جمعرات, مئی 21, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 314

افغانستان سے نکلتے ہی برطانوی سفارتخانے کا ٹوئٹر اکاؤنٹ بھی بند

0
افغانستان سے نکلتے ہی برطانوی سفارتخانے کا ٹوئٹر اکاؤنٹ بھی بند
افغانستان سے نکلتے ہی برطانوی سفارتخانے کا ٹوئٹر اکاؤنٹ بھی بند

ٹوئٹر پر سفارتخانے کے اکاؤنٹ سے مواد بھی ہٹا دیا گیا ہے تاہم اس حوالے سے اب تک برطانیہ کا کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

اسلام آباد: برطانیہ نے افغانستان سے انخلا مکمل کرتے ہی کابل میں برطانوی سفارتخانے کا ٹوئٹر اکاؤنٹ بند کردیا۔

افغانستان سے غیرملکی افواج اور شہریوں کا انخلا جاری ہے اور انخلا کی ڈیڈ لائن 31 اگست تک ہے۔

برطانیہ نے بھی افغانستان سے انخلا مکمل کرلیا ہے اور اب کابل میں موجود برطانوی سفارتخانے کا ٹوئٹر اکاؤنٹ بھی بند کردیا۔

ٹوئٹر پر سفارتخانے کے اکاؤنٹ سے مواد بھی ہٹا دیا گیا ہے تاہم اس حوالے سے اب تک برطانیہ کا کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق برطانیہ نے کابل ایئرپورٹ سے شہریوں کے انخلا کا عمل آج ختم کرنے کا اعلان کیا۔

کرنال میں کسانوں پر لاٹھی چارج شرمناک: راہل پرینکا

0
کرنال میں کسانوں پر لاٹھی چارج شرمناک: راہل پرینکا

راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو کسان مخالف قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہریانہ کے کرنال میں کسانوں پر لاٹھی چارج شرمناک ہے۔

نئی دہلی: کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی اور پارٹی کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو کسان مخالف قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہریانہ کے کرنال میں سنیچر کو کسانوں پر لاٹھی چارج شرمناک ہے۔ اور بی جے پی حکومت کی یہ کارروائی اس کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگی۔

مسٹر گاندھی نے ٹویٹ کیا ’’پھر خون بہایا ہے کسان کا، شرم سے سر جھکا ہندوستان کا۔ کسان مخالف بی جے پی۔‘‘

https://twitter.com/RahulGandhi/status/1431571975256821763?s=20

اس سے قبل محترمہ گاندھی نے کہا، “کسان محنت کرکے کھیتوں میں لہلہاتی ہوئی فصل دیتے ہیں۔ بی جے پی حکومت اپنا حق مانگنے پر انہیں لاٹھی سے لہولہان کرتی ہے۔ کسانوں پر پڑی ایک ایک لاٹھی بی جے پی حکومت کے تابوت میں کیل کا کام کرے گی۔ تصویر: کرنال میں کسانوں پر لاٹھی چارج۔

کانگریس محکمہ مواصلات کے سربراہ رندیپ سنگھ سرجے والا نے بھی اس لاٹھی چارج پر ہریانہ حکومت پر حملہ کرتے ہوئے کہا ’’کھٹر صاحب، آج کرنال میں ہر ہریانوی کی روح پر لاٹھی برسائی ہے۔ زمین کے خدا کسان کو لہولہان کرنے والی گناہ گار بی جے پی کا جبر راکشسوں کے جیسا ہے۔ سڑکوں پر کسانوں کے جسم سے رستے خون کو آنے والی تمام نسلیں یاد رکھیں گی۔ التجا نہیں، اب جنگ ہوگی، زندگی ہوگی یا موت۔

جن دھن یوجنا نے معاشرے کے نچلے طبقات کو بااختیار بنانے کے عزم کو پورا کیا: نڈا

0
جن دھن یوجنا نے معاشرے کے نچلے طبقات کو بااختیار بنانے کے عزم کو پورا کیا: نڈا
جن دھن یوجنا نے معاشرے کے نچلے طبقات کو بااختیار بنانے کے عزم کو پورا کیا: نڈا

مرکزی حکومت پردھان منتری جن دھن یوجنا (پی ایم جے ڈی وائی) کے سات سال مکمل ہونے پر جشن منا رہی ہے۔

نئی دہلی: بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے صدر جگت پرکاش نڈا نے’پردھان منتری جن دھن یوجنا‘ کے سات سال مکمل ہونے کے موقع پر کہا ہے کہ اس اسکیم نے مالی شمولیت کے ساتھ لوگوں کو بینکنگ اور انشورنس کی سہولت فراہم کر کے نچلے طبقات کو بااختیار بنانے کا عزم پورا کیا۔

مسٹر نڈا نے ہفتہ کے روز ٹویٹ کیا ’’وزیر اعظم نریندر مودی نے جن دھن کی شروعات کی تھی۔ اس اسکیم نے مالی شمولیت کے ساتھ لوگوں کو بینکنگ اور انشورنس کی سہولیات فراہم کرکے ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر (ڈی بی ٹی) میں شفافیت اور ’لیکیج‘ کو کم کیا ہے اور معاشرے کے نچلے طبقات کو بااختیار بنانے کے عزم کو پورا کیا۔

انہوں نے کہا کہ جن دھن اسکیم نے ہندوستان کے ترقیاتی سفر میں ایک نیا باب جوڑا ہے۔ اس اسکیم کے 67 فیصد سے زیادہ کھاتہ دار دیہی علاقوں سے ہیں اور 55 فیصد سے زیادہ کھاتہ دار خواتین ہیں۔

مسٹر نڈا نے کہا کہ کورونا وبا کے دوران تین مہینے کے لئے 20.5 کروڑ سے زائد خواتین کو پانچ سو روپے کی مالی امداد ڈی بی ٹی کے ذریعے دی گئی۔

جن دھن یوجنا کے سات سال مکمل ہونے پر جشن

قابل ذکر ہے کہ مرکزی حکومت پردھان منتری جن دھن یوجنا (پی ایم جے ڈی وائی) کے سات سال مکمل ہونے پر جشن منا رہی ہے۔

وزارت خزانہ نے ہفتہ کو ٹویٹ کرتے ہوئے بتایا کہ اس اسکیم میں اب تک 43.04 کروڑ مستحقین کو شامل کر لیا گیا ہے۔ وزارت کی طرف سے فراہم کی معلومات کے مطابق ان کھاتوں میں کل جمع رقم 1،46،231 کروڑ روپے ہو گئی ہے۔ پی ایم جے ڈی وائی کا اعلان وزیر اعظم مودی نے 15 اگست 2014 کو اپنے یوم آزادی کے خطاب میں کیا تھا۔ اس پروگرام کو 28 اگست کو شروع کیا گیا تھا۔

https://twitter.com/rsprasad/status/1431513916840964099?s=20

امریکہ کا داعش خراسان پر فضائی حملہ

0
امریکہ کا داعش خراسان پر فضائی حملہ
امریکہ کا داعش خراسان پر فضائی حملہ

امریکہ نے مشرقی افغانستان میں داعش خراسان دہشت گرد تنظیم کے ٹھکانے پر فضائی حملہ کیا جس میں ایک دہشت گرد مارا گیا۔

واشنگٹن: امریکہ نے مشرقی افغانستان میں داعش خراسان دہشت گرد تنظیم کے ٹھکانے پر فضائی حملہ کیا جس میں ایک دہشت گرد مارا گیا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کیپٹن بل اربن نے جمعہ کے روز کہا ’’امریکی فورسز نے داعش کے منصوبہ ساز کو یو اے وی (ڈرون) سے آج افغانستان کے صوبے ننگرہار میں نشانہ بنایا گیا‘‘۔

مسٹر اربن نے یہاں جاری ایک بیان میں کہا کہ امریکی فوج کے فضائی حملے میں کسی بھی شہری کی ہلاکت کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

واضح رہے کہ داعش نے جمعرات کے روز کابل کے ہوائی اڈے پر کئی دھماکے کیے تھے جس میں 13 امریکی فوجیوں سمیت سو سے زائد افراد ہلاک اور تقریبا 1300 افراد زخمی ہو گئے تھے۔

کابل ایئرپورٹ کے باہر دو بم دھماکوں میں 13 امریکی فوجیوں سمیت کم از کم 110 افراد ہلاک

0
کابل ایئرپورٹ کے باہر دو بم دھماکوں میں 13 امریکی فوجیوں سمیت کم از کم 110 افراد ہلاک
کابل ایئرپورٹ کے باہر دو بم دھماکوں میں 13 امریکی فوجیوں سمیت کم از کم 110 افراد ہلاک

افغانستان میں کابل ایئرپورٹ کے باہر گزشتہ کل ہونے والے خودکش دو دھماکے کے نتیجے میں 13 امریکی فوجیوں سمیت 110 افراد ہلاک ہوگئے۔

کابل: افغانستان میں کابل ایئرپورٹ کے باہر گزشتہ کل ہونے والے خودکش دو دھماکے کے نتیجے میں 13 امریکی فوجیوں سمیت 110 افراد ہلاک ہوگئے۔ جن میں خواتین اور بچوں سمیت طالبان کے 28 اراکین بھی شامل ہیں۔ جب کہ زخمیوں کی تعداد ڈیڑھ سو سے زائد ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کی ایک رپورٹ کے مطابق دھماکے ایسے وقت میں ہوئے کہ جب مغربی حکام پہلے ہی بڑے حملوں کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے لوگوں کو کابل ایئرپورٹ سے دور رہنے کی ہدایت کررہے تھے۔ جسے ملک سے فرار کے خواہشمند افغانوں نے بڑی حد تک نظر انداز کردیا تھا۔ ایک دوسری خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان نے بتایا کہ حملے میں 18 فوجی زخمی بھی ہوئے جنہیں سرجیکل یونٹس سے لیس سی-17 طیاروں کی مدد سے افغانستان سے نکالا جا رہا ہے۔

پہلا دھماکہ کابل ایئرپورٹ کے ایبے گیٹ کے باہر ہوا جہاں خواتین اور بچوں سمیت بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئیں۔ جبکہ دوسرا دھماکا بیرن ہوٹل کے نزدیک ہوا جہاں انخلا کے منتظر امریکی، برطانوی اور افغان شہریوں کو آج کل ٹھہرنے کو کہا جا رہا تھا۔ اس کے علاوہ بھی کابل میں رات دیر گئے تک دھماکوں کی آوازیں آتی رہیں۔ تاہم طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بتایا کہ کچھ دھماکے امریکی افواج نے اپنے آلات تباہ کرنے کے لیے کئے ہیں۔

امریکی صدر نے دی دھمکی

حملے کے بعد وائٹ ہاؤس میں قوم سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا ہے کہ ’وہ لوگ جنہوں نے یہ حملہ کیا، ساتھ ہی جو امریکہ کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں وہ جان لیں کہ ہم معاف نہیں کریں گے، نہ ہم بھولیں گے، ہم تمہیں شکار کریں گے اور وصول کریں گے‘۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے وقت پر، اپنی منتخب کردہ جگہ اور اپنے منتخب کردہ لمحے میں طاقت سے جواب دیں گے۔

دوسری طرف طالبان نے کابل ایئرپورٹ کے باہر ہونے والے دھماکے کی تحقیقات کے لئے کمیٹی تشکیل کردی ہے۔

واضح رہے کہ طالبان کی جانب سے ایئرپورٹ پر ہونے والے دھماکوں کی مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ یہ علاقہ امریکی فوج کے زیر کنٹرول تھا۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ٹوئٹر پر کہا کہ ‘امارت اسلامی کابل ایئرپورٹ پر دھماکا کرکے شہریوں کو نشانہ بنانے کی مذمت کرتی ہے’۔

ایک طالبان عہدیدار نے داعش کے حملے میں ہلاک ہونے والے طالبان ارکان کی تعداد پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ ہم نے ایئرپورٹ دھماکے میں امریکیوں سے زیادہ لوگوں کو کھو دیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ مغربی ممالک کے تیار کردہ افراتفری میں انخلا کے منصوبے کے ذمہ دار طالبان نہیں تھے۔ اسی کے ساتھ طالبان نے کابل ایئرپورٹ کے باہر سیکیورٹی کے انتظامات سخت کردئے ہیں، چیکنگ شروع کردی ہے۔

کابل ایئرپورٹ پر بم دھماکہ ہوسکتا ہے

کابل میں قائم امریکی سفارت خانے نے واقعے کو ‘ایک بڑا دھماکہ’ سے تعبیر کیا اور کہا کہ فائرنگ کی رپورٹس بھی ہیں۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے کہا ہے کہ خفیہ اطلاع ہے کہ کابل ایئرپورٹ پر بم دھماکہ ہوسکتا ہے۔

غیرملکی خبر ایجنسی کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ذرائع نے بتایا کہ امریکی صدر جو بائیڈن کو کابل ایئرپورٹ کے باہر ہونے والے دھماکے کے بارے میں آگاہ کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو بائیڈن اس وقت سیکیورٹی حکام کے ساتھ افغانستان کی صورت حال ہونے والے ایک اجلاس میں شریک تھے اور پہلے دھماکے کی رپورٹ آئی۔ برطانیہ کی وزارت دفاع نے کہا کہ دھماکے کی اطلاع کے بعد وجوہات کے تعین کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان میں کہا کہ ‘ہم ہنگامی طور پر کابل میں کیا ہوا اور انخلا کی کوششوں پر اس کے کیا اثرات ہوں گے، اس کا تعین کر رہے ہیں’۔

برطانوی وزارت دفاع نے کہا کہ ‘ہماری اولین ترجیح اپنے عہدیداروں، برطانیہ اور افغانستان کے شہریوں کی سلامتی ہے، ہم اپنے امریکی اور نیٹو اتحادیوں سے قریبی رابطے میں ہیں تاکہ واقعے پر فوری امدادی کام کیا جائے’۔

ترک وزارت دفاع نے کہا کہ کابل ایئرپورٹ کے باہر دو دھماکے ہوئے ہیں تاہم ترک فوج کے کسی عہدیدار کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

مغربی ممالک نے اپنے شہریوں کو خبردار کیا

خیال رہے کہ مغربی ممالک نے اپنے شہریوں کو خبردار کیا تھا کہ وہ دہشت گردی کے خطرے کے پیش نظر فوری طور پر کابل ایئرپورٹ کے اطراف سے نکل جائیں۔ امریکی محکمہ خارجہ نے نامعلوم ’سیکیورٹی خطرات‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’ایبی گیٹ، جنوبی گیٹ یا شمالی گیٹ پر موجود افراد کو فوری طور پر نکل جانا چاہیے’۔

آسٹریلیا کے خارجہ امور کے محکمے نے کہا تھا کہ دہشت گردوں کے حملے کا خطرہ برقرار ہے اور بہت زیادہ ہے اس لیے کابل کے حامد کرزئی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر سفر نہ کریں۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر آپ ہوائی اڈے کے علاقے میں ہیں تو کسی محفوظ مقام پر منتقل ہوجائیں اور مزید مشورے کا انتظار کریں۔

واضح رہے کہ سال 2011 میں ایک ہیلی کاپٹر مار گرائے جانے کے واقعے میں 30 امریکی فوجی ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد گزشتہ روز کابل میں ہوئے دھماکے میں 13 امریکی فوجیوں کی ہلاکت ایک واقعے میں ہلاکتوں کی سب سے بڑئی تعداد ہے۔

کابل ایئرپورٹ چلانے کے بارے میں ابھی کوئی فیصلہ نہیں: ترک صدر

0
کابل ایئرپورٹ چلانے کے بارے میں ابھی کوئی فیصلہ نہیں: ترک صدر

ترک میڈیا کے مطابق صدر اردوان نے کہا کہ ترکی نے نئی افغان انتظامیہ سے کابل میں پہلی دفعہ مذاکرات کیے ہیں یہ مذاکرات کابل ائیرپورٹ پر ترکی کے عارضی سفارتخانے میں ہوئے۔

انقرہ: ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ کابل ایئرپورٹ چلانے کے لیے طالبان کی پیشکش کا جائزہ لے رہے ہیں۔

ترک میڈیا کے مطابق صدر اردوان نے کہا کہ ترکی نے نئی افغان انتظامیہ سے کابل میں پہلی دفعہ مذاکرات کیے ہیں یہ مذاکرات کابل ایئرپورٹ پر ترکی کے عارضی سفارتخانے میں ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ کابل ائیرپورٹ چلانے کے لیے طالبان کی پیشکش کا جائزہ لے رہے ہیں اور اپنی تجاویز بھی پیش کی ہیں۔ تاہم ہوائی اڈے کا نظم و نسق سنبھالنے کا فی الحال حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔

تفصیلات کے مطابق ترک صدر رجب طیب اردوان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ کابل ائیرپورٹ پر تکنیکی سپورٹ فراہم کرنے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ طالبان نے کابل ائیرپورٹ پر ٹیکنیکل سپورٹ فراہم کرنے کی درخواست کی ہے اور کہا ہم سیکیورٹی فراہم کریں گے آپ آپریٹ کریں۔

کابل ائیرپورٹ پر مزید حملوں کا امکان

کابل میں ہونے والے خوفناک دھماکوں پر ترک صدر نے کہا کہ ہم کابل میں رونما ہونے والی سانحہ اور دہشت گردانہ حملوں پر لعنت و ملامت بھیجتے ہیں۔ ترک فوج کا افغانستان سے انخلا کا عمل جاری ہے اور اس مشن کو قلیل مدت اور سرعت سے پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے۔ ترک صدر نے کابل ائیرپورٹ پر مزید حملوں کا امکان ظاہر کرتے ہوئے کہا ہم نے طالبان کی درخواست سے متعلق فیصلہ نہیں کیا۔

صدر رجب طیب ایردوان نے بوسنیا کے دورے پر روانگی سے قبل استنبول ائیرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ترکی پورے بلقان خطے کی ترقی اور اس کی خوشحالی اور امن کو بہت اہمیت دیتا ہے۔

واضح رہے کہ طالبان نے ترکی سے کابل ائیرپورٹ پر تیکنیکی مدد فراہم کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا تھا کہ ترک فوج کو بھی 31 اگست کی ڈیڈلائن پر انخلا کرنا ہوگا۔ جس پر ترک حکام نے آمادگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ فوج کے انخلا کیلئے تیار ہیں۔ تاہم طالبان کی درخواست پر حتمی فیصلہ 31 اگست کی ڈیڈلائن کے بعد کریں گے۔

ترنمول نے افغانستان کے مسئلے پر مرکز کی سست پالیسی کی حمایت کرتے ہوئے بنگال کے لوگوں کو جلد واپس لانے کا مطالبہ کیا

0
ترنمول نے افغانستان کے مسئلے پر مرکز کی سست پالیسی کی حمایت کرتے ہوئے بنگال کے لوگوں کو جلد واپس لانے کا مطالبہ کیا
ترنمول نے افغانستان کے مسئلے پر مرکز کی سست پالیسی کی حمایت کرتے ہوئے بنگال کے لوگوں کو جلد واپس لانے کا مطالبہ کیا

وزارت خارجہ کو افغانستان میں پھنسے بنگال کے 125 افراد کی فہرست دی گئی ہے، جن سے جلد از جلد انہیں واپس لانے کی درخواست کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ افغانستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے بھی خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔

کلکتہ: ریاست کی حکمراں جماعت ترنمول کانگریس نے افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد حالات پر مرکزی حکومت کی سست تحریک کی پالیسی کی حمایت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ جو ہندوستانی شہری افغانستان میں پھنسے ہوئے ہیں انہیں جلد سے جلد ملک لانے کی کوشش کی جائے۔

جمعرات کو مرکزی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے ملک بھر کی تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کے ساتھ ایک آل پارٹی میٹنگ کی۔ اس میں 31 پارٹیوں کے 37 لیڈر موجود تھے۔ ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ سوگاتا رائے نے بھی اس تین گھنٹے تک جاری رہنے والی میٹنگ میں حصہ لیا، بعد میں انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پارٹی افغانستان کے معاملے پر مرکزی حکومت کے موقف سے متفق ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزارت خارجہ کو افغانستان میں پھنسے بنگال کے 125 افراد کی فہرست دی گئی ہے، جن سے جلد از جلد انہیں واپس لانے کی درخواست کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ افغانستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے بھی خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ 23 ​​اگست کو وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے اعلان کیا تھا کہ ان کی پارٹی کے نمائندے مرکز کی طرف سے بلائے گئے کل جماعتی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے تمام ضلع مجسٹریٹوں سے افغانستان میں پھنسے ہوئے لوگوں کی فہرست مانگی تھی۔ یہ فہرست مرکزی حکومت کے حوالے کی گئی ہے۔

اپنے سخت گیر دور کو دہرانے کا کوئی ارادہ نہیں، لوگ طالبان سے خوش ہیں: سابق سفیر طالبان

0
اپنے سخت گیر دور کو دہرانے کا کوئی ارادہ نہیں، لوگ طالبان سے خوش ہیں: سابق سفیر طالبان
اپنے سخت گیر دور کو دہرانے کا کوئی ارادہ نہیں، لوگ طالبان سے خوش ہیں: سابق سفیر طالبان

سابق طالبان سفیر ملا عبدالسلام ضعیف کا کہنا ہے کہ اپنے سخت گیر دور کو دہرانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ لوگ طالبان سے خوش ہیں۔

کابل: طالبان رہنما اور پاکستان میں سابق طالبان سفیر ملا عبدالسلام ضعیف کا کہنا ہے کہ اپنے سخت گیر دور کو دہرانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ لوگ طالبان سے خوش ہیں۔

ملا عبدالسلام ضعیف کا برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ افغانستان میں خواتین کی تعلیم جاری ہے اور وہ کام پر بھی جاسکتی ہیں۔ لوگ طالبان سے خوش ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ طالبان پہلے ہی اپنے عہد کی پاسداری کر رہے ہیں اور ا پنے سخت گیر دور کو دہرانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ ملا عبدالسلام ضعیف نے کہا کہ افغانستان میں اب لوگوں کی زندگیاں معمول پر لوٹ چکی ہیں جبکہ میڈیا کوریج میں طالبان کو بدنام کیا جا رہا ہے۔

سابق طالبان سفیر نے کہا کہ یہ تصور دینا کہ طالبان برے لوگ ہیں، عوام اور تعلیم کے خلاف ہے۔ یہ بڑی سازش ہے، جب میں کابل میں لوگوں سے بات کرتا ہوں تو لوگ کہتے ہیں کہ وہ خوش ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کچھ افغان بغیر دستاویزات کے باہرجانے کیلئے ائیرپورٹ پر افراتفری کو بطور بہانا استعمال کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ قانونی اندازمیں کابل ائیرپورٹ جانے والوں کو طالبان نہیں روک رہے۔ طالبان کے سابق سفیر نے مزید کہا کہ طالبان کسی سے کوئی بدلہ یا انتقام نہیں لے رہے۔

ہلاکت خیز عالمی وبا کورونا سے ایشیا کے 8 کروڑ افراد انتہائی غربت کا شکار: ایشیائی ترقیاتی بینک

0
ہلاکت خیز عالمی وبا کورونا سے ایشیا کے 8 کروڑ افراد انتہائی غربت کا شکار: ایشیائی ترقیاتی بینک
ہلاکت خیز عالمی وبا کورونا سے ایشیا کے 8 کروڑ افراد انتہائی غربت کا شکار: ایشیائی ترقیاتی بینک

عالمی وبا کورونا وائرس نے ایشیا کے ساڑھے سات سے آٹھ کروڑ افراد کو انتہائی غربت میں دھکیل دیا

کوالالمپور: ہلاکت خیز عالمی وبا کورونا وائرس نے ایشیا کے ساڑھے سات سے آٹھ کروڑ افراد کو انتہائی غربت میں دھکیل دیا۔

ایشیائی ترقیاتی بینک نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ کورونا وائرس سے عالمی تجارت اور معاشی سرگرمیوں میں سست روی نے ترقی کے تسلسل میں رکاوٹیں ڈالیں۔

رپورٹ میں ترقیاتی بینک کا کہنا تھا کہ سفری پابندیوں کی وجہ سے خطے میں آٹھ فیصد کاروباری اوقات ضائع ہوئے جبکہ گھرانوں، مزدوروں اور غیر روایتی معیشت سے وابستہ افراد پر وبا کا منفی اثر پڑا۔

کچھ ماہرین کا خیال ہے کورونا دور میں جو بھی تجزیہ اور نتائج اخذ کئے جا رہے ہیں وہ مکمل نہیں ہیں کیوں کہ بیشتر ممالک سے جو ڈیٹا مل رہے ہیں وہ مکمل نہیں ہیں۔ اس سے دونوں باتیں ہوسکتی ہیں یا تو حالات اور خراب ہوں گے یا بہتری کی راہ پر آئیں گے۔

افغانستان میں اب بھی 1500 امریکی شہری موجود ہیں: انٹونی بلنکن

0
افغانستان میں اب بھی 1500 امریکی شہری موجود ہیں: انٹونی بلنکن
افغانستان میں اب بھی 1500 امریکی شہری موجود ہیں: انٹونی بلنکن

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ افغانستان میں اب بھی 1500 امریکی شہری موجود ہیں، جنہیں نکالنا ہے۔

واشنگٹن: امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ افغانستان میں اب بھی 1500 امریکی شہری موجود ہیں، جنہیں نکالنا ہے۔

انٹونی بلنکن کا کہنا ہے کہ طالبان 31 اگست کے بعد بھی ان امریکیوں اور ان افغان شہریوں کو واپس آنے کی اجازت دینے پر رضا مند ہیں جن کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں۔

انہوں نے کہا کہ طالبان قیادت میں آئے تو افغان حکومت کے ساتھ اپنے مفادات کے تحت کام کریں گے۔ امریکی وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ تعلقات کا دارومدار اگلی افغان حکومت کے طرز عمل پر ہوگا۔

امریکی وزیر خارجہ نے طالبان کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کا احترام نہ کیا گیا تو انہیں دنیا میں تنہا کیا جا سکتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ خطے کے ممالک کے ساتھ بات چیت جاری ہے کہ انخلا کے بعد ایئرپورٹ کھلا رکھا جائے۔

دریں اثنا گزشتہ روز برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کا کہنا ہے کہ جی سیون نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ طالبان افغانستان سے نقل مکانی کرنے والوں کے لیے 31 اگست کے بعد بھی انخلا کے لئے محفوظ راستے کی ’ضمانت‘ دیں۔ عالمی میڈیا میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق بورس جانسن، جنہوں نے ہنگامی اجلاس طلب کیا تھا نے کہا کہ وہ اور ان کے ساتھیوں نے مستقبل میں طالبان کے ساتھ بات چیت کے لیے لائحہ عمل تیار کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

لیکن انہوں نے ’پہلی شرط‘ کے بارے میں کہا ”31 اگست تک اور اس کے بعد افغانستان سے جو افراد جانا چاہتے ہیں ان کو محفوظ راستہ دینے کی ضمانت دی جائے“۔