بدھ, ستمبر 30, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 399

کشن گنج بہار میں تین زرعی قوانین کے خلاف ایم آئی ایم کا اک روزہ دھرنا

0
کشن گنج بہار میں تین زرعی قوانین کے خلاف ایم آئی ایم کا اک روزہ دھرنا
کشن گنج بہار میں تین زرعی قوانین کے خلاف ایم آئی ایم کا اک روزہ دھرنا

مجلس اتحاد المسلمین بہار کے ریاستی صدر جناب اختر الایمان صاحب نے کہا کہ پنجاب و ہریانہ کے کسانوں کی حالت کے برعکس سیمانچل کے کسانوں کی حالت بدتر اس لئے کہ یہاں کے کسانوں کو اپنی فصل کی صحیح قیمت نہی ملتی۔

کشن گنج: مرکزی حکومت کے ذریعہ پاس کئے گئے کسان مخالف تین سیاہ قانونوں کے خلاف پیر کے روز کشن گنج ٹاؤن ہال کے قریب آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے بینر تلے منعقدہ ایک روزہ دھرنا مظاہرے میں اے آئی ایم آئی ایم بہار پردیش کے صدر اور اموراسمبلی حلقہ کے ایم ایل اے اختر الایمان صاحب نے دیگر ارکان اسمبلی کے ساتھ حصہ لیا۔

جناب اختر الایمان صاحب نے سوال اٹھایا کہ پورے ملک میں کسانوں کی حالت خراب کیوں ہے اور سیمانچل کے کسانوں کی حالت سب سے زیادہ خراب کیوں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم جب کسانوں کی بہتری کی بات کرتے ہیں تو پنجاب و ہریانہ کے کسانوں کو "مثالی” سمجھا جاتا ہے اور یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وہاں کے کسان مثالی کیسے ہوگئے۔

انہوں نے کہا کہ "آج سے 30  یا 40 سال قبل پنجاب کے لوگوں کی وہ بدحالی تھی کہ ان کی غربت کا ثبوت سڑکوں پر ملتا تھا۔ سر پر پگڑی باندھے پنجاب کے ہٹے کٹے نوجوان بسوں میں ڈرائیور، خلاصی اور کنڈکٹر کی شکل میں نظر آتے تھے۔” انہوں نے (معاف کیجئے گا کہتے ہوئے) کہا کہ ایک وقت تھا جب پنجاب کے ہمارے محنتی مزدور بھائی صفائی کرتے ہوئے نظر آتے تھے مگر آج حالات اس قدر بدل گئے ہیں کہ آج سیمانچل کے مزدورپنجابیوں کے یہاں مزدوری کرنے کے لئے مجبور ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان کی حالت اچھی کیسے ہوئی اور سیمانچل کے کسان مزدوروں کی حالت اتنی خراب کیسے ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ "در اصل پنجاب ہریانہ کے کسانوں کو ان کی فصل کی صحیح قیمت مل سکی لیکن سیمانچل کے کسانوں کو فصل کی قیمت نہیں مل سکی۔

جناب اخترالایمان صاحب نے علاقے کے کسانوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "آپ نے ہزاروں ٹن دھان اور مکا پیدا کئے لیکن اس کی مناسب قیمت نہیں مل سکی پھر بھی آپ کے چہرے پر غصہ کے آثار نظر نہیں آئے۔” انہوں نے تقریبا 3 ماہ سے جاری تین نئے زرعی قانونوں کے خلاف کسانوں کی تحریک پر پنجاب ہریانہ کے کسانوں کو مبارک باد دی اور کہا کہ “ہم مبارکباد دیتے ہیں ان ماؤں کو جنہوں نے ایسے جانبازوں کو جنم دیا ہے جو انتہائی سردی میں بھی ہمت نہ ہار کر مرکز کے خلاف برسرپیکار ہیں۔”

کہا جاتا ہے کہ سیمانچل کے کسانوں کو کبھی ایم ایس پی ملا ہی نہیں، بلکہ بہت سارے لوگوں کو پتہ ہی نہیں ہے کہ ایم ایس پی آخر ہے کیا۔ ایم ایس پی کے سوال پر مجلس اتحاد المسلمین کے بہار کے ریاستی صدر اور فلور لیڈر جناب اختر الایمان صاحب نے ہمس لائیو اردو کے نمائندہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ کسانوں کے درمیان اب تک کوئی بیداری کا کام نہیں ہوا اور کسانوں کی کوئی ایسی تنظیم بھی نہیں ہے۔ جو حال یہاں کے غیر منظم مزدوروں کا حال ہے وہی حال یہاں کے غیرمنظم کسانوں کا حال ہوگیا ہے۔ اس کے علاوہ یہاں دھان کی پلانٹیشن پہلے ہوتا ہے تو فصل بھی پہلے کاٹی جاتی ہے۔”

انہوں نے اس بارے میں مزید کہا کہ "اسی سال کی بات اگر کریں تو ہر چند کہ ہریانہ پنجاب وغیرہ کے کسانوں کی تحریک اٹھی ہے پنجاب میں تو اس سے دوسرے لوگ بھی خوفزدہ ہیں اور ہم نے سڑک پر دھرنا بھی دیا تھا، تو ابھی ایم ایس پی 1862 روپے ہے، لیکن یہاں کے وہ کسان جو پہلے ہی فصل کاٹ چکے ہیں وہ گیارہ بارہ سو روپے میں اپنے دھان کی فصل کو ردی کے داموں فروخت کر چکے ہیں۔ اس کی خریداری نومبر میں شروع ہوجاتی چاہیے۔ اس بات کو ہم پہلے بھی کہتے آئے ہیں، پھر مضبوطی سے اس بات کو اٹھائیں گے۔ مکا ہی کی بات اگر لے لیں تو اس کا دھرلے سے ایکسپورٹ ہو رہا ہے مگر یہاں کے کسان کوڑی کے دام پیچنے کو مجبور ہیں۔ یہاں 8 سے 9 سو روپے میں بیچنا پڑا۔”

انہوں نے سیمانچل کے کسانوں کی حالت زار اور برسر اقتدار پارٹیوں کے روے پر کہا کہ "جہاں تک اقتدار اور حزب اختلاف کی بات ہے تو دونوں کا سلوک ہم لوگوں نے دیکھا ہے کہ سیمانچل کے تعلق سے کسی کا رویہ درست نہیں رہا ہے سب نے اسے نظر انداز کیا ہے، یہی وجہ ہے کہ لوگوں نے اس بار ہم پر اعتماد کیا ہے۔ یہاں کے لوگوں نے تو بڑی بڑی جماعتوں کو دیکھا کہ سیمانچل کے مسائل پر کسی نے توجہ نہیں دی اس لئے علاقے کے مزدور کسانوں کو مجلس سے چنے گئے نمائندگان سے جو امیدیں ہیں اس پر کھڑے اتریں گے۔”

دھرنے میں سابق مرکزی وزیر جناب تسلیم الدین مرحوم کے صاحب زادے اور مجلس کے موجودہ ایم ایل اے جناب شاہنواز عالم صاحب، کوچا دھامن کے ایم ایل اے جناب اظہار اصفی صاحب، بہادر گنج اسمبلی حلقہ کے ایم ایل اے جناب انظار نعیمی صاحب موجود تھے۔

صحافیوں کو کووڈ – 19 ویکسینیشن گروپ میں شامل کرنے کا مطالبہ

0

جنرل سکریٹری انتھونی بیلانگر نے کہا ’’صحافی اہم اہلکار ہوتے ہیں اور انہیں قومی کووڈ – 19 ٹیکہ کاری مہمات کے تحت دنیا بھر میں ترجیحی گروپ میں ٹیکے لگائے جانے چاہئے‘‘۔

برازیلیا: انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس نے پیر کے روز برازیل، پیرو اور یوراوگوئے میں میڈیا اہلکاروں کو ویکسینیشن کے ترجیحی گروپ میں شامل کرنے کی درخواست کی۔

یونین کے جنرل سکریٹری انتھونی بیلانگر نے کہا ’’صحافی اہم اہلکار ہوتے ہیں اور انہیں قومی کووڈ ۔19 ٹیکہ کاری مہمات کے تحت دنیا بھر میں ترجیحی گروپ میں ٹیکے لگائے جانے چاہئے‘‘۔

برازیلین فیڈریشن آف جرنلسٹس نے اس بات پر زور دیا کہ طبی اہلکاروں، پولیس اور فائر بریگیڈ کے اہلکاروں کی طرح صحافی خود کو جوکھم میں ڈالتے ہیں اور ہر شہری کو قابل اعتماد اور عوامی مفادات سے متعلق معلومات کی ضمانت دیتے ہیں۔

واضح رہے کہ اس وبا کی وجہ سے پیرو میں اب تک 108 صحافیوں کی موت ہو چکی ہے۔

ڈوڈہ: سڑک حادثہ میں چھ لوگوں کی موت

0

ڈوڈہ کے رال نالہ میں شام تقریباً ساڑھے چھ بجے ایک وین حادثہ کا شکار ہوکر تقریباً 200 میٹر کھائی میں گر گئی جس سے دو خواتین، دو مردوں اور ایک بچے کی موت ہوگئی۔

جموں: جموں و کشمیر کے ڈوڈہ ضلع میں ایک وین کے سڑک سے پھسل کر کھائی میں گرجانے سے ایک بچے سمیت چھ لوگوں کی موت ہوگئی۔

پولیس نے یہاں بتایا کہ ڈوڈہ کے رال نالہ میں شام تقریباً ساڑھے چھ بجے ایک وین حادثہ کا شکار ہوکر تقریباً 200 میٹر کھائی میں گر گئی جس سے دو خواتین، دو مردوں اور ایک بچے کی موت ہوگئی۔ مرنے والوں کی شناخت راکیش کمار، ممتا دیوی، اسمرتا دیوی، ببلی دیوی اور چندر ریکھا کے طورپر کی گئی ہے۔ یہ تمام ناگری ڈوڈہ کے رہنے والے تھے۔

وزیراعظم کے دفتر میں مرکزی وزیرمملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے سڑک حادثہ کے متاثرین کو ضروری مدد کی پیشکش کی ہے۔ وہ کٹھوعہ۔ادھم پور حلقہ سے رکن پارلیمان ہیں۔

ڈاکٹر سنگھ نے ٹوئٹر پر کہا کہ ڈوڈہ کے راگی نالہ میں ہوئے افسوسناک میں بیش قیمتی زندگیوں کے نقصان سے دکھی ہوں، میں ابھی حالانکہ آسام میں ہوں لیکن ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر ساگر ڈوئی فوڈ سے بات کی اور انتظامیہ کی فوری کارروائی کی تعریف کی ہے۔

میانمار: مظاہرہ کیخلاف طاقت کے استعمال کے لئے فوج کو جوابدہ ہونا ہوگا

0
میانمار: مظاہرہ کیخلاف طاقت کے استعمال کے لئے فوج کو جوابدہ ہونا ہوگا
میانمار: مظاہرہ کیخلاف طاقت کے استعمال کے لئے فوج کو جوابدہ ہونا ہوگا

میانمار میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کے نمائندے ٹام اینڈریوز نے فوج کو وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے، جنرلوں! آپ کو اس کا جوابدہ ہونا ہوگا۔

نیپیڈو: میانمار میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کے خصوصی نمائندے ٹام اینڈریوز نے فوج کو متنبہ کیا ہے کہ وہ اپنے جرائم کا جوابدہ ہوگا۔

قابل ذکر ہے کہ یکم فروری کی بغاوت کے بعد ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور ملک بھر میں جمہوریت کی بحالی کے لئے احتجاج کر رہے ہیں۔ اس کے جواب میں فوج نے انٹرنیٹ بند کردیا ہے اور ملک کے بیشتر شہروں میں فوجیوں کو تعینات کردیا ہے۔

مسٹر اینڈریوز نے کہا ’’ایسا لگتا ہے کہ جرنلوں نے میانمار کے عوام کے خلاف جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ رات گئے چھاپوں، بڑی تعداد میں لوگوں کو گرفتار کیا، انٹرنیٹ بند کیا، برادریوں کے درمیان فوجی قافلوں کے داخلے یہ سارے اقدامات عوام کے خلاف جنگ جیسے ہیں یہ مایوسی کی علامات ہیں۔ وارننگ ہے جنرلوں! آپ کو اس کا جوابدہ ہونا ہوگا‘‘۔

نیٹ بلاک کی رپورٹ کے مطابق میانمارکی تقریبا تمام انٹرنیٹ خدمات آج صبح سویرے سے مکمل طور پر بند کردی جائیں گی۔

یہ بھی پڑھیں:

https://hamsliveurdu.com/wp-admin/post.php?post=2794&action=edit

وائٹ ہاؤس کے قریب بائیڈن کے نام خط کے ساتھ 66 سالہ خاتون گرفتار

0
وائٹ ہاؤس کے قریب بائیڈن کے نام خط کے ساتھ 66 سالہ خاتون گرفتار
وائٹ ہاؤس کے قریب بائیڈن کے نام خط کے ساتھ 66 سالہ خاتون گرفتار

پولیس کا کہنا ہے کہ اس خاتون نے اپنی کار میں بندوق لوڈ کی تھی اور اس کے ساتھ ایک مرد تھا اور اس کے پاس بی بی گن تھی۔ دونوں کو وائٹ ہاؤس کمپلیکس کے قریب سرچ مرکز سے گرفتار کیا گیا تھا۔

واشنگٹن: ایک 66 سالہ خاتون کو پولیس نے امریکی صدر جو بائیڈن کے نام خط کے ساتھ گرفتار کیا ہے۔

’فاکس نیوز‘ نے اطلاع دی ہے کہ پولیس نے وائٹ ہاؤس کے سرچ سنٹر کے قریب ہی خاتون کو گرفتار کیا۔

فاکس نیوز نے اتوار کے روز اپنی رپورٹ پولیس کے حوالہ سے بتایا ہے کہ پولیس کا کہنا ہے کہ اس خاتون نے اپنی کار میں بندوق لوڈ کی تھی اور اس کے ساتھ ایک مرد تھا اور اس کے پاس بی بی گن تھی۔ دونوں کو وائٹ ہاؤس کمپلیکس کے قریب سرچ مرکز سے گرفتار کیا گیا تھا۔ گرفتار خاتون کا کہنا ہے کہ وہ مسٹر بائیڈن کو ایک خط دینے جارہی تھی۔

دسمبر 2019 میں ووہان میں کورونا کی بارہ اقسام موجود تھیں: ڈبلیو ایچ او

0
دسمبر 2019 میں ووہان میں کورونا کی بارہ اقسام موجود تھیں: ڈبلیو ایچ او
دسمبر 2019 میں ووہان میں کورونا کی بارہ اقسام موجود تھیں: ڈبلیو ایچ او

ڈبلیو ایچ او کی ٹیم نے چینی شہر ووہان میں کورونا وائرس کی ابتدا سے متعلق تحقیقات کیں، ڈبلیو ایچ او حکام نے چین سے کورونا کے شکار ہزاروں افراد کے خون کے نمونوں تک رسائی طلب کی ہے۔

جنیوا: ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کی ٹیم نے انکشاف کیا ہے کہ دسمبر 2019 میں ووہان میں کورونا کی وبا اس سے زیادہ پھیل چکی تھی جتنا اس کا اندازہ لگایا گیا تھا۔

ڈبلیو ایچ او کی ٹیم نے چینی شہر ووہان میں کورونا وائرس کی ابتدا سے متعلق تحقیقات کیں، ڈبلیو ایچ او حکام نے چین سے کورونا کے شکار ہزاروں افراد کے خون کے نمونوں تک رسائی طلب کی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کی ٹیم کے تفتیش کار پیٹر بین نے بتایا کہ دسمبر 2019 میں ہی صرف ووہان شہر میں کورونا کی بارہ اقسام موجود تھیں۔

میانمار: فوج شہریوں کو ہراساں کرنا بند کرے: مغربی ممالک

0
میانمار: فوج شہریوں کو ہراساں کرنا بند کرے: مغربی ممالک
میانمار: فوج شہریوں کو ہراساں کرنا بند کرے: مغربی ممالک

مغربی ممالک کے سفارت خانوں کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم سیکیورٹی فورسز سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مظاہرین اور عام شہریوں کے خلاف تشدد سے گریز کریں۔

ینگون: میانمار میں مغربی ممالک کے اعلی سفارتکاروں نے فوج سے سیاست دانوں، سماجی کارکنوں اور صحافیوں کو پریشان کرنے اور گرفتاری روکنے کی اپیل کی ہے اور متنبہ کیا ہے کہ پوری دنیا اس واقعے کو دیکھ رہی ہے۔

مغربی ممالک کے سفارت خانوں کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم سیکیورٹی فورسز سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مظاہرین اور عام شہریوں کے خلاف تشدد سے گریز کریں۔ ہم سیاسی رہنماؤں، سول سوسائٹیز کے کارکنوں اور سماجی کارکنوں کے ساتھ ساتھ صحافیوں کو بھی تشدد کی مذمت کرتے ہیں۔

اس بیان پر امریکہ، کینیڈا، برطانیہ، سوئٹزرلینڈ، ناروے، یوروپی یونین کے وفود، اور ڈنمارک، جمہوریہ چیک، فن لینڈ، فرانس، جرمنی، اٹلی، نیدرلینڈ سمیت یوروپی یونین کے رکن ممالک کے سفیروں نے دستخط کئے ہیں۔

خیال رہے کہ میانمار میں فروری کی بغاوت کے بعد لوگ سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور جمہوریت کی بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ فوج کی گاڑیاں شہروں میں گشت کر رہی ہیں اور فوج بار بار مظاہرین پر فائرنگ کر رہی ہے۔

عید عشق و محبت یعنی ویلنٹائن ڈے بہت بہت مبارک ہو

0
عید عشق و محبت یعنی ویلنٹائن ڈے بہت بہت مبارک ہو
عید عشق و محبت یعنی ویلنٹائن ڈے بہت بہت مبارک ہو

یہ خوشی کا موقع زندگی میں باربار نہیں آتا۔ ہر ایک کے ارمان ہوتے ہیں، اگر ہر کوئی اپنی اپنی استطاعت کے مطابق خرچ کرتا ہے اور خوشی مناتا ہے تو اس میں بُرائی کیا ہے؟ آدمی اپنے لئے کماتا ہے۔ خود پر خرچ نہیں کرے گا تو پھر کس پر کرے گا؟ ہاں فضول خرچی نہیں ہونی چاہئے اور اسراف اور بے حیائی نہیں ہونی چاہئے۔ زمانے کے ساتھ تو چلنا ہی پڑتا ہے۔ اگر لڑکے لڑکیاں ایسے موقع پر کچھ ناچ گانا، کچھ ہنسی مذاق کرلیتے ہیں تو انہیں روکا تو نہیں جاسکتا۔ یہ عمر کا تقاضہ ہے۔

تحریر: ڈاکٹر علیم خان فلکی

اس موقع پر تحفے دیئے جاتے ہیں، تحفے دینا تو یوں بھی سنّت ہے۔ اور اگرلوگ  پارٹی کرتے ہیں، کھانے کھاتے ہیں یا کھلاتے ہیں تو اس میں خرابی کیا ہے؟  آنے والے مہمانوں کو بھوکا تو نہیں بھیجا جاسکتا ہے۔ لوگ دور دور سے آتے ہیں۔اور مہمان نوازی تو سنّت ہے۔ ہاں یہ چیزیں کچھ لوگ قرض لے کر کرتے ہیں، یہ صحیح نہیں ہے۔ بعض حضرات اسے حرام کہتے ہیں۔ ہم بھی جانتے ہیں کہ یہ چیزیں مناسب نہیں ہیں، لیکن اِسے حرام کہہ دینا شدّت پسندی ہے، اورشدّت پسندی اسلام میں جائز نہیں ہے۔ نماز ہم بھی پڑھتے ہیں، ہم بھی عمرہ کرتے ہیں، لیکن دین اور دنیا میں اعتدال برتتے ہیں، نہ تو پوری دنیاداری میں ڈوب جاو، نہ پوری دینداری اختیار کرکے دنیا سے کٹ کر رہ جاو۔یہ ہے میانہ روی جو اسلام کا بھی تقاضہ ہے اور سمجھ داری کا  معیاربھی۔

یہاں تک کی تحریر پڑھ کر مولوی حضرات تو یقناً ہم پر کفر کا فتویٰ لگائیں گے۔ جو مولوی نہیں ہیں وہ بھی مولویوں سے زیادہ غضب میں آجائیں گے،کیونکہ ویلنٹائن، کرسمس، نیو ایئر وغیرہ ان سب کے نزدیک حرام ہیں۔ حرام کی بنیاد سب کو زبانی یاد ہے، وہ یہ ہے کہ یہ غیر قوم کی نقل ہے۔ نبی ﷺ کا فرمان ہمیں سنائیں گے کہ ”من تشبہ بقوم فھو منھم“ یعنی جو جس قوم کی نقل کرے گا وہ انہی میں سے اٹھایا جائیگا۔ اور اس میں کیا شک ہے کہ یہ ساری خرافات یہودیوں اور نصرانیوں کی ہیں۔ قرآن نے کئی جگہ سخت وارننگ دی ہے کہ یہودیوں اور عیسائیوں کے راستے پر مت چلو۔ ان حرام کاریوں میں نہ ان کا ساتھ دو اور نہ ان سے دوستی رکھو۔ وہ تم کو بے حیائی اور بدکاری کی طرف لے جائیں گے، اور  وہ تم کو اپنے دین میں  داخل تو نہیں کرسکتے لیکن تم کو تمہارے اپنے دین سے دور کردیں گے۔

غور کرنے کی بات یہ ہے کہ اگر ویلنٹائن اور نیوایئیر یہود ونصٰرٰی کی خرافات ہیں تو یہ جو ہم مسلمانوں کی شادیوں میں دیکھتے ہیں کہ منگنی، بارات، جہیز، جوڑا یا ہُنڈا، سانچق، مانجے، جمعگی، نوروز، مبارکہ، شادی کی صرف ایک رات بلکہ چند گھنٹوں کے لئے ہزاروں روپیہ کا دلہن کا جوڑا، وغیرہ اور پھر دلہن کی پہلی زجگی ہونے پر دواخانے کا خرچ، جھولا، چِھلّہ، چھٹّی وغیرہ، اِن ساری رسموں پر لڑکی کے ماں باپ کو خوب خرچ کرنا پڑتا ہے، چاہے وہ گھر فروخت کر کے کریں یا سود پر پیسہ لا کر کریں یا بھیک اور زکوٰۃ مانگ کرکریں۔اور خود لڑکے والے کون سی کمی کرتے ہیں، مہر ادھار رکھ کر جہیز نقد وصول کرتے ہیں، ہُنڈے یا جوڑے کی رقم سے ولیمہ بھی کرتے ہیں، اور اپنے پیسے بھی شامل کرکے ولیمہ کی سنّت میں خلافِ سنّت بلکہ سنّت کے مذاق اڑانے والی بے شمار حرکتیں شامل کرڈالتے ہیں جیسے سینکڑوں مہمانوں کو جمع کرنا، تاشے، مرفے، ناچ گانے، ڈیکوریشن، کئی کئی ڈِش کے دسترخوان، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ ساری رسمیں اگر یہود و نصاری کی نہیں ہیں تو کیا جائز ہوگئیں؟

صرف اس لئے کہ یہود ونصرٰی تو ہزاروں میل دور امریکہ اور اسرائیل میں بیٹھے ہیں، لیکن مشرکین تو ہمارے پڑوسی ہیں، لہذامشرکین کی یہ ساری رسمیں جائز ہیں؟ غیر قوم کی تشبّہ کا حکم کیا مشرکین کے رسم و رواج اپنانے پر لاگو نہیں ہوتا؟

اسلام میں نکاح کا صرف ایک کھانا جائز بلکہ مسنون ہے، وہ ہے ولیمہ۔ لیکن ولیمے سے پہلے مسجد میں نکاح کی سنّت ادا کرکے الگ سے شادی خانے میں سینکڑوں کی بارات جمع کرکے، لڑکی کے باپ کے خرچے پر ان تمام کی ضیافت کرواکر دلہن کو وداع کرواکر لانا یہ کس قوم کا چلن ہے؟ یہ نہ رسول اللہ ﷺ کا طریقہ ہے، نہ انبیا ؑکا نہ صحابہؓ  کا، نہ سلف صالحین ؒ کا۔ یہ طریقہ مشرکین کا ہے جس کو مہارانی جودھابائی جیسی راجپوت ہندو ملکاؤں نے اکبراعظم کے دربار میں متعارف کرواکر پوری امت کو اس میں غرق کردیا۔

سیتا جی کے جہیز کی طویل  فہرست اور لارڈ شیوا اور پاروتی کی بارات کا تذکرہ انٹرنیٹ پر موجود ہے جسے گوگل کرنے سے بآسانی دستیاب ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ کنیادان یعنی لڑکی کو خوب مال و متاع کے ساتھ رخصت کرنے، لڑکے والوں کو خوب کھانے کھلانے کے تذکرے بھی ہندو شاستروں میں ملتے ہیں۔ کیا یہودونصرٰی کی نقل حرام لیکن رام چندرجی اور سیتا جی کی نقل جائز ہے؟

پھر  ہمارے وہ مولوی جو والنٹائن وغیرہ کے حرام ہونے پر فتوے دیتے ہیں،کس طرح ان شادی کی رسومات کو جائز کرتے ہیں؟ اگر یہ جائز نہیں کرتے تو پھر ایسی شادیوں میں شرکت کیوں کرتے ہیں؟ ایسی شادیوں میں شرکت کی اجازت کس بنیاد پر دیتے ہیں؟ وہ کھل کر یہ کیوں نہیں بتاتے کہ ایسی غیر شرعی شادیوں میں جانا اور کھانا حلال ہے، فرض ہے، سنّت ہے، مباح ہے، افضل ہے یا حرام ہے، مکروہ ہے یا کیا ہے؟

غیرقوم کی نقل بہرحال حرام ہے، چاہے وہ یہودیوں کی نقل ہو، یا عیسائیوں کی یا مشرکین کی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ آج امت مسلمہ کو یہودیوں اور نصرانیوں کی نقل سے اتنا زیادہ نقصان نہیں پہنچ رہا ہے جتنا مشرکین کی نقل کی وجہ سے۔ مولوی کہتے ہیں کہ ویلنٹائین اور نیوایئیر جیسی بے ہودہ تقریبات کی وجہ سے زنا اور بے حیائی عام ہورہی ہے۔ بے شک یہ صحیح ہے لیکن یہ ویلنٹائین وغیرہ سال میں ایک بار منائی جاتی ہیں، جب کہ شادیاں سال کے 365 دن ہورہی ہیں، اور اِ ن مشرکانہ طرز کی شادیوں کی وجہ سے کتنا زنا پھیل رہا ہے، لوگوں کو اس کا اندازہ بالکل نہیں ہے۔

ویلنٹائین منانے والی قوم میں لڑکے لڑکیوں کو یہ پتہ ہی نہیں کہ Cladist کون مردود تھا، اس نے کیا بدکاری کی تھی۔ بس ایک روایت یا کلچر ہے جو وہ لوگ ہرسال مناتے ہیں۔ لیکن ہمارے مولوی 14 فروری آنے سے پہلے ہی یہ بتانا شروع کردیتے ہیں کہ کلاڈِسٹ کون تھا، اس نے کیا بدکاری کی تھی، یہ قصے فیس بُک، واٹس اپ، جمعہ کے خطبوں اور مضامین کی شکل میں اس قدر عام کئے جاتے ہیں کہ پہلی بار پڑھنے یا سننے والوں کو بھی مزہ آنے لگتا ہے۔ جن معصوم ذہنوں میں شہوت کا کبھی کوئی  تصوّر بھی نہیں تھا، ان ذہنوں میں یہ ایک ہلچل پیدا کردیتے ہیں۔ اسی وجہ سے لڑکے اور لڑکیاں  ایسی چیزیں موبائیل پر ڈھونڈھنا شروع کردیتے ہیں۔

ویلنٹائن ڈے کا زنا اور بے حیائی اور بدکاری سے جتنا گہرا تعلق ہے،اس سے کہیں زیادہ گہرا تعلق آج کی ہماری شادیوں کا زنا، ارتداد، بے حیائی اور آوارہ گردی سے ہے۔ جہیز اور بارات کے کھانوں کے بغیر 99% شادیاں نہیں ہوسکتیں۔ جب لڑکی والوں کو اتنا بوجھ اٹھانا ہی ہے تو وہ بھی لڑکوں میں شرافت یا کردار بعد میں دیکھتے ہیں۔ پہلے لڑکے کی تعلیم،کمائی اور گھر دیکھنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ لہذا لڑکوں کو ایجوکیشن اور کمائی کے ذریعے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے تک تیس تیس سال تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔

بالغ ہونے سے لے کر تیس سال تک کیا ہر نوجوان روزے اور نماز کے ذریعے صبر کرے گا؟ بالکل اسی طرح لڑکیوں کی زیادہ تعلیم کے جنون نے لڑکیوں کو بھی برباد کرڈالا (گوکہ تعلیم کا سلسلہ تو زندگی بھر جاری رہتا ہے، لیکن اسے صرف پیشہ ورانہ طریقے سے اس طرح حاصل کرنا کہ فطری ضروریات کو خیرباد کہنا پڑے، قابل افسوس ہے)۔ اس طرح ان کی برابری کے لڑکے ملنے تک خود ان کی عمریں بھی تیس تیس سال تک پہنچ رہی ہیں۔ جب لڑکا قابل ہوجاتا ہے تو پھر اس کے ماں باپ تیس سال کی نہیں بلکہ صرف بیس بائیس سال کی لڑکی ڈھونڈھتے ہیں۔ لڑکیاں کیا کریں؟ اس لئے ایسے لڑکے لڑکیوں کے پاس سوائے ویلنٹائین اور نیوایئیر کے لطف کے کچھ اور نہیں رہ جاتا۔

اگر مولوی حضرات اس جہیز اور بارات کو سختی سے حرام قرار دے کر اس کا سر کچلتے تو لوگ لڑکوں میں ڈگری اور کمائی کے بجائے شرافت ڈھونڈھتے۔ اسی طرح زیادہ سے زیادہ جہیز کی ہوس میں لڑکے والے کسی بھی لڑکی کو اگربہو بنا کر نہیں لاتے، بلکہ لڑکیوں میں تعلیم یا نوکری سے پہلے سیرت ڈھونڈھتے تو نوجوان نہ تو جوانی برباد کرتے، نہ ویلنٹائین اور نیوایئیر پارٹیوں میں عیاشیاں کرتے، نہ رات رات بھر انٹرنیٹ دیکھ کر جنسی ہوس پوری کرنے پر مجبور ہوتے۔

اگر آپ کو ہماری بات کا یقین نہ آئے تو جاکر کسی بھی قریبی میٹرنیٹی ہوم میں ہونے والے ابورشنس کی تعداد دیکھئے، کسی بھی پاش محلے میں رہنے والے جوڑوں کو دیکھئے جو بغیر شادی کے Live-in relationship میں رہ  رہے ہیں۔ کسی بھی ڈے کیر کِنڈرگارڈن یا اسکول میں جاکر دیکھئے وہاں کتنی Single parent عورتیں اپنے بچوں کو شریک کرواتی ہیں، یا کسی بھی Oyo جیسی ہوٹلوں میں جاکر دیکھئے وہاں عیاشی کے لئے کیسے کیسے گھرانوں کے لڑکے اور لڑکیاں آتی ہیں۔

بڑی کمپنیوں میں جاکر دیکھئے کس طرح آپ کی تعلیم یافتہ لڑکیاں غیروں کے ساتھ گھل مل کر Assimilate ہورہی ہیں۔ کورٹ میں جاکر دیکھئے کتنی کورٹ میریجس ہورہی ہیں۔ یہ سب کیوں ہورہا ہے؟ یہ سب ویلنٹائین وغیرہ کی وجہ سے نہیں بلکہ شادیوں میں مشکلات کی وجہ سے ہورہا ہے۔

جب تک شادیوں میں مشرکین کی رسموں کی نقل کو اسی طرح حرام قرار نہیں دیا جائیگا جس طرح یہودونصرٰیٰ کی رسموں کوحرام قرار دیا جاتاہے، اُس وقت تک یہ زناکاریاں مسلمانوں میں سے ختم نہیں ہوسکتیں۔ علما نے مدرسوں کے فارغ ہونے والے ہزاروں لوگوں کو یہودیوں کی نقل کرنے اور ویلینٹائین منانے سے تو بچالیا، لیکن شادیوں میں مشرکین کی نقل کرنے سے نہ روک سکے۔ نتیجہ یہ کہ آج خود عالمہ اور حافظہ لڑکیاں بغیر جہیز اور بارات کے کھانے کے بیاہی نہیں جاسکتیں۔

کم سے کم اگر اتنا ہوتا کہ مدرسوں کے طلبا کی شادی میں ہندوؤں کی نقل نہ ہوتی، نہ کوئی جہیز ہوتا نہ کھانا نہ جوڑے کی رقم، تو ہر گریجویٹ لڑکی کا ماں باپ بھی اپنی بچی کو انہی مدرسے کے فارغین کو دینے کی خواہش کرتے۔ لیکن جب حافظ اور عالم خود ”ہمیں کچھ نہیں چاہئے لیکن جو لڑکی والے خوشی سے دے دیں وہ لے لو“کی چالاک پالیسی پر ایمان رکھتے ہیں تو جو نتائج ولینٹائن کے نکل رہے ہیں، وہی نتائج ان شادیوں کے بھی نکل رہے ہیں۔ ویلنٹائن یا نئے سال کی پارٹیوں سے تو صر ف چند لڑکے اور لڑکیاں برباد ہوتی ہیں۔ لیکن ان مشرکانہ شادی کی رسموں کی وجہ سے خاندان کے خاندان مالی طور پر اور اخلاقی طور پر برباد ہورہے ہیں۔

کاش کوئی ایک مسلک تو ایسا اٹھے جو خلافِ سنّت شادیوں کا اور ایسی شادیاں کرنے والوں کا بائیکاٹ کرے، انہیں قطعی حرام قرار دے۔ آج مولوی شراب کے خلاف تقریریں تو کرنا چاہتے ہیں لیکن پینے سے روکنا نہیں چاہتے۔ یعنی شادیوں میں فضول خرچیوں کے خلاف خوب وعظ و بیان کریں گے لیکن ایسی شادیوں میں شرکت کرنے کو جائز قرار دیں گے۔ جواز یہ پیش فرمائیں گے کہ اگر جہیز اور کھانا کوئی”خوشی سے“ دے رہا ہے تو جائز ہے۔

اگر ان حرام کاریوں کے جائز ہونے کی علّت ”خوشی سے“ ہے تو پھر کیا ویلنٹائن اور نیوایئیر منانے کے لئے کسی کے سر پر تلوار یا پستول رکھا جاتا ہے؟ ویلنٹائین، نیوایئیر، شراب، زنا، جوا، وغیرہ ساری حرام کاریاں ”خوشی سے“ ہی کی جاتی ہیں۔ لہذا شادیوں میں کنیادان، ورودکھشنا (جہیز)، اور مختلف رسمیں اگر ”خوشی سے“ کی بنیاد پر جائز ہیں تو پھر وہ ساری حرام کاریاں بھی جائز ہونی چاہئے جو ”خوشی سے“ ہی لوگ انجام دیتے ہیں۔

زیر نظر مضمون میں لکھے گئے پہلے پیراگراف کو دوبارہ پڑھیں، جس کو پڑھتے ہوئے آپ لکھنے والے کے ایمان پر شک کررہے تھے، اور خود اندازہ لگایئے کہ ہم نے طنزیہ یا مزاحیہ طور پر ویلنٹائین جیسے حرام کو جائز کرنے کے دلائل دیئے تھے کیا لفظ بہ لفظ وہی دلائل لوگ ان شادیوں میں ہونے والی حرام کاریوں کے جواز میں پیش نہیں کرتے؟ پہلا پیراگراف پڑھ کر ہمارے ایمان پر شک کرنے والوں کو ہمارے دلائل جو ظاہری طور پر ویلنٹائین کی تائید میں تھے، حرام لگے۔ لیکن جب لوگ یہی دلائل خلافِ شریعت تقریباتِ شادی کی تائید میں دیتے ہیں تو سب دلائل جائز ہوجاتے ہیں، ایسا کیوں؟

یہ جتنے لوگ ویلنٹائین ڈے کو یہودیوں کی نقل کہہ کر لمبی لمبی تقریریں کرتے ہیں، ان کے گھروں کی شادیوں کو جاکر دیکھئے، تمام شادیاں مشرکین کی نقل ہیں۔ اِ ن کی شادیوں کے دعوت نامے پر جلی حروف میں ”النکاح من سنّتی، و من رغب عن سنتی فلیس منی“ لکھا ہوتا ہے یعنی یہ اعلان کہ یہ شادی رسول اللہ ﷺ کے طریقے پر ہورہی ہے، لیکن سوائے قاضی کے روبرو نکاح اور ولیمہ کے اعلان کے سب کچھ غیرمسلموں کی نقل ہے۔ کہیں شہر کے بڑے لوگوں، سیاستدانوں اور فلم اسٹاروں کی شادیوں کی نقل ہے، تو کہیں پوری شادی خاندان اور قبیلے کے رسم و رواج کے مطابق ہوتی ہے۔ جو طریقہ باپ دادا کو یا مرشد کو پسند ہے، یا جس طریقے پر بڑے مذہبی رہنماؤں کے گھروں کی شادیاں لوگ دیکھتے ہیں، اب ان طریقوں پر چلنے کے لئے اس قدر شدّت پر اتر آتے ہیں کہ ان کے سامنے نہ قرآن کی دلیل دی جاسکتی ہے اور نہ حدیث کی۔

اگر مضمون کے طویل ہوجانے کا اندیشہ نہ ہوتا تو ہم وہ تمام آیتیں پیش کردیتے جو قرآن نے دین میں پورے کے پورے داخل ہوجانے اور کفارومشرکین کی نقل نہ کرنے کے تعلق سے بیان کی ہیں۔ آج ہندو معاشرہ  بالخصوص نچلی ذاتیں جو 90% آبادی پر مشتمل ہیں، انہی شادیوں کے جہیز اور جوڑے اور کھانوں کی وجہ سے ہم سے کہیں زیادہ غربت و افلاس کے شکار ہیں۔ پوری زندگی کی کمائی بیٹیوں اور بہنوں کی شادی میں لٹ جاتی ہے۔ یہ پیسہ جو لڑکی کے بھائیوں کو تاجر بناسکتا ہے، ملک کی ترقی کا ذریعہ بن سکتا ہے، فضول دعوتوں پر برباد ہورہا ہے۔

ہم شادیوں کو مکمل Sunnatise کردیں تو  وہ لوگ صرف شادیوں میں نہیں بلکہ زندگی کے ہر شعبہ میں سنت کی نقل کریں گے، ان شاء اللہ۔ لیکن بدقسمتی سے ہم انہیں سنت کی نقل پر مجبور کرنے کے بجائے، ہم خود ان کی نقل پر اتر آئے، جس کے نتیجے میں خود ہماری معاشی اور اخلاقی حیثیت ان نچلی ذاتوں سے بھی بدتر ہوگئی۔

علماء و دانشوروں کو چاہئے کہ ویلنٹائین ڈے اور نیو ایئیر سے زیادہ شادیوں میں غیرمسلموں کی نقل کرنے کے نقصانات پر غور فرمائیں۔ یہ بھی اغیار کی نقل ہے، اور اس کی وجہ سے امت ویلنٹائن وغیرہ سے کہیں زیادہ برباد ہورہی ہے۔

جب ایسی شادیوں کی دعوت آئے جس میں اغیار کی نقل ہو یعنی منگنی، جہیز اور شادی کے دن کی بارات کا کھانا، تو ایسی شادیوں کے دعوت نامے کو ریجیکٹ کریں، لیکن عزت کے ساتھ۔ دعوت دینے والے سے ہمت کرکے کہیں کہ ”ہم معافی چاہتے ہیں، ہم شرکت نہیں کرسکتے کیونکہ یہ شادی ہمارے نبیﷺ کے طریقے پرنہیں بلکہ ابو جہل اور ابو لہب کی نقل ہے۔ یہ اِس دور کے فاشسٹوں کی نقل ہے۔

آپ کے بائیکاٹ کرنے سے یقینا وہ شادی رکنے والی نہیں، لیکن آپ کا جملہ وہ شخص کئی لوگوں کو سنائے گا۔ لوگوں کی اکثریت آپ پر تنقید کرے گی، وہی دلائل پیش کرے گی جو پہلے پیراگراف میں ہم نے بیان کیے ہیں۔ لیکن کچھ لوگ ہوں گے جو نہ صرف آپ کی تائید کریں گے بلکہ ایسی شادیوں کے خلاف مہم چلانے کے لئے آپ کے مددگار بن جائیں گے۔ شادیوں کو مکمل سنت کے مطابق کروانے سے معاشرے میں ایک زبردست Economic revolution آئے گا۔ بہنوں اور بیٹیوں کی شادیوں میں سب کچھ لٹا کر جو لوگ آج مالی طور پر پریشان  ہورہے ہیں، یہی لوگ کل تاجر، انڈسٹریلیسٹ، اور خوشحال بن جائیں گے۔ اُس کے بعد وہ کسی بھی تحریک یا جماعت کا بھرپور ساتھ دے سکیں گے۔

 

مضمون نگار سماجی کارکن اور سوشیو ریفارمس سوسائٹی، حیدرآباد کے صدر ہیں
مضمون نگار کی رائے سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں

میانمار میں جمہوریت بحالی کی ہندوستان کو قیادت کرنی چاہیے

0
میانمار میں جمہوریت بحالی کی ہندوستان کو قیادت کرنی چاہیے
میانمار میں جمہوریت بحالی کی ہندوستان کو قیادت کرنی چاہیے

حال ہی میں ہوئے الیکشن میں این ایل ڈی پارٹی کو 64 سیٹیں، جبکہ فوج کی حمایت یافتہ یو ایس ڈی پی کو 33 سیٹیں ملی ہیں۔ فوج نے آنگ سان سوچی کی پارٹی کو واضح اکثریت ملنے کو منظور نہیں کیا۔

نئی دہلی: لوک سبھا میں آج مطالبہ کیا گیا کہ میانمار میں فوجی تختہ پلٹ کے خلاف ہندوستان کو پہل کرکے وہاں جمہوریت بحالی اور وہاں کی رہنما آنگ سان سو چی اور صدر کی رہائی کو یقینی بنانی چاہیے۔

وقفہ صفر میں کانگریس کے رہنما منیش تیواری نے کہا کہ گذشتہ یکم فروری کو میانمار میں فوج نے تختہ پلٹ کرکے اسٹیٹ کاؤنسلر آنگ سان سوچی اور صدر یو وِن مِنت کو گرفتار کر لیا ہے۔ نومبر میں میانمار میں ہوئے الیکشن میں این ایل ڈی پارٹی کو 64 سیٹوں پر جیت حاصل ہوئی جبکہ فوج کی حمایت یافتہ یو ایس ڈی پی کو 33 سیٹیں ملی ہیں۔ فوج نے آنگ سان سوچی کی پارٹی کو واضح اکثریت ملنے کو منظور نہیں کیا اور 1962 اور 1988 اور 1990 میں جو ہوا اسے دہرایا۔

ہندوستان کو میانمار کے خلاف دباؤ ڈالنے کی قیادت کرنی چاہیے

مسٹر تیواری نے کہا کہ ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے اور ہم ہمیشہ جمہوریت اور اقدار کے ہو کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے غیر مستقل رکن کے بطور ہندوستان کو میانمار کے خلاف دباؤ ڈالنے کی قیادت کرنی چاہیے اور آٹھ نومبر 2020 کے انتخابی نتائج کو بحال کیے جانے اور وہاں کے رہنماؤں کی رہائی یقینی بنانا چاہیے۔

بی جے پی کے تاپر گاو نے بھی اسی مسئلے کو اٹھاتے ہوئے کہا کہ میانمار کے الیکشن میں آنگ سان سو چی کو واضح اکثریت ملی تھی۔ وہاں فوج نے تختہ پلٹ چین کی فوج سے سازباز کیے بغیر نہیں کیا ہے۔ کیونکہ فوج ایک جمہوری حکومت کو اس طرح نہیں گرا سکتی ہے۔ ہندوستانی فوج اور میانمار کی فوج کے درمیان اچھے رشتے ہیں۔ لیکن ہمیں 1962کی غلطی نہیں دہرانے دینی چاہیے اور وہاں جمہوریت بحالی کی جد و جہد کی قیادت کرنی چاہیے۔

مواخذے پر بحث میں ٹرمپ کے وکلاء نے پیش کئے حتمی دلائل

0
مواخذے پر بحث میں ٹرمپ کے وکلاء نے پیش کئے حتمی دلائل
مواخذے پر بحث میں ٹرمپ کے وکلاء نے پیش کئے حتمی دلائل

ٹرمپ کے اہم وکیل بروس کاسٹر جونیئر نے یہ بھی ثابت کرنے کی کوشش کی کہ مسٹر ٹرمپ کی 6 جنوری کی تقریر کیپٹل ہل میں تشدد کا باعث نہیں بنی، کیونکہ وہاں لوگ پہلے سے ہی غصہ میں تھے، جب وہ تقریر کر رہے تھے، نہ کہ ان کی تقریر کے بعد لوگ مشتعل ہوئے۔

واشنگٹن: امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف سینیٹ میں مواخذہ چلائے جانے کے فیصلے کے بعد ان کے وکلاء نے اس معاملے میں اپنے حتمی دلائل دیئے اور اب مواخذہ منظور کرنے کا فیصلہ سینیٹروں کے ہاتھوں میں ہے۔

ٹرمپ کے وکلا کو جمعہ کو اپنا مقدمہ پیش کرنے کے لئے 16 گھنٹے کی مہلت دی گئی تھی، جس میں سے انہوں نے تین گھنٹوں میں اپنے موکل کے دلائل پیش کئے۔ اس دوران انہوں نے ایوان نمائندگان کے منیجرز پر بھی سخت تنقید کی جس نے ٹرمپ کے 6 جنوری کو کیپٹل ہل پر ہونے والے واقعے کے درمیان تعلق ثابت کرنے میں ناکام رہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے اہم وکیل بروس کاسٹر جونیئر نے کل اپنا حتمی مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا ’’ایوان نمائندگان کے منتظمین نے 14 گھنٹے سے زیادہ صرف یہ ثابت کرنے میں نکال دیئے کہ کیپٹل ہل پر ہونے والے تشدد کتنے خوفناک تھے۔ انہوں نے ایک بار بھی یہ نہیں کہا کہ امریکہ کے 45 ویں صدر ٹرمپ کا اس واقعہ سے کیا لینا دینا ہے، جس کے حوالہ سے یہ بحث ہوئی ہے۔

ٹرمپ کی 6 جنوری کی تقریر کیپٹل ہل میں تشدد کا باعث نہیں

ایڈوکیٹ کاسٹر نے یہ بھی ثابت کرنے کی کوشش کی کہ مسٹر ٹرمپ کی 6 جنوری کی تقریر کیپٹل ہل میں تشدد کا باعث نہیں بنی کیونکہ وہاں لوگ پہلے سے ہی غصہ میں تھے، جب وہ تقریر کر رہے تھے، نہ کہ ان کی تقریر کے بعد لوگ مشتعل ہوئے۔ مسٹر ٹرمپ نے تو اپنے حامیوں سے پر امن احتجاج کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ لیکن وہاں سابق صدر کے الفاظ کو غلط ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی ہے.

مسٹر کاسٹر نے استفہامیہ لہجے میں کہا ’’یہ تقریباً گیارہ اور ڈیڑھ بجے کے دوران کے سیکیورٹی کیمروں کی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کیپٹل ہل کے قریب فرسٹ اسٹریٹ پر لوگوں کا مجمع شروع ہوا اور یہ واقعہ مسٹر ٹرمپ کی تقریر سے 45 منٹ قبل پیش آیا۔‘‘ مسٹر ٹرمپ کی تقریر سے قبل شرپسندوں نے کیپیٹل ہل سے صرف ایک میل دور جمع ہونا شروع ہوگئے تھے۔ کیا آپ لوگوں نے یہ حقائق ایوان نمائندگان کے منیجرز کی پیش کش کے دوران نہیں دیکھے؟

قابل ذکر بات یہ ہے کہ مسٹر ٹرمپ کے حامیوں نے 6 جنوری کو واشنگٹن میں کانگریس بلڈنگ کیپیٹل ہل پر حملہ کیا اور املاک کو نقصان پہنچایا۔ یہ پرتشدد واقعہ اس وقت پیش آیا جب انہوں نے وائٹ ہاؤس کے قریب اپنے ہزاروں حامیوں سے خطاب کیا۔ خیال رہے ان مظاہروں کے دوران تشدد میں دو خواتین سمیت پانچ افراد ہلاک ہوگئے، جبکہ پولیس نے اس سلسلے میں متعدد افراد کو گرفتار بھی کیا تھا۔