قنوج: لکھنؤ ۔ آگرہ ایکسپریس وے پر خوفناک سڑک حادثے میں 6 نوجوانوں کی موت
کسانوں کے سامنے انگریز نہیں ٹک پائے تو پھر نریندر مودی کون ہیں: راہل گاندھی
راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی سے اپیل کی کہ وہ پہلے یہ تینوں زرعی بل واپس لیں اور پھر کسانوں سے بات کریں۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر زرعی قانون واپس نہیں لیا گیا تو آنے والے وقت میں کسان اپنی طاقت دکھا دیں گے۔
جے پور: آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے سابق صدر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ ہندوستان کے کسانوں کے سامنے انگریز نہیں ٹک پائے تو نریندر مودی کون ہیں۔
مسٹر گاندھی آج سری گنگانگر کے پدم پور میں ریاستی کانگریس کمیٹی کے زیر اہتمام کسان کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کو اعتماد میں لیے بغیر منظور شدہ تینوں زرعی قوانین کو واپس لے لیں تو ملک آگے بڑھے گا۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کے ذریعہ شروع کی گئی یہ تحریک آنے والے وقت میں دوسرے شہروں میں بھی پھیل جائے گی، لہذا وزیر اعظم کو کسانوں کی بات سننی چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ کل انہوں نے پارلیمنٹ میں احتجاج کے دوران شہید ہونے والے کسانوں کے لئے دو منٹ کی خاموشی اختیار کرنے کی اپیل کی تھی۔ تمام اپوزیشن جماعتوں نے اس کی حمایت کی اور وہ دو منٹ خاموشی کے لئے کھڑی رہیں، لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک بھی رکن پارلیمنٹ اور وزیر نے ان کی حمایت نہیں کی اور خاموشی کے لئے کھڑے نہیں ہوئے۔
مسٹر گاندھی کی وزیر اعظم سے اپیل
مسٹر گاندھی نے وزیر اعظم مسٹر مودی سے اپیل کی وہ پہلے یہ تینوں زرعی بل واپس لیں اور پھر کسانوں سے بات کریں۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر زرعی قانون واپس نہیں لیا گیا تو آنے والے وقت میں کسان اپنی طاقت دکھا دیں گے۔
اس جلسہ عام سے وزیر اعلی اشوک گہلوت، ریاستی کانگریس کمیٹی کے صدر گووند سنگھ ڈوٹاسرا، ریاستی کانگریس انچارج اجے ماکن نے بھی خطاب کیا۔ پروگرام میں سابق نائب وزیر اعلی سچن پائلٹ اور دیگر ریاستی سطح کے رہنما موجود تھے۔
اسے بھی پڑھیں:
ترنمول کانگریس رکن پارلیمنٹ دنیش ترویدی نے راجیہ سبھا سے دیا استعفیٰ
سابق مرکزی وزیر دنیش تریویدی نے کہا کہ بنگال میں جس طرح تشدد ہورہا ہے انہیں یہاں بیٹھے بیٹھے بہت عجیب لگ رہا ہے۔ انہیں گھٹن محسوس ہو رہی ہے اور وہ کچھ بول نہیں پارہے ہیں اس لئے وہ راجیہ سبھا کی رکنیت سے استعفیٰ دے رہے ہیں۔
نئی دہلی: ترنمول کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر دنیش تریویدی نے آج راجیہ سبھا کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا۔
مسٹر تریویدی نے جمعہ کو راجیہ سبھا میں سال 2021-22 کے عام بجٹ پر تبادلہ خیال میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ میری آبائی ریاست مغربی بنگال میں تشدد ہورہا ہے اور ہم کچھ کہہ نہیں پارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں گھٹن محسوس ہو رہی ہے اور وہ کچھ بول نہیں پارہے ہیں اس لئے وہ راجیہ سبھا کی رکنیت سے استعفیٰ دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بنگال میں جس طرح تشدد ہورہا ہے انہیں یہاں بیٹھے بیٹھے بہت عجیب لگ رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’میری روح کی آواز کہہ رہی ہے کہ یہاں بیٹھے بیٹھے اگر آپ چپ رہو اور کچھ نہ کہو، اس سے اچھا ہے آپ یہاں سے استعفیٰ دو۔ میں اعلان کرتا ہوں کہ میں راجیہ سبھا سے استعفیٰ دے رہا ہوں۔
مسٹر تریویدی کا راجیہ سبھا ممبر کی حیثیت سے کام کا آغاز 2020 سے ہوا تھا۔
حکومت نے کہا ’پردھان منتری غریب کلیان یوجنا‘ کو جاری رکھنے کی تجویز نہیں
’پردھان منتری غریب کلیان یوجنا‘ کو گذشتہ مارچ میں کورونا وبا کے پیش نظر شروع کیا گیا تھا اور اس کے تحت حکومت نے تقریبا 80 کروڑ لوگوں میں مفت اناج تقسیم کئے تھے۔
نئی دہلی: مرکزی حکومت نے آج واضح کیا کہ اس کے پاس کورونا وبا کے بعد ’پردھان منتری کلیان یوجنا‘کو آگے بڑھانے کی کوئی تجویز نہیں ہے۔
جمعہ کے روز راجیہ سبھا میں تکمیلی سوالات کے جواب دیتے ہوئے صارفین خوراک اور فوڈ سپلائی کے وزیر مملکت دانوے راؤ صاحب نے یہ بات کہی۔
انہوں نے کہا کہ ’پردھان منتری غریب کلیان یوجنا‘ کو آگے بڑھانے کی کوئی تجویز نہیں ہے، یہ اسکیم صرف موجودہ وقت کے لئے تھی۔
اس اسکیم کو گذشتہ مارچ میں کورونا وبا کے پیش نظر شروع کیا گیا تھا اور اس کے تحت حکومت نے تقریبا 80 کروڑ لوگوں میں مفت اناج تقسیم کئے تھے۔
ایک اور سوال کے جواب میں راؤصاحب نے کہا کہ حکومت خریدے گئے اناج کو اچھی طرح سے رکھ رکھاؤ کرتی ہے اور 2014 کے
بعد سے عوامی تقسیم کے سسٹم کو کوئی سڑا گلا اناج نہیں دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت دور دراز علاقوں میں بھی لوگوں کو اناج کی سپلائی میں مصروف عمل ہے۔
قبل ازیں وزیر مملکت برائے دیہی ترقیات سادھوی نرنجن جیوتی نے کہا کہ منریگا کے تحت مزدوروں کو سال میں سو دن کام دینے کا التزام ہے اور اس کے کام کے دنوں میں اضافہ کرنے کی کوئی تجویز نہیں ہے۔
ریاستوں کے ذریعہ کاروباری دن بڑھایا جاتا ہے۔ اڈیشہ، ہماچل پردیش اور کیرالہ نے اس اسکیم میں 50 دن کا اضافہ کیا ہے۔ اس بار منریگا کے تحت 330 کروڑ مین ڈے وضع کئے گئے ۔
ایک اور سوال کے جواب میں وزیر مملکت برائے فوڈ پروسیسنگ انڈسٹریزرامیشور تیلی نے کہا کہ گجرات میں فوڈ پروسیسنگ سے متعلق 86 پروجیکٹوں کی منظوری دی گئی ہے، ان میں سے 37 اسکیمیں چل رہی ہیں۔ اس ریاست میں دو میگا فوڈ پارکس کی منظوری دی گئی ہے ، جن میں سے ایک مکمل ہوچکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آسام کے ضلع نلباڑی میں میگا فوڈ پارک کی تعمیر مکمل ہوچکی ہے اور اس میں پیداوار ہورہی ہے۔ اس منصوبے کو سال 2009 میں منظور کیا گیا تھا۔ اس فوڈ پارک میں سات یونٹ کام کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں ’پردھان منتری سمپدا یوجنا‘ کے تحت 28 منصوبوں کی منظوری دی گئی ہے۔
یو این آئی
ٹویٹر سرکاروں، عہدیداروں سے متعلق سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی کرے گا شناخت
ٹویٹر زیادہ تر ممالک میں سرکار اور عہدیداروں کے آن لائن اکاؤنٹس کی شناخت کرے گا، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک کے اکاؤنٹس بھی شامل
واشنگٹن: مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹویٹر زیادہ تر ممالک میں سرکار اور عہدیداروں کے آن لائن اکاؤنٹس کی شناخت کرے گا۔
ٹویٹر نے جمعرات کو جاری ایک بیان میں کہا کہ "اگست 2020 میں ہم نے دو اضافی زمرے میں اکاؤنٹس کو وسعت دی ہے۔ پہلا اہم سرکاری عہدیداروں کے اکاؤنٹس اور دوسرا ریاست سے وابستہ میڈیا اداروں سے متعلق اکاؤنٹس۔ اس ابتدائی کارروائی میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ممبروں میں نمائندگی والے ممالک کے اکاؤنٹس شامل ہیں۔”
کمپنی نے اپنے بیان میں بتایا کہ ٹویٹر 17 فروری سے جی 7 ممالک میں اس کو وسعت دے گا۔ گزشتہ سال اگست میں ٹویٹر نے پہلے مرحلے میں چین، فرانس، روس، برطانیہ اور امریکہ کے آن لائن عام اکاؤنٹس کی شناخت کی تھی۔
اگلے ہفتے دوسرے مرحلے میں کنیڈا، کیوبا، ایکواڈور، مصر، جرمنی، ہونڈوراس، انڈونیشیا، ایران، اٹلی، جاپان، سعودی عرب، سربیا، اسپین، تھائی لینڈ، ترکی اور متحدہ عرب امارات کے اکاؤنٹس کی نشاندہی کا پروگرام کر ے گا۔
زرعی قوانین کے خلاف آر پار کی جنگ رہے گی جاری: ٹکیت
راکیش ٹکیت نے حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ جب تک ایم ایس پی پر قانون نہیں بنے گا اور تینوں قوانین واپس نہیں ہوں گے تب تک کسانوں کی گھر واپسی نہیں ہوگی۔
الور: زرعی قوانین کے تعلق سے جاری کسان تحریک کا اہم چہرہ بننے والے راکیش ٹکیت نے حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ جب تک ایم ایس پی پر قانون نہیں بنے گا اور تینوں قوانین واپس نہیں ہوں گے تب تک کسانوں کی گھر واپسی نہیں ہوگی۔
مسٹر ٹکیت نے آج الور ضلع کے کشن گڑھ باس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت کسان مخالف تینوں قوانین واپس لے۔ ان قوانین کو آمریت کے ذریعے نافذ کیا گیا ہے۔ کسانوں کی فصلیں آدھی قیمت پر فروخت ہورہی ہیں۔ یہ کالا قانون ہے۔ اس سے زیادہ خطرناک صورتحال صارف کی ہوگی۔ جب اناج، سبزیاں، دالیں تالے میں بند ہوجائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایم ایس پی پر گارنٹی قانون بنادے کہ اگر کوئی تاجر سرکاری خریداری سے کم پر خریدتا ہے تو اسے جیل ہوگی۔
ملک بھر کے کسان اس تحریک کے ساتھ
مسٹر ٹکیٹ نے کہا کہ ملک بھر کے کسان اس تحریک کے ساتھ ہیں۔ قانون پورے ملک کے لئے بنایا گیا ہے۔ ایم ایس پی کو پورے ملک میں لاگو ہونا چاہئے۔
راہل گاندھی کے راجستھان کے دورے سے ایک دن قبل ٹکیت کے الور میں اجلاس میں شرکت کے سوال سے وہ گریز کرتے نظر آئے، لیکن انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی سے ہمارا کوئی تال میل نہیں ہے۔ اس تحریک کے ذریعے سیاست چمکانے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ وہ انتخابات نہیں لڑیں گے اور نہ ہی ووٹ کے لئے تحریک چل رہی ہے۔ 40 آدمیوں کی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ وہ حکومت سے بات چیت کرکے ہی فیصلہ کرے گی۔
انہوں نے کہاکہ حکومت تینوں قوانین کو واپس لے لے اور ایم ایس پی پر بھی قانون بنادے اس کے بعد وہ اپنا احتجاج ختم کرسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:
وزیراعظم کی کسانوں سے تحریک واپس لینے کی اپیل: غربت کے خاتمے کے لئے زرعی اصلاحات ضروری
راجستھان اسمبلی: بجٹ اجلاس کے دوسرے دن بی جے پی ارکان اسمبلی کا ہنگامہ
بی جے پی کے اسمبلی اراکین نے ایوان میں ہنگامہ اس وقت برپا کیا جب انہیں کوٹہ میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کارکن پر حملے کے معاملے پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی اور وہ ویل میں آکر دھرنے پر بیٹھ گئے۔
جےپور: راجستھان اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے دوسرے دن آج بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) ارکان اسمبلی نے کوٹہ میں راشٹریہ سویم سویک سنگھ (آر ایس ایس) کارکن پر حملے کے معاملے پر بحث کرنے کی منظوری نہ ملنے پر ایوان میں ہنگامہ کیا اور ویل میں آکر دھرنے پر بیٹھ گئے۔
بی جے پی رکن اسمبلی واسودیو دیونانی نے تحریک جاری رکھنے کی تجویز کےتحت یہ مسئلہ اٹھانے کی اپیل کی لیکن اسپیکر ڈاکٹر سی پی جوشی نے اس کی اجازت نہیں دی۔ اس پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے بی جے پی رکن اسمبلی زور زور سے بولنے لگے اور ہنگامہ شروع کر دیا۔ وہ ویل میں آکر نعرے بازی کرنے لگے۔ مسٹر جوشی نے بی جے پی ارکان اسمبلی سے اپنی سیٹ پر جانے کے لئے کہا لیکن وہ ویل میں ڈٹے رہے۔
دھاری وال پر جرائم کو تحفظ دینے کا الزام
بی جے پی ارکان اسمبلی نے پارلیمانی امور کے وزیر شانتی دھاری وال پر جرائم کو تحفظ دینے کا الزام لگایا۔ انہوں نے مسٹر دھاری وال کو برخاست کرنے کا مطالبہ کیا۔ مسٹر جوشی نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کو بڑھتے جرائم کے سلسلے میں بولنے کی اجازت دی، اس وقت اس مسئلے کو اٹھایا جا سکتا تھا۔ رکن اسمبلی نہیں مانے۔ ہنگامہ کم نہ ہوتا دیکھ کر اسپیکر نے ایوان کی کارروائی 12 بج کر 22 منٹ تک کے لئے ملتوی کردی۔
ایوان کی دوبارہ کارروائی شروع ہونے پر ہنگامہ جاری رہنے پر اسپیکر راجیندر پارک نے ایوان کی کارروائی ایک بج کر تیس منٹ تک کے لئے پھر ملتوی کردی۔ بعد میں ڈیڑھ بجے ایوان کی کارروائی پھر سے شروع ہونے پر مسٹر جوشی نے بی جے پی رکن اسمبلی کو ان کے جذبات سے واین کے رہنما کو مطلع کرانے کی یقین دہانی دینے کے بعد تعطل ٹوٹا اور بی جے پی کے رکن اسمبلی اپنی سیٹوں پر واپس آگئے۔
سانحہ چمولی سے متاثرہ خاندانوں کو 25 لاکھ روپے معاوضہ دینے کا سنجے سنگھ نے کیا مطالبہ
مسٹر سنجے سنگھ نے جمعرات کے روز وقفہ صفر کے دوران کہا کہ مرکزی اور ریاستی حکومت نے سانحہ چمولی میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کو 2 لاکھ روپے کی امداد کا اعلان کیا ہے، جو ناکافی ہے۔
نئی دہلی: عام آدمی پارٹی (عآپ) کے رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے راجیہ سبھا میں اتراکھنڈ میں پیش آنے والے سانحہ چمولی میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کو 25 لاکھ روپے معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا۔
مسٹر سنجے سنگھ نے جمعرات کے روز وقفہ صفر کے دوران کہا کہ مرکزی اور ریاستی حکومت نے اس سانحہ میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کو 2 لاکھ روپے کی امداد کا اعلان کیا ہے، جو ناکافی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چمولی میں رونما ہونے والی قدرتی آفت میں جاں بحق 34 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں ہیں جبکہ 173 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ سیکیورٹی اہلکار پن بجلی پروجیکٹ کی سرنگ میں پھنسے ہوئے لوگوں کو بچانے کی امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہاں ترقیاتی کام ہونے چاہئیں لیکن دریاؤں کے بہاؤ کو نہ روکا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس تباہی کی وجہ سے 13 دیہاتوں کا رابطہ منقطع ہوگیا ہے اور متعدد مکانات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ ریلیف اور ریسکیو کا کام تیزی سے کرنے کی ضرورت ہے۔
چیک جمہوریہ میں اگست تک 70 لاکھ افراد کو ٹیکے لگائے جانے کی توقع: وزارت صحت
چیک جمہوریہ کی آبادی 1.07 کروڑ ہے۔ ملک کے 60 فیصد شہریوں نے ٹیکے لگوانے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ فی الحال ٹیکہ کاری کا پہلا مرحلہ جاری ہے۔
پراگ: چیک جمہوریہ میں اگست 2021 تک تقریبا 70 لاکھ افراد کو کورونا وائرس کے ٹیکے لگائے جانے کی توقع ہے۔
وزیر صحت جان بلاٹنی نے بتایا کہ وزارت صحت کو اگست تک 70 لاکھ کے قریب ٹیکے لگانے کی امید ہے۔
چیک جمہوریہ کی آبادی 1.07 کروڑ ہے۔ ملک کے 60 فیصد شہریوں نے ٹیکے لگوانے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ فی الحال ٹیکہ کاری کا پہلا مرحلہ جاری ہے، اس دوران 80 سال سے زائد عمر کے افراد، نرسنگ ہوم کے مریض اور طبی عملہ اور کورونا وائرس کے مریضوں کے ساتھ کام کرنے والے معالجین کو ٹیکے دیئے جارہے ہیں۔
مسٹر بلاٹنی نے کہا "اب تک 382416 افراد کو ٹیکے لگائے گئے ہیں، جن میں سے 116633 کو ٹیکے کی دوسری خوراک دی گئی ہے۔ ہمیں اپریل میں ویکسین کی فراہمی تیز ہونے کی توقع ہے، جس سے اگست تک ہمارے 70 لاکھ شہریوں کو ٹیکے لگائے جاسکیں گے۔
میانمار کے فوجی حکام پر امریکہ نے عائد کی پابندی
امریکی صدر جو بائیڈن نے میانمار کے فوجی حکام پر پابندی کے ایک ایگزیکٹو آرڈر کی منظوری دی۔ ان پابندیوں کے تحت میانمار کے فوجی لیڈروں، ان کے افراد خاندان اور ان سے وابستہ تمام کاروبار کو نشانہ بنایا جائے گا۔
واشنگٹن: امریکہ نے میانمار میں گز شتہ ہفتے تختہ پلٹ کر جمہوری طور سے منتخب حکومت کو اقتدار سے بے دخل کرنے والے فوجی حکام پر پابندی عائد کردی ہے۔
امریکی صدر جو بائیڈن نے بدھ کے روز میانمار کے فوجی حکام پر پابندی کے ایک ایگزیکٹو آرڈر کی منظوری دی۔ ان پابندیوں کے تحت میانمار کے فوجی لیڈروں، ان کے افراد خاندان اور ان سے وابستہ تمام کاروبار کو نشانہ بنایا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی امریکہ میں رکھے گئے میانمار کے ایک ارب ڈالر کے سرکاری فنڈ تک ان کی رسائی کو روکنے کے لئے بھی اقدامات کیے جارہے ہیں۔
متعدد فوجی لیڈران روہنگیا مسلمانوں پر مظالم کی وجہ سے پہلے ہی بلیک لسٹ میں شامل
مسٹر جو بائیڈن نے کہا کہ ان کی انتظامیہ اس ہفتے پابندیوں کے دائرے میں آنے والے افراد کی نشاندہی کرے گی۔ جبکہ میانمار کے چند فوجی لیڈران روہنگیا مسلمانوں پر مظالم کی وجہ سے پہلے ہی بلیک لسٹ میں شامل ہیں۔
واضح ر ہے کہ میانمار میں تختہ پلٹ کے خلاف مظاہرے کے دوران ایک خاتون کے سر میں گولی لگنے سے شدید زخمی ہونے کے بعد امریکہ نے یہ پابندیاں عائد کی ہیں۔ منگل کے روز اس خاتون کو اس وقت گولی لگی تھی، جب پولیس کے جوان مظاہرین کو واٹر کینن اور ربڑ کی گولیاں چلا کر اور فائرنگ کرکے منتشر کرنے کی کوشش کررہے تھے۔
میانمار فوج کی طرف سے ایک مقام پر پانچ سے زیادہ افراد کے جمع ہونے پر پابندی اور رات کے وقت کرفیو نافذ ہونے کے باوجود ہزاروں افراد گزشتہ ہفتے کے تختہ پلٹ کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے تھے۔
اس دوران متعدد افراد کے شدید زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کیونکہ پولیس نے طاقت کے استعمال میں اضافہ کیا ہے اور جھڑپیں ہورہی ہیں۔










