ہفتہ, اکتوبر 3, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 313

امریکہ: واشنگٹن میں گولی باری، تین افراد کی موت، تین دیگر زخمی

0
امریکہ میں گولی باری، تین افراد کی موت، تین دیگر زخمی
امریکہ میں گولی باری، تین افراد کی موت، تین دیگر زخمی

امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں گولی باری سے کم از کم تین افراد ہلاک اور تین زخمی ہو گئے۔

واشنگٹن: امریکہ کی راجدھانی واشنگٹن میں گولی باری میں کم از کم تین لوگوں کی موت اور تین دیگر زخمی ہوگئے ہیں۔

مقامی پولیس محکمہ نے ٹوئٹر پر کہا ’’لانگ فیلو اسٹریٹ، این ڈبلیو کے 600 بلاک میں مقامی وقت کے مطابق شام تقریباً 7 بجکر 30 منٹ پر گولی باری ہوئی۔ گولی باری میں تین لوگوں کی موت اور تین دیگر زخمی ہوگئے‘‘۔

پولیس سربراہ رابرٹ کونٹی نے صحافیوں کو بتایا کہ مشتبہ افراد نے سنیچر کی رات ایک گاڑی سے اتر کر لوگوں کی بھیڑ پر اندھا دھند گولیاں چلانی شروع کردی۔ سبھی متاثرین نوجوان ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حملہ آوروں اور گولی باری کے تعلق سے کسی بھی قسم کی اطلاع دینے والے کو 75 ہزار ڈالر کا انعام دیا جائے گا۔

مغربی بنگال: ضمنی انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہونے پر بی جے پی ناخوش

0
مغربی بنگال: ضمنی انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہونے پر بی جے پی ناخوش
مغربی بنگال: ضمنی انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہونے پر بی جے پی ناخوش

الیکشن کمیشن کے ذریعہ ریاست کے تین اسمبلی حلقوں بشمول بھوانی پور میں 30 ستمبر کو انتخابات کے اعلان پر بی جے پی کے ریاستی صدر دلیپ گھوش نے کیا تبصرہ

کلکتہ: الیکشن کمیشن کے ذریعہ ریاست کے تین اسمبلی حلقوں بشمول بھوانی پور میں 30 ستمبر کو انتخابات کے اعلان پر تبصرہ کرتے ہوئے بی جے پی کے ریاستی صدر دلیپ گھوش نے کہا کہ پارٹی پہلے میونسپل کارپوریشن کا ووٹ چاہتی تھی۔ اس کے بعد ضمنی انتخابات۔ تاہم پہلے ضمنی انتخاب کا اعلان کیا گیا۔

دلیپ گھوش نے کہا کہ ہم ضمنی انتخاب نہیں چاہتے تھے، ایسا نہیں ہے۔ ہم نے کہا کہ حالات سازگار نہیں ہیں۔ ہم پہلے بلدیاتی اداروں میں پولنگ چاہتے تھے اور پھر ضمنی انتخابات۔ تاہم الیکشن کمیشن نے ضمنی انتخابات کی تاریخ کا اعلان کردیا۔

طالبان نے دیا اشارہ، ہندوستان کے خدشات کا مناسب حل تلاش کریں گے: شرنگلا

0

خارجہ سکریٹری ہرش وردھن شرنگلا نے کہا ہے کہ ہندوستان کے طالبان کے ساتھ تعلقات محدود ہیں اور طالبان نے اشارہ دیا ہے کہ وہ ہندوستان کے خدشات کو مناسب طریقے سے دور کرے گا۔

واشنگٹن: ہندوستان کے خارجہ سکریٹری ہرش وردھن شرنگلا نے کہا ہے کہ ہندوستان کے طالبان کے ساتھ تعلقات محدود ہیں اور طالبان نے اشارہ دیا ہے کہ وہ ہندوستان کے خدشات کو مناسب طریقے سے دور کرے گا۔

جمعہ کو یہاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے مسٹر شرنگلا نے کہا، ”ان (طالبان) کے ساتھ ہمارا رابطہ محدود رہا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ ہم نے بہت زیادہ بات چیت کی ہے، لیکن جو کچھ ہم نے اب تک کیا ہے، طالبان نے اشارہ کیا ہے کہ وہ ہندوستان کے خدشات کو مناسب طریقے سے سنبھالے گا۔

دوحہ میں ہندوستان کے سفیر دیپک متل اور طالبان کے سیاسی دفتر کے سربراہ شیر محمد عباس استنکزئی کے درمیان ہونے والی ملاقات پر انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے طالبان سے کہا تھا کہ وہ چاہتا ہے کہ وہ سمجھے کہ ان کی سرزمین سے ایسی کوئی دہشت گردانہ سرگرمی نہ ہو جس کا ہدف ہندوستان ہو۔

خارجہ سیکریٹری نے کہا، ”ہم نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے اور ہم نے ان سے کہا ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ وہ اس حقیقت سے آگاہ رہیں کہ ان کی سرزمین سے کوئی دہشت گردانہ سرگرمی نہیں ہونی چاہیے جو ہندوستان یا دوسرے ممالک کو نشانہ بناتی ہو۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ خواتین اور اقلیتوں وغیرہ کی حالت کو ذہن میں رکھیں اور میرے خیال میں انہوں نے اپنی طرف سے یقین دہانی بھی کرائی ہے۔

افغانستان کے پڑوسی پاکستان نے طالبان کی حمایت اور پرورش کی

مسٹر شرنگلا نے پاکستان کے کردار پر کہا کہ اسلام آباد نے طالبان کی حمایت اور پرورش کی ہے۔ افغانستان کے پڑوسی پاکستان نے طالبان کی حمایت اور پرورش کی ہے۔ بہت سے عناصر ہیں جنہیں پاکستان کی حمایت حاصل ہے۔ اس لیے اس کے کردار کو اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ افغانستان کی صورتحال کو بہت قریب سے دیکھ رہا ہے۔ وہ واضح طور پر دیکھیں گے کہ مختلف فریق کس طرح افغانستان کی صورتحال سے جڑتے ہیں۔

یہ پوچھے جانے پر کہ اقوام متحدہ کی 1988 کی پابندیوں کی کمیٹی یا طالبان کی پابندیوں کی کمیٹی کی سربراہی کے لیے ہندوستان کی پالیسی کیا ہوگی، مسٹر شرنگلا نے کہا، ”دو چیزیں واضح ہیں، پہلی افغانستان میں اقوام متحدہ کا تعاون مشن (یو این اے ایم اے) کے مینڈیٹ کی توسیع اور دوسرا 1988 کی طالبان پابندیوں کی کمیٹی کی فہرست سے ہٹانے کا معاملہ، جس کی ہم صدارت کرتے ہیں اور ہمیں اس پر کام کرنا ہے۔”

انہوں نے کہا، ”دوسرے لفظوں میں، ہمارا موقف ‘انتظار کرو اور دیکھو’ ہے، ہمیں دیکھنا ہوگا کہ زمینی صورتحال کیسے تیار ہوتی ہے۔ میرا مطلب ہے کہ کیا ہم فورا عمل کریں گے، مجھے ایسا نہیں لگتا، کیا ہم اپنے فیصلوں کو اس کے مطابق بہتر کرنے جا رہے ہیں جو ہوتا ہے اس کے مطابق؟ یہ مت بھولئے کہ ہم 15 ارکان میں سے ایک ہیں اور ہمیں یہ بھی دیکھنا ہے کہ باقی عالمی برادری کیا کہہ رہی ہے اور یہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اتفاق رائے پر مبنی ہے۔

کیا ہندوستان صوبہ پنجشیر میں مزاحمت کی حمایت کرے گا؟

یہ پوچھے جانے پر کہ کیا ہندوستان صوبہ پنجشیر میں مزاحمت کی حمایت کرے گا اور کیا ہندوستان اس کے بارے میں کچھ کر رہا ہے، سیکریٹری خارجہ نے کہا کہ افغانستان کی صورتحال اس قدر غیر مستحکم ہے کہ اس وقت کسی بھی چیز پر تبصرہ کرنا مشکل ہے۔

انہوں نے کہا، ”یہ ایک بہت مشکل صورتحال ہے جس پر ہم کچھ بھی کہہ سکتے ہیں، چاہے اس کا تعلق زمین پر کیا ہو رہا ہو یا دعووں اور جوابی دعووں کے حوالے سے ہو۔ ہم وہاں زمین پر نہیں ہیں، ہمارے پاس وہاں کوئی جائیداد نہیں ہے، ہمیں بیٹھ کر جائزہ لینا ہوگا کہ حالات کیسے آگے بڑھ رہے ہیں۔

مسٹر شرنگلا نے کہا، ”ایسا نہیں ہے کہ ہم کچھ نہیں کر رہے۔ ہم بین الاقوامی برادری کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ ہم عملی طور پر ہر اس ملک سے رابطے میں ہیں جس کے مفادات افغانستان سے جڑے ہوئے ہیں۔ ہم نے وزیر اعظم، وزیر خارجہ، این ایس اے کی سطح پر بات چیت کی ہے۔ ہم نے تمام متعلقہ افراد کے ساتھ وسیع تبادلہ خیال، تبادلے اور بات چیت کی ہے۔

اقوام متحدہ 13 ستمبر کو افغانستان پر اعلیٰ سطحی انسانی کانفرنس بلائے گی

0
اقوام متحدہ 13 ستمبر کو افغانستان پر اعلیٰ سطحی انسانی کانفرنس بلائے گی

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹونیو گوٹریس 13 ستمبر کو افغانستان پر اعلیٰ سطحی انسانی کانفرنس بلانے کے لئے جنیوا کا دورہ کریں گے

اقوام متحدہ: اقوام متحدہ نے افغانستان کی سنگین ضروریات کو اجاگر کرنے اور ملک کے لوگوں کی مدد کے لیے بین الاقوامی شراکت داروں کے ذریعے درکار فوری مالی امداد اور کاموں پر زور دینے کے لیے 13 ستمبر کو افغانستان پر اعلیٰ سطحی انسانی کانفرنس منعقد کرے گی۔

افغانستان ایک سنگین صورت حال میں ہے اور طویل تنازعات، شدید خشک سالی اور کووڈ -19 وبا کا سامنا کر رہا ہے۔ یہ صورتحال تب ہے، جبکہ ملک کی تقریبا نصف آبادی یعنی 1.8 کروڑ افغانیوں کو پہلے ہی امداد کی ضرورت تھی۔

اقوام متحدہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ملک میں جنوری 2021 سے 550،000 سے زائد افراد بے گھر ہوئے ہیں۔ تین میں سے ایک افغان شہری بحران یا ہنگامی صورتحال سےغذائی عدم تحفظ کا سامنا کر رہا ہے۔ اور پانچ برسوں سے کم عمر کے آدھے سے زیادہ بچے قلت تغذیہ کے شکارہیں۔

اقوام متحدہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ شدید خشک سالی انسانی بحران کو مزید بڑھا رہی ہے اور آنے والے موسم سرما میں صورتحال مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹونیو گوٹریس کے ترجمان نے کہا ’’اقوام متحدہ افغانستان کے لوگوں کے ساتھ یکجہتی کے ساتھ کھڑی ہے اور سکریٹری جنرل ملک کی بڑھتی ہوئی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے 13 ستمبر کو ایک علیٰ سطحی وزارتی سطح کی انسانی کانفرنس بلانے کے لئے جنیوا کا دورہ کریں گے‘‘۔

افغانستان میں حجاب پہننے والی خواتین ہی تعلیم اور روزگار حاصل کر سکیں گی، افغان ثقافت کو تبدیل کرنے کی کوشش نہ کرے امریکہ: طالبان

0
افغانستان میں حجاب پہننے والی خواتین ہی تعلیم اور روزگار حاصل کر سکیں گی: طالبان
افغانستان میں حجاب پہننے والی خواتین ہی تعلیم اور روزگار حاصل کر سکیں گی: طالبان

طالبان نے کہا ہے کہ افغانستان میں حجاب پہننے والی خواتین کو ہی تعلیم اور کام (روزگار) کا حق ملے گا اور امریکہ کو ملکی ثقافت کو تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔

واشنگٹن: افغانستان پر قبضہ کرنے والے طالبان نے کہا ہے کہ ملک میں صرف حجاب پہننے والی خواتین کو ہی تعلیم اور کام (روزگار) کا حق ملے گا اور امریکہ کو ملکی ثقافت کو تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔

طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے جمعہ کی دیر رات ’فاکس نیوز‘ سے کہا ’’خواتین کے حقوق کے بارے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ ان کی تعلیم اور کام کے بارے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ ہماری ثقافت یہ ہے کہ وہ حجاب کے ساتھ تعلیم حاصل کرسکتی ہیں۔ وہ حجاب کے ساتھ کام کر سکتی ہیں‘‘۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ نے افغانستان سے خواتین کو بغیر حجاب کے کام کرنے اور تعلیم حاصل کرنے کے حقوق یقینی بنانے کی درخواست کی تھی، جو افغان ثقافت کو تبدیل کرنے کی کوشش تھی۔ تنظیم کے نقطہ نظر سے ناقابل قبول ہے۔

واضح رہے کہ طالبان نے ایک ہفتے تک افغانسان کے مختلف صوبوں پر حملوں اور قبضے کے بعد 15 اگست کو کابل میں انٹری کی، جس سے صدر اشرف غنی کو عہدے سے استعفیٰ دے کر ملک چھوڑنا پڑا اور امریکی حمایت یافتہ سرکار گر گئی ۔

اٹلی نے افغانستان میں پھر سے سفارتخانہ کھولنے کا کیا وعدہ: طالبان

0
اٹلی نے افغانستان میں پھر سے سفارتخانہ کھولنے کا کیا وعدہ: طالبان
اٹلی نے افغانستان میں پھر سے سفارتخانہ کھولنے کا کیا وعدہ: طالبان

افغانستان کے سیاسی دفتر نے اٹلی کے وزیر اعظم کے نمائندے کے ساتھ میٹنگ کی۔ اٹلی نے افغانستان میں اپنا سفارتخانہ پھر سے کھولنے کا وعدہ کیا ہے‘‘۔

ماسکو: طالبان کا کہنا ہے کہ اٹلی نے افغانستان کی راجدھانی کابل میں اپنا سفارتخانہ دوبارہ کھولنے کا وعدہ کیا ہے۔

طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان محمد نعیم نے جمعہ کو یہ بات کہی۔ انہوں نے ٹویٹ کیا ’’آج افغانستان کے سیاسی دفتر نے اٹلی کے وزیر اعظم (ماریو ڈریگی) کے نمائندے کے ساتھ میٹنگ کی۔ اٹلی نے افغانستان میں اپنا سفارتخانہ پھر سے کھولنے کا وعدہ کیا ہے‘‘۔

دنیا کے کئی دیگر ممالک کے ساتھ اٹلی نے بھی اگست کے وسط تک افغانستان میں طالبان کا کنٹرول ہونے کے بعد اس ایشیائی ملک سے اپنے سفارتی اہلکاروں، شہریوں اور اتحادیوں کو نکالنے کے لئے مہم شروع کی اور اپنا سفارتخانہ بند کیا۔ جاپان اور نیدر لینڈ جیسے کچھ ممالک نے اپنے سفارتخانوں کو افغانستان سے قطر کی راجدھانی دوحہ میں منتقل کردیا۔

کانگریس نے ذات پر مبنی مردم شماری سے متعلق امور کے لیے کمیٹی کی تشکیل کی

0
کانگریس نے ذات پر مبنی مردم شماری سے متعلق امور کے لیے کمیٹی کی تشکیل کی
کانگریس نے ذات پر مبنی مردم شماری سے متعلق امور کے لیے کمیٹی کی تشکیل کی

کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے ذات پر مبنی مردم شماری سے متعلق معاملات کو دیکھنے اور ان کے مطالعہ کے لیے اس کمیٹی کی تشکیل کی ہے

نئی دہلی: کانگریس نے سینئر رہنما ویرپّا موئیلی کی قیادت میں ذات پر مبنی مردم شماری سے متعلق امور کا مطالعہ کے لیے پارٹی کی سات رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔

کانگریس کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے جمعہ کے روز یہاں بتایا کہ پارٹی کی صدر سونیا گاندھی نے ذات کی مردم شماری سے متعلق معاملات کو دیکھنے اور ان کے مطالعہ کے لیے اس کمیٹی کی تشکیل کی ہے اور کمیٹی سے کہا گیا کہ وہ فوری اثر سے کام کرے۔

انہوں نے بتایا کہ مسٹر موئیلی کو کمیٹی کا کوآرڈینیٹر بنایا گیا ہے۔ کمیٹی میں ابھیشیک منو سنگھوی، سلمان خورشید، آر پی این سنگھ، موہن پرکاش، پی ایل پنیا اور کلدیپ وشنوئی شامل ہیں۔

بگ باس 13 کے فاتح سدھارتھ شکلا کا دل کا دورہ پڑنے سے انتقال

0
بگ باس 13 کے فاتح سدھارتھ شکلا کا دل کا دورہ پڑنے سے انتقال
بگ باس 13 کے فاتح سدھارتھ شکلا کا دل کا دورہ پڑنے سے انتقال

بتایا جا رہا ہے کہ سدھارتھ شکلا نے رات سونے سے پہلے دوا لی تھی لیکن دوائی کون سی لی تھی اس بارے میں کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔

ممبئی: ٹیلیویژن کے مشہور اداکار اور ‘بگ باس 13’ کے فاتح سدھارتھ شکلا کا انتقال ہوگیا۔ ان کی عمر 40 برس تھی۔

‘بگ باس ۔13’ کے فاتح سدھارتھ شکلا کا دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہوگیا۔

بتایا جا رہا ہے کہ سدھارتھ نے رات سونے سے پہلے دوا لی تھی لیکن دوائی کون سی لی تھی اس بارے میں کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔ سدھارتھ دوا لینے کے بعد صبح نہیں اٹھ سکے۔

سدھارتھ شکلا کی لاش فی الحال ممبئی کے کوپر اسپتال میں ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ پوسٹ مارٹم وہیں کیا جائے گا۔

سدھارتھ نے اپنے کیریئر کا آغاز سال 2008 میں ٹی وی شو ‘بابل کا آنگن چھوٹے نا’ سے کیا تھا۔

اس کے بعد وہ ‘جانے پہچانے سے اجنبی، سی آئی ڈی، بالیکا ودھو اور ‘لو یو زندگی’ جیسے ٹی وی شوز اور بہت سے ریئلٹی شوز میں نظر آئے۔

سدھارتھ نے فلم ‘ہمپٹی شرما کی دلہنیا’ میں بھی کام کیا تھا۔

افغانستان میں طالبان کے ہاتھوں برطانیہ اور سوویت یونین کے بعد اب امریکہ تیسری ناکام عالمی طاقت

0
افغانستان میں طالبان کے ہاتھوں برطانیہ اور سوویت یونین کے بعد اب امریکہ تیسری ناکام عالمی طاقت
افغانستان میں طالبان کے ہاتھوں برطانیہ اور سوویت یونین کے بعد اب امریکہ تیسری ناکام عالمی طاقت

برطانیہ اور سوویت یونین کے بعد امریکہ تیسری عالمی طاقت ہے، جو افغانستان سے اپنی پیشانی پر ناکامی کا داغ لے کر واپس لوٹا ہے

تحریر: ڈاکٹر یامین انصاری

افغانستان میں 20 سال کے بعد پھر طالبان کی واپسی ہو گئی۔ امریکہ ایک لا حاصل جنگ کے خاتمے کے بعد یہاں سے روانہ ہو گیا، لیکن وہ اپنی ناکامی اور رسوائی کی ایک لمبی داستان پیچھے چھوڑ گیا۔ یہ ایک عجیب اتفاق ہے کہ جس وہائٹ ہاؤس سے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے 2001 میں افغانستان پر حملے کا اعلان کیا تھا، 20 برس کے بعد اُسی وہائٹ ہاؤس سے امریکی صدر جو بائیڈن 12 اگست 2021 کو اس امکان کا اظہار کر رہے تھے کہ طالبان تین ماہ کے اندر کابل پہنچ سکتے ہیں۔ اگرچہ طالبان نے تین دن میں ہی کابل پر اپنا پرچم لہرا دیا۔

برطانیہ اور سوویت یونین کے بعد امریکہ تیسری عالمی طاقت ہے، جو افغانستان سے اپنی پیشانی پر ناکامی کا داغ لے کر نکلا ہے۔ لہذا سوال پیدا ہوتا ہے کہ دنیا کی تمام بڑی طاقتیں افغانستان کو جیتنے کی کوشش میں ناکام کیوں ثابت ہوئی ہیں؟ دنیا بھر کے تجزیہ کار اور ماہرین اس امر پر غور و خوض کرنے پر مجبور ہیں۔ وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اتنی غربت اور مفلسی کے باوجود آخر افغان قوم کیسے عالمی طاقتوں سے لوہا لیتی رہی ہے اور انہیں شکست سے دو چار کیا ہے۔

مختلف قسم کے شبہات اور خدشات کو دور کرنا بھی طالبان کی ایک بڑی ذمہ داری

یہ الگ بات ہے کہ اب افغانستان کی کمان جن ہاتھوں میں آئی ہے، ان پر دنیا کو مختلف قسم کے شبہات اور خدشات ہیں۔ اب ان تحفظات کو دور کرنا بھی طالبان کی ایک بڑی ذمہ داری ہے۔ اسی لئے اب یہ سوال زیادہ اہم ہو جاتا ہے کہ آخر طالبان جس وعدے اور دعوے کے ساتھ واپس آئے ہیں، اس کو کس حد تک اور کیسے پورا کر پائیں گے؟ ابھی تک طالبان نے اقتدار حاصل کرنے کے لئے جنگ کی، لیکن اب ملک کو آگے لے جانا اور دنیا کے ساتھ چلنا بھی ان کے لئے ایک جنگ ہے۔ اس جنگ میں کامیابی و ناکامی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ان کا انداز حکمرانی 2001 سے پہلے والا ہوگا یا وہ 2021 میں جس تبدیلی کے ساتھ آئے ہیں، اس پر عمل کریں گے۔

امریکہ نے افغانستان سے انخلا مکمل کر لیا

تمام کشمکش اور تذبذب کے درمیان امریکہ نے آخر کار ڈیڈلائن سے کچھ وقت پہلے ہی افغانستان سے انخلا مکمل کر لیا۔ وہاں موجود آخری امریکی فوجی بھی رات 12 بجے سے پہلے ہی کابل ایئرپورٹ سے روانہ ہو گئے۔ کابل سے آخری امریکی پرواز کی روانگی کا اعلان طالبان نے کیا، جس کے فوراً بعد امریکی حکام نے تصدیق کی کہ امریکہ نے افغانستان سے انخلا مکمل کر لیا ہے۔

اس آخری پرواز کے ساتھ ہی 11 ستمبر کے حملوں کے بعد افغانستان میں شروع ہونے والی 20 سالہ امریکی مہم ختم ہو گئی۔ امریکہ کی طویل ترین جنگ میں لاکھوں افغان شہری، ہزاروں امریکی، ناٹو، و افغان فوجی اور پولیس اہلکار، 50 ہزار طالبان و دیگر امریکہ مخالف مزاحمت پسند ہلاک ہوئے۔ افغان جنگ کی نگرانی 4 امریکی صدور نے کی، جبکہ اس پر ایک اندازے کے مطابق 2 کھرب ڈالر خرچ ہوئے۔ پنٹا گون نے بھی امریکہ کا افغانستان سے انخلا مکمل ہونے کی تصدیق کردی ہے۔

امریکی فوج کے انخلا مکمل ہونے پر طالبان نے کہا ’ہم نے تاریخ رقم کردی‘۔ یقیناً یہ طالبان کے لئے کسی تاریخ سے کم نہیں ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے مکمل انخلا کے بعد اب باضابطہ طور پر افغانستان کی کمان طالبان کے ہاتھوں میں آ گئی ہے۔ لیکن افغانستان میں اقتدارپر قبضہ کرنا اور حکومت چلانا دونوں الگ الگ ہیں۔ سفارتی محاذ پر دنیا میں الگ تھلگ پڑے طالبان کے سامنے سب کو ساتھ لے کر چلنا بھی سب سے بڑا چیلنج ہے۔

طالبان کو افغان عوام کا اعتماد حاصل کرنا ہوگا

دنیا سے پہلے طالبان کو افغان عوام کا اعتماد حاصل کرنا ہوگا۔ 1996 سے 2001 کے دور اقتدار میں طالبان نے اپنی شدت پسند شبیہ کے سبب افغان عوام کے ساتھ دنیا کے اعتماد کو بھی متزلزل کیا تھا۔ اس اعتماد کو بحال کرنا طالبان کے لئے بڑا چیلنج ہے۔ اس کے ساتھ ہی افغانستان دنیا کے غریب ترین ملکوں کی فہرست میں کافی اوپر ہے۔

2001 میں طالبان کے اقتدار کے خاتمے کے بعد بڑی تعداد میں بیرون ملک سے امداد حاصل ہوئی۔ طالبان کی امریکہ میں موجود افغان سینٹرل بینک کے فنڈ تک رسائی نہیں ہے۔ ملک میں بجلی، پانی اور مواصلات جیسے اہم اور بنیادی ڈھانچے کو جاری رکھنا بھی ضروری ہے، جس کے لئے فنڈ ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ نے بھی افغانستان میں انسانی تباہی کا انتباہ جاری کیا ہے۔ اب دیکھنا ہوگا کہ طالبان کیسے اس صورت حال کا سامنا کرتے ہیں۔

وہیں دوسری جانب ماہر اور پیشہ ور افراد کی افغانستان سے ہجرت بھی ملک کے لئے نیک شگون نہیں ہے۔ جیسے ہی افغانستان سے امریکہ اور اتحادی افواج کے انخلا کا سلسلہ تیز ہوا، ملک کے نوکر شاہ، ڈاکٹر، انجینئر، بینکر، پروفیسر اور یہاں تک کہ طلبہ بھی طالبان کی آمد سے خوفزدہ ہو کر ملک چھوڑنے لگے۔ کسی بھی ملک کو ترقی کی راہ پر لے جانے میں ان افراد کا کلیدی کردار ہوتا ہے۔ اگر طالبان ان لوگوں میں اپنا اعتماد قائم نہیں کر سکے تو یہ افغانستان کے مستقبل کے لئے بہتر نہیں ہوگا۔

مزاحمتی گروپ کی موجودگی طالبان کے لئے ایک چیلنج

اس کے ساتھ ہی ابھی افغانستان میں مختلف مزاحمتی گروپ موجود ہیں۔ وہ بھی طالبان کے لئے ایک چیلنج ہیں۔ ان میں خاص طورپر پنجشیر کے شیر کے نام سے مشہور احمد مسعود کا نام سر فہرست ہے۔ حالانکہ مختلف خبروں کے درمیان افغان مزاحمتی تحریک کے رہنما احمد مسعود کا کہنا ہے کہ اگر طالبان طاقت کی تقسیم کے معاہدے پر راضی ہو جائیں تو وہ ان کے خلاف مزاحمت ختم کر دیں گے۔ احمد مسعود 1980 کی دہائی میں سوویت یونین کے خلاف لڑنے والے جنگجو کمانڈر احمد شاہ مسعود کے بیٹے ہیں، جو کابل کے شمال میں واقع وادی پنجشیر میں موجود ہیں۔

داعش کی سرگرمیاں اور ان کے ارادے ظاہر ہو چکے ہیں۔ کابل ہوائی اڈے پر جو خونریزی ہوئی ہے، اس نے افغان عوام ہی نہیں، خود طالبان کی پیشانی پر پریشانی کی لکیریں کھیچ دی ہیں۔ اس کے علاوہ عالمی برادری میں خود کو منظوری دلانے کے لئے طالبان کو تگ و دو کرنی ہوگی۔ اکثر ملکوں نے کابل میں اپنے سفارتخانوں اور ہائی کمیشنوں کو بند کر دیا ہے۔ اگر چہ بدلے رخ کے سبب پاکستان، روس، چین، ایران اور قطر جیسی علاقائی طاقتوں کے ساتھ فی الحال طالبان کے روابط قائم ہیں۔

افغانستان پر طالبان کے قبضہ کے بعد ہندوستان کی بات چیت

یہ الگ بات ہے کہ ابھی کسی نے طالبان کو با قاعدہ طور پر منظوری نہیں دی ہے۔ ادھر کافی کشمکش کے بعد اس سلسلہ میں ہندوستان کی جانب سے بھی پیش رفت ہوئی ہے۔ ہندوستان نے افغانستان پر طالبان کے قبضہ کے بعد پہلی بار ان سے بات چیت کی ہے۔ قطر میں ہندوستان کے سفیر دیپک متل طالبان قیادت کی گزارش پر دوحہ میں موجود سینئر طالبان لیڈر شیر محمد عباس سے ملاقات کی اور افغانستان کے دہشت گردوں کے لئے استعمال پر فکر مندی کا اظہار کیا۔ طالبان لیڈر نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ہندوستانی فکر مندی کو ملحوظ نظر رکھا جائے گا۔ ویسے بھی طالبان کے رخ میں شروع سے ہی تبدیلی نظر آ رہی ہے۔ اگرچہ ابھی یہ دیکھا جانا باقی ہے کہ وہ اپنے مثبت بیانات پر کتنا عمل کرتے ہیں۔

افغانستان جیسے ملک میں علاقائی اور عالمی طاقتیں پنجہ آزمائی کیوں کرتی ہیں؟

ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ نا مساعد حالات کے باوجود افغانستان جیسے ملک میں علاقائی اور عالمی طاقتیں پنجہ آزمائی کیوں کرتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس کی ایک اہم وجہ افغانستان میں زمین کے نیچے دفن بے پناہ دولت ہے۔ افغانستان میں سونے، تانبے کے ساتھ ساتھ بڑی مقدار میں لیتھیم بھی موجود ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ان کی قیمت ایک ٹریلین ڈالر سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ ملک کی ترقی و خوشحالی میں ان کا استعمال طالبان کس طرح کرتے ہیں، یہ دیکھنا ہوگا۔ کیا وہ یہاں موجود اس بے پناہ قدرتی دولت کا فائدہ اٹھا سکیں گے؟

سوویت اور امریکی سائنسدانوں کا دعویٰ ہے کہ افغانستان کی پہاڑیوں اور وادیوں میں تانبے، باکسائٹ، خام لوہے کے ساتھ ساتھ سونا اور سنگ مرمر جیسے بہت قیمتی معدنیات بھی موجود ہیں۔ اگر واقعی ان کا مناسب استعمال ہو جائے تو اس سے حاصل ہونے والی کمائی یہاں کے لوگوں کی زندگی بدل سکتی ہے۔ فی الحال عالمی طاقتوں کے قبضے اور ان کی مداخلت کے دوران افغانستان کی معیشت کی بنیاد قدرتی وسائل پر نہیں، بلکہ افیون پر ٹکی ہوئی ہے۔ بہر حال، طالبان اپنی اس کامیابی کے ثمر کو کیسے سمیٹیں گے اور سنبھالیں گے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ ابھی تک تو جو اشارے ملے ہیں ان سے بہتر کی امید کی جا سکتی ہے۔

(مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں)

امریکہ: ہائی اسکول میں فائرنگ سے طالب علم کی موت

0
امریکہ: ہائی اسکول میں فائرنگ سے طالب علم کی موت
امریکہ: ہائی اسکول میں فائرنگ سے طالب علم کی موت

حملہ آور طالب علم ابھی تک پولیس کی گرفت سے باہر ہے۔ واقعہ کے بعد اسکول کو بند کر دیا گیا ہے۔

واشنگٹن: امریکہ کے نارتھ کارولینا صوبہ کے ایک ہائی اسکول میں فائرنگ سے ایک طالب علم کی موت ہوگئی۔

ونسٹن سلیم پولیس سربراہ کترینہ تھامسن نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ بدھ کو شہر کے ماؤنٹ تابور ہائی اسکول میں فائرنگ سے ایک طالب علم زخمی ہوگیا۔ زخمی طالب علم کو فوری طور پر ویک فاریسٹ یونیورسٹی بپٹسٹ میڈیکل سینٹر لے جایا گیا، جہاں اس نے دم توڑ دیا۔

انہوں نے کہا کہ مشتبہ حملہ آور طالب علم ابھی تک پولیس کی گرفت سے باہر ہے۔ واقعہ کے بعد اسکول کو بند کر دیا گیا ہے۔

اس سے قبل پیر کے روز، ایک طالب علم کو ولیمنگٹن کے نیو ہینوور ہائی اسکول میں اسی طرح کے ایک واقعے میں گولی مار دی گئی تھی۔