بدھ, مئی 20, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 315

حکومت آج اپوزیشن پارٹیوں کو افغانستان کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کرے گی

0
حکومت آج اپوزیشن پارٹیوں کو افغانستان کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کرے گی
حکومت آج اپوزیشن پارٹیوں کو افغانستان کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کرے گی

وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر اپوزیشن پارٹیوں کے رہنماؤں کو کچھ دیر بعد افغانستان کی تازہ ترین صورتحال اور پیش رفت سے آگاہ کریں گے۔

نئی دہلی: وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کو کچھ دیر بعد افغانستان کی تازہ ترین صورتحال اور پیش رفت سے آگاہ کریں گے۔

پارلیمنٹ ہاؤس انیکسی میں منعقد پروگرام میں ڈاکٹر جے شنکر اپوزیشن پارٹیوں کے پارلیمانی لیڈروں کو افغانستان کی تازہ ترین صورتحال اور وہاں سے ہندوستانی شہریوں کو واپس لانے اور ہندوستانی مفادات کے تحفظ کے حوالے سے تفصیلات مہیا کرائیں گے۔ اس دوران پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد جوشی اور دیگر رہنماؤں کی بھی موجودگی متوقع ہے۔

پیر کو ایک ٹویٹ میں ڈاکٹر جے شنکر نے کہا تھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے وزارت خارجہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپوزیشن جماعتوں کو افغانستان سے متعلق تازہ ترین معلومات سے آگاہ کرے۔

اس کے بعد پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد جوشی نے کہا تھا کہ وزیر خارجہ جمعرات کو افغانستان میں ہونے والی پیش رفت کے بارے میں اپوزیشن جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں کو تفصیل سے آگاہ کریں گے۔ اس کے بعد تمام پارٹیوں کے پارلیمانی لیڈروں کو اس پروگرام میں شرکت کے لیے ای میل بھیج کر دعوت نامہ بھیجا گیا تھا۔

ہندوستان افغانستان میں پھنسے ہندوستانیوں سمیت 600 سے زائد افراد کو واپس لایا

قابل ذکر ہے کہ افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد پیش رفت تیزی سے تبدیل ہوئی ہے اور ہندوستان اپنے سفارت کاروں سمیت وہاں پھنسے ہوئے شہریوں کو گزشتہ چند دنوں سے نکال رہا ہے۔ اپوزیشن نے حکومت سے اس حوالے سے صورتحال واضح کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ہندوستان افغانستان میں پھنسے ہندوستانیوں سمیت 600 سے زائد افراد کو واپس لایا ہے۔

دریں اثنا سیکیورٹی کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے وزارت داخلہ نے ایسے تمام افغان شہریوں کے ویزے منسوخ کرنے کا حکم جاری کیا ہے جو فی الحال ہندوستان میں مقیم نہیں ہیں۔ وزارت نے کہا ہے کہ افغان شہریوں کو ہندوستان آنے سے پہلے ای ویزا کے لیے نئے سرے سے درخواست دینا ہوگی۔

چراغ سمیت چار کے خلاف پٹنہ کے شاشتری نگر تھانے میں شکایت درج

0
چراغ سمیت چار کے خلاف پٹنہ کے شاشتری نگر تھانے میں شکایت درج
چراغ سمیت چار کے خلاف پٹنہ کے شاشتری نگر تھانے میں شکایت درج

بہار کے جموئی سے رکن پارلیمنٹ قومی صدر چراغ پاسوان (چراغ گروپ) کے ساتھ ہی چار دیگر کے خلاف دارالحکومت پٹنہ کے شاشتری نگر تھانے میں ایک شکایت درج کرائی گئی ہے۔

پٹنہ: لوک جن شکتی پارٹی (ایل جے پی ۔ پارس گروپ) نے پارٹی کے بانی آنجہانی رام ولاس پاسوان کے بیٹے اور بہار کے جموئی سے رکن پارلیمنٹ قومی صدر چراغ پاسوان (چراغ گروپ) کے ساتھ ہی چار دیگر کے خلاف دارالحکومت پٹنہ کے شاشتری نگر تھانے میں ایک شکایت درج کرائی ہے۔

ایل جے پی (پارس گروپ) کے پرنسپل جنرل سکریٹری کیشو سنگھ نے بدھ کو متعلقہ تھانے میں ایک تحریری شکایت کی ہے۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ ان کے موبائل فون پر مسلسل دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ دوسری طر ف سے کال کرنے والے انہیں دھمکی دے رہے ہیں کہ پارس گروپ کا پروگرام کامیاب مت کراﺅ۔

تحریری شکایت میں رکن پارلیمنٹ مسٹر پاسوان، ان کے قریبی سوربھ پانڈے اور چراغ گروپ کے ترجمان کرشن کمار کلو ۔ امر آزاد کے ساتھ ہی ایک دیگر کے خلاف شکایت درج کرانے کے ساتھ ہی سیکیورٹی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

بہار میں مذہبی مقامات، شاپنگ مالز، دکانیں، پارکس، سنیما ہال، کوچنگ اداروں کو کھولنے کی اجازت

0
بہار میں مذہبی مقامات، شاپنگ مالز، دکانیں، پارکس، سنیما ہال، کوچنگ اداروں کو کھولنے کی اجازت
بہار میں مذہبی مقامات، شاپنگ مالز، دکانیں، پارکس، سنیما ہال، کوچنگ اداروں کو کھولنے کی اجازت

بہار میں کورونا انفیکشن کی صورت حال میں بہتری کے پیش نظر حکومت نے کل سے تمام دکانوں، اداروں، شاپنگ مالز، پارکس، گارڈن اور مذہبی مقامات کو عام طور پر کھولنے کی اجازت دے دی

پٹنہ: بہار میں کورونا انفیکشن کی صورتحال میں بہتری کو دیکھتے ہوئے حکومت نے کل سے سبھی دکانوں، اداروں، شاپنگ مال، پارک، گارڈن اور مذہبی مقامات کو عام طور پر کھولنے کی اجازت دے دی ہے۔

بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے بدھ کو آفات مینجمنٹ گروپ کی میٹنگ میں کورونا کی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد خود سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ ٹوئٹر پر ٹویٹ کر کے بتایا کہ ریاست میں اب سبھی دکانیں، ادارے، شاپنگ مال، پارک، گارڈن اور مذہبی مقامات عام طور سے کھلیں گے۔ اس کے ساتھ ہی ضلع انتظامیہ کی اجازت سے سبھی طرح کے سماجی، سیاسی، تفریحی، کھیل ۔ کود، ثقافتی اور مذہبی پروگرام احتیاطی تدابیر کے ساتھ منعقد کئے جاسکیں گے۔

وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ سبھی یونیورسٹی، کالج، تکنیکی تعلیمی ادارے اور یونیورسٹی (پہلی سے بارہویں جماعت) کے ساتھ کوچنگ ادارے بھی عام طور سے کھلیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست کے یونیورسٹیوں، کالجوں، اسکولوں کے ذریعہ امتحانات بھی منعقد کئے جاسکیں گے۔

مسٹر کمار نے بتایا کہ 50 فیصد صلاحیت کے ساتھ سنیما ہال، کلب، جم، سوئمنگ پل، ریستوراں اور کھانے کی دکان (زائرین کے ساتھ) کھل سکیں گے۔ لیکن تیسری لہر کے امکانات کے مد نظر بہار کے تمام باشندوں کو کووڈ پروٹوکول پر عمل کرتے ہوئے احتیاط برتنا ضروری ہے۔

افغان مسئلے پر بلنکن نے کیا تبادلہ خیال

0
Afghan Masle par Blinken ne kya tabadala khyal
Afghan Masle par Blinken ne kya tabadala khyal

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاویش اوغلو سے افغان مسئلے پر تعاون کے سلسلے میں بات کی۔

واشنگٹن: امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاوش اوغلو سے افغانستان میں جاری انخلا کی کوششوں میں تعاون کے سلسلے میں بات کی۔

وزارت خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا ’’مسٹر بلنکن نے مسٹر اوغلو کے ساتھ افغانستان میں ہمارے مسلسل تعاون اور ہمارے شہریوں، اتحادیوں اور شراکت داروں کے محفوظ اور منظم انخلا کو یقینی بنانے کی ہماری کوششوں پر گفت وشنید کی‘‘۔

طالبان کے ساتھ ہوئے معاہدے کے مطابق 31 اگست کی ڈیڈ لائن کو پورا کرنے کی کوشش میں امریکہ افغانستان کے دارالحکومت کابل ہوائی اڈے سے اپنے انخلاء میں تیزی لارہا ہے۔ بائیڈن انتظامیہ نے منگل کو کہا کہ انخلاء کارروائیوں کی مقررہ حد طالبان کے تعاون پر منحصر ہے۔

اس سے قبل پیر کے روز ترکی کی حکمراں جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کے ترجمان عمر سیلک نے یہ کہتے ہوئے کہ انقرہ مہاجر کیمپ نہیں ہے اس لیے وہ کسی ایک بھی افغان کو قبول نہیں کر سکتا۔

طالبان کے تعاون سے امریکی انخلا کا مشن 31 اگست تک مکمل: بائیڈن

0

بائیڈن نے کہا ہے کہ اگر طالبان اس کے آپریش کو متاثر نہیں کرتا ہے تو امریکہ اگست کے اواخر تک افغانستان سے اپنا انخلا مشن مکمل کر پائے گا۔

واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ اگر طالبان اس کے آپریش کو متاثر نہیں کرتا ہے تو امریکہ اگست کے اواخر تک افغانستان سے اپنا انخلا مشن مکمل کر پائے گا۔

مسٹر بائیڈن نے منگل کے روز وائٹ ہاؤس کے تبصرے کے دوران کہا ’’ہم فی الحال 31 اگست تک انخلا مہم کو ختم کرنے کی رفتار پر ہیں۔ لیکن 31 اگست تک طالبان کے تعاون جاری رکھنے اور ان لوگوں کے لیے ہوائی اڈے تک رسائی کی اجازت پر منحصر کرتا ہے، جو باہر جا رہے ہیں اور ہماری کارروائیوں میں کوئی رکاوٹ نہیں ہو‘‘۔

مسٹر بائیڈن نے کہا کہ گزشتہ بارہ گھنٹوں میں 5،600 فوجیوں کے ساتھ اور 6،400 افراد اور 31 اتحادی طیاروں نے کابل سے اڑان بھری۔ انہوں نے کہا کہ 14 اگست تک امریکہ نے کابل سے 70،700 افراد کو نکالنے میں مدد کی ہے۔

مسٹر بائیڈن نے کہا کہ انہوں نے وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کو بدھ کو امریکیوں کی تعداد کے بارے میں اپ ڈیٹ فراہم کرنے کی ہدایت دی ہے جو افغانسان میں ہیں۔

طالبان کی جانب سے ویکسینیشن پروگرام کی مخالفت کا کوئی ثبوت نہیں: ڈبلیو ایچ او

0
طالبان کی جانب سے ویکسینیشن پروگرام کی مخالفت کا کوئی ثبوت نہیں: ڈبلیو ایچ او
طالبان کی جانب سے ویکسینیشن پروگرام کی مخالفت کا کوئی ثبوت نہیں: ڈبلیو ایچ او

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کا کہنا ہے کہ ابھی تک اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ طالبان نے افغانستان میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے کورونا وائرس اور دیگر بیماریوں کے لیے ویکسینیشن پروگرام کی مخالفت کی ہے۔

کابل: عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ ابھی تک اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ طالبان نے افغانستان میں اقتدار سنبھالنے کے بعد کورونا اور دیگر بیماریوں کے لیے ویکسینیشن پروگرام کی مخالفت کی ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے مشرقی بحیرہ روم کے علاقے کے لیے علاقائی ڈائریکٹر رچرڈ برینان نے منگل کو کہا کہ افغانستان میں سیاسی بحران سے کورونا اور دیگر بیماریوں کے لیے ویکسینیشن پروگرام پر نمایاں اثر پڑا ہے۔

انہوں نے نامہ نگاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’’ہمیں ابھی تک اس معاملے میں کوئی اطلاع نہیں ملی ہے جس سے کہ یہ جان سکیں کہ افغانستان میں نئی ​​حکومت ویکسینیشن پروگرام کی مخالفت کر رہی ہے۔ لیکن ہم اس کے تعلق سے کافی فکر مند ہیں کیونکہ دیگر بیماریوں کے ویکسینیشن پروگرام بھی اس سے متاثر ہو رہے ہیں جو دیگر بیماریوں میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ جہاں تک ممکن ہو، ہم ویکسینیشن پروگرام میں اضافہ کریں گے۔

افغانستان میں اب تک 153000 کورونا کیسز رجسٹرڈ ہو چکے ہیں اور سات ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور اس وقت ڈیلٹا وائرس کا انفیکشن زیادہ پھیل رہا ہے۔

سرکاری املاک میں نجی شعبے کی شراکت داری کے منصوبے سے پرینکا ناراض 

0
سرکاری املاک میں نجی شعبے کی شراکت داری کے منصوبے سے پرینکا ناراض 

پرینکا گاندھی واڈرا کی ریلوے، قومی شاہراہوں جیسے کئی سرکاری اثاثوں میں نجی شعبے کو شراکت دار بنانے کے مرکزی حکومت کے منصوبے پر سخت تنقید

نئی دہلی: کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے ریلوے، قومی شاہراہوں جیسے کئی سرکاری اثاثوں میں نجی شعبے کو شراکت دار بنانے کے مرکزی حکومت کے منصوبے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی محنت سے بنی ملک کی کروڑوں مالیت کی جائیداد یہ حکومت اپنے دوستوں کے حوالے کر رہی ہے۔

مسز واڈرا نے ٹویٹ کیا ’’آتم نربھر کا جملہ دیتے دیتے پوری حکومت کو ہی ’ارب پتی دوستوں‘ پر منحصر کیا گیا۔ سارا کام ان ہی ارب پتی دوستوں کے لیے، تمام سرکاری املاک ان ہی کیلئے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ آزادی کے بعد ملک نے جو دولت بنائی ہے اسے مودی حکومت دوستوں کے درمیان لٹا رہی ہے۔ مسز واڈرا نے کہا، ’’یہ سرکار 70 برسوں میں ملک کے عوام کی محنت سے بنائی گئی لاکھوں کروڑ روپے کی املاک اپنے ارب پتی دوستوں کو دے رہی ہے‘‘۔

قابل غور ہے کہ وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے پیر کو قومی ’مونیٹائزیشن پائپ لائن پروجیکٹ‘ کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ اس کے تحت انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ سے متعلقہ کچھ اثاثوں میں آئندہ چار سال میں پرائیویٹ ہاتھوں کو حصہ دار بناکر 6 لاکھ کروڑ روپے جمع کیے جائیں گے۔

ذات پات کی مردم شماری میں اختر الایمان نے مودی سے سورجاپوری، شیر شاہ وادی اور کلہیا برادری کو شامل کرنے کا کیا مطالبہ

0
ذات برادری پر مبنی مردم شماری کے حوالہ سے اختر الایمان نے مودی سے سورجاپوری، شیر شاہ وادی اور کلہیا برادری کو شامل کرنے کا کیا مطالبہ
ذات پات کی مردم شماری میں اختر الایمان نے مودی سے سورجاپوری، شیر شاہ وادی اور کلہیا برادری کو شامل کرنے کا کیا مطالبہ

نتیش کمار کی قیادت میں بہار اسمبلی میں قائد حزب اختلاف تیجسوی یادو اور اے آئی ایم آئی ایم کے رہنما اختر الایمان سمیت 10 سیاسی جماعتوں کے قائدین کی ذات برادری پر مبنی مردم شماری کے حوالہ سے وزیر اعظم سے ملاقات میں اختر الایمان نے کیا مطالبہ

نئی دہلی/پٹنہ/کشن گنج: بہار میں حکمراں اور اپوزیشن کی دس بڑی سیاسی جماعتوں نے آج سیاسی نظریات سے اوپر اٹھ کر یہاں وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی جس میں ملک بھر میں ذات برادری پر مبنی مردم شماری کا مطالبہ کیا گیا اور ان لوگوں نے دعویٰ کیا کہ وزیر اعظم نے ان کی باتیں بغور سنیں۔

بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار اور ریاستی حکومت میں بھارتیہ جنتا پارٹی اور قانون ساز اسمبلی میں قائد حزب اختلاف تیجسوی یادو کی قیادت میں 10 سیاسی جماعتوں کے قائدین نے مسٹر مودی سے یہاں ساؤتھ بلاک میں وزیر اعظم آفس میں ملاقات کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وزیراعظم نے ان کے مطالبات سے انکار نہیں کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس حوالہ سے فیصلہ وزیر اعظم کو کرنا ہے۔

ذات پات کی مردم شماری میں سورجاپوری، شیر شاہ وادی اور کلہیا برادری کی شمولیت پر زور

تمام جماعتوں کے قائدین نے وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کے دوران، بہار کے ریاستی صدر آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین اور امور اسمبلی حلقہ سے ایم ایل اے اختر الایمان نے ذات پات کی مردم شماری میں سورجاپوری، شیر شاہ وادی اور کلہیا برادری کو شامل کرنے پر زور دیا۔

اس موقع پر جناب اخترالایمان نے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران کہا کہ اس ملاقات کا مقصد وزیراعظم کو یہ بتانا تھا کہ ذات کی مردم شماری کروانا ضروری ہے اسی سے معلوم ہوگا کہ کس ذات کی کتنی آبادی ہے اور ان کی معاشی اور تعلیمی حیثیت کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے وزیر اعظم سے درخواست کی ہے کہ وہ سیمانچل کے سورجاپوری، شیر شاہ آبادی، کلہیا اور دیگر ذاتوں کی مردم شماری کروائیں۔ اس سے مستقبل کی حکومتوں کو پالیسی پروگرام بنانے میں مدد ملے گی اور اسی سے ملک کے پسماندہ طبقات کی ترقی کے لیے پروگرام بنایا جا سکتا ہے۔

حکومت ہند سے بہار کے تمام لوگوں کی توقعات پر پورا اترنے کی امید

انہوں نے مزید کہا کہ "آج تک جو ڈیٹا حکومت ہند کے پاس ہے وہ انگریزوں کا دیا ہوا ڈیٹا ہے جو بہت پرانا ہوچکا ہے اور آج کی تاریخ میں وہ ڈیٹا پرانا ہوچکا ہے۔ ابھی اس ڈیٹا پر کام نہیں کیا جا سکتا۔ ہمیں امید ہے کہ حکومت ہند بہار کے تمام لوگوں کی توقعات پر پورا اترنے کی کوشش کرے گی۔

دوسری طرف، بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے کہا کہ وفد کے تمام ارکان نے وزیراعظم پر زور دیا کہ وہ ذات کی مردم شماری پر غور کرنے کے بعد فیصلہ کریں۔

مسٹر کمار نے کہا کہ ریاست میں سال 1931 میں ذات برادی کی بنیاد پر مردم شماری کی گئی تھی، یہ اعداد و شمار اب بہت پرانے ہو چکے ہیں۔ معاشرے کے غریب طبقات کو مناسب سہولیات فراہم کرنے اور اسکیموں کے مناسب نفاذ کے لیے نہ صرف بہار بلکہ پورے ملک میں ذات برادری کی بنیاد پر مردم شماری کرانے کی ضرورت ہے۔

اے آئی ایم آئی ایم کے ایم ایل اے مسٹر اختر ایمان نے کہا کہ اس بار ذات کی مردم شماری ہونے سے ہی درست اعداد و شمار آئیں گے اور اس کے بعد ان طبقات کے بارے میں اسکیمیں مناسب طریقے سے تیار کی جائیں گی جنہیں حکومت کی اسکیموں کا مناسب فائدہ نہیں مل رہا ہے۔

انہوں نے جغرافیائی اہمیت کے حصوں کو بھی شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے جن میں سورجاپوری، شیر شاہ آبادی اور کلہیا برادری شامل ہیں۔

بتادیں کہ سورجاپوری برادری کو مرکزی فہرست میں شامل کرنا اب تک ممکن نہیں ہو سکا تھا۔ حال ہی میں، او بی سی بل پارلیمنٹ سے منظور ہوتے ہی، سورجاپوری برادری کو بھی اس سے فائدہ اٹھانے کا راستہ صاف ہوتا ہوا نظر آرہا ہے۔

ہندوستان نژاد افغان شہریوں کو ہندوستان میں پناہ دینے کی بی جے پی نے یقین دہانی کرائی

0
ہندوستان نژاد افغان شہریوں کو ہندوستان میں پناہ دینے کی بی جے پی نے یقین دہانی کرائی
ہندوستان نژاد افغان شہریوں کو ہندوستان میں پناہ دینے کی بی جے پی نے یقین دہانی کرائی

بی جے پی نے ہندوستان نژاد افغان شہریوں کو ہندوستان میں پناہ دینے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ 

نئی دہلی: بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے ہندوستان نژاد افغان شہریوں کو ہندوستان میں پناہ دینے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

بی جے پی کے قومی ترجمان سردار آر پی سنگھ اور اقبال سنگھ لال پورہ نے پیر کے روز یہاں افغانستان کے کابل سے ہندوستان واپس لوٹے 168 افراد کے ایک گروپ سے وہاں کی ایوان بالا کی رکن انار کلی کور ہونیار سے ملاقات کی۔

ملاقات کے دوران مسٹر سنگھ نے مسز کور کو یقین دلایا کہ مرکز میں نریندر مودی حکومت ہندوستانی نژاد یا افغان مہاجرین کو واپس لانے کا کام کر رہی ہے جو افغانستان سے ہندوستان آنا چاہتے ہیں اور اب تک بہت سے لوگ محفوظ رہے ہیں بھی واپس لایا گیا ہے۔

اس ملاقات کے دوران مسز کور نے کہا کہ ہم ہندوستانی وزیر اعظم مسٹر مودی اور فضائیہ کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا ’’درخواست ہے کہ جو لوگ افغانستان میں پھنسے ہوئے ہیں انہیں بھی نکالا جائے۔ ہم ہندوستان سے بہت پیار کرتے ہیں۔ ہمارا ایک ہی کلچر ہے۔ ملک کو چھوڑنا بات بات نہیں ہے۔ حکومت ہندوستان سے ان کی درخواست ہے جو سنگت وہاں پھنسی ہوئی ہے، حکومت کو اسے بھی باہر نکالنا چاہیے۔”

قابل ذکر ہے کہ مسز کور ایک پنجابی سکھ افغان سیاستدان ہونے کے ساتھ ساتھ خواتین کے حقوق کی کارکن اور دانتوں کی ڈاکٹر بھی ہیں۔

دہلی میں اقوام متحدہ کے دفتر پر افغانی شہریوں کا مظاہرہ

0
دہلی میں اقوام متحدہ کے دفتر پر افغانی شہریوں کا مظاہرہ
دہلی میں اقوام متحدہ کے دفتر پر افغانی شہریوں کا مظاہرہ

دارالحکومت دہلی کے وسنت وہار میں واقع اقوام متحدہ کے دفتر کے قریب ہونے والے اس مظاہرے میں بڑی تعداد میں خواتین اور مردوں کے علاوہ معصوم بچوں نے بھی شرکت کی۔

نئی دہلی: افغانستان کے شہریوں نے پیر کو یہاں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل (یو این ایچ آر سی) کے دفتر کے باہر مظاہرہ کیا اور انہوں نے پناہ گزین کی حیثیت کے ساتھ ساتھ روزگار اور رہائش کا مطالبہ کیا۔

دارالحکومت دہلی کے وسنت وہار میں واقع اقوام متحدہ کے دفتر کے قریب ہونے والے اس مظاہرے میں بڑی تعداد میں خواتین اور مردوں کے علاوہ معصوم بچوں نے بھی شرکت کی۔ ان کے ہاتھوں میں اپنے ملک کا جھنڈا تھا۔ احتجاج کرنے والے ’ہم مستقبل چاہتے ہیں‘ کے نعرے کے ساتھ ہندوستان یا کسی دوسرے ملک میں پناہ دینے کے ساتھ ساتھ روزگار، رہائش اور تحفظ کا مطالبہ کر رہے تھے۔ کورونا کے پیش نظر چہرے کے ماسک لگانے کے علاوہ ان لوگوں نے دیگر ہدایات اور پروٹوکول پر عمل کرتے ہوئے مظاہرہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلا کے معاملے میں جلد بازی ہوئی جس کی وجہ سے وہاں کی صورتحال بے قابو ہو گئی ہے۔ اس معاملہ میں، وہاں کی صورتحال کا صحیح اندازہ نہیں کیا گیا۔ ان کے معصوم بچے بھی اس کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں، جس سے ان کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے۔

پولیس ذرائع نے بتایا کہ افغانستان کی صورت حال کے پیش نظر یو این ایچ آر سی کے دفتر میں سیکیورٹی انتظامات سخت کر دئیے گئے ہیں اور وہاں کے شہریوں کو مناسب سیکیورٹی دی جا رہی ہے۔