جمعرات, جولائی 2, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 390

متھن چکرورتی نے بی جے پی میں شمولیت اختیار کی

0
میتھن چکرورتی نے بی جے پی میں شمولیت اختیار کی
میتھن چکرورتی نے بی جے پی میں شمولیت اختیار کی

متھن چکرورتی اپنے طالب علمی کے دور میں سی پی آئی ایم ایل سے وابستہ رہے۔ بائیں محاذ کے 34 سالہ دور اقتدار میں وہ سی پی ایم کے قریبی تھے۔ ممتا بنرجی کے اقتدار میں آنے کے بعد ترنمول کانگریس کے قریبی ہوگئے، مگر اب ایک بار پھر وہ بی جے پی کا دامن تھام لیا ہے۔

کلکتہ: بالی ووڈ اداکار متھن چکرورتی نے آج وزیرا عظم نریندر مودی کے بریگیڈ ریلی اپ میں بی جے پی میں شامل ہوئے۔ تاہم انہوں نے سیاسی جماعت تبدیل کرنے کے معاملے میں سیاست دانوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

متھن چکرورتی اپنے طالب علمی کے دور میں سی پی آئی ایم ایل سے وابستہ رہے۔ بائیں محاذ کے 34 سالہ دور اقتدار میں وہ سی پی ایم کے قریبی تھے۔ سی پی آئی ایم کے سابق لیڈر سبھاش چکرورتی سے ان کی قربت مشہور تھی ۔ان کے انتقال کے بعد انہوں نے ان کی اہلیہ رملا چکرورتی کے لئے مہم بھی چلائی مگر ممتا بنرجی کے اقتدار میں آنے کے بعد ترنمول کانگریس کے قریبی ہوگئے، انہیں پارٹی نے راجیہ سبھا میں جگہ دی۔ مگر شاردا چٹ فنڈ گھوٹالہ میں نام آنے کے بعد وہ راجیہ سبھا کی رکنیت سے یہ کہتے ہوئے استعفیٰ دے دیا کہ وہ سیاست سے کنارہ کش ہو رہے ہیں مگر اب ایک بار پھر وہ بی جے پی کا دامن تھام لیا ہے۔

کولکتہ: متھن چکرورتی ٹیم کی تبدیلی کی فہرست کا مظہر بن گئے ہیں۔ بنگالی ‘مہاگورو’ ممبئی کا تعجب اتوار سے ختم ہو چکا ہے۔ اس سے قبل، اس نے گلے میں سرخ مفلر پہنا تھا، جب وہ سی پی آئی ایم کا مبلغ تھا۔ بعد میں، ترنمول راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ پارٹی چھوڑ کر مودی کے پیچھے چل پڑے۔
بالکل تتلی تیراکی. میتھون چکرورتی نے مضبوط تال کے ساتھ پارٹیوں کو تبدیل کرنے کی سیاست میں بھی پیشہ ور سیاستدانوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔

70 سالہ متھن چکرورتی نے کہا کہ آپ لوگوں نے مجھ پر بھروسہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں کوئی چھوٹا سانپ نہیں ہوں میں اژگر ہوں، جس پر حملہ کرتا ہوں وہ بچ نہیں پاتا ہے۔

تفریق کی وجہ سے دنیا میں کووڈ-19 کی وبا مزید 7 سال رہ سکتی ہے مسلط: ماہرین

0
تفریق کی وجہ سے دنیا میں کووڈ-19 کی وبا مزید 7 سال رہ سکتی ہے مسلط: ماہرین
تفریق کی وجہ سے دنیا میں کووڈ-19 کی وبا مزید 7 سال رہ سکتی ہے مسلط: ماہرین

ماہرین کی اس رائے کا مطلب آسان الفاظ میں یہ ہے کہ اگر امیر ملکوں نے خود غرضی کا مظاہرہ جاری رکھا تو نہ صرف کورونا وائرس کی موجودہ عالمی وبا مزید 7 سال تک جاری رہے گی بلکہ ہو سکتا ہے کہ یہ وبا ختم ہونے سے پہلے ہی کوئی اور عالمی وبا شروع ہو جائے۔

جنیوا: اگر امیر ملکوں نے کورونا ویکسین پر اپنی اجارہ داری ختم نہ کی تو کووڈ 19 کی وبا آئندہ 7 سال تک ساری دنیا پر مسلط رہ سکتی ہے۔ یہ انتباہ عوامی صحت اور وبائی ماہرین نے دیا ہے۔

خیال رہے 4 مارچ 2021 تک دنیا بھر میں کورونا ویکسین کی 28 کروڑ 36 لاکھ خوراکیں دی جاچکی تھیں۔
تاہم اسی صورتِ حال کا تشویشناک پہلو یہ ہے کہ ان میں سے تقریباً 75 فیصد خوراکیں صرف 10 امیر ممالک میں دی گئی ہیں جبکہ کئی غریب ممالک ابھی تک کورونا ویکسین سے مکمل طور پر محروم ہیں، جن کی مجموعی آبادی 2.5 ارب (ڈھائی ارب) کے لگ بھگ ہے۔

وجہ یہ ہے کہ بیشتر امیر ممالک نہ صرف اپنی ضرورت سے زائد کورونا ویکسین خرید چکے ہیں بلکہ اپنے یہاں ویکسین بنانے والے اداروں کو پابند کرچکے ہیں کہ وہ حکومتی اجازت کے بغیر کووڈ 19 ویکسین کسی بھی دوسرے ملک کو فروخت نہیں کریں گے۔

مثلاً امریکی محکمہ صحت و انسانی خدمات (این ایچ ایس) اور فائزر/ بائیو اینٹیک میں طے پانے والا معاہدہ اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس سے صرف امریکہ اور فائزز کو فائدہ پہنچے، کسی اور کو نہیں۔ اس کے علاوہ یوروپ میں کورونا ویکسین کی بڑھتی ہوئی مانگ کے پیش نظر اٹلی نے بھی آسٹریلیا کے لئے کورونا ویکسین کی برآمد روک دی ہے۔

کورونا وائرس کی عالمی وبا مزید خطرناک شکل اختیار کر سکتا ہے

ماہرین خبردار کررہے ہیں کہ یہ رجحان، جسے ’ویکسین کساد بازاری‘ (ویکسین ہورڈنگ) اور ’ویکسین قوم پرستی‘ (ویکسین نیشنلزم) بھی کہا جارہا ہے، کورونا وائرس کی عالمی وبا کو مزید خطرناک اور طویل بنا سکتا ہے۔

ویکلی تحقیقی جریدہ ’نیچر‘ میں شائع ایک حالیہ مضمون میں عوامی صحت کے امریکی ماہر گیون یامی نے خبردار کیا ہے کہ اگر کووڈ 19 ویکسین کی عالمی تقسیم میں ناانصافی اور تعصب کا یہی سلسلہ جاری رہا تو یہ وبا اگلے 7 سال تک دنیا پر مسلط رہے گی۔

یہ تخمینہ لگانے کےلیے انہوں نے ’گیم تھیوری‘ کا استعمال کیا۔

دیگر ماہرین کی بھی یہی رائے ہے کہ امیر ممالک کے تمام لوگوں میں کورونا ویکسین لگنے کے باوجود بھی یہ وبا دنیا کی اکثریتی آبادی کو متاثر کررہی ہوگی جس کا خمیازہ ان امیر ممالک کو بھی بھگتنا پڑے گا۔

نیا وائرس بھی وجود میں آسکتا ہے

ان کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس میں خود کو تیزی سے تبدیل کرنے کی زبردست صلاحیت ہے۔ لہذا اگر امیر ملکوں میں بڑے پیمانے پر ویکسی نیشن کے بعد بھی یہ وائرس غریب ممالک میں لوگوں کی بڑی تعداد کو متاثر کرتا رہا، تو اسے خود کو بدلنے کے اور بھی زیادہ مواقع ملیں گے جن کے نتیجے میں ایک ایسا نیا وائرس بھی وجود میں آسکتا ہے جس کے خلاف ہماری موجودہ کورونا ویکسینز ناکارہ ہوں گی۔

اب اگر اس نئے وائرس کے پھیلاؤ کی صلاحیت اور ہلاکت خیزی بھی زیادہ ہوئیں تو ہمارا سامنا کسی نئی عالمی وبا سے ہو سکتا ہے جو شاید موجودہ (کووِڈ 19) عالمی وبا سے کہیں زیادہ خطرناک ثابت ہو۔

ماہرین کی اس رائے کا مطلب آسان الفاظ میں یہ ہے کہ اگر امیر ملکوں نے خود غرضی کا مظاہرہ جاری رکھا تو نہ صرف کورونا وائرس کی موجودہ عالمی وبا مزید 7 سال تک جاری رہے گی بلکہ ہو سکتا ہے کہ یہ وبا ختم ہونے سے پہلے ہی کوئی اور عالمی وبا شروع ہوجائے۔

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ غریب ممالک میں کووڈ 19 وبا کی بڑے پیمانے پر موجودگی سے امیر ممالک کو بھی شدید نقصان پہنچے گا جس سے ان کی معاشی نمو متاثر رہنے کا سلسلہ دراز ہوسکتا ہے۔

جب تک سب محفوظ نہیں، تب تک کوئی بھی محفوظ نہیں

البتہ اچھی خبر یہ ہے کہ عالمی ادارہ صحت کے پروگرام ’کوویکس‘ کے تحت دنیا کے غریب ترین ممالک تک کورونا ویکسین پہنچانے کا آغاز ہو چکا ہے جن میں افریقہ سے گھانا، مالی اور ملاوی شامل ہیں۔

اس پروگرام کا نعرہ ہے: ’جب تک سب محفوظ نہیں، تب تک کوئی بھی محفوظ نہیں!‘

’کوویکس‘ پروگرام کا ہدف ہے کہ 2021 کے اختتام تک دنیا کے 92 غریب ممالک میں کورونا ویکسین کی دو ارب خوراکیں عام لوگوں کو لگا دی جائیں۔

پاکستانی بحریہ کی گاڑیوں پر حملے میں دو افراد ہلاک

0
پاکستانی بحریہ کی گاڑیوں پر حملے میں دو افراد ہلاک
پاکستانی بحریہ کی گاڑیوں پر حملے میں دو افراد ہلاک

پاکستانی بحریہ کی گاڑیوں پر حملے میں دو افراد ہلاک ہوگئے۔ یہ واقعہ اس وقت ہوا جب ایک نامعلوم شخص نے خودکار ہتھیاروں سے اندھا دھند گولی باری شروع کردی۔ مرنے والوں میں ایک کی شناخت سیلر سہیل اور دوسرے کی نائی رضا کے طور پر کی گئی ہے۔

اسلام آباد: پاکستان کے ساحلی ضلع گوادر کے گنج علاقے میں بحریہ کی گاڑیوں پر اچانک ہوئے حملے میں دو جوان مارے گئے اور ایک دیگر زخمی ہوگیا۔

سرکاری ذرائع نے اتوار کو بتایا کہ یہ واقعہ سنیچر کے روز پیش آیا۔

روزنامہ ڈان کے مطابق یہ واقعہ اس وقت ہوا جب ایک نامعلوم شخص نے خودکار ہتھیاروں سے اندھا دھند گولی باری شروع کردی۔ مرنے والوں میں ایک کی شناخت سیلر سہیل اور دوسرے کی نائی رضا کے طور پر کی گئی ہے۔

اس واقعہ کے فوراً بعد موقع پر سیکیورٹی فورسز کے جوان پہنچ گئے اور زخمیوں کو علاج کے لئے اسپتال میں داخل کرایا گیا۔

دونوں جوانوں کی لاشیں ان کے آبائی مقامات پر بھیج دی گئی ہیں۔ زخمیوں کو علاج کے لئے کراچی ریفر کیا گیا ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر گوادر کیپٹن (سبکدوش) اطہر عباس نے کہا کہ جس علاقے میں حملہ ہوا تھا، اسے محاصرے میں لے کر تلاشی مہم چلائی جا رہی ہے لیکن اب تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

زیورخ میں مظاہرہ کرنے والی 2 خاتون گرفتار

0
زیورخ میں مظاہرہ کرنے والی 2 خاتون گرفتار
زیورخ میں مظاہرہ کرنے والی 2 خاتون گرفتار

زیورخ میں مظاہرین شہر کے مختلف حصوں میں یکجا ہورہے تھے اور انہیں روکنے کے لئے آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔ پولیس کے مطابق مظاہرین میں سے ایک نے پولیس افسر کی پٹائی کی۔

زیورخ: سوئٹزر لینڈ پولیس نے خواتین کے بین الاقوامی دن سے قبل کی شام منعقدہ خواتین ریلی پر آنسو گیس کے گولے داغے اور مظاہرہ کرنے والی دو خواتین کو گرفتار کیا۔
خواتین کی ریلی کے دوران سنیچر کو پولیس افسران نے کووڈ 19 خواتین کے قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے ہجوم کے یکجا کرنے پر عائد پابندی سے متعلق خبردار کیا تھا۔
پولیس نے بتایا کہ مظاہرین شہر کے مختلف حصوں میں یکجا ہورہے تھے اور انہیں روکنے کے لئے آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔ پولیس کے مطابق مظاہرین میں سے ایک نے پولیس افسر کی پٹائی کی۔
انہوں نے بتایا کہ پولیس افسر کو پیٹنے والی خاتون کو حراست میں لے لیا گیا اگرچہ ہجوم نے اسے آزاد کرانے کی کوشش کی تھی، جس کے بعد پولیس کو پھر سے آنسو گیس کا استعمال کرنا پڑا۔ پولیس نے مظاہرہ کرنے والی ایک دیگر خاتون کو بھی گرفتار کیا ہے۔

جنوبی 24 پرگنہ میں ہوئے بم دھماکے میں 6 افراد ہلاک

0
جنوبی 24 پرگنہ میں ہوئے بم دھماکے میں 6 افراد ہلاک
جنوبی 24 پرگنہ میں ہوئے بم دھماکے میں 6 افراد ہلاک

جنوبی 24 پرگنہ میں ہوئے دھماکے میں کم ازکم 6 افراد کی موت ہوگئی ہے۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق زخمی ہونے والے کا تعلق ایک خاص سیاسی جماعت سے ہے۔ زخمی افراد کا علاج کیننگ سب ڈویژنل اسپتال میں جاری ہے۔

کلکتہ: جنوبی 24 پرگنہ میں ہوئے دھماکے میں کم ازکم 6 افراد کی موت ہوگئی ہے۔ پولیس کے مطابق یہاں بم سازی کی جارہی تھی۔

سینئر پولیس آفیسر کے مطابق جمعہ کی شب گوسابہ میں یہ واقعہ پیش آیا ہے۔ گھر کا مالک بھی اس واقعے میں زخمی ہوگئے ہیں۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق زخمی ہونے والے کا تعلق ایک خاص سیاسی جماعت سے ہے۔ زخمی افراد کا علاج کیننگ سب ڈویژنل اسپتال میں جاری ہے۔

زخمی افراد کے لواحقین نے دعویٰ کیا کہ یہ لوگ بی جے پی کے حامی ہیں اور ترنمول کانگریس کے لوگوں نے اس وقت حملہ کیا ہے جب یہ لوگ شادی میں شرکت کے لئے جارہے تھے۔ دوسری جانب افسر نے کہا کہ یہ دھماکہ اس وقت ہوا ہے جب یہ لوگ بم تیار کررہے تھے۔ ہم اس معاملے کی تحقیقا ت کررہے ہیں۔مقامی لوگوں سے پوچھ تاچھ جاری ہے۔

عمران خان نے 178 ووٹوں کے ساتھ اعتماد کا ووٹ حاصل کیا

0
عمران خان نے 178 ووٹوں کے ساتھ اعتماد کا ووٹ حاصل کیا
عمران خان نے 178 ووٹوں کے ساتھ اعتماد کا ووٹ حاصل کیا

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کو اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے لئے 172 ووٹوں کی ضرورت تھی۔ انہوں نے 178 ووٹ حاصل کرکے اعتماد کا ووٹ جیت لیا۔ آٹھ سال پہلے وہ 176 ووٹ حاصل کرنے کے ساتھ وزیراعظم چنے گئے تھے۔

اسلام آباد: پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے ہفتے کو یہاں نیشنل اسمبلی میں 178 ووٹ حاصل کرکے اعتماد کا ووٹ جیت لیا۔ انہیں اعتماد کے ووٹ کے لئے ملے ووٹ ضرورت سے چھ زیادہ تھے۔

پاکستان میں سینیٹ الیکشن میں وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کی ہار کی وجہ عمران حکومت کو نیشنل اسمبلی میں خصوصی اجلاس میں اعتماد کا ووٹ پیش کرنا پڑا۔ مسٹر خان کو اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے لئے 172 ووٹوں کی ضرورت تھی۔

روزنامہ ڈان کی رپورٹ کے مطابق نیشنل اسمبلی کے صدر نے نتیجہ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ آٹھ سال پہلے وزیراعظم عمران 176 ووٹ حاصل کرنے کے ساتھ وزیراعظم چنے گئے تھے۔ انہوں نے کہا، ’’آج وہ 178 ووٹ حاصل کئے ہیں۔‘‘

مسٹر خان کی حمایت میں ان کی پارٹی پاکستان تحریک انصاف کے 155 اراکین نے حمایت دی۔ جبکہ ایم کیو ایم – پی کے پانچ اراکین، بلوچستان عوامی پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ – کووید کے پانچ پانچ، گرانڈ ڈیموکریٹ الائنز سے تین، عوامی مسلم لیگ اور جمہوری وطن پارٹی کے ایک ایک رکن نے وزیراعظم کو اپنا ووٹ دیا۔

اس کے علاوہ مسٹر خان کی حمایت میں آزاد امیدوار اسلم بھوٹانی نے اپنا ووٹ ڈالا۔

اعتماد ووٹ حاصل کرنے کے بعد ایوان سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر خان نے اپنے حق میں ووٹ ڈالنے والے سبھی اتحادیوں اور ارکان پارلیمنٹ کو شکریہ ادا کیا۔

کسان تحریک کے 100 دن مکمل ہونے پر تحریک کار کسان منا رہے ہیں آج ’یوم سیاہ‘

0
کسان تحریک کے 100 دن مکمل ہونے پر تحریک کار کسان منا رہے ہیں آج ’یوم سیاہ‘
کسان تحریک کے 100 دن مکمل ہونے پر تحریک کار کسان منا رہے ہیں آج ’یوم سیاہ‘

کسان تنظیم آج ’یوم سیاہ‘ منا رہے ہیں۔ اس درمیان تحریک کار کسانوں نے پانچ گھنٹوں کے لیے کنڈلی-مانیسر-پلول (کے ایم پی) ایکسپریس وے کو جام کر دیا ہے۔ ایکسپریس وے آج 11 بجے سے 4 بجے تک جام رہے گا۔

نئی دہلی: مرکزی حکومت کے تین نئے زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کی تحریک کے ہفتے کے روز 100 دن مکمل ہونے پر تحریک کار کسان تنظیم اس دن (چھ مارچ) کو ’یوم سیاہ‘ کے طور پر منا رہا ہے۔ 

اس درمیان تحریک کار کسانوں نے آج پانچ گھنٹوں کے لیے کنڈلی-مانیسر-پلول (کے ایم پی) ایکسپریس وے کو جام کر دیا ہے۔ ایکسپریس وے آج 11 بجے سے 4 بجے تک جام رہے گا۔ 

سنیُکت کسان مورچہ (ایس ایم پی) نے کسان تحریک کے 100 دن پورے ہونے کے موقع پر چھ مارچ (ہفتے) کو ’یوم سیاہ‘ کے بطور منانے اور کنڈلی-مانیسر-پلول (کے ایم پی) ایکسپریس وے کو پانچ گھنٹوں کے لیے جام کرنے کا اعلان ہفتے کے روز کر دیا تھا۔

کسان تنظیموں اور حکومت کے مابین گیارہ دور کی بات چیت ہو چکی ہے لیکن دونوں کے درمیان ابھی تک اتفاق رائے نہیں ہوا ہے۔ کسان رہنما زرعی قوانین کو واپس لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں اور حکومت قوانین واپس لینے کو بالکل تیار نہیں ہے۔ 

کسانوں کی تحریک 26 نومبر کو شروع ہوئی تھی۔ ہزاروں کی تعداد میں خصوصی طور پر پنجاب اور ہریانہ کے کسان دہلی سے متصل سرحدوں کے آس پاس دھرنا-مظاہرہ اور تحریک چلا رہے ہیں۔

اسے بھی پڑھیں:

زرعی قوانین کے خلاف بیداری مہم، پنجاب سے دو نوجوان پہنچے حیدرآباد

سوئٹزرلینڈ میں نقاب پر پابندی کو ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مسترد کردیا

0
سوئٹزرلینڈ میں نقاب پر پابندی کو ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مسترد کردیا
سوئٹزرلینڈ میں نقاب پر پابندی کو ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مسترد کردیا

چہرے کے پردے پر مجوزہ پابندی کو کسی بھی طرح سے خواتین کی آزادی کے اقدام کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ بلکہ یہ ایک خطرناک پالیسی ہے جو آزادئ اظہار اور آزادئ مذہب سمیت خواتین کے حقوق کی خلاف ورزی پر مبنی ہے۔ ان خیالات کا اظہار ایمنسٹی انٹرنیشنل سوئزرلینڈ کی خواتین سے متعلق حقوق کی سربراہ سیریل ہوگناٹ نے کیا۔

لندن: انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ سوئزرلینڈ میں چہرے کے نقاب پر مجوزہ پابندی کی بات امتیازی اور خواتین کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

ان خیالات کا اظہار ایمنسٹی انٹرنیشنل سوئزرلینڈ کی خواتین سے متعلق حقوق کی سربراہ سیریل ہوگناٹ نے اتوار کے روز ملک میں مسلم خواتین کے نقاب پر پابندی سے متعلق عوامی ریفرنڈم کے تناظر میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ چہرے کے پردے پر مجوزہ پابندی کو کسی بھی طرح سے خواتین کی آزادی کے اقدام کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ بلکہ یہ ایک خطرناک پالیسی ہے جو آزادئ اظہار اور آزادئ مذہب سمیت خواتین کے حقوق کی خلاف ورزی پر مبنی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس پابندی کا ان مسلم خواتین پر خاص طور پر اثر پڑے گا جو نقاب یا برقعہ پہننے کا انتخاب کرتی ہیں، اگر ہم واقعی خواتین کا احترام کرنا چاہئے ہیں تو ہمیں خواتین کو یہ فیصلہ کرنے دینا چاہیے کہ وہ کیا پہنتی ہیں۔

اس نوعیت کی پابندی امتیازی سلوک شمار ہوگی

ایمنسٹی انٹر نیشنل نے اپنے اعلامیہ میں خواتین کیلئے حقوق کے سیکشن کی سربراہ نے مزید کہا کہ اگر اس ریفرنڈم کا ارادہ خواتین کے حقوق کے تحفظ کے نام پر کیا جا رہا ہے تو یہ درست نہیں بلکہ اس کے ذریعے خواتین کو اپنے پہننے کے لباس کی دوسروں سے منظوری لینے کے مترادف سمجھنا چاہئے۔ یہ عمل سوئزرلینڈ میں تصور آزادی مجروح کرنے کے برابر ہوگا۔

انہوں نے مزید زور دیکر کہا کہ اس نوعیت کی پابندی امتیازی سلوک شمار ہوگی۔ اس سے معاشرے میں ان خواتین کو بدنام کرنے کا ایک اور موقع حاصل ہوجائے گا، جنہیں پہلے ہی پسماندہ گروہ سے تعلق رکھنے والا خیال کیا جاتا ہے۔ اس سے دقیانوسی خیالات اور معاشرے میں عدم رواداری میں اضافے کا بھی خطرہ ہے۔

زرعی قوانین کے خلاف بیداری مہم، پنجاب سے دو نوجوان پہنچے حیدرآباد

0
زرعی قوانین کے خلاف بیداری مہم، پنجاب سے دو نوجوان پہنچے حیدرآباد
زرعی قوانین کے خلاف بیداری مہم، پنجاب سے دو نوجوان پہنچے حیدرآباد

زرعی قوانین کے بارے میں ملک گیر بیداری پیدا کرنے کے لئے پنجاب سے دو نوجوان حیدرآباد پہنچے۔ دونوں نوجوان گاؤں گاؤں پھر کر کھیتوں میں جاتے ہیں اور کسانوں کو ان قوانین کے نقصانات سے آگاہ کرتے ہیں۔

حیدرآباد: زرعی قوانین کے سلسلہ میں ملک گیر بیداری پیدا کرنے کے لئے پنجاب سے تعلق رکھنے والے دو نوجوان حیدرآباد پہنچے۔ کسانوں کے یہ دونوں بیٹے اس قانون کے خلاف مختلف ریاستوں میں بیداری پیدا کرنے کے بعد اپنی اسکارپیو گاڑی میں تلنگانہ کے دارالحکومت پہنچے۔ اس گاڑی پر بیداری مہم انگریزی میں لکھا گیا ہے۔

شہر کی سرکردہ عثمانیہ یونیورسٹی میں ان نوجوانوں مجیندر سنگھ، سکھویندر سنگھ نے مشہور آرٹس کالج عمارت کے قریب طلبہ سے تبادلہ خیال کیا۔ بیداری پروگرام کے حصہ کے طور پر اب تک تقریبا 15 ریاستوں کا احاطہ کرنے والے ان نوجوانوں نے ان زرعی قوانین کو کسانوں کے خلاف قرار دیا۔

انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ بلز کسانوں کے لئے خطرناک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ گاؤں گاؤں پھر کر کھیتوں میں جاتے ہیں اور کسانوں کو ان قوانین کے نقصانات کے بارے میں واقف کرواتے ہیں۔

انہوں نے نہ صرف کسانوں بلکہ عام آدمی کے لئے بھی ان بلز کو نقصان دہ قراردیا۔ اب تک اس مہم کے دوران 11000 کلومیٹر کا سفر انہوں نے طے کرلیا ہے۔

بائیڈن کا ایران کے خلاف قومی ایمرجنسی میں ایک سال کی توسیع کا فیصلہ

0
بائیڈن کا ایران کے خلاف قومی ایمرجنسی میں ایک سال کی توسیع کا فیصلہ
بائیڈن کا ایران کے خلاف قومی ایمرجنسی میں ایک سال کی توسیع کا فیصلہ

ایران کے سلسلہ میں قومی ہنگامی ایکٹ کے سیکشن 202 ڈی کے تحت 15 مارچ 1995 کو نافذ قومی ایمرجنسی 15 مارچ 2021 سے آگے ایک سال کے لئے بڑھا دی گئی ہے۔

واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن نے 1995 میں نافذ کئے گئے ایران سے متعلق قومی ایمرجنسی میں ایک سال کی توسیع کا اعلان کیا ہے۔ یہ ایک قسم کی قانونی بنیاد ہے جس کے ذریعہ ایران پر جوہری ہتھیاروں اور دہشت گرد تنظیموں کی حمایت کرنے پر طرح طرح کی پابندیاں عائد کرتا ہے۔
جمعہ کے روز امریکی صدر کے دفتر وائٹ ہاؤس نے یہ اطلاع دی۔
صدر کے دفتر سے جاری ایک بیان کے مطابق ایران کے سلسلہ میں قومی ہنگامی ایکٹ کے سیکشن 202 ڈی کے تحت 15 مارچ 1995 کو نافذ قومی ایمرجنسی 15 مارچ 2021 سے آگے ایک سال کے لئے بڑھا دی گئی ہے۔
مسٹر بائیڈن نے کہا کہ ایران کی سرگرمیاں اور اس کی پالیسیاں امریکہ کی قومی سلامتی، خارجہ پالیسی اور معیشت کے لئے مستقل خطرہ ہیں۔ انہوں نے ایران پر جوہری ہتھیار تیار کرنے اور دہشت گرد تنظیموں کی حمایت کرنے کا بھی الزام عائد کیا۔