جمعرات, مئی 21, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 309

گھر گھر ٹیکہ کاری کی ہدایت دینے سے سپریم کورٹ نے کیا انکار

0
گھر گھر ٹیکہ کاری کی ہدایت دینے سے سپریم کورٹ نے کیا انکار
گھر گھر ٹیکہ کاری کی ہدایت دینے سے سپریم کورٹ نے کیا انکار

سپریم کورٹ نے گھر گھر جا کر کورونا مخالف ٹیکہ کاری کی ہدایت دینے سے انکار کر دیا۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے گھر گھر جا کر کورونا مخالف ٹیکہ کاری کی ہدایت دینے سے بدھ کے روز انکار کر دیا۔

جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے یوتھ بار ایسوسی ایشن آف انڈیا کی طرف سے دائر عرضی کو مسترد کردیا اور عرضی گزار کو اپنا مشورہ وزارت صحت اور خاندانی بہبود کے سامنے رکھنے کی چھوٹ دی۔

بینچ نے کہا کہ ممکن ہے کہ عرضی گزار کی جانب سے وزارت صحت اور خاندانی بہبود کو تجویز پیش کرنا فائدہ مند ہو۔

عرضی گزار نے اپنی درخواست میں کہا تھا کہ تمام شہریوں، بالخصوص معذوروں، بزرگوں، پسماندہ افراد، کمزور طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد اور آن لائن رجسٹریشن کرانے والے لوگوں کے لیے گھر گھر ٹیکہ کاری کے انتظامات کیے جائیں۔

ایڈووکیٹ پروٹیکشن ایکٹ کے نفاذ کے لیے وکلاء نے آج اپنا عدالتی کام کاج بند رکھا

0
ایڈووکیٹ پروٹیکشن ایکٹ کے نفاذ کے لیے وکلاء نے آج اپنا عدالتی کام کاج بند رکھا
ایڈووکیٹ پروٹیکشن ایکٹ کے نفاذ کے لیے وکلاء نے آج اپنا عدالتی کام کاج بند رکھا

راجستھان کے اجمیر میں ریاست گیر کال کے تحت ضلع کے تمام عدالتوں سے وابستہ وکلاء نے عدالتی کام معطل کیا اور عدالت کے احاطے میں ایک ساتھ جمع ہو کر ایڈووکیٹ پروٹیکشن ایکٹ نافذ کرنے کا مطالبہ کیا۔

اجمیر: راجستھان کے اجمیر میں ریاست گیر کال کے تحت ضلع کے تمام عدالتوں سے وابستہ وکلاء آج ہڑتال پر تھے اور ایڈووکیٹ پروٹیکشن ایکٹ کے نفاذ کے مطالبے کے لیے اپنا عدالتی کام بند کر دیا۔

اجمیر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر موہن سنگھ راٹھوڑ اور راجستھان ریونیو ایڈوکیٹس ایسوسی ایشن کے صدر سریندر کمار شرما کی قیادت میں اجمیر ڈسٹرکٹ بار سے وابستہ عدالتوں کے وکلاء اور ریونیو بار سے وابستہ وکلاء نے عدالتی کام معطل کیا اور عدالت کے احاطے میں ایک ساتھ جمع ہو کر ایڈووکیٹ پروٹیکشن ایکٹ نافذ کرنے کا مطالبہ کیا۔

سیشن کورٹ اور ریونیو ڈویژن سے منسلک اجمیر ضلع کے کیکری، کشن گڑھ، بیاور، پشکر، نصیر آباد وغیرہ میں وکلا کے اپنا کام کاج بند رکھنے کی بھی اطلاعات ہیں۔

بار کے صدر موہن سنگھ راٹھوڑ نے بتایا کہ ریاستی حکومت کی طرف سے کئی یادداشتوں کے ذریعے ایڈووکیٹ پروٹیکشن ایکٹ پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ کیونکہ کئی بار وکلاء کو سنگین حالات سے نمٹنا پڑتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اگر آج ہمارے احتجاج کے باوجود حکومت نہیں جاگی تو اس مانسون سیشن میں ایم ایل اے سے اسمبلی میں رابطہ کیا جائے گا تاکہ ان کا مطالبہ پورا کیا جا سکے۔

پٹنہ: کانگریس کے سینئر لیڈر سدانند سنگھ کا انتقال

0
پٹنہ: کانگریس کے سینئر لیڈر سدانند سنگھ کا انتقال
پٹنہ: کانگریس کے سینئر لیڈر سدانند سنگھ کا انتقال

بہار اسمبلی کے سابق صدر اور کانگریس کے سینئر لیڈر سدانند سنگھ کا آج صبح انتقال ہوگیا۔ وہ بھاگلپور ضلع کے کہلگاؤں اسمبلی حلقے سے مسلسل 9 بار رکن اسمبلی منتخب ہوئے۔

پٹنہ/ بھاگلپور: بہار اسمبلی کے سابق صدر اور کانگریس کے سینئر لیڈر سدانند سنگھ کا آج صبح انتقال ہوگیا۔ وہ تقریباً 84 برس کے تھے۔

آنجہانی کے بیٹے شبھانند مکیش نے بدھ کے روز بتایا کہ ان کے والد طویل عرصے سے علیل تھے۔ طبیعت زیادہ بگڑنے پر انہیں علاج کے لئے راجدھانی پٹنہ کے ایک اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا، جہاں آج صبح ان کا انتقال ہوگیا۔

واضح رہے کہ مسٹر سنگھ کا سیاسی سفر کافی طویل رہا۔ وہ بھاگلپور ضلع کے کہلگاؤں اسمبلی حلقے سے مسلسل 9 بار رکن اسمبلی منتخب ہوئے۔ وہ سابق وزیر اعلی جگن ناتھ مشرا کی حکومت میں سنچائی کے وزیر بھی رہے تھے۔

امریکہ کا طالبان کابینہ کے ارکان کے ٹریک ریکارڈ پر اظہار تشویش

0
امریکہ کا طالبان کابینہ کے ارکان کے ٹریک ریکارڈ پر اظہار تشویش
امریکہ کا طالبان کابینہ کے ارکان کے ٹریک ریکارڈ پر اظہار تشویش

امریکہ نے افغانستان میں عبوری حکومت بنانے والی ایک شدت پسند تنظیم، طالبان کے کئی نئے اعلان شدہ کابینہ ارکان کی وابستگی اور ’ٹریک ریکارڈ‘ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

واشنگٹن: امریکہ نے افغانستان میں عبوری حکومت بنانے والی ایک شدت پسند تنظیم، طالبان کے کئی نئے اعلان شدہ کابینہ ارکان کی وابستگی اور ’ٹریک ریکارڈ‘ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

محکمہ خارجہ کے ایک ترجمان نے منگل کے روز یہ اطلاع دی۔ ترجمان نے ایک بیان میں کہا ’’ہم نے غور کیا ہے کہ ناموں کی اعلان کردہ فہرست میں خاص طور پر بہت سے افراد شامل ہیں۔ جو طالبان کے رکن یا ان کے قریبی ساتھی ہیں اور ان میں کوئی خاتون شامل نہیں ہے۔ ہم کچھ افراد کی وابستگی اور ٹریک ریکارڈ کے بارے میں بھی فکر مند ہیں۔

واضح رہے کہ طالبان نے کل ملا محمد حسن اخوند کی قیادت میں اپنی نگران حکومت بنانے کا اعلان کیا تھا جس پر اقوام متحدہ نے 2001 سے پابندی عائد کر رکھی ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے یہ بھی کہا کہ جو بائیڈن انتظامیہ سمجھتی ہے کہ طالبان کابینہ کو ایک عارضی نگراں حکومت کے طور پر پیش کیا گیا ہے، لیکن اس گروپ کا فیصلہ ان کے کاموں کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ امریکی عہدیدار نے کہا کہ ہم نے اپنی امید واضح کر دی ہے کہ افغان عوام ایک شمولیاتی حکومت کے مستحق ہیں۔ امریکہ طالبان کو غیر ملکی شہریوں اور افغان اتحادیوں کو ملک چھوڑنے کے لیے محفوظ راستہ فراہم کرنے کی ان کی عہد بستگی پر قائم رکھے گا۔

ترجمان نے کہا کہ امریکہ نے اس توقع کو بھی دہرایا ہے کہ طالبان ملک کو دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ بننے سے روکیں گے اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ افغانستان میں انسانی امداد کی اجازت دی جائے۔

دفاعی خرید کی مشکلات ہوں گی دور، فوجی افسران کے مالیاتی افسران میں اضافہ

0
دفاعی خرید کی مشکلات ہوں گی دور، فوجی افسران کے مالیاتی افسران میں اضافہ
دفاعی خرید کی مشکلات ہوں گی دور، فوجی افسران کے مالیاتی افسران میں اضافہ

حکومت نے فوج میں فیصلہ سازی کے عمل کو تیز کرنے اور فوجی تیاری کو بہتر بنانے کے لیے دفاعی خدمات کے مالیاتی افسران میں اضافہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

نئی دہلی: حکومت نے فوجیوں میں فیصلہ کرنے کے عمل کو تیز کرنے اور فوجی تیاریوں کو بہتر بنانے کے لیے دفاعی خدمات کے مالیاتی افسران میں اضافہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے منگل کے روز اس بابت آرڈر ڈی ایف پی ڈی ایس 2021 جاری کرتے ہوئے کہا کہ اس سے فوج کی فیلڈ آپریشن کو مستحکم کرنے، آپریشن تیاریوں پر توجہ مرکوز کروانے، تجارتی سہولت کو فروغ دینے اور فوجیوں کے درمیان باہم ربط و ضبط کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ اس سروس ہیڈکوارٹر اور فارمیشنوں کی سطح پر موجودہ وسائل کا بہتر استعمال ہوگا۔ منصوبوں اور تیاریوں کے بارے میں جلد فیصلے کیے جا سکیں گے۔ ساتھ ہی اس سے فوجیوں کی جنگ سے متعلق ضرورتوں کو بھی پورا کیا جا سکے گا۔ فوجیوں میں مختلف سطح پر مالیاتی افسران میں فروغ سنہ 2016 میں کیا گیا تھا۔

مسٹر سنگھ نے کہا کہ ڈی ایف پی ڈی ایس 2021 حکومت کی جانب سے دفاع کے شعبے میں کیے جانے والے اصلاحات کی سمت میں بڑا قدم ہے جس سے ملک میں سیکیورٹی سسٹم کو مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے مسلح افواج کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے متعلقہ پالیسیز کا جائزہ لینے پر زور دیا اور یقین کا اظہار کیا کہ اس اصلاح کے بعد محض عمل میں لگنے والے وقت میں کمی آئے گی بلکہ افسران کا ڈی سینٹرلائزیشن ہوگا اور آپریشن کی صلاحیت بھی بڑھے گی۔

کسان تحریک: رپورٹ عام کرنے کی بابت چیف جسٹس آف انڈیا کو خط

0
کسان تحریک: رپورٹ عام کرنے کی بابت چیف جسٹس آف انڈیا کو خط
کسان تحریک: رپورٹ عام کرنے کی بابت چیف جسٹس آف انڈیا کو خط

زرعی قوانین کا جائزہ لینے کے لیے سپریم کورٹ کی جانب سے تشکیل کمیٹی کے ایک رکن نے ہندوستان کے چیف جسٹس آف انڈیا سے کمیٹی کی متعلقہ رپورٹ کو عام کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

نئی دہلی: مودی حکومت کے تین زرعی قوانین کا جائزہ لینے کے لیے سپریم کورٹ کی جانب سے تشکیل کمیٹی کے ایک رکن نے ہندوستان کے چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) این وی رمن سے کمیٹی کی متعلقہ رپورٹ کو عام کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

کمیٹی میں شامل رکن اور شیتکاری تنظیم کے صدر انل جے سنگھ گھنوت نے سی جے آئی کو ایک خط لکھ کر کہا ہے کہ انھیں افسوس ہے کہ کمیٹی کی رپورٹ پر عدالت عظمیٰ نے کوئی توجہ نہیں دی۔

انہوں نے لکھا ہے کہ گذشتہ جنوری میں سپریم کورٹ نے تینوں زرعی قوانین پر عمل درآمد کرنے پر اسٹے کرتے ہوئے ان کے مختلف پہلو پر غور و خوض کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی، جس میں انھیں بھی شامل کیا گیا تھا۔ کمیٹی کو اپنی رپورٹ پیش کرنے کے لیے دو ماہ کا وقت دیا گیا تھا لیکن کمیٹی نے وقت سے پہلے ہی رپورٹ پیش کر دی تھی۔

مسٹر گھنوت نے کہا کہ کمیٹی کی رپورٹ میں کسانوں کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچانے کے ارادے سے تمام اسٹیک ہولڈر کے غور و فکر اور مشورے اس میں شامل کیے گئے تھے اور کمیٹی کو پورا یقین تھا کہ اس کی رپورٹ کسانوں کی تحریک کے حل کا راستہ ہموار کرے گی۔

سپریم کورٹ نے متعلقہ رپورٹ پر کوئی توجہ نہیں دی ہے

مسٹر گھنوت نے لکھا ہے، ’کمیٹی کے رکن کے طور پر مجھے اس بات کی بہت تکلیف ہے کہ کسانوں کے مسائل کا حل ابھی تک نہیں ہوا ہے اور تحریک جاری ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ سپریم کورٹ نے متعلقہ رپورٹ پر کوئی توجہ نہیں دی ہے‘۔

انہوں نے کہا، ’میری سپریم کورٹ سے درخواست ہے کہ وہ کسانوں کے مسائل کے قابل اطمینان حل اور تحریک کے پرامن حل کے لیے کمیٹی کی رپوٹ عام کرے تاکہ اس کی سفارشات پر عمل کیا جا سکے‘۔

حکومت طلبا کے نیٹ امتحان کو ملتوی کرنے کی مانگ پر توجہ دے: راہل ۔ پرینکا

0
حکومت طلبا کے نیٹ امتحان کو ملتوی کرنے کی مانگ پر توجہ دے: راہل ۔ پرینکا
حکومت طلبا کے نیٹ امتحان کو ملتوی کرنے کی مانگ پر توجہ دے: راہل ۔ پرینکا

نیٹ امتحان 12 ستمبر کو ہونا ہے اور اسی دن سی بی آئی کا بھی ایک پیپر ہے۔ طلبا کی مانگ ہے کہ انکی دقت کا خیال رکھتے ہوئے نیٹ امتحان کی تاریخ تبدیل کی جانی چاہئے۔

نئی دہلی: کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی اور پارٹی اترپردیش کی انچارج جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے کہا کہ نیشنل ایلجبلیٹی اینٹرنس ٹیسٹ (نیٹ امتحان) کو ملتوی کرنے کی طلبا کی مانگ مناسب ہے اور حکومت کو ان کی بات سننی چاہئے۔

مسٹر گاندھی اور محترمہ واڈرا نے کہا کہ بچوں کی ذہنی صحت پر توجہ دینے کی ضرورت ہے اور اس امتحان میں بیٹھنے والے طلبا کو منصفانہ موقع دینے کی ضرورت ہے۔

مسٹر گاندھی نے ٹویٹ کیا ہندوستانی حکومت طلبا کی پریشانی پر آنکھیں موندے ہوئے ہے۔ نیٹ امتحان ملتوی کریے اور طلبا کو امتحان میں بیٹھنے کا منصفانہ موقع دیجئے۔

محترمہ واڈرا نے کہا کہ حکومت ایک کے بعد ایک کرکے پورے ملک میں طلبا کی مناسب مانگ کو بھی ٹھکرا رہی ہے۔ جو بچے ہمارے ملک کا مستقبل ہیں اقتدار میں بیٹھے لوگوں کو ان کی بات سننے اور ان کی مدد کرنے میں کیوں پریشانی ہے۔ کیا بچوں کی ذہنی صحت اور انکی بہتری کی فکر نہیں کی جانی چاہئے۔

نیٹ امتحان 12 ستمبر کو ہونا ہے اور اسی دن سی بی آئی کا بھی ایک پیپر ہے۔ طلبا کی مانگ ہے کہ انکی دقت کا خیال رکھتے ہوئے امتحان کی تاریخ تبدیل کی جانی چاہئے۔ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں لیا لیکن عدالت نے کہا کہ اس بات کو امتحان لینے والی ایجنسی کے سامنے رکھا جانا چاہئے۔

مسٹر گاندھی اور محترمہ واڈرا کا کہنا ہے کہ طلبا کی فطری دقت کو سمجھتے ہوئے حکومت کو نیٹ امتحان ملتوی کرنا چاہئے۔

افغانستان سے اب بھی 312 افراد انخلا کے خواہش مند: بورس جانسن

0
افغانستان سے اب بھی 312 افراد انخلا کے خواہش مند: بورس جانسن
افغانستان سے اب بھی 312 افراد انخلا کے خواہش مند: بورس جانسن

برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے ایک بیان میں کہا کہ وہ طالبان پر زور دے رہے ہیں کہ انخلا کے خواہش مندوں کو محفوظ راستہ دیں اور انسانی حقوق کا خیال رکھیں۔

لندن: برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن نے کہا ہے کہ افغانستان سے اب بھی 312 افراد انخلا کے لیے منتظر ہیں، ان میں سے 192 لوگوں نے کالز کا جواب دیا ہے۔

برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے ایک بیان میں کہا کہ وہ طالبان پر زور دے رہے ہیں کہ انخلا کے خواہش مندوں کو محفوظ راستہ دیں اور انسانی حقوق کا خیال رکھیں۔

انہوں نے کہا کہ مغربی ملکوں نے یقینی بنایا ہے کہ افغانستان میں لڑکیاں اسکول جائیں اور دہشت گرد حملے نہ ہوں۔

دوحہ سے ملنے والی خبروں میں بتایا گیا ہے کہ قطر کے امیر تمیم بن حمد الثانی نے امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن اور امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کے ساتھ افغانستان پر طالبان کے قبضے سے پیدا ہونے والی صورت حال اور وہاں سیکیورٹی کو مضبوط بنانے پر بات چیت کی۔

لیبیا کی فوج کی جانب سے قیدیوں کی رہائی کا اقوام متحدہ نے کیا خیر مقدم

0
لیبیا کی فوج کی جانب سے قیدیوں کی رہائی کا اقوام متحدہ نے کیا خیر مقدم

لیبیا میں اقوام متحدہ کے معاون مشن (UNSMIL) نے مشرق میں مقیم فوج کی طرف سے قیدیوں کی رہائی کا خیر مقدم کیا ہے۔

طرابلس: لیبیا میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن (یو این ایس ایم آئی ایل) نے مشرق میں مقیم فوج کی طرف سے قیدیوں کی رہائی کا خیر مقدم کیا ہے۔

مشن نے ٹویٹ کیا ’’یو این ایس ایم آئی ایل 23 اکتوبر 2020 کو ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے تحت لیبیا عرب مسلح افواج کی طرف سے آٹھ دیگر قیدیوں کی رہائی کا خیر مقدم کرتا ہے‘‘۔

انہوں نے بتایا کہ ان قیدیوں کو آج مشترکہ فوجی کمیشن کی نگرانی میں سرت کے کوسٹل روڈ پر واقع گیٹ 50 پر رہا کیا گیا۔

مشن نے لیبیا میں قومی مفاہمت، امن اور استحکام کی حمایت کے لیے تمام قیدیوں کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا۔

شیئر بازار میں تیزی، سینسیکس 58296.91 پوائنٹس اور نفٹی 17377.80 پوائنٹس پر

0
شیئر بازار میں تیزی، سینسیکس 58296.91 پوائنٹس اور نفٹی 17377.80 پوائنٹس پر
شیئر بازار میں تیزی، سینسیکس 58296.91 پوائنٹس اور نفٹی 17377.80 پوائنٹس پر

شیئر بازار میں تیزی کا رجحان، سینسیکس 58515.85 کی کل وقتی بلند ترین سطح کو چھونے کے بعد 58296.91 پوائنٹس پر بند ہوا۔

ممبئی: امریکہ میں شرح سود کے طویل عرصے تک کم رہنے کی توقعات میں بیرونی منڈیوں میں تیزی کے باعث سرمایہ کاروں کی مقامی خریداری کی بدولت شیئر بازار میں تیزی کا رجحان، سینسیکس 58515.85 کی کل وقتی بلند ترین سطح کو چھونے کے بعد 58296.91 پوائنٹس پر بند ہوا۔

بی ایس ای کا سینسیکس 166.96 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ پھر سے 58296.91 کی نئی بلندی پر پہنچ گیا۔ اسی طرح نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی بھی 54.20 پوائنٹس بڑھ کر ریکارڈ 17377.80 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔

بڑی کمپنیوں کی طرح، چھوٹی اور درمیانی کمپنیوں میں بھی اضافہ درج کیا گیا۔ بی ایس ای کا مڈ کیپ 43.73 پوائنٹس کے اضافے سے 24،425.92 پوائنٹس پر اور اسمال کیپ 161.35 پوائنٹس کے اضافے سے 27466.66 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔

بی ایس ای میں مجموعی طور پر 3495 کمپنیوں میں کاروبار ہوا۔ ان میں سے 1691 کمپنیوں میں تیزي رہی جبکہ 1627 کمپنیوں میں گراوٹ درج کی گئی۔ تاہم اس دوران 177 کمپنیوں کے حصص میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

سینسیکس کے سات گروپوں میں گراوٹ رہی جبکہ 11 گروپوں کے حصص میں اضافہ ہوا۔ اس مدت کے دوران ریئلٹی گروپ کے حصص میں سب سے زیادہ 2.97 فیصد منافع کمایا گیا۔

عالمی سطح پر سعودی عرب کے خام تیل کی قیمت میں کٹوتی کی وجہ سے سرمایہ کاروں کا رخ شیئر بازار کی طرف تیز ہوا۔ اس کے ساتھ، برطانیہ کا ایف ٹی ایس ای 0.59 فیصد، جرمنی کا ڈی اے ایکس 0.58 فیصد، جاپان کا نکئی 1.83 فیصد، ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ 1.01 فیصد اور چین کے شنگھائی کمپوزٹ میں 1.12 فیصد کا اضافہ ہوا۔