جمعرات, جولائی 2, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 397

بہار میں دینی مدارس کے لیے ریسورس سنٹرس کا قیام طلبہ کے خوابوں کی تعبیر

0
بہار میں دینی مدارس کے لیے ریسورس سنٹرس کا قیام طلبہ کے خوابوں کی تعبیر
بہار میں دینی مدارس کے لیے ریسورس سنٹرس کا قیام طلبہ کے خوابوں کی تعبیر

اس وقت مدارس اسلامیہ کو نئی تعلیمی پالیسی سے ہونے والی تبدیلیوں سے باخبر رہنا ہوگا اور اپنے تمام تر اختلاف رائے کے باوجود اس کی سچائی کو قبول کرنا ہوگا اور اپنی بنیادی شناخت کو باقی رکھتے ہوئے اپنی صف بندی از سر نو کرنی ہوگی۔

حیدرآباد: بہار کے مدارس میں تعلیمی پروگرام برائے نوبالغاں کے موضوع پر سہ روزہ ورکشاپ کا انعقاد ملٹی پارٹنر پروجیکٹ کے تحت ہوٹل چاڑکیہ، پٹنہ میں عمل میں آرہا ہے۔ جس میں جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی اور مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآباد کی اہم علمی شخصیات کے علاوہ بہار کے دانشوران نے مدارس اسلامیہ کی تعلیمی صورت حال پر اظہار خیال کیا اور بہار سرکار کی جانب سے ریسورس سنٹرس کے قیام اور اس کی افادیت کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا اور اسے مدارس کے بچوں کے خوابوں کی تعبیر قرار دیا۔

پروگرام کا افتتاح مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی،حیدرآباد -سی ٹی ای، دربھنگہ کے پرنسپل اور اس پروگرام کے کوآرڈینیٹر پروفیسر محمد فیض احمد کی استقبالیہ تقریر سے ہوا، اقوام متحدہ آبادی فنڈ جو متعدد پروگرامس کا اسپانسر ہے، کے اسٹیٹ چیف ڈاکٹر ندیم نور نے کہا کہ تیزی کے ساتھ بدلتی دنیا کے چیلنج کا سامنا کرنے کے لیے مصنوعی اور جذباتی ذہانت کا سہارا لینا پڑے گا اور دینی مدارس کو 21ویں صدی کے مسائل کو حل کرنے کی صلاحیتوں سے لیس ہونا ہوگا، اس کے لئے یو این ایف پی اے، مدرسہ بورڈ، مانو اور جامعہ جیسے اہم ادارے، بہار سرکار کی سربراہی میں جگہ جگہ ریسورس سینٹر کے قیام کا خاکہ تیار کر ر ہے ہیں۔

ہماری آبادی کے پسماندہ ہونے کی بنیادی وجہ ابتدائی تعلیم کا کمزور ہونا ہے

ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم ڈاکٹر عامر سبحانی نے کہا کہ دارصل ہماری آبادی کے پسماندہ ہونے کی بنیادی وجہ ابتدائی تعلیم کا کمزور ہونا ہے کیونکہ یہ بات صرف سول سروسز کے امتحانات میں کامیابی اور ناکامی پر مبنی ڈیٹا سے نہیں بلکہ داروغہ اور سپاہی کے امتحانات کے نتائج دیکھنے سے بھی یہی وجہ نظر آتی ہے اور تعصب کا تو کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔

پروفیسر اعجاز مسیح، جامعہ ملیہ اسلامیہ نے کہا کہ تعلیم نو بالغاں کے تعلق سے جامعہ نے ٹریننگ ماڈیول کو تیار کیا ہے جس کے اندر سائنس اور تہذیب و ثقافت کا ایک خوبصورت سنگم ہے اور عملی مشق کے ذریعہ طلبہ کی زندگی کی مہارتوں کو فروغ دینے میں مدد مل رہی ہے اب صدر مدرسین کے ٹریننگ ماڈیول کو بھی تیار کر لیا گیا ہے جو بہت جلد منظر عام پر آجا ئے گا۔

مدارس اسلامیہ کو نئی تعلیمی پالیسی سے ہونے والی تبدیلیوں سے باخبر رہنا ہوگا

تعلیم نو بالغاں کے پروجیکٹ ڈائریکٹر، مانو، پروفیسر محمد شاہد نے کہا کہ زمینی سطح پر اس پروگرام سے مستفید ہونے والے اساتذہ اور طلبہ کے درمیان اس پروجیکٹ کو بہت ہی پذیرائی حاصل ہورہی ہے اور آج کی تاریخ میں یہ پروگرام روایتی تعلیم نو بالغاں سے کہیں آگے نکل چکا ہے اور دوسری ریاستوں میں اپنی کامیابی کی وجہ سے بحث و مباحثہ کا مرکز بن چکا ہے۔ سابق رکن، بہار پبلک سروس کمیشن ڈاکٹر شفیع مشہدی نے کہا کہ اس وقت مدارس اسلامیہ کو نئی تعلیمی پالیسی سے ہونے والی تبدیلیوں سے باخبر رہنا ہوگا اور اپنے تمام تر اختلاف رائے کے باوجود اس کی سچائی کو قبول کرنا ہوگا اور اپنی بنیادی شناخت کو باقی رکھتے ہوئے اپنی صف بندی از سر نو کرنی ہوگی۔

دانشور و معروف سرجن ڈاکٹر احمد عبدالحی نے کہا کہ عرصۂ دراز سے ہمارے مدارس کو نظر انداز کر دیا گیا تھا اور اس وقت اگر کوئی مدارس میں نئی روح ڈالنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ قابل تعریف ہے۔ سابق چیئرمین جناب یونس حکیم نے مدارس کو در پیش مسائل پر سیر حاصل گفتگو کی۔ سکریٹری محکمہ اقلیتی فلاح محترمہ سفینہ نے اس پروگرام کو مقبول بنانے کی حکمت عملی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ لڑکیوں کی تعلیم کے حصول کو آسان بنانے کی ضرورت ہے۔ مدارس کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی اور بہتر مواقع پیدا کرنے کی کوشش ہر ایک کو کرنی ہوگی۔

بس نہر میں گری، 40 افراد ہلاک، کچھ لاپتہ، بس میں گنجائش سے زیادہ مسافر

0
بس نہر میں گری، 40 افراد ہلاک، کچھ لاپتہ، بس میں گنجائش سے زیادہ مسافر
بس نہر میں گری، 40 افراد ہلاک، کچھ لاپتہ، بس میں گنجائش سے زیادہ مسافر

بس نہر میں گری، 40 افراد ہلاک، مرنے والوں میں 21 مرد، 18 خواتین اور ایک بچہ شامل ہے۔ سات شخص شروعات میں ہی کسی طرح نہر سے تیر کر نکل آئے اور ان کی مقامی دیہی باشندوں نے مدد کی۔

سیدھی: کے ضلع سیدھی کے رام پور نیکن تھانہ علاقے میں آج صبح بان ساگر ڈیم پروجیکٹ سے منسلک نہر میں بس کے گرنے سے 40 مسافروں کی موت ہوگئی اور سات دیگر کو بحفاظت بچالیا گیا۔ اب بھی کچھ لوگوں کے لاپتہ ہونے کے خدشہ کے سبب ان کی تلاش جاری ہے۔

مرنے والوں میں 21 مرد، 18 خواتین اور ایک بچہ شامل ہے۔ سات شخص شروعات میں ہی کسی طرح نہر سے تیر کر نکل آئے اور ان کی مقامی دیہی باشندوں نے مدد کی۔ دوپہر بعد بھی نہر میں کچھ مسافروں کے بہنے کے خدشہ کے سبب تلاشی مہم جاری ہے۔ حادثہ کی مجسٹریل انکوائری کا حکم دیا گیا ہے۔

32 مسافروں کی گنجائش والی بس  میں 60 لوگ سوار

بس میں گنجائش سے زیادہ مسافر سوار تھے۔ بس کی صلاحیت 32 مسافروں کی تھی اور اس میں تقریباً 60 مسافرسوار تھے۔ بس ڈرائیور کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ بحفاظت بچ گیا ہے۔ حالانکہ اس کا نام ابھی تک سامنے نہیں آ پایا ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق جائے حادثہ سیدھی ضلع ہیڈکوارٹر سے تقریباً 80 کلومیٹر دور سرداگاؤں میں ہے۔ یہاں سے ستنا ضلع ہیڈکوارٹر تقریباً سو کلومیٹر دور ہے۔ بس صبح تقریبا چھ بجے سیدھی سے ستنا کے لئے روانہ ہوئی تھی اور متعینہ روڈ کے وادی چھوہیا میں جام کے سبب بس ڈرائیور نے راستہ بدل لیا اور پردھان منتری گرام سڑک یوجنا کے تحت تعمیر نہر کے متوازی چل رہی سڑک پر آنے کے بعد یہ حادثہ ہوگیا اور تقریبا ساڑھے سات بجے بس نہر میں غائب ہوگئی۔

ذرائع نے بتایا کہ بان ساگر ڈیم آبی ذخائر سے جڑی اس نہر میں 20 فٹ سے زیادہ پانی جمع تھا حادثے کی اطلاع کے بعد سب سے پہلے لگ بھگ 40 کلومیٹر دور واقع ڈیم آبی ذخائر سے پانی چھوڑنے کا کام بند کرایا گیا۔ اس وجہ سے نہر کی آبی سطح کم ہوئی اور راحت و بچاؤ کے کام میں تیزی لائی جاسکی۔ حادثے کی خبر ملتے ہی ریوا ڈویژنل کمشنر راجیش جین اور کلکٹر روندر کمار چودھری بھی عملے کے ساتھ موقع پر پہنچ گئے۔

متعدد لڑکے اور لڑکیاں ریلوے اور نرسنگ کے امتحان میں شامل ہونے جارہے تھے

ذرائع نے بتایا کہ بس میں بنیادی طور سے سیدھی اور سنگرولی اضلاع کے مسافر سوار تھے۔ مسافروں میں شامل متعدد لڑکے اور لڑکیاں اپنے والدین کے ساتھ ضلع ستنا میں منعقدہ ریلوے اور نرسنگ کے امتحان میں شامل ہونے جارہے تھے۔

ذرائع کے مطابق یہ بس ضلع ستنا کے باشندے ایک شخص کے نام پر رجسٹرڈ ہے اور جبلا ناتھ پریہار ٹریویل کے نام سے چلتی تھی۔ بس کی گنجائش 32 مسافروں کی تھی، لیکن اس میں تقریباً 60 لوگوں کے سوار ہونے کی اطلاع سامنے آئی ہے۔

اس درمیان عینی شاہدین نے یہ بھی بتایا کہ سیدھی سے ستنا کا مین روڈ وادی چھوہیا سے ہوتے ہوئے جاتا ہے، لیکن پچھلے کچھ دنوں سے چھوہیا میں گاڑیوں کے اکثر خراب ہوجانے سے جام کی صورت حال بن رہی ہے۔ اس لئے مقامی ڈرائیور اس مین روڈ کے بجائے چھوہیا کے پہلے بگوار گاوں سے ہوتے ہوئے نہر کے متوازی جانے والے روڈ سے ہوکر ستنا جاتے ہیں۔ آج بھی بس ڈرائیور نے اسی راستے کا انتخاب کیا اور تیز رفتار سے جاتے وقت بریکر پر بس بے قابو ہوکر نہر میں جاگری۔

بس کے نہر میں گرنے کی وجہ سے دس مسافروں کی موت

0

پولیس ذرائع نے بتایا کہ مسافر بس میں تقریبا 50 مسافر سوار تھے۔ صبح تقریباََ آٹھ بجے پیش آئے حادثے کے تین گھنٹوں سے زائد وقت کے دوران دس افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔

سیدھی: مدھیہ پردیش میں ضلع سیدھی کے رام پورنایکن تھانہ علاقہ میں آج ایک مسافر بس کے بان ساگر نہر میں گرنے کی وجہ سے دس مسافروں کی موت ہوگئی اور تقریباََ سات افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔ راحت و بچاؤ کاروائیاں جاری ہیں۔

پولیس ذرائع نے بتایا کہ مسافر بس میں تقریبا 50 مسافر سوار تھے۔ صبح تقریباََ آٹھ بجے پیش آئے حادثے کے تین گھنٹوں سے زائد وقت کے دوران دس افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔

بان ساگر ڈیم کے ریزروائر سے منسلک اس نہر میں 20 فٹ سے زائد پانی تھا۔ ڈیم سے پانی چھوڑنے کا کام بند کرنے کے بعد نہر کی آبی سطح کم ہو گئی ہے۔ راحت و بچاؤ کاروائیاں تیزی سے شروع کردی گئی ہیں۔ حادثے کی اطلاع موصول ہوتے ہی کلکٹر رویندر کمار چودھری فورسز کے ساتھ جائے وقوع پر پہنچے۔

ذرائع نے بتایا کہ یہ حادثہ ضلع صدر مقام سے 80 کلومیٹر دور پیش آیا اور کچھ مسافروں کو نکال کر نزدیکی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ بس صبح سیدھی سے روانہ ہوئی تھی اور ستنا جارہی تھی۔ صبح تقریباََ آٹھ بجے چھوہیا وادی میں جام کی وجہ سے نردیکی دوسرے راستے سے ستنا کے لئے روانہ ہوئی اور بان ساگر ڈیم پروجیکٹ کی نہر میں جا گری۔

کشن گنج بہار میں تین زرعی قوانین کے خلاف ایم آئی ایم کا اک روزہ دھرنا

0
کشن گنج بہار میں تین زرعی قوانین کے خلاف ایم آئی ایم کا اک روزہ دھرنا
کشن گنج بہار میں تین زرعی قوانین کے خلاف ایم آئی ایم کا اک روزہ دھرنا

مجلس اتحاد المسلمین بہار کے ریاستی صدر جناب اختر الایمان صاحب نے کہا کہ پنجاب و ہریانہ کے کسانوں کی حالت کے برعکس سیمانچل کے کسانوں کی حالت بدتر اس لئے کہ یہاں کے کسانوں کو اپنی فصل کی صحیح قیمت نہی ملتی۔

کشن گنج: مرکزی حکومت کے ذریعہ پاس کئے گئے کسان مخالف تین سیاہ قانونوں کے خلاف پیر کے روز کشن گنج ٹاؤن ہال کے قریب آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے بینر تلے منعقدہ ایک روزہ دھرنا مظاہرے میں اے آئی ایم آئی ایم بہار پردیش کے صدر اور اموراسمبلی حلقہ کے ایم ایل اے اختر الایمان صاحب نے دیگر ارکان اسمبلی کے ساتھ حصہ لیا۔

جناب اختر الایمان صاحب نے سوال اٹھایا کہ پورے ملک میں کسانوں کی حالت خراب کیوں ہے اور سیمانچل کے کسانوں کی حالت سب سے زیادہ خراب کیوں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم جب کسانوں کی بہتری کی بات کرتے ہیں تو پنجاب و ہریانہ کے کسانوں کو "مثالی” سمجھا جاتا ہے اور یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وہاں کے کسان مثالی کیسے ہوگئے۔

انہوں نے کہا کہ "آج سے 30  یا 40 سال قبل پنجاب کے لوگوں کی وہ بدحالی تھی کہ ان کی غربت کا ثبوت سڑکوں پر ملتا تھا۔ سر پر پگڑی باندھے پنجاب کے ہٹے کٹے نوجوان بسوں میں ڈرائیور، خلاصی اور کنڈکٹر کی شکل میں نظر آتے تھے۔” انہوں نے (معاف کیجئے گا کہتے ہوئے) کہا کہ ایک وقت تھا جب پنجاب کے ہمارے محنتی مزدور بھائی صفائی کرتے ہوئے نظر آتے تھے مگر آج حالات اس قدر بدل گئے ہیں کہ آج سیمانچل کے مزدورپنجابیوں کے یہاں مزدوری کرنے کے لئے مجبور ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان کی حالت اچھی کیسے ہوئی اور سیمانچل کے کسان مزدوروں کی حالت اتنی خراب کیسے ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ "در اصل پنجاب ہریانہ کے کسانوں کو ان کی فصل کی صحیح قیمت مل سکی لیکن سیمانچل کے کسانوں کو فصل کی قیمت نہیں مل سکی۔

جناب اخترالایمان صاحب نے علاقے کے کسانوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "آپ نے ہزاروں ٹن دھان اور مکا پیدا کئے لیکن اس کی مناسب قیمت نہیں مل سکی پھر بھی آپ کے چہرے پر غصہ کے آثار نظر نہیں آئے۔” انہوں نے تقریبا 3 ماہ سے جاری تین نئے زرعی قانونوں کے خلاف کسانوں کی تحریک پر پنجاب ہریانہ کے کسانوں کو مبارک باد دی اور کہا کہ “ہم مبارکباد دیتے ہیں ان ماؤں کو جنہوں نے ایسے جانبازوں کو جنم دیا ہے جو انتہائی سردی میں بھی ہمت نہ ہار کر مرکز کے خلاف برسرپیکار ہیں۔”

کہا جاتا ہے کہ سیمانچل کے کسانوں کو کبھی ایم ایس پی ملا ہی نہیں، بلکہ بہت سارے لوگوں کو پتہ ہی نہیں ہے کہ ایم ایس پی آخر ہے کیا۔ ایم ایس پی کے سوال پر مجلس اتحاد المسلمین کے بہار کے ریاستی صدر اور فلور لیڈر جناب اختر الایمان صاحب نے ہمس لائیو اردو کے نمائندہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ کسانوں کے درمیان اب تک کوئی بیداری کا کام نہیں ہوا اور کسانوں کی کوئی ایسی تنظیم بھی نہیں ہے۔ جو حال یہاں کے غیر منظم مزدوروں کا حال ہے وہی حال یہاں کے غیرمنظم کسانوں کا حال ہوگیا ہے۔ اس کے علاوہ یہاں دھان کی پلانٹیشن پہلے ہوتا ہے تو فصل بھی پہلے کاٹی جاتی ہے۔”

انہوں نے اس بارے میں مزید کہا کہ "اسی سال کی بات اگر کریں تو ہر چند کہ ہریانہ پنجاب وغیرہ کے کسانوں کی تحریک اٹھی ہے پنجاب میں تو اس سے دوسرے لوگ بھی خوفزدہ ہیں اور ہم نے سڑک پر دھرنا بھی دیا تھا، تو ابھی ایم ایس پی 1862 روپے ہے، لیکن یہاں کے وہ کسان جو پہلے ہی فصل کاٹ چکے ہیں وہ گیارہ بارہ سو روپے میں اپنے دھان کی فصل کو ردی کے داموں فروخت کر چکے ہیں۔ اس کی خریداری نومبر میں شروع ہوجاتی چاہیے۔ اس بات کو ہم پہلے بھی کہتے آئے ہیں، پھر مضبوطی سے اس بات کو اٹھائیں گے۔ مکا ہی کی بات اگر لے لیں تو اس کا دھرلے سے ایکسپورٹ ہو رہا ہے مگر یہاں کے کسان کوڑی کے دام پیچنے کو مجبور ہیں۔ یہاں 8 سے 9 سو روپے میں بیچنا پڑا۔”

انہوں نے سیمانچل کے کسانوں کی حالت زار اور برسر اقتدار پارٹیوں کے روے پر کہا کہ "جہاں تک اقتدار اور حزب اختلاف کی بات ہے تو دونوں کا سلوک ہم لوگوں نے دیکھا ہے کہ سیمانچل کے تعلق سے کسی کا رویہ درست نہیں رہا ہے سب نے اسے نظر انداز کیا ہے، یہی وجہ ہے کہ لوگوں نے اس بار ہم پر اعتماد کیا ہے۔ یہاں کے لوگوں نے تو بڑی بڑی جماعتوں کو دیکھا کہ سیمانچل کے مسائل پر کسی نے توجہ نہیں دی اس لئے علاقے کے مزدور کسانوں کو مجلس سے چنے گئے نمائندگان سے جو امیدیں ہیں اس پر کھڑے اتریں گے۔”

دھرنے میں سابق مرکزی وزیر جناب تسلیم الدین مرحوم کے صاحب زادے اور مجلس کے موجودہ ایم ایل اے جناب شاہنواز عالم صاحب، کوچا دھامن کے ایم ایل اے جناب اظہار اصفی صاحب، بہادر گنج اسمبلی حلقہ کے ایم ایل اے جناب انظار نعیمی صاحب موجود تھے۔

صحافیوں کو کووڈ – 19 ویکسینیشن گروپ میں شامل کرنے کا مطالبہ

0

جنرل سکریٹری انتھونی بیلانگر نے کہا ’’صحافی اہم اہلکار ہوتے ہیں اور انہیں قومی کووڈ – 19 ٹیکہ کاری مہمات کے تحت دنیا بھر میں ترجیحی گروپ میں ٹیکے لگائے جانے چاہئے‘‘۔

برازیلیا: انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس نے پیر کے روز برازیل، پیرو اور یوراوگوئے میں میڈیا اہلکاروں کو ویکسینیشن کے ترجیحی گروپ میں شامل کرنے کی درخواست کی۔

یونین کے جنرل سکریٹری انتھونی بیلانگر نے کہا ’’صحافی اہم اہلکار ہوتے ہیں اور انہیں قومی کووڈ ۔19 ٹیکہ کاری مہمات کے تحت دنیا بھر میں ترجیحی گروپ میں ٹیکے لگائے جانے چاہئے‘‘۔

برازیلین فیڈریشن آف جرنلسٹس نے اس بات پر زور دیا کہ طبی اہلکاروں، پولیس اور فائر بریگیڈ کے اہلکاروں کی طرح صحافی خود کو جوکھم میں ڈالتے ہیں اور ہر شہری کو قابل اعتماد اور عوامی مفادات سے متعلق معلومات کی ضمانت دیتے ہیں۔

واضح رہے کہ اس وبا کی وجہ سے پیرو میں اب تک 108 صحافیوں کی موت ہو چکی ہے۔

ڈوڈہ: سڑک حادثہ میں چھ لوگوں کی موت

0

ڈوڈہ کے رال نالہ میں شام تقریباً ساڑھے چھ بجے ایک وین حادثہ کا شکار ہوکر تقریباً 200 میٹر کھائی میں گر گئی جس سے دو خواتین، دو مردوں اور ایک بچے کی موت ہوگئی۔

جموں: جموں و کشمیر کے ڈوڈہ ضلع میں ایک وین کے سڑک سے پھسل کر کھائی میں گرجانے سے ایک بچے سمیت چھ لوگوں کی موت ہوگئی۔

پولیس نے یہاں بتایا کہ ڈوڈہ کے رال نالہ میں شام تقریباً ساڑھے چھ بجے ایک وین حادثہ کا شکار ہوکر تقریباً 200 میٹر کھائی میں گر گئی جس سے دو خواتین، دو مردوں اور ایک بچے کی موت ہوگئی۔ مرنے والوں کی شناخت راکیش کمار، ممتا دیوی، اسمرتا دیوی، ببلی دیوی اور چندر ریکھا کے طورپر کی گئی ہے۔ یہ تمام ناگری ڈوڈہ کے رہنے والے تھے۔

وزیراعظم کے دفتر میں مرکزی وزیرمملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے سڑک حادثہ کے متاثرین کو ضروری مدد کی پیشکش کی ہے۔ وہ کٹھوعہ۔ادھم پور حلقہ سے رکن پارلیمان ہیں۔

ڈاکٹر سنگھ نے ٹوئٹر پر کہا کہ ڈوڈہ کے راگی نالہ میں ہوئے افسوسناک میں بیش قیمتی زندگیوں کے نقصان سے دکھی ہوں، میں ابھی حالانکہ آسام میں ہوں لیکن ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر ساگر ڈوئی فوڈ سے بات کی اور انتظامیہ کی فوری کارروائی کی تعریف کی ہے۔

میانمار: مظاہرہ کیخلاف طاقت کے استعمال کے لئے فوج کو جوابدہ ہونا ہوگا

0
میانمار: مظاہرہ کیخلاف طاقت کے استعمال کے لئے فوج کو جوابدہ ہونا ہوگا
میانمار: مظاہرہ کیخلاف طاقت کے استعمال کے لئے فوج کو جوابدہ ہونا ہوگا

میانمار میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کے نمائندے ٹام اینڈریوز نے فوج کو وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے، جنرلوں! آپ کو اس کا جوابدہ ہونا ہوگا۔

نیپیڈو: میانمار میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کے خصوصی نمائندے ٹام اینڈریوز نے فوج کو متنبہ کیا ہے کہ وہ اپنے جرائم کا جوابدہ ہوگا۔

قابل ذکر ہے کہ یکم فروری کی بغاوت کے بعد ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور ملک بھر میں جمہوریت کی بحالی کے لئے احتجاج کر رہے ہیں۔ اس کے جواب میں فوج نے انٹرنیٹ بند کردیا ہے اور ملک کے بیشتر شہروں میں فوجیوں کو تعینات کردیا ہے۔

مسٹر اینڈریوز نے کہا ’’ایسا لگتا ہے کہ جرنلوں نے میانمار کے عوام کے خلاف جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ رات گئے چھاپوں، بڑی تعداد میں لوگوں کو گرفتار کیا، انٹرنیٹ بند کیا، برادریوں کے درمیان فوجی قافلوں کے داخلے یہ سارے اقدامات عوام کے خلاف جنگ جیسے ہیں یہ مایوسی کی علامات ہیں۔ وارننگ ہے جنرلوں! آپ کو اس کا جوابدہ ہونا ہوگا‘‘۔

نیٹ بلاک کی رپورٹ کے مطابق میانمارکی تقریبا تمام انٹرنیٹ خدمات آج صبح سویرے سے مکمل طور پر بند کردی جائیں گی۔

یہ بھی پڑھیں:

https://hamsliveurdu.com/wp-admin/post.php?post=2794&action=edit

وائٹ ہاؤس کے قریب بائیڈن کے نام خط کے ساتھ 66 سالہ خاتون گرفتار

0
وائٹ ہاؤس کے قریب بائیڈن کے نام خط کے ساتھ 66 سالہ خاتون گرفتار
وائٹ ہاؤس کے قریب بائیڈن کے نام خط کے ساتھ 66 سالہ خاتون گرفتار

پولیس کا کہنا ہے کہ اس خاتون نے اپنی کار میں بندوق لوڈ کی تھی اور اس کے ساتھ ایک مرد تھا اور اس کے پاس بی بی گن تھی۔ دونوں کو وائٹ ہاؤس کمپلیکس کے قریب سرچ مرکز سے گرفتار کیا گیا تھا۔

واشنگٹن: ایک 66 سالہ خاتون کو پولیس نے امریکی صدر جو بائیڈن کے نام خط کے ساتھ گرفتار کیا ہے۔

’فاکس نیوز‘ نے اطلاع دی ہے کہ پولیس نے وائٹ ہاؤس کے سرچ سنٹر کے قریب ہی خاتون کو گرفتار کیا۔

فاکس نیوز نے اتوار کے روز اپنی رپورٹ پولیس کے حوالہ سے بتایا ہے کہ پولیس کا کہنا ہے کہ اس خاتون نے اپنی کار میں بندوق لوڈ کی تھی اور اس کے ساتھ ایک مرد تھا اور اس کے پاس بی بی گن تھی۔ دونوں کو وائٹ ہاؤس کمپلیکس کے قریب سرچ مرکز سے گرفتار کیا گیا تھا۔ گرفتار خاتون کا کہنا ہے کہ وہ مسٹر بائیڈن کو ایک خط دینے جارہی تھی۔

دسمبر 2019 میں ووہان میں کورونا کی بارہ اقسام موجود تھیں: ڈبلیو ایچ او

0
دسمبر 2019 میں ووہان میں کورونا کی بارہ اقسام موجود تھیں: ڈبلیو ایچ او
دسمبر 2019 میں ووہان میں کورونا کی بارہ اقسام موجود تھیں: ڈبلیو ایچ او

ڈبلیو ایچ او کی ٹیم نے چینی شہر ووہان میں کورونا وائرس کی ابتدا سے متعلق تحقیقات کیں، ڈبلیو ایچ او حکام نے چین سے کورونا کے شکار ہزاروں افراد کے خون کے نمونوں تک رسائی طلب کی ہے۔

جنیوا: ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کی ٹیم نے انکشاف کیا ہے کہ دسمبر 2019 میں ووہان میں کورونا کی وبا اس سے زیادہ پھیل چکی تھی جتنا اس کا اندازہ لگایا گیا تھا۔

ڈبلیو ایچ او کی ٹیم نے چینی شہر ووہان میں کورونا وائرس کی ابتدا سے متعلق تحقیقات کیں، ڈبلیو ایچ او حکام نے چین سے کورونا کے شکار ہزاروں افراد کے خون کے نمونوں تک رسائی طلب کی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کی ٹیم کے تفتیش کار پیٹر بین نے بتایا کہ دسمبر 2019 میں ہی صرف ووہان شہر میں کورونا کی بارہ اقسام موجود تھیں۔

میانمار: فوج شہریوں کو ہراساں کرنا بند کرے: مغربی ممالک

0
میانمار: فوج شہریوں کو ہراساں کرنا بند کرے: مغربی ممالک
میانمار: فوج شہریوں کو ہراساں کرنا بند کرے: مغربی ممالک

مغربی ممالک کے سفارت خانوں کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم سیکیورٹی فورسز سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مظاہرین اور عام شہریوں کے خلاف تشدد سے گریز کریں۔

ینگون: میانمار میں مغربی ممالک کے اعلی سفارتکاروں نے فوج سے سیاست دانوں، سماجی کارکنوں اور صحافیوں کو پریشان کرنے اور گرفتاری روکنے کی اپیل کی ہے اور متنبہ کیا ہے کہ پوری دنیا اس واقعے کو دیکھ رہی ہے۔

مغربی ممالک کے سفارت خانوں کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم سیکیورٹی فورسز سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مظاہرین اور عام شہریوں کے خلاف تشدد سے گریز کریں۔ ہم سیاسی رہنماؤں، سول سوسائٹیز کے کارکنوں اور سماجی کارکنوں کے ساتھ ساتھ صحافیوں کو بھی تشدد کی مذمت کرتے ہیں۔

اس بیان پر امریکہ، کینیڈا، برطانیہ، سوئٹزرلینڈ، ناروے، یوروپی یونین کے وفود، اور ڈنمارک، جمہوریہ چیک، فن لینڈ، فرانس، جرمنی، اٹلی، نیدرلینڈ سمیت یوروپی یونین کے رکن ممالک کے سفیروں نے دستخط کئے ہیں۔

خیال رہے کہ میانمار میں فروری کی بغاوت کے بعد لوگ سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور جمہوریت کی بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ فوج کی گاڑیاں شہروں میں گشت کر رہی ہیں اور فوج بار بار مظاہرین پر فائرنگ کر رہی ہے۔