بدھ, ستمبر 30, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 397

واٹس ایپ: نئی شرائط اور پالیسیوں کو نہ ماننے والے صارفین 15 مئی کے بعد پیغامات کا تبادلہ نہیں کرسکیں گے

0
واٹس ایپ: نئی شرائط اور پالیسیوں کو نہ ماننے والے صارفین 15 مئی کے بعد پیغامات کا تبادلہ نہیں کرسکیں گے
واٹس ایپ: نئی شرائط اور پالیسیوں کو نہ ماننے والے صارفین 15 مئی کے بعد پیغامات کا تبادلہ نہیں کرسکیں گے

واٹس ایپ نے اپنی نئی شرائط اور پالیسیوں کو قبول کرنے کے لئے 15 مئی کی ڈیڈ لائن طے کی ہے۔ اگر صارف شرائط کو قبول نہیں کرتے ہیں تو وہ کالز اور اطلاعات تو موصول کرسکیں گے، لیکن وہ پیغامات وصول کرنے یا بھیجنے کے اہل نہیں ہوں گے۔

ماسکو: مقبول میسنجر ایپ واٹس ایپ نے اپنی نئی شرائط اور پالیسیوں کو قبول کرنے کے لئے 15 مئی کی ڈیڈ لائن طے کی ہے اور جو صارفین اسے قبول نہیں کرتے ہیں وہ اس مدت کے بعد پیغامات کا تبادلہ نہیں کرسکیں گے۔

’ٹیک کرنچ‘ نے فیس بک کی ملکیت والی واٹس ایپ کے ای میل کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں یہ اطلاع دی ہے۔

واٹس ایپ نے اس ہفتہ کے شروع میں کہا تھا کہ اس سے صارفین کو اپنی پرائیویسی اپ ڈیٹ کا بغور جائزہ لینے اور نئی شرائط پر عمل کرنے کے لئے انکوائری کرنے کی اجازت ہوگی۔

ای میل میں کہا گیا ہے کہ اگر صارف شرائط کو قبول نہیں کرتے ہیں تو وہ کالز اور اطلاعات تو موصول کرسکیں گے، لیکن وہ پیغامات وصول کرنے یا بھیجنے کے اہل نہیں ہوں گے۔

خیال رہے واٹس ایپ نے حال ہی میں ایک نئی پالیسی اور شرط کا اعلان کیا ہے جس کے تحت وہ اپنی کمپنی فیس بک کے ساتھ ڈیٹا شیئر کرسکتی ہے۔

امریکہ کے لوزیانا میں بندوق کی دکان پر فائرنگ، تین افراد ہلاک

0
امریکہ کے لوزیانا میں بندوق کی دکان پر فائرنگ، تین افراد ہلاک
امریکہ کے لوزیانا میں بندوق کی دکان پر فائرنگ، تین افراد ہلاک

ابتدائی اطلاعات کے مطابق مشتبہ شخص نے جائے وقوعہ پر پہلے دو افراد کو گولی ماری اس کے بعد معاملہ بڑھتا چلا گیا اور دکان کے باہر سے بھی کچھ لوگوں نے گولیاں چلائیں۔ اس واقعہ میں مردہ پائے جانے والوں میں مشتبہ حملہ آور بھی شامل ہے۔

لوزیانا: امریکہ میں ریاست لوزیانا اسٹیٹ کے مٹیریئے علاقے میں بندوق کی دکان پر فائرنگ کے تبادلے میں 3 افراد ہلاک ہوگئے۔ جیفرسن پیرش شیرف آفس نے ایک بیان جاری کرکے یہ اطلاع دی۔
جیفرسن پیرش شیرف کے دفتر نے بتایا ’’ایئر لائن ڈرائیو کی جیفرون گن شاپ پر فائرنگ کا واقعہ ہفتے کے روز صبح آٹھ بجکر پچاس کے قریب ریکارڈ کیا گیا۔ فائرنگ سے متعدد افراد زخمی ہوگئے اور تین افراد موقع پر ہی ہلاک اور دو دیگر زخمی افراد کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ دیگر دو زخمیوں کی حالت اب مستحکم ہے‘‘۔
پولیس کا کہنا ہے ’’واقعہ میں شامل مشتبہ شخص بھی جائے وقوع پر ہی مردہ پایا گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق مشتبہ شخص نے جائے وقوعہ پر پہلے دو افراد کو گولی ماری اس کے بعد معاملہ بڑھتا چلا گیا اور دکان کے باہر سے بھی کچھ لوگوں نے گولیاں چلائیں۔ اس واقعہ میں مردہ پائے جانے والوں میں مشتبہ حملہ آور بھی شامل ہے۔
تاہم پولیس نے بتایا کہ ابھی تک اس واقعے کی وجوہات کا پتہ نہیں چل سکا ہے۔

امریکہ کا چین کے نئے کوسٹ گارڈ قانون پر تشویش کا اظہار

0
امریکہ کا چین کے نئے کوسٹ گارڈ قانون پر تشویش کا اظہار
امریکہ کا چین کے نئے کوسٹ گارڈ قانون پر تشویش کا اظہار

چین نے گزشتہ مہینے کوسٹ گارڈ کا نیا قانون پاس کیا تھا جس کے تحت اپنے ساحلی محافظوں کو غیر ملکی جہازوں پر حملہ کرنے کی واضح طور پر اجازت دی گئی ہے۔

واشنگٹن: ہفتہ کے روز امریکہ نے چین کے نئے کوسٹ گارڈ قانون پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانون سمندری تنازعات کو بڑھا سکتا ہے اور غیر قانونی دعوؤں پر بھی زور دے سکتا ہے۔

چین کا مشرقی بحیرہ چین اور بحیرہ جنوبی چین دونوں بہت سے ہمسایہ ممالک کے ساتھ چین کے سمندری تنازعات ہیں۔ چین نے گزشتہ مہینے کوسٹ گارڈ کا نیا قانون پاس کیا تھا جس کے تحت اپنے ساحلی محافظوں کو غیر ملکی جہازوں پر حملہ کرنے کی واضح طور پر اجازت دی گئی ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے اس قانون پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس قانون سے سمندری تنازعات میں اضافہ ہوگا اور یہ قانون غیر قانونی دعوؤں پر بھی مجبور ہوگا۔

پٹرول – ڈیزل قیمت: مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو کرنی چاہئے بات چیت: سیتارمن

0
پٹرول - ڈیزل قیمت: مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو کرنی چاہئے بات چیت: سیتارمن
پٹرول - ڈیزل قیمت: مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو کرنی چاہئے بات چیت: سیتارمن

محترمہ سیتارمن نے یہاں پٹرول اور ڈیزل کی بڑھ رہی قیمتوں کو لے کر کہا کہ یہ ایک شدید مسئلہ ہے اور قیمتوں میں کمی کے علاوہ کوئی بھی جواب لوگوں کو مطمئن نہیں کر سکتا۔ صارفین کے لئے خوردہ ایندھن کی قیمت میں کمی لانے کے لئے مرکز اور ریاستی حکومتوں کو بات کرنی چاہئے۔

چنئی: مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کو شدید مسئلہ قرار دیتے ہوئے ہفتے کو کہا کہ صارفین کو راحت دلانے کے لئے مرکز اور ریاستی حکومتوں کو بات کرنی چاہئے۔

محترمہ سیتارمن نے یہاں پٹرول اور ڈیزل کی بڑھ رہی قیمتوں کو لے کر کہا کہ یہ ایک شدید مسئلہ ہے اور قیمتوں میں کمی کے علاوہ کوئی بھی جواب لوگوں کو مطمئن نہیں کر سکتا۔ صارفین کے لئے خوردہ ایندھن کی قیمت میں کمی لانے کے لئے مرکز اور ریاستی حکومتوں کو بات کرنی چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کے درآمداتی ملکوں کی تنظیم (او پی کے) نے پیداوار کا جو اندازہ لگایا تھا، اس میں بھی کمی آنے کا امکان ہے، جس سے تشویش اور بڑھ رہی ہے۔ تیل کی قیمت پر حکومت کا کنٹرول نہیں ہے۔ اسے تکنیکی طور پر آزاد کردیا گیا ہے۔ تیل کمپنیاں خام تیل درآمدات کرتی ہیں، ریفائن کرتی ہیں اور بیچتی ہیں۔

واضح رہے کہ بین الاقوامی بازار میں خام تیل میں نرمی کے باوجود گھریلو سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں تیزی کا رخ مسلسل 12 ویں دن بھی بنا رہا اور قومی دارالحکومت دہلی میں پٹرول آج 39 پیسے بڑھکر 90.58 روپے فی لیٹر پر اور ڈیزل 37 پیسے بڑھکر 80.97 روپے فی لیٹر پر پہنچ گیا۔ ملک کے کئی شہروں میں پٹرول کی قیمت 100 روپے فی لیٹر کے پار پہنچ چکی ہے۔

اسرائیل میں ایک لاکھ فلسطینی کارکنوں کو کورونا ویکسین لگائی گئی

0
فلسطین اور اسرائیلی وزارت صحت کے نمائندوں کے مابین ہونے والی میٹنگ میں اس پر اتفاق ہوا ہے کہ دونوں فریق کورونا وائرس کے نئے اسٹرین کو پھیلنے سے روکنے کے لئے تعاون کریں
فلسطین اور اسرائیلی وزارت صحت کے نمائندوں کے مابین ہونے والی میٹنگ میں اس پر اتفاق ہوا ہے کہ دونوں فریق کورونا وائرس کے نئے اسٹرین کو پھیلنے سے روکنے کے لئے تعاون کریں

فلسطین اور اسرائیلی وزارت صحت کے نمائندوں کے مابین ہونے والی میٹنگ میں اس پر اتفاق ہوا ہے کہ دونوں فریق کورونا وائرس کے نئے اسٹرین کو پھیلنے سے روکنے کے لئے تعاون کریں

غزہ: اسرائیل نے کووڈ ۔19 کو ملک میں کام کرنے والے تقریبا 10 لاکھ فلسطینی کارکنوں کو ویکسی نیٹ کرنے پر اتفاق کا اظہارکیا ہے۔

وزارت صحت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق فلسطین اور اسرائیلی وزارت صحت کے نمائندوں کے مابین ہونے والی میٹنگ میں اس پر اتفاق کیا۔ میٹنگ میں دونوں فریقوں نے کورونا وائرس کے نئے اسٹرین کو پھیلنے سے روکنے کے لئے تعاون کرنے کا فیصلہ کیا۔

اسرائیل میں کووڈ ۔19 ویکسین دینے کی مہم جاری ہے۔ اب تک ویکسین کی پہلی خوراک 40 لاکھ سے زائد افراد کو دی جا چکی ہے اور 20.5 لاکھ افراد کو مکمل طور پر ویکسین دی جاچکی ہے۔

حکومت کے فیصلوں پر بے اطمینانی کے درمیان ٹوئیٹر، ٹول کٹ اور کسان تحریک

0
حکومت کے فیصلوں پر بے اطمینانی کے درمیان ٹوئیٹر، ٹول کٹ اور کسان تحریک
حکومت کے فیصلوں پر بے اطمینانی کے درمیان ٹوئیٹر، ٹول کٹ اور کسان تحریک

کسی بھی جمہوری ملک میں حکومت کے خلاف آواز بلند کرنا کوئی جرم نہیں ہے۔ لیکن اب ملک میں ایسا ماحول پیدا کر دیا گیا ہے کہ اگر حکومت وقت کے فیصلوں پر کوئی اعتراض کرے یا نا اتفاقی ظاہر کرے تو اسے حکومت کا نہیں بلکہ ملک کا دشمن سمجھ لیا جاتا ہے

تحریر: ڈاکٹر یامین انصاری

حکومت کے فیصلوں پر نا اتفاقی اور عدم اطمینان کوئی نئی بات نہیں ہے۔ جمہوریت میں اس نا اتفاقی اور عدم اطمینانی کے خلاف عوام کو اپنی بات رکھنے کا پورا حق بھی حاصل ہوتا ہے۔ کسی بھی جمہوری ملک کی خوبصورتی بھی یہی ہوتی ہے کہ اس ملک کے عوام کو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اظہار رائے کی آزادی حاصل ہو۔ اس میں وہ حکومت کے فیصلوں اور اس کے اقدامات پر بلا جھجک اپنے رائے پیش کر سکیں۔ اگر وہ حکومت کے اقدامات سے مطمئن ہیں تب بھی اور اگر مطمئن نہیں ہیں، تب بھی۔

یعنی عوام اپنی آواز براہ راست یا حزب اختلاف کے ذریعہ سرکاری ایوانوں تک پہنچا سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ آزادی کے بعد ملک میں نہ جانے کتنے چھوٹے بڑے، کامیاب اور ناکام احتجاج ہوئے ہیں۔ احتجاجات کے دوران کئی مرتبہ حکومت اور عوام کے درمیان ٹکراؤ کی نوبت بھی آئی، لیکن ان حکومتوں نے نہ تو اپنی ضد میں عوام کی آواز دبانے کی کوشش کی اور نہ ہی انھیں ملک دشمن یا غدار ٹھہرایا گیا۔

چونکہ کسی بھی جمہوری ملک میں حکومت کے خلاف آواز بلند کرنا کوئی جرم نہیں ہے۔ لیکن گزشتہ چند برسوں کے دوران ملک میں ایسا ماحول پیدا کر دیا گیا ہے کہ اگر حکومت وقت کے فیصلوں پر کوئی اعتراض کرتا ہے یا نا اتفاقی ظاہر کرتا ہے تو اسے حکومت کا نہیں، ملک کا دشمن سمجھ لیا جاتا ہے، اسے مجرم ٹھہرا دیا جاتا ہے۔ یعنی آج ملک میں یہ ایک رواج بن چکا ہے اور ایک طرح سے اس رواج کو سرکاری سند حاصل ہو گئی ہے۔

ہم بار بار اس بات کا مشاہدہ کر رہے ہیں کہ پچھلے کچھ برسوں میں جب بھی عوامی احتجاج ہوئے ہیں، انھیں سبوتاژ کرنے کے لئے نئے نئے حربے تو استعمال کئے ہی گئے ہیں، ساتھ ہی مظاہرین اور احتجاج کرنے والوں کو ملک دشمن اور غدار ثابت کیا جا رہا ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثالیں طلبہ کی تحریک، شہریت ترمیمی قانون مخالف احتجاج اور کسان تحریک ہیں۔

اس وقت ملک ہی نہیں، پوری دنیا کی نظریں تقریباً تین ماہ سے جاری کسانوں کے احتجاج پر ہیں۔ اس تحریک کو ختم کرنے کے لئے ہر طرحکے حربے استعمال کئے جا رہے ہیں۔ کبھی اسے ڈیڑھ ریاست کا احتجاج کہا جاتا ہے، کبھی کہا جاتا ہے کہ اس میں چند کسان شامل ہیں، کبھی اسے نکسلیوں اور ماؤ نوازوں کا احتجاج کہا جا تا ہے، کبھی خالصتانی اوردہشت گرد کہہ کر بدنام کیا جاتا ہے۔ اگر چہ ابھی تک کوئی الزام ثابت نہیں ہو سکا ہے۔ ان سب سے بھی بات نہیں بنتی تو حکمراں جماعت کے لیڈر اور کارکنان احتجاج گاہوں پر خلفشار مچاتے ہیں، توڑ پھور اور مار پیٹ کرتے ہیں۔ لیکن اس کے بعد بھی پر عزم اور مضبوط ارادوں کے ساتھ پر امن طریقے سے دھرنے پر بیٹھے کسانوں کے سامنے ان لوگوں کو مایوسی ہاتھ لگتی ہے۔ کل ملا کر کوشش یہ ہے کہ کسی بھی طرح یہ احتجاج ختم ہوجائے۔

ایسا بھی نہیں ہے کہ کسان احتجاج ختم کرنا ہی نہیں چاہتے۔ ان کا سیدھا کہنا ہے کہ تینوں زرعی قانون واپس لے لئے جائیں، وہ اپنا احتجاج واپس لے لیں گے۔ بہر حال، اب جبکہ یہ احتجاج بین الاقوامی سطح پر سرخیاں بن رہا ہے اور عالمی شہرت یافتہ شخصیات اس کی حمایت میں سامنے آئی ہیں تو اس میں نئے تنازعات بھی پیدا ہوئے ہیں۔ 26 جنوری کے افسوسناک واقعہ کے بعد حکومت نے سماجی رابطہ کی اہم ویب سائٹ ٹوئیٹر پر شکنجہ کسنے کی کوشش کی۔ اس کے تحت ٹوئیٹر کو تقریباً 1500 اکاؤنٹس کی فہرست دی گئی۔ جس میں کہا گیا کہ حکومت چاہتی ہے کہ ٹوئیٹر ان اکاؤنٹس کو بلاک کر دے، جن پر وزیرِ اعظم مودی اور حکومت کے خلاف ہیش ٹیگ کے ذریعہ مختلف ٹرینڈس چلائے جا رہے ہیں۔

حالانکہ حکومت نے جن اکاؤنٹس کو بلاک کرنے کی ہدایت دی تھی، ان میں کئی صحافیوں، خبررساں اداروں، اپوزیشن لیڈران اور سماجی کارکنان کے اکاؤنٹس بھی شامل تھے۔ ٹوئیٹر نے پہلے ان میں سے کچھ کو بلاک کیا، لیکن پھر ان کو بحال کر دیا۔ حکومت نے ایک بار پھر ٹوئیٹر کو نوٹس جاری کیا اور آخر کار ٹوئیٹر نے جانچ کے بعد ایسے تقریباً 90 سے 95 فیصد اکاؤنٹس بلاک کر دیے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ ان اکاؤنٹس پر غلط، اشتعال انگیز اور گمراہ کن مواد پوسٹ کیے جا رہے تھے اور ان میں سے کئی اکاؤنٹس کا تعلق خالصتان تحریک سے وابستہ تنظیموں سے تھا۔

اس سے پہلے مرکزی وزیر برائے اطلاعتی ٹکنالوجی روی شنکر پرساد نے پارلیمنٹ میں بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ ٹوئیٹر کو ہندوستانی آئین کے دائرے میں رہ کر کام کرنا ہو گا، ورنہ اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ حکومت نے ٹوئیٹر پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اس نے امریکہ کے کیپٹل ہل پر ہوئے مظاہرے اوردہلی میں 26 جنوری کو لال قلعہ پر پیش آنے والے واقعات پر یکساں رخ اختیار نہیں کیا۔لیکن کیا حکومت اس بات کا جواب دے سکتی ہے کہ ٹوئیٹر پر اشتعال انگیزی اور نفرت پھیلانے والوں کے خلاف اس نے یکساں رویہ اختیار کیا؟

کسانوں کے احتجاج کے درمیان اب ایک نیا لفظ ’ٹول کٹ‘ سامنے آیا ہے۔ میڈیا کے ذریعہ اس ’ٹول کٹ‘ اور اس کو استعمال کرنے والوں کو ایسے پیش کیا جا رہا ہے کہ جیسے خونخوار دہشت گرد اور ہتھیاروں کا بڑا ذخیرہ پولیس کے ہاتھ لگ گیا ہے۔ بنگلور سے ماحولیاتی کارکن دشا روی کی گرفتاری کے بعد جب دہلی پولیس نے پریس کانفرنس کی تو ایسا ماناجا رہا تھا کہ وہ اس خوفناک’ ‘ٹول کٹ‘ کے بارے میں کچھ سنسنی خیز انکشافات کرے گی۔ لیکن دہلی پولیس کے جوائنٹ کمشنر نے کچھ لوگوں کو ٹول کٹ کے ذریعہ بد امنی پھیلانے کی کوشش کا مرتکب تو مانا، لیکن یہ ثابت نہیں ہو سکا کہ یہ لوگ بد امنی یا خلفشار پیدا کرنے میں کامیاب ہو سکے۔

اگرچہ دہلی پولیس نے اس پورے معاملہ کو 26 جنوری کو دہلی میں ہوئے تشدد کے معاملے سے بھی جوڑا۔ پولیس کے مطابق ٹول کٹ کا مقصد’ٹوئیٹر اسٹارمنگ‘ یعنی ٹوئیٹر پرآندھی جیسی کیفیت پیدا کرکے حکومت کے خلاف بے اطمینانی پیدا کرنا تھا۔دہلی پولیس نے نکیتا جیکب،شانتانو، پنیت اور دشا روی کو ٹول کٹ تیار کرنے اور اس کو ایڈٹ کرنے کا ملزم مانا ہے۔ پولیس نے بتایا کہ تفتیش کے دوران، ٹول کٹ کے آن لائن اسکرین شاٹس کی جانچ کی گئی اور جانچ میں معلومات ملنے کے بعد ٹول کٹ گوگل دستاویز کو ایڈٹ کرنے پر نکیتا جیکب کے خلاف سرچ وارنٹ جاری کیا گیا۔

در اصل جس ٹول کٹ کو تعصب پرست میڈیا انتہائی خطرناک آلہ بتا رہا ہے، وہ بظاہر زیادہ سے زیادہ کسانوں کی تحریک کے بارے میں معلومات دینے، اس میں شامل ہونے کی دعوت دینے یا اس میں شامل ہونے کی معلومات دینے کاٹول کٹ معلوم ہوتا ہے، نہ کہ کسی تشدد، خون خرابہ یاملک سے غداری کی سازش کا ٹول کٹ۔

ویسے ٹکنالوجی اور سوشل میڈیا کے اس دور میںکوئی بھی تحریک، ادارہ یا گروپ اپنے اہداف کے لئے ٹول کٹ بنا سکتا ہے۔ اس سے قبل بھی یہ ٹول کٹس بن چکے ہیں۔ لیکن میڈیا کا ایک طبقہ عوام کے سامنے اسے ایسے پیش کر رہا ہے کہ یہ کوئی نئی انتہائی خطرناک چیز ہے اور اس کا نام پہلی بار سامنے آیا ہے۔ آخر پولیس کی مکمل جانچ سے پہلے ہی میڈیا ٹول کٹ کو دہشت گردی اور علیحدگی پسندی کی دستاویز ثابت کرنے کی کوشش کیوں کر رہا ہے؟

در اصل حکومت وقت نے احتجاج اور مخالفت کو دبانے کے لئے اب تک جو طریقے اختیار کئے ہیں، کسان تحریک اور کسانوں کی حمایت کرنے والوں کے خلاف بھی وہی طریقہ اختیار کیا جا رہا ہے۔ یعنی حکومت واضح طور پر یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ اگر آپ کسی سرکاری اقدام یا کسی سرکاری فیصلے کی مخالفت کرتے ہیں تو پھر سزا کا سامنا کرنے کے لئے بھی تیار رہیں۔ اسے حکومت کا خوف کہیں یا پھر عوام کو خوفزدہ کرنے کا طریقہ، لیکن اتنا تو سمجھ میں آتا ہے کہ جب کوئی سرکار عوام کی اپنے حقوق کے تئیں بیداری سے خائف ہو جاتی ہے تو وہ اپنے عوام کو احتجاج اور مظاہروں سے روکنے کی کوشش کرتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ حکمراں طبقہ جب طلبہ مظاہرہ کریں توو ہ ٹکڑے ٹکڑے گینگ، سماجی کارکن مظاہرہ کریں تو اربن نکسل، مسلمان مظاہرہ کریں تو وہ پاکستانی اور ملک دشمن، کسان اور سکھ مظاہرہ کریں تو وہ خالصتانی اور غدارکے خطابات سے نوازتا ہے۔ لیکن اب سچائی پوری دنیا کے سامنے آشکار ہو چکی ہے۔

(مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں)

مضمون نگار کی رائے سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ

0
پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ
پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں اب تک اعلیٰ ترین سطح تک پہنچ گئی ہیں۔ فی الحال دونوں ایندھن کی قیمتیں تقریبا ہر شہر میں اعلی ترین سطح پر چل رہی ہیں۔ کچھ شہروں میں یہ 100 روپیہ کی سطح کو بھی عبور کرچکا ہے۔

نئی دہلی: بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل میں نرمی کے باوجود گھریلو سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کے سلسلہ لگاتار 12 ویں روز بھی جاری رہا۔ دارالحکومت دہلی میں آج پٹرول 39 پیسے کے اضافے سے 90.58 روپے اور ڈیزل 37 پیسے کے اضافے کے ساتھ 80.97 روپے فی لیٹر ہوگیا۔

آئل مارکیٹنگ کی سرکاری کمپنی انڈین آئل کارپوریشن کے مطابق دارالحکومت دہلی میں پٹرول میں 39 پیسے اور ڈیزل میں 37 پیسے فی لیٹر کا اضافہ ہوا ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں اب تک اعلیٰ ترین سطح تک پہنچ گئی ہیں۔ فی الحال دونوں ایندھن کی قیمتیں تقریبا ہر شہر میں اعلی ترین سطح پر چل رہی ہیں۔ کچھ شہروں میں یہ 100 روپیہ کی سطح کو بھی عبور کرچکا ہے۔

نیا سال پٹرولیم ایندھن کیلئے اچھا نہیں رہا۔ جنوری اور فروری میں اب تک پٹرول 24 دن مہنگا ہوا اور ان 24 دنوں میں یہ 06.77 روپے مہنگا ہوچکا ہے۔ پٹرول کے ساتھ ساتھ ڈیزل کی قیمت بھی ریکارڈ بنانے کے راستے پر گامزن ہے۔ نئے سال کے 24 دن کے دوران ڈیزل 07.10 روپے فی لیٹر مہنگا ہوا ہے۔

ملک کے چار بڑے شہروں میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں مندرجہ ذیل ہیں۔

شہر   پیٹرول   ڈیزل

دہلی    90.58 80.97

ممبئی  97.00 88.06

چنئی   92.59 85.98

کولکتہ  91.78 84.56

ایران پر پابندیاں کم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں: وائٹ ہاؤس

0
ایران پر پابندیاں کم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں: وائٹ ہاؤس
ایران پر پابندیاں کم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں: وائٹ ہاؤس

امریکہ کی بائیڈن انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ 2015 کے جوہری معاہدے پر دوبارہ عمل درآمد کے لئے ایران کے ساتھ بات چیت کا آغاز کرنے کے لئے تیار ہے۔

واشنگٹن: امریکہ نے کہا ہے کہ وہ جوہری معاہدے سے متعلق ’پی 5 پلس ون‘ کے ’غیر رسمی میٹنگ‘ سے قبل ایران پر پابندیوں میں نرمی لانے کا ارادہ نہیں کررہا ہے۔

جمعہ کو وائٹ ہاؤس کے ترجمان جین ساکی نے کہا ’’ہم نے بات چیت کے علاوہ کسی اور اقدام کے بارے میں نہیں سوچا ہے۔ یہ میٹنگ صرف گفتگو کو آگے بڑھانے کے لئے ہے‘‘۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ امریکہ کی بائیڈن انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ 2015 کے جوہری معاہدے پر دوبارہ عمل درآمد کے لئے ایران کے ساتھ بات چیت کا آغاز کرنے کے لئے تیار ہے۔ خیال رہے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لئے تاریخی معاہدے سے دستبرداری کا فیصلہ کیا تھا۔

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے اپنے یوروپی اتحادیوں کے ساتھ ملاقات کے بعد اعلان کیا کہ اگر ایران معاہدے کی مکمل تعمیل کرتا ہے تو امریکہ مشترکہ ایکشن پلان (جے سی پی او اے) میں واپس آجائے گا۔

محکمہ خارجہ نے کہا کہ وہ ’پی 5 پلس 1‘ کے ساتھ  ’غیر رسمی ملاقات‘ کے لئے تیار ہے، یعنی ایران سمیت معاہدے کے سلسلے میں فریقین کے ساتھ ملاقات کے لئے، جس کی پیش کش یورپی یونین کے عہدیدار کے ذریعہ کی جائے گی۔ بائیڈن انتظامیہ کا اقتدار میں آنے کے بعد یہ سب سے زیادہ ٹھوس اقدام ہے جو ایٹمی معاہدے پر ایران کے ساتھ براہ راست جڑنے کی سمت میں تیار کیا گیا ہے۔

اسے بھی پڑھیں:

امریکی پابندیوں کے خلاف ایران نے کھٹکھٹایا عالمی عدالت انصاف کا دروازہ 

میانمار میں فوج نے ویکیپیڈیا پر عائد کردی پابندی 

0
میانمار میں فوج نے ویکیپیڈیا پر عائد کردی پابندی 
میانمار میں فوج نے ویکیپیڈیا پر عائد کردی پابندی 

نیٹ بلاکس نے ٹویٹ کیا کہ میانمار کی فوج نے انٹرنیٹ پر ویکیپیڈیا تک تمام زبانوں میں رسائی روک دی ہے۔

نیپڈو: میانمار میں فوجی بغاوت کے بعد ہونے والے احتجاج کے دوران فوج نے ملک کی تمام زبانوں میں ویکیپیڈیا تک رسائی کو روک دیا ہے۔ یہ اطلاع نیٹ بلاک کی مانیٹرنگ سروس نے دی ہے۔

جمعہ کو نیٹ بلاکس نے ٹویٹ کیا ’’میانمار کی فوج نے انٹرنیٹ پر ویکیپیڈیا تک تمام زبانوں میں رسائی روک دی ہے۔ یہ پابندی میانمار کی فوج کی جانب سے انٹرنیٹ پر عائد پابندی کا ایک حصہ ہے۔‘‘

نیٹ بلاکس نے کہا ہے کہ فوج نے گذشتہ چھ دن سے ملک میں انٹرنیٹ سروس پر پابندی عائد کردی ہے۔ قابل ذکر اور اہم بات یہ ہے کہ یکم فروری کو میانمار کی فوج نے تختہ پلٹ کر پارلیمنٹ کے منتخب ممبروں کو گرفتار کرلیا۔

فوج نے ایک سال کے لئے ہنگامی حالات نافذ کردی اور اس کے بعد انتخابات کرانے کا وعدہ کیا۔ تب فوج نے میانمار میں ایک سال کے لئے ہنگامی حالات کا اعلان کیا اور اس مدت کے آخر میں انتخابات کرانے کا وعدہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں:

میانمار کے فوجی حکام پر امریکہ نے عائد کی پابندی

نئے زرعی قوانین کی مخالفت میں رانچی میں 17 مئی کو کسان مہا پنچایت

0
نئے زرعی قوانین کی مخالفت میں رانچی میں 17 مئی کو کسان مہا پنچایت
نئے زرعی قوانین کی مخالفت میں رانچی میں 17 مئی کو کسان مہا پنچایت

سابق رکن پارلیمنٹ بھونیشور پرساد مہتا نے کہا کہ مودی حکومت میں ملک کا کسان، نوجوان اور مزدور سبھی متاثر ہیں۔ مہنگائی عروج پر ہے۔ جس کی وجہ سے عوام الناس کا جینا دوبھر ہوگیا ہے۔ اس لئے کسان تحریک میں اظہار یکجہتی کیلئے جھارکھنڈ کی کسان تنظیمیں مسلسل تحریک کر رہی ہیں۔

رانچی: نئے زرعی قوانین کے خلاف جھارکھنڈ کے دارالحکومت رانچی کے مورہا بادی میدان میں آئندہ 17 مئی کو کسان مہا پنچایت کا انعقاد کیا جائے گا۔

دارالحکومت رانچی کے سی پی آئی دفتر میں بایاں محاذ کسان سنگھرش کوآڑ ڈینیشن کمیٹی کا اجلاس پارٹی کے ریاستی سکریٹری گوپی کانت بخشی کی صدارت میں جمعہ کو ہوئی جس میں اہم طور سے سی پی آئی کے ریاستی سکریٹری اور سابق رکن پارلیمنٹ بھونیشور پرساد مہتا، سی آئی ایم ایل کے ریاستی سکریٹری جناردن پرساد، پرفل لنڈا، مھلتیش سنگھ سمیت دیگر افراد موجود تھے۔

مودی حکومت ہٹ دھرمی کو اپنائے ہوئے کسان تحریک کو نظر انداز کر رہی ہے

اجلاس کے بعد نامہ نگاروں کو خطاب کرتے ہوئے سابق رکن پارلیمنٹ بھونیشور پرساد مہتا نے کہا کہ مرکز کی مودی حکومت ہٹ دھرمی کو اپنائے ہوئے کسان تحریک کو نظر انداز کر رہی ہے اس لئے ڈھائی ماہ سے زیادہ وقت سے لاکھوں کسان دہلی کے سرحدوں پر بیٹھے ہیں۔ اس حکومت میں ملک کا کسان، نوجوان اور مزدور سبھی متاثر ہیں۔ مہنگائی عروج پر ہے۔ جس کی وجہ سے عوام الناس کا جینا دوبھر ہوگیا ہے۔ اس لئے کسان تحریک میں اظہار یکجہتی کیلئے جھارکھنڈ کی کسان تنظیمیں مسلسل تحریک کر رہی ہیں۔

مہا پنچایت میں وزیراعلیٰ مسٹر سورین بھی مدعو

مسٹر مہتا نے کہا کہ ریاست میں کسان تنظیموں کی تحریک کو مزید تیز کرتے ہوئے مارچ مہینے سے پنچایت، گاﺅں سے لیکر بلاک اور ضلع سطح تک کسان پنچایت کا انعقاد پوری ریاست میں کیا جائے گا۔ اپریل ماہ میں ڈویژنل کسان پنچایت اور 17 مئی کو رانچی کے مورہا بادی میدان میں کسان مہا پنچایت ریلی کا انعقاد کیا جائے گا۔ اس مہا پنچایت میں سبھی اپوزیشن جماعتوں کے لیڈران کے ساتھ ہی وزیراعلیٰ مسٹر سورین کو بھی مدعو کیا جائے گا۔

سی پی آئی لیڈر نے کہا کہ رانچی کے کسان مہا پنچایت میں شامل ہونے کیلئے کئی گاﺅں سے ہزاروں کی تعداد میں کسان پیدل مارچ کر کے بھی رانچی پہنچیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی کے خلاف مرکز کی مودی حکومت کا پتلا 21 فروری کو پوری ریاست میں گاﺅں سے لیکر شہر تک نذرآتش کیا جائے گا۔

مسٹر مہتو نے بی جے پی کو مہنگائی کی وجہ بتایا اور کہاکہ سرمایہ داروں کو فائدہ پہنچانے کیلئے حکومت عوام الناس پر قہر پربا کر رہی ہے ۔ عام عوام کو بھی اب بیدار ہوکر مرکز کی عوام مخالف پالیسیوں کے خلاف سڑکوں پر اترنا چاہئے۔