بدھ, ستمبر 30, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 401

زرعی قوانین کے خلاف اتحاد کا مظاہرہ کریں کسان: جینت

0
زرعی قوانین کے خلاف اتحاد کا مظاہرہ کریں کسان: جینت
زرعی قوانین کے خلاف اتحاد کا مظاہرہ کریں کسان: جینت

مسٹر چودھری نے کہا کہ ان نئے قوانین کا کچھ بڑے کاروباریوں و سرمایہ داروں کو ہی فائدہ ملے گا۔ اگر یہ قوانین نافذ ہوتے ہیں تو ملک کا کسان برباد ہوجائےگا۔

بلند شہر: راشٹریہ لوک دل (آر ایل ڈی) کے نائب صدر جینت چودھری نے تینوں زرعی قوانین کو کسانوں کے مفاد کے خلاف قرار دیتے ہوئے کسانوں سے اس ضمن میں اتحاد کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔

مسٹر چودھری نے آج یہاں ضلع کے کھرجا تحصیل کے فیروز پور گاؤں میں منعقد کسان مہاپنچایت میں کہا کہ ان نئے قوانین کا کچھ بڑے کاروباریوں و سرمایہ داروں کو ہی فائدہ ملے گا۔ اگر یہ قوانین نافذ ہوتے ہیں تو ملک کا کسان برباد ہوجائےگا۔ انہوں نے کہا کہ جب ملک کے کسان اس کی مخالفت کررہے ہیں تو مرکزی حکومت ان قوانین کو کیوں نافذ کرنے کے ضد پر ہے۔

آر ایل ڈی نائب صدر نے الزام لگایا کہ مرکز میں جب سے مودی حکومت اقتدار میں آئی ہے تبھی سے کسان و یومیہ مزدور کی اندیکھی جاری ہے۔ انہوں نے سابق وزیر اعظم چودھری چرن سنگھ کی یاد دلاتے ہوئے کہا کہ چودھری صاحب کہتے تھے کہ کسان کو اپنی ایک آنکھ اقتدار پر اور دوسری آنکھ کھیتی پر رکھنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں وجوہات کی وجہ سے کسانوں میں اختلاف پیدا ہوا اور ان کا سیاسی طاقت ختم ہوگئی۔ یہی وجہ ہے کہ مرکزی حکومت اب کسانوں کے خلاف قانون بنا رہی ہے۔

انہوں نے کسانوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ لکشمن ریکھا کھینچ لیں اور اس بات پر غور کریں کہ کون ان کا اپنا ہے اور کون ان کا مخالف۔ کسان اب متحد ہوکر اپنی کھوئی ہوئی سیاسی طاقت کو حاصل کرتے ہوئے ملک کو اس کا احساس کرائیں۔ انہوں نے وزیر اعظم کے ’’آندولن جیو‘‘ نامی نئی جماعت کھڑی ہونے کے طنز کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ملک کا کسان ’’آندولن جیو‘‘ نہیں بلکہ اپنے مستقبل کے فکر میں دھرنے پر بیٹھا ہے۔

ہوائی اڈوں کے بعد، حکومت اب بندرگاہوں کو بھی نجی ہاتھوں میں دینا چاہتی ہے: کانگریس

0
ہوائی اڈوں کے بعد، حکومت اب بندرگاہوں کو بھی نجی ہاتھوں میں دینا چاہتی ہے: کانگریس
ہوائی اڈوں کے بعد، حکومت اب بندرگاہوں کو بھی نجی ہاتھوں میں دینا چاہتی ہے: کانگریس

حکومت ملک کے کچھ ہوائی اڈوں کو اپنے صنعت کار دوستوں کے حوالے کرنے کے بعد، اب بندرگاہوں کو بھی نجی ہاتھوں میں سونپنا چاہتی ہے۔

نئی دہلی: کانگریس نے آج الزام عائد کیا کہ حکومت ملک کے کچھ ہوائی اڈوں کو اپنے صنعت کار دوستوں کے حوالے کرنے کے بعد اب عقبی دروازے سے ملک کی اہم بندرگاہوں کو بھی نجی ہاتھوں میں دینا چاہتی ہے۔

کانگریس کے شکتی سنگھ گوول نے بدھ کے روز راجیہ سبھا میں ’میجر پورٹس اتھارٹی بل 2020‘ پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ اس بل کا مسودہ تیار کرتے ہوئے بہت سے امور کو پیش نظر نہیں رکھا گیا، جس سے اس میں بہت ساری خامیاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بل کو پارلیمنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے پاس بھیجا گیا تھا اور کمیٹی نے اپنی رپورٹ بھی دے دی تھی لیکن لوک سبھا تحلیل ہونے کی وجہ سے اس بل کو واپس لایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ امر افسوسناک ہے کہ قائمہ کمیٹی کی سفارشات کو دوبارہ پیش کردہ بل میں شامل نہیں کیا گیا۔ لہذا اس بل کو دوبارہ قائمہ کمیٹی کے پاس بھیجا جائے اور بندرگاہوں کی نجکاری سے متعلق تمام خدشات دور کئے جائیں۔

لال قلعہ ہنگامہ: سدھو کے بعد ایک اور ملزم اقبال سنگھ گرفتار

0
لال قلعہ ہنگامہ: سدھو کے بعد ایک اور ملزم اقبال سنگھ گرفتار
لال قلعہ ہنگامہ: سدھو کے بعد ایک اور ملزم اقبال سنگھ گرفتار

اسپیشل سیل کی ٹیم نے منگل کی رات کو لال قلعہ کیس میں مفرور اقبال سنگھ کو پنجاب کے ہوشیار پور سے گرفتار کیا ہے۔ پولیس نے اقبال کی گرفتاری پر 50 ہزار روپے کا انعام رکھا تھا۔

نئی دہلی: دہلی پولیس کی اسپیشل سیل کی ٹیم نے یوم جمہوریہ کے موقع پر کسانوں کی ٹریکٹر ریلی کے دوران لال قلعہ میں ہنگامہ کرنے کے ایک اور ملزم اقبال سنگھ کو گرفتار کرلیا۔

سیل کے ایک سینیئر افسر نے بدھ کے روز بتایا کہ ناردرن رینج کی اسپیشل سیل کی ٹیم نے منگل کی رات کو لال قلعہ کیس میں مفرور اقبال سنگھ کو پنجاب کے ہوشیار پور سے گرفتار کیا ہے۔ پولیس نے اقبال کی گرفتاری پر 50 ہزار روپے کا انعام رکھا تھا۔ ہنگامہ آرائی کے معاملہ میں ملوث دیپ سدھو کو پولیس نے پیر کی شب ہریانہ کے کرنال سے گرفتار کیا تھا۔

گذشتہ ہفتہ پولیس نے دیپ سدھو، جوگراج سنگھ، گرجوت سنگھ اور گرجنت سنگھ کے بارے میں معلومات دینے والوں کو ایک لاکھ روپے نقد انعام دینے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے علاوہ پولیس نے ججبیر سنگھ، بوٹا سنگھ، سکھ دیو سنگھ اور اقبال سنگھ کے بارے میں معلومات دینے والوں کو 50،000 روپے نقد انعام دینے کا اعلان کیا تھا۔

خیال ر ہے 26 جنوری کو کسانوں کی تنظیموں نے مرکز کے تینوں نئے زرعی قوانین کو واپس لینے کے مطالبے کی حمایت میں ٹریکٹر پریڈ کی تھی۔ اس دوران ان کی پولیس سے پرتشدد جھڑپیں ہوئیں اور کچھ مظاہرین لال قلعہ کی فصیل تک پہنچ گئے۔ انہوں نے لال قلعہ کی فصیل پر کسان تنظیموں اور مذہبی جھنڈے لگا دیئے تھے۔

مہوا موئترا نے پارلیمنٹ میں اپنی زور دار تقریر میں اٹھایا کمزور پڑتے جمہوریت کے اہم ستونوں کا مسئلہ

0
مہوا موئترا نے پارلیمنٹ میں اپنی زور دار تقریر میں اٹھایا کمزور پڑتے جمہوریت کے اہم ستونوں کا مسئلہ
مہوا موئترا نے پارلیمنٹ میں اپنی زور دار تقریر میں اٹھایا کمزور پڑتے جمہوریت کے اہم ستونوں کا مسئلہ

ترنمول کانگریس کی مہوا موئترا نے اپنی تقریر میں سابق چیف جسٹس پر جنسی ہراسانی کے الزامات کا معاملہ اٹھایا اور کہا کہ عدلیہ اب قابل احترام نہیں رہ گئی ہے اور میڈیا بھی ناکام ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی تقدیر یہ نہیں ہے کہ بزدلوں کی جماعت اس پر برسر اقتدار ہو

نئی دہلی: پیر کے روز ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے سابق چیف جسٹس کے خلاف جنسی ہراسانی کے الزامات کی بات زور شور سے کہی جس کے بعد لوک سبھا میں کافی شور شرابہ ہوا اور ایوان کی کارروائی میں افراتفری پیدا ہوئی۔

موئترا نے مزید کہا "وہ مقدس گائے جو عدلیہ تھی اب مقدس نہیں ہے۔ اسے اس دن مقدس ہونے سے روکا گیا جب اس ملک کے ایک چیف جسٹس پر جنسی ہراسانی کا الزام عائد کیا گیا، اور اس نے اپنے مقدمے کی صدارت خود کی، خود کو بےگناہ ثابت کیا اور پھر زیڈ پلس زمرے کی سیکیورٹی کے ساتھ ریٹائرمنٹ کے تین ماہ کے اندر ہی پارلیمنٹ کے ایوان بالا کے لیے نامزد کیے گئے۔”

موئترا نے مزید کہا "جب عدلیہ نے آئین کے بنیادی اصولوں کی حفاظت کرنے کا موقع ضائع کیا تو اس نے اپنا تقدس بھی کھو دیا۔” موئترا نے اپنی تقریر میں کہا کہ عدلیہ اب قابل احترام نہیں رہ گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس تبصرہ کو بعد میں ایوان کے ریکارڈ سے نکال دیا گیا۔

ٹی ایم سی رہنما نے کہا کہ آج بھارت کا المیہ صرف یہ نہیں ہے کہ برسر اقتدار حکومت نے اسے ناکام بنادیا ہے، بلکہ جمہوریت کے دیگر اہم ستون میڈیا اور عدلیہ بھی ناکام ہوگئے ہیں۔

انہوں نے میڈیا کا ذکر کرتے ہوئے ارنب گوسوامی کے اس واٹس ایپ چیٹ لیک کا بھی تذکرہ کیا جس میں ملک کی سیکوریٹی سے متعلق بات چیت کی گئی ہے۔ موئترا نے اپنی تقریر میں وزیر اعظم نریندر مودی حکومت پر "نفرت، عداوت اور تعصب” کو اپنے بیان کا ایک حصہ بنانے پر سختا الفاظ میں تنقید کی اور اسے "واضح فاشسٹ فیشن” قرار دیا۔

اس تقریر کے دوران ٹریژری ممبروں نے موئترا کے بیانات کی سختی سے مخالفت کی اور ان پر پارلیمنٹ کے قوانین کی خلاف ورزی کا الزام لگایا۔ اراکین نے کہا کہ اعلی اتھارٹی کے فرد پر پیشگی اطلاع اور منظوری کے بغیر اس طرح بات نہیں کی جاسکتی ہے۔

مرکزی وزیر ارجن رام میگوال نے سابق چیف جسٹس کے خلاف موئترا کے تبصرے کو "شرمناک” قرار دیا۔ وہیں انڈین ایکسپریس کے مطابق ٹی ایم سی کے سوگتا رائے نے تاہم اس بات کی نشاندہی کی کہ موئترا نے کسی کا نام نہیں لیا اور سابق چیف جسٹس کو ریٹائر ہونے کے بعد ’’اعلی اتھارٹی‘‘ نہیں کہا جاسکتا ہے۔

مہو موئترا نے نیتا جی سبھاش چندر بوس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت نے گوکہ نیتاجی کی وراثت کو ہائی جیک کرنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن حکومت کا نیتاجی کی وراثت سے کوئی واسطہ نہیں۔ انہوں نے کہ "جے ہند” اور "دلی چلو” نیتا جی کا نعرہ تھا مگر مرکزی حکومت نے کسان قانوںوں کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کا راستہ دلی آنے کے لیے سنگور بارڈر پر ہی روک رکھا ہے۔

انقلابی سوشلسٹ پارٹی کے رکن این کے پریما چندرن، جو چیئر پر موجود تھے، نے موئترا کو اپنی تقریر ختم کرنے کی اجازت دی لیکن متنبہ کیا کہ اگر انھیں قابل اعتراض سمجھا گیا تو ان کے ریمارکس کو برخاست کردیا جائے گا۔

ٹی ایم سی رہنما مہوا موئترا  نے مزید کہا کہ سچائی کو کبھی ختم نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے اس ضمن میں جمہوریت سے متعلق کئی معاملوں میں نیتا جی سبھاش چندر بوس کا بھی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت نے گوکہ نیتاجی کی وراثت کو ہائی جیک کرنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن حکومت کا نیتاجی کی وراثت سے کوئی واسطہ نہیں۔

انہوں نے کہ "جے ہند” اور "دلی چلو” نیتا جی کا نعرہ تھا مگر مرکزی حکومت نے کسان قانوںوں کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کا راستہ دلی آنے کے لیے سنگور بارڈر پر ہی روک رکھا ہے۔

موئترا نے کہا کہ نیتاجی نے کہا ہے بھارت کی تقدیر پر اپنا اعتماد کبھی نہ کھویا جائے اور پھر موئترا نے کہا کہ "بھارت کی تقدیر یہ نہیں ہے کہ بزدلوں کی جماعت اس پر برسر اقتدار ہو۔”

ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی پوری طرح آئینی: سینیٹ

0
ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی پوری طرح آئینی: سنیٹ
ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی پوری طرح آئینی: سنیٹ

سینیٹ نے منگل کے روز 56-44 تناسب سے مسٹر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کے حق میں ووٹ دیا اور بدھ کی سہ پہر اس مواخذے پر دوبارہ بحث ہوگی۔

واشنگٹن: امریکی سینیٹ نے کہا ہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی پوری طرح آئینی ہے۔

سینیٹ نے منگل کے روز 56-44 تناسب سے مسٹر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کے حق میں ووٹ دیا اور بدھ کی سہ پہر اس مواخذے پر دوبارہ بحث ہوگی۔

اس سے قبل سابق صدر کے وکلاء نے سینیٹروں پر زور دیا تھا کہ وہ مواخذے کو غیر آئینی اور واضح طور پر جھوٹا الزام قرار دے کر مسترد کریں، لیکن سینیٹروں نے ان کی اپیل مسترد کردی اور مواخذہ کو آئینی قرار دے دیا۔ وکلاء کا کہنا تھا کہ مسٹر ٹرمپ کا 6 جنوری کو کیپٹل ہل میں ہونے والے تشدد سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

واضح رہے کہ مسٹر ٹرمپ کے حامیوں نے 6 جنوری کو واشنگٹن میں امریکی کانگریس کی بلڈنگ کیپٹل ہل پر حملہ کرکے املاک کو نقصان پہنچایا تھا۔ یہ پُرتشدد واقعہ مسٹر ٹرمپ کے وہائٹ ہاؤس کے قریب ہزاروں حامیوں سے خطاب کرنے کے بعد پیش آیا تھا۔

مظاہرے کے دوران ہونے والے تشدد میں دو خواتین سمیت پانچ افراد ہلاک ہوگئے تھے جبکہ پولیس نے اس سلسلے میں متعدد افراد کو گرفتار بھی کیا ہے۔ مسٹر ٹرمپ پر کیپٹل ہل میں تشدد بھڑکانے کا الزام ہے، جس کی وجہ سے ان کے خلاف مواخذہ کی تحریک لائے جانے کی بات کی جارہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

مواخذہ: ٹرمپ اپنے دفاعی وکیلوں پر برہم

مواخذہ: ٹرمپ اپنے دفاعی وکیلوں پر برہم

0
مواخذہ: ٹرمپ اپنے دفاعی وکیلوں پر برہم
مواخذہ: ٹرمپ اپنے دفاعی وکیلوں پر برہم

ریپبلکن پارٹی کے قانون سازوں جیسے بل کیسڈی، جان کارنن اور ٹیڈ کروز نے پہلے ہی اس بات پر مسٹر ٹرمپ کی قانونی ٹیم کی سرعام تنقید کی ہے کہ وہ سماعت کے دوران ٹھوس دلیل نہیں پیش کرسکی کہ سابق صدر کے خلاف مواخذہ کی سماعت آئینی ہے یا نہیں۔

واشنگٹن: سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مواخذے کے مقدمہ پر بحث کے پہلے دن اپنے دفاعی وکیل کے دلائل پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔

سی این این نے اس معاملے سے واقف دو افراد کے حوالے سے بتایا کہ مسٹر ٹرمپ اپنے وکیل بروس کینٹر کی ابتدائی دلیل سے اتنے مایوس ہوگئے تھے کہ وہ تقریبا چیخ اٹھے تھے۔ ریپبلکن پارٹی کے قانون سازوں جیسے بل کیسڈی، جان کارنن اور ٹیڈ کروز نے پہلے ہی اس بات پر مسٹر ٹرمپ کی قانونی ٹیم کی سرعام تنقید کی ہے کہ وہ سماعت کے دوران ٹھوس دلیل نہیں پیش کرسکی کہ سابق صدر کے خلاف مواخذہ کی سماعت آئینی ہے یا نہیں۔

واضح رہے کہ سنیٹ میں مسٹر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی سماعت کو آئینی قرار دینے کے لئے منگل کے روز ووٹ ہوا، جس میں مواخذے کے حق میں 56 ووٹ اور اس کے خلاف 44 ووٹ پڑے۔ ریپبلکن پارٹی کے چھ قانون سازوں نے بھی ڈیموکریٹک پارٹی کی حمایت میں ووٹ دیا۔

بہار میں 17 وزراء کی حلف برداری کے ساتھ محکموں کی بھی ہوئی تقسیم

0
بہار میں 17 وزراء کی حلف برداری کے ساتھ محکموں کی بھی ہوئی تقسیم
بہار میں 17 وزراء کی حلف برداری کے ساتھ محکموں کی بھی ہوئی تقسیم

نتیش کابینہ کی تشکیل 16 نومبر کو ہوئی تھی۔ تب وزیراعلیٰ سمیت 15 لوگوں نے حلف لیا تھا۔ کابینہ تشکیل کے 85 دنوں بعد کابینہ کی توسیع میں 17 نئے وزیر بنائے گئے ہیں۔

پٹنہ: بہار کی نتیش حکومت کے کابینہ توسیع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے نو، جنتادل یونائٹیڈ (جے ڈی یو) کے سات اور آزاد رکن اسمبلی کو جگہ دیئے جانے کے ساتھ ہی آج وزراء کے مابین قلمدانوں کی تقسیم بھی کر دی گئی۔

گورنر ہاﺅس میں منعقدہ حلف برداری کی تقریب

گورنر ہاﺅس میں منعقدہ حلف برداری تقریب میں گورنر پھاگو چوہان نے سب سے پہلے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سید شاہنواز حسین کو وزارتی عہدہ اور رازداری کا حلف دلایا۔ مسٹر حسین نے اردو میں عہدہ اور رازداری کا حلف لیا۔ اس کے بعد جنتادل یونائٹیڈ (جے ڈی یو) کے شرون کمار نے وزارتی عہدہ کا حلف لیا۔

ان دونوں لیڈران کے بعد مدن سہنی (جے ڈی یو)، پرمود کمار (بی جے پی)، سنجے کمار جھا (جے ڈی یو)، لیثی سنگھ (جے ڈی یو)، سمراٹ چودھری، نیرج کمار سنگھ ببلو، سبھاش سنگھ، نتین نوین (سبھی بی جے پی)، سمت کمار سنگھ (آزاد)، سنیل کمار (جے ڈی یو)، نارائن پرساد (بی جے پی)، جینت راج (جے ڈی یو)، آلوک رنجن (بی جے پی)، محمد زماں خان (جے ڈی یو)، جنک رام (بی جے پی) نے وزارتی عہدہ او ر رازداری کا حلف لیا۔ مسٹر سنجے جھا اور آلوک رنجن نے میتھلی زبان میں حلف لیا۔

شاہنواز حسین کو صنعت محکمہ کی ذمہ داری

سید شاہنواز حسین کو صنعت، شرون کمار کو دیہی ترقیات، مدن سہنی کو سماجی فلاح، پرمود کمار کو گنا صنعت اور قانون، سنجے کمار جھا کو آبی وسائل اور اطلاعات و رابطہ عامہ محکمہ، لیثی سنگھ کو خوراک اور صارفین تحفظ اور سمراٹ چودھری کو پنچایتی راج محکمہ کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
اسی طرح نیرج کمار سنگھ عرف نیرج ببلو کو ماحولیات و جنگلات اور ماحولیاتی تبدیلی، سبھاش سنگھ کو کو آپریٹیو، نیتن نوین کو سڑک تعمیرات، سمت کمار سنگھ کو سائنس و ٹیکنالوجی، سنیل کمار کو امتناع منشیات، ایکسائز اور رجسٹریشن، نارائن پرساد کو سیاحت، جینت راج کو دیہی ورکس، آلوک رنجن کو فن و ثقافت و امور نوجوان، محمد زماں خان کو اقلیتی فلاح اور جنک رام کو کانکنی و آثار قدیمہ محکمہ کی ذمہ داری ملی ہے۔اس کے ساتھ ہی اب جنرل ایڈمنسٹریشن، داخلہ، کابینہ سکریٹریٹ، نگرانی، الیکشن اور ایسے سبھی محکمے جو کسی وزیر کو الاٹ نہیں کئے گئے ہیں وزیراعلیٰ نتیش کمار کے پاس ہیں۔ وہیں نائب وزیراعلیٰ تارکشور پرساد کے ذمہ مالیات کمرشیل ٹیکس اور شہری ترقیات اور رہائش محکمہ اور نائب وزیراعلیٰ رینودیوی کے پاس آفات مینجمنٹ، پسماندہ اور انتہائی پسماندہ طبقہ فلاح، وجے کمار چودھری کے پاس تعلیم اور پارلیمانی امور، بجیندر پرساد یادو کے پاس توانائی، پلاننگ اور ترقیات، اشوک چودھری کے پاس عمارت تعمیرات، شیلا کماری کے پاس ٹرانسپورٹ، سنتوش کمار سمن کے پاس چھوٹی آبی وسائل، درج فہرست ذات وقبائل فلاح، مکیش سہنی کے ذمہ مویشی اور ماہی پروری، منگل پانڈے کے پاس محکمہ صحت، امریندر پڑتاپ سنگھ کے پاس زراعت، رام پریت پاسوان کے پاس پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، جیویش کمار کے پاس لیبر وسائل انفارمیشن ٹیکنالوجی اور رام صورت کمار کے پاس محصولات اور اصلاحات اراضی محکمہ ہیں۔

غور طلب ہے کہ نتیش کابینہ کی تشکیل 16 نومبر کو ہوئی تھی۔ تب وزیراعلیٰ سمیت 15 لوگوں نے حلف لیا تھا۔ جن میں سے ایک میوالال چودھری نے بعد میں استعفیٰ دے دیا تھا۔ کابینہ تشکیل کے 85 دنوں بعد کابینہ کی توسیع میں 17 نئے وزیر بنائے گئے ہیں۔

بہار اسمبلی میں 243 سیٹیں ہیں۔ کل تعداد کی 15 فیصد حصہ داری کابینہ میں ہوسکتی ہے۔ اس کے مطابق بہار میں وزیراعلیٰ سمیت کل 36 وزیر ہوسکتے ہیں۔ آج کی توسیع کے بعد نتیش حکومت میں وزراء کی تعداد 31 ہوگئی ہے۔

غلام نبی آزاد اپنے الوداعی خطاب میں ہوئے جذباتی

0
غلام نبی آزاد اپنے الوداعی خطاب میں ہوئے جذباتی
غلام نبی آزاد اپنے الوداعی خطاب میں ہوئے جذباتی

راجیہ سبھا میں غلام نبی آزاد جموں و کشمیر کے سری نگر میں گجرات سے سیاحوں کو لے جانے والی بس پر 2005 میں دہشت گردانہ حملے کا ذکر کرتے ہوئے جذباتی ہوگئے۔

نئی دہلی: راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف غلام نبی آزاد منگل کو ایوان میں اس وقت جذباتی ہو گئے جب وہ جموں و کشمیر کے دارالحکومت سری نگر میں گجرات سے سیاحوں کو لے جانے والی بس پر 2005 میں دہشت گردانہ حملے کا ذکر کررہے تھے۔

محترم آزاد نے دہشت گردوں کی ہولناکیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ جموں و کشمیر کے وزیر اعلی بنے اور دارالحکومت سری نگر پہنچے تو دہشت گردوں نے اپنی موجودگی ظاہر کرنے کے لئے گجرات کے سیاحوں سے بھری بس پر حملہ کیا۔ بہت سارے لوگ اس میں مارے گئے۔

انہوں نے کہا "جب وہ جائے واقعہ پر پہنچے تو پولیس نے لوگوں کو وہاں سے ہٹا دیا تھا۔” اس وقت کے وزیر اعلی گجرات نریندر مودی اور میری درخواست پر مرکز کا ایک خصوصی طیارہ سیاحوں کو گجرات لے جانے کے لئے سری نگر ایئرپورٹ پہنچا۔ میں وہاں ان بچوں سے ملاقات کی جن میں کسی کے والد اور کسی کی ماں اس حملے میں مارے گئے تھے۔ ان بچوں نے بھی مجھے گلے لگایا اور رونے لگے۔ اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے محترم آزاد ایوان میں جذباتی ہوگئے اور ان کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔

اس سے قبل وزیر اعظم نریندر مودی بھی اسی واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے ایوان میں جذباتی ہو گئے تھے۔ ان کے گلے میں تکلیف تھی اور انہوں نے کئی بار پانی پیا۔ وہ اپنی بات پوری نہیں کرسکے اور انہوں نے انگلیوں کے اشارے سے ممبروں کو اپنی بات بتائی۔ انہوں نے اپنی آنکھوں سے آنسو بھی پونچھے۔

ہندوستان مسلمانوں کے لئے جنت ہے

جناب غلام نبی آزاد نے دہشت گردی کے خاتمے کو ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی سے متاثرہ لوگوں کو مدد کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان مسلمانوں کے لئے جنت ہے۔ ہمسایہ ملک پاکستان اور دیگر مسلم ممالک کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے مسلمان بہتر حالت میں ہیں کیونکہ ان کی سوچ مختلف ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم ممالک میں مسلمان کسی ہندو یا عیسائی سے نہیں لڑ رہے بلکہ آپس میں لڑ رہے ہیں۔

انہوں نے شاعرانہ انداز میں کہا کہ ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ خوشحالی لائے گا۔ دہشت گردی کی وجہ سے ہزاروں افراد ہلاک ہوچکے ہیں، خواتین بیوہ ہوئیں اور بچے یتیم ہوگئے۔ انہوں نے کشمیری پنڈتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو دوبارہ آباد کرنے کی کوشش کرنی ہوگی۔

انہوں نے کہا "گذر گیا وہ، جو چھوٹا سا فسانہ تھا، پھول تھے، چمن تھا اور آشیانہ تھا، نہ پوچھ اجڑے چمن کی داستاں، تھے چار تنکے، لیکن آشیانہ تو تھا۔

انہوں نے دہشت گردی سے نمٹنے اور لوگوں کی بحالی کے لئے اپنی کوششوں پر زور دیتے ہوئے کہا "دل ناامید نہیں ہے، یہ ناکامی ہی تو ہے، صبح تو ہوگی کبھی، لمبی ہی صحیح، شام ہی تو ہے۔

راجیہ سبھا سے سبکدوش ہونے والے ممبران میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے میر محمد فیاض اور نذیر احمد لوائے اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے شمشیر سنگھ منہاس شامل ہیں۔

جون پور: جلال پور میں سڑک حادثہ میں چھ لوگوں کی موت

0

 

جون پور-بنارس سرحد پر لہنگ پور گاؤں کے نزدیک ٹرک اور پک اپ کے آمنے سامنے ٹکرانے کے حادثے میں 6 افراد ہلاک اور 6 دیگر شدید زخمی ہوگئے۔

جون پور: اتر پردیش میں ضلع جون پور کے جلال پور علاقے میں منگل کی صبح ٹرک اور پک اپ کے ٹکرانے سے کم از کم چھ افراد کی موت ہوگئی اور چھ دیگر شدید زخمی ہوگئے۔

پولیس ذرائع نے بتایا کہ جون پور-بنارس سرحد پر لہنگ پور گاؤں کے نزدیک ٹرک اور پک اپ کے آمنے سامنے ٹکرانے کے حادثے میں 6 افراد ہلاک اور 6 دیگر شدید زخمی ہوگئے۔ پولیس حادثے کی اطلاع ملنے پر جائے وقوعہ پر پہنچی اور زخمیوں کو باہر نکال کر انہیں علاج کے لئے اسپتال بھیج دیا۔

ایڈیشنل پولیس سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر سنجے کمار نے بتایا کہ سرائے خواجہ تھانہ علاقہ کے گاؤں جلال پور کے رہنے والے ایک شخص کی آخری رسومات ادا کرنے کے لئے گاؤں کے لوگ پک-اپ سے بنارس گئے تھے۔ واپسی پر جون پور -بنارس سرحد پر جلال پور تھانہ علاقہ کے لہنگ پور گاؤں کے نزدیک ٹرک اور پک اپ کے درمیان زبردست تصادم ہوا۔ حادثے میں پانچ افراد موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے جبکہ ایک نے اسپتال کے راستے میں ہی دم توڑ دیا۔

حادثے میں پک- اپ پر سوار 5 افراد شدید زخمی ہوگئے ہیں، جنہیں علاج کے لئے ڈسٹرکٹ اسپتال جون پور میں داخل کیا گیا ہے اور ایک کو بنارس بھیجا گیا ہے۔ پولیس نے حادثے کے بعد ٹرک کو تحویل میں لے کر قانونی کارروائی شروع کردی ہے۔

ٹریکٹر ریلی کے دوران لال قلعہ پر جھنڈا لہرانے کے کلیدی ملزم دیپ سدھو گرفتار

0
ٹریکٹر ریلی کے دوران لال قلعہ پر جھنڈا لہرانے کے کلیدی ملزم دیپ سدھو گرفتار
ٹریکٹر ریلی کے دوران لال قلعہ پر جھنڈا لہرانے کے کلیدی ملزم دیپ سدھو گرفتار

یوم جمہوریہ کے موقع پر ٹریکٹر ریلی کے دوران لال قلعہ پر جھنڈا لہرانے کے کلیدی ملزم دیپ سدھو کو گرفتار کرنے میں دہلی پولیس کامیاب ہوگئی۔

نئی دہلی: دہلی پولیس کی اسپیشل سیل کی ٹیم نے یوم جمہوریہ کے موقع پر ٹریکٹر ریلی کے دوران لال قلعہ پر جھنڈا لہرانے کے کلیدی ملزم دیپ سدھو کو گرفتار کیا۔
خصوصی سیل کے ایک سینئر افسر نے منگل کے روز بتایا کہ ساؤتھ ویسٹ رینج کی ٹیم ملزم دیپ سدھو کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے، جو 26 جنوری سے مفرور تھا۔ دہلی پولیس نے دیپ سدھو کی گرفتاری پر ایک لاکھ روپے انعام کا اعلان بھی کیا تھا۔
واضح رہے کہ 26 جنوری کو دارالحکومت میں کسانوں کی ٹریکٹر ریلی کے دوران تشدد کے واقعے اور لال قلعے پر جھنڈے لہرانے کے پیچھے پنجابی اداکار دیپ سدھو کا نام سامنے آیا تھا۔