جمعرات, مئی 21, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 311

افغانستان میں حجاب پہننے والی خواتین ہی تعلیم اور روزگار حاصل کر سکیں گی، افغان ثقافت کو تبدیل کرنے کی کوشش نہ کرے امریکہ: طالبان

0
افغانستان میں حجاب پہننے والی خواتین ہی تعلیم اور روزگار حاصل کر سکیں گی: طالبان
افغانستان میں حجاب پہننے والی خواتین ہی تعلیم اور روزگار حاصل کر سکیں گی: طالبان

طالبان نے کہا ہے کہ افغانستان میں حجاب پہننے والی خواتین کو ہی تعلیم اور کام (روزگار) کا حق ملے گا اور امریکہ کو ملکی ثقافت کو تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔

واشنگٹن: افغانستان پر قبضہ کرنے والے طالبان نے کہا ہے کہ ملک میں صرف حجاب پہننے والی خواتین کو ہی تعلیم اور کام (روزگار) کا حق ملے گا اور امریکہ کو ملکی ثقافت کو تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔

طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے جمعہ کی دیر رات ’فاکس نیوز‘ سے کہا ’’خواتین کے حقوق کے بارے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ ان کی تعلیم اور کام کے بارے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ ہماری ثقافت یہ ہے کہ وہ حجاب کے ساتھ تعلیم حاصل کرسکتی ہیں۔ وہ حجاب کے ساتھ کام کر سکتی ہیں‘‘۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ نے افغانستان سے خواتین کو بغیر حجاب کے کام کرنے اور تعلیم حاصل کرنے کے حقوق یقینی بنانے کی درخواست کی تھی، جو افغان ثقافت کو تبدیل کرنے کی کوشش تھی۔ تنظیم کے نقطہ نظر سے ناقابل قبول ہے۔

واضح رہے کہ طالبان نے ایک ہفتے تک افغانسان کے مختلف صوبوں پر حملوں اور قبضے کے بعد 15 اگست کو کابل میں انٹری کی، جس سے صدر اشرف غنی کو عہدے سے استعفیٰ دے کر ملک چھوڑنا پڑا اور امریکی حمایت یافتہ سرکار گر گئی ۔

اٹلی نے افغانستان میں پھر سے سفارتخانہ کھولنے کا کیا وعدہ: طالبان

0
اٹلی نے افغانستان میں پھر سے سفارتخانہ کھولنے کا کیا وعدہ: طالبان
اٹلی نے افغانستان میں پھر سے سفارتخانہ کھولنے کا کیا وعدہ: طالبان

افغانستان کے سیاسی دفتر نے اٹلی کے وزیر اعظم کے نمائندے کے ساتھ میٹنگ کی۔ اٹلی نے افغانستان میں اپنا سفارتخانہ پھر سے کھولنے کا وعدہ کیا ہے‘‘۔

ماسکو: طالبان کا کہنا ہے کہ اٹلی نے افغانستان کی راجدھانی کابل میں اپنا سفارتخانہ دوبارہ کھولنے کا وعدہ کیا ہے۔

طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان محمد نعیم نے جمعہ کو یہ بات کہی۔ انہوں نے ٹویٹ کیا ’’آج افغانستان کے سیاسی دفتر نے اٹلی کے وزیر اعظم (ماریو ڈریگی) کے نمائندے کے ساتھ میٹنگ کی۔ اٹلی نے افغانستان میں اپنا سفارتخانہ پھر سے کھولنے کا وعدہ کیا ہے‘‘۔

دنیا کے کئی دیگر ممالک کے ساتھ اٹلی نے بھی اگست کے وسط تک افغانستان میں طالبان کا کنٹرول ہونے کے بعد اس ایشیائی ملک سے اپنے سفارتی اہلکاروں، شہریوں اور اتحادیوں کو نکالنے کے لئے مہم شروع کی اور اپنا سفارتخانہ بند کیا۔ جاپان اور نیدر لینڈ جیسے کچھ ممالک نے اپنے سفارتخانوں کو افغانستان سے قطر کی راجدھانی دوحہ میں منتقل کردیا۔

کانگریس نے ذات پر مبنی مردم شماری سے متعلق امور کے لیے کمیٹی کی تشکیل کی

0
کانگریس نے ذات پر مبنی مردم شماری سے متعلق امور کے لیے کمیٹی کی تشکیل کی
کانگریس نے ذات پر مبنی مردم شماری سے متعلق امور کے لیے کمیٹی کی تشکیل کی

کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے ذات پر مبنی مردم شماری سے متعلق معاملات کو دیکھنے اور ان کے مطالعہ کے لیے اس کمیٹی کی تشکیل کی ہے

نئی دہلی: کانگریس نے سینئر رہنما ویرپّا موئیلی کی قیادت میں ذات پر مبنی مردم شماری سے متعلق امور کا مطالعہ کے لیے پارٹی کی سات رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔

کانگریس کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے جمعہ کے روز یہاں بتایا کہ پارٹی کی صدر سونیا گاندھی نے ذات کی مردم شماری سے متعلق معاملات کو دیکھنے اور ان کے مطالعہ کے لیے اس کمیٹی کی تشکیل کی ہے اور کمیٹی سے کہا گیا کہ وہ فوری اثر سے کام کرے۔

انہوں نے بتایا کہ مسٹر موئیلی کو کمیٹی کا کوآرڈینیٹر بنایا گیا ہے۔ کمیٹی میں ابھیشیک منو سنگھوی، سلمان خورشید، آر پی این سنگھ، موہن پرکاش، پی ایل پنیا اور کلدیپ وشنوئی شامل ہیں۔

بگ باس 13 کے فاتح سدھارتھ شکلا کا دل کا دورہ پڑنے سے انتقال

0
بگ باس 13 کے فاتح سدھارتھ شکلا کا دل کا دورہ پڑنے سے انتقال
بگ باس 13 کے فاتح سدھارتھ شکلا کا دل کا دورہ پڑنے سے انتقال

بتایا جا رہا ہے کہ سدھارتھ شکلا نے رات سونے سے پہلے دوا لی تھی لیکن دوائی کون سی لی تھی اس بارے میں کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔

ممبئی: ٹیلیویژن کے مشہور اداکار اور ‘بگ باس 13’ کے فاتح سدھارتھ شکلا کا انتقال ہوگیا۔ ان کی عمر 40 برس تھی۔

‘بگ باس ۔13’ کے فاتح سدھارتھ شکلا کا دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہوگیا۔

بتایا جا رہا ہے کہ سدھارتھ نے رات سونے سے پہلے دوا لی تھی لیکن دوائی کون سی لی تھی اس بارے میں کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔ سدھارتھ دوا لینے کے بعد صبح نہیں اٹھ سکے۔

سدھارتھ شکلا کی لاش فی الحال ممبئی کے کوپر اسپتال میں ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ پوسٹ مارٹم وہیں کیا جائے گا۔

سدھارتھ نے اپنے کیریئر کا آغاز سال 2008 میں ٹی وی شو ‘بابل کا آنگن چھوٹے نا’ سے کیا تھا۔

اس کے بعد وہ ‘جانے پہچانے سے اجنبی، سی آئی ڈی، بالیکا ودھو اور ‘لو یو زندگی’ جیسے ٹی وی شوز اور بہت سے ریئلٹی شوز میں نظر آئے۔

سدھارتھ نے فلم ‘ہمپٹی شرما کی دلہنیا’ میں بھی کام کیا تھا۔

افغانستان میں طالبان کے ہاتھوں برطانیہ اور سوویت یونین کے بعد اب امریکہ تیسری ناکام عالمی طاقت

0
افغانستان میں طالبان کے ہاتھوں برطانیہ اور سوویت یونین کے بعد اب امریکہ تیسری ناکام عالمی طاقت
افغانستان میں طالبان کے ہاتھوں برطانیہ اور سوویت یونین کے بعد اب امریکہ تیسری ناکام عالمی طاقت

برطانیہ اور سوویت یونین کے بعد امریکہ تیسری عالمی طاقت ہے، جو افغانستان سے اپنی پیشانی پر ناکامی کا داغ لے کر واپس لوٹا ہے

تحریر: ڈاکٹر یامین انصاری

افغانستان میں 20 سال کے بعد پھر طالبان کی واپسی ہو گئی۔ امریکہ ایک لا حاصل جنگ کے خاتمے کے بعد یہاں سے روانہ ہو گیا، لیکن وہ اپنی ناکامی اور رسوائی کی ایک لمبی داستان پیچھے چھوڑ گیا۔ یہ ایک عجیب اتفاق ہے کہ جس وہائٹ ہاؤس سے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے 2001 میں افغانستان پر حملے کا اعلان کیا تھا، 20 برس کے بعد اُسی وہائٹ ہاؤس سے امریکی صدر جو بائیڈن 12 اگست 2021 کو اس امکان کا اظہار کر رہے تھے کہ طالبان تین ماہ کے اندر کابل پہنچ سکتے ہیں۔ اگرچہ طالبان نے تین دن میں ہی کابل پر اپنا پرچم لہرا دیا۔

برطانیہ اور سوویت یونین کے بعد امریکہ تیسری عالمی طاقت ہے، جو افغانستان سے اپنی پیشانی پر ناکامی کا داغ لے کر نکلا ہے۔ لہذا سوال پیدا ہوتا ہے کہ دنیا کی تمام بڑی طاقتیں افغانستان کو جیتنے کی کوشش میں ناکام کیوں ثابت ہوئی ہیں؟ دنیا بھر کے تجزیہ کار اور ماہرین اس امر پر غور و خوض کرنے پر مجبور ہیں۔ وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اتنی غربت اور مفلسی کے باوجود آخر افغان قوم کیسے عالمی طاقتوں سے لوہا لیتی رہی ہے اور انہیں شکست سے دو چار کیا ہے۔

مختلف قسم کے شبہات اور خدشات کو دور کرنا بھی طالبان کی ایک بڑی ذمہ داری

یہ الگ بات ہے کہ اب افغانستان کی کمان جن ہاتھوں میں آئی ہے، ان پر دنیا کو مختلف قسم کے شبہات اور خدشات ہیں۔ اب ان تحفظات کو دور کرنا بھی طالبان کی ایک بڑی ذمہ داری ہے۔ اسی لئے اب یہ سوال زیادہ اہم ہو جاتا ہے کہ آخر طالبان جس وعدے اور دعوے کے ساتھ واپس آئے ہیں، اس کو کس حد تک اور کیسے پورا کر پائیں گے؟ ابھی تک طالبان نے اقتدار حاصل کرنے کے لئے جنگ کی، لیکن اب ملک کو آگے لے جانا اور دنیا کے ساتھ چلنا بھی ان کے لئے ایک جنگ ہے۔ اس جنگ میں کامیابی و ناکامی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ان کا انداز حکمرانی 2001 سے پہلے والا ہوگا یا وہ 2021 میں جس تبدیلی کے ساتھ آئے ہیں، اس پر عمل کریں گے۔

امریکہ نے افغانستان سے انخلا مکمل کر لیا

تمام کشمکش اور تذبذب کے درمیان امریکہ نے آخر کار ڈیڈلائن سے کچھ وقت پہلے ہی افغانستان سے انخلا مکمل کر لیا۔ وہاں موجود آخری امریکی فوجی بھی رات 12 بجے سے پہلے ہی کابل ایئرپورٹ سے روانہ ہو گئے۔ کابل سے آخری امریکی پرواز کی روانگی کا اعلان طالبان نے کیا، جس کے فوراً بعد امریکی حکام نے تصدیق کی کہ امریکہ نے افغانستان سے انخلا مکمل کر لیا ہے۔

اس آخری پرواز کے ساتھ ہی 11 ستمبر کے حملوں کے بعد افغانستان میں شروع ہونے والی 20 سالہ امریکی مہم ختم ہو گئی۔ امریکہ کی طویل ترین جنگ میں لاکھوں افغان شہری، ہزاروں امریکی، ناٹو، و افغان فوجی اور پولیس اہلکار، 50 ہزار طالبان و دیگر امریکہ مخالف مزاحمت پسند ہلاک ہوئے۔ افغان جنگ کی نگرانی 4 امریکی صدور نے کی، جبکہ اس پر ایک اندازے کے مطابق 2 کھرب ڈالر خرچ ہوئے۔ پنٹا گون نے بھی امریکہ کا افغانستان سے انخلا مکمل ہونے کی تصدیق کردی ہے۔

امریکی فوج کے انخلا مکمل ہونے پر طالبان نے کہا ’ہم نے تاریخ رقم کردی‘۔ یقیناً یہ طالبان کے لئے کسی تاریخ سے کم نہیں ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے مکمل انخلا کے بعد اب باضابطہ طور پر افغانستان کی کمان طالبان کے ہاتھوں میں آ گئی ہے۔ لیکن افغانستان میں اقتدارپر قبضہ کرنا اور حکومت چلانا دونوں الگ الگ ہیں۔ سفارتی محاذ پر دنیا میں الگ تھلگ پڑے طالبان کے سامنے سب کو ساتھ لے کر چلنا بھی سب سے بڑا چیلنج ہے۔

طالبان کو افغان عوام کا اعتماد حاصل کرنا ہوگا

دنیا سے پہلے طالبان کو افغان عوام کا اعتماد حاصل کرنا ہوگا۔ 1996 سے 2001 کے دور اقتدار میں طالبان نے اپنی شدت پسند شبیہ کے سبب افغان عوام کے ساتھ دنیا کے اعتماد کو بھی متزلزل کیا تھا۔ اس اعتماد کو بحال کرنا طالبان کے لئے بڑا چیلنج ہے۔ اس کے ساتھ ہی افغانستان دنیا کے غریب ترین ملکوں کی فہرست میں کافی اوپر ہے۔

2001 میں طالبان کے اقتدار کے خاتمے کے بعد بڑی تعداد میں بیرون ملک سے امداد حاصل ہوئی۔ طالبان کی امریکہ میں موجود افغان سینٹرل بینک کے فنڈ تک رسائی نہیں ہے۔ ملک میں بجلی، پانی اور مواصلات جیسے اہم اور بنیادی ڈھانچے کو جاری رکھنا بھی ضروری ہے، جس کے لئے فنڈ ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ نے بھی افغانستان میں انسانی تباہی کا انتباہ جاری کیا ہے۔ اب دیکھنا ہوگا کہ طالبان کیسے اس صورت حال کا سامنا کرتے ہیں۔

وہیں دوسری جانب ماہر اور پیشہ ور افراد کی افغانستان سے ہجرت بھی ملک کے لئے نیک شگون نہیں ہے۔ جیسے ہی افغانستان سے امریکہ اور اتحادی افواج کے انخلا کا سلسلہ تیز ہوا، ملک کے نوکر شاہ، ڈاکٹر، انجینئر، بینکر، پروفیسر اور یہاں تک کہ طلبہ بھی طالبان کی آمد سے خوفزدہ ہو کر ملک چھوڑنے لگے۔ کسی بھی ملک کو ترقی کی راہ پر لے جانے میں ان افراد کا کلیدی کردار ہوتا ہے۔ اگر طالبان ان لوگوں میں اپنا اعتماد قائم نہیں کر سکے تو یہ افغانستان کے مستقبل کے لئے بہتر نہیں ہوگا۔

مزاحمتی گروپ کی موجودگی طالبان کے لئے ایک چیلنج

اس کے ساتھ ہی ابھی افغانستان میں مختلف مزاحمتی گروپ موجود ہیں۔ وہ بھی طالبان کے لئے ایک چیلنج ہیں۔ ان میں خاص طورپر پنجشیر کے شیر کے نام سے مشہور احمد مسعود کا نام سر فہرست ہے۔ حالانکہ مختلف خبروں کے درمیان افغان مزاحمتی تحریک کے رہنما احمد مسعود کا کہنا ہے کہ اگر طالبان طاقت کی تقسیم کے معاہدے پر راضی ہو جائیں تو وہ ان کے خلاف مزاحمت ختم کر دیں گے۔ احمد مسعود 1980 کی دہائی میں سوویت یونین کے خلاف لڑنے والے جنگجو کمانڈر احمد شاہ مسعود کے بیٹے ہیں، جو کابل کے شمال میں واقع وادی پنجشیر میں موجود ہیں۔

داعش کی سرگرمیاں اور ان کے ارادے ظاہر ہو چکے ہیں۔ کابل ہوائی اڈے پر جو خونریزی ہوئی ہے، اس نے افغان عوام ہی نہیں، خود طالبان کی پیشانی پر پریشانی کی لکیریں کھیچ دی ہیں۔ اس کے علاوہ عالمی برادری میں خود کو منظوری دلانے کے لئے طالبان کو تگ و دو کرنی ہوگی۔ اکثر ملکوں نے کابل میں اپنے سفارتخانوں اور ہائی کمیشنوں کو بند کر دیا ہے۔ اگر چہ بدلے رخ کے سبب پاکستان، روس، چین، ایران اور قطر جیسی علاقائی طاقتوں کے ساتھ فی الحال طالبان کے روابط قائم ہیں۔

افغانستان پر طالبان کے قبضہ کے بعد ہندوستان کی بات چیت

یہ الگ بات ہے کہ ابھی کسی نے طالبان کو با قاعدہ طور پر منظوری نہیں دی ہے۔ ادھر کافی کشمکش کے بعد اس سلسلہ میں ہندوستان کی جانب سے بھی پیش رفت ہوئی ہے۔ ہندوستان نے افغانستان پر طالبان کے قبضہ کے بعد پہلی بار ان سے بات چیت کی ہے۔ قطر میں ہندوستان کے سفیر دیپک متل طالبان قیادت کی گزارش پر دوحہ میں موجود سینئر طالبان لیڈر شیر محمد عباس سے ملاقات کی اور افغانستان کے دہشت گردوں کے لئے استعمال پر فکر مندی کا اظہار کیا۔ طالبان لیڈر نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ہندوستانی فکر مندی کو ملحوظ نظر رکھا جائے گا۔ ویسے بھی طالبان کے رخ میں شروع سے ہی تبدیلی نظر آ رہی ہے۔ اگرچہ ابھی یہ دیکھا جانا باقی ہے کہ وہ اپنے مثبت بیانات پر کتنا عمل کرتے ہیں۔

افغانستان جیسے ملک میں علاقائی اور عالمی طاقتیں پنجہ آزمائی کیوں کرتی ہیں؟

ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ نا مساعد حالات کے باوجود افغانستان جیسے ملک میں علاقائی اور عالمی طاقتیں پنجہ آزمائی کیوں کرتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس کی ایک اہم وجہ افغانستان میں زمین کے نیچے دفن بے پناہ دولت ہے۔ افغانستان میں سونے، تانبے کے ساتھ ساتھ بڑی مقدار میں لیتھیم بھی موجود ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ان کی قیمت ایک ٹریلین ڈالر سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ ملک کی ترقی و خوشحالی میں ان کا استعمال طالبان کس طرح کرتے ہیں، یہ دیکھنا ہوگا۔ کیا وہ یہاں موجود اس بے پناہ قدرتی دولت کا فائدہ اٹھا سکیں گے؟

سوویت اور امریکی سائنسدانوں کا دعویٰ ہے کہ افغانستان کی پہاڑیوں اور وادیوں میں تانبے، باکسائٹ، خام لوہے کے ساتھ ساتھ سونا اور سنگ مرمر جیسے بہت قیمتی معدنیات بھی موجود ہیں۔ اگر واقعی ان کا مناسب استعمال ہو جائے تو اس سے حاصل ہونے والی کمائی یہاں کے لوگوں کی زندگی بدل سکتی ہے۔ فی الحال عالمی طاقتوں کے قبضے اور ان کی مداخلت کے دوران افغانستان کی معیشت کی بنیاد قدرتی وسائل پر نہیں، بلکہ افیون پر ٹکی ہوئی ہے۔ بہر حال، طالبان اپنی اس کامیابی کے ثمر کو کیسے سمیٹیں گے اور سنبھالیں گے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ ابھی تک تو جو اشارے ملے ہیں ان سے بہتر کی امید کی جا سکتی ہے۔

(مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں)

امریکہ: ہائی اسکول میں فائرنگ سے طالب علم کی موت

0
امریکہ: ہائی اسکول میں فائرنگ سے طالب علم کی موت
امریکہ: ہائی اسکول میں فائرنگ سے طالب علم کی موت

حملہ آور طالب علم ابھی تک پولیس کی گرفت سے باہر ہے۔ واقعہ کے بعد اسکول کو بند کر دیا گیا ہے۔

واشنگٹن: امریکہ کے نارتھ کارولینا صوبہ کے ایک ہائی اسکول میں فائرنگ سے ایک طالب علم کی موت ہوگئی۔

ونسٹن سلیم پولیس سربراہ کترینہ تھامسن نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ بدھ کو شہر کے ماؤنٹ تابور ہائی اسکول میں فائرنگ سے ایک طالب علم زخمی ہوگیا۔ زخمی طالب علم کو فوری طور پر ویک فاریسٹ یونیورسٹی بپٹسٹ میڈیکل سینٹر لے جایا گیا، جہاں اس نے دم توڑ دیا۔

انہوں نے کہا کہ مشتبہ حملہ آور طالب علم ابھی تک پولیس کی گرفت سے باہر ہے۔ واقعہ کے بعد اسکول کو بند کر دیا گیا ہے۔

اس سے قبل پیر کے روز، ایک طالب علم کو ولیمنگٹن کے نیو ہینوور ہائی اسکول میں اسی طرح کے ایک واقعے میں گولی مار دی گئی تھی۔

سینئر صحافی چندن مترا کے انتقال پر صدر کا اظہار تعزیت

0
سینئر صحافی چندن مترا کے انتقال پر صدر کا اظہار تعزیت
سینئر صحافی چندن مترا کے انتقال پر صدر کا اظہار تعزیت

صدر جمہوریہ نے سینئر صحافی چندن مترا کے انتقال پر گہرے رنج کا اظہار کیا ہے۔

نئی دہلی: صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند نے سینئر صحافی چندن مترا کے انتقال پر گہرے رنج کا اظہار کیا ہے۔

مسٹر کووند نے جمعرات کو ٹویٹ کرکے کہا ’’مسٹر چندن مترا ایک بہترین صحافی تھے اور ایک ممبر پارلیمنٹ کے طور پر ان کی مدت کار نے ان کی صلاحیت میں اضافہ کیا‘‘۔

انہوں نے کہا ’’ہندی زبان کی ریاستوں اور ان کی تاریخ پر ان کی مضبوط گرفت تھی۔ ان کے انتقال سے ہندوستانی صحافتی دنیا میں ایک خلا پیدا ہوگیا ہے۔ ان کے کنبے اور دوستوں کے تئیں میری دلی تعزیت‘‘۔

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 15-15 پیسے کی کمی

0
پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 15-15 پیسے کی کمی
پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 15-15 پیسے کی کمی

آج دہلی میں انڈین آئل کے پمپ پر پٹرول 101.34 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 88.77 روپے فی لیٹر رہا۔

نئی دہلی: بین الاقوامی بازار میں تیل کی قیمتوں میں نرمی کے باوجود آج دہلی میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ کل ان کی قیمتوں میں سات دن کے بعد 15-15 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی تھی۔

آج دہلی میں انڈین آئل کے پمپ پر پٹرول 101.34 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 88.77 روپے فی لیٹر رہا۔ آئل مارکیٹنگ کمپنی انڈین آئل کارپوریشن کے مطابق دہلی میں پٹرول 101.34 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 88.77 روپے فی لیٹر رہا۔

گزشتہ روز بین الاقوامی بازار میں بریٹ کروڈ 1.30 ڈالر فی بیرل گر کر 71.69 ڈالر فی بیرل اور ڈبلیو ٹی آئی کروڈ 0.81 ڈالر کم ہوکر 67.59 ڈالر فی بیرل رہا۔

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا روزانہ جائزہ لیا جاتا ہے اور اسی بنیاد پر ہر روز صبح 6 بجے سے نئی قیمتوں کا اطلاق ہوتا ہے۔

شہر کا نام ——— پٹرول —————    ڈیزل 

دہلی ————— 101.34 —————— 88.77

ممبئی ————— 107.39 —————— 96.33

چنئی ————— 99.08 -—————- 93.38

کولکتہ ———— 101.77 —————— 91.84

افغانستان: طالبان اور نامعلوم بندوق برداروں کے درمیان تصادم، 4 لوگوں کی موت، پانچ زخمی

0
افغانستان: طالبان اور نامعلوم بندوق برداروں کے درمیان تصادم، 4 لوگوں کی موت، پانچ زخمی
افغانستان: طالبان اور نامعلوم بندوق برداروں کے درمیان تصادم، 4 لوگوں کی موت، پانچ زخمی

افغانستان کے پروان صوبے میں تصادم میں 4 لوگوں کی موت، پانچ زخمی ہوگئے۔ افغانستان سے امریکی اور اتحادی فورسز کی مکمل واپسی کے بعد اس ملک پر طالبان کا کنٹرول ہوگیا ہے۔

کابل: افغانستان کے پروان صوبے میں طالبان اور نامعلوم بندوق برداروں کے درمیان تصادم میں چار لوگوں کی موت اور پانچ دیگر زخمی ہوگئے۔

ذرائع نے بتایا کہ زخمیوں کو نزدیکی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ ابھی اس بات کا پتہ نہیں چلا ہے کہ مہلوکین میں کوئی طالبانی رکن ہے یا نہیں۔

واضح رہے کہ افغانستان سے امریکی اور اتحادی فورسز کی مکمل واپسی کے بعد اس ملک پر طالبان کا کنٹرول ہوگیا ہے۔

گائے کو قومی جانور قرار دیا جائے اور گائے کا تحفظ ہندؤں کا بنیادی حق ہونا چاہیے: الہ آباد ہائی کورٹ

0
گائے کو قومی جانور قرار دیا جائے اور گائے کا تحفظ ہندؤں کا بنیادی حق ہونا چاہیے: الہ آباد ہائی کورٹ
گائے کو قومی جانور قرار دیا جائے اور گائے کا تحفظ ہندؤں کا بنیادی حق ہونا چاہیے: الہ آباد ہائی کورٹ

الہ آباد ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ مرکزی حکومت کو یہ تجویز دی کہ گائے کو قومی جانور قرار دیا جائے اور اس کے تحفظ کو ہندؤں کا بنیادی حق قرار دیا جائے۔

پریاگ راج: الہ آباد ہائی کورٹ نے گئو کشی کے ایک معاملے میں داخل ضمانت کی عرضی پر سماعت کے دوران سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مرکزی حکومت کو یہ تجویز دی کہ گائے کو قومی جانور قرار دیا جائے اور اس کے تحفظ کو ہندؤں کا بنیادی حق قرار دیا جائے۔

الہ آباد ہائی کورٹ جاوید نامی ایک ملزم کی ضمانت کی عرضی پر سماعت کررہا تھا۔ جاوید پر گئو کشی کا الزام ہے۔ معاملے کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس شیکھر یادو نے آج اپنے سخت تبصرے میں مزید کہا کہ ’ہم جانتے ہیں کہ جب کسی ملک کے تہذیب و ثقافت اور اس کے عقیدے کو نقصان پہنچایا جاتا ہے تو ملک کمزور ہوجاتا ہے‘۔

جسٹس شیکھر یادو نے جاوید کی ضمانت کی عرض کو خارج کرتے ہوئے کہا کہ جاوید نے گائے کی چوری کے بعد اس کو ذبح کیا ہے اورا س کا گوشت بھی اس کے پاس ملا ہے۔ یہ ملزم کا پہلا گناہ نہیں ہے اس سے پہلے بھی وہ ایسا عمل سرزد کر چکا ہے اور گائے ذبیحہ کی وجہ سے سماجی ہم آہنگی کو زک پہنچا ہے۔ کورٹ کا ماننا ہے کہ اگر ایسے افراد کو ضمانت دی گئی تو باہر جاکر وہ پھر ایسے ہی عمل کا ارتکاب کریں گے اور اس سے سماجی ماحول کو نقصان پہنچے گا۔

ملزم کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 379 اور انسداد گئو کشی ایکٹ کی سیکشن 3،5،8 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔