منگل, جون 9, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 4

مہاراشٹر کے کسانوں کی حالت زار: صرف 6 روپے کا معاوضہ اور حکومت کا مذاق

0
maharashtra-ke-kisan
مہاراشٹر کے کسانوں کی حالت زار: صرف 6 روپے کا معاوضہ اور حکومت کا مذاق

 مہاراشٹر کے کچھ کسانوں نے حال ہی میں ایک ایسی صورتحال کا سامنا کیا جو ان کی زندگی کے لیے انتہائی مشکل اور ناگفتہ بہ ہے۔

کسانوں کے مسائل اور ان کے حل کے لیے مختلف حکومتوں کی جانب سے کچھ بھی کیا جائے نہ جانے کے باوجود مہاراشٹر کے کچھ کسانوں نے حال ہی میں ایک ایسی صورتحال کا سامنا کیا جو ان کی زندگی کے لیے انتہائی مشکل اور ناگفتہ بہ ہے۔ یہ داستان ہے چھترپتی سمبھاجی نگر ضلع کے کسان دگمبر سدھاکر ٹانگڑے کی، جنہیں بھاری بارش اور سیلاب کی وجہ سے اپنی فصل کے نقصان کے بعد حکومت کی طرف سے صرف 6 روپے کا معاوضہ ملا ہے۔ اس خبر نے کسانوں کے درمیان بے چینی اور غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے جبکہ حکومت کے وعدوں پر سوال اٹھنا شروع ہو گئے ہیں۔

کسان دگمبر سدھاکر ٹانگڑے کے مطابق، "یہ رقم اتنی کم ہے کہ ایک کپ چائے کی قیمت بھی نہیں بنتی۔” انہوں نے مزید کہا کہ "یہ کسی مذاق سے کم نہیں، اور حکومت کو اس بابت شرم آنی چاہیے۔” ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس صرف دو ایکڑ زمین ہے، اور انہیں یہ بھی معلوم ہوا کہ ان کے بینک اکاؤنٹ میں محض 6 روپے جمع ہوئے ہیں۔ "ہم قرض معافی کی خواہش رکھتے ہیں، اور ایسی ادائیگی کرنا واقعی میں مذاق ہے۔”

یہ پہلا واقعہ نہیں ہے جب مہاراشٹر کے کسانوں کو اس طرح کی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ اس سے پہلے، اکولا ضلع کے بعض گاؤں کے کسانوں کو بھی بھاری بارشوں کی وجہ سے اپنی فصلیں کھو دینے کے بعد محض 3 یا 21 روپے کا معاوضہ ملا تھا۔ کسانوں نے اس صورتحال کو توہین آمیز قرار دیتے ہوئے احتجاج کا راستہ اختیار کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ رقم ایسے حالات میں انہیں دی گئی ہے جب وہ اپنی زندگی کی بقا کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

کسانوں کی تحریک اور موجودہ صورتحال

دگمبر سدھاکر ٹانگڑے کی آواز صرف ایک فرد کی نہیں، بلکہ مہاراشٹر کے بہت سے کسانوں کی صدا ہے جو اپنی فصلوں کے نقصانات کے بعد انسانی امداد کے منتظر ہیں۔ آج کی صورتحال میں جہاں کسان بارشوں اور سیلابوں سے متاثر ہوئے ہیں، وہیں انہیں نئے مسائل کا سامنا بھی ہے جیسے کہ کم معاوضہ، قرضوں کی واپسی کا دباؤ اور حکومت کی عدم توجہی۔

مہاراشٹر کی حکومت نے پچھلے مہینے متاثرہ کسانوں کے لیے 31,628 کروڑ روپے کے معاوضے کے پیکیج کا اعلان کیا تھا، جس میں فصل کی تباہی، مٹی کے کٹاؤ، اور دیگر نقصانات کا خیال رکھا گیا تھا۔ تاہم، کسانوں کے لیے ملنے والے اینٹ بڑھتے دکھائی دیتے ہیں، جو کہ حکومت کے اعلان کردہ امدادی پیکج پر سوالیہ نشان لگا رہے ہیں۔

حکومت کے وعدے اور کسانوں کی مایوسی

یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ آخر کار حکومت اپنے وعدوں پر عمل درآمد کیوں نہیں کر سکی؟ دگمبر سدھاکر ٹانگڑے نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ سابق وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے جب انہوں نے حکومت میں تھے، تو قرض معافی کا اعلان کیا تھا، مگر اس حکومت کے آنے کے بعد نہ تو کسی معافی کا اعلان کیا گیا اور نہ ہی کوئی حقیقی اقدامات نظر آئے۔

کسانوں کی حالت زار کا یہ تماشا صرف مہاراشٹر تک محدود نہیں ہے، بلکہ ملک کے دیگر حصوں میں بھی کسانوں کو تحفظات اور قرضوں کی مشکلات کا سامنا ہے۔ اس وقت، کسانوں کی مایوسی اور بے بسی کا ایک بڑا سبب یہ ہے کہ حکومت انہیں وہ حقوق اور امداد فراہم نہیں کر رہی جن کی ان کے ہاتھوں کی محنت کا حق ہے۔

کیا یہ صرف ایک مذاق ہے؟

دگمبر سدھاکر ٹانگڑے اور دیگر کسانوں کی مایوسی کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ اپنے حقوق کے لیے لڑنے سے دستبردار ہو گئے ہیں۔ ان کا ہنر، ان کی محنت، اور ان کی زمین کے لیے ان کی محبت انہیں حق طلبی کے لیے جدوجہد کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔

کسانوں کا یہ کہنا کہ حکومت نے ان کا مذاق اڑایا ہے، دراصل اس بات کی گہری علامت ہے کہ وہ حکومتی بے حسی کے خلاف کھڑے ہونے کا عزم رکھتے ہیں۔ اس صورتحال میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا حکومت اس مسئلے پر کوئی سنجیدہ اقدام کرے گی یا پھر یہ محض ایک اور داستان بن کر رہ جائے گی۔

مہاراشٹر کے کسانوں کے حقوق اور سیاسی صورتحال

یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ مہاراشٹر کی سیاسی صورتحال بھی کسانوں کے مسائل کے گرد گھومتی ہے۔ حالیہ دنوں میں مختلف سیاسی جماعتوں نے اس معاملے پر اپنی سیاست چمکانے کی کوشش کی ہے، جس کا براہ راست اثر کسانوں کی حالت پر پڑ رہا ہے۔ ادھو ٹھاکرے جیسے رہنما اب کسانوں کے درد کو محسوس کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر کیا یہ سب محض سیاسی کھیل ہے یا واقعی میں کچھ مثبت تبدیلی آئے گی؟

مہاراشٹر کے کسانوں کے لئے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ انہیں اپنی حالت زار کا سامنا کرنے کے لئے مزید کن چیلنجز کا سامنا کرنا ہوگا۔ کیا حکومت ان کے حقوق کی حفاظت کرنے میں کامیاب ہوگی یا پھر ان کا درد اسی طرح یونہی جھیلنے کے لئے چھوڑ دیا جائے گا؟ یہ سوالات کسانوں کے دن رات کی محنت کی عکاسی کرتے ہیں اور ان کے مستقبل کا فیصلہ کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔

آگے کی راہ

ماضی کی مشکلات اور حالیہ حالات کے درمیان، مہاراشٹر کے کسانوں کو جو چیلنجز درپیش ہیں وہ صرف مالی نہیں، بلکہ جذباتی بھی ہیں۔ کسانوں کی اس حالت کا مقابلہ کرنے کے لئے حکومت کو نہ صرف ہمدردی دکھانی ہوگی بلکہ ان کی حقیقی مشکلات کو سمجھ کر انہیں حل بھی کرنا ہوگا۔

کسانوں کی جدوجہد اور ان کی آواز کو سننا وقت کی ضرورت ہے، تاکہ ان کے مسائل کو حل کر کے انہیں بہتر زندگی کی طرف لوٹا جا سکے۔ اگر حکومت نے اس معاملے میں سنجیدگی سے اقدامات کئے تو یہ نہ صرف کسانوں کی حالت کو بہتر بنائے گا بلکہ ملک کی معیشت کو بھی مستحکم کرے گا۔

مہاراشٹر کے کسانوں کی یہ جنگ صرف ان کی نہیں بلکہ ہر اُس کسان کی ہے جو اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کر رہا ہے۔ اگرچہ ان کے راستے میں مشکلات ہیں، لیکن ان کا حوصلہ انہیں کبھی بھی ہار تسلیم کرنے پر مجبور نہیں کرے گا۔ اس وقت یہ ضروری ہے کہ حکومت ان کی باتوں کو سن کر انہیں جوابدہ بنائے اور ان کے مسائل کے حل کے لئے عملی اقدامات کرے۔

بہار میں تبدیلی کا وعدہ: لالو خاندان کی عوام سے ووٹنگ کی اپیل

0
<b>بہار-میں-تبدیلی-کا-وعدہ:-لالو-خاندان-کی-عوام-سے-ووٹنگ-کی-اپیل</b>
بہار میں تبدیلی کا وعدہ: لالو خاندان کی عوام سے ووٹنگ کی اپیل

پرانے چہرے، نئے خواب: بہار اسمبلی انتخابات میں لالو پرساد یادو کا خاندان عوامی اختیار کو چمکانے کی کوشش میں

بہار اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے میں ووٹ ڈالنے کے بعد، لالو پرساد یادو کے خاندان نے عوام سے تبدیلی کے لیے ووٹ ڈالنے کی اپیل کی ہے۔ سابق وزیر اعلیٰ رابڑی دیوی نے جمعرات کو اپنے اہل خانہ کے ہمراہ ووٹ ڈالنے کے بعد اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ریاست کی گلیوں اور کوچوں میں تبدیلی کے لیے کوشاں ہیں۔ ان کے بقول، اس بار بہار کی عوام مہاگٹھ بندھن کی حکومت بنانے کے لیے تیار ہیں۔

رابڑی دیوی نے اس موقع پر کہا، "میں تمام عوام سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ ووٹ ضرور ڈالیں، یہ ان کا حق اور ذمہ داری ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہر فرد بہار کی تقدیر کو بدلنے میں اپنا کردار ادا کرے گا۔” انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ موجودہ حکومت کے اقدامات کے خلاف عوام میں ناراضگی پائی جاتی ہے، جس کی وجہ سے لوگ نئی حکومت کے لیے تیار ہیں۔

تیجسوی یادو، جو مہاگٹھ بندھن کے وزیر اعلیٰ عہدے کے امیدوار بھی ہیں، نے ووٹ ڈالنے کے بعد کہا کہ "بہار کے نوجوان تبدیلی چاہتے ہیں، اور یہ انتخابات ان کے مستقبل کا فیصلہ کرے گا۔” ان کا ماننا ہے کہ اس بار عوام کو اپنی آواز بلند کرنے کا موقع ملا ہے اور انہیں اپنی طاقت کا اندازہ ہونا چاہیے۔

میسا بھارتی، جو لالو یادو کی بڑی بیٹی ہیں اور راجیہ سبھا کی رکن ہیں، نے ووٹ ڈالنے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "میں تمام لوگوں سے درخواست کرتی ہوں کہ وہ اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے ووٹ دیں۔” انہوں نے واضح کیا کہ مہاگٹھ بندھن اس بار ضرور کامیاب ہوگا، خواہ انہیں عددی بحران کی فکر نہ ہو۔

روہنی آچاریہ، لالو یادو کی دوسری بیٹی، نے بھی سوشل میڈیا پر اپنی رائے کا اظہار کیا۔ انہوں نے لکھا، "بدلے گا بہار، بدلے گی سرکار۔ بہار کی عوام سے میری درخواست ہے کہ وہ آر جے ڈی اور انڈیا اتحاد کے امیدواروں کے حق میں ووٹ دیں تاکہ ایک طاقتور حکومت قائم کی جا سکے۔”

اس دوران، میسا بھارتی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک اور پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ "یہ اب وقت ہے کہ ہم نوجوانوں کی مسائل کو سامنے رکھیں۔ یہ انتخابات اس بات کی طرف اشارہ ہیں کہ نوجوان نسل اپنے مستقبل کے لیے کیا چاہتی ہے۔”

بہار میں انتخابی ماحول: عوام کی آواز

بہار میں انتخابی ماحول کی بات کی جائے تو یہ واضح ہے کہ اس بار کا انتخاب عوام کے مسائل کو حل کرنے کے عزم کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ روزگار، تعلیم، اور بہتر حکمرانی جیسے اہم مسائل نے عوام میں تبدیلی کا احساس بڑھا دیا ہے۔ لالو خاندان کی یہ کوششیں اس بات کی علامت ہیں کہ انہیں عوام کی حمایت حاصل ہے، اور وہ اپنی تاریخی قوت کو ایک نئی شکل دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

بہار کے عوام، خاص طور پر نوجوان، اب تبدیلی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ نئی نسل حکومت سے زیادہ مواقع مانگ رہی ہے تاکہ وہ اپنی زندگیوں میں بہتری لا سکیں۔ اسی تناظر میں، تیجسوی یادو نے کہا کہ یہ انتخابات نوجوانوں کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے، اور یہ ان کی آواز بلند کرنے کا وقت ہے۔

مہاگٹھ بندھن کا وعدہ: ایک نئی حکمت عملی

مہاگٹھ بندھن نے عوام سے اپنے وعدے کیے ہیں کہ اگر ان کی حکومت بنتی ہے تو وہ تعلیم، روزگار، اور بنیادی سہولیات پر خاص توجہ دیں گے۔ تیجسوی یادو نے عوام کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے، جس میں صحت کی سہولیات، نوجوانوں کے لیے تعلیم، اور ملازمت کے مواقع شامل ہیں۔

یاد رہے کہ لالو پرساد یادو کا خاندان بہار کی سیاست میں ایک اہم کردار ادا کرتا آرہا ہے اور انہوں نے ہمیشہ عوامی مسائل کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ منتخب نمائندے عوام کے درمیان میں رہتے ہیں اور ان کے مسائل کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

محنت، عزم، اور سیاسی جدوجہد: مستقبل کی طرف

بہار کے لوگ سیاسی تبدیلیوں کے لیے ہمیشہ تیار رہتے ہیں۔ عوام کی یہ سوچ کہ موجودہ حکومت انہیں ان کے بنیادی حقوق نہیں دے رہی، انہیں مہاگٹھ بندھن کی طرف راغب کر رہی ہے۔ تیجسوی یادو اور ان کا خاندان اس بار عوامی حمایت کے لیے پرعزم ہیں، اور وہ عوام کو یہ یقین دلانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ان کی آمد سے بہار میں ایک نئی صبح ہوگی۔

امید کی جانے والی تبدیلیاں عوام میں جوش و خروش پیدا کر رہی ہیں، اور یہ انتخابات بہار کے مستقبل کے لیے ایک اہم موڑ بن سکتے ہیں۔ تیجسوی یادو نے بھی واضح کیا کہ وہ اپنی والدہ اور والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بہار کی عوام کی خدمت کے لیے تیار ہیں۔

یہ انتخابات کیوں اہم ہیں؟

یہ انتخابات بہار کے عوام کے لیے اس لیے بھی اہم ہیں کہ وہ ایک نئے رہنما اور نئی حکومت کی توقع کر رہے ہیں جو ان کی بنیادی ضروریات کو پورا کر سکے۔ مہاگٹھ بندھن کا وعدہ ہے کہ اگر انہیں ریاست کی حکومت ملتی ہے تو وہ عوامی مسائل کو حل کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کریں گے۔

بہار کے عوام میں یہ احساس بھی مضبوط ہو رہا ہے کہ ووٹ دینا صرف ایک حق نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے۔ اسی لیے لالو خاندان کے افراد عوام سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ اپنے حق کو استعمال کریں اور اپنے مستقبل کے لیے ایک بہتر راستے کا انتخاب کریں۔ انہیں یقین ہے کہ اگر عوام ان کے ساتھ ہیں تو بہار میں تبدیلی ممکن ہے۔

آگے کا راستہ: بہار کی عوامی شراکت

بہار کی عوام کے لیے یہ وقت ہے کہ وہ اپنی قوت کو پہچانیں اور یہ جانیں کہ ان کا ووٹ کیسے ریاست کے مستقبل کا تعین کر سکتا ہے۔ یہ صرف ایک انتخابات کا معاملہ نہیں ہے بلکہ ان کی زندگیوں میں بہتری لانے کا موقع بھی ہے۔ عوام کو آگے آ کر اپنی آواز بلند کرنی چاہیے اور ان مسائل پر توجہ دینی چاہیے جو ان کی روزمرہ زندگی کو متاثر کر رہی ہیں۔

اس وقت بہار کی سیاست ایک نازک مرحلے پر ہے، جہاں عوامی حمایت اور عوام کی شراکت ضروری ہے۔ لالو خاندان کی کوششیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ وہ عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کے مسائل کو حل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

یقیناً یہ انتخابات ہی ہیں جو یہ طے کریں گے کہ کون سی حکومت بہار کی تقدیر کو بدلنے کی طاقت رکھتی ہے۔ عوام کے فیصلے کا اثر صرف ان کی زندگیوں پر نہیں بلکہ ریاست کی ترقی پر بھی ہوگا۔ یہ وقت ہے کہ بہار کی عوام متحد ہو کر اپنی آواز بلند کریں اور صحیح راستے کا انتخاب کریں۔

کیرالہ میں غربت کے خاتمے پر چین کے سفیر نے دی مبارکباد

0
kerala me ghurbat ke khatme par china ke safeer ne di mubarakbadi
کیرالہ میں غربت کے خاتمے پر چین کے سفیر نے مبارکبادی دی

کیرالہ کی حکومت نے انتہائی غربت کے خاتمے میں کی جانے والی تاریخی کامیابی کا اعتراف، چین کے سفیر نے خراج تحسین پیش کیا

چین کے سفیر شوفیہانگ نے حال ہی میں کیرالہ حکومت کو ریاست میں انتہائی غربت کے خاتمے کی تاریخی کامیابی پر مبارکباد پیش کی ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ کرتے ہوئے اس بات کا ذکر کیا کہ غربت کا خاتمہ تمام انسانی معاشروں کا مشترکہ ہدف ہے۔ سفیر کا یہ پیغام اس وقت منظر عام پر آیا جب کیرالہ کے وزیر اعلیٰ پنارائی وجین نے اپنے اسمبلی میں خطاب کے دوران ریاست کو انتہائی غربت سے پاک کرنے کا اعلان کیا۔

کیرالہ کی اس خوبی کو تسلیم کرتے ہوئے چینی سفیر نے لکھا کہ "کیرالہ کو انتہائی غربت کے خاتمے میں اس کی تاریخی کامیابی پر دلی مبارکباد۔” انہوں نے مزید کہا کہ "غربت کا خاتمہ انسانیت کا مشترکہ مشن ہے”۔ ان کی اس تحریر نے ایک نئی امید جگائی ہے کہ دیگر ریاستیں بھی اس کامیابی کی راہ پر گامزن ہو سکتی ہیں۔

وزیراعلیٰ پنارائی وجین نے چینی سفیر کی مبارکباد پر اظہار تشکر کیا اور کہا کہ اس سنگ میل کا حصول سماجی انصاف اور انسانی وقار کے لئے ریاست کی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ "کیرال پروی” کے موقع پر آپ کی نیک خواہشات کے لئے شکریہ۔ انہوں نے مزید کہا کہ "انتہائی غربت کے خاتمے میں کامیابی ہمارے مشترکہ عزم کو ظاہر کرتی ہے”۔

کیرالہ کی ترقی کی کہانی: انتہائی غربت کے خاتمے کی مہم

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ کیرالہ کے وزیر اعلیٰ پنارائی وجین نے ہفتے کے دن اسمبلی میں ریاست کو انتہائی غربت سے پاک کرنے کا باضابطہ اعلان کیا۔ وزیر اعلیٰ کا یہ دعویٰ تھا کہ کیرالہ ایسا کرنے والا ہندوستان کا پہلا صوبہ بن چکا ہے۔ یہ اعلان اس وقت کیا گیا جب حکومت نے 2021 میں "ایکسٹریم پاورٹی ایریڈیکیشن پروجیکٹ” (ای پی اے پی) کا آغاز کیا۔ اس مہم کے تحت 64,006 خاندانوں کی شناخت کی گئی تھی جنہیں انتہائی غربت کا سامنا تھا۔

حکومت کا دعویٰ ہے کہ ان خاندانوں کو صرف 4 سالوں میں انتہائی غربت سے باہر نکال لیا گیا ہے۔ 25 اکتوبر کو وزیر اعلیٰ نے یہ اعلان کیا کہ "اب کیرالہ، انتہائی غربت سے آزاد ہے”۔ انہوں نے یہ اعلان "کیرال پروی” یا یوم تاسیس کے دن اسمبلی کے خصوصی اجلاس میں کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔

حکومت کی جانب سے کی جانے والی کوششیں

کیرالہ کی حکومت نے غیر معمولی رقم، یعنی 1,000 کروڑ روپے سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی ہے، تاکہ ریاست میں انتہائی غربت کے شکار خاندانوں کی حالت بہتر بنائی جا سکے۔ حکومت نے ان خاندانوں کو روزانہ کھانا، صحت کی دیکھ بھال، رہائش، اور اہم دستاویزات جیسے کہ راشن کارڈ، آدھار کارڈ، پنشن اور روزگار کے مواقع فراہم کیے ہیں۔

یہ تمام اقدامات ایک ایک کرکے بے حد اہمیت رکھتے ہیں، کیونکہ یہ عام لوگوں کی زندگیوں میں براہ راست بہتری لاتے ہیں اور انہیں خود مختار بناتے ہیں۔ اس مہم کا مقصد صرف غربت کا خاتمہ نہیں بلکہ لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانا بھی ہے۔

عالمی منظر نامہ: غربت کے خلاف جنگ

کیرالہ کی یہ کامیابی عالمی منظر نامے پر بھی ایک مثال قائم کرتی ہے۔ مختلف ممالک میں غربت کے خاتمے کے لئے کی جانے والی کوششیں مختلف طریقوں سے کی جا رہی ہیں۔ چین کی حکومت بھی اپنے ملک میں غربت کے خاتمے میں خاصی کامیاب رہی ہے۔ چین نے خود 2012 سے 2020 کے دوران تقریباً 800 ملین لوگوں کو غربت سے نکالا ہے۔

اس کے برعکس، کیرالہ کی ترقی کی کہانی اس بات کا ثبوت ہے کہ مقامی حکومتیں بھی اپنے عوام کی بھلائی کے لئے موثر کوششیں کر سکتی ہیں۔

کیرالہ کی مستقبل کی حکمت عملی

کیرالہ کی حکومت نے مستقبل کے لئے بھی کئی اہم منصوبے وضع کیے ہیں تاکہ یہ کامیابی مستقل رہے۔ حکومت کو چاہئیے کہ وہ اقداماتی پروگراموں کو مزید وسعت دے اور ان کی مانیٹرنگ کو یقینی بنائے۔ اسی طرح، نئے منصوبوں کے تحت نئی نسل کی تعلیم، صحت کی دیکھ بھال، اور روزگار کی فراہمی کے مواقع بڑھانے کے لئے بھی حکمت عملی بنائی جا سکتی ہے۔

کیرالہ کی حکومت کی یہ کوششیں دیگر ریاستوں کے لئے بھی ایک ماڈل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اگر دیگر ریاستیں بھی کیرالہ کی طرح بھرپور منصوبہ بندی کریں اور عوامی فلاح و بہبود کے لئے سنجیدگی سے کام کریں تو ہندوستان کا پورا معاشرہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔

کیرالہ کا انسانی ترقی کا ماڈل

کیرالہ کی یہ مثال ہمیں سکھاتی ہے کہ اگر حکومت عوام کی فلاح و بہبود کو اپنے ایجنڈے کا حصہ بنائے تو کوئی بھی چیلنج حل ہو سکتا ہے۔ برادرانہ تعاون اور عوامی شعور کو بڑھانے سے عوامی مسائل کو حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

چین کے سفیر کی طرف سے کیرالہ کی کامیابی کو تسلیم کرنا اسی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ غربت کے خاتمے میں مقامی حکومت کو بہتر کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر کیرالہ اپنے اس ماڈل کو جاری رکھتا ہے تو یہ یقیناً دوسرے ممالک کے لئے بھی ایک راہنمائی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

کیرالہ کے وزیر اعلیٰ پنارائی وجین کی قیادت نے عوامی فلاح و بہبود کے لئے ایک مثالی ماڈل قائم کیا ہے، جس کا اثر عوامی زندگی پر پڑتا ہے۔ حکومت نے جو تبدیلیاں کی ہیں، ان کا مقصد عوام کی زندگی میں بہتری لانا ہے۔ یہ اقدامات ایک خوشحال اور ترقی یافتہ معاشرے کی تشکیل کی جانب بڑھتے ہوئے قدم ہیں۔

آگے کا راستہ

اب سوال یہ ہے کہ کیرالہ اس کامیابی کو کس طرح برقرار رکھے گا؟ حکومت کو چاہیئے کہ وہ نہ صرف موجودہ کامیابیوں کا تجزیہ کرے بلکہ مستقبل کی چالیں بھی طے کرے۔ ایسے اقدامات جن سے عوام کی زندگی بہتر ہو سکے، ان کو مزید فروغ دینا ہوگا۔

کیرالہ کی حکومت کے لئے اہم ہے کہ وہ اپنے آبادی کے تمام طبقات کے لئے مواقع فراہم کرے۔ اس کے علاوہ، سماجی انصاف اور انسانی حقوق کی حفاظت بھی ضروری ہے۔ یہ اقدامات پورے ہندوستان کے لئے ایک روشن مثال قائم کرتے ہیں کہ کس طرح ایک ریاست اپنے عوام کے حقوق اور فلاح و بہبود کے لئے کام کرسکتی ہے۔

چین کے سفیر کی جانب سے کیرالہ کی کامیابی کا ذکر کرنا ایک مثبت پیغام ہے جو نہ صرف کیرالہ بلکه پورے ہندوستان کی ترقی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ غربت کے خاتمے کی یہ مہم یقیناً ایک درست سمت کی جانب بڑھتا ہوا قدم ہے۔

اگر دیگر ریاستیں بھی کیرالہ کی طرح کوشش کریں تو یقیناً ملک میں غربت کا خاتمہ ممکن ہو سکتا ہے۔ کیرالہ کی حکومت کی یہ کامیابی ایک مثال بنی رہے گی اور یہ دکھائے گی کہ اگر ارادہ مضبوط ہو تو کسی بھی چیلنج کا سامنا کیا جا سکتا ہے۔

اندرا گاندھی کو کانگریس کا خراجِ تحسین: مسز گاندھی کی یادیں تاریخ کو زندہ کرتی ہیں

0
<b>اندرا-گاندھی-کی-یاد-میں-کانگریس-کی-قیادت-کا-خراجِ-تحسین:-راہل-گاندھی-کا-پیغام،-جو-تاریخ-کو-دوبارہ-زندہ-کرتا-ہے</b>
اندرا گاندھی کی یاد میں کانگریس کی قیادت کا خراجِ تحسین: راہل گاندھی کا پیغام، جو تاریخ کو دوبارہ زندہ کرتا ہے

کانگریس نے ’شکتی استھل‘ پر اندرا گاندھی کی جدوجہد اور خدمات کو خراج تحسین پیش کیا

31 اکتوبر کو سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کی برسی کے موقع پر، کانگریس کی اعلیٰ قیادت نے نئی دہلی کے معروف مقام ’شکتی استھل‘ پر خراجِ تحسین پیش کیا۔ اس تقریب میں پارٹی کی پارلیمانی پارٹی کی چیئر پرسن سونیا گاندھی، قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی اور کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے شرکت کی۔ اس موقع پر انہوں نے اندرا گاندھی کی خدمات اور ان کی قربانیوں کو یاد کیا۔

اندرا گاندھی کی یاد میں یہ تقریب اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ہندوستان کی تاریخ میں ایک اہم شخصیت رہی ہیں جنہوں نے سیاسی میدان میں اہم کردار ادا کیا۔ سونیا گاندھی، راہل گاندھی اور ملکارجن کھڑگے نے اندرا گاندھی کی آخری آرام گاہ پر گلے میں پھول ڈال کر انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ سونیا نے اندرا گاندھی کی غیر معمولی بصیرت اور ملک کے تئیں ان کی وابستگی کو سراہا۔

راہل گاندھی کا پیغام: اندرا گاندھی کی قیادت آج بھی ہماری رہنمائی کرتی ہے

راہل گاندھی نے اپنے آفیشل ایکس ہینڈل پر ایک پیغام میں کہا، "ہندوستان کی اندرا — ہر طاقت کے سامنے نڈر، پُرعزم اور اٹل۔ دادی، آپ نے سکھایا کہ ہندوستان کی عزت اور وقار سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ آپ کا حوصلہ، حساسیت اور حب الوطنی آج بھی میرے ہر قدم کی رہنمائی کرتی ہے۔” اس پیغام میں وہ اپنی دادی کی عظیم خدمات کا ذکر کرتے ہیں اور ان کی قیادت کے اثرات کو اجاگر کرتے ہیں۔

https://x.com/RahulGandhi/status/1064365974156177410

ملکارجن کھڑگے نے بھی اندرا گاندھی کے الفاظ کا حوالہ دیا، "جب تک مجھ میں سانس ہے، تب تک خدمت ہی نہیں جائے گی۔” کھڑگے نے کہا کہ اندرا گاندھی نے اپنی مضبوط قیادت سے انفرادی اور اجتماعی ترقی میں تاریخی کردار ادا کیا۔

اندرا گاندھی کی سیاست: ایک مضبوط رہنما کا سفر

اندرا گاندھی کو دنیا بھر میں ‘آئرن لیڈی آف انڈیا’ یا ‘خاتونِ آہن’ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ انہوں نے 1966 سے 1977 اور پھر 1980 سے 1984 تک ملک کی وزیر اعظم کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ ان کے دور میں اہم سیاسی واقعات پیش آئے جن میں 1971 میں پاکستان کے خلاف جنگ شامل تھی، جس کے نتیجے میں بنگلہ دیش کا قیام عمل میں آیا۔

اندرا گاندھی کی قیادت میں بھارت نے کئی اہم کامیابیاں حاصل کیں۔ ان کی سیاسی بصیرت ان کی حکمت عملیوں میں جھلکتی تھی، جس کے باعث وہ ایک طاقتور رہنما بنی رہیں۔ ان کی قیادت نے قومی یکجہتی اور ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔

1984 میں 31 اکتوبر کو اندرا گاندھی کو اپنے ہی محافظوں کے ہاتھوں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ یہ واقعہ تاریخ کا ایک المناک واقعہ ہے جس نے نہ صرف ان کے خاندان کو متاثر کیا بلکہ پورے ملک میں ایک صدمہ پیدا کیا۔

اندرا گاندھی کی وراثت: آج کی نسل کے لئے ایک مثال

اندرا گاندھی کی زندگی اور کارنامے آج کی نسل کے لئے ایک مثال ہیں۔ ان کی جرات، بصیرت اور عوامی خدمات نے کئی لوگوں کو متاثر کیا ہے۔ کانگریس کے رہنما ان کی قیادت کو ہمیشہ یاد کرتے ہیں اور ان کی کہانیوں کے ذریعے نئی نسل کو تحریک دیتے ہیں۔

ملکارجن کھڑگے نے کہا، "ملک کی کروڑوں عوام ہمیشہ اندرا گاندھی سے تحریک حاصل کرتی رہیں گی۔” یہ الفاظ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اندرا گاندھی کی زندگی کا پیغام آج بھی زندہ ہے، خاص طور پر ان لوگوں کے لئے جو سیاست میں قدم رکھنا چاہتے ہیں۔

آج کا پیغام: اندرا گاندھی کی یاد میں تجدید عزم

اس دن کا اہم پیغام یہ ہے کہ ہمیں اندرا گاندھی کی جدوجہد اور قربانیوں کو یاد رکھنا چاہئے اور ان کی مثال پر چلنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ ان کی زندگی کا مقصد نہ صرف ملک کی خدمت کرنا تھا بلکہ یہ بھی کہ عوام کے حقوق کی حفاظت کی جائے۔

کانگریس کی قیادت نے اپنے پیغامات کے ذریعے یہ واضح کیا ہے کہ اندرا گاندھی کی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ ان کی قیادت میں جوتی بھی راہنمائی فراہم کی گئی، آج بھی اس کی اہمیت موجود ہے۔

آخر میں، یہ کہنا ضروری ہے کہ اندرا گاندھی کی زندگی اور ان کے کام کی داستانیں ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ مضبوط قیادت اور عزم کے ساتھ قوم کی خدمت ممکن ہے۔ ان کی زندگی کی مثالیں ہمیں حوصلہ دیتی ہیں کہ ہم بھی اپنے وطن کی ترقی کے لئے کام کریں۔

آگے کا راستہ: اندرا گاندھی کی یاد میں نئی نسل کی ذمہ داری

آگے بڑھتے ہوئے، نئی نسل کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اندرا گاندھی کی خدمات کو نہ صرف یاد رکھنا بلکہ ان کی طرح اپنے ملک کی خدمت کے لئے عزم پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔ آج کے نوجوانوں کے لئے یہ وقت ہے کہ وہ اپنی آواز بلند کریں اور ملک کے مسائل کا حل تلاش کریں۔

جے این یو میں تشدد کا واقعہ: طلبہ گروپوں کے درمیان جھڑپ کی حقیقت

0
jnu-students-union-scuffle-jhadap
جے این یو میں تشدد کا واقعہ: طلبہ گروپوں کے درمیان جھڑپ کی حقیقت

دہلی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) ایک بار پھر تشدد اور الزامات کی زد میں آئی ہے۔ بدھ کے روز یونیورسٹی کے اسکول آف سوشل سائنسز میں ایک جنرل باڈی میٹنگ کے دوران دو طالب علم گروپوں کے درمیان شدید جھڑپ ہوئی، جس کے نتیجے میں کئی طلبہ، جن میں طالبات بھی شامل ہیں، زخمی ہو گئے۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب دونوں گروپوں نے ایک دوسرے پر تشدد کرنے اور توہین آمیز تبصرے کرنے کا الزام لگایا۔

واقعہ کی تفصیلات

یہ جھڑپ جے این یو کے اسکول آف سوشل سائنسز میں ہوئی، جہاں اسکول کی جنرل باڈی کی میٹنگ کا انعقاد کیا جا رہا تھا۔ ایس ایف آئی (سٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا) اور اے آئی ایس اے (آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن) جیسے بائیں بازو سے وابستہ طلبہ تنظیموں نے ایک دوسرے پر تشدد کرنے اور بی جے پی کی طلبا شاخ اے بی وی پی کے ارکان پر الزام لگایا کہ انہوں نے اس میٹنگ کو پرتشدد بنا دیا۔

اے بی وی پی نے دعویٰ کیا کہ جھڑپ اُس وقت شروع ہوئی جب بائیں بازو کے ایک کونسلر نے اتر پردیش اور بہار کے طلباء کے بارے میں توہین آمیز تبصرہ کیا۔ دونوں طرف کی تنظیموں کے رہنما ایک دوسرے پر الزامات لگا رہے ہیں۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اے بی وی پی نے اس میٹنگ کے دوران ہنگامہ کرنے اور طالبات سمیت دیگر طلبہ کو تشدد پر اکسانے کے لیے ایک منصوبہ بنایا تھا۔

تشدد کے واقعات اور الزامات

اے بی وی پی کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ میٹنگ میں ایک بائیں بازو کے کونسلر نے اتر پردیش اور بہار کے طلباء کی توہین کی، جس کے بعد ماحول کشیدہ ہو گیا۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ہنگامہ کے دوران دیگر ناراض طلبہ بھی شامل ہو گئے، جس کے نتیجے میں طلبہ آپس میں متصادم ہو گئے۔

اس جھڑپ کے نتیجے میں کئی طلباء زخمی ہوگئے، جن میں طالبات بھی شامل تھیں۔ جے این یو اسٹوڈنٹس یونین کے جوائنٹ سکریٹری ویبھو مینا نے اس واقعہ پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اختلاف رائے ہونا ایک فطری بات ہے، لیکن اختلاف کے جواب میں تشدد اور علاقائی منافرت پھیلانا جمہوریت کے خلاف ہے۔

حکومتی ردعمل

اس واقعہ کے بعد، یونیورسٹی انتظامیہ نے ان واقعات کی تحقیقات کا آغاز کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، انتظامیہ نے طلبہ تنظیموں سے درخواست کی ہے کہ وہ اس معاملے میں تحمل کا مظاہرہ کریں اور یونیورسٹی کے ماحول کو خراب نہ کریں۔ ایسے وقت میں جب ملک بھر میں طلبہ کی تحریکیں جاری ہیں، اس واقعہ نے ایک نئے تنازع کو جنم دیا ہے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جے این یو کی تاریخ میں یہ پہلی بار نہیں ہوا کہ طلبہ تنظیموں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ ماضی میں بھی ایسے واقعات سامنے آئے ہیں، جن میں طلبہ کی سیاسی وابستگیوں نے تشدد کو جنم دیا۔

متعلقہ خبریں

جے این یو کی اس جھڑپ کے بعد سے ملک کے مختلف مقامات پر طلبا کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازعات کی مزید خبریں بھی سامنے آئیں ہیں۔ بی بی سی کے مطابق، ایسی صورتحال نے طلبہ کی سیاست میں نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں کہ کیا یہ اختلافات مستقبل میں بھی ایسے ہی جاری رہیں گے۔

محترمہ دیکھو کے مطابق، طلبہ کی جماعتوں اور یونیورسٹی کی انتظامیہ کو چاہئے کہ وہ اس معاملے میں سنجیدگی دکھائیں اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے سخت اقدامات کریں۔

یہ واقعہ ایک اہم سوال بھی اٹھاتا ہے کہ کیا طلبہ کی تنظیموں کو اپنی فعالیت کے دوران اپنی ذمہ داریوں کا بھی خیال رکھنا چاہئے؟ کیا وہ اختلافات کو بہتر طریقے سے حل کر سکتے ہیں یا پھر ایسے تشدد آمیز واقعات ان کی کوئی عزم نہیں؟

جیسا کہ خبر میں ذکر کیا گیا ہے، مختلف رپورٹوں میں بھی اس جھڑپ کی تفصیلات پر روشنی ڈالی گئی ہے، جس میں طلبہ کے حقوق، ان کی آزادی، اور جمہوریت کے اصولوں کی حفاظت کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

آگے کا راستہ

اس واقعہ کے بعد، یہ ضروری ہے کہ طلبہ تنظیمیں آپس میں بات چیت کا راستہ اپنا کر ایسی صورتحال سے بچیں جس سے تعلیمی ماحول متاثر ہو۔ اگرچہ اختلافات کو حل کرنا ایک چیلنج ہے، لیکن اس کے لیے اُمید کی کرن ابھی موجود ہے۔ طلبہ کو چاہئے کہ وہ مفاہمت اور گفتگو کے اصولوں پر عمل کریں تاکہ ان کا اتحاد مضبوط ہو اور ایسے واقعات دوبارہ رونما نہ ہوں۔

یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ طلبہ کی سیاست میں بہتری کی ضرورت ہے۔ اگرچہ اختلافات فطری ہیں، لیکن ان کے حل کے لیے ایک مثبت رویہ اپنانا ضروری ہے۔ آنے والے دنوں میں اس واقعہ کے بعد کے حالات کو دیکھنا ہوگا کہ کیا طلبہ اپنی تنظیمی وابستگیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہیں یا مزید جھڑپوں کی راہ لیتے ہیں۔

بدتمیز بچہ یا ہمارا آئینہ؟ کے بی سی کے ایک منظر نے نسل نو کی تربیت پر سوال اٹھا دیے

0
Badtameez bacha ya hamara aaina? KBC ke aik manzar ne nasal-e-nau ki tarbiyat par sawal
بدتمیز بچہ یا ہمارا آئینہ؟ کے بی سی کے ایک منظر نے نسل نو کی تربیت پر سوال

جب کون بنے گا کروڑ پتی کی معصوم کرسی پر بیٹھا بچہ علم نہیں، انا کا تماشا دکھانے لگے

سوشل میڈیا پر وائرل ایک کلپ نے واضح کر دیا کہ آج کے بچے علم سے زیادہ خوداعتماد ہیں، مگر ادب اور عاجزی سے محروم۔ میں اب ٹیلی ویژن نہیں دیکھتا۔ وہاں دیکھنے کے لائق کچھ باقی نہیں رہا۔ جو کبھی آگاہ کرتا تھا، اب محض تفریح دیتا ہے، اور جو کبھی روشنی پھیلاتا تھا، اب اداکاری کرتا ہے۔ نیوز اینکر چیختے ہیں، مباحثے ہنگاموں میں بدل جاتے ہیں، اور "ریئلٹی شوز” جذبات کو یوں بیچتے ہیں جیسے کوئی چیز فروخت کر رہے ہوں۔ مگر ستم یہ ہے کہ ہم ٹی وی دیکھنا چھوڑ بھی دیں تو ٹی وی ہمیں نہیں چھوڑتا۔ سوشل میڈیا شور کو خود چل کر ہمارے فون تک لے آتا ہے۔

اسی طرح میری نظر کون بنے گا کروڑپتی کے ایک وائرل کلپ پر پڑی۔ ایک کم عمر بچہ، بمشکل دس سال کا، امیتابھ بچن کے سامنے بیٹھا تھا، لہجے میں ایسی نخوت کہ بڑے بھی شرما جائیں۔ بولا، "میں رولز جانتا ہوں، مت سمجھائیے۔” پھر اگلے سوال پر کہا، "مجھے آپشن کی ضرورت نہیں، میں جواب جانتا ہوں۔” اور جب غلط جواب دیا تو فخر سے کہا، "لاک کر دیجیے سر، چار تالے لگا دیجیے۔” قوم پہلے ہنسی، پھر غصے میں آئی، اور پھر اخلاقیات سکھانے لگی۔ مگر اس ہنگامے کے نیچے ایک آئینہ چھپا ہے، وہ چہرہ جو دراصل ہمارا اپنا ہے۔

یہ بچہ کوئی استثنا نہیں، بلکہ اس نسل کی علامت ہے جو ماہرینِ نفسیات کے مطابق "سِکس پاکٹ سنڈروم” کا شکار ہے۔ چھ جیبیں، یعنی والدین، نانا نانی، دادا دادی سب اپنی محبت اور دولت ایک ہی بچے پر نچھاور کر دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ وہ فراوانی میں پلتا ہے مگر شکرگزاری اور صبر سے ناآشنا رہتا ہے۔ کماتا کچھ نہیں مگر حکم سب پر چلاتا ہے۔ احترام اس کے نزدیک کمانے کی چیز نہیں بلکہ خودبخود ملنے والا حق ہے۔ آج کی جین زی اور اس کے بعد آنے والی "الفا” نسل ڈیجیٹل دور کی اولاد ہے۔ یہ کتابیں نہیں پڑھتے، سکرول کرتے ہیں۔ سنتے نہیں، نشر کرتے ہیں۔ سیکھتے نہیں، دکھاتے ہیں۔ ان کے ہیرو لکھنے والے نہیں، پوسٹ کرنے والے ہیں۔ انہیں سکھایا گیا ہے کہ اعتماد سب کچھ ہے، لہٰذا وہ اسے دکھاتے ہیں، چاہے کھوکھلا ہی کیوں نہ ہو۔ نرمی ان کے نزدیک کمزوری، عاجزی ایک خامی، اور خاموشی گناہ بن چکی ہے۔ یہ صرف بدتمیزی نہیں بلکہ ایک عہد کی بیماری ہے، یعنی مصنوعی خوداعتمادی کا زمانہ۔

ہر لائک، ہر کمنٹ، ہر فالور انہیں یہ یقین دلاتا ہے کہ وہ اہم ہیں۔ کے بی سی کا بچہ دراصل امیتابھ بچن سے نہیں، اپنے فون کے اندر موجود فرضی ناظرین سے بات کر رہا تھا۔ وہ گستاخ نہیں بننا چاہتا تھا، وہ صرف توجہ حاصل کر رہا تھا۔

قصور صرف بچے کا نہیں۔ قصور ہمارا ہے۔ ان بڑوں کا جو تعلیم کو تربیت سمجھ بیٹھے، اور یہ بھول گئے کہ اسکول اخلاق نہیں سکھاتے، گھروں کے لہجے سکھاتے ہیں۔ ہم نے وہ نسل پیدا کی جو بولتی بہت ہے مگر سنتی نہیں، معلومات بانٹتی ہے مگر اخلاق نہیں۔ میڈیا بھی بری الذمہ نہیں۔ وہ ذہانت کو عقل پر، شوخی کو وقار پر، اور "وائرل” لمحے کو "قابلِ قدر” سبق پر ترجیح دیتا ہے۔ امیتابھ بچن نے اس لمحے جو صبر و سکون کا مظاہرہ کیا، وہ ہزار خطبوں سے بڑھ کر تھا۔ انہوں نے کہا، "کبھی کبھی بچے زیادہ اعتماد میں غلطیاں کر بیٹھتے ہیں۔” یہ جملہ دراصل پوری نسل کے لیے نصیحت ہے۔ سچ یہ ہے کہ ہمارے بچے معلومات میں امیر، مگر غور و فکر میں غریب ہو چکے ہیں۔ ان کے پاس سب کچھ ہے، سوائے رُکنے کی صلاحیت کے۔ کے بی سی کا یہ واقعہ کسی بچے کی بدتمیزی نہیں، بلکہ اس معاشرے کی بے سمتی کا ثبوت ہے جو شور کو شعور پر ترجیح دیتا ہے۔ ہم ایسی نسل پال رہے ہیں جن کی چھ جیبیں بھری ہوئی ہیں مگر ضمیر خالی ہے۔ ہم انہیں جیتنا سکھا رہے ہیں، ہارنا نہیں۔ ہم ان میں جذبہ پیدا کر رہے ہیں، احساس نہیں۔

ایک دن شاید ہمیں احساس ہوگا کہ مقصد کروڑپتی بنانا نہیں بلکہ انسان بنانا ہے۔ کیونکہ اصل سوال یہ نہیں کہ کون بننا چاہتا ہے کروڑپتی، بلکہ یہ ہے کہ کون یاد رکھتا ہے انسان بننا۔

باغپت میں امام کی اہلیہ اور دو بیٹیوں کے بہیمانہ قتل کے پیچھے فرقہ وارانہ سازش کے شبہات

0
Baghpat mein Imaam ki ahliyah aur do betiyon ke baheemana qatl ke peeche firqawarana sazish ke shubhaat
Baghpat mein Imaam ki ahliyah aur do betiyon ke baheemana qatl ke peeche firqawarana sazish ke shubhaat

باغپت میں امام کی اہلیہ اور دو بیٹیوں کا بہیمانہ قتل: فرقہ وارانہ سازش کے شبہات نے ہلا کر رکھ دیا

اتر پردیش کے ضلع باغپت کے گنگنولی گاؤں میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا ہے جہاں ایک امام کی اہلیہ اور دو معصوم بیٹیوں کو بے رحمی سے قتل کر دیا گیا۔ ابتدائی طور پر یہ واقعہ ایک ناراض طالب علم کے انتقام کا نتیجہ بتایا جا رہا ہے، مگر مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس کے پیچھے شرپسند عناصر اور فرقہ وارانہ نفرت کارفرما ہو سکتی ہے۔

باغپت کے گنگنولی گاؤں میں قرآن کے معلم مفتی ابراہیم کی زندگی اس وقت اندوہناک موڑ پر پہنچ گئی جب ان کی اہلیہ اور دو بیٹیوں کو ایک نوجوان شاگرد نے مبینہ طور پر قتل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ ریحان نامی یہ طالب علم مفتی ابراہیم سے سختی کے باعث ناراض تھا اور بدلہ لینے کے ارادے سے ان کے گھر پہنچ گیا۔

اطلاعات کے مطابق ریحان نے پہلے مسجد کے سی سی ٹی وی فوٹیج حذف کرنے کی کوشش کی، پھر رات کے وقت امام کی اہلیہ اسرانہ پر ہتھوڑے سے حملہ کیا۔ شور سن کر پانچ سالہ بیٹی جاگ اٹھی تو اس نے بھی بچی کو نہیں بخشا اور آخر میں سب سے چھوٹی بیٹی کو بھی قتل کر دیا۔ تین معصوم جانوں کے ضائع ہونے سے پورا گاؤں صدمے میں ڈوب گیا ہے۔

پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے گاؤں میں سیکیورٹی بڑھا دی ہے اور ملزم کی تلاش کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں۔ مقامی رہنماؤں نے واقعے کی شدید مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ قاتل کو جلد از جلد گرفتار کر کے انصاف فراہم کیا جائے۔

دینی رہنماؤں نے اس سانحے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ واقعہ تربیت اور سماجی توازن پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔ ان کے مطابق بچوں کی تربیت میں سختی کے ساتھ ساتھ محبت، ہمدردی اور سمجھ بوجھ بھی ضروری ہے تاکہ نفرت اور انتقام جیسے جذبات پیدا نہ ہوں۔

یہ سانحہ پورے معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک کم عمر طالب علم اتنی منظم منصوبہ بندی کے ساتھ اس قدر سفاکانہ واردات کیسے انجام دے سکتا ہے؟ کیا یہ صرف ذاتی انتقام تھا یا کسی بڑی سازش کا حصہ؟

مقامی لوگوں اور سماجی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ممکن نہیں کہ ایک بچہ اکیلا اتنی منصوبہ بندی سے تین قتل کر دے۔ کچھ افراد کا خیال ہے کہ اس کے پیچھے شرپسند عناصر کا ہاتھ ہو سکتا ہے جنہوں نے فرقہ وارانہ نفرت کو ہوا دینے کے لیے اس واقعے کو انجام دلایا۔

پولیس نے واقعے کی تمام پہلوؤں سے تفتیش شروع کر دی ہے، اور یہ امکان رد نہیں کیا جا رہا کہ اس بہیمانہ قتل کے پیچھے فرقہ وارانہ ذہنیت رکھنے والے عناصر سرگرم ہوں۔

یہ واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ معاشرے میں برداشت، توازن اور محبت کی فضا قائم کرنا کتنا ضروری ہے، تاکہ کوئی معصوم زندگی انتقام یا نفرت کی بھینٹ نہ چڑھے۔

سوامی چیتنیانند سرسوتی گرفتار: طالبات کے ساتھ جنسی استحصال کا سنسنی خیز معاملہ

0
<b>سوامی-چیتنیانند-سرسوتی-کی-گرفتاری:-دہلی-کے-طالبات-کے-ساتھ-جنسی-استحصال-کا-سنسنی-خیز-معاملہ</b>
سوامی چیتنیانند سرسوتی کی گرفتاری: دہلی کے طالبات کے ساتھ جنسی استحصال کا سنسنی خیز معاملہ

جنسی استحصال کے ملزم کی گرفتاری: دہلی پولیس کی کاروائی

دہلی کے ایک پرائیویٹ مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ میں طالبات کے ساتھ جنسی استحصال کے معاملے میں فرار ملزم سوامی چیتنیانند سرسوتی کو دہلی پولیس نے آگرہ سے گرفتار کر لیا ہے۔ یہ گرفتاری اس وقت ہوئی جب دہلی پولیس نے ملزم کی تلاش میں شدت اختیار کر لی تھی، خاص طور پر اس کی آخری لوکیشن آگرہ میں ملی تھی۔ سوامی چیتنیانند سرسوتی، جس کی عمر 62 سال ہے، پر الزام ہے کہ انہوں نے طالبات کے ساتھ جنسی استحصال کیا اور انہیں دھمکایا۔

معلومات کے مطابق، سوامی چیتنیانند کی گرفتاری آج رات تقریباً 3:30 بجے ایک ہوٹل سے کی گئی۔ اس کو چند دنوں سے آگرہ میں چھپے ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں، جس کے بعد پولیس نے وہاں چھاپے مارنے کا فیصلہ کیا۔ فی الحال، ملزم سے معاملے میں مزید تفتیش کی جا رہی ہے اور اس کا طبی معائنہ بھی کیا جا رہا ہے تاکہ اس کے کیس کے سلسلے میں مزید ثبوت اکٹھے کیے جا سکیں۔

واقعات کا پس منظر اور ملزم کے خلاف الزامات

یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایک طالبہ، جو اقتصادی طور پر کمزور طبقے سے تعلق رکھتی ہے، نے مارچ 2025 میں شکایت درج کرائی۔ اس شکایت میں اس نے یہ الزام لگایا تھا کہ سوامی چیتنیانند سرسوتی نے اس سے 60,000 روپے چندہ کی درخواست کی اور اس کے بعد اضافی رقم کا مطالبہ کیا۔ ملزم نے طالبہ کو یہ بھی کہا کہ اگر وہ یہ رقم نہیں دیتی تو اسے انسٹی ٹیوٹ میں بغیر تنخواہ کے کام کرنا ہوگا یا کالج چھوڑنا ہوگا۔

دہلی کے جنوب مغربی علاقے میں واقع مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ کی انتظامیہ نے بتایا کہ 30 سے زائد طالبات کے ساتھ ایک ورچوئل میٹنگ کے دوران، کئی طالبات نے سوامی چیتنیانند کی طرف سے جنسی استحصال، چھیڑ چھاڑ، اور دھمکیوں کے بارے میں آگاہ کیا، جس کے نتیجے میں 4 اگست 2023 کو چیتنیانند کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی۔

پولیس کی کاروائی اور گرفتاری کی تفصیلات

پولیس نے بتایا کہ سوامی چیتنیانند طالبات کو اپنے کوارٹر میں آنے کے لئے مجبور کرتا تھا اور نہ آنے کی صورت میں انہیں ناکام کرنے کی دھمکی دیتا تھا۔ اس کے علاوہ، اس نے کچھ خواتین کو بھی اپنی ٹیم میں شامل کیا تھا جو کالج کی طالبات کی چیٹ ڈیلیٹ کرنے میں مدد کرتی تھیں۔ پولیس نے یہ بھی انکشاف کیا کہ چیتنیانند طالبات کو لندن گھمانے کا لالچ دیتا تھا اور انہیں یقین دلاتا تھا کہ وہ اپنے پیسوں کے بغیر سفر کر سکتی ہیں۔

ملزم نے دہلی کی ایک عدالت میں اپنے خلاف لگے الزامات کے حوالے سے ضمانت کی درخواست دائر کی تھی، لیکن جمعہ کو عدالت نے اس کی عبوری ضمانت کی درخواست مسترد کر دی۔ ایڈیشنل سیشن جج ہردیپ کور نے کہا کہ تحقیقات ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں اور پولیس کی یہ ضرورت ہے کہ وہ دھوکہ دہی، سازش، اور غیر ضروری مالی استعمال کے ریکٹ کی کھوج کے لئے ملزم سے تفتیش کرے۔

آنے والے دنوں میں کیا توقع کی جائے؟

یہ معاملہ اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ تعلیمی اداروں میں جنسی استحصال کی صورت حال کتنی سنگین ہو سکتی ہے، خاص طور پر جب طاقتور افراد اپنے عہدوں کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ یہ بھی واضح ہے کہ متاثرہ طالبات نے اپنی آواز اٹھانے کی ہمت کی، جس نے اس کیس کی جانچ کا آغاز کیا۔

دہلی پولیس کی کاروائیاں اور تحقیقات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ متاثرہ افراد کی آوازوں کو سنا جا رہا ہے اور ان کے حقوق کا تحفظ کیا جا رہا ہے۔ اس معاملے کے دوران حکومت اور تعلیمی اداروں کو بھی یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ وہ ایسے مسائل کی روک تھام کے لئے کیا اقدامات کر سکتے ہیں۔

بالآخر، اس کیس کے نتائج صرف ملزم کی سزا تک ہی محدود نہیں رہیں گے بلکہ یہ ایک مثال قائم کریں گے کہ جنسی استحصال کے خلاف آواز اٹھانا اور انصاف طلب کرنا ممکن ہے۔

اگلے مراحل کیا ہوں گے؟

اس کیس کے بعد، ہمیں دیکھنا ہوگا کہ کیا مزید طالبات اپنی داستانیں پیش کرتی ہیں۔ عام طور پر، جب اس طرح کے معاملات سامنے آتے ہیں تو یہ متاثرہ افراد کے لئے ایک نیا موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ اپنی کہانیاں سنائیں اور دیگر متاثرہ افراد کو آواز بلند کرنے کی ترغیب دیں۔

مزید یہ کہ تعلیمی اداروں کے لئے یہ ایک اہم لمحہ ہوگا کہ وہ اپنے اندر کیا تبدیلیاں لاتے ہیں تاکہ ایسی صورت حال کی روک تھام کی جا سکے۔ انصاف کی یہ لڑائی صرف اس کیس کی حد تک نہیں رہے گی بلکہ یہ ایک وسیع تر سماجی بیانیہ تشکیل دے گی جس میں خواتین کے حقوق اور تحفظ کے بارے میں شعور بڑھانے کی ضرورت ہوگی۔

مختلف پہلو

اس کیس کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ اس میں شامل افراد کی نفسیاتی حالت پر غور کرنا بھی انتہائی اہم ہے۔ جن طالبات نے اس صورتحال کا سامنا کیا، ان کی حالت زار کا اندازہ لگانا بہت ضروری ہے۔ انہیں نہ صرف قانونی مدد کی ضرورت ہوگی بلکہ نفسیاتی مدد بھی فراہم کی جانی چاہئے تاکہ وہ اس تجربے سے گزرنے کے بعد اپنے آپ کو بحال کر سکیں۔

مزید برآں، یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ آیا اس کیس کے بعد دیگر اداروں میں بھی خواتین کے خلاف ہونے والے استحصال کی روک تھام کے لئے نئی پالیسیز متعارف کرائی جائیں گی۔

کیا یہ ایک نئی شروعات ہے؟

یہ معاملہ کئی طرح کی تحریکات کا آغاز کر سکتا ہے۔ جس طرح کے مسائل کا سامنا خواتین کو تعلیمی اداروں میں ہوتا ہے، ان کے خاتمے کے لئے فروغ دینے والی پالیسیز کی ضرورت محسوس کی جانی چاہئے۔ اس کیس نے اس بات کا بھی پتہ دیا ہے کہ ہم سب کو ایک دوسرے کی مدد کرنی ہوگی تاکہ ہم ایک ایسے سماج کی تشکیل کر سکیں جہاں ہر فرد کو محفوظ محسوس ہو۔

یہ ایک لمحہ ہے سب کے لئے کہ وہ اس مسئلے کی سنگینی پر غور کریں اور اپنی آواز اٹھائیں تاکہ کوئی بھی فرد اس طرح کے استحصال کا شکار نہ ہو۔

ملزم کی گرفتاری کے بعد، اس کیس کی مزید تفصیلات بھی سامنے آ سکتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، ہم امید کرتے ہیں کہ اس معاملے میں انصاف ملے گا اور متاثرہ طالبات کو اپنی زندگی کے باقی ماندہ سفر میں پر سکون رہنے کا موقع ملے گا۔

ہمیں دیکھنا ہوگا کہ یہ کیس سماجی شعور کو کس طرح بڑھاتا ہے اور خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لئے کیا اقدامات کئے جاتے ہیں۔

ای وی ایم کی گنتی کے لیے اہم تبدیلیاں، ووٹ شماری کے نئے اصول جاری کردیے

0
بہار-انتخابات:-الیکشن-کمیشن-نے-ووٹ-شماری-کے-نئے-اصول-جاری-کردیے،-ای-وی-ایم-کی-گنتی-کے-لیے-اہم-تبدیلیاں
بہار انتخابات: الیکشن کمیشن نے ووٹ شماری کے نئے اصول جاری کردیے، ای وی ایم کی گنتی کے لیے اہم تبدیلیاں

بہار انتخابات میں الیکشن کمیشن نے ووٹ شماری کے نئے اصول جاری کردیے، ای وی ایم کی گنتی کے لیے اہم تبدیلیاں

بہار میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن نے ووٹ شماری کے طریقہ کار میں نمایاں تبدیلیاں کی ہیں۔ جمعرات، 25 ستمبر کو جاری کیے گئے نئے ہدایت نامے میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ ای وی ایم کی گنتی اس وقت تک نہیں کی جائے گی جب تک پوسٹل بیلٹ کی گنتی مکمل نہیں ہو جاتی۔ یہ فیصلہ خاص طور پر بیلٹ کی تعداد کے اضافے کے باعث کیا گیا ہے، جس کا مقصد ووٹوں کی گنتی میں شفافیت لانا اور تاخیر کو کم کرنا ہے۔

پوسٹل بیلٹ کی گنتی کی اہمیت

الیکشن کمیشن کی ہدایت کے مطابق، ای وی ایم یا وی وی پیٹ ووٹوں کی گنتی کا دوسرا اور آخری مرحلہ اس وقت تک شروع نہیں ہوگا جب تک کہ پوسٹل بیلٹ کی گنتی مکمل نہ ہو جائے۔ اس تبدیلی کا مقصد یہ ہے کہ جہاں پوسٹل بیلٹ کی تعداد زیادہ ہو، وہاں مراکز پر اضافی ٹیبلز اور گنتی کرنے والوں کی تعداد بڑھائی جائے، تاکہ ووٹوں کی گنتی کا عمل تیز تر ہو سکے۔ یہ فیصلہ ان لوگوں کے لیے بھی اہم ہے جو اپنی ملازمتوں یا دیگر وجوہات کی بنا پر اپنے علاقے میں ووٹ نہیں ڈال سکتے، جیسے کہ 80 سال سے اوپر کے بزرگ شہری اور معذور افراد۔

پوسٹل بیلٹ کی گنتی پہلے کی طرح اب بھی صبح 8 بجے شروع ہوگی، لیکن اس بار ای وی ایم کی گنتی اس وقت تک نہیں ہوگی جب تک پوسٹل بیلٹ کی مکمل گنتی نہ ہو جائے۔ الیکشن کمیشن نے یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ اگر کسی مرکز پر عارضی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تو اس کی ذمے داری وہاں موجود انتخابی افسران پر ہوگی۔

انتخابی اصلاحات کا حصہ

یہ نئی ہدایتیں الیکشن کمیشن کے حالیہ انتخابی اصلاحات کے سلسلے کا حصہ ہیں۔ گزشتہ 6 ماہ کے دوران کمیشن نے ووٹرز کی سہولت میں اضافے، انتخابی نظام کو مضبوط بنانے، اور تکنیک کے استعمال کو بہتر بنانے کے سلسلے میں متعدد اقدامات کیے ہیں۔ ان اقدامات میں شامل ہیں ووٹرز کے لیے ٹیکنالوجی کا بہتر استعمال اور انتخابی عمل کی شفافیت کو یقینی بنانا۔

پوسٹل بیلٹ کے فوائد

پوسٹل بیلٹ کا نظام خاص طور پر ان لوگوں کے لیے فائدہ مند ہے جو کسی وجہ سے اپنے انتخابی حلقے میں ووٹ نہیں ڈال سکتے۔ اس نظام کے تحت، لوگ پہلے ہی اپنی رائے دہی کا عمل مکمل کر لیتے ہیں۔ اس نظام کے تحت ووٹنگ کو مزید آسان بنایا گیا ہے تاکہ بزرگ اور معذور افراد بھی اس عمل کا حصہ بن سکیں۔

انتخابی عمل کی شفافیت

الیکشن کمیشن نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ووٹ شماری کے عمل میں شفافیت اور یکسانیت لانے کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔ پچھلے انتخابات میں یہ دیکھا گیا کہ پوسٹل بیلٹ کی گنتی کے بعد ای وی ایم کی گنتی کرنے سے نتائج میں تاخیر اور بے قاعدگیوں کا خدشہ بڑھ جاتا تھا، جسے کمیشن نے اب ختم کرنے کا ارادہ کیا ہے۔

معاشرتی اثرات

یہ فیصلے نہ صرف انتخابی عمل کو متاثر کریں گے بلکہ ووٹروں کی رائے دہی کے حوالے سے بھی ایک مثبت تبدیلی لائیں گے۔ جب ووٹوں کی گنتی میں شفافیت ہوگی تو عوام کا الیکشن پر اعتماد بھی بڑھے گا، جو کہ جمہوریت کے لیے ایک خوش آئند بات ہے۔

بہرحال، یہ دیکھا جائے گا کہ آیا الیکشن کمیشن کی یہ نئی ہدایات عملی طور پر کس طرح کام کرتی ہیں اور آیا یہ واقعی ووٹوں کی گنتی کے عمل کو بہتر بناتی ہیں یا نہیں۔

آخری بات

بہار میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن کی نئی ہدایات ایک بڑی تبدیلی کا نشان ہیں۔ یہ تبدیلیاں نہ صرف ووٹروں کے تجربے کو بہتر بنانے کی کوشش ہیں بلکہ جمہوریت کے لیے بھی ایک مثبت قدم ہیں۔ اگلے انتخابات میں ان ہدایتوں کے اثرات دیکھنے کے قابل ہوں گے، اور یہ عوام کی رائے میں بھی بہتری لا سکتی ہیں۔

ایپل کی نئی پیشکش آئی فون 17 کی بھارت میں دھوم اور دکھاوے کا میلہ

0
<b>آئی-فون-17-کا-بے-نظیر-جنون:-دہلی-اور-ممبئی-کی-سڑکوں-پر-خریداروں-کی-بے-پناہ-قطاریں</b>
آئی فون 17 کا بے نظیر جنون: دہلی اور ممبئی کی سڑکوں پر خریداروں کی بے پناہ قطاریں

آئی فون 17 کا بے نظیر جنون: دہلی اور ممبئی کی سڑکوں پر خریداروں کی بے پناہ قطاریں

ایپل نے ایک بار پھر نیا آئی فون لانچ کیا اور بھارت میں ایسا ہنگامہ مچا دیا جیسے کوئی قومی تہوار ہو۔ آئی فون 17 سیریز کی فروخت کے آغاز نے دہلی، ممبئی اور بنگلورو کے نوجوانوں کو ایسی دوڑ میں لگا دیا کہ جیسے مفت میں بانٹ رہے ہوں۔ رات بھر قطار میں لگنا اب بس ایک شوق نہیں، ایک اسٹیٹس اپ ڈیٹ ہے – تاکہ انسٹاگرام پر لکھ سکیں: "فرسٹ ان لائن!”

بھارتی صارفین کا نیا جنون

ساکیت کے سلیکٹ سٹی واک اور ممبئی کے بی کے سی ایپل اسٹور کے باہر ایسے رش لگے جیسے کوئی فلمی اسٹار آ گیا ہو۔ لوگ صبح پانچ بجے سے لائن میں، کچھ نے تو رات ہی سے کمبل ڈال دیا تھا۔ اور پھر جب فون ہاتھ آتا ہے تو سیدھا اسٹوری لگتی ہے: “Finally got it ❤️ #iPhone17 #Blessed”

سچ پوچھیے تو آدھے لوگ فون کے فیچرز کے لیے نہیں بلکہ اپنی سیلفی کے لیے آتے ہیں تاکہ دفتر میں فخر سے کہہ سکیں: "بھائی یہ آئی فون 17 پرو میکس ہے!” اور باقی سال قسطوں کی ادائیگی میں گزاریں۔

آئی فون 17 کے کمالات یا کمال کی قیمت؟

ایپل نے A19 پرو چپ، 6.9 انچ ڈسپلے اور 48MP کے تین کیمرے دیے ہیں، جو کاغذ پر تو بڑے دھماکے لگتے ہیں لیکن آخر میں زیادہ تر لوگ وہی کرتے ہیں جو ہر فون پر کرتے ہیں: واٹس ایپ، انسٹاگرام اور یوٹیوب۔

قیمت کا حال یہ ہے کہ آئی فون 17 کی شروعات 82,900 روپے سے، پرو 1,34,900 اور پرو میکس 1,49,900 تک پہنچ گیا ہے۔ مطلب ایک فون خریدیں اور پھر اگلے بارہ مہینے "مہینے کے آخر میں پیسے کم کیوں ہیں” کی کہانی سنائیں۔

سوشل میڈیا کا کھیل

اصل مزہ تو تب آتا ہے جب لوگ فون لے کر ہر جگہ لوگو چمکاتے پھرتے ہیں۔ جیسے فون سے زیادہ اہم وہ چھوٹا سا کٹا ہوا سیب ہے۔ آپ نے نوٹ کیا ہوگا کہ نیا آئی فون لینے کے بعد لوگ فون کا بیک کور شفاف رکھتے ہیں تاکہ لوگو صاف دکھائی دے۔ ارے بھائی، فون مہنگا ہو یا سستا، فون تو فون ہی ہے، لیکن شو آف الگ ہی سطح پر ہونا چاہیے۔

بھارتی مارکیٹ میں ایپل کا جادو

ایپل جانتا ہے کہ بھارت میں لوگ برانڈ کے لیے جذباتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہر سال ذرا سا نیا فیچر دے کر قیمت بڑھا دیتا ہے اور پھر بھی اسٹور کے باہر لوگ قطار میں کھڑے رہتے ہیں۔ یہ صرف ٹیکنالوجی نہیں، ایک کلچرل فینامینا ہے۔

جو لوگ آئی فون نہ خرید پائیں وہ اگلے دن میمز بناتے ہیں:

  • "گردہ برائے فروخت، آئی فون لینا ہے”

  • "بائیک چھوڑ، آئی فون لے لے”

  • "مہینے بھر میگی کھا کر بھی فون لینا ضروری تھا”

یہ سب ہنسنے کی بات لگتی ہیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ بہت سے لوگ بچت توڑ کر فون خریدتے ہیں اور پھر پورا سال دوستوں کو EMI کی کہانی سناتے ہیں۔

آئی فون 17 نے ایک بار پھر یہ بات ثابت کر دی کہ ایپل صرف فون نہیں بیچتا، وہ خواب بیچتا ہے، اسٹیٹس بیچتا ہے۔ اور بھارت میں یہ خواب ہر سال اور مہنگا ہو رہا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اگلے سال آئی فون 18 آنے پر پھر کتنے لوگ قطار میں لگیں گے اور کتنے انسٹاگرام پر لکھیں گے: “My precious!”