بدھ, ستمبر 30, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 392

زیورخ میں مظاہرہ کرنے والی 2 خاتون گرفتار

0
زیورخ میں مظاہرہ کرنے والی 2 خاتون گرفتار
زیورخ میں مظاہرہ کرنے والی 2 خاتون گرفتار

زیورخ میں مظاہرین شہر کے مختلف حصوں میں یکجا ہورہے تھے اور انہیں روکنے کے لئے آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔ پولیس کے مطابق مظاہرین میں سے ایک نے پولیس افسر کی پٹائی کی۔

زیورخ: سوئٹزر لینڈ پولیس نے خواتین کے بین الاقوامی دن سے قبل کی شام منعقدہ خواتین ریلی پر آنسو گیس کے گولے داغے اور مظاہرہ کرنے والی دو خواتین کو گرفتار کیا۔
خواتین کی ریلی کے دوران سنیچر کو پولیس افسران نے کووڈ 19 خواتین کے قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے ہجوم کے یکجا کرنے پر عائد پابندی سے متعلق خبردار کیا تھا۔
پولیس نے بتایا کہ مظاہرین شہر کے مختلف حصوں میں یکجا ہورہے تھے اور انہیں روکنے کے لئے آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔ پولیس کے مطابق مظاہرین میں سے ایک نے پولیس افسر کی پٹائی کی۔
انہوں نے بتایا کہ پولیس افسر کو پیٹنے والی خاتون کو حراست میں لے لیا گیا اگرچہ ہجوم نے اسے آزاد کرانے کی کوشش کی تھی، جس کے بعد پولیس کو پھر سے آنسو گیس کا استعمال کرنا پڑا۔ پولیس نے مظاہرہ کرنے والی ایک دیگر خاتون کو بھی گرفتار کیا ہے۔

جنوبی 24 پرگنہ میں ہوئے بم دھماکے میں 6 افراد ہلاک

0
جنوبی 24 پرگنہ میں ہوئے بم دھماکے میں 6 افراد ہلاک
جنوبی 24 پرگنہ میں ہوئے بم دھماکے میں 6 افراد ہلاک

جنوبی 24 پرگنہ میں ہوئے دھماکے میں کم ازکم 6 افراد کی موت ہوگئی ہے۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق زخمی ہونے والے کا تعلق ایک خاص سیاسی جماعت سے ہے۔ زخمی افراد کا علاج کیننگ سب ڈویژنل اسپتال میں جاری ہے۔

کلکتہ: جنوبی 24 پرگنہ میں ہوئے دھماکے میں کم ازکم 6 افراد کی موت ہوگئی ہے۔ پولیس کے مطابق یہاں بم سازی کی جارہی تھی۔

سینئر پولیس آفیسر کے مطابق جمعہ کی شب گوسابہ میں یہ واقعہ پیش آیا ہے۔ گھر کا مالک بھی اس واقعے میں زخمی ہوگئے ہیں۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق زخمی ہونے والے کا تعلق ایک خاص سیاسی جماعت سے ہے۔ زخمی افراد کا علاج کیننگ سب ڈویژنل اسپتال میں جاری ہے۔

زخمی افراد کے لواحقین نے دعویٰ کیا کہ یہ لوگ بی جے پی کے حامی ہیں اور ترنمول کانگریس کے لوگوں نے اس وقت حملہ کیا ہے جب یہ لوگ شادی میں شرکت کے لئے جارہے تھے۔ دوسری جانب افسر نے کہا کہ یہ دھماکہ اس وقت ہوا ہے جب یہ لوگ بم تیار کررہے تھے۔ ہم اس معاملے کی تحقیقا ت کررہے ہیں۔مقامی لوگوں سے پوچھ تاچھ جاری ہے۔

عمران خان نے 178 ووٹوں کے ساتھ اعتماد کا ووٹ حاصل کیا

0
عمران خان نے 178 ووٹوں کے ساتھ اعتماد کا ووٹ حاصل کیا
عمران خان نے 178 ووٹوں کے ساتھ اعتماد کا ووٹ حاصل کیا

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کو اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے لئے 172 ووٹوں کی ضرورت تھی۔ انہوں نے 178 ووٹ حاصل کرکے اعتماد کا ووٹ جیت لیا۔ آٹھ سال پہلے وہ 176 ووٹ حاصل کرنے کے ساتھ وزیراعظم چنے گئے تھے۔

اسلام آباد: پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے ہفتے کو یہاں نیشنل اسمبلی میں 178 ووٹ حاصل کرکے اعتماد کا ووٹ جیت لیا۔ انہیں اعتماد کے ووٹ کے لئے ملے ووٹ ضرورت سے چھ زیادہ تھے۔

پاکستان میں سینیٹ الیکشن میں وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کی ہار کی وجہ عمران حکومت کو نیشنل اسمبلی میں خصوصی اجلاس میں اعتماد کا ووٹ پیش کرنا پڑا۔ مسٹر خان کو اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے لئے 172 ووٹوں کی ضرورت تھی۔

روزنامہ ڈان کی رپورٹ کے مطابق نیشنل اسمبلی کے صدر نے نتیجہ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ آٹھ سال پہلے وزیراعظم عمران 176 ووٹ حاصل کرنے کے ساتھ وزیراعظم چنے گئے تھے۔ انہوں نے کہا، ’’آج وہ 178 ووٹ حاصل کئے ہیں۔‘‘

مسٹر خان کی حمایت میں ان کی پارٹی پاکستان تحریک انصاف کے 155 اراکین نے حمایت دی۔ جبکہ ایم کیو ایم – پی کے پانچ اراکین، بلوچستان عوامی پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ – کووید کے پانچ پانچ، گرانڈ ڈیموکریٹ الائنز سے تین، عوامی مسلم لیگ اور جمہوری وطن پارٹی کے ایک ایک رکن نے وزیراعظم کو اپنا ووٹ دیا۔

اس کے علاوہ مسٹر خان کی حمایت میں آزاد امیدوار اسلم بھوٹانی نے اپنا ووٹ ڈالا۔

اعتماد ووٹ حاصل کرنے کے بعد ایوان سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر خان نے اپنے حق میں ووٹ ڈالنے والے سبھی اتحادیوں اور ارکان پارلیمنٹ کو شکریہ ادا کیا۔

کسان تحریک کے 100 دن مکمل ہونے پر تحریک کار کسان منا رہے ہیں آج ’یوم سیاہ‘

0
کسان تحریک کے 100 دن مکمل ہونے پر تحریک کار کسان منا رہے ہیں آج ’یوم سیاہ‘
کسان تحریک کے 100 دن مکمل ہونے پر تحریک کار کسان منا رہے ہیں آج ’یوم سیاہ‘

کسان تنظیم آج ’یوم سیاہ‘ منا رہے ہیں۔ اس درمیان تحریک کار کسانوں نے پانچ گھنٹوں کے لیے کنڈلی-مانیسر-پلول (کے ایم پی) ایکسپریس وے کو جام کر دیا ہے۔ ایکسپریس وے آج 11 بجے سے 4 بجے تک جام رہے گا۔

نئی دہلی: مرکزی حکومت کے تین نئے زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کی تحریک کے ہفتے کے روز 100 دن مکمل ہونے پر تحریک کار کسان تنظیم اس دن (چھ مارچ) کو ’یوم سیاہ‘ کے طور پر منا رہا ہے۔ 

اس درمیان تحریک کار کسانوں نے آج پانچ گھنٹوں کے لیے کنڈلی-مانیسر-پلول (کے ایم پی) ایکسپریس وے کو جام کر دیا ہے۔ ایکسپریس وے آج 11 بجے سے 4 بجے تک جام رہے گا۔ 

سنیُکت کسان مورچہ (ایس ایم پی) نے کسان تحریک کے 100 دن پورے ہونے کے موقع پر چھ مارچ (ہفتے) کو ’یوم سیاہ‘ کے بطور منانے اور کنڈلی-مانیسر-پلول (کے ایم پی) ایکسپریس وے کو پانچ گھنٹوں کے لیے جام کرنے کا اعلان ہفتے کے روز کر دیا تھا۔

کسان تنظیموں اور حکومت کے مابین گیارہ دور کی بات چیت ہو چکی ہے لیکن دونوں کے درمیان ابھی تک اتفاق رائے نہیں ہوا ہے۔ کسان رہنما زرعی قوانین کو واپس لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں اور حکومت قوانین واپس لینے کو بالکل تیار نہیں ہے۔ 

کسانوں کی تحریک 26 نومبر کو شروع ہوئی تھی۔ ہزاروں کی تعداد میں خصوصی طور پر پنجاب اور ہریانہ کے کسان دہلی سے متصل سرحدوں کے آس پاس دھرنا-مظاہرہ اور تحریک چلا رہے ہیں۔

اسے بھی پڑھیں:

زرعی قوانین کے خلاف بیداری مہم، پنجاب سے دو نوجوان پہنچے حیدرآباد

سوئٹزرلینڈ میں نقاب پر پابندی کو ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مسترد کردیا

0
سوئٹزرلینڈ میں نقاب پر پابندی کو ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مسترد کردیا
سوئٹزرلینڈ میں نقاب پر پابندی کو ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مسترد کردیا

چہرے کے پردے پر مجوزہ پابندی کو کسی بھی طرح سے خواتین کی آزادی کے اقدام کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ بلکہ یہ ایک خطرناک پالیسی ہے جو آزادئ اظہار اور آزادئ مذہب سمیت خواتین کے حقوق کی خلاف ورزی پر مبنی ہے۔ ان خیالات کا اظہار ایمنسٹی انٹرنیشنل سوئزرلینڈ کی خواتین سے متعلق حقوق کی سربراہ سیریل ہوگناٹ نے کیا۔

لندن: انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ سوئزرلینڈ میں چہرے کے نقاب پر مجوزہ پابندی کی بات امتیازی اور خواتین کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

ان خیالات کا اظہار ایمنسٹی انٹرنیشنل سوئزرلینڈ کی خواتین سے متعلق حقوق کی سربراہ سیریل ہوگناٹ نے اتوار کے روز ملک میں مسلم خواتین کے نقاب پر پابندی سے متعلق عوامی ریفرنڈم کے تناظر میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ چہرے کے پردے پر مجوزہ پابندی کو کسی بھی طرح سے خواتین کی آزادی کے اقدام کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ بلکہ یہ ایک خطرناک پالیسی ہے جو آزادئ اظہار اور آزادئ مذہب سمیت خواتین کے حقوق کی خلاف ورزی پر مبنی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس پابندی کا ان مسلم خواتین پر خاص طور پر اثر پڑے گا جو نقاب یا برقعہ پہننے کا انتخاب کرتی ہیں، اگر ہم واقعی خواتین کا احترام کرنا چاہئے ہیں تو ہمیں خواتین کو یہ فیصلہ کرنے دینا چاہیے کہ وہ کیا پہنتی ہیں۔

اس نوعیت کی پابندی امتیازی سلوک شمار ہوگی

ایمنسٹی انٹر نیشنل نے اپنے اعلامیہ میں خواتین کیلئے حقوق کے سیکشن کی سربراہ نے مزید کہا کہ اگر اس ریفرنڈم کا ارادہ خواتین کے حقوق کے تحفظ کے نام پر کیا جا رہا ہے تو یہ درست نہیں بلکہ اس کے ذریعے خواتین کو اپنے پہننے کے لباس کی دوسروں سے منظوری لینے کے مترادف سمجھنا چاہئے۔ یہ عمل سوئزرلینڈ میں تصور آزادی مجروح کرنے کے برابر ہوگا۔

انہوں نے مزید زور دیکر کہا کہ اس نوعیت کی پابندی امتیازی سلوک شمار ہوگی۔ اس سے معاشرے میں ان خواتین کو بدنام کرنے کا ایک اور موقع حاصل ہوجائے گا، جنہیں پہلے ہی پسماندہ گروہ سے تعلق رکھنے والا خیال کیا جاتا ہے۔ اس سے دقیانوسی خیالات اور معاشرے میں عدم رواداری میں اضافے کا بھی خطرہ ہے۔

زرعی قوانین کے خلاف بیداری مہم، پنجاب سے دو نوجوان پہنچے حیدرآباد

0
زرعی قوانین کے خلاف بیداری مہم، پنجاب سے دو نوجوان پہنچے حیدرآباد
زرعی قوانین کے خلاف بیداری مہم، پنجاب سے دو نوجوان پہنچے حیدرآباد

زرعی قوانین کے بارے میں ملک گیر بیداری پیدا کرنے کے لئے پنجاب سے دو نوجوان حیدرآباد پہنچے۔ دونوں نوجوان گاؤں گاؤں پھر کر کھیتوں میں جاتے ہیں اور کسانوں کو ان قوانین کے نقصانات سے آگاہ کرتے ہیں۔

حیدرآباد: زرعی قوانین کے سلسلہ میں ملک گیر بیداری پیدا کرنے کے لئے پنجاب سے تعلق رکھنے والے دو نوجوان حیدرآباد پہنچے۔ کسانوں کے یہ دونوں بیٹے اس قانون کے خلاف مختلف ریاستوں میں بیداری پیدا کرنے کے بعد اپنی اسکارپیو گاڑی میں تلنگانہ کے دارالحکومت پہنچے۔ اس گاڑی پر بیداری مہم انگریزی میں لکھا گیا ہے۔

شہر کی سرکردہ عثمانیہ یونیورسٹی میں ان نوجوانوں مجیندر سنگھ، سکھویندر سنگھ نے مشہور آرٹس کالج عمارت کے قریب طلبہ سے تبادلہ خیال کیا۔ بیداری پروگرام کے حصہ کے طور پر اب تک تقریبا 15 ریاستوں کا احاطہ کرنے والے ان نوجوانوں نے ان زرعی قوانین کو کسانوں کے خلاف قرار دیا۔

انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ بلز کسانوں کے لئے خطرناک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ گاؤں گاؤں پھر کر کھیتوں میں جاتے ہیں اور کسانوں کو ان قوانین کے نقصانات کے بارے میں واقف کرواتے ہیں۔

انہوں نے نہ صرف کسانوں بلکہ عام آدمی کے لئے بھی ان بلز کو نقصان دہ قراردیا۔ اب تک اس مہم کے دوران 11000 کلومیٹر کا سفر انہوں نے طے کرلیا ہے۔

بائیڈن کا ایران کے خلاف قومی ایمرجنسی میں ایک سال کی توسیع کا فیصلہ

0
بائیڈن کا ایران کے خلاف قومی ایمرجنسی میں ایک سال کی توسیع کا فیصلہ
بائیڈن کا ایران کے خلاف قومی ایمرجنسی میں ایک سال کی توسیع کا فیصلہ

ایران کے سلسلہ میں قومی ہنگامی ایکٹ کے سیکشن 202 ڈی کے تحت 15 مارچ 1995 کو نافذ قومی ایمرجنسی 15 مارچ 2021 سے آگے ایک سال کے لئے بڑھا دی گئی ہے۔

واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن نے 1995 میں نافذ کئے گئے ایران سے متعلق قومی ایمرجنسی میں ایک سال کی توسیع کا اعلان کیا ہے۔ یہ ایک قسم کی قانونی بنیاد ہے جس کے ذریعہ ایران پر جوہری ہتھیاروں اور دہشت گرد تنظیموں کی حمایت کرنے پر طرح طرح کی پابندیاں عائد کرتا ہے۔
جمعہ کے روز امریکی صدر کے دفتر وائٹ ہاؤس نے یہ اطلاع دی۔
صدر کے دفتر سے جاری ایک بیان کے مطابق ایران کے سلسلہ میں قومی ہنگامی ایکٹ کے سیکشن 202 ڈی کے تحت 15 مارچ 1995 کو نافذ قومی ایمرجنسی 15 مارچ 2021 سے آگے ایک سال کے لئے بڑھا دی گئی ہے۔
مسٹر بائیڈن نے کہا کہ ایران کی سرگرمیاں اور اس کی پالیسیاں امریکہ کی قومی سلامتی، خارجہ پالیسی اور معیشت کے لئے مستقل خطرہ ہیں۔ انہوں نے ایران پر جوہری ہتھیار تیار کرنے اور دہشت گرد تنظیموں کی حمایت کرنے کا بھی الزام عائد کیا۔

دلت معاملے پر عام آدمی پارٹی کا قانون ساز اسمبلی تک پیدل مارچ

0
دلت معاملے پر عام آدمی پارٹی کا قانون ساز اسمبلی تک پیدل مارچ
دلت معاملے پر عام آدمی پارٹی کا قانون ساز اسمبلی تک پیدل مارچ

اپوزیشن لیڈر ہرپال چیمہ نے کہا کہ کانگریس حکومت میں غریب دلت طلبہ کا مستقبل خراب ہوچکا ہے، ہزاروں دلت طلبہ اسکالرشپ نہ ملنے کی وجہ سے ڈگریاں حاصل کرنے میں ناکام ہورہے ہیں اور سیکڑوں کالج بند ہونے کی راہ پر گامزن ہیں، لیکن کیپٹن کو ان طلبہ کی پرواہ نہیں ہے۔

چنڈی گڑھ: عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے ممبران نے اسکالرشپ نہ ملنے کی وجہ سے دلت طلبہ کو ہونے والی پریشانی اور دلتوں کے حقوق کے معاملے کو آج اسمبلی میں اٹھایا۔

عآپ کے ممبران نے ایوان کی کارروائی شروع ہونے سے قبل دلتوں کی آواز بلند کرتے ہوئے ایم ایل اے ہاسٹل سے قانون ساز اسمبلی تک پیدل مارچ کیا۔ مارچ میں انہیں دلت حقوق کے متعدد کارکنوں کا ساتھ ملا. کارکنوں اور اراکین اسمبلی نے دلتوں کے حق میں نعرے بازی کی اور امریندر حکومت پر دلتوں کو نظرانداز کرنے کا الزام عائد کیا۔

اپوزیشن لیڈر ہرپال چیمہ نے میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کے دلت طلبہ کو ہمیشہ نظرانداز کیا جاتا رہا ہے۔ اکالی – بی جے پی کے دور حکومت میں دلتوں کے فلاحی فنڈ میں کروڑوں روپے کا گھپلہ کیا گیا تھا۔ اب کانگریس حکومت بھی گھپلہ کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک آر ٹی آئی کے ذریعہ یہ انکشاف ہوا ہے کہ مرکزی حکومت نے میٹرک کے بعد کے اسکالرشپ کے لئے پنجاب حکومت کو 1423 کروڑ روپئے جاری کیے ہیں، لیکن ریاستی حکومت نے ابھی تک سیکڑوں کالجوں کو 1853 کروڑ روپئے کے بقایاجات نہیں دیئے ہیں۔ حکومت نے پنجاب کے عوام سے جھوٹ بولا کہ مرکزی حکومت نے ریاست کو پوسٹ میٹرک اسکالرشپ کے تحت ملنے والے فنڈ روک رکھے ہیں۔ لیکن آر ٹی آئی کی درخواست کا جواب صاف طور پر ظاہر کرتا ہے کہ مرکزی حکومت نے ریاستی حکومت کو اسکالرشپ فنڈ دے دیئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت میں غریب دلت طلبہ کا مستقبل خراب ہوچکا ہے، ہزاروں دلت طلبہ اسکالرشپ نہ ملنے کی وجہ سے ڈگریاں حاصل کرنے میں ناکام ہورہے ہیں اور سیکڑوں کالج بند ہونے کی راہ پر گامزن ہیں، لیکن کیپٹن کو ان طلبہ کی پرواہ نہیں ہے۔

میانمار: 6 صحافیوں پر تختہ پلٹ مخالف مظاہروں کے کوریج کا الزام

0
میانمار: 6 صحافیوں پر تختہ پلٹ مخالف مظاہروں کے کوریج کا الزام
میانمار: 6 صحافیوں پر تختہ پلٹ مخالف مظاہروں کے کوریج کا الزام

انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹ (آئی ایف جے) نے حراست میں لیے گئے تمام صحافیوں کو رہا کرنے کی اپیل کی ہے اور میڈیا کی آزادی کا احترام کرنے کے لیے ان کی ذمہ داریوں کی یاد دہانی کروائی ہے۔

نیپیڈا: میانمار میں فوجی افسران نے چھ صحافیوں پر تختہ پلٹ مخالف مظاہروں کی کوریج کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹ (آئی ایف جے) نے حراست میں لیے گئے تمام صحافیوں کو رہا کرنے کی اپیل کی ہے اور میڈیا کی آزادی کا احترام کرنے کے لیے ان کی ذمہ داریوں کی یاد دہانی کروائی ہے۔

رواں ہفتے چھ صحافیوں کو مبینہ طور پر ’خوف زدہ کرنے، جھوٹی خبر پھیلانے یا سرکاری اہلکاروں کو بالواسطہ یا بلا واسطہ طور پر تحریک کے لیے مشتعل کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ ان سبھی صحافیوں کو 27 اور 28 فروری کو احتجاجی مظاہرے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ افسران نے پہلے 10 صحافیوں کو حراست میں لیا تھا۔

اسے بھی پڑھیں:

میانمار: مظاہرین کے ساتھ پولیس کی خونی جھڑپیں، مزید 38 افراد ہلاک، 300 گرفتار

بی جے پی کے سابق رکن اسمبلی ٹھاکر موہر سنگھ کا انتقال

0
بی جے پی کے سابق رکن اسمبلی ٹھاکر موہر سنگھ کا انتقال
بی جے پی کے سابق رکن اسمبلی ٹھاکر موہر سنگھ کا انتقال

مسٹر ٹھاکر موہر سنگھ 1980 سے 1998 کے دوران چار بار ودیشہ سے مقبول رکن اسمبلی رہے ہیں، اس کے بعد ان کی اہلیہ ششیلا سنگھ بھی ودیشہ سے رکن اسمبلی منتخب ہوئیں۔

ودیشہ: مدھیہ پردیش میں ودیشہ سے چار مرتبہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن اسمبلی رہے ٹھاکر موہر سنگھ کا دوران علاج بھوپال کے پرائیوٹ اسپتال میں انتقال ہوگیا۔ وہ 72 سال کے تھے۔

سابق رکن اسمبلی مسٹرسنگھ کو پانچ دن قبل ہی سانس کی تکلیف کے سبب بھوپال کے پرائیوٹ اسپتال میں علاج کے لئے داخل کیا گیا تھا، جہاں سے تشویشناک حالت میں انہیں گزشتہ شام دوسرے پرائیوٹ اسپتال منتقل کردیا گیا تھا۔ وہاں دیر رات ان کا انتقال ہو گیا۔

مسٹر سنگھ 1980 سے 1998 کے دوران چار بار ودیشہ سے مقبول رکن اسمبلی رہے ہیں، اس کے بعد ان کی اہلیہ ششیلا سنگھ بھی ودیشہ سے رکن اسمبلی منتخب ہوئیں۔

مسٹر سنگھ سادہ اور ملنسار شخصیت کے مالک تھے۔ رکن اسمبلی رہتے ہوئے جیب میں ایم ایل اے کی مہر لے کر چلنے سے ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا۔