سے پیدا ہونے والی صورتحال سے پیر کی صبح تک نجات نہیں مل سکی، جہاں اب تک لگ بھگ 170 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ملی ہے۔ اسٹیٹ ڈیزاسٹر رسپانس فورس (ایس ڈی آر ایف) نے آج صبح پھر سے سرنگ کے اندر کا راستہ کھولنے کا کام شروع کیا۔

دریں اثنا ء، الکانندا ندی سے ایک لاش برآمد ہوئی ہے۔

ایس ڈی آر ایف کے کمانڈنٹ نونیت بھلر نے بتایا کہ ملبے کی وجہ سے سرنگ کے اندر کا راستہ ابھی بھی بند ہے جسے جے سی بی کے ذریعہ کھولنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بیلا گاؤں کے نزدیک الکانندا ندی میں نامعلوم لاش ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہند-چین سرحد کو جوڑنے والا وشنو پریاگ پل تباہ ہوگیا ہے۔

مسٹر بھلر نے بتایا کہ اب تک تقریبا 170 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ہے۔ ان میں بان گنگا پروجیکٹ کے 22 افراد اور این ٹی پی سی پروجیکٹ کے 148 افراد شامل ہیں۔ اب تک مجموعی طور پر دس لاشیں نکالی گئی ہیں، جب کہ ہند- تبت سرحدی پولیس (آئی ٹی بی پی) کے تعاون سے 12 افراد کو بچایا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آٹھ افراد زخمی ہوئے ہیں، جبکہ 30 افراد سرنگ کے اندر پھنس گئے ہیں، جنہیں نکالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

روس آئندہ ماہ 18 ممالک کے 40 سٹیلائٹ لانچ کرے گا: ذرائع

0
روس آئندہ ماہ 18 ممالک کے 40 سٹیلائٹ لانچ کرے گا: ذرائع
روس آئندہ ماہ 18 ممالک کے 40 سٹیلائٹ لانچ کرے گا: ذرائع

ذرائع کے مطابق روس کے اس مشن میں خود روس کے علاوہ جنوبی کوریا، جاپان، سعودی عرب، امارات، اسرائیل، تھائی لینڈ، کناڈا، برازیل، جرمنی، ہالینڈ، اٹلی، ارجنٹائنا، ہنگری، تیونس، برطانیہ، اسپین اور سلواکیہ کے سٹیلائٹ شامل ہوں گے۔

ماسکو: روس نے آئندہ ماہ ایک درجن سے زائد ممالک کے 40 سٹیلائٹ کو اپنے سویوز-2 راکٹ کے ذریعہ مدار میں لانچ کا منصوبہ بنایا ہے۔

خلائی صنعت کے ایک اہلکار نے بتایا کہ سویوز-2 خلائی راکٹ جنوبی کوریا کے سی اے ایس 500-1 سٹیلائٹ کے ساتھ بائکنور اسپیس سینٹر سے 20 مارچ 2021 کو پرواز بھرے گا۔

ذرائع کے مطابق جنوبی کوریا کے سی اے ایس 500-1 سٹیلائٹ کے علاوہ دیگر ممالک کے سٹیلائٹ کو بھی اس مشن کے تحت مدار میں پہنچائے جانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ مدار میں پہنچائے جانے والے سٹیلائٹوں کی فہرست ابھی حتمی شکل نہيں دی گئی ہے اور سٹیلائٹوں کی تیاری کی بنیاد پر اس میں ترمیم کی جاسکتی ہے۔

ایک دیگر اہلکار نے پیر کے روز بتایا کہ فی الحال، جنوبی کوریا کے سی اے ایس 500-1 سٹیلائٹ کے ساتھ 18 ممالک کے 40 چھوٹے سٹیلائٹوں کو اس میں لانچ کیے جانے کی توقع ہے۔

ذرائع کے مطابق روس کے اس مشن میں خود روس کے علاوہ جنوبی کوریا، جاپان، سعودی عرب، امارات، اسرائیل، تھائی لینڈ، کناڈا، برازیل، جرمنی، ہالینڈ، اٹلی، ارجنٹائنا، ہنگری، تیونس، برطانیہ، اسپین اور سلواکیہ کے سٹیلائٹ شامل ہوں گے۔

صومالیہ میں دھماکہ سے 12 فوجی جوانوں کی موت

0
صومالیہ میں دھماکہ سے 12 فوجی جوانوں کی موت
صومالیہ میں دھماکہ سے 12 فوجی جوانوں کی موت

صومالیہ کے وسطی علاقہ دھوسمارب میں فوجیوں کو لے جانے والی ایک گاڑی کو نشانہ بناکر دھماکہ کیا گیا، جس سے ان فوجی جوانوں کی موت ہوگئی۔

موغادیشو: صومالیہ کے صوبہ گلمدوگ میں اتوار کے روز ہونے والے دھماکے میں مقامی انٹیلی جنس محکمہ کے سربراہ سمیت 12 فوجی جوانون کی موت ہوگئی اور متعدد دیگر زخمی ہوگئے۔ مقامی حکام نے آج یہ اطلاع دی۔

حکام کے مطابق صومالیہ کے وسطی علاقہ دھوسمارب میں فوجیوں کو لے جانے والی ایک گاڑی کو نشانہ بناکر دھماکہ کیا گیا، جس سے ان فوجی جوانوں کی موت ہوگئی۔

حکام نے بتایا کہ اس علاقے کو مکمل طور پر گھیرے میں لے لیا گیا ہے اور دھماکے کی تفتیش کی جارہی ہے۔

میانمار میں فوجی تختہ پلٹ کے خلاف زبردست احتجاج

0
میانمار میں فوجی تختہ پلٹ کے خلاف زبردست احتجاج
میانمار میں فوجی تختہ پلٹ کے خلاف زبردست احتجاج

میانمار میں حالیہ فوجی تختہ پلٹ کے خلاف مظاہرے کے دوران ہزاروں مظاہرین نے نعرے لگاتے ہوئے کہا کہ ہم فوجی آمریت نہیں چاہتے، ہم جمہوریت چاہتے ہیں۔

نیپئی تا: میانمار میں حالیہ فوجی تختہ پلٹ کے خلاف اور ملک کی اہم لیڈر آنگ سان سوکی کی جلد از جلد رہائی کے مطالبے پر ہزاروں افراد نے اتوار کے روز ملک بھر میں سخت احتجاج کیا۔

مظاہرے کے دوران ہزاروں مظاہرین نے نعرے لگاتے ہوئے کہا "ہم فوجی آمریت نہیں چاہتے، ہم جمہوریت چاہتے ہیں”۔ تاہم، تختہ پلٹ کرنے میں شامل فوجی افسران نے ابھی تک اس حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

اس سے قبل میانمار کے فوجی حکمرانوں نے ملک میں تختہ پلٹ کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں ہزاروں افراد کی شرکت کے پیش نظر ہفتہ کے روز انٹرنیٹ سروس بند کردی تھی، جسے اتوار کے روز دوبارہ بحال کردیا گیا تھا۔ فوج نے ٹویٹر اور انسٹاگرام جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارموں پر پابندی عائد کرنے کے فورا بعد ہی انٹرنیٹ سروس بند کردی تھی تاکہ لوگوں کو تختہ پلٹ کے خلاف احتجاج کرنے سے روکا جاسکے۔

جمعہ کے روز ہی سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔ بہت سے صارفین نے ورچوئل پرائیوٹ نیٹ ورکس (وی پی این) کا استعمال کرکے سوشل میڈیا پر عائد پابندیوں کو نظرانداز کیا ہے، لیکن عام طور پر اس پابندی کا اثر ظاہر ہورہا ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق رنگون شہر میں لوگوں کی بھیڑ احتجاج میں شامل ہوئی اور مظاہرین نے ‘فوجی آمریت مردہ باد’ اور ‘جمہوریت زندہ باد’ کے نعرے لگائے۔ تاہم مظاہرین سے نمٹنے کے لئے پولیس کی ایک بڑی تعداد کو تعینات کردیا گیا ہے اور شہر کے تمام اہم راستے بند کردیئے گئے ہیں۔

اتراکھنڈ: چمولی میں گلیشیئر ٹوٹنے سے کم از کم 150 افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ

0
اتراکھنڈ: چمولی میں گلیشیئر ٹوٹنے سے کم از کم 150 افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ
اتراکھنڈ: چمولی میں گلیشیئر ٹوٹنے سے کم از کم 150 افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ

موصولہ اطلاعات کے مطابق اتراکھنڈ میں گلیشیئر ٹوٹنے کی وجہ سے 13.3 میگاواٹ رشی گنگا پن بجلی پروجیکٹ مکمل طور پر تباہ ہو گیا اور الیکندا ندی میں آبی سطح میں اضافے کی وجہ سے سیلاب آگیا۔

چمولی / دہرادون: اتراکھنڈ کے ضلع چمولی کے رینی گاؤں میں اتوار کے روز گلیشیئر ٹوٹنے کے باعث سیلاب آنے سے کم از کم 150 افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ ہے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق گلیشیئر ٹوٹنے کی وجہ سے 13.3 میگاواٹ رشی گنگا پن بجلی پروجیکٹ مکمل طور پر تباہ ہو گیا اور الیکندا ندی میں آبی سطح میں اضافے کی وجہ سے سیلاب آگیا۔

رشی گنگا پن بجلی منصوبہ میں کام کرنے والے کئی لوگ بہہ گئے

پولیس کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی پی) اشوک کمار نے بتایا کہ رشی گنگا پن بجلی منصوبہ میں کام کرنے والے کئی لوگ بہہ گئے، ملبے میں پھنسے لوگوں کو بچایا جا رہا ہے۔ پولیس اور اسٹیٹ ڈیزاسٹر رسپانس فورس (ایس ڈی آر ایف) کی ٹیمیں موقع پرپہنچ گئیں۔ سیلاب کا پانی کرن پریاگ پہنچ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم جانی و مالی نقصانات کو روکنے کے لئے پوری کوشش کر رہے ہیں۔

ڈی جی پی نے بتایا کہ تپوون ڈیم میں پھنسے 16 افراد کو پولیس نے باہر نکال لیا ہے اور انہیں محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آج صبح 10.45 بجے سیلاب آیا اور چمولی میں دو ڈیم کو اس سے نقصان پہنچا ہے۔ قدرتی آفت کے بعد ریاست کی ڈیزاسٹر منیجمنٹ راحت و بچاؤ کے کاموں میں مصروف ہے۔ ڈی جی پی مسٹر کمار نے بتایا کہ ندی کے کنارے واقع بہت سے مکانات اور جھونپڑیاں تیز بہاؤ میں بہہ گئی ہیں ۔ سیلاب کے راستے میں آنے والے کئی راستے میں پیڑ بہہ گئے ہیں۔

رشی گنگا اور الیکندا کی بڑھتی ہوئی آبی سطح کو کم کرنے کے لئے ملک کے سب سے بلند ترین ٹہری ڈیم سے پانی کے بہاؤ کو فی الحال روک دیا گیا ہے۔ سری نگر ڈیم سے پانی کا بہاؤ تیزی سے بڑھنے اور تیز پانی کے بہاؤ کی وجہ سے ندی کنارے کے تمام دیہاتوں اور نشیبی علاقوں کو فوری طور پر خالی کرا لیا گیا ہے۔

اتراکھنڈ کے وزیر اعلی تریویندر سنگھ راوت موقع پر پہنچ گئے ہیں اور لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس قدرتی آفت کی ویڈیو شیئر کرکے افواہیں نہ پھیلائیں۔

متعدد وزراء کی ریاستی وزیر اعلیٰ سے فون پر بات چیت

وزیر اعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور مرکزی وزیر برائے ماحولیات، جنگل و موسمیاتی تبدیلی پرکاش جاوڈیکر نے بھی وزیر اعلی سے فون پر معلومات حاصل کی۔

 

مسٹر مودی نے ٹویٹر پر کہا ’’پورا ہندوستان اتراکھنڈ کے ساتھ کھڑا ہے اور ملک سبھی کی سلامتی کے لئے دعا گو ہے۔ سینئر عہدیدار مسلسل این ڈی آر ایف کی تعیناتی اور راحت و بچاؤ کے کاموں کی معلومات دے رہے ہیں‘‘۔

امت شاہ کی راوت کو ہر ممکن امداد کی یقین دہانی

مسٹر شاہ نے وزیر اعلی راوت کو ہر کرائی اور عہدیداروں کو دہرادون سے جوشی مٹھ تک این ڈی آر ایف کی چار ٹیموں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعہ روانہ کرنے کی ہدایت دی۔

ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس فورس موقع پر پہنچ گئی ہے اور جنگی بنیادوں پر راحت و بچاؤ کے کام شروع کرد یے گئے ہیں۔ چمولی پولیس نے لوگوں کو انتباہ دیا کہ وہ سیلاب زدہ علاقوں سے محفوظ مقامات پر پہنچ جائیں۔ تاہم سری نگر میں سیلاب کا پانی معمول پر آ گیا ہے۔

واضح رہے کہ سنہ 2013 میں بادل پھٹنے سے ضلع رودر پریاگ کے بعد مندکنی ندی میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں سیکڑوں افراد کی موت ہو گئی تھی۔
ریاستی حکومت نے کسی طرح کی ہنگامی صورتحال کے پیش نظر امداد کے لئے  10 1070 ، 1905 اور 9557444486 پر رابطہ کرنے کو کہا ہے۔

اتراکھنڈ میں گلیشیئر ٹوٹنے سے گنگا کے کنارے واقع اضلاع میں ہائی الرٹ جاری

0
اتراکھنڈ میں گلیشیئر ٹوٹنے سے گنگا کے کنارے واقع اضلاع میں ہائی الرٹ جاری
اتراکھنڈ میں گلیشیئر ٹوٹنے سے گنگا کے کنارے واقع اضلاع میں ہائی الرٹ جاری

اتراکھنڈ میں گلیشیئر ٹوٹنے سے اترپردیش میں گنگا کے کنارے واقع اضلاع کے تمام مجسٹریٹ / سپرنٹنڈنٹ کو مستقل نگرانی کی ہدایات دی گئی ہیں۔

لکھنؤ: اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے آج کہا کہ میں نندا دیوی گلیشیر کا ایک حصہ رشی گنگا ندی پاور پروجیکٹ کے ڈیم پر گرنے سے الکانندا ندی میں آبی سطح اچانک بڑھ گئی ہے۔ باندھ ٹوٹنے سے پیدا ہونے والے حالات کے پیش نظر اترپردیش میں دریائے گنگا کے کنارے واقع اضلاع میں ہائی الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔

وزیر اعلی نے کہا کہ ریاست میں گنگا کے کنارے واقع اضلاع کے تمام مجسٹریٹ / سپرنٹنڈنٹ کو مستقل نگرانی کی ہدایات دی گئی ہیں۔ ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لئے حکومت اترپردیش نے ایس ڈی آر ایف کو بھی الرٹ کردیا ہے۔ ریاست میں گنگا کے کنارے واقع اضلاع میں پانی کی سطح کی مستقل نگرانی کی جارہی ہے۔ پانی کی سطح میں اضافہ ہونے کی صورت میں ضرورت پڑنے پر گنگا ندی کے کنارے رہنے والے لوگوں کو دوسرے مقامات پر منتقل کیا جائے گا۔ راحت اور بچاؤ کے لئے ہدایات دی گئی ہیں۔

وزیر اعلی نے کہا کہ بحران کی اس گھڑی میں حکومت اترپردیش اتراکھنڈ کی حکومت کے ساتھ کھڑی ہے۔ اتراکھنڈ کی حکومت کو ضرورت پڑنے پر تمام ضروری مدد فراہم کی جائے گی۔

وزیر اعلی نے عوام سے اپیل کی کہ وہ کسی طرح کی افواہوں پر بھروسہ نہ کریں اور نہ ہی افواہ پھیلائیں۔ لوگوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے ندی کے کنارے نہیں جانا چاہئے۔ کسی بھی طرح کی ناخوشگوار صورتحال پیدا ہونے کی صورت میں ضلع انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں۔ اترپردیش حکومت تمام ضروری اقدامات کررہی ہے۔

اتراکھنڈ میں سیلاب سے نمٹنے کے لئے امت شاہ نے راوت کو ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی

0
اتراکھنڈ میں سیلاب سے نمٹنے کے لئے امت شاہ نے راوت کو ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی
اتراکھنڈ میں سیلاب سے نمٹنے کے لئے امت شاہ نے راوت کو ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی

گلیشیر کے ٹوٹنے سے رشی گنگا پاور پروجیکٹ مکمل طور پر تباہ ہوگیا ہے اور سیلاب سے الکانندا ندی کی آبی سطح میں کئی فٹ تک اضافہ ہوا ہے۔

نئی دہلی: مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے اتوار کے روز اتراکھنڈ کے ضلع چمولی میں گلیشیر پگھلنے سے سیلاب کے حالات پیدا ہونے کے پیش نظر وزیر اعلی تریویندر سنگھ راوت کو ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی ہے۔
مسٹر امیت شاہ نے حکام کو ہدایت دی ہے کہ وہ ہیلی کاپٹر کے ذریعہ نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس فورس (این ڈی آر ایف) کی چار ٹیمیں دہرادون سے جوشی مٹھ روانہ کریں۔ ہمالیائی سرحد کی حفاظت پر مامور ہند- تبت سرحدی پولیس کو بھی جوشی مٹھ کے ارد گرد علاقے میں امدادی کاموں میں شامل ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔
امدادی سرگرمیوں پر آج شام کو کابینہ کے سکریٹری راجیو گوبا کی میٹنگ ہونے کی توقع ہے۔
واضح رہے کہ اتراکھنڈ میں ضلع چمولی کے رینی گاؤں میں گلیشیر کی زد میں آنے سے کم از کم 50 افراد کے ہلاک یا لاپتہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
گلیشیر کے ٹوٹنے سے رشی گنگا پاور پروجیکٹ مکمل طور پر تباہ ہوگیا ہے اور سیلاب سے الکانندا ندی کی آبی سطح میں کئی فٹ تک اضافہ ہوا ہے۔ ریاستی حکومت نے فوری طور پر کارروائی شروع کردی ہے اور ندی کے کنارے آباد لوگوں کو وہاں سے منتقل کیا جارہا ہے۔