جمعرات, اکتوبر 1, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 391

کولکتہ میں مشرقی ریلوے کے دفتر میں آتشزدگی، 9 افراد ہلاک

0
کولکتہ میں مشرقی ریلوے کے دفتر میں آتشزدگی، 9 افراد ہلاک
کولکتہ میں مشرقی ریلوے کے دفتر میں آتشزدگی، 9 افراد ہلاک

کولکتہ میں مشرقی ریلوے کے دفتر کی 13 منزل پر آگ لگنے سے 9 لوگوں کی موت ہوگئی. ممتا بنرجی نے رات دس بجکر 15 منٹ پر واقعہ کا معائنہ کیا اور مرنے والوں کے کنبے کو دس دس لاکھ روپے اور کنبے کے ایک رکن کو سرکاری نوکری دینے کا اعلان کیا۔

کولکتہ: مغربی بنگال کے کولکتہ میں اسٹرینڈ روڈ پر واقع مشرقی ریلوے کے دفتر کی 13 منزل پر آگ لگنے سے کم از کم 9 لوگوں کی موت ہوگئی ہے۔

آگ لگنے کا واقعہ پیر کی شام 6 بجکر دس منٹ پر پیش آیا۔ مرنے والوں میں چار فائر بریگیڈ کے اہلکار، دو ریلوے کے ملازمین اور پولیس کا ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر شامل ہیں۔

مشرقی ریلوے کے ایک ملازم نے بتایا کہ 13 ویں منزل پر اکاؤنٹنگ آفس ہے۔

وزیراعلی ممتا بنرجی نے رات دس بجکر 15 منٹ پر واقعہ کا معائنہ کیا اور مرنے والوں کے کنبے کو دس دس لاکھ روپے اور کنبے کے ایک رکن کو سرکاری نوکری دینے کا اعلان کیا۔

اس دوران وزیراعظم نریندر مودی نے مہلوکین کے کنبوں کو دو دو لاکھ روپے اور سنگین طور پر زخمیو کو 50 ہزار روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔

ترنمول کانگریس کے پانچ ممبران اسمبلی بی جے پی میں ہوئے شامل

0
ترنمول کانگریس کے پانچ ممبران اسمبلی بی جے پی میں ہوئے شامل
ترنمول کانگریس کے پانچ ممبران اسمبلی بی جے پی میں ہوئے شامل

بی جے پی میں شامل ہونے والوں میں چار مرتبہ کی رکن اسمبلی و سابق ڈپٹی اسپیکر سونالی گوہا، جو ایک زمانے میں ممتا بنرجی کی قریبی تھیں، سینگور تحریک میں ممتا بنرجی کے ساتھ رہنے والے 80 سالہ رابند ناتھ بھٹاچاریہ شامل ہیں ۔پارٹی نے ان دونوں کو اس مرتبہ امیدوار نہیں بنایا ہے۔

کلکتہ: ٹکٹ نہ ملنے سے مایوس ترنمول کانگریس کے پانچ ممبران اسمبلی نے آج بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔

بی جے پی میں شامل ہونے والوں میں چار مرتبہ کی رکن اسمبلی و سابق ڈپٹی اسپیکر سونالی گوہا، جو ایک زمانے میں ممتا بنرجی کی قریبی تھیں، سینگور تحریک میں ممتا بنرجی کے ساتھ رہنے والے 80 سالہ رابند ناتھ بھٹاچاریہ شامل ہیں ۔پارٹی نے ان دونوں کو اس مرتبہ امیدوار نہیں بنایا ہے۔

چار بار کے ایک اور رکن اسمبلی، 85 سالہ جتو لاہری اور سابق فٹ بالر دبندو بسواس، جو پہلی بار 2016 میں ممبرا سمبلی منتخب ہوئے تھے بھی بی جے پی میں شامل ہوگئے ہیں۔ ان چاروں کو 5 مارچ کو ترنمول کانگریس کے امیدواروں کی فہرست میں شامل نہیں ہونے دیا گیا ہے۔

بی جے پی کے ریاستی صدر دلیپ گھوش، مکل رائے اور شوبھندو ادھیکاری کی موجودگی میں ان لوگوں کو پارٹی میں شامل کرایا گیا ہے۔

ترنمول کانگریس کے ایک اور ممبر اسمبلی سیتل سردار بھی بی جے پی میں شامل ہوگئے ہیں۔ مطلوبہ سیٹ نہیں ملنے کی وجہ سے حبیب پور سے ترنمول کانگریس کی امیدوار سرلا مرمو بھی پارٹی بدل رہی ہیں۔ ترنمول کانگریس نے ان کی جگہ پردیہ باسکی کو صبح ہی امیدوار بنایا ہے۔

38 رکنی مالدہ ضلع پریشد پر بھی بی جے پی نے اپنا کنٹرول کرلیا ہے۔ بنگالی اداکارہ تنوشری چکرورتی بھی بی جے پی میں شامل ہوگئیں۔

ریاست میں اسمبلی انتخابات آٹھ مراحل میں 27 مارچ سے 29 اپریل کے درمیان ہوں گے۔ ووٹوں کی گنتی 2 مئی کو ہوگی۔

حکومت مہنگائی پر بحث کرنے سے بھاگ رہی ہے: کھڑگے

0
حکومت مہنگائی پر بحث کرنے سے بھاگ رہی ہے: کھڑگے
حکومت مہنگائی پر بحث کرنے سے بھاگ رہی ہے: کھڑگے

کانگریس حکومت سے ایوان میں مہنگائی پر بحث کرانے کی اپیل کر رہی ہے لیکن ان کا مطالبہ مسترد کردیا گیا ہے۔ حکومت مہنگائی پر بحث کرنے سے بھاگ رہی ہے۔

نئی دہلی: ایوان بالا راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملک ارجن کھڑگے نے کہا ہے کہ آسمان چھوتی مہنگائی سے عام آدمی پریشان ہے اور کانگریس نے ایوان میں اس معاملے پر بحث کرانے کے لئے تحریک التوا پیش کردی ہے لیکن حکومت نے اسے مسترد کردیا ہے۔

مسٹرکھڑگے نے پیر کو یہاں پارلیمنٹ ہاؤس کمپلیکس کے باہر نامہ نگاروں کو بتایا کہ مہنگائی اپنے شباب پر پہنچ چکی ہے اور کانگریس حکومت سے ایوان میں اس معاملے پر بحث کرانے کی اپیل کر رہی ہے لیکن ان کا مطالبہ مسترد کردیا گیا ہے۔ حکومت مہنگائی پر بحث سے بھاگ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس مہنگائی کے معاملے پر اپنا احتجاج جاری رکھے گی جب تک ایوان میں ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے۔

مہنگائی پر بحث کرنے سے حکومت کا انکار

کانگریس قائد نے کہا کہ عوام مہنگائی سے دوچار ہے اور اپوزیشن عوام کے مسئلے کو ایوان میں رکھنا چاہتی ہے لیکن حکومت نے اس پر بات کرنے سے انکار کردیا ہے۔ اپوزیشن ملک کی بگڑتی ہوئی صورتحال کو ایوان میں رکھنا اور حکومت کو اس سے آگاہ کرنا چاہتی ہے۔ لہذا حکومت کانگریس کے مطالبے کو قبول کرتے ہوئے، کانگریس کو ایوان میں مہنگائی پر تبادلہ خیال کرنے کی اجازت دے۔

انہوں نے کہا کہ پٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کی قیمتیں عام لوگوں کی پہنچ سے باہر ہے۔ اجولا اسکیم کے تحت غریبوں کو رسوئی گیس کے سلنڈر دینے کی بات کرنے والی مودی حکومت ہر روز رسوئی گیس کی قیمتوں میں اضافہ کررہی ہے، جو گھریلو بجٹ کو بگاڑ رہی ہے۔ مہنگے پٹرول اور ڈیزل کی وجہ سے تمام ضروری اشیاء کی قیمتوں میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے اور اس مہنگائی کی وجہ سے عوام میں زبردست غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے پر اپوزیشن کے ہنگامے کے سبب راجیہ سبھا کی کارروائی دوبارہ  ایک بجے تک ملتوی

0
پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے پر اپوزیشن کے ہنگامے کے سبب راجیہ سبھا کی کارروائی دوبارہ  ایک بجے تک ملتوی
پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے پر اپوزیشن کے ہنگامے کے سبب راجیہ سبھا کی کارروائی دوبارہ  ایک بجے تک ملتوی

پٹرول ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے پر حزب اختلاف نے پیر کو راجیہ سبھا میں زبردست ہنگامہ کیا، جس کی وجہ سے ایوان کی کارروائی ایک بجے تک ملتوی کردی گئی۔

نئی دہلی: پٹرول اور ڈیزل کے داموں میں اضافے پر اپوزیشن نے پیر کے روز راجیہ سبھا میں زبردست ہنگامہ کیا جس کے سبب ایوان کی کارروائی ایک بجے تک ملتوی کردی گئی۔ اس سے قبل اسی معاملے پر ایوان کی کارروائی 11 بجے تک ملتوی کی گئی تھی۔

ڈپٹی اسپیکر ہری ونش نے پہلے التوا کے بعد 11 بجے ایوان کی کارروائی شروع کرنے کی کوشش کی تو اپوزیشن لیڈر ملک ارجن کھڑگے کھڑے ہوگئے اور کہا کہ اپوزیشن نے پٹرول ڈیزل کی قیمتوں کے سلسلے مں ضابطہ 267 کے تحت کام ملتوی کرنے کی مانگ کی۔ پہلے اس پر بحث ہونی چاہیے۔

ان کے ساتھ ہی ایوان میں کانگریس کے لیڈر آنند شرما اور اپوزیشن کے دیگر ارکان بھی کھڑے ہوگئے اور نعرے بازی کرنے لگے۔ اس پر مسٹر ہری ونش نے کہا کہ اس معاملے پر صبح اسپیکر انتظام کرچکے ہیں، لہذا اپوزیشن کو ایوان کا کاروائی چلانے میں تعاون کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ایوان کے ایجنڈے میں کئی بل ہیں جن پر بحث کرتے ہوئے اپوزیشن اس معاملے کو اٹھا سکتی ہے۔ لیکن حزب اختلاف کے ارکان اس دلیل سے پرسکون نہیں ہوئے اور نعرے بازی کرتے رہے۔

مسٹر کھڑگے نے کہا کہ بلوں پر بحث ہونے تک عوام کا برا حال ہو جائے گا اس لئے پٹرول ڈیزل کی قیمتوں کے معاملے پر فوری طور پر بحث کی جانی چاہئے۔ مسٹر ہری ونش نے اس سے انکار کیا اور ممبروں سے اپیل کی کہ وہ خاموش ہو جائیں اور کام کرنے دیں لیکن اپوزیشن ممبران خاموش نہیں ہوئے۔ اس کے بعد ڈپٹی اسپیکر نے ایوان کی کارروائی ایک بجے تک ملتوی کردی۔

بائیڈن اور جاپانی وزیر اعظم سوگا کی اپریل میں ہوسکتی ہے میٹنگ

0
بائیڈن اور جاپانی وزیر اعظم سوگا کی اپریل میں ہوسکتی ہے میٹنگ
بائیڈن اور جاپانی وزیر اعظم سوگا کی اپریل میں ہوسکتی ہے میٹنگ

ذرائع کے مطابق میٹنگ کے سلسلے میں حتمی فیصلہ نہیں لیا گیا ہے۔ اگر مسٹر سوگا اپریل میں امریکہ کا دورہ کرتے ہیں تو وہ مسٹر بائیڈن کے صدر بننے کے بعد ملک کا دورہ کرنے والے پہلے غیر ملکی لیڈر ہوں گے۔

ماسکو: امریکہ کے صدر جو بائیڈن اپریل میں جاپانی وزیر اعظم یوشی ہائڈ سوگا کو ملک کا دورہ کرنے اور وائٹ ہاؤس میں ان سے ملنے کے لئے مدعو کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق میٹنگ کے سلسلے میں حتمی فیصلہ نہیں لیا گیا ہے۔ اگر مسٹر سوگا اپریل میں امریکہ کا دورہ کرتے ہیں تو وہ مسٹر بائیڈن کے صدر بننے کے بعد ملک کا دورہ کرنے والے پہلے غیر ملکی لیڈر ہوں گے۔

وائٹ ہاؤس نے جاپانی وزیراعظم کے امریکی دورے سے متعلق منصوبے کی تصدیق کرنے سے ابھی انکار کردیا ہے۔

سوئٹزرلینڈ میں مسلم خواتین کے نقاب پہننے سمیت عوامی مقامات پر چہرہ ڈھکنے پر پابندی

0
سوئٹزرلینڈ میں مسلم خواتین کے نقاب پہننے سمیت عوامی مقامات پر چہرہ ڈھکنے پر پابندی
سوئٹزرلینڈ میں مسلم خواتین کے نقاب پہننے سمیت عوامی مقامات پر چہرہ ڈھکنے پر پابندی

سوئٹزرلینڈ میں 50 فیصد سے زیادہ رائے دہندگان نے عوامی مقامات پر چہرہ ڈھکنے پر پابندی کے حق میں ووٹ دیا۔

زیورخ: سوئٹزرلینڈ میں ایک عوامی ریفرنڈم میں 50 فیصد سے زیادہ ووٹوں سے مسلم خواتین کے نقاب پہننے سمیت عوامی مقامات پر چہرہ ڈھکنے پر پابندی کی حمایت کی گئی ہے۔

اتوار کو ہوئے ریفرنڈم کے جاری اعداد و شمار کے مطابق 53.43 فیصد لوگوں نے عوامی مقامات پر چہرہ ڈھکنے پر پابندی لگائے جانے کی حمایت کی۔

اس کے سبب پبلک ٹرانسپورٹ، دکانوں، ریستوران اور سڑکوں سمیت سبھی عوامی مقامات پر چہرے ڈھکنا غیر قانونی ہوگا۔ پوجا اور مذہبی مقامات کے لئے اس میں رعایت ہوگی۔ اس کے علاوہ سیکیورٹی یا صحت کے اسباب اور کارنیوال جیسے فیسٹول کے دوران چہرے کو ڈھکنے کی اجازت ہوگی۔

آئی پی ایل 9 اپریل سے شروع ہوگا اور چھ شہروں میں کھیلا جائے گا

0
آئی پی ایل 9 اپریل سے شروع ہوگا اور چھ شہروں میں کھیلا جائے گا
آئی پی ایل 9 اپریل سے شروع ہوگا اور چھ شہروں میں کھیلا جائے گا

نریندر مودی کرکٹ اسٹیڈیم میں آئی پی ایل کے پلے آف اور 30 مئی کو یہیں فائنل کھیلا جائے گا۔ اسی اسٹیڈیم میں ہندوستان اور انگلینڈ کے درمیان بال ٹیسٹ میچ اور اس کے بعد چوتھا ٹیسٹ میچ کھیلا گیا تھا۔ اب پہلی بار یہاں پر آئی پی ایل کا میچ کھیلا جائے گا۔

نئی دہلی: آئی پی ایل کے 14واں ایڈیشن 9 اپریل کو شروع ہوگا اور ملک کے چھ شہروں میں کھیلا جائے گا۔ ٹورنامنٹ لیگ مرحلہ کے دوران غیرجانبدار مقامات پر کھیلا جائے گا۔ شروعاتی دور کے میچ شائقین کے بغیر ہوں گے اور شائقین کو اجازت دینے کا فیصلہ بعد کے مرحلہ میں کیا جائے گا۔

آئی پی ایل کے کچھ شہروں احمد آباد، بنگلور، چنئی، دہلی، ممبئی اور کولکتہ میں کھیلے جائیں گے۔ تمام میچ غیرجانبدار مقامات پر ہوں گے اور شائقین کے بغیر ہوں گے۔

سمجھا جاتا ہے بی سی سی آئی آئی پی ایل کا استعمال اس سال اکتوبر۔نومبر میں ہندوستانی زمین پر ہونے والے ٹی۔20 عالمی کپ کے مشق کے طور پر کررہا ہے اور یہ یقینی کرنا چاہتا ہے کہ تمام احتیاتی اقدام صحیح طریقہ سے اپنی جگہ پر ہوں۔

فائنل احمد آباد کے نریندر مودی اسٹیڈیم میں کھیلے جائیں گے

گزشتہ چیمپئن ممبئی انڈینس ٹورنامنٹ کے افتتاحی مقابلے میں رائل چیلنجرس بنگلورو سے چنئی میں مقابلہ کرے گی۔ پلے آف اور فائنل احمد آباد کے نریندر مودی اسٹیڈیم میں کھیلے جائیں گے۔ فائنل 30 مئی کو ہوگا۔

ہر فرنچائزی لیگ مرحلے میں چھ مقامات میں سے چار مقامات پر کھیلے گی۔ لیگ مرحلے میں کل 56 میچ ہوں گے۔ چنئی، ممبئی، بنگلور، اور کولکاتا 10-10 میچوں کی میزبانی کریں گے جبکہ دہلی اور احمدآباد آٹھ آٹھ میچوں کی میزبانی کریں گے۔

نریندر مودی کرکٹ اسٹیڈیم میں آئی پی ایل کے پلے آف اور 30 مئی کو یہیں فائنل کھیلا جائے گا۔ اسی اسٹیڈیم میں ہندوستان اور انگلینڈ کے درمیان بال ٹیسٹ میچ اور اس کے بعد چوتھا ٹیسٹ میچ کھیلا گیا تھا۔ اب پہلی بار یہاں پر آئی پی ایل کا میچ کھیلا جائے گا۔

آئی پی ایل تقریباً دو سال بعد ہندوستان میں لوٹ رہا ہے۔ کورونا وبا کے سبب گذشتہ برس آئی پی ایل کے میچ یو اے ای میں ستمبر-نومبر کے درمیان کروائے گئے تھے۔ ممبئی نے یو اے ای میں پانچویں بار آئی پی ایل کا خطاب جیتا تھا۔

بی سی سی آئی کے سکریٹری جے شاہ نے ایک بیان میں کہا، ’ٹورنامنٹ کا پروگرام اس طرح بنایا گیا ہے کہ ہر ٹیم لیگ مرحلے کے دوران محض تین بار سفر پڑے تاکہ کورونا کے خطرے کا اندیشہ کم رکھا جا سکے۔
شاہ نے ساتھ ہی کہا کہ میچز میں آڈینس کو داخلہ دینے کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ بعد کے مرحلے میں لیا جائے گا۔

متھن چکرورتی نے بی جے پی میں شمولیت اختیار کی

0
میتھن چکرورتی نے بی جے پی میں شمولیت اختیار کی
میتھن چکرورتی نے بی جے پی میں شمولیت اختیار کی

متھن چکرورتی اپنے طالب علمی کے دور میں سی پی آئی ایم ایل سے وابستہ رہے۔ بائیں محاذ کے 34 سالہ دور اقتدار میں وہ سی پی ایم کے قریبی تھے۔ ممتا بنرجی کے اقتدار میں آنے کے بعد ترنمول کانگریس کے قریبی ہوگئے، مگر اب ایک بار پھر وہ بی جے پی کا دامن تھام لیا ہے۔

کلکتہ: بالی ووڈ اداکار متھن چکرورتی نے آج وزیرا عظم نریندر مودی کے بریگیڈ ریلی اپ میں بی جے پی میں شامل ہوئے۔ تاہم انہوں نے سیاسی جماعت تبدیل کرنے کے معاملے میں سیاست دانوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

متھن چکرورتی اپنے طالب علمی کے دور میں سی پی آئی ایم ایل سے وابستہ رہے۔ بائیں محاذ کے 34 سالہ دور اقتدار میں وہ سی پی ایم کے قریبی تھے۔ سی پی آئی ایم کے سابق لیڈر سبھاش چکرورتی سے ان کی قربت مشہور تھی ۔ان کے انتقال کے بعد انہوں نے ان کی اہلیہ رملا چکرورتی کے لئے مہم بھی چلائی مگر ممتا بنرجی کے اقتدار میں آنے کے بعد ترنمول کانگریس کے قریبی ہوگئے، انہیں پارٹی نے راجیہ سبھا میں جگہ دی۔ مگر شاردا چٹ فنڈ گھوٹالہ میں نام آنے کے بعد وہ راجیہ سبھا کی رکنیت سے یہ کہتے ہوئے استعفیٰ دے دیا کہ وہ سیاست سے کنارہ کش ہو رہے ہیں مگر اب ایک بار پھر وہ بی جے پی کا دامن تھام لیا ہے۔

کولکتہ: متھن چکرورتی ٹیم کی تبدیلی کی فہرست کا مظہر بن گئے ہیں۔ بنگالی ‘مہاگورو’ ممبئی کا تعجب اتوار سے ختم ہو چکا ہے۔ اس سے قبل، اس نے گلے میں سرخ مفلر پہنا تھا، جب وہ سی پی آئی ایم کا مبلغ تھا۔ بعد میں، ترنمول راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ پارٹی چھوڑ کر مودی کے پیچھے چل پڑے۔
بالکل تتلی تیراکی. میتھون چکرورتی نے مضبوط تال کے ساتھ پارٹیوں کو تبدیل کرنے کی سیاست میں بھی پیشہ ور سیاستدانوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔

70 سالہ متھن چکرورتی نے کہا کہ آپ لوگوں نے مجھ پر بھروسہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں کوئی چھوٹا سانپ نہیں ہوں میں اژگر ہوں، جس پر حملہ کرتا ہوں وہ بچ نہیں پاتا ہے۔

تفریق کی وجہ سے دنیا میں کووڈ-19 کی وبا مزید 7 سال رہ سکتی ہے مسلط: ماہرین

0
تفریق کی وجہ سے دنیا میں کووڈ-19 کی وبا مزید 7 سال رہ سکتی ہے مسلط: ماہرین
تفریق کی وجہ سے دنیا میں کووڈ-19 کی وبا مزید 7 سال رہ سکتی ہے مسلط: ماہرین

ماہرین کی اس رائے کا مطلب آسان الفاظ میں یہ ہے کہ اگر امیر ملکوں نے خود غرضی کا مظاہرہ جاری رکھا تو نہ صرف کورونا وائرس کی موجودہ عالمی وبا مزید 7 سال تک جاری رہے گی بلکہ ہو سکتا ہے کہ یہ وبا ختم ہونے سے پہلے ہی کوئی اور عالمی وبا شروع ہو جائے۔

جنیوا: اگر امیر ملکوں نے کورونا ویکسین پر اپنی اجارہ داری ختم نہ کی تو کووڈ 19 کی وبا آئندہ 7 سال تک ساری دنیا پر مسلط رہ سکتی ہے۔ یہ انتباہ عوامی صحت اور وبائی ماہرین نے دیا ہے۔

خیال رہے 4 مارچ 2021 تک دنیا بھر میں کورونا ویکسین کی 28 کروڑ 36 لاکھ خوراکیں دی جاچکی تھیں۔
تاہم اسی صورتِ حال کا تشویشناک پہلو یہ ہے کہ ان میں سے تقریباً 75 فیصد خوراکیں صرف 10 امیر ممالک میں دی گئی ہیں جبکہ کئی غریب ممالک ابھی تک کورونا ویکسین سے مکمل طور پر محروم ہیں، جن کی مجموعی آبادی 2.5 ارب (ڈھائی ارب) کے لگ بھگ ہے۔

وجہ یہ ہے کہ بیشتر امیر ممالک نہ صرف اپنی ضرورت سے زائد کورونا ویکسین خرید چکے ہیں بلکہ اپنے یہاں ویکسین بنانے والے اداروں کو پابند کرچکے ہیں کہ وہ حکومتی اجازت کے بغیر کووڈ 19 ویکسین کسی بھی دوسرے ملک کو فروخت نہیں کریں گے۔

مثلاً امریکی محکمہ صحت و انسانی خدمات (این ایچ ایس) اور فائزر/ بائیو اینٹیک میں طے پانے والا معاہدہ اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس سے صرف امریکہ اور فائزز کو فائدہ پہنچے، کسی اور کو نہیں۔ اس کے علاوہ یوروپ میں کورونا ویکسین کی بڑھتی ہوئی مانگ کے پیش نظر اٹلی نے بھی آسٹریلیا کے لئے کورونا ویکسین کی برآمد روک دی ہے۔

کورونا وائرس کی عالمی وبا مزید خطرناک شکل اختیار کر سکتا ہے

ماہرین خبردار کررہے ہیں کہ یہ رجحان، جسے ’ویکسین کساد بازاری‘ (ویکسین ہورڈنگ) اور ’ویکسین قوم پرستی‘ (ویکسین نیشنلزم) بھی کہا جارہا ہے، کورونا وائرس کی عالمی وبا کو مزید خطرناک اور طویل بنا سکتا ہے۔

ویکلی تحقیقی جریدہ ’نیچر‘ میں شائع ایک حالیہ مضمون میں عوامی صحت کے امریکی ماہر گیون یامی نے خبردار کیا ہے کہ اگر کووڈ 19 ویکسین کی عالمی تقسیم میں ناانصافی اور تعصب کا یہی سلسلہ جاری رہا تو یہ وبا اگلے 7 سال تک دنیا پر مسلط رہے گی۔

یہ تخمینہ لگانے کےلیے انہوں نے ’گیم تھیوری‘ کا استعمال کیا۔

دیگر ماہرین کی بھی یہی رائے ہے کہ امیر ممالک کے تمام لوگوں میں کورونا ویکسین لگنے کے باوجود بھی یہ وبا دنیا کی اکثریتی آبادی کو متاثر کررہی ہوگی جس کا خمیازہ ان امیر ممالک کو بھی بھگتنا پڑے گا۔

نیا وائرس بھی وجود میں آسکتا ہے

ان کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس میں خود کو تیزی سے تبدیل کرنے کی زبردست صلاحیت ہے۔ لہذا اگر امیر ملکوں میں بڑے پیمانے پر ویکسی نیشن کے بعد بھی یہ وائرس غریب ممالک میں لوگوں کی بڑی تعداد کو متاثر کرتا رہا، تو اسے خود کو بدلنے کے اور بھی زیادہ مواقع ملیں گے جن کے نتیجے میں ایک ایسا نیا وائرس بھی وجود میں آسکتا ہے جس کے خلاف ہماری موجودہ کورونا ویکسینز ناکارہ ہوں گی۔

اب اگر اس نئے وائرس کے پھیلاؤ کی صلاحیت اور ہلاکت خیزی بھی زیادہ ہوئیں تو ہمارا سامنا کسی نئی عالمی وبا سے ہو سکتا ہے جو شاید موجودہ (کووِڈ 19) عالمی وبا سے کہیں زیادہ خطرناک ثابت ہو۔

ماہرین کی اس رائے کا مطلب آسان الفاظ میں یہ ہے کہ اگر امیر ملکوں نے خود غرضی کا مظاہرہ جاری رکھا تو نہ صرف کورونا وائرس کی موجودہ عالمی وبا مزید 7 سال تک جاری رہے گی بلکہ ہو سکتا ہے کہ یہ وبا ختم ہونے سے پہلے ہی کوئی اور عالمی وبا شروع ہوجائے۔

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ غریب ممالک میں کووڈ 19 وبا کی بڑے پیمانے پر موجودگی سے امیر ممالک کو بھی شدید نقصان پہنچے گا جس سے ان کی معاشی نمو متاثر رہنے کا سلسلہ دراز ہوسکتا ہے۔

جب تک سب محفوظ نہیں، تب تک کوئی بھی محفوظ نہیں

البتہ اچھی خبر یہ ہے کہ عالمی ادارہ صحت کے پروگرام ’کوویکس‘ کے تحت دنیا کے غریب ترین ممالک تک کورونا ویکسین پہنچانے کا آغاز ہو چکا ہے جن میں افریقہ سے گھانا، مالی اور ملاوی شامل ہیں۔

اس پروگرام کا نعرہ ہے: ’جب تک سب محفوظ نہیں، تب تک کوئی بھی محفوظ نہیں!‘

’کوویکس‘ پروگرام کا ہدف ہے کہ 2021 کے اختتام تک دنیا کے 92 غریب ممالک میں کورونا ویکسین کی دو ارب خوراکیں عام لوگوں کو لگا دی جائیں۔

پاکستانی بحریہ کی گاڑیوں پر حملے میں دو افراد ہلاک

0
پاکستانی بحریہ کی گاڑیوں پر حملے میں دو افراد ہلاک
پاکستانی بحریہ کی گاڑیوں پر حملے میں دو افراد ہلاک

پاکستانی بحریہ کی گاڑیوں پر حملے میں دو افراد ہلاک ہوگئے۔ یہ واقعہ اس وقت ہوا جب ایک نامعلوم شخص نے خودکار ہتھیاروں سے اندھا دھند گولی باری شروع کردی۔ مرنے والوں میں ایک کی شناخت سیلر سہیل اور دوسرے کی نائی رضا کے طور پر کی گئی ہے۔

اسلام آباد: پاکستان کے ساحلی ضلع گوادر کے گنج علاقے میں بحریہ کی گاڑیوں پر اچانک ہوئے حملے میں دو جوان مارے گئے اور ایک دیگر زخمی ہوگیا۔

سرکاری ذرائع نے اتوار کو بتایا کہ یہ واقعہ سنیچر کے روز پیش آیا۔

روزنامہ ڈان کے مطابق یہ واقعہ اس وقت ہوا جب ایک نامعلوم شخص نے خودکار ہتھیاروں سے اندھا دھند گولی باری شروع کردی۔ مرنے والوں میں ایک کی شناخت سیلر سہیل اور دوسرے کی نائی رضا کے طور پر کی گئی ہے۔

اس واقعہ کے فوراً بعد موقع پر سیکیورٹی فورسز کے جوان پہنچ گئے اور زخمیوں کو علاج کے لئے اسپتال میں داخل کرایا گیا۔

دونوں جوانوں کی لاشیں ان کے آبائی مقامات پر بھیج دی گئی ہیں۔ زخمیوں کو علاج کے لئے کراچی ریفر کیا گیا ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر گوادر کیپٹن (سبکدوش) اطہر عباس نے کہا کہ جس علاقے میں حملہ ہوا تھا، اسے محاصرے میں لے کر تلاشی مہم چلائی جا رہی ہے لیکن اب تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔