جمعرات, جولائی 2, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 403

نرسنگ کالج کے 49 طلبہ کورونا متاثر، کالج کے ساتھ اسپتال بھی سیل

0

واقعہ کے سامنے آتے ہی اُلَّال نگر کونسل کے افسران نے کالج کے ساتھ ہی اسپتال کو بھی سیل کر دی ہے۔

منگلور: کیرالا سے امتحان دینے کرناٹک کے اُلّال کے اَبَّاکا سرکل کے پاس نرسنگ کالج میں آنے والے 49 طلبہ کورونا وائرس سے متاثر پائے گئے ہیں۔ 

اس واقعہ کے سامنے آتے ہی اُلَّال نگر کونسل کے افسران نے کالج کے ساتھ ہی اسپتال کو بھی سیل کر دی ہے۔ غور طلب ہے کہ وائرس کے معاملے میں کرناٹک پورے ملک میں دوسرے مقام پر ہے۔

ریاست میں اب تک 940170 افراد کورونا سے متاثر ہو چکے ہیں جن میں سے 922004 افراد کورونا کو شکست دے چکے ہیں جبکہ 12223 افراد کی موت ہو چکی ہے۔ ریاست میں فی الحال 5924 فعال کیسز ہیں۔ 

کورونا کے کیسز میں فی الحال تیسرے مقام پر واقع کیرالا بھی اب کرناٹک سے بہت پیچھے نہیں ہے۔ کیرالا میں اب تک 938354 افراد کورونا متاثر ہو چکے ہیں جن میں سے 865168 مریض صحتیاب ہو چکے ہیں جبکہ 3777 افراد کی موت ہو چکی ہے۔ ریاست میں فی الحال 69169 فعال کیسز ہیں جو پورے ملک میں سب سے زیادہ کیسز ہیں۔

ریحانہ، گریٹا نے کسان مظاہرین کے لئے حمایت کا اظہار کیا تو کنگنا نے دیا یوں جواب

0

مشہور پوپ سنگر ریحانہ اور آب و ہوا کے سرگرم نوجوان کارکن گریٹا تھنبرگ نے کسانوں کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے تینوں زرعی قوانین کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

نئی دہلی: مشہور پوپ سنگر ریحانہ اور آب و ہوا کے سرگرم نوجوان کارکن گریٹا تھنبرگ نے گذشتہ سال 26 نومبر سے دہلی کی سرحدوں پر مظاہرہ کررہے کسانوں کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے تینوں زرعی قوانین کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
کسانوں کی تحریک والے متعدد مقامات پر انٹرنیٹ خدمات بند کردئے جانے جیسی حکومت کی کارروائی پر روشنی ڈالتے ہوئے ایک اخبار کے مضمون کو شیئر کرتے ہوئے ریحانہ نے ٹویٹ کیا، ’’ہم اس بارے میں بات کیوں نہیں کررہے ہیں؟‘‘ انہوں نے اپنے ٹویٹ میں کسان تحریک کو ہیش ٹیگ بھی کیا۔
https://twitter.com/rihanna/status/1356625889602199552?s=19

ریحانہ کے تبصرے کے بعد، تھنبرگ بھی کسان تحریک کی حمایت میں آگے آئیں۔ اپنے ٹویٹ میں، تھنبرگ نے کہا، ’’ہم ہندوستان میں کسان تحریک کے تئیں متحد ہیں۔‘‘

 

ریحانہ کے تبصرے کے بعد کنگنا رناوت نے کی تنقید

اس دوران کسان تحریک کے سلسلے میں ریحانہ کے تبصرے کے بعد بالی ووڈ اداکارہ کنگنا رناوت نے اس کے لئے ان کی یہ کہتے ہوئے تنقید کی کہ مظاہرین کسان نہیں ہیں۔ کنگنا نے ٹویٹ کرکے کہا، ’’کوئی بھی اس لئے بات نہیں کررہا ہے کیونکہ یہ کسان نہیں، دہشت گرد ہیں، جو ہندوستان کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں تاکہ چین ہمارے ملک پر قبضہ کرلے اور یو ایس اے جیسی چینی کالونی بنا دے۔ سکون سے بیٹھو بے وقوف، ہم تمہارے جیسے بے وقوف نہیں ہیں جو ملک کو بیچ دیں۔‘‘

واضح رہے کہ دہلی میں یوم جمہوریہ کے تشدد کے بعد حکومت نے احتیاط کے طور پر سنگھو، غازی پور اور ٹھیکری سرحدوں پر کسان تحریک والے علاقوں میں ہفتے کو انٹرنیٹ خدمات معطل کردی تھیں اور بعد میں معطلی کی مدت منگل تک بڑھا دی گئی۔ ہریانہ حکومت نے بھی امن و قانون بنائے رکھنے کےلئے ریاست کے 17 ضلعوں میں 31 جنوری کی شام تک موبائل انٹرنیٹ خدمات معطل کردی تھی اور بعد میں اس کی مدت تین فروری تک بڑھا دی گئی۔

صحافیوں، سیاستدانوں اور کارکنوں کے خلاف درج مقدمات واپس لے حکومت: دگوجے سنگھ

0
صحافیوں، سیاستدانوں اور کارکنوں کے خلاف درج مقدمات واپس لے حکومت: دگوجے سنگھ
صحافیوں، سیاستدانوں اور کارکنوں کے خلاف درج مقدمات واپس لے حکومت: دگوجے سنگھ

کانگریس رہنما دگوجے سنگھ نے کہا کہ ملک سے غداری کا معاملہ درج کرنے والی دفعات انگریزی حکومت کے وقت کی ہیں ان کا استعمال جدید ہندوستان میں نہیں کیا جانا چاہئے۔

نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما دگوجے سنگھ نے بدھ کو راجیہ سبھا میں صحافیوں، سیاست دانوں اور سماجی کارکنان پر حال ہی میں درج کئے گئے مقدمے واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

مسٹر سنگھ نے ایوان میں وقفہ صفر کے دوران صحافیوں، سیاست دانوں اور سماجی کارکنان پر حال ہی میں ملک کے غداری کے الزام میں درج کی گئی ایف آئی آر واپس لینے کا مطابلہ کیا۔ انہوں نے تین ریاستوں میں چار پانچ لوگوں کے خلاف ایک جیسی ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک سازش ہے۔

کانگریس رہنما نے کہا کہ ملک سے غداری کا معاملہ درج کرنے والی دفعات انگریزی حکومت کے وقت کی ہیں ان کا استعمال جدید ہندوستان میں نہیں کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مقدمے واپس لئے جانے چاہئے۔

واضح رہے کہ حال ہی میں رہنما ششی تھرور اور کئی اہم صحافیوں اور سماجی کارکنان کے خلاف ملک سے غداری اور دیگر دفعات میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

اسے بھی پڑھیں:

کسانوں کے مسئلہ پر ہنگامہ کے سبب عام آدمی پارٹی کے تینوں ممبران پارلیمنٹ ایوان بالا سے دن بھر کیلئے معطل

کسانوں کے مسئلہ پر ہنگامہ کے سبب عام آدمی پارٹی کے تینوں ممبران پارلیمنٹ ایوان بالا سے دن بھر کیلئے معطل

0
کسانوں کے مسئلہ پر ہنگامہ کے سبب عام آدمی پارٹی کے تینوں ممبران پارلیمنٹ ایوان بالا سے دن بھر کیلئے معطل
کسانوں کے مسئلہ پر ہنگامہ کے سبب عام آدمی پارٹی کے تینوں ممبران پارلیمنٹ ایوان بالا سے دن بھر کیلئے معطل

چیئرمین ایم ونکیا نائیڈو نے وقفہ صفر کے بعد صدر کے خطاب پر مباحثہ شروع کرانے کی کوشش کی، اس کے بعد عام آدمی پارٹی کے سنجے سنگھ، سشیل کمار گپتا اور این ڈی گپتا اپنی اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے اور نعرے لگانے لگے۔ انہوں نے ’زرعی قوانین ختم کرو‘ کے نعرے لگائے۔

نئی دہلی: عام آدمی پارٹی (عآپ) کے تینوں ممبران پارلیمنٹ سنجے سنگھ، سشیل کمار گپتا اور این ڈی گپتا کو کسانوں کے معاملے پر راجیہ سبھا میں زبردست ہنگامہ آرائی کے سبب بدھ کے روز دن بھر کے لئے معطل کردیا گیا۔

چیئرمین ایم ونکیا نائیڈو نے وقفہ صفر کے بعد صدر کے خطاب پر مباحثہ شروع کرانے کی کوشش کی، اس کے بعد ’عآپ‘ کے سنجے سنگھ، سشیل کمار گپتا اور این ڈی گپتا اپنی اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے اور نعرے لگانے لگے۔ انہوں نے ’زرعی قوانین ختم کرو‘ کے نعرے لگائے۔

مسٹر نائیڈو نے کہا کہ صدر کے خطاب پر مباحثہ کے دوران کسانوں کے معاملے پر بحث کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ ایسی صورتحال میں ان اراکین کا ایوان کی کارروائی میں خلل ڈالنا غیر مناسب ہے۔ یہ لوگ کسانوں کے معاملے پر واقعتا بحث نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے تینوں ممبران سے درخواست کی کہ وہ پرسکون ہوجائیں اور ایوان کی کارروائی کو چلنے دیں، لیکن اس پر تینوں ارکان نعرے لگاتے رہے۔

اس کے بعد مسٹر نائیڈو نے تینوں ارکان پارلیمنٹ کو ضابطہ 255 کے تحت ایوان کی کارروائی سے خارج کئے جانے کی تنبیہہ کی لیکن ان اراکین پر کوئی اثر نہیں ہوا اور وہ نعرے لگاتے رہے۔ اس پر چیئرمین نے کہا کہ ان تینوں ممبروں کو دن بھر کے لئے ایوان کی کارروائی سے خارج کیا جارہا ہے، اس کے بعد انہوں نے تینوں ممبروں کو دن بھر کے لئے ایوان چھوڑنے کا حکم دیا اور ساڑھے نو بجے پانچ منٹ کیلئے ایوان کی کارروائی ملتوی کردی۔

بحث میں کسانوں کے معاملے پر بھی مباحثہ ہوں گے

اس سے قبل ایوان کی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے مسٹر نائیڈو نے ایوان کو بتایا کہ صدر کے خطاب پر تشکر کے مباحثے کا وقت بڑھا کر اب 15 گھنٹے کردیا گیا ہے، اس بحث میں کسانوں کے معاملے پر بھی مباحثہ ہوں گے۔

ایوان میں قائد حزب اختلاف غلام نبی آزاد نے کہا کہ روایت کے مطابق صدر کے خطاب پر اظہار تشکر بحث سے پہلے کسی اور مسئلے پر بات نہیں کی جاسکتی ہے۔ لہذا، اس بحث کے دوران کسانوں کے معاملہ پر بھی بات کی جائے گی۔ اپوزیشن پارٹی نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بحث و مباحثے کے وقت کو پانچ گھنٹے مزید بڑھائے جائیں۔ صدر کے خطاب پر اظہار تشکر پر مباحثہ کا وقت 10 گھنٹے مقرر تھا۔ ایوان کے تمام اراکین نے اس کی تائید کی۔

ایوان کی کارروائی پانچ منٹ تک ملتوی رہنے کے بعد صدر کے خطاب پر اظہار تشکر پر بحث کا آغاز ہوا۔ اس بحث کا آغاز بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن بھونیشور کلیتا نے کیا۔

یوم جمہوریہ تشدد: حراست میں لئے گئے کسانوں کی رہائی کا مطالبہ مسترد

0
یوم جمہوریہ تشدد: حراست میں لئے گئے کسانوں کی رہائی کا مطالبہ مسترد
یوم جمہوریہ تشدد: حراست میں لئے گئے کسانوں کی رہائی کا مطالبہ مسترد

دہلی ہائی کورٹ نے یوم جمہوریہ کے موقع پر ٹریکٹر ریلی کے دوران تشدد کے سلسلہ میں زیر حراست کسانوں سمیت تمام لوگوں کو رہائی کی مانگ کرنے والی ایک مفاد عامہ کی عرضی پر غور کرنے سے منگل کو منع کردیا۔

نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے یوم جمہوریہ کے موقع پر ٹریکٹر ریلی کے دوران تشدد کے سلسلہ میں 26 جنوری کو یا اس کے بعد سندھو بارڈر، ٹکری بارڈر اور غازی پور سرحد کے نزدیک ’غیرقانونی طریقہ سے‘ حراست میں لئے گئے کسانوں سمیت تمام لوگوں کو رہائی کی مانگ کرنے والی ایک مفاد عامہ کی عرضی پر غور کرنے سے منگل کو منع کردیا۔

یہ عرضی ایک لا گریجویٹ ایڈوکیٹ آشیما منڈلا اور منداکنی سنگھ کے ذریعہ دائر کی گئی تھی۔ عرضی میں الزام لگایا گیا کہ 26 جنوری کو قومی راجدھانی میں ٹریکٹر ریلی کے دوران بھڑکے تشدد کے بعد تقریبا 200 لوگ لاپتہ ہیں۔

جج ڈی این پٹیل کی صدارت والی بنچ نے عرضی گزار کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے پوچھا کہ کیا یہ ’تشہیر سے جڑی عرضی‘ ہے اور اسے خارج کردیا۔ عدالت نے عرضی گزار کو پولیس کی غیر قانونی حراست میں ہونے کا دعوی کرنے والے تمام لوگوں کے کنبوں کی طرف سے حلف نامہ داخل کرانے کی ہدایت دی۔

عدالت نے کہا کہ ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ آج آپ دعوی کرتے ہیں کہ انہیں حراست میں لیا گیا ہے اور کل ان کے کنبہ خود کو یہاں پیش کرتے ہیں اور کچھ دیگر دعوی کرتے ہیں۔

کسان سمیت تمام لوگوں کی گرفتاری غیر آئینی

عرضی میں کہا گیا ہے کہ کسان سمیت تمام لوگوں کی گرفتاری آئین کے آرٹیکل 14,21 اور 22 کی خلاف ورزی ہے۔ عرضی میں پولیس کی طرف سے لوگوں کو حراست میں لئے جانے کو ’غیرقانونی حراست‘ قرار دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ دہلی پولیس حراست کے دوران گرفتاری میمو پر دستخط کرنے جیسی ضابطے کی رسمی کارروائی پر عمل کرنے میں ناکام رہی جس کے مطابق کنبوں کو 8-12 گھنٹے کے اندر مطلع کرنا ہوتا ہے اور مجسٹریٹ کے سامنے حراست میں لئے گئے شخص کو پیش کرنا ہوتا ہے۔

عرضی گزار نے 26 جنوری کے واقعات کے بعد لاپتہ ہوئے او ر حراست میں لئے گئے 15 لوگوں کے نام بھی دیے تھے۔ عرضی میں دلیل دی گئی کہ اس طرح کی حراست کے حق میں کوئی قانونی ٹھوس ثبوت نہیں ہے۔

کانپور پولیس نے انسانیت کو کیا شرمسار، معذور خاتون سے 10 ہزار کا ڈلوایا ڈیزل

0
کانپور پولیس نے انسانیت کو کیا شرمسار، معذور خاتون سے 10 ہزار کا ڈلوایا ڈیزل
کانپور پولیس نے انسانیت کو کیا شرمسار، معذور خاتون سے 10 ہزار کا ڈلوایا ڈیزل

اترپردیش کی کانپور پولیس نے ایسا کارنامہ کیا جس سے خاکی شرمسار ہوگئی ہے۔ معذورخاتون سے بیٹی کو تلاش کرنے کے نام پر پولیس کی گاڑی میں 10 سے 12 ہزار روپے کا ڈیزل ڈلوایا گیا۔

کانپور: اترپردیش کی کانپور پولیس نے ایسا کارنامہ کیا جس سے خاکی شرمسار ہوگئی ہے۔ یوگی سرکار اور پولیس محکمہ کو شرمندہ کرانے کا ایسا ہی ایک معاملہ کانپور ڈی آئی جی آفس میں دیکھنے کو ملا جب ایک معذور خاتون رو رو کر اپنی بچی کو ڈھونڈنے کے لئے التماس کررہی تھی اور کہہ رہی تھی کہ صاحب ایک مہینہ ہوگیا ہے اب تو ہماری بچی سے ہمیں ملوادو۔

اس نے یہ بھی کہا کہ صاحب پولیس والے بھیا ڈیزل کے پیسے مانگے تھے، میں نے وہ بھی دے دئے پھر بھی میری بچی کو ڈھونڈ کر نہیں لارہے ہیں۔ متاثرہ معذور خاتون کی بات سن کر ڈی آئی جی پریتندر سنگھ بھی دنگ رہ گئے۔ انہوں نے متاثرہ معذور خاتون کو بٹھایا اور اسے پانی پلایا اور پھر اس کا مسئلہ سنا اور جلد از جلد بچی کی تلاش کی یقین دہانی کرائی۔

معذور خاتون نے تھانہ چکیری کی چوکی سنگواں کے چوکی انچارج راجپال سنگھ پر لگائے گئے سنگین الزامات کے پیش نظر معذورخاتون کے سامنے ہی فوری اثر سے لائن حاضر کرکے محکمانہ تحقیقات کا حکم دیا۔ پھر پولیس اسکاٹ سے معذورخاتون کو گھر تک چھوڑنے کی ہدایت بھی موقع پر موجود پولیس اہلکاروں کو دی۔

کانپور کے تھانہ چکیری کے تحت سنیگوان کی رہائشی معذور بیوہ بزرگ گڑیا کی نابالغ بیٹی ایک ماہ سے لاپتہ ہے، جس کی تھانے میں بھی گمشدگی بھی درج کی گئی تھی۔ معذور خاتون نے اپنے ہی دور کے ایک رشتہ داروں پر بیٹی کو غائب کرنے کا الزام لگایا تھا۔

چوکی جانے پر اسے ڈانٹ کر بھگادیا جاتا تھا

لیکن پولیس اس طرف توجہ نہیں دے رہی تھی۔ چوکی جانے پر اسے ڈانٹ کر بھگادیا جاتا تھا۔ معذور خاتون گڑیا نے بتایا کہ وہ پولیس سے مسلسل بیٹی کو تلاش کرنے کی التجا کررہی تھی لیکن پولیس نے بیٹی کو تلاش کرنے کے نام پر اس سے گاڑی میں ڈیزل ڈلوانے کی بات کہی اور اس نے وہ بھی کیا اور تقریباً 10 سے 12 ہزار روپے کا ڈیزل پولیس کی گاڑی میں ڈلوا چکی ہے۔

خاتون نے یہ بھی بتایا کہ ایک دوبار پولیس والے گاڑی سے بیٹی کو لینے کے لئے گئے بھی تھے لیکن اسے لے کر نہیں آئے۔ اس نے بتایا کہ اب اس کے پاس پیسے نہیں ہیں اب وہ ڈیزل کہاں سے ڈلوائے۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ وہ لکھنؤ میں وزیراعلیٰ کے آفس تک شکایت کرنے کے لئے گئی تھی لیکن وہاں سے بھی کچھ نہیں ہوا اور واپس اسے پھر چوکی جانا پڑا جہاں اس کے ساتھ پولیس والے صرف گالی گلوچ کرتے ہوئے ڈانٹ کر بھگادیتے ہیں اور بیٹی پر ہی غلط ہونے کا الزام لگاتے ہیں۔

اس پورے معاملے کے بارے میں، ڈی آئی جی کانپور، پریتندر سنگھ نے بتایا کہ تھانہ چکیری پر مقدمہ درج ہے لڑکی کی بازیابی کے لئے سی او کیٹ کی ہدایت میں چار ٹیمیں تشکیل دی گئیں اور چوکی انچارج سنیگواں راجپال سنگھ کو لائن حاضر کرکے محکمانہ تحقیقات کا حکم دیا گیا۔

ہنگامے کے سبب راجیہ سبھا کی کارروائی دوبارہ ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی

0
ہنگامے کے سبب راجیہ سبھا کی کارروائی دوبارہ ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی
ہنگامے کے سبب راجیہ سبھا کی کارروائی دوبارہ ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی

اپوزیشن پارٹیوں کے ارکان نے وقفہ صفر اور وقفہ سوالات کے دوران کسانوں کی تحریک کا معاملہ اٹھایا جس کی وجہ سے پہلی بار ایوان کی کارروائی ساڑھے دس بجے اور دوبارہ کارروائی شروع ہونے پر ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوری کردی گئی۔

نئی دہلی: راجیہ سبھا میں منگل کو اپوزیشن پارٹیوں کے ارکان نے کسانوں کی تحریک کے سلسلے میں زوردار ہنگامہ کیا جس کے سبب ایوان کی کارروائی دوبارہ ملتوی کردی گئی۔

اپوزیشن پارٹیوں کے ارکان نے وقفہ صفر اور وقفہ سوالات کے دوران کسانوں کی تحریک کا معاملہ اٹھایا جس کی وجہ سے پہلی بار ایوان کی کارروائی ساڑھے دس بجے اور دوبارہ کارروائی شروع ہونے پر ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوری کردی گئی۔

اپوزیشن پارٹیوں کے ارکان نے اس دوران ایوان کے بیچوں بیچ آکر شدید ہنگامہ اور نعرے بازی کی۔ پہلی بار اسپیکر ایم وینکیا نائیڈو اور دوسری بار ڈپٹی اسپیکر ہری ونش نے کارروائی ملتوی کردی۔ ہنگامے کے دوران ارکان سے بار بار اپنی نشست پر جانے کی اپیل کی گئی اور کل کسانوں کے معاملے کو اٹھانے کی اپیل کی گئی۔

اس سے قبل اسپیکر ایم وینکیا نائیڈو کے اس معاملے پر اجازت نہ دینے پر اپوزیشن جماعتوں کے ارکان واک آؤٹ کر گئے۔ اس کے بعد وقفہ سوالات کے دوران اپوزیشن پارٹیوں کے ارکان ایوان میں آگئے اور ہنگامہ کرنے لگے۔ مسٹر نائیڈو نے کہا کہ ارکان اس معاملے پر ایوان سے واک آؤٹ کرگئے تھے اور انہیں وقفہ سوالات کے دوران ایوان میں ہنگامہ نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے ارکان سے تعاون کی درخواست کی اور کہا کہ وہ بدھ کو ایوان میں اس معاملے کو اٹھا سکتے ہیں۔

ارکان کا ہنگامہ جاری رہنے پر مسٹر نائیڈو نے ایوان کی کارروائی ساڑھے دس بجے تک ملتوری کردی۔ اسی دوران پارلیمانی امور کے وزیر پرلہاد جوشی نے بھی ارکان سے کسانوں کی تحریک پر اپنی باتیں رکھنے کی اپیل کی۔

اس سے قبل وقفہ صفر کے دوران ترنمول کانگریس کے سکھیندو شیکھر رائے، راشٹریہ جنتادل کے صدر منوج جھا، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے ونے وشوم اور کئی ارکان نے یہ معاملہ اٹھایا تھا۔

واضح رہے کہ کسان مرکزی حکومت کے تین زرعی قوانین کے خلاف احتجاج میں گزشتہ دو ماہ سے زیادہ عرصے سے راجدھانی دلی کی سرحدوں پر دھرنے پر بیٹھے ہوئے ہیں اور تینوں زرعی قوانین کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

بجٹ2021-22 ایک نظر میں: بجٹ کے اہم اقتباسات

0
بجٹ2021-22 ایک نظر میں: بجٹ کے اہم اقتباسات
بجٹ2021-22 ایک نظر میں: بجٹ کے اہم اقتباسات

وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے پارلیمنٹ میں 2021-22 کا عام بجٹ پیش کرتے ہوئے صحت اور بنیادی ڈھانچے کی سہولت اور عام بجٹ میں مختلف اصلاحات پر خصوصی زور دیا ہے۔ حالانکہ حزب مخالف بجٹ سے خوش نہیں ہے لیکن صنعتی دنیا نے بجٹ کی تعریف کی ہے۔

نئی دہلی: وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے پیر کو پارلیمنٹ میں مالی سال 2021-22 کا عام بجٹ پیش کردیا ہے۔ حکومت نے صحت اور بنیادی ڈھانچے کی سہولت اور عام بجٹ میں مختلف اصلاحات پر خصوصی زور دیا ہے تاکہ کورونا کے وبا کی وجہ سے خراب معیشت کو واپس لایا جاسکے۔ اگرچہ بجٹ میں صنعت کو راحت ملی ہے، لیکن انکم ٹیکس میں عدم استحکام کی وجہ سے ملازمت مایوس ہوگئے ہیں، تاہم 75 سال سے زیادہ عمر کے سینئر شہریوں کو انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔

ڈیجیٹل بجٹ میں پٹرول پر ڈھائی روپے اور ڈیزل پر چار روپے فی لیٹر اضافہ

ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ پیش کیے جانے والے ڈیجیٹل بجٹ میں پٹرول پر ڈھائی روپے اور ڈیزل پر چار روپے فی لیٹر اضافی سرچارج کی تجویز پیش کی گئی ہے، جس سے زرعی انفراسٹرکچر اور ترقی میں آگے کی راہ ہموار ہوگی۔ زراعت کے علاوہ آمدنی والے کسانوں کو بھی ٹیکس سلیب کے تحت لایا گیا ہے۔ بجٹ میں، بے روزگاری کے مسئلے سے نمٹنے اور مہنگائی کو روکنے کے لئے کوئی بڑی یا خصوصی اسکیم شروع کرنے کا کوئی خاص اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

انشورنس سیکٹر میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی حد 49 فیصد سے بڑھا کر 74 فیصد کردی گئی ہے اور ایک بڑی معاشی اصلاح کی گئی ہے۔

رواں مالی سال کے مالی خسارے کو ساڑھے تین فیصد سے بڑھا کر ساڑھے نو فیصد کردیا گیا ہے، جب کہ مالی خسارہ آئندہ مالی سال میں 6.8 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ سال 2025-26 تک اسے جی ڈی پی کے 4.5 فیصد سے کم تک لانے کا ہدف ہے۔

وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے پیر کو پارلیمنٹ میں مالی سال 2021-22 کے لئے 34،83،236 کروڑ روپئے کا بجٹ پیش کیا۔ مالی سال 2020-21 کے لئے 30،42،230 کروڑ روپئے کے بجٹ کو منظوری دی گئی، جو نظرثانی شدہ تخمینے میں بڑھ کر 34،50،305 کروڑ روپے ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے خراب معیشت کی بحالی کے لئے، اس بجٹ میں بنیادی طور پر چھ ستونوں پر زور دیا گیا ہے۔ جن میں صحت اور فلاح و بہبود، حقیقی اور مالی سرمایہ اور بنیادی ڈھانچے، خواہشمند ہندوستان کے لئے جامع نمو شامل ہے۔ انسانی سرمائے میں یہ بات چیت بھی شامل ہے، جدت اور تحقیق اور کم سے کم حکومت اور زیادہ سے زیادہ گورننس کی ترقی۔

سرکاری شعبہ کے کاروباری اداروں کی سرمایہ کاری کی پالیسی کو منظوری

محترمہ سیتارمن نے کہا کہ حکومت نے سرکاری شعبہ کے کاروباری اداروں کی سرمایہ کاری کی پالیسی کو منظوری دے دی ہے اور اس سے غیر اسٹریٹجک اور اسٹریٹجک شعبوں کی کمپنیوں کی سرمایہ کاری کا واضح فارمیٹ تیار کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بی پی سی ایل، ایئر انڈیا، شپنگ کارپوریشن آف انڈیا، کنٹینر کارپوریشن آف انڈیا، آئی ڈی بی آئی بینک، بی ای ایم ایل، پون ہنس اور نیلاچل اسپات نگم لمیٹیڈ وغیرہ کی اسٹریٹیجک سرمایہ کشی مالی سال 2021-22 تک مکمل کیا جائے گا۔

مالی سال 2021-22 میں پبلک سیکٹر کے دو بینکوں اور ایک جنرل انشورنس کمپنی کی نجکاری بھی کی جائے گی۔ لائف انشورنس کارپوریشن – ایل آئی سی کے آئی پی او کو ضروری ترمیم کے ذریعہ اس سیشن میں لایا جائے گا۔

بیکار زمین سے فائدہ اٹھانے کے لئے ایک خصوصی کمپنی کی تشکیل

انہوں نے کہا کہ حکومت کو سرمایہ کشی سے 1،75،000 کروڑ روپئے ملیں گے۔ ریاستوں کو اپنی پبلک سیکٹر کمپنیوں کی سرمایہ کشی کرنے کا فائدہ دیئے جائیں گے اور بیکار زمین سے فائدہ اٹھانے کے لئے ایک خصوصی کمپنی تشکیل دی جائے گی۔ حکومت جوہری توانائی، خلائی اور دفاع، ٹرانسپورٹ اور ٹیلی مواصلات، بجلی، پٹرولیم، کوئلہ اور دیگر معدنیات، بینکنگ، انشورنس اور مالیاتی خدمات کی کمپنیوں میں سرمایہ کشی ہوگی یا انہیں بند کیا جائے گا۔ اس پالیسی کو تیز رفتاری سے نافذ کرنے کے لئے اس پالیسی کو مرکزی پبلک سیکٹر کی ایسی کمپنیوں کی اگلی فہرست تیار کرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے جو اسٹریٹجک طریقے سے سرمایہ کشی کیا جانا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت کی مختلف وزارتوں، محکموں اور عوامی شعبے کے اداروں کے پاس زمین کی شکل میں بہت زیادہ اثاثے ہیں جس میں کوئی خدمات نہیں ہے۔ ان کے لئے ایک خصوصی کمپنی بنانے کی تجویز پیش کی گئی تھی، جو اس اراضی سے رقم اکھٹی کرے گی۔ یہ کام یا تو اس زمین کی براہ راست فروخت یا مراعات یا کسی اور طرح سے کیا جائے گا۔ محترمہ سیتارمن نے بیماریا گھاٹے میں چل رہے سی پی ایس ای کو بروقت بند کرنے کو یقینی بنانے کے لئے ایک ترمیم شدہ سسٹم لانے کی تجویز پیش کی۔

بجٹ 2021-22 وزیر اعظم کی نظر میں

وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ غیر معمولی حالات میں پیش کیے جانے والے اس بجٹ میں گاؤں اور کاشتکار سب سے زیادہ مرکز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں احساس اور ترقی کا بھی احساس ہے۔ اس میں ترقی کے نئے مواقع کو وسیع کرنے، نوجوانوں کے لئے نئے امکانات کے دروازے کھولنے، انسانی وسائل کو نئی بلندیاں دینے، نئے شعبوں میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی، ٹیکنالوجی کو اپنانے اور نئی اصلاحات لانے کی کوشش کی گئی ہے۔

محترمہ سیتارمن نے بعد میں پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ بجٹ انفراسٹرکچر کو مستحکم کرنے اور روزگار کے مواقع میں اضافہ کرنے جا رہا ہے۔ اس سے معیشت دوبارہ پٹری پر آجائے گی۔

اپوزیشن کا غریبوں اور عام آدمی پر بجٹ کو نظر انداز کرنے کا الزام

اسی دوران، اپوزیشن نے غریبوں اور عام آدمی پر بجٹ کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے اپنے سرمایہ دار دوستوں میں ملک کی دولت تقسیم کرنے کا مکمل انتظام کرلیا ہے۔ صنعت نے بجٹ کی تعریف کی اور کہا کہ یہ ایک غیر معمولی، واضح اور جامع دستاویز ہے۔

ریلوے کے  لئےایک لاکھ 10 ہزار کروڑ روپے سے زائد رقم مختص

حکومت نے کورونا وبا کی وجہ سے شدید نقصانات کا سامنا کرنے والی ریلوے کو ابھارنے کے لئے ریکارڈ ایک لاکھ 10 ہزار کروڑ روپے سے زائد رقم مختص کی ہے۔

وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے پارلیمنٹ میں مالی سال 2021-22 کے بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ریلوے کے لئے ریکارڈ ایک لاکھ 10 ہزار 55 کروڑ مختص کرنے کی تجویز ہے۔ جس میں سے ایک لاکھ سات ہزار 100 کروڑ کی تجویز صرف سرمایہ جاتی اخراجات ہیں۔

محترمہ سیتارمن نے کہا کہ ہندوستانی ریلوے کے لئے نیشنل ریل اسکیم ۔ 2030 تیار کی گئی ہے، جس کا مقصد 2030 تک مستقبل کے لئے ریلوے کا نظام تیار کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ‘گرین ریلوے’ منصوبے اور ریلوے سیفٹی فنڈ پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ انہوں نے چنئی میٹرو ریل منصوبے کے دوسرے مرحلے کے لئے 63 ہزار کروڑ روپے کی تجویز پیش کی ہے۔

کوچی، بنگلورو، چنئی، ناگپور اور ناسک میں میٹرو منصوبوں میں توسیع کا اعلان

وزیر خزانہ نے کہا کہ ہندوستانی ریلوے کے علاوہ، میٹرو، سٹی بس سروس میں اضافہ پر توجہ دی جائے گی۔ اس پر 19 ہزار کروڑ لاگت آئے گی۔ بجٹ کی تجویز میں کوچی، بنگلورو، چنئی، ناگپور اور ناسک میں میٹرو منصوبوں میں توسیع کا اعلان کیا گیا ہے۔

محترمہ رمن نے 2021-22 میں پی پی پی موڈ میں ایسٹرن ڈیڈیٹیٹڈ فریٹ کوریڈور کے سون نگر گوموسیکشن (263.7) کلومیٹر شروع کرنے کی تجویز پیش کی۔

وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے پیر کو پارلیمنٹ میں مالی سال 2021-22 کے لئے بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا، “مالی سال 2020-21 کے آغاز میں وبائی امراض کی وجہ سے محصول کی حصولیابی کمزوری تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ، ایس سی / ایس ٹی سمیت معاشرے کے غریبوں، خواتین، معاشرے کے دیگر کمزور طبقات کو ضروری راحت کی فراہمی کے لئے اخراجات کو بڑے پیمانے پر بڑھانا پڑا۔ اس کے نتیجے میں 2020-2021 میں 30.42 لاکھ کروڑ روپئے کے بجٹ تخمینے کے مقابلے میں نظر ثانی شدہ تخمینے کے مطابق 34.50 لاکھ کروڑ روپئے خرچ ہونے کا امکان ہے۔

محترمہ سیتارمن نے مالی سال 2021-22 کے لئے 34،83،236 کروڑ روپئے کا بجٹ پیش کیا۔ مالی سال 2020-21 کے لئے 30،42،230 کروڑ روپئے کے بجٹ کی منظوری دی گئی تھی جس میں ترمیم شدہ تخمینے میں بڑھاکر 34،50،305 کروڑ روپے کردیا گیا ہے۔

رواں مالی سال کے لئے مالی خسارے کا تخمینہ 3.5 فیصد سے بڑھا کر 9.5 فیصد کردیا گیا ہے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے سرکاری قرضوں، ملٹی لیول لون، چھوٹے سیونگ فنڈز اور قلیل مدتی قرضوں کا سہارا لیا گیا ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ رواں مالی سال کے باقی دو ماہ میں مارکیٹ سے 80 ہزار کروڑ روپئے اکٹھے کیے جائیں گے۔ آئندہ مالی سال میں مالی خسارہ 6.8 فیصد ہوگا۔ سال 2025-26 تک اسے جی ڈی پی کے 4.5 فیصد سے کم تک لانے کا ہدف ہے۔

ملک میں تجارتی جہازوں کو فروغ

وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے کہا ہے کہ بڑی بندرگاہوں میں آپریشنل سہولت بڑھانے کے لئے نجی عوامی شراکت داری – پی پی پی میڈیم کو فروغ دیا جائے گا اور اس میں دو ہزار کروڑ سے زائد مالیت کے سات منصوبے پیش کیے جائیں گے۔

محترمہ سیتارمن نے 2021-22 کا بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ بڑی بندرگاہیں جو اپنی آپریشنل خدمات کے لئے خود کو دیکھتی ہیں وہ اب ایک ماڈل کے طور پر سامنے آئیں گی جہاں ان کا انتظام نجی پارٹنر کریں گے۔ ملک میں تجارتی جہازوں کو فروغ دینے کے لئے، ہندوستانی ٹینڈرز کو عالمی ٹینڈرز میں پانچ سال کی چھوٹ کی تجویز دی گئی ہے۔

بڑی بندرگاہوں کے ذریعے مالی سال 2021-22 میں سرکاری – نجی شراکت داری کے طریقہ کار پر 2000 کروڑ روپئے سے زیادہ کی لاگت والے 7 پروجیکٹ پیش کئے جائیں گے۔ یہ بات خزانہ اور کارپوریٹ امور کی مرکزی وزیر محترمہ نرملا سیتارمن نے آج پارلیمنٹ میں مالی سال 2021-22 کے لئے مرکزی بجٹ پیش کرتے ہوئے بتائی۔ بڑی بندرگاہیں اپنی آپریشنل خدمات کو اپنے طور پر انجام دینے کے طریقۂ کار کو تبدیل کرتے ہوئے ایک ایسے ماڈل کو اپنائیں گی جہاں ایک نجی شراکت دار ان کی آپریشنل خدمات کا بندوبست کرے گا۔

گلوبل ٹینڈرس میں 1624 کروڑ روپئے کی سبسڈی سپورٹ اسکیم شروع کرنے کی تجویز

ہندوستان میں تجارتی جہازوں کو فروغ دینے کے لئے اپنی بجٹ تقریر میں محترمہ سیتارمن نے گلوبل ٹینڈرس میں 1624 کروڑ روپئے کی سبسڈی سپورٹ اسکیم شروع کرنے کی تجویز پیش کی۔ یہ گلوبل ٹینڈر ہندوستانی جہاز رانی کمپنیوں کے لئے پانچ برسوں کے دوران وزارتوں اور مرکزی زمرے کی سرکاری کمپنیوں (سی پی ایس ای) کے ذریعے جاری کئے گئے ہیں۔ انھوں نے زور دے کر کہا کہ اس اقدام سے عالمی جہاز رانی شعبے میں ہندوستانی کمپنیوں کی حصے داری کو بڑھانے کے علاوہ ہندوستانی بحری سیاحوں کے لئے تربیت اور روزگار کے وسیع تر امکانات پیدا ہوں گے۔

محترمہ سیتارمن نے 2024 تک، تقریباً 4.5 ملین لائٹ ڈسپلیسٹمنٹ ٹن (ایل ٹی ڈی) کی شپ ری سائیکلنگ صلاحیت کو دوگنی کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔ انھوں نے کہا کہ یوروپ اور جاپان سے مزید جہازوں کو ہندوستان لانے کی کوششیں کی جائیں گی، کیونکہ گجرات کے الانگ میں تقریباً 90 شپ ری سائیکلنگ یارڈس نے ایچ کے سی (ہانگ کانگ انٹرنیشنل کنونشن) عمل آوری سرٹیفکیٹ حاصل کرلیے ہیں۔ توقع ہے کہ اس سے ملک کے نوجوانوں کے لئے 1.5 لاکھ روزگار کے اضافی مواقع پیدا ہوں گے۔

شہری علاقوں میں پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم کو مستحکم کرنے پر زور

وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے پارلیمنٹ میں پیش کردہ بجٹ 2021-22 میں شہری علاقوں میں پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم کو مستحکم کرنے پر زور دیا ہے۔

محترمہ سیتارمن نے کہا کہ حکومت میٹرو ریل نیٹ ورک کو بڑھا کر اور سٹی بس سروس شروع کرکے شہری علاقوں میں پبلک ٹرانسپورٹ بڑھانے کی طرف کام کر رہی ہے اور اس کے لئے پبلک بس ٹرانسپورٹ میں توسیع کے لئے 18،000 کروڑ روپئے کی لاگت سے اسکیم کا آغاز کیا جائے گا۔

محترمہ سیتارمن نے کہا کہ اس کے ساتھ ہی صحت کے شعبے کے لئے اہم تین شعبوں میں بجٹ میں خصوصی توجہ دی گئی ہے: روک تھام، علاج اور دیکھ بھال۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ صحت کے انفراسٹرکچر پر اس بجٹ میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحت کے اداروں میں اخراجات میں اضافے کے ساتھ ہی انہیں مزید فنڈز مہیا کیے جائیں گے۔

وزیر اعظم خود کفیل صحت مند ہندوستان اسکیم کا آغاز

محترمہ سیتارمن نے کہا کہ وزیر اعظم خود کفیل صحت مند ہندوستان اسکیم اس تناظر میں بہت اہم ہے اور ایک مضبوط صحت کے نظام کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے، صحت کے شعبے میں پائیدار ترقی کے لئے مرکزی تعاون سے چلنے والی نئی اسکیم، وزیر اعظم خود کفیل صحت مند ہندوستان اسکیم کا آغاز کیا جائے گا۔ اس کے لئے، آئندہ چھ برسوں میں 64،180 کروڑ روپئے کی لاگت کا منصوبہ ہے۔

اس اسکیم سے پرائمری، ثانوی اور تیسری صحت کے نظام کی گنجائش کو فروغ ملے گا، موجودہ قومی اداروں کو تقویت ملے گی، نئے ادارے تشکیل پائیں گے، تاکہ نئی بیماریوں کا پتہ چل سکے اور ان کا علاج کیا جاسکے۔ یہ اسکیم قومی صحت مشن سے مختلف ہوگی۔

اس اسکیم کے تحت 17،788 دیہی اور 11،024 شہری صحت و نگہداشت کے مراکز، 11 ریاستوں میں تمام اضلاع اور 3،382 بلاکس میں صحت عامہ کے مراکز میں صحت عامہ کی مربوط تجربہ گاہیں قائم کرنا، 602 اضلاع میں پیچیدہ سروس اسپتال بلاکس اور 12 مرکزی اداروں کے قیام کی مدد شامل ہے۔

اس کے علاوہ، نیشنل سینٹر فار ڈائسز کنٹرول (این سی ڈی سی)، اس کے 5 علاقائی یونٹ اور 20 میٹروپولیٹن ہیلتھ مانیٹرنگ یونٹوں کی مضبوطی، انٹیگریٹڈ ہیلتھ پورٹل کی توسیع، تمام ریاستوں اور مرکزی علاقوں میں عوامی صحت کی لیبارٹریوں کو مربوط کرنے کے لئے، 17 نئی عوامی سرگرمیاں، صحت یونٹ اور داخلہ مراکز، 32 ہوائی اڈوں، 11 بندرگاہوں اور 7 سرحدی چوکیوں پر موجود 33 صحت مراکز کو مضبوط کرنا شامل ہے۔ منصوبے میں 15 ہنگامی صحت آپریشن مراکز اور 2 موبائل ہسپتال قائم کرنا، عالمی ادارہ صحت کے جنوب مشرقی ایشیا کے خطے میں ایک علاقائی تحقیقی پلیٹ فارم، صحت کے ایک قومی ادارے، 9 بایو سیفٹی لیول تھری لیبارٹریز اور 4 علاقائی قومی وائرس انسٹی ٹیوٹ قائم کرنے کی بات کہی گئی ہے۔

ملک کی صحت اور تندرستی کے لئے غذائیت ایک اہم جزو

محترمہ سیتارمن نے کہا کہ ملک کی صحت اور تندرستی کے لئے غذائیت کو ایک اہم جزو قرار دیا گیا ہے۔ غذائیت کو مستحکم بنانے کے لئے، مرکزی بجٹ میں غذائیت کی مہم اور اضافی تغذیہ پروگرام بجٹ میں ضم کیا جائے۔ یہ مشن نیوٹریشن 2.0 کو مدد ملے گی۔ ملک بھر کے 112 حوصلہ افزا اضلاع میں غذائیت بڑھانے کے لئے ایک مربوط منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ مرکزی وزیر خزانہ نے کہا، ‘وزیر اعظم نے ویکسینیشن مہم کا آغاز کیا اور سائنسدانوں کو اس کا کریڈٹ دیتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔ ہمارے تمام سائنسدانوں کی طاقت اور محنت کے لئے ان کا شکریہ۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے پاس اس وقت دو ویکسینیں دستیاب ہیں اور نہ صرف اس کے اپنے دیسی شہری بلکہ 100 سے زائد ممالک کے لوگوں کو بھی کووڈ ۔ 19 سے تحفظ فراہم کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا، ‘ہمارے ملک کو جلد ہی دو یا زیادہ ویکسین، ملنے کا امکان ہے۔

بجٹ کی اہم خصوصیات مندرجہ ذیل ہیں:

1- بجٹ میں صحت اور فلاح و بہبود کے لئے 2،23،846 کروڑ روپے کے اخراجات کے التزامات۔

2- کووڈ ۔ 19 ویکسین کے لئے 35،000 کروڑ روپے۔

3- نیوموکوکل ویکسین پورے ملک میں دی جائے گی، تاکہ ہر سال 50،000 بچوں کی اموات کو روکا جاسکے۔

4- وزیر اعظم کی خود انحصاری ہیلتھ انڈیا اسکیم کے لئے چھ برسوں میں 64،180 کروڑ خرچ کئے جائیں گے۔

5- پبلک ہیلتھ کے نئے یونٹ قائم کیے جائیں گے اور صحت عامہ کے موجودہ 33 یونٹوں کو مضبوط کیا جائے گا۔

6- پانچ برسوں میں جل جیون مشن (شہری) کے لئے 2،87،000 کروڑ روپے الاٹ۔

7- 2.86 کروڑ کنبوں کو نل کنکشن۔

8- 500 امرت شہروں میں مائع کچرے کا انتظام۔

9- پانچ سال کی مدت میں شہری سوچھ بھارت مشن 2.0 کے لئے 1،41،678 کروڑ روپے الاٹ۔

10- فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لئے 10 لاکھ سے زیادہ آبادی والے 42 شہری مراکز کے لئے 2،217 کروڑ روپے۔

11- پرانی اور نا مناسب گاڑیوں کو ہٹانے کے لئے ایک رضاکارانہ وہیکلز ا سکریپ پالیسی۔

12- ذاتی گاڑیوں کے لئے 20 سال اور تجارتی گاڑیوں کے لئے 15 سال فٹنیس لینے کی ضرورت۔

13- علاقوں میں پی ایل آئی اسکیم کے لئے اگلے پانچ برسوں میں 1.97 لاکھ کروڑ روپے کا الاٹمنٹ۔

14- تین سال کے عرصے میں سات ٹیکسٹائل پارکس قائم کئے جائیں گے۔

15- دوسرے اور تیسرے درجے کے شہروں میں بھی گیل، آئی او سی ایل اور ایچ پی سی ایل کی تیل اور گیس پائپ لائنز۔

16- سال 2021-22 کے لئے 5.54 لاکھ کروڑ روپے کیپٹل ایکسپنڈیچر میں فراہم کئے گئے ہیں۔

17- وزارت روڈ اینڈ ہائی ویز کو 1،81،101 لاکھ کروڑ روپے کا سب سے زیادہ الاٹمنٹ۔

18- نیشنل ہائی وے کے 11،000 کلومیٹر طویل کوریڈور مارچ 2022 تک مکمل ہوجائیں گے۔

19- ملکیت منصوبے کو تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر کنٹرول علاقوں تک بڑھایا جائے گا۔

20- مالی سال 2022 میں زرعی قرضوں کا ہدف 16.5 لاکھ کروڑ روپے کردیا گیا ہے۔

21- مویشی پروری سے متعلق ڈیری اور ماہی گیری توجہ کا مرکز ہو ں گے۔

22- رورل انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ فنڈ کو 30 ہزار کروڑ سے بڑھا کر 40 ہزار کروڑ کرنے کا فیصلہ۔

23- مائیکرو آبپاشی فنڈ دوگنی ہوکر 10 ہزار کروڑ۔

24- شفافیت اور مسابقت لانے کے لئے 1000 مزید مینڈیوں کو ’ای- نام‘ کے ساتھ مربوط کیا جائے گا۔

25- ماہی گیری کی پانچ بڑی بندرگاہوں کوچی، چنئی، وشاکھاپٹنم، پارایپ اور پیتوواگھاٹ کو معاشی سرگرمیوں کے مراکز کے طور پرفروغ دیئے جانے کا فیصلہ۔

26- ایم ایس ایم ای سیکٹر کے لئے 15700 کروڑ روپے کا التزام جو اس سال کے بجٹ کے تخمینے سے دوگنا ہے۔

27- معیار کے لحاظ سے 15،000 سے زیادہ اسکولوں میں بہتری لائی جائے گی۔

28- غیر سرکاری تنظیموں، نجی اسکولوں اور ریاستوں کے اشتراک سے 100 نئے سینک اسکول قائم کیے جائیں گے۔

29- ہندوستان ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے قیام کا فیصلہ۔

30- لداخ میں اعلی تعلیم تک رسائی حاصل کرنے کے لئے، لیہہ میں سینٹرل یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔

31- قبائلی علاقوں میں 750 ایکلویا ماڈل رہائشی اسکولوں کے قیام کا ہدف۔

32- شیڈول برادریوں کی فلاح و بہبود کے لئے پوسٹ میٹرک اسکالرشپ اسکیم میں چھ برسوں کے لئے 35،219 کروڑ روپے کی مرکزی امداد۔

33- پانچ برسوں میں 50،000 کروڑ روپے کی لاگت سے پورے تحقیقی نظام کو مستحکم کرنے کا فیصلہ۔

34- قومی زبان ترجمہ مشن (این ٹی ایل ایم) کا آغاز۔

35- بجٹ میں 75 سال یا اس سے زیادہ عمر کے بزرگ شہریوں کے لئے انکم ٹیکس سے استثنیٰ۔

36- مقدمات کو دوبارہ کھولنے کے لئے وقت کی حد کو چھ سال سے کم کرکے تین سال کردیا گیا۔

37- نیشنل فیس لیس انکم ٹیکس اپیلٹ ٹربیونل سنٹر کے قیام کا اعلان۔

38- سستے مکان خریدنے کے لئے قرض پر 1.5 لاکھ روپے تک کے سود میں چھوٹ کی مدت 31 مارچ 2022 تک بڑھا دی گئی۔

39- سستی ہاؤس اسکیم کے تحت ٹیکس استثنیٰ کے دعویٰ کے لئے آخری تاریخ ایک سال میں بڑھا کر 31 مارچ 2022 کردی گئی۔

40- 1،10،055 کروڑ ریلوے کے لئے الاٹ۔

41- بروڈ گیج روٹوں پر سو فیصد بجلی کا کام سال 2023 تک مکمل کرنے کا ہدف۔

42- پبلک بس ٹرانسپورٹ خدمات کو بڑھانے کے لئے 18،000 کروڑ روپے کی لاگت سے ایک نئی اسکیم شروع کرنے کا منصوبہ۔

43- مالی سال 2021-22 میں اہم بندرگاہوں پر سرکاری اور نجی شراکت (پی پی پی) ماڈل کے تحت سات بندرگاہوں کے ذریعہ سات منصوبوں کی تجویز، جس پر 2،000 کروڑ روپے سے زیادہ لاگت آئے گی۔

44- ایک کروڑ مزید مستفید افراد کو شامل کرنے کے لئے اُجولا اسکیم میں توسیع کرنے کا فیصلہ۔

45- آئندہ تین برسوں میں 100 سے زائد اضلاع کو ’سٹی گیس ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک‘ سے منسلک کرنے کا فیصلہ۔

46- جموں و کشمیر میں گیس پائپ لائن کا نیا منصوبہ شروع کیا جائے گا۔

47- ایک آزاد گیس ٹرانسپورٹ سسٹم آپریٹر تشکیل دیا جائے گا۔

48- سونے کے تبادلے کو باقاعدہ کرنے کا انتظام کیا جائے گا۔

49- سیبی کو بطور ریگولیٹر نوٹیفائیڈ کیا جائے گا۔

50- غیر روایتی توانائی کے شعبے کو مزید فروغ دینے کے لئے، ہندوستان کی شمسی توانائی کارپوریشن میں ایک ہزار کروڑ روپے کے اضافی سرمایہ اور ہندوستان کی قابل تجدید توانائی ترقیاتی ایجنسی میں ایک ہزار پانچ سو کروڑ کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔

51- انشورنس کمپنیوں میں قابل اجازت ایف ڈی آئی کی حد 49 فیصد سے بڑھا کر 74 فیصد کرنے کا فیصلہ۔

زرعی قوانین کی ہر دفعات پر کسانوں سے حکومت بحث کرنے کے لئے تیار: سیتارمن

0

محترمہ نرملا سیتارمن نے کہا کہ زرعی اصلاحات کے قوانین کے سلسلے میں جاری تعطل کا واحد حل ‘بحث’ ہے اور حکومت تینوں قوانین کی ہر دفعات پر بحث کے لئے تیار ہے۔

نئی دہلی: مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے پیر کو کہا کہ زرعی اصلاحات کے قوانین کے سلسلے میں جاری تعطل کا واحد حل ‘بحث’ ہے اور حکومت تینوں قوانین کی ہر دفعات پر کسانوں سے مشاورت کے لئے تیار ہے۔
محترمہ سیتارمن نے پارلیمنٹ میں بجٹ پیش کرنے کے بعد نیشنل میڈیا سنٹر میں منعقدہ پریس کانفرنس میں ایک سوال کے جواب میں کہا "حکومت کسی بھی نقطہ اور زرعی قوانین کے بارے میں بات کرنے کے لئے تیار ہے جس پر کسانوں کو شبہ ہے۔”

کسان اپنے شکوک و شبہات دور کرنے کے لئے آگے آئیں

انہوں نے کہا کہ وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر اور حکومت کے دیگر وزراء بھی تمام دفعات پر باری باری غور کرنے پر راضی ہیں اور کسی بھی موقع پر شکوک و شبہات کا سامنا کرنے والے کسانوں کو اپنے شکوک و شبہات کو دور کرنے کے لئے آگے آنا چاہئے۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ وزیر زراعت اور حکومت کی جانب سے ڈیڑھ سال سے زرعی اصلاحات کے قوانین کو معطل کرنے کی تجویز میں تاحال کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔

ٹیکس دہندگان کو براہ راست ریلیف نہ دینے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں محترمہ سیتارمن نے کہا کہ حکومت ٹیکس دہندگان کو ‘ٹیکس ٹیررزم‘ سے نجات دلانے کے لئے جو کوششیں کررہی ہے وہ ایک طرح کی راحت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سے قبل ٹیکس دہندگان کے لئے اپنی آمدنی اور بینک کھاتوں کی جانچ پڑتال کے لئے 10 سال کے لئے التزام موجود تھا لیکن اب یہ مدت تین سال کردی گئی ہے، وہ بھی مشتبہ بینک اکاؤنٹس کے۔‘‘

چینی دفاعی بجٹ کے مقابلے میں ہندوستانی دفاعی بجٹ کم

چین کے دفاعی بجٹ کے مقابلے میں ہندوستان کے کم دفاعی بجٹ کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں محترمہ سیتارمن نے کہا کہ ضروری دفاعی خریداری کے لئے فوج کے سینئر افسران کو پہلے ہی کچھ اختیارات دیئے جاچکے ہیں تاکہ ہندوستانی فوج کو ضروری چیزوں کے لئے حکومت سے اجازت لینے کی ضرورت نہ پڑے۔ اس کے باوجود حکومت نے دفاعی شعبہ میں گذشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ بجٹ مختص کیا ہے۔

مالی سال 22-2021 کے عام بجٹ کو کابینہ کی منظوری

0
مالی سال 22-2021 کے عام بجٹ کو کابینہ کی منظوری
مالی سال 22-2021 کے عام بجٹ کو کابینہ کی منظوری

وزیراعظم نریندر مودی کی صدارت میں پارلیمنٹ ہاؤس احاطے میں مرکزی کابینہ کی میٹنگ منعقد کی گئی جس میں مالی سال 22-2021 کو منظوری دی گئی۔ مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے مرکزی بجٹ کابینہ کے سامنے رکھا۔

نئی دہلی: مرکزی کابینہ نے پیر کو عام بجٹ 22-2021 کو منظوری دے دی۔

وزیراعظم نریندر مودی کی صدارت میں پارلیمنٹ ہاؤس احاطے میں مرکزی کابینہ کی میٹنگ منعقد کی گئی جس میں مالی سال 22-2021 کو منظوری دی گئی۔ مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے مرکزی بجٹ کابینہ کے سامنے رکھا۔

اس سے پہلے محترمہ سیتارمن نے مالی سال 22-2021 کے عام بجٹ کی ایک ڈیجیٹل کاپی صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند کو سونپی اور صدر سے عام بجٹ پیش کرنے کی اجازت طلب کی۔

مرکزی وزیر خزانہ 11 بجے لوک سبھا میں ڈیجیٹل عام بجٹ پیش کریں گی۔ وہ اپنے ٹیب سے بجٹ کی تقریر پڑھیں گی۔ وہ تیسری بار عام بجٹ پیش کریں گی، انہوں نے پانچ جولائی 2019 کو پہلی بار بجٹ پیش کیا تھا جو عبوری بجٹ تھا۔