بدھ, ستمبر 30, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 398

وزیر برائے اقلیتی امور کی جا نب سے 26 ویں ‘ہنر ہاٹ’ کا افتتاح کریں گے جناب راج ناتھ سنگھ

0
وزیر برائے اقلیتی امور کی جا نب سے 26 ویں 'ہنر ہاٹ' کا افتتاح کریں گے جناب راج ناتھ سنگھ
وزیر برائے اقلیتی امور کی جا نب سے 26 ویں 'ہنر ہاٹ' کا افتتاح کریں گے جناب راج ناتھ سنگھ

جواہر لال نہرو اسٹیڈیم میں منعقدہ "ہنر ہاٹ” میں، ایک ہی چھت کے نیچے ملک کے کونے کونے سے دیسی ساخت کی نایاب مصنوعات دیکھنے اور خریدنے کو ملیں گی۔

نئی دہلی: ملک بھر کے دستکاروں، کاریگروں اور معماروں کے دیسی مصنوعات کے 26 ویں "ہنر ہاٹ” کا افتتاح وزیر دفاع جناب راج ناتھ سنگھ جی 20 فروری 2021 کو صبح 9:30 بجے نئی دہلی کے جواہر لال نہرو اسٹیڈیم میں کریں گے۔

’ہنر ہاٹ‘ کی افتتاحی تقریب میں مرکزی وزیر مملکت برائے جہاز رانی اور آبی گزرگاہ (آزادانہ چارج) شری من سُکھ مانڈویہ جی اور لوک سبھا کی ممبر پارلیمنٹ محترمہ میناکشی لیکھی جی مہمان خصوصی ہوں گے۔

دیسی کاریگروں، دستکاروں اور شِلپ کاروں کے 26 ویں "ہنر ہاٹ” کا انعقاد وزارت برائے اقلیتی امور کی جانب سے 20 فروری 2021 سے یکُم مارچ 2021 تک "ووکل فارلوکل” کے عنوان سے کیا جا رہا ہے۔

مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور جناب مختار عباس نقوی صاحب نے آج یہاں بتایا کہ جواہر لال نہرو اسٹیڈیم میں منعقدہ اسِ "ہنر ہاٹ” میں آندھرا پردیش، آسام، بہار، چندی گڑھ، چھتیس گڑھ، دہلی، گوا، گجرات، ہریانہ، ہماچل پردیش، جموں۔کشمیر، جھارکھنڈ، کرناٹک، کیرالہ، لداخ، مدھیہ پردیش، منی پور، میگھالیہ، ناگالینڈ، اوڈیشہ، پڈوچیری، پنجاب، راجستھان، سکم، تمل ناڈو، تلنگانہ، اتر پردیش، اتراکھنڈ،مغربی بنگال سمیت ملک کے31 سے زائد ریاستوں / مرکزی علاقوں سے 600 سے زائد دیسی کاریگر، دستکار اور شِلپ کار اپنی شاندار دیسی مصنوعات کے ساتھ شامل ہو رہے ہیں۔

جناب نقوی نے کہا کہ جواہر لال نہرو اسٹیڈیم میں منعقدہ "ہنر ہاٹ” میں، ایک ہی چھت کے نیچے ملک کے کونے کونے سے دیسی ساخت کی نایاب مصنوعات دیکھنے اور خریدنے کو ملیں گی۔ "ہنر ہاٹ” کے "باورچی خانے ” میں ملک کے تمام صوبوں اور خطوں کے لذیذ اور روایتی پکوانوں کا،یہاں آنے والے لوگ لطف اٹھائیں گے ساتھ ہی ملک کے مشہور فنکاروں کے مختلف ثقافتی، گیت، سنگیت کے شاندار پروگراموں سے بھی لطف اندوز ہوں گے۔

جواہر لال نہرو اسٹیڈیم میں منعقدہ اسِ "ہنر ہاٹ” میں آندھرا پردیش، آسام، بہار، چندی گڑھ، چھتیس گڑھ، دہلی، گوا، گجرات، ہریانہ، ہماچل پردیش، جموں۔کشمیر، جھارکھنڈ، کرناٹک، کیرالہ، لداخ، مدھیہ پردیش، منی پور، میگھالیہ، ناگالینڈ، اوڈیشہ، پڈوچیری، پنجاب، راجستھان، سکم، تمل ناڈو، تلنگانہ، اتر پردیش، اتراکھنڈ،مغربی بنگال سمیت ملک کے31 سے زائد ریاستوں / مرکزی علاقوں سے 600 سے زائد دیسی کاریگر، دستکار اور شِلپ کار اپنی شاندار دیسی مصنوعات کے ساتھ شامل ہو رہے ہیں۔

"ہنر ہاٹ” میں آنے والے لوگ ایک ہی جگہ پر بھارت کی "تکثیریت میں اتّحاد ” کی طاقت کا احساس کر سکیں گے۔ جناب نقوی نے کہا کہ وزارتِ اقلیتی امور کے ذریعہ ملک بھر کے دستکاروں، شلپ کاروں کی دیسی مصنوعات کو عوام تک پہنچانے اور ان کی حوصلہ افزائی کرنے والے "مستند پلیٹ فارم” ، "ہنر ہاٹ” کے ذریعہ اب تک پانچ (5) لاکھ سے زائد دستکاروں، شلپ کاروں، کاریگروں اور فنکاروں کو روزگار اور روزگار کے مواقع سے جوڑ دیا گیا ہے۔

آزادی کے 75 سال مکمل ہونے کے ساتھ، 75 ہنر ہاٹ کے ذریعہ سات (7) لاکھ پچاس (50) ہزار دستکاروں، شلپ کاروں کو روزگار کے مواقع سے جُو ڑا جائے گا۔

جناب نقوی نے کہا کہ "ہنر ہاٹ” ای۔پلیٹ فارم hunarhaat.org //:http کے ساتھ ہی جیم (GeM) پورٹل کے ذریعہ ملک اور بیرونِ ممالک میں بسنے والے لوگوں کے لئے بھی دستیاب ہے، جہاں لوگ براہ راست دستکاروں، شلپ کاروں، کاریگروں کی بہترین د یسی اشیاء کو دیکھ اور خرید رہے ہیں۔ "ہنر ہاٹ” کو ای۔پلیٹ فارم اور جیم (GeM) پورٹل کے ذریعہ نمائش کرنے کے زبردست نتائج سامنے آئے ہیں، جس کے تحت دستکاروں، شلپ کاروں کو بڑے پیمانے پر آن لائن آرڈر بھی مل رہے ہیں۔

یو این آئی

کشمیر میں خوشگوار موسم کے دوران برف وباراں کی پیش گوئی

0
کشمیر میں خوشگوار موسم کے دوران برف وباراں کی پیش گوئی
کشمیر میں خوشگوار موسم کے دوران برف وباراں کی پیش گوئی

جنت نما کشمیر کے موسم میں بہتری کے ساتھ کسانوں نے اپنے کھیتوں اور باغوں میں کام کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے اور خوشگوار موسم کے دوران محکمہ موسمیات نے برف وباراں کی بھی پیش گوئی کی ہے۔

سری نگر: وادی کشمیر میں کئی دنوں سے جاری خوشگوار موسم کے بیچ محکمہ موسمیات نے برف وباراں کی پیش گوئی کی ہے۔ متعلقہ محکمے کے ایک ترجمان نے بتایا کہ وادی کشمیر میں 22 فروری کی شام سے موسم کروٹ بدل سکتا ہے جس کے باعث وادی میں 27 فروری تک موسم خراب رہنے کا ا مکان ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس دوران وادی میں 22، 23، 26 اور 27 فروری کو ہلکے درجے کی برف باری یا بارشیں ہوسکتی ہیں۔ دریں اثنا وادی میں جمعے کے روز بھی موسم خوشگوار رہا اور دن بھر خوش کن دھوپ چھائی رہی جس سے لوگوں کو پارکوں، دکانوں کے تھڑوں اور دیگر مقامات پر لطف اندوز ہوتے ہوئے دیکھا گیا۔

وادی میں موسم میں بہتری کے ساتھ جہاں کسانوں نے اپنے کھیتوں اور باغوں میں کام کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے وہیں دوسری طرف دفاتر و دیگر کام کی جگہوں پر گرمی کے آلات کا استعمال بھی بند ہونے لگا ہے۔

گرمائی دارالحکومت سری نگر میں کم سے کم درجۂ حرارت منفی 0.2 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ واضح ہو کہ سری نگر میں 31 جنوری کی شب رواں موسم کی سرد ترین رات درج ہوئی تھی جب کم سے کم درجہ حرارت منفی 8.8 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا جس سے سردیوں کو تیس سالہ پرانا ریکارڈ ٹوٹ گیا تھا۔

قبل ازیں سری نگر میں رواں موسم کے دوران 14 جنوری کو سرد ترین رات درج ہوئی تھی جب کم سے کم درجہ حرارت منفی 8.4 ڈگری ریکارڈ ہوا تھا اور سردیوں کا پچیس سالہ پرانا ریکارڈ ٹوٹ گیا تھا۔

وادی کے مشہور زمانہ سیاحتی مقام گلمرگ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 3.0 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ دوسرے مشہور سیاحتی مقام پہلگام میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 4.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے۔

سرحدی ضلع کپوارہ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 2.3 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ قاضہ گنڈ میں منفی 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ اور ککر ناگ میں کم سے کم درجہ حرارت 0.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔لداخ یونین ٹریٹری کے ضلع لیہ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 10.8ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ ضلع کرگل میں منفی 12.4 ڈگری سینٹی گریڈ اور قصبہ دراس میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 20.6 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے۔

ادھر وادی کشمیر کو ملک کے دوسرے حصوں کے ساتھ جوڑنے والی 270 کلو میٹر طویل سری نگر۔ جموں قومی شاہراہ جمعے کے روز حسب سابق ضروری مرمتی کام کے پیش نظر ٹریفک کی نقل و حمل کے لئے بند رہی۔

ایک ٹریفک پولیس افسر نے یو این آئی کو بتایا کہ قومی شاہراہ خاص کر رام بن سے رامسو علاقے کے درمیان مرمتی کام کے پیش نظر جمعہ کے روز ٹریفک کی نقل و حمل کے لئے بند رہی۔

وادی کو لداخ یونین ٹریٹری کے ساتھ جوڑنے والی سری نگر- لیہہ شاہراہ جو یکم جنوری سے بند ہےِ، پر موسم میں بہتری کے ساتھ ہی برف ہٹانے کے عمل کو تیز تر کر دیا گیا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ زوجیلا پاس پر برف ہٹانے کا کام لگ بھگ مکمل ہوگیا ہے اور شاہراہ کو بہت جلد ٹریفک کی نقل و حمل کے لئے کھول دیا جائے گا۔

جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاں کو صوبہ جموں کے ضلع پونچھ کے ساتھ جوڑنے والے تاریخی مغل روڈ پر سال گذشتہ کے ماہ دسمبر سے ٹریفک مکمل طور پر بند ہے۔

وزیر صحت نے کہا آیورویدک ادویات کے کاروبار میں 50 سے 90 فیصد تک ہوا ہے اضافہ

0
وزیر صحت نے کہا آیورویدک ادویات کے کاروبار میں 50 سے 90 فیصد تک ہوا ہے اضافہ
وزیر صحت نے کہا آیورویدک ادویات کے کاروبار میں 50 سے 90 فیصد تک ہوا ہے اضافہ

وزیر صحت ہرش وردھن نے دنیا میں آیور وید کی مقبولیت میں اضافہ ہورہا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت نے آیور وید کو تسلیم کیا ہے اور بھارت کا آیورویدک ڈاکٹر نیوزی لینڈ میں امتحان دینے کے بعد وہاں علاج کرسکتا

نئی دہلی: وزیر صحت ڈاکٹر ہرش وردھن نے جمعہ کے روز کہا کہ دنیا میں آیور وید کی مقبولیت میں اضافہ ہورہا ہے اور کورونا دور کے بعد ملک میں آیورویدک ادویات کا کاروبار 50 سے 90 فیصد کی شرح سے بڑھ رہا ہے۔

ڈاکٹر ہرش وردھن نے پتنجلی کی کورونا کی تسلیم شدہ دوا کورو نل کو جاری کرنے کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ کورونا کے دور سے پہلے آیورویدک ادویات کا کاروبار 15 سے 20 فیصد کی شرح سے بڑھ رہا تھا، جس میں اب 50 سے 90 فیصد کی شرح سے اضافہ ہو رہا ہے۔

کورونا کے دور سے پہلے ملک میں آیورویدک کمپنیوں کا مجموعی سالانہ کاروبار 30000 کروڑ روپے کا تھا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں آیورویدک ادویات کی بڑھتی ہوئی قبولیت کی وجہ سے اس کے کاروبار میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس سے برآمدات میں بھی زبردست اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے لوگ آیوروید ک ادویات کا استعمال بھی کرتے ہیں لیکن اسے قبول نہیں کرنا چاہتے۔

ڈاکٹر ہرش وردھن نے جدید سائنسی طریقے سے آیور وید کے قیام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے دنیا مستفید ہو گی اور ملک کا وقار بھی بڑھے گا۔

انہوں نے کہا کہ عالمی ادارۂ صحت نے آیور وید کو تسلیم کیا ہے اور آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، کیوبا، ماریشیس، نیپال، بنگلہ دیش، سری لنکا، ہنگری وغیرہ جیسے ممالک نے بھی با ضابطہ طور پر ا سے تسلیم کیا ہے۔ بھارت کا آیورویدک ڈاکٹر نیوزی لینڈ میں امتحان دینے کے بعد وہاں علاج کرسکتا ہے۔ 

ڈبلیو ایچ او کا ہندوستان میں آیوروید کا عالمی مرکز بنانے پر زور

وزیر صحت ہرش وردھن نے جمعہ کے روز کہا کہ عالمی ادارۂ صحت (آیو ڈبلیو ایچ او) روایتی طبی نظام کو فروغ دینے کے لئے ہندوستان میں آیور وید کا عالمی مرکز قائم کرنا چاہتا ہے۔

ڈاکٹر ہرش وردھن نے پتنجلی کی کورونا کی دوا کورو نل کو جاری کر نے کے موقع پر یہاں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی ادارۂ صحت کے سربراہ نے گزشتہ دنوں وزیر اعظم نریندر مودی سے آیور وید کو فروغ دینے کے سلسلے میں بات کی تھی جس میں انہوں نے ہندوستان کو اس کا عالمی مرکز بنانے پر دیا۔

انہوں نے کہا کہ سنہ 2000 میں عالمی ادارۂ صحت کا ایک اجلاس جاپان میں منعقد ہوا، جس میں 21 ویں صدی میں طبی ہدف کو حاصل کرنے میں روایتی طبی نظام اہم بتایا گیا تھا۔ اس کے لئے آیورویدک طریقۂ علاج کو فروغ دینے اور اس پر سائنسی تحقیق پر زور دینے کی سفارش کی گئی تھی۔

ڈاکٹر ہرش وردھن نے کہا کہ عالمی ادارۂ صحت نے آیور وید کو تسلیم کیا ہے ۔ لوگوں کو صحت مند بنانے میں آیورویدک ادویات کے کردار پر شک نہیں کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اتھروید اور چرک سمہتا میں آیور وید پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔

چھٹی صدی میں آیور وید کا چینی زبان میں ترجمہ کیا گیا تھا ۔ بعد میں فارسی اور یورپی زبانوں میں بھی یہ کام کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں برطانوی حکومت کے دوران ہندوستانی نظام طب کو فروغ نہیں دیا گیا ۔ دہلی میں انہوں نے آیور وید پر تحقیق کے لئے ایک مرکز قائم کیا تھا، لیکن بعد میں سرکاروں نے اس پر توجہ نہیں دی۔

پیوش اور ادھیر رنجن نے بنگال کے وزیر ذاکر حسین پر ہوئے بم حملے کی مذمت کی

0

مرشد آباد ضلع کے نمتیتا ریلوے اسٹیشن میں بدھ کی رات مسٹر ذاکر حسین پر بم حملہ کیا گیا، جس میں وہ شدید زخمی ہو گئے۔ حالیہ دنوں میں پہلی مرتبہ ایسا ہو ا ہے، جب ریاست کے کسی وزیر کو نشانہ بنا کر حملہ کیا گیا ہے.

نئی دہلی / مرشد آباد: مرکزی وزیر برائے ریلوے پیوش گوئل اور مغربی بنگال کانگریس کمیٹی کے صدر ادھیر رنجن چودھری نے ترنمول کانگریس کے لیڈر اور ریاستی وزیر ذاکر حسین پر ہوئے بم حملے کی مذمت کی ہے۔

مرشد آباد ضلع کے نمتیتا ریلوے اسٹیشن میں بدھ کی رات مسٹر حسین پر بم حملہ کیا گیا، جس میں وہ شدید زخمی ہو گئے۔ حالیہ دنوں میں پہلی مرتبہ ایسا ہو ا ہے، جب ریاست کے کسی وزیر کو نشانہ بنا کر حملہ کیا گیا ہے.

مسٹر گوئل نے وزیر پر ہوئے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ’’میں مغربی بنگال میں نمتیتا ریلوے اسٹیشن پر بم حملے کی مذمت کرتا ہوں۔ وزیر سمیت دیگر زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لئے دعا گو ہوں‘‘۔ مسٹر چودھری نے کہا ’’میں نے ترنمول کانگریس کے لیڈر پر ہوئے حملے کے بارے میں سنا۔ پولیس تفتیش ہی سے حقیقت کا پتہ چلا سکتی ہے۔ میں واقعہ کی تحقیقات اور حملہ آوروں کی گرفتاری کا مطالبہ کرتا ہوں‘‘۔

ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ مسٹر حسین پر گذشتہ شب تقریباََ 10 بجے اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ کولکتہ جانے کے لئے نمتیتا اسٹیشن پر پلیٹ فارم نمبر دو پر ٹرین کا انتظار کر رہے تھے۔ حملے میں ان کے علاوہ پارٹی کے دو دیگر کارکن بھی زخمی ہوئے تھے۔

ترنمول کانگریس کے مرشد آباد کے ضلع صدر ابو طاہر خان نے بتایا کہ مسٹر حسین کو زخمی حالت میں جنگی پور سرکاری اسپتال پہنچایا گیا، جہاں سے انہیں کولکتہ اسپتال لے جایا گیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اس حملے کو انجام دیا ہے۔

تاہم بی جے پی کے ریاستی صدر دلیپ گھوش نے مسٹر خان کے الزامات کو یہ کہتے ہوئے مسترد کیا ہے کہ مرشد آباد جرائم پیشہ افراد کا گڑھ بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر حسین اسمبلی انتخابات کے پیش نظر اپنی ہی پارٹی کے اندرونی خلفشار کے شکار ہوسکتے ہیں۔

سعودی زیر قیادت فورس کی حوثیوں کیخلاف کارروائی، ڈرون تباہ

0

حوثی باغیوں کا ڈرون سعودی عرب کے جنوب مغربی شہر خمیس مشائط کے اوپر اڑا رہا تھا اور اسی دوران ڈرون مار گرایا گیا۔

صنعا: سعودی عرب کی زیر قیادت اتحادی فوج نے یمن کے حوثی باغیوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ایک ڈرون کو تباہ کردیا۔

سعودی حکومت کے براڈکاسٹر ’الاخباریہ‘ کی اطلاعات کے مطابق حوثی باغیوں کا ڈرون سعودی عرب کے جنوب مغربی شہر خمیس مشائط کے اوپر اڑا رہا تھا اور اسی دوران ڈرون مار گرایا گیا۔

حالیہ دنوں میں سعودی عرب میں حوثی باغیوں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ حوثی گروپ نے پیر کے روز سعودی عرب کے شہر جدہ اور ابھا کے دو بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر ڈرون فضائی حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

سعودی عرب کی زیر قیادت اتحادی فوج نے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ہادی حکومت کی حمایت کے لئے2015 میں ایک فوجی مہم چلائی تھی۔ دوسری طرف حوثی گروپ نے یمن کے دارالحکومت صنعا سمیت ملک کے شمالی علاقوں کے ایک بڑے حصے پر اپنا کنٹرول برقرار رکھا ہوا ہے۔

امریکہ کا شمالی کوریا کے ہیکرز کو روکنے کے لئے روس اور چین سے ایکشن لینے کا مطالبہ

0

اسسٹنٹ اٹارنی جنرل جان ڈیمرس نے گزشتہ روز کہا ’’امریکہ نے تین ملزمان کو گرفتار کر کے شمالی کوریا کے جرائم کو متاثر کیا ہے۔

واشنگٹن: امریکہ نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کے سائبر ہیکرز کو روکنے کے لئے روس اور چین کو ایکشن لینا چاہئے۔
اسسٹنٹ اٹارنی جنرل جان ڈیمرس نے گزشتہ روز کہا ’’امریکہ نے تین ملزمان کو گرفتار کر کے شمالی کوریا کے جرائم کو متاثر کیا ہے۔ روس اور چین کے ساتھ ساتھ ایسے ممالک جن کے ادارے اور شہری شمالی کوریا میں ریونیو کی آگاہی میں کردار ادا کرتے ہیں کو بھی کارروائی کرنی چاہئے‘‘۔
اس سے قبل محکمہ انصاف نے بدھ کے روز شمالی کوریا کے تین ہیکرز کے خلاف الزامات کا اعلان کیا تھا جنہوں نے بینکوں اور کاروباری اداروں سے 1.3 بلین ڈالر چوری کرنے کے لئے دنیا بھر میں سائبر حملے کئے تھے۔ جان چانگ ہروک، کم ایل اور پارک جن ہروک نامی یہ ہیکرز شمالی کوریا کی جنرل انٹلیجنس ایجنسی ریکوناینس بیورو کے ممبر ہیں۔

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں لگاتار نویں دن بھی اضافہ

0

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں سب سے اونچی سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ فی الحال دونوں ایندھن کی قیمتیں ملک کی تقریبا ہر شہر میں اعلی ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔

نئی دہلی: بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں استحکام رہنے کے باوجود گھریلو بازار میں آج نویں دن لگاتار پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کیا گیا ہے۔
ملک کی سرخیل آئل مارکیٹنگ کمپنی انڈین آئل کارپوریشن کے مطابق دارالحکومت دہلی میں پٹرول اور ڈیزل میں 25-25 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ اس اضافے کے بعد دہلی میں پٹرول 25 پیسے کے اضافے کے ساتھ 89.54 روپے فی لیٹر پر پہنچ گیا ہے۔ ڈیزل بھی 25 پیسے کے اضافے کے ساتھ 79.95 روپے فی لیٹر پر پہنچ گیا۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں سب سے اونچی سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ فی الحال دونوں ایندھن کی قیمتیں ملک کی تقریبا ہر شہر میں اعلی ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔
نیا سال پٹرولیم ایندھن مصنوعات کیلئے اچھا نہیں رہا ہے۔ جنوری اور فروری میں اب تک پٹرول 21 دن مہنگا ہوا، لیکن اتنے ہی دنوں میں یہ 05.73 روپے مہنگا ہوگیا ہے۔ پٹرول کے ساتھ ہی ڈیزل کی قیمت بھی ریکارڈ بنانے کے راستے پر گامزن ہے۔ نئے سال میں 21 دن کے دوران ڈیزل 06.08 روپے فی لیٹر مہنگا ہوچکا ہے۔
ملک کے چار بڑے شہروں میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں:

شہر      پٹرول     ڈیزل

دہلی 89.54 79.95

ممبئی 96.00 86.98

چنئی 91.68 85.01

کولکتہ 90.78 83.54

بہار میں دینی مدارس کے لیے ریسورس سنٹرس کا قیام طلبہ کے خوابوں کی تعبیر

0
بہار میں دینی مدارس کے لیے ریسورس سنٹرس کا قیام طلبہ کے خوابوں کی تعبیر
بہار میں دینی مدارس کے لیے ریسورس سنٹرس کا قیام طلبہ کے خوابوں کی تعبیر

اس وقت مدارس اسلامیہ کو نئی تعلیمی پالیسی سے ہونے والی تبدیلیوں سے باخبر رہنا ہوگا اور اپنے تمام تر اختلاف رائے کے باوجود اس کی سچائی کو قبول کرنا ہوگا اور اپنی بنیادی شناخت کو باقی رکھتے ہوئے اپنی صف بندی از سر نو کرنی ہوگی۔

حیدرآباد: بہار کے مدارس میں تعلیمی پروگرام برائے نوبالغاں کے موضوع پر سہ روزہ ورکشاپ کا انعقاد ملٹی پارٹنر پروجیکٹ کے تحت ہوٹل چاڑکیہ، پٹنہ میں عمل میں آرہا ہے۔ جس میں جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی اور مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآباد کی اہم علمی شخصیات کے علاوہ بہار کے دانشوران نے مدارس اسلامیہ کی تعلیمی صورت حال پر اظہار خیال کیا اور بہار سرکار کی جانب سے ریسورس سنٹرس کے قیام اور اس کی افادیت کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا اور اسے مدارس کے بچوں کے خوابوں کی تعبیر قرار دیا۔

پروگرام کا افتتاح مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی،حیدرآباد -سی ٹی ای، دربھنگہ کے پرنسپل اور اس پروگرام کے کوآرڈینیٹر پروفیسر محمد فیض احمد کی استقبالیہ تقریر سے ہوا، اقوام متحدہ آبادی فنڈ جو متعدد پروگرامس کا اسپانسر ہے، کے اسٹیٹ چیف ڈاکٹر ندیم نور نے کہا کہ تیزی کے ساتھ بدلتی دنیا کے چیلنج کا سامنا کرنے کے لیے مصنوعی اور جذباتی ذہانت کا سہارا لینا پڑے گا اور دینی مدارس کو 21ویں صدی کے مسائل کو حل کرنے کی صلاحیتوں سے لیس ہونا ہوگا، اس کے لئے یو این ایف پی اے، مدرسہ بورڈ، مانو اور جامعہ جیسے اہم ادارے، بہار سرکار کی سربراہی میں جگہ جگہ ریسورس سینٹر کے قیام کا خاکہ تیار کر ر ہے ہیں۔

ہماری آبادی کے پسماندہ ہونے کی بنیادی وجہ ابتدائی تعلیم کا کمزور ہونا ہے

ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم ڈاکٹر عامر سبحانی نے کہا کہ دارصل ہماری آبادی کے پسماندہ ہونے کی بنیادی وجہ ابتدائی تعلیم کا کمزور ہونا ہے کیونکہ یہ بات صرف سول سروسز کے امتحانات میں کامیابی اور ناکامی پر مبنی ڈیٹا سے نہیں بلکہ داروغہ اور سپاہی کے امتحانات کے نتائج دیکھنے سے بھی یہی وجہ نظر آتی ہے اور تعصب کا تو کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔

پروفیسر اعجاز مسیح، جامعہ ملیہ اسلامیہ نے کہا کہ تعلیم نو بالغاں کے تعلق سے جامعہ نے ٹریننگ ماڈیول کو تیار کیا ہے جس کے اندر سائنس اور تہذیب و ثقافت کا ایک خوبصورت سنگم ہے اور عملی مشق کے ذریعہ طلبہ کی زندگی کی مہارتوں کو فروغ دینے میں مدد مل رہی ہے اب صدر مدرسین کے ٹریننگ ماڈیول کو بھی تیار کر لیا گیا ہے جو بہت جلد منظر عام پر آجا ئے گا۔

مدارس اسلامیہ کو نئی تعلیمی پالیسی سے ہونے والی تبدیلیوں سے باخبر رہنا ہوگا

تعلیم نو بالغاں کے پروجیکٹ ڈائریکٹر، مانو، پروفیسر محمد شاہد نے کہا کہ زمینی سطح پر اس پروگرام سے مستفید ہونے والے اساتذہ اور طلبہ کے درمیان اس پروجیکٹ کو بہت ہی پذیرائی حاصل ہورہی ہے اور آج کی تاریخ میں یہ پروگرام روایتی تعلیم نو بالغاں سے کہیں آگے نکل چکا ہے اور دوسری ریاستوں میں اپنی کامیابی کی وجہ سے بحث و مباحثہ کا مرکز بن چکا ہے۔ سابق رکن، بہار پبلک سروس کمیشن ڈاکٹر شفیع مشہدی نے کہا کہ اس وقت مدارس اسلامیہ کو نئی تعلیمی پالیسی سے ہونے والی تبدیلیوں سے باخبر رہنا ہوگا اور اپنے تمام تر اختلاف رائے کے باوجود اس کی سچائی کو قبول کرنا ہوگا اور اپنی بنیادی شناخت کو باقی رکھتے ہوئے اپنی صف بندی از سر نو کرنی ہوگی۔

دانشور و معروف سرجن ڈاکٹر احمد عبدالحی نے کہا کہ عرصۂ دراز سے ہمارے مدارس کو نظر انداز کر دیا گیا تھا اور اس وقت اگر کوئی مدارس میں نئی روح ڈالنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ قابل تعریف ہے۔ سابق چیئرمین جناب یونس حکیم نے مدارس کو در پیش مسائل پر سیر حاصل گفتگو کی۔ سکریٹری محکمہ اقلیتی فلاح محترمہ سفینہ نے اس پروگرام کو مقبول بنانے کی حکمت عملی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ لڑکیوں کی تعلیم کے حصول کو آسان بنانے کی ضرورت ہے۔ مدارس کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی اور بہتر مواقع پیدا کرنے کی کوشش ہر ایک کو کرنی ہوگی۔

بس نہر میں گری، 40 افراد ہلاک، کچھ لاپتہ، بس میں گنجائش سے زیادہ مسافر

0
بس نہر میں گری، 40 افراد ہلاک، کچھ لاپتہ، بس میں گنجائش سے زیادہ مسافر
بس نہر میں گری، 40 افراد ہلاک، کچھ لاپتہ، بس میں گنجائش سے زیادہ مسافر

بس نہر میں گری، 40 افراد ہلاک، مرنے والوں میں 21 مرد، 18 خواتین اور ایک بچہ شامل ہے۔ سات شخص شروعات میں ہی کسی طرح نہر سے تیر کر نکل آئے اور ان کی مقامی دیہی باشندوں نے مدد کی۔

سیدھی: کے ضلع سیدھی کے رام پور نیکن تھانہ علاقے میں آج صبح بان ساگر ڈیم پروجیکٹ سے منسلک نہر میں بس کے گرنے سے 40 مسافروں کی موت ہوگئی اور سات دیگر کو بحفاظت بچالیا گیا۔ اب بھی کچھ لوگوں کے لاپتہ ہونے کے خدشہ کے سبب ان کی تلاش جاری ہے۔

مرنے والوں میں 21 مرد، 18 خواتین اور ایک بچہ شامل ہے۔ سات شخص شروعات میں ہی کسی طرح نہر سے تیر کر نکل آئے اور ان کی مقامی دیہی باشندوں نے مدد کی۔ دوپہر بعد بھی نہر میں کچھ مسافروں کے بہنے کے خدشہ کے سبب تلاشی مہم جاری ہے۔ حادثہ کی مجسٹریل انکوائری کا حکم دیا گیا ہے۔

32 مسافروں کی گنجائش والی بس  میں 60 لوگ سوار

بس میں گنجائش سے زیادہ مسافر سوار تھے۔ بس کی صلاحیت 32 مسافروں کی تھی اور اس میں تقریباً 60 مسافرسوار تھے۔ بس ڈرائیور کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ بحفاظت بچ گیا ہے۔ حالانکہ اس کا نام ابھی تک سامنے نہیں آ پایا ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق جائے حادثہ سیدھی ضلع ہیڈکوارٹر سے تقریباً 80 کلومیٹر دور سرداگاؤں میں ہے۔ یہاں سے ستنا ضلع ہیڈکوارٹر تقریباً سو کلومیٹر دور ہے۔ بس صبح تقریبا چھ بجے سیدھی سے ستنا کے لئے روانہ ہوئی تھی اور متعینہ روڈ کے وادی چھوہیا میں جام کے سبب بس ڈرائیور نے راستہ بدل لیا اور پردھان منتری گرام سڑک یوجنا کے تحت تعمیر نہر کے متوازی چل رہی سڑک پر آنے کے بعد یہ حادثہ ہوگیا اور تقریبا ساڑھے سات بجے بس نہر میں غائب ہوگئی۔

ذرائع نے بتایا کہ بان ساگر ڈیم آبی ذخائر سے جڑی اس نہر میں 20 فٹ سے زیادہ پانی جمع تھا حادثے کی اطلاع کے بعد سب سے پہلے لگ بھگ 40 کلومیٹر دور واقع ڈیم آبی ذخائر سے پانی چھوڑنے کا کام بند کرایا گیا۔ اس وجہ سے نہر کی آبی سطح کم ہوئی اور راحت و بچاؤ کے کام میں تیزی لائی جاسکی۔ حادثے کی خبر ملتے ہی ریوا ڈویژنل کمشنر راجیش جین اور کلکٹر روندر کمار چودھری بھی عملے کے ساتھ موقع پر پہنچ گئے۔

متعدد لڑکے اور لڑکیاں ریلوے اور نرسنگ کے امتحان میں شامل ہونے جارہے تھے

ذرائع نے بتایا کہ بس میں بنیادی طور سے سیدھی اور سنگرولی اضلاع کے مسافر سوار تھے۔ مسافروں میں شامل متعدد لڑکے اور لڑکیاں اپنے والدین کے ساتھ ضلع ستنا میں منعقدہ ریلوے اور نرسنگ کے امتحان میں شامل ہونے جارہے تھے۔

ذرائع کے مطابق یہ بس ضلع ستنا کے باشندے ایک شخص کے نام پر رجسٹرڈ ہے اور جبلا ناتھ پریہار ٹریویل کے نام سے چلتی تھی۔ بس کی گنجائش 32 مسافروں کی تھی، لیکن اس میں تقریباً 60 لوگوں کے سوار ہونے کی اطلاع سامنے آئی ہے۔

اس درمیان عینی شاہدین نے یہ بھی بتایا کہ سیدھی سے ستنا کا مین روڈ وادی چھوہیا سے ہوتے ہوئے جاتا ہے، لیکن پچھلے کچھ دنوں سے چھوہیا میں گاڑیوں کے اکثر خراب ہوجانے سے جام کی صورت حال بن رہی ہے۔ اس لئے مقامی ڈرائیور اس مین روڈ کے بجائے چھوہیا کے پہلے بگوار گاوں سے ہوتے ہوئے نہر کے متوازی جانے والے روڈ سے ہوکر ستنا جاتے ہیں۔ آج بھی بس ڈرائیور نے اسی راستے کا انتخاب کیا اور تیز رفتار سے جاتے وقت بریکر پر بس بے قابو ہوکر نہر میں جاگری۔

بس کے نہر میں گرنے کی وجہ سے دس مسافروں کی موت

0

پولیس ذرائع نے بتایا کہ مسافر بس میں تقریبا 50 مسافر سوار تھے۔ صبح تقریباََ آٹھ بجے پیش آئے حادثے کے تین گھنٹوں سے زائد وقت کے دوران دس افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔

سیدھی: مدھیہ پردیش میں ضلع سیدھی کے رام پورنایکن تھانہ علاقہ میں آج ایک مسافر بس کے بان ساگر نہر میں گرنے کی وجہ سے دس مسافروں کی موت ہوگئی اور تقریباََ سات افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔ راحت و بچاؤ کاروائیاں جاری ہیں۔

پولیس ذرائع نے بتایا کہ مسافر بس میں تقریبا 50 مسافر سوار تھے۔ صبح تقریباََ آٹھ بجے پیش آئے حادثے کے تین گھنٹوں سے زائد وقت کے دوران دس افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔

بان ساگر ڈیم کے ریزروائر سے منسلک اس نہر میں 20 فٹ سے زائد پانی تھا۔ ڈیم سے پانی چھوڑنے کا کام بند کرنے کے بعد نہر کی آبی سطح کم ہو گئی ہے۔ راحت و بچاؤ کاروائیاں تیزی سے شروع کردی گئی ہیں۔ حادثے کی اطلاع موصول ہوتے ہی کلکٹر رویندر کمار چودھری فورسز کے ساتھ جائے وقوع پر پہنچے۔

ذرائع نے بتایا کہ یہ حادثہ ضلع صدر مقام سے 80 کلومیٹر دور پیش آیا اور کچھ مسافروں کو نکال کر نزدیکی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ بس صبح سیدھی سے روانہ ہوئی تھی اور ستنا جارہی تھی۔ صبح تقریباََ آٹھ بجے چھوہیا وادی میں جام کی وجہ سے نردیکی دوسرے راستے سے ستنا کے لئے روانہ ہوئی اور بان ساگر ڈیم پروجیکٹ کی نہر میں جا گری۔