جمعرات, اکتوبر 1, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 385

مودی نے نوٹ بندی سے لے کر بینک بندی تک ملک کی معیشت کو تباہ کردیا ہے: ممتا بنرجی

0
مودی نے نوٹ بندی سے لے کر بینک بندی تک ملک کی معیشت کو تباہ کردیا ہے: ممتا بنرجی
مودی نے نوٹ بندی سے لے کر بینک بندی تک ملک کی معیشت کو تباہ کردیا ہے: ممتا بنرجی

ممتا بنرجی نے کہا کہ جب شوبھندو ادھیکاری ترنمول کانگریس میں تھے تو میں نے ان پر آنکھ بند کرکے بھروسہ کیا مگر اس نے دھوکہ دیا اب وہ اپنے روپے بچانے کے لئے بی جے پی میں گئے ہیں۔

ہلدیہ: مغربی بنگال کی وزیر اعلی اور ترنمول کانگریس کی سپریمو ممتا بنرجی نے ہفتہ کے روز کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے نوٹ بندی سے لے کر بینک بندی تک اس ملک کی معیشت کو تباہ کردیا ہے۔ بنرجی نے کہا کہ وہ جلد ہی ہلدیہ بندرگاہ فروخت کرنے کا اعلان کرنے والے ہیں۔

شوبھندو ادھیکاری اپنے پیسے بچانے کے لئے بی جے پی میں گئے

یہاں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے ترنمول کانگریس کی سپریمو نے کہا کہ جنگ انچ ایک انچ ہوگی، آپ کو ای وی ایم کی حفاظت کرنی ہوگی۔ بٹن کو اس طرح دبائیں کہ بی جے پی بولڈ ہو جائے۔ ممتا بنرجی نے پوچھا کہ شوبھندو ادھیکاری اپنے پیسے بچانے کے لئے بی جے پی میں گئے ہیں۔ ان سے بڑا ٹولہ باز کون ہے۔ ممتا بنرجی نے سوال کیا کہ ادھیکاری سے بھی بڑا کوئی ٹولہ باز ہے؟۔ اب وہ اپنے سارے پیسے بچانے کے لئے بی جے پی میں گئے ہیں۔ مجھے خوشی ہے کہ وہ چلا گیا ہے۔

ممتا بنرجی نے کہا کہ یاد رکھیں کہ یہ لوک سبھا انتخابات نہیں، یہ ریاستی انتخابات ہیں اور میں تمام 294 سیٹوں پر آپ کی امیدوار ہوں۔ اس سے قبل جمعہ کو مشرقی مدنی پور ضلع کے تملک میں ایک جلسہ عام میں، وزیر اعلی نے کہا کہ آئندہ مغربی بنگال اسمبلی انتخابات 2021 کے نتائج 2024 لوک سبھا انتخابات میں نریندر مودی اور امت شاہ جیسے بی جے پی قائدین کی قسمت کا فیصلہ کرے گی۔ ہمیں ان بری قوتوں کے خلاف متحد ہونا پڑے گا۔ وہ ہمیں تقسیم کرنے کے لئے بنگال آئے تھے۔ آپ نے بی جے پی کو (2019 لوک سبھا میں) ووٹ دیا اور انہوں نے آپ کو دھوکہ دیا۔ انہوں نے آپ کو کچھ نہیں دیا۔

ممتا بنرجی نے کہا کہ جب وہ (شوبھندو ادھیکاری) ترنمول کانگریس میں تھے تو میں نے ان پر آنکھ بند کرکے بھروسہ کیا مگر اس نے دھوکہ دیا اب وہ اپنے روپے بچانے کے لئے بی جے پی میں گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم بنگال کی کسی بھی نشست پر ان کے اور اپوزیشن کے کسی امیدوار کو انچ نہیں چھوڑیں گے۔

وزیر اعلی نے کہا کہ میں این آر سی اور این پی آر بنگال میں نہیں ہونے دوں گی

وزیر اعلی نے کہا کہ میں این آر سی اور این پی آر کو یہاں بنگال میں نہیں ہونے دوں گی۔ جب تک میں زندہ ہوں میں اپنی ریاست کے لوگوں کے تحفظ کے لئے ہر ممکن کوشش کروں گی۔

“تمام اہل طلبہ کو اعلی تعلیم کی فراہمی کے لئے میں جلد ہی ایک نیا اسٹوڈنٹ کریڈٹ کارڈ شروع کروں گی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس کریڈٹ کارڈ میں کریڈٹ کی حد 10 لاکھ روپے ہوگی جس میں سود صرف 4 فیصد ہے جس میں آسانی سے ادائیگی کی جائے گی تاکہ طلبہ کو اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لئے اپنے والدین پر انحصار نہ کرنا پڑے۔

ممتا بنرجی نے کہا کہ میں اپنے بھائیوں اور بہنوں سے یہ کہنا چاہوں گی کہ امیدواروں کی طرف مت دیکھیں۔ ترنمول کانگریس کے نشانات کو دیکھیں اور مجھے ووٹ دیں۔ اگر وہ ترنمول کانگریس کو ووٹ نہیں دیتے ہیں تو بنگال تقسیم ہو جائے گا اور لوگ امن سے نہیں رہیں گے۔

رام کے نام پر سیاست کررہی ہے بی جے پی: ٹکیت

0
رام کے نام پر سیاست کررہی ہے بی جے پی: ٹکیت
رام کے نام پر سیاست کررہی ہے بی جے پی: ٹکیت

نریش ٹکیت نے کہا کہ بی جے پی کے قول و فعل میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ یہ لوگ اپنی زبان سے ہمارے بزرگوں رام چندر جی کا نام نہ لیں۔ تاکیداََ کہا کہ رام کا اگر نام لے رہے ہو تو ان کے اصولوں پر چلنا ہے۔

شاہجہاں: بھارتیہ کسان یونین صدر نریش ٹکیت نے الزام لگایا ہے کہ شری رام کے نام پر حکومت بنانے والی بی جے پی ان کے اصولوں پر چلنے کے بجائے رام کے نام پر سیاست کررہی ہے۔

ضلع کے کھٹار واقع گٹیا میں منعقد کسان پنچایت سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر ٹکیت نے ہفتہ کو کہا کہ حکومت کسانوں کے ساتھ جو دھوکہ دہی کی سیاست کررہی ہے اسے اب کسان سمجھ چکا ہے۔ بی جے پی کے قول و فعل میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ یہ لوگ اپنی زبان سے ہمارے بزرگوں رام چندر جی کا نام نہ لیں۔ انہوں نے تاکیداََ کہا کہ رام کا اگر نام لے رہے ہو تو ان کے اصولوں پر چلنا ہے۔

کسان لیڈر کا بی جے پی پر گجرات میں قتل عام کروانے کا الزام 

انہوں نے کہا کہ بی جے پی لیڈروں نے رام چندر جی کے نام سے حکومت بنائی اور آج بھی انہیں کے نام پر سیاست کررہے ہیں۔ انہوں نے بی جے پی پر گجرات میں قتل عام کروانے کا الزام لگاتے ہوئے دعوی کیا کہ گودھرا واقعہ انہیں کے سبب ہوا۔

کسان لیڈر نے مظفر نگر میں ہوئے فسادات کا الزام بھی بی جے پی پر لگاتے ہوئے کہا ’ہم مظفر نگر کے فسادات کے گواہ ہیں۔ گواہی کے طور پر ہم نے وہاں دیکھا ہے کہ کس طرح سے بی جے پی کے ذریعہ ہندو ۔ مسلمان کی کھائی پیدا کرکے سیاست کی جارہی ہے۔

انہوں نے مہا پنچایت میں پہنچے کسانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ گیہوں خرید سے لے کر کسانوں سے متعلق سبھی مسائل کے تصفیہ کے لئے وہ ہمیشہ کسانوں کے ساتھ ہے۔ ان کے ساتھ دھوکہ نہیں کیا جائے گا۔ کسی کے بھی ورغلانے میں آنے کی ضرورت نہیں ہے۔

غازی پور سرحد پر پہنچنے کی اپیل

بھارتیہ کسان یونین کے راجیش سنگھ چوہان نے موجود کسانوں سے اپنی فصلیں کاٹنے کے بعد ہر گھر سے ایک شخص کو غازی پور سرحد پر پہنچنے کی اپیل کی۔ انہوں نے ضلع انتظامیہ کو انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر گیہوں خرید میں گڑبڑی ہوئی، کسانوں کے ساتھ ناانصافی دھوکہ ہوا تو افسران کے آفسوں میں گیہوں بھروا دیا جائے گا۔

مہاپنچایت میں پہنچی پنجابی گلوکارہ روپیندر سنگھ ہانڈا نے کہا کہ حکومت ملک کو فروخت کرنے کا کام کررہی ہے۔ انہوں نے کسانوں سے کہا کہ سرداروں کی قوم قربانی دینے کے لئے جانی جاتی ہے۔ آپ بیدار رہیں یہ لڑائی کسان ضرور جیتیں گے۔

عوام میں خدشات کے درمیان، وزیر اعلی نے کہا کوئی لاک ڈاؤن یا دن کا کرفیو نہیں لگے گا

0
عوام میں خدشات کے درمیان، وزیر اعلی نے کہا کوئی لاک ڈاؤن یا دن کا کرفیو نہیں لگے گا
عوام میں خدشات کے درمیان، وزیر اعلی نے کہا کوئی لاک ڈاؤن یا دن کا کرفیو نہیں لگے گا

گجرات میں پچھلے مہینے کے آخر میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات اور احمد آباد میں انڈیا انگلینڈ کرکٹ میچوں کی سیریز کے بعد سے ریاست میں کورونا کے نئے کیسوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

گاندھی نگر: گجرات میں مسلسل بڑھنے والے کورونا انفیکشن کے معاملے اور اس کی وجہ سے رات کے کرفیو بڑھائے جانے، آج اور کل تمام مالز اور ملٹی پلیکسوں کی بندش، دارالحکومت میں اسکولوں کی بند رکھنے کے اقدامات لوگوں میں ایک بار پھر لاک ڈاؤن کی گہری تشویش کے درمیان، وزیر اعلی وجے روپانی نے آج کہا کہ کوئی لاک ڈاؤن یا دن کا کرفیو نافذ نہیں کیا جائے گا۔

مسٹر روپانی نے آج صحافیوں کو بتایا کہ لوگوں کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ اقدامات مالز وغیرہ میں ہجوم کے پیش نظر کئے گئے ہیں۔ لوگوں کو محتاط رہنا چاہئے۔ ریاستی حکومت اس معاملے کا روزانہ جائزہ لے رہی ہے۔ ریاست میں باہر سے آنے والے لوگوں کی اسکریننگ کی جارہی ہے۔ حکومت اور حکمراں بی جے پی نے احتیاطی اقدام کے طور پر ان کے تمام پروگراموں کو منسوخ کردیا ہے۔ ریاستی حکومت نے رات کے کرفیو کو نو سے چھ تک بڑھا دیا ہے۔ آج اور کل سبزی فروشوں، گروسری کے خریداروں اور دیگر نام نہاد سپر اسپریڈرس کی تفتیش کی مہم بھی شہر میں جاری ہے۔

کورونا کے نئے کیسوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ

واضح رہے کہ ریاست گجرات میں پچھلے مہینے کے آخر میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات اور یہاں احمد آباد میں انڈیا انگلینڈ کرکٹ میچوں کی سیریز کے بعد سے ریاست میں کورونا کے نئے کیسوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران، ریاست میں 1400 سے زیادہ نئے معاملات ہوئے ہیں، جن میں سے تقریبا 350 350 صرف اکیلے احمد آباد سے ہیں۔ چار اموات بھی ریکارڈ کی گئی ہیں۔ اب تک کم از کم اموات کی تعداد 4400 کو عبور کر چکی ہے۔ فعال معاملات بھی بڑھ کر 6100 سے زیادہ ہوچکے ہیں جن میں سے 67 وینٹی لیٹر پر ہیں۔

معلوم ہو کہ گذشتہ سال اچانک کرفیو اور ریاستی حکومت کے مکمل لاک ڈاؤن کی وجہ سے لوگوں کو کورونا کے حوالے سے کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ لوگوں کو زندگی گزارنے کے لئے بھی سب سے اہم چیزوں کے لئے ترسنا پڑا۔

اس دوران ریاست میں ہونے والے اسمبلی ضمنی انتخابات میں بھی، رہنماؤں کی بہت سی ریلیاں نکالی گئیں جس میں ایک بہت بڑا مجمع اکٹھا ہوا۔ اس بار بلدیاتی انتخابات میں بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ لوگوں میں اس طرح کے دوہرے سلوک کے بارے میں بھی سخت ناراضگی ہے۔

ملک میں ایک بار پھر کورونا کی لہر، فعال معاملات میں تیزی سے اضافہ

0
ملک میں ایک بار پھر کورونا کی لہر، فعال معاملات میں تیزی سے اضافہ
ملک میں ایک بار پھر کورونا کی لہر، فعال معاملات میں تیزی سے اضافہ

مرکزی وزارت صحت کے ہفتہ کی صبح جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا انفیکشن کے 40،953 نئے کیس سامنے آئے ہیں، جس سے متاثرین کی تعداد ایک کروڑ 15 لاکھ 55 ہزار سے زیادہ ہوگئی ہے۔

نئی دہلی: کورونا وائرس (کووڈ ۔ 19) کے انفیکشن کے واقعات میں تیزی سے اضافے کے درمیان گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں 17 ہزار سے زیادہ سرگرم معاملات رپورٹ ہوئے ہیں۔

گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران، فعال معاملات کی تعداد 17112 سے بڑھ گئی ہے جبکہ جمعہ کے روز 18918، جمعرات کو 17958، بدھ کو 10974، منگل کو 4170، پیر کو 8718، اتوار کو 8522 اور ہفتہ کو 4785 درج کی گئی ہے۔

اس عرصے میں کورونا وائرس سے مرنے والے افراد کی تعداد 188 ریکارڈ کی گئی ہے۔ یہ تعداد جمعہ کے روز 154، جمعرات کو 172، بدھ کو 188، منگل کے روز 131، پیر کو 118، اتوار کے روز 158، ہفتہ کے روز 140 درج کی گئی تھی۔

دریں اثنا، ملک میں اب تک چار کروڑ 20 لاکھ 63 ہزار سے زائد افراد کو ویکسن کا ٹیکہ لگایا جاچکا ہے۔

مرکزی وزارت صحت کی جاری کردہ اعداد و شمار

مرکزی صحت کی وزارت کے ہفتہ کی صبح جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا انفیکشن کے 40،953 نئے کیس سامنے آئے ہیں، جس سے متاثرین کی تعداد ایک کروڑ 15 لاکھ 55 ہزار سے زیادہ ہوگئی ہے۔ پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران، 23،653 مریض صحت مند ہوچکے ہیں، جن میں اب تک 1،11،07،332 مریض شامل ہیں جو ابھی تک شفایاب ہوچکے ہیں۔ فعال معاملات 17112 سے بڑھ کر 2،88،394 ہو گئے ہیں۔ اسی مدت میں مزید 188 مریضوں کی موت کے ساتھ ہی اس بیماری سے مرنے والے افراد کی تعداد 1،59،558 ہوگئی ہے۔

ملک میں شفایابی کی شرح 96.12 ہوگئی ہے اور سرگرم کیسوں کی شرح 2.49 فیصد ہوگئی ہے، جبکہ اموات کی شرح اب بھی 1.38 فیصد ہے۔

مہاراشٹر کورونا کے فعال معاملات میں سرفہرست

مہاراشٹر کورونا کے فعال معاملات میں سرفہرست ہے اور گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ریاست میں فعال معاملات کی تعداد بڑھ کر 1،78،848 ہوگئی ہے۔ ریاست میں ، 14400 مریض صحت مند ہوگئے ، جنہیں ملاکر کورونا کو شکست دینے والوں کی تعداد 21،89،965 لاکھ تک پہنچ گئی ہے جبکہ مزید 70 مریضوں کی اموات کی تعداد بڑھ کر 53،208 ہوگئی ہے۔

کیرالہ میں پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران، فعال کیسوں کی تعداد دو بڑھ کر 25465 ہوگئی ہے اور 1965 مریضوں کی شفایابی کے باعث کورونا کو شکست دینے والوں کی تعداد 10 لاکھ 70 ہزار سے زیادہ ہوگئی ہے۔ جبکہ اموات کی تعداد میں مزید 17 مریضوں کی موت سے تعداد 4467 پر پہنچ گئی ہے۔

کرناٹک میں کورونا کے سرگرم معاملات 708 بڑھ کر 12086 ہوگئے ہیں۔ ریاست میں اموات کی تعداد بڑھ کر 12425 ہوگئی ہے اور اب تک 942178 مریض ٹھیک ہو چکے ہیں۔

پنجاب میں، فعال مریضوں کی تعداد میں مزید 1093 کا اضافہ ہوکر 15459 ہوگئی ہے۔ انفیکشن سے راحت حاصل کرنے والے افراد کی تعداد بڑھ کر 186187 ہوگئی ہے جبکہ 6242 مریض دم توڑ چکے ہیں۔ چھتیس گڑھ میں، مزید 728 فعال کیسز بڑھ کر 6753 ہو گئے ہیں۔ جبکہ ریاست میں 311198 افراد شفایاب ہوچکے ہیں، وبائی امراض کے سبب انفیکشن کی وجہ سے ہلاکتوں کی تعداد 399 ہوگئی ہے۔

گجرات میں، فعال معاملات 463 بڑھ کر 6147

گجرات میں، فعال معاملات 463 بڑھ کر 6147 ہوچکے ہیں اور اب تک 4437 افراد کی موت ہوچکی ہے۔ ریاست میں، 273280 مریض انفیکشن سے صحت مند ہوئے ہیں۔ مدھیہ پردیش میں، 577 فعال معاملات بڑھ کر 6609 ہوچکے ہیں اور 262587 افراد اب تک صحت مند ہوچکے ہیں۔ جبکہ 3901 افراد اس مرض کی وجہ سے ہلاک ہوگئے ہیں۔ تمل ناڈو میں سرگرم کیسوں کی تعداد بڑھ کر 6690 ہوگئی ہے اور اب تک 12582 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ ریاست میں، 845178 مریض انفیکشن سے راحت حاصل کرچکے ہیں۔

اسی دوران، ہریانہ میں سرگرم معاملات میں تیزی آئی ہے۔ یہاں 423 کیسوں کے اضافے کے ساتھ فعال معاملات کی تعداد 4380 ہوگئی ہے۔ اب تک 3090 افراد اس مرض کی وجہ سے ہلاک ہوچکے ہیں اور اب تک 270670 افراد اس مرض سے ٹھیک ہوچکے ہیں۔

دارالحکومت دہلی میں فعال معاملات کی تعداد

قومی دارالحکومت دہلی میں، فعال معاملات کی تعداد 238 سے بڑھ کر 3165 ہوگئی ہے۔ اب تک 10953 افراد اس وبا سے مر چکے ہیں جبکہ 632230 مریضوں نے کورونا کو شکست دی ہے۔

مغربی بنگال میں، کورونا کے فعال معاملات 3297 تک بڑھ گئے ہیں اور 10301 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ ریاست میں اب تک 566228 افراد صحت یاب ہوئے ہیں۔ تلنگانہ میں فعال معاملات بڑھ کر 2607 ہوچکے ہیں اور 1666 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں جبکہ 298451 افراد وبائی مرض سے شفایاب ہوئے ہیں۔

آندھرا پردیش میں سرگرم معاملات 1909 رہے ہیں۔ اسی کے ساتھ ہی، 114 مریض صحت مند ہوگئے، جن میں کورونا کو شکست دینے والوں کی تعداد 883890 ہوگئی، جبکہ 7187 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

آبادی کے مطابق، ملک کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں 2470 فعال معاملات ہوئے ہیں۔ اسی کے ساتھ ہی اس وبا کی وجہ سے 8757 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں اور اب تک 5.95 لاکھ سے زیادہ مریض صحت مند ہوچکے ہیں۔

بہار میں سرگرم کیسوں کی تعداد

بہار میں سرگرم کیسوں کی تعداد بڑھ کر 437 ہوگئی ہے۔ ریاست میں، کورونا کی وجہ سے 1556 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں جبکہ 261362 مریض صحت مند ہوچکے ہیں۔

ابھی تک کورونا کی وبا سے راجستھان میں 2796، جموں و کشمیر میں 1979، اوڈیشہ میں 1918، آسام میں 1100، جھارکھنڈ میں 1095، ہماچل پردیش میں 1016، گوا میں 816، پڈوچیری میں 391، تری پورہ میں 391، 39 منی پور میں ۔3 چنڈی گڑھ، 360، میگھالیہ میں 148، سکم میں 135، لداخ میں 130، ناگالینڈ میں، 91، انڈمان اور نیکوبار جزیرے میں 62، اروناچل پردیش میں 65، میزورم میں، 11، دادر نگر حویلی اور دمن دیومیں اور لکشدویپ میں۔ ایک شخص کی موت ہو گئی ہے۔

ایشیائی نژاد امریکی شہریوں کے خلاف تشدد کا خاتمہ ہونا چاہئے: بائیڈن

0
ایشیائی نژاد امریکی شہریوں کے خلاف تشدد کا خاتمہ ہونا چاہئے: بائیڈن
ایشیائی نژاد امریکی شہریوں کے خلاف تشدد کا خاتمہ ہونا چاہئے: بائیڈن

امریکی صدر جو بائیڈن اور نائب صدر کملا ہیرس صوبہ جارجیا کے اسپا سیلونوں پر کئی مسلح سلسلہ وار حملوں میں چھ ایشیائی امریکی خواتین سمیت آٹھ افراد کی ہلاکت کے بعد جارجیا کے صوبے کا دورہ کر رہے ہیں۔

واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ وہ اٹلانٹا، جارجیا کے صوبوں میں ہونے والی فائرنگ کی تحقیقات اور ایشیائی نسل کے امریکی شہریوں کے خلاف ہونے والے تشدد کے بارے میں مسلسل معلومات طلب کر رہے ہیں۔ ایشیائی نژاد امریکی شہریوں کے خلاف تشدد کا خاتمہ ہونا چاہئے۔

مسٹر بائیڈن اور نائب صدر کملا ہیرس صوبہ جارجیا کے اسپا سیلونوں پر کئی مسلح سلسلہ وار حملوں میں چھ ایشیائی امریکی خواتین سمیت آٹھ افراد کی ہلاکت کے بعد جارجیا کے صوبے کا دورہ کر رہے ہیں۔

مسٹر بائیڈن نے ٹیلی ویژن پر دئے گئے بیان میں کہا، "تفتیش جاری ہے اور مجھے باقاعدگی سے نائب صدر اور اٹارنی جنرل اور فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) کے ڈائریکٹر آگاہ کرہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس جرم میں ملوث افراد بچ نہیں سکتے، ہمیں کارروائی کرنی ہوگی۔”

میانمار میں بغاوت کے خلاف مظاہروں کے دوران 230 سے ​​زیادہ افراد ہلاک

0
میانمار میں بغاوت کے خلاف مظاہروں کے دوران 230 سے ​​زیادہ افراد ہلاک
میانمار میں بغاوت کے خلاف مظاہروں کے دوران 230 سے ​​زیادہ افراد ہلاک

میانمار میں پولیٹیکل قیدی امدادی ایسوسی ایشن کے شہری حقوق کے گروپ نے جمعہ کے روز فیس بک پر لکھا، "یکم فروری سے ملک بھر میں ہونے والے مظاہروں پر کارروائی میں 234 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔”

نیپڈا: میانمار میں بغاوت کے بعد 44 دنوں میں مظاہروں کے خلاف ہونے والی کارراوئی میں 230 سے ​​زیادہ افراد کی موت ہوچکی ہے۔

میانمار میں پولیٹیکل قیدی امدادی ایسوسی ایشن کے شہری حقوق کے گروپ نے جمعہ کے روز فیس بک پر لکھا، "یکم فروری سے ملک بھر میں ہونے والے مظاہروں پر کارروائی میں 234 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔”

اس سے ایک دن پہلے حقوق گروپ نے یہ تعداد 224 بیان کیا تھا۔ گروپ نے بتایا کہ یہ اس کے پاس ریکارڈ شدہ ہلاکتوں کی تعداد ہے۔ انہوں نے کہا کہ حقیقت میں یہ تعداد اور بھی زیادہ ہوسکتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس عرصے کے دوران 2،330 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

اب وقت آگیا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان رنجشوں کو یکطرف کر کے کشمیر کا حل تلاش کریں: محبوبہ

0
اب وقت آگیا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان رنجشوں کو یکطرف کر کے کشمیر کا حل تلاش کریں: محبوبہ
اب وقت آگیا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان رنجشوں کو یکطرف کر کے کشمیر کا حل تلاش کریں: محبوبہ

پی ڈی پی صدر و سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ دونوں ممالک کو اپنے وسائل ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے بجائے عوام کی فلاح و بہبودی پر صرف کرنے چاہئے۔

سری نگر: پی ڈی پی صدر و سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے لئے اچھا موقع ہے کہ وہ رنجشوں کو یکطرف کر کے کشمیر مسئلے کا دیرپا حل تلاش کریں۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو اپنے وسائل ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے بجائے عوام کی فلاح و بہبودی پر صرف کرنے چاہئے۔

موصوفہ ان باتوں کا اظہار جمعہ کو اپنے ایک ٹویٹ میں کیا۔ انہوں نے یہ ٹویٹ پاکستان کے فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے بیان کہ ہندوستان اور پاکستان کے لئے وقت آ گیا ہے کہ وہ ماضی کو دفنا کر آگے بڑھیں، کے رد عمل میں کیا۔

محبوبہ مفتی نے اپنے ٹویٹ میں کہا: ‘ہندوستان اور پاکستان کے لئے اچھا موقع ہے کہ وہ رنجشوں کو یکطرف کر کے کشمیر کا دیرپا حل تلاش کریں۔ دونوں ممالک کو ایک دوسرے پر سبقت لینے کے لئے بہت بڑا فوجی بجٹ ہے جبکہ ان ہی وسائل کو مشترکہ چیلنجز جیسے غربت، تعلیم اور صحت عامہ پر صرف کیا جا سکتا ہے’۔

پرینکا چترویدی نے راجیہ سبھا میں سادھو سنتوں کو بھی کووڈ کا ٹیکہ لگا نے کا کیا مطالبہ

0
covid-sadhi-sant-priyanka-chaturvedi-new
پرینکا چترویدی نے راجیہ سبھا میں سادھو سنتوں کو بھی کووڈ کا ٹیکہ لگا نے کا کیا مطالبہ

ملک کی 31 ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام علاقوں میں کورونا کے فعال کیسز میں اضافہ

نئی دہلی: شیوسینا کی پرینکا چترویدی نے جمعہ کے روز راجیہ سبھا میں ملک کے مختلف مقامات پر مقیم سادھو سنتوں کو بھی کووڈ کا ٹیکہ لگا نے کا مطالبہ کیا محترمہ چترویدی نے وقفۂ صفر کے دوران کہا کہ سادھو سنت ملک کے مختلف حصوں میں رہتے ہیں اور بہت سے سنتوں کے پاس آدھار کارڈ بھی نہیں ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ لوگ زیادہ دیر تک ایک جگہ پر نہیں رہتے اور یہ کہ ٹیکہ کاری میں سادھو سنتوں کو ترجیح دی جانی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں ساٹھ سال سے زائد اور دوسرے مرحلے میں 45 سال سے زائد عمر کے لوگوں کو کووڈ کو ٹیکہ لگایا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ دمہ کے مریضوں کو بھی ٹیکہ کاری میں شامل کیا جانا چاہئے۔ کورونا کے رہنما خطوط میں دمہ کے مریضوں کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کے ہری دوار دوبے نے وقفہ صفر کے دوران ہی اترپردیش کے آگرہ کے آس پاس کے علاقوں میں سیاحتی صنعت کو فروغ دینے کا مطالبہ کیا۔ آگرہ میں تاج محل ہے اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں بہت سارے مغلیہ دور کے تاریخی مقامات ہیں، جسے دیکھنے کے لئے ہر روز لاکھوں سیاح آتے ہیں۔

پرینکا چترویدی نے کہا کہ کورونا کی وبا کے دوران گذشتہ ایک سال کے دوران سیاحتی صنعت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ ٹیکسی اور ہوٹل اس سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں اور ان کے ملازمین بھوک مری کے شکار ہو گئے ہیں۔

واضح ملک میں کورونا وائرس (کووڈ 19) وبا سے سب سے زیادہ متاثر مہاراشٹر سمیت 31 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران فعال کیسز میں اضافہ ہوا ہے۔

اس دوران مہاراشٹرا میں سب سے ز ائد 13601 فعال کیسز بڑھے جس کے بعد ریاست میں یہ تعداد بڑھ کر 1،67،637 ہوگئی ہے۔ اس دوران جن ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں فعال کیسز کم ہوئے ہیں ان میں کیرالہ، پڈوچیری، لکشدیپ، میزورم اور انڈومان نکوبار شامل ہیں۔

کیرالہ میں اس دوران فعال کیسز 235 کم ہو کر 25463 رہ گئے اور اس دوران مہاراشٹر اور کیرالہ میں اس وبا سے نجات والوں میں کی سب سے زیادہ تعداد 12174 اور 12174 رہی ۔ اس وبا سے سب سے زیادہ صحتیاب ہونے والوں کی تعداد کے معاملے میں مہاراشٹر پہلے اور کیرالہ دوسرے نمبر پر ہے ۔

مرکزی وزارت صحت کی جانب سے جمعہ کی صبح جاری اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے 39،726 نئے کیسز سامنے آئے ہیں ، جس سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک کروڑ 15 لاکھ 14 ہزار سے زیادہ ہوگئی ہے۔

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 20،654 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں ، جن سے اب تک صحتیاب ہونے والوں کی تعداد 1،10،83،679 ہو گئی ہے ۔ فعال کیسز 18،918 بڑھ کر 2،71،282 ہوگئے ہیں۔ اسی دوران مزید 154 افراد کی موت ہونے سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 1،59،370 ہوگئی ۔

روہنگیائی مسلمانوں کی بے بسی اور ان کی مظلومیت کے تماشائیوں کا حال زار

0
rohingya-musalmanon ki be-basi aur unki mazloomiyat ke tamashai ka haal-e-zaar
روہنگیائی مسلمانوں کی بے بسی اور ان کی مظلومیت کے تماشائیوں کا حال زار

میانمار میں خونریزی، ظلم وبربیت اور جابرانہ حکمرانی کی ایک تاریخ رہی ہے جہاں غیر ملکی کہہ کر روہنگیا مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے گئے تو کبھی خود آپس میں ہی ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوگئے۔ یہاں ایک بار پھر خون خرابے کا دور ہے۔

تحریر: ڈاکٹر یامین انصاری

میانمار کے مختلف شہروں میں روز لاشیں بچھائی جا رہی ہیں۔ لوگوں کو جیلوں میں ٹھونسا جا رہا ہے۔ بس اس بار فرق یہ ہے کہ اس خون خرابے میں وہی لوگ آمنے سامنے ہیں، جو اس سے پہلے ہوئی خونریزی پر ایک دوسرے کی پیٹھ تھپتھپاتے تھے۔ کیوں کہ اُس وقت نشانہ روہنگیائی مسلمان تھے۔

روہنگیائی مسلمانوں کی بے بسی اور ان کی مظلومیت پر ہنسنے والے ہی آج خون کے آنسو رو رہے ہیں۔ میانمار کی وہی فوج جو کچھ برس پہلے روہنگیا مسلمانوں کی جان و مال، عزت و آبرو کے ساتھ کھلواڑ کر رہی تھی، ان کے خون کی پیاسی بنی ہوئی تھی اور نام نہاد امن کی علمبردار آنگ سان سوچی اور ان کے حامی نہ صرف خاموش تماشائی بنےتھے، بلکہ فوج کی جابرانہ کارروائیوں پر تالیاں بجا رہے تھے، آج وہی فوج ان لوگوں کے ساتھ بھی وہی رویہ اختیار کئے ہوئے ہے۔

اسی لئے کہا جاتا ہے کہ جب کسی کے منہ کو خون لگ جاتا ہے، تو وہ پھر کسی کو نہیں چھوڑتا۔ آج میانمار کی سڑکوں پر صرف فوج کے بوٹوں کی آواز ہے اور گولیوں کی گڑگڑاہٹ۔ پورے ملک میں چہار سو تاریکی ہ اور سناٹا ہے۔روہنگیا مسلمانوں کے حقوق اور ان کی آواز کو نظر انداز کر دینے والے آج جب انسانی حقوق اور جمہوریت کی آواز بلند کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تو انھیں یا تو ہمیشہ کے لئے خاموش کر دیا جا رہا ہے یا پھر جیلوں میں ٹھونس دیا جا رہا ہے۔اب سوچی اور ان کے حامیوں کی حالت یہ ہو گئی ہے کہ ؎

مجھ کو تو ہوش نہیں تم کو خبر ہو شاید

لوگ کہتے ہیں تم نے مجھے برباد کیا

در اصل تازہ مسئلہ فوج اور جمہوری حکومت کے درمیان ٹکراؤ کے بعد پیدا ہوا۔ یکم فروری کو میانمار کی فوج نے برسر اقتدار جماعت نیشنل لیگ آف ڈیموکریسی (این ایل ڈی) کی رہنما آنگ سان سوچی اور دیگر رہنماؤں کی گرفتاری کے بعد ملک کا کنٹرول اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔فوج کی تازہ بغاوت گزشتہ برس انتخابات کے بعد قائم ہونے والی منتخب حکومت اور فوج کے مابین کشیدگی کے نتیجے میں سامنے آئی۔

بغاوت پر تشدد مظاہرے

آنگ سان سوچی اور دیگر سیاسی لیڈران کی گرفتاری کے چند گھنٹے بعد میانمار کی فوج نے ٹی وی پر اس بات کا اعلان کیا کہ وہ ایک سال کے لیے ہنگامی حالت کا اعلان کرتی ہے۔ فوج نے کہا کہ وہ کمانڈر ان چیف من آنگ ہلاینگ کو اختیارات سونپ رہی ہے۔ اس کے بعد یہاں عوامی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

دھیرے دھیرے یہ مظاہرے تشدد میں تبدیل ہو گئے۔ یکم فروری کو فوج کی بغاوت اور اقتدار پر قبضے کے بعد سے جمہوریت نواز مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن میں اب تک کم از کم ڈیڑھ سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ آنگ سان سوچی کی سیاسی جماعت این ایل ڈی کو نومبر 2020 کے عام انتخابات میں واضح اکثریت سے کامیابی حاصل ہوئی تھی، لیکن فوج کا کہنا ہے کہ انتخابات میں دھوکہ دہی کی گئی تھی۔در اصل فوج نے بہت سوچ سمجھ کر یہ قدم اٹھایا ہے۔ کیوں کہ ایک دن کے بعد ہی میانمار کی پارلیمنٹ کا پہلا اجلاس ہونا تھا، اور جس کے دوران الیکشن کے نتائج کی توثیق ہونی تھی۔ لیکن اب ایسا نہیں ہوسکے گا۔

فوجی بغاوت اور آئین میانمار

میانمار میں ہونے والی حالیہ فوجی بغاوت نے پورے ملک میں غم و غصہ پیدا کردیا۔ میانمار میں 50 برس تک جابرانہ فوجی حکومتیں قائم رہیں اور بالآخر 2011 میں اس ملک نے جمہوری حکمرانی کی طرف پیش قدمی کی اورملک کا نظام ایک منتخب حکومت کے پاس آیا۔ لیکن پسِ پردہ رہتے ہوئے میانمار کی فوج نے معاملات پر اپنی گرفت انتہائی مضبوط رکھی، اور یہ میانمار کے آئین کی وجہ سے ممکن ہوا۔

نومبر کے انتخابات میں یہ دیکھا گیا کہ فوج کی حمایت یافتہ جماعت یونین سولیڈیرٹی اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی (یو ایس ڈی پی) کچھ ووٹ ہی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی۔ لیکن فوج اس کے باوجود حکومتی فیصلوں پر اثر انداز رہی۔ اس کی وجہ 2008 کا آئین ہے، جو فوجی حکومت کے دوران تشکیل دیا گیا تھا۔ اس کی بدولت فوج کو خود سے پارلیمان میں ایک چوتھائی سیٹیں مل جاتی ہیں اور انہیں داخلہ، دفاع اور سرحدی امور کی اہم وزارتیں بھی دی جاتی ہیں۔ لہذافی الحال میانمار کی فوج کو کنٹرول کرنا اور اس کی ظلم و بربریت پر قدغن لگانا وہاں کے عوام کے لئےآسان نہیں ہے۔

آنگ سان سوچی انسانی حقوق کی پامالی کی مجرم

جہاں تک آنگ سان سوچی کا معاملہ ہے تو اس وقت دنیا کی نگاہوں میں وہ خود انسانی حقوق کی پامالی کی مجرم ہیں۔ کیوں کہ دسمبر 2009 میں جب میانمار کی سرگرم رہنما آنگ سان سوچی نے ہیگ میں بین الاقوامی عدالت انصاف میں خطاب کیا، تو امن کی نوبل انعام یافتہ شخصیت کے بہت سے حامیوں نے اس وقت انہیں مایوسی سے دیکھا جب انہوں نے ان الزامات کی تردید کی کہ میانمار کی فوج نے روہنگیا مسلم آبادی کے خلاف استبدادی کارروائیاں کی تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ فوج کے اقدامات دہشت گردی کے خلاف جائز ردعمل تھے۔ ان کا یہ عمل یقیناً کسی حیران کُن ستم ظریفی سے کم نہیں تھا۔ میانمار میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے ولے اقوام متحدہ کےایک مندوب نے اسی وقت کہا تھا کہ ’اپنی آنکھیں کھولیں۔ براہ کرم اپنی اخلاقی اتھارٹی کو استعمال کریں، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔‘

غور طلب ہے کہ 2010 میں جب وہ نظر بندی سے رہا ہوئیں تو دنیا بھر نے ان کا خیر مقدم کیا تھا۔ ان کے ساتھ اظہار ہمدردی کیا تھا۔ مختلف حکمرانوں اور سربراہان مملکت نے آنگ سان سوچی کو خوش آمدید کہا تھا۔ اُس وقت وہ ایک ایسی خاتون کی شکل میں دنیا کے سامنے آئی تھیں جنھوں نے اپنی جوانی کی زندگی کا زیادہ تر حصہ جمہوریت کے حصول میں وقف کیا۔

آنگ سان سوچی کو کسی زمانے میں انسانی حقوق کی ایک عالمی ا مید بھی سمجھا جاتا تھا، جو اس فوجی حکومت کے خلاف کھڑی ہو گئی تھیں، جس نے انہیں  2010تک، 20 سال کے بیشتر عرصے میں قیدی بنا کر رکھا تھا۔ 1991 میں امن کا نوبل انعام جیتنے والی شخصیت 2016 میں میانمار کی عوامی حکومت کی رہنما بن گئی تھیں۔

خود میانمار کے انصاف پسند لوگوں کا کہنا ہے کہ آنگ سان سوچی ایک ایسی شخصیت تھیں، جو لوگوں کو باہم منظم رکھ سکتی تھیں۔ انہیں ملک بھر کے تمام مذہبی اور نسلی گروہوں کی پذیرائی حاصل تھی۔ لیکن افسوس انہوں نے ایسا کرنے کی بجائے اس کے برعکس کام کیا۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بھی روہنگیا مسلمانوں کے خلاف تعصب رکھتی ہیں۔

میانمار کے تازہ حالات پر عالمی برادری فکر مند

اس میں کوئی شک نہیں کہ میانمار کے تازہ حالات نے پوری دنیا میں تشویش کی لہر پیدا کر دی ہے۔ اگرچہ یہاں جمہوریت اور انسانی حقوق کی پامالی پر عالمی برادری فکر مند ہے۔ لیکن میانمار کے تازہ حالات کے پس منظر میں کہا جا سکتا ہے کہ دنیا میں کہیں بھی تاناشاہی اور حقوق انسانی پرحملہ آوروں کی پشت پناہی کرنے والے ایک نہ ایک دن خود اس کی زد میں آتے ہیں۔

جب بھی ظلم و زیادتی پر پردہ پوشی کی جائے گی، تو اسی طرح کے حالات پیدا ہوں گے۔ میانمار کے حالات بتاتے ہیں کہ اگر آنگ سان سوچی نے روہنگیا مسلمانوں کے مسئلہ پر فوجی حکمرانوں کے سیاہ کارناموں پر پردہ ڈالنے کی کوشش نہ کی ہوتی تو شاید آج انھیں خود ان حالات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔

جس وقت میانمار کے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف فوج کشی کی گئی اور ان کے بنیادی حقوق کو روندا گیا، اگر اسی وقت سوچی اپنی آواز بلند کرتیں، تو وہ دنیا کی نظروں میں ایک بار پھر سرخرو ہوتیں اور میانمار کی فوج کے ناپاک عزائم کو دوبارہ حوصلہ نہیں ملتا، لیکن ایسا نہیں ہوا، اور آخر کار سوچی خود اسی فوج کے عتاب کا شکار ہو گئیں، جس کی جابرانہ پالیسوں کے خلاف انھوں نے خاموشی اختیارکر لی تھی۔

[مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں | ای میل: [email protected]]

ادارے کا مضمون نگار کے آراء و افکار سے متفق ہونا ضروری نہیں

انشورنس میں 74 فیصد غیر ملکی سرما یہ کاری کی اجازت دینے والا بل اپوزیشن کے بائیکاٹ کے درمیان راجیہ سبھا میں منظور

0

ایوان میں تقریبا چار گھنٹے تک جاری بحث کا جواب دیتے ہوئے وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے کہا کہ ملک میں انشورنس سیکٹر کو وسعت دینے کی ضرورت ہے، جس سے بیمہ خدمات غریب عوام تک پہنچ سکیں اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو روزگار مل سکے۔

نئی دہلی: کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے بائیکاٹ کے درمیان راجیہ سبھا نے انشورنس سیکٹر میں غیر ملکی سرما یہ کاری کی حد 49 فیصد سے بڑھا کر 74 فیصد کرنے اور متعلقہ کمپنیوں کے مالکانہ حقوق ’غیر ملکیوں‘ کو دینے کی اجازت فراہم کرنے والے انشورنس ترمیمی بل 2021 کو صوتی ووٹوں کے ذریعے منظور کر لیا گیا۔

اس سے قبل بل کو قائمہ کمیٹی کو بھیجنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کانگر یس اور دیگر اپوزیش جماعتوں نے ایوان میں زبردست ہنگامہ کیا جس کی وجہ سے ایوان کی کاروائی تقریباََ ایک گھنٹے کے اند ر چار مرتبہ ملتوی کرنی پڑی۔

ایوان میں تقریبا چار گھنٹے تک جاری بحث کا جواب دیتے ہوئے وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے کہا کہ ملک میں انشورنس سیکٹر کو وسعت دینے کی ضرورت ہے، جس سے بیمہ خدمات غریب عوام تک پہنچ سکیں اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو روزگار مل سکے۔

انہوں نے کہا کہ انشورنس سیکٹر بہت ہی منظم ہے اور اس میں کوئی بھی کمپنی ملک سے باہر سرمایہ نہیں لے جاسکتی۔ انہوں نے کہا کہ بل میں التزام کیا گیا ہے کہ پریمیم سے حاصل شدہ رقم کی سرمایہ کاری ملک کے اندر ہی کرنی ہوگی۔

انشورنس کمپنی کا کنٹرول ہندوستان میں رہنے والے کسی شخص کے ہاتھ میں ہوگا

انہوں نے کہا کہ انشورنس کمپنی کا کنٹرول ہندوستان میں رہنے والے کسی شخص کے ہاتھ میں ہوگا۔ جس سے اسے ذمہ دار بنایا جا سکے۔ کمپنی میں 50 فیصد آزاد ڈائریکٹر ہوں گے جو انتظامیہ کے کام کاج کی بہتر نگرانی کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں لائف اور جنرل انشورنس کی 68 کمپنیاں ہیں، جو آبادی کے عین مطابق ناکافی ہیں۔ ملک میں انشورنس کمپنیوں میں ساڑھے تین لاکھ سے زائد ملازمین کام کرتے ہیں۔ ان کے ساتھ 21 لاکھ سے زائد ایجنٹ بھی وابستہ ہیں۔ وزیر خزانہ نے سابق وزیر اعظم پی وی نرسمہا راؤ اور ڈاکٹر منموہن سنگھ اور سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم کے بیانات اور پالیسیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مسودہ تیار کرنے سے پہلے تمام متعلقہ فریقین کے ساتھ تفصیلی بات چیت کی گئی ہے۔ ان میں صنعتیں، صنعتی تنظیمیں، کمیشن، ماہرین اور عام عوام شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انشورنس سیکٹر میں غیر ملکی سرمایہ کاری ہونے سے شعبے میں مسابقت بڑھے گی اور مارکیٹ میں نئی پروڈکٹ آئیں گے۔ غریب لوگوں تک انشورنس خدمات پہنچانے میں مدد ملے گی۔ محترمہ سیتارمن نے کہا کہ حکومت کی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری پالیسی خود انحصار ہندوستان مہم کے خلاف نہیں ہے بلکہ اس سے ہندوستان کے عوام کو خود کفیل بنانے میں مدد ملے گی۔ سرمایہ اور ٹیکنالوجی کی دستیابی سے ملک میں بیمہ کا دائرہ بڑھے گا اور بہتر سہولیات دستیاب ہوں گی۔