اتوار, اکتوبر 4, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 308

چین میں مسافر بردار جہاز کے دریا میں الٹنے سے 8 ہلاک، 7 لاپتہ

0
چین میں مسافر بردار جہاز کے دریا میں الٹنے سے 8 ہلاک، 7 لاپتہ
چین میں مسافر بردار جہاز کے دریا میں الٹنے سے 8 ہلاک، 7 لاپتہ

چین کے صوبے گوئی زو میں جہاز کے دریا میں الٹنے سے آٹھ افراد ہلاک اور سات دیگر لاپتہ ہو گئے۔ افسران جہاز میں سوار مسافروں کی تعداد چیک کر رہے ہیں۔

گویانگ: چین کے جنوب مغربی صوبے گوئی زو میں ایک مسافر بردار جہاز کے دریا میں الٹنے سے آٹھ افراد ہلاک اور سات دیگر لاپتہ ہو گئے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ حادثہ ہفتے کی شام لیوپانشوئی شہر میں زانگکے ٹاؤن شپ کے قریب اس وقت پیش آیا، جب دریائے زانگکے میں مسافر بردار جہاز الٹ گیا۔ اس واقعے میں آٹھ افراد ہلاک ہوئے جبکہ سات دیگر لاپتہ بتائے جا رہے ہیں۔

اتوار کی صبح تک 39 افراد کو بچایا گیا۔ افسران جہاز میں سوار مسافروں کی تعداد چیک کر رہے ہیں۔

ریسکیو آپریشن ابھی جاری ہے اور حادثے کی وجوہات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

پنجاب وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے قانون ساز کی میٹنگ سے قبل ہی دے دیا استعفیٰ 

0
پنجاب وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے قانون ساز کی میٹنگ سے قبل ہی دے دیا استعفیٰ 
پنجاب وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے قانون ساز کی میٹنگ سے قبل ہی دے دیا استعفیٰ 

پنجاب کے وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے آج شام قانون ساز پارٹی کی میٹنگ سے قبل ہی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

چنڈی گڑھ: پنجاب کی دو بار کمان سنبھالنے والے کیپٹن امریندر سنگھ نے آج شام قانون ساز پارٹی کی میٹنگ سے قبل ہی وزیر اعلی کے عہدے سے استعفی دے دیا۔

ایک اہم سیاسی پیش واقعہ میں، پنجاب کے وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے آج اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

انہوں نے گورنر بنواری لال پروہت کو استعفی نامہ سونپنے کے بعد آج شام صحافیوں سے کہا کہ انہوں نے صبح کانگریس صدر سونیا گاندھی کو اس بارے میں مطلع کردیا تھا۔ میرے ساتھ ایسا تیسری بار ہوا ہے جب مجھے اطلاع دیئے بغیر قانون ساز پارٹی کی میٹنگ طلب کی گئی ہو۔ یہ میری سراسر توہین ہے کہ وزیر اعلی ہونے کے ناطے اس میٹنگ میں مجھے اطلاع تک نہیں دی گئی۔ ایسا لگتا ہے کہ اعلی کمان کا مجھ سے اعتماد اٹھ گیا ہے۔ اس لئے مزید توہین برداشت نہیں کرسکتا اور مجھے یہ فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔

آگے کی حکمت عملی اپنوں سے مل کر طے کروں گا

انہوں نے بھاری دل سے کہا کہ اب اعلی کمان جس پر اعتماد ہو، اسے وزیر اعلی بنائیں۔ اس کے بعد وہ اپنے 52 سال سے ساتھ رہے اپنے ساتھیوں اور حامیوں سے مل کر آگے کی حکمت عملی پر غور کریں گے۔ وہ پارٹی نہیں چھوڑ رہے ہیں لیکن آگے کے متبادل کھلے ہیں۔ میں سیاست میں ہی رہوں گا لیکن آگے کی حکمت عملی اپنوں سے مل کر طے کروں گا۔ پارٹی جسے بھی وزیر اعلی بنائے گی وہ اسے تسلیم کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ پچھلے اسمبلی انتخابات میں میرے قیادت میں پارٹی انتخابی میدان میں اتری اور بھاری اکثریت کے ساتھ اقتدار میں واپس آئی۔ اب پارٹی اعلی کمان کو مجھ پر بھروسہ نہیں رہا کہ یہ انتخاب جیت پائیں گے یا نہیں۔ چاہے جو بھی ہو میری توہین تو نہیں کرنی چاہیئے تھی۔

دوسری جانب کانگریس کے مشاہد اجے ماکن اور ہریش چودھری اور پارٹی انچارج ہریش راوت کی موجودگی میں قانون ساز پارٹی کی میٹنگ جاری رہی جس میں اگلے وزیر اعلی کے نام کا فیصلہ ہونا ہے۔ میٹنگ دیر شام تک چلنے کا امکان ہے۔

لوک سبھا سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ اگلے چند دنوں میں کروں گا: بابل سپریا

0
لوک سبھا سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ اگلے چند دنوں میں کروں گا: بابل سپریا
لوک سبھا سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ اگلے چند دنوں میں کروں گا: بابل سپریا

ترنمول کانگریس میں شامل ہونے کے بعد بابل سپریا نے کہا کہ ممتا بنرجی اور ابھیشیک بنرجی جو مجھے ذمہ داری دے رہے ہیں میں اس سے خوش ہوں اور آسنسول لوک سبھا حلقے سے رکنیت دینے کا فیصلہ اگلے چند دنوں میں کروں گا۔

کلکتہ: ترنمول کانگریس کے جنرل سیکریٹری ابھیشیک بنرجی اور راجیہ سبھا رکن ڈیریک او برائن کی موجودگی میں ترنمول کانگریس میں شامل ہونے کے بعد بابل سپریا نے کہا کہ ممتا بنرجی اور ابھیشیک بنرجی جو مجھے ذمہ داری دے رہے ہیں میں اس سے خوش ہوں اور آسنسول لوک سبھا حلقے سے رکنیت دینے کا فیصلہ اگلے چند دنوں میں کروں گا۔

سیاست چھوڑنے کے فیصلہ تبدیل کرنے سے متعلق انہوں نے کہا کہ سیاست سے کنارہ کشی کا اعلان کرنے کے بعد بہت سے لوگوں کے پیغامات موصول ہوئے اور فیصلے پر نظر ثانی کرنے کی اپیل کی اور ریاست کے عوام کیلئے کام کرنے کی درخواست کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ان کا سیاست چھوڑنے کا فیصلہ کوئی ڈرامہ نہیں تھا۔ پچھلے تین دنوں میں میں نے یہ فیصلہ کیا ہے۔

اپنے سامنے آنے والے مواقع کو میں نے دونوں ہاتھوں سے قبول کیا ہے۔ ”میں نے دل سے کہا تھا میں سیاست چھوڑ دوں گا“۔ لوگوں نے کہا کہ میرا یہ فیصلہ جذباتی ہے۔ مگر بعد میں میں نے غور کیا کہ بنگال کے عوام اور یہاں کی ترقی کیلئے کام کیسے کروں گا۔

اس کے بعد میں نے ترنمول کانگریس میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ مجھے اپنے اس فیصلہ پر بہت فخر ہے۔ ممتا دیدی اور ابھیشیک مجھے جو ذمہ داری دے رہے ہیں اس کے لیے میں بہت پرجوش ہوں۔ میں بنگال کے لوگوں کی بہتری کے لیے کام کروں گا۔ میں جانتا ہوں، میرے خلاف بہت کچھ ٹرینڈ ہوگا۔ میرے ذہن میں جو بات ٹرینڈ کر رہی ہے وہ یہ ہے کہ موقع میرے سامنے آیا ہے، میں اس کے لیے اپنے ذہن سے کام کروں گا۔ 

اگلے پیر کو ممتا سے ملیں گے سپریا

پارٹی کی تبدیلی کے نتیجے میں آسنسول لوک سبھا حلقے کی رکنیت سے استعفیٰ دیں گے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک یا دو دن میں اپنے فیصلے سے میں آگاہ کردوں گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اگلے پیر کو ممتا سے ملیں گے۔

آل انڈیا جنرل سکریٹری ابھیشیک بنرجی نے اپنے کیمک اسٹریٹ دفتر میں بابل سپریا کو ترنمول کانگریس کے حوالے کیا۔ ڈیرک او برائن بھی اس موقع پر موجود تھے۔ 31 جولائی کو، بابل سپریا نے فیس بک پر لکھا تھا کہ ”چلو، الوداع۔” تاہم، بابل نے یہ بھی کہا کہ اگر وہ سیاست نہیں کرتے ہیں تو بھی وہ سماجی خدمت کرتے رہیں گے۔ ایک دن قبل ہی مرکزی حکومت نے ان کی سیکیورٹی کم کردیا تھا۔ یہ اعلان کیا گیا تھا کہ بابل کو وائی زمرہ کی سیکیورٹی دی جائے گی۔ اس کے بعد سے ہی قیاس آرائیاں جاری تھیں۔

بابل سپریا کو بی جے پی میں برقرار رکھنے کیلئے بی جے پی میں قومی صدر جے پی نڈا نے ملاقات کی تھی اور لوک سبھا کی رکنیت نہیں چھوڑنے کی ہدایت دی تھی۔ بابل کا طویل عرصے سے ریاستی بی جے پی لیڈروں سے تنازع چل رہا تھا۔ حال ہی میں جب نریندر مودی نے اپنی کابینہ میں توسیع کی تو بابل کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی۔ انہیں وزارت سے استعفیٰ دینا پڑا تھا اس کے بعد سے ہی وہ بی جے پی میں حاشیہ پر چلے گئے اور سیاست چھوڑنے کا اعلان کیا۔

بھوانی پور میں ضمنی انتخاب میں بی جے پی نے ان کے قریبی پرینکا تبریوال کو میدان میں اتارا ہے۔ پولنگ سے عین قبل بابل سپریا کا بی جے پی چھوڑ کر ترنمول کانگریس میں شامل ہونا بی جے پی کے لئے بڑا جھٹکا مانا جا رہا ہے۔

پرینکا تبریوال بابل سپریا کی قریبی رہی ہیں۔ اس لئے بی جے پی نے ان کے نام کو بطور اسٹار پرچارک شامل کیا تھا۔ مگر انہوں نے انکار کردیا تھا۔

سابق مرکزی وزیر بی جے پی رکن پارلیمنٹ بابل سپریا ترنمول کانگریس میں شامل

0
سابق مرکزی وزیر بی جے پی رکن پارلیمنٹ بابل سپریا ترنمول کانگریس میں شامل

سابق مرکزی وزیر اور آسنسول سے بی جے پی کے ممبر پارلیمنٹ بابل سپریا نے ترنمول کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔

کلکتہ: چند مہینے قبل سیاست سے کنارہ کشی کا اعلان کرنے والے سابق مرکزی وزیر اور آسنسول سے بی جے پی کے ممبر پارلیمنٹ بابل سپریا نے ترنمول کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔

مرکزی وزارت سے استعفیٰ دینے کے بعد انہوں نے اپنے فیس بک پر سیاست سے کنارہ کشی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ سماجی کاموں میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیں گے۔ مگر چند مہینے بعد ہی انہوں نے اپنے اس اعلان سے مکر گئے۔ اس سے قبل بھی انہوں نے پارلیمنٹ کی رکنیت سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا تھا مگر بعد میں انہوں نے استعفیٰ دینے سے انکار کردیا۔

ترنمول کانگریس میں شمولیت پر بابل سپریا نے کہا کہ میں نے دل سے سیاست چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔ میں بنگالی کے طور پر کام کرنا چاہتا تھا۔ یہ بات میرے ذہن میں تھا مگر گزشتہ چار دنوں میں میں نے فیصلہ کیا کہ بنگال کی خدمت کرنے کیلئے ضروری ہے کہ ترنمول کانگریس میں رہ کر کام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ میرے لئے یہ بڑا فیصلہ ہے۔ مجھے موقع ملا ہے میں خود کو بنگالی گلوکار کے طور پر کام کروں گا۔

بابل سپریا نے کہا کہ وہ پیر کو وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی سے ملاقات کریں گے۔

نوٹ کریں کہ 31 جولائی کو بابل سپریا نے فیس بک پر سیاست چھوڑنے کا اعلان کیا تھا۔ مگر بھوانی پور میں ضمنی انتخابی مہم کے دوران بی جے پی نے پرینکا تبریوال کی حمایت میں مہم چلانے کیلئے مدعو کیا تھا مگر بابل سپریا نے اس میں کوئی دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کیا ہے۔ ایک دن قبل ہی مرکزی حکومت نے ان کی سیکیورٹی کم کردی۔ 24 گھنٹے کے بعد ہی وہ ترنمول کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔

پی جی میڈیکل ریزرویشن: سپریم کورٹ نے نئی رٹ پٹیشن پر مرکز سے جواب طلب کیا

0
پی جی میڈیکل ریزرویشن: سپریم کورٹ نے نئی رٹ پٹیشن پر مرکز سے جواب طلب کیا

سپریم کورٹ نے پی جی میڈیکل ریزرویشن سے متعلق 29 جولائی کے نوٹیفکیشن کے خلاف ایک نئی رٹ پٹیشن پر سماعت کرتے ہوئے جمعہ کے روز مرکز سے جواب طلب کیا۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے پوسٹ گریجویٹ میڈیکل کورس میں داخلہ کے لیے دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) اور اقتصادی طور پر پسماندہ طبقات (ای ڈبلیو ایس) کو ریزرویشن دینے کے 29 جولائی کے نوٹیفکیشن کے خلاف ایک نئی رٹ پٹیشن پر سماعت کرتے ہوئے جمعہ کے روز مرکز سے جواب طلب کیا۔

جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور جسٹس بی وی ناگرتھنا کی ڈویژن بنچ نے مدھرا کویشور اور دیگر کی درخواستوں پر نوٹس جاری کرتے ہوئے انہیں پہلے ہی زیر التواء درخواستوں کے ساتھ منسلک کرنے کی ہدایت دی۔

بنچ نے درخواست گزار کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر ایڈوکیٹ شیام دیوان کو بتایا کہ اس نئی رٹ پٹیشن کو بھی پرانی درخواستوں کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ 6 ستمبر کو عدالت عظمی نے دو درخواستوں پر مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے معاملے کی آئندہ سماعت کے لیے 20 ستمبر کی تاریخ طے کی تھی۔

اب اس درخواست پر بھی اسی تاریخ کو سماعت ہوگی۔

قابل ذکر ہے کہ 29 جولائی 2021 کو حکومت نے پوسٹ گریجویٹ میڈیکل کورسوں میں داخلہ کے لیے او بی سی کو 27 فیصد اور ای ڈبلیو ایس کو 10 فیصد ریزرویشن دینے کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔

اترپردیش میں عاپ کی حکومت بننے پر دہلی کی طرح مفت بجلی کی سہولت: سسودیا

0
اترپردیش میں عاپ کی حکومت بننے پر دہلی کی طرح مفت بجلی کی سہولت: سسودیا
اترپردیش میں عاپ کی حکومت بننے پر دہلی کی طرح مفت بجلی کی سہولت: سسودیا

دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے آج یہاں اعلان کیا کہ اترپردیش میں عاپ کی حکومت بننے پر دہلی کی طرح اترپردیش میں بھی 300 یونٹ تک بجلی کے بل معاف کر دئیے جائیں گے۔

لکھنؤ: عام آدمی پارٹی (عاپ) لیڈر و دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے آج یہاں اعلان کیا کہ اترپردیش میں عاپ کی حکومت بننے پر دہلی کی طرح اترپردیش میں بھی 300 یونٹ تک بجلی کے بل معاف کر دئیے جائیں گے۔

مسٹر سسودیا نے جمعرات کو یہاں میڈیا نمائندوں سے بات چیت میں کہا کہ آپ کی حکومت بننے پر 24 گھنٹوں کے اندر 300 یونٹ تک گھریلو بجلی مفت کردی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اترپردیش کی عام عوام مہنگی بجلی سے پریشان ہیں اور دہلی کی طرح بجلی کے مہنگے بوجھ سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ کسان بہت دکھی ہیں کیونکہ اس کے فصل کی قیمت تو یوگی حکومت نے نہیں بڑھائے الٹے بجلی بہت مہنگی کردیا۔

انہوں نے کہا کہ ‘عاپ کنوینر اروند کیجریوال کی گارنٹی ہے کہ اترپردیش کے ہر ایک کسان کا کھیتی کے لئے استعمال کی جانے والی بجلی کا بل صفر کیا جائے گا۔ پھر کسان چاہے جتنی بھی بجلی استعمال کرے یوگی حکومت نے بجلی اتنی مہنگی کر دی ہے کہ عام لوگوں سے بجلی کے بل نہیں ادا کئے جا رہے ہیں۔ کسی کے گھر ایک لاکھ کا بل، کسی کے گھر 1.5 لاکھ کا بجلی بل آ رہا ہے۔ اور حکومت کہہ رہی ہے کہ آپ بجلی بل جمع کریں ورنہ مجرم مانیں جائیں گے۔

مہنگی بجلی کے بل نہ جمع کر پانے کی وجہ سے خودکشی

عاپ لیڈر نے کہا کہ اترپردیش میں سینکڑوں کیس ہیں جہاں عام شہریوں نے مہنگی بجلی کے بل نہ جمع کر پانے کی وجہ سے خودکشی کی ہے۔ علی گڑھ کے کسان رام جی لال کو 1.5 لاکھ کا بجلی بل بھیج دیا گیا جو بل نہیں جمع کرسکتے تھے اس لئے انہوں نے خودکشی کرلی۔ عاپ کی حکومت بننے کے بعد 24 گھنٹوں کے اندر ہر آدمی کو گھریلو استعمال کے لئے 300 یونٹ بجلی بالکل مفت ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ میں بجلی بل کے سبھی بقایہ داروں سے کہنا چاہتا ہوں کہ گھبرائے مت تھوڑا صبر رکھیں اور آنے والے اسمبلی انتخاب میں عاپ کی حمایت کیجئے۔ عاپ کی حکومت بنتے ہی ان بلوں کو پھاڑ کر پھینک دیا جائے کیونکہ سب کے پچھلے سارے بقایہ جات معاف کردئیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اگر مہنگی بجلی اور مہنگا بل آپ کے گھر آتا ہے تو اس میں مجرم آپ نہیں بلکہ مجرم تو وہ حکومت ہے جو مہنگی بجلی آپ کو فروخت کر کے پیسہ کما رہی ہے۔ وہ پارٹی ہے جو بجلی مہنگی کر کے اپنا چندہ اکٹھا کررہی ہے۔

چین کے بڑھتے اثر کا مقابلہ: آسٹریلیا، برطانیہ اور امریکہ نے نیا اتحاد ’اوکس‘ تشکیل دینے کا اعلان کیا

0
چین کے بڑھتے اثر کا مقابلہ: آسٹریلیا، برطانیہ اور امریکہ نے نیا اتحاد ’اوکس‘ تشکیل دینے کا اعلان کیا
چین کے بڑھتے اثر کا مقابلہ: آسٹریلیا، برطانیہ اور امریکہ نے نیا اتحاد ’اوکس‘ تشکیل دینے کا اعلان کیا

ہند بحر الکاہل خطے میں چین کے بڑھتے اثر کا مقابلہ کرنے کے لئے آسٹریلیا، برطانیہ اور امریکہ نے نئی سہ فریقی سیکیورٹی اتحاد ’اوکس‘ بنانے کا اعلان کیا ہے۔

واشنگٹن: ہند بحر الکاہل خطے میں چین کے بڑھتے اثر کا مقابلہ کرنے کے لئے آسٹریلیا، برطانیہ اور امریکہ نے نئی سہ فریقی سیکیورٹی اتحاد ’اوکس‘ (اے یو یو کے یو ایس) بنانے کا اعلان کیا ہے۔

بدھ کے روز امریکہ کے صدر جو بائیڈن، برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن اور آسٹریلیائی وزیر اعظم اسکاٹ ماریسن کے درمیان ایک ورچوئل میٹنگ کے دوران ہند بحر الکاہل خطے کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس نئے اتحاد کے قیام کا اعلان کیا گیا۔

وائٹ ہاؤس نے کہا کہ آوکس اتحاد قائم کرنے کا اہم مقصد ہند بحر الکاہل خطے میں تین ممالک کے درمیان سفارتی، سلامتی اور دفاعی تعاون کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تین ممالک کا اتحاد 21 ویں صدی کے چیلجنز سے نمٹنے کی اپنی مشترکہ صلاحیت کو بڑھائے گا۔

تینوں ممالک کا خیال ہے کہ یہ معاہدہ ہند بحر الکاہل خطے میں اپنے مفادات کے دفاع کے لیے اہم ہے جبکہ تینوں رہنماؤں نے بحر ہند اور بحر الکاہل کے علاقے میں دیرپا امن اور استحکام یقینی بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ ہم رائل آسٹریلیائی بحریہ کے لیے جوہری توانائی سے چلنے والی آبدوزوں کے حصول میں آسٹریلیا کی مدد کرنے کے مشترکہ عزائم کے لیے پرعزم ہیں۔ اس کے علاوہ بائیڈن اور دیگر رہنماؤں نے زور دیا کہ آبدوزیں جوہری ہتھیاروں سے لیس نہیں ہوں گی۔

مدھیہ پردیش: ضلع راج گڑھ میں دردناک سڑک حادثہ، موقع پر ہی پانچ افراد ہلاک

0
مدھیہ پردیش: ضلع راج گڑھ میں سڑک حادثے میں موقع پر ہی پانچ افراد ہلاک
مدھیہ پردیش: ضلع راج گڑھ میں سڑک حادثے میں موقع پر ہی پانچ افراد ہلاک

مدھیہ پردیش کے ضلع راج گڑھ میں دردناک سڑک حادثہ میں آٹو میں سوار سات میں سے پانچ افراد موقع پر ہی دم توڑ گئے۔

راج گڑھ: مدھیہ پردیش کے ضلع راج گڑھ میں آج ایک دردناک سڑک حادثہ میں پانچ افراد ہلاک ہوگئے۔

پولیس ذرائع کے مطابق ضلع ہیڈ کوارٹر سے تین کلومیٹر دور جے پور-جبل پور ہائی وے پر ایک جانور کو بچانے کی کوشش میں راج گڑھ کی طرف آنے والا آٹو الٹ گیا۔ الٹے ہوئے آٹو پر ایک تیز رفتار جیپ چڑھ گئی۔ اس حادثہ میں آٹو میں سوار سات میں سے پانچ افراد موقع پر ہی دم توڑ گئے۔

پولیس کے مطابق مرنے والوں میں دو خواتین سنتری بائی اور پاروتی شامل ہیں اور تین مرد پنا لال، پربھو لال اور موڈ سنگھ ہیں۔ آٹو ڈرائیور سمیت دو افراد زخمی ہوئے۔

آٹو چوکی نامی گاؤں سے راج گڑھ جا رہا تھا۔

سارک ممالک اور ہندوستان کے ساتھ تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے: خان

0
سارک ممالک اور ہندوستان کے ساتھ تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے: خان
سارک ممالک اور ہندوستان کے ساتھ تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے: خان

ڈھاکہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق نائب صدر حیدر احمد خان نے کہا ہے کہ سارک ممالک اور ہندوستان کے ساتھ تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے اور ہندوستان کو سب سے بڑے بینیفیشریز کے طور پر فعال ہونا چاہیے۔

ڈھاکہ: بنگلہ دیش میں اپوزیشن بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے رہنما اور ڈھاکہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق نائب صدر حیدر احمد خان نے کہا ہے کہ سارک ممالک اور ہندوستان کے ساتھ تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے اور ہندوستان کو سب سے بڑے بینیفیشریز کے طور پر فعال ہونا چاہیے۔

مسٹر خان نے کہا کہ بنگلہ دیش کے سابق صدر ضیاء الرحمن نے رکن ممالک کے درمیان تعاون کو وسیع کرنے کے لیے مخصوص اہداف کے ساتھ سارک تشکیل دی اور اس سمت میں اب بھی ایک روشن امکان موجود ہے۔ انہوں نے کہا ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ دنیا اب معیشت پر مبنی ہے اور مذہب و معیشت پر مبنی سیاست اس کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ کوئی بھی ملک مذہبی دہشت گردی کی سیاست کے ذریعے ترقی کی طرف نہیں بڑھ سکتا۔ ہمیں اس خطے میں خارجہ پالیسی پر مبنی معیشت کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ روہنگیا مسئلہ سے ملک کے 16 کروڑ لوگوں میں مایوسی پیدا ہوئی ہے۔ بنگلہ دیش کی موجودہ خارجہ پالیسی کی وجہ سے یہ مسئلہ مستقبل میں مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے۔

اپوزیشن لیڈر نے الزام لگایا کہ ملک میں جمہوریت نام کی کوئی چیز نہیں ہے اور حکمران عوامی لیگ پر الزام عائد کیا کہ وہ بی این پی رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کر کے اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

ہندوستان کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے کہا ’’وہ (ہندوستان) ایک جمہوری ملک ہے جہاں حکومت انتخابات کے ذریعے بنتی ہے۔ میرے خیال میں ہندوستان کا موقف بی این پی کے حق میں رہا ہے اور امید ہے کہ مستقبل میں بھی ہمارے ساتھ رہے گا۔‘‘

دنیا کی نہیں اپنی مرضی کی حکومت بنائیں گے: افغان وزیر خارجہ امیر متقی

0
دنیا کی نہیں اپنی مرضی کی حکومت بنائیں گے: افغان وزیر خارجہ امیر متقی

افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہماری کابینہ میں ہر قوم سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس میں مزید مثبت تبدیلی آئے گی۔ ہم تمام افغان عوام کی نمائندگی کرتے ہیں۔

کابل: افغان وزیر خارجہ امیر متقی نے کہا ہے کہ دنیا ہمارے سامنے شرائط نہ رکھے ہم اپنی مرضی کی حکومت بنائیں گے۔ چین، پاکستان، قطر اور ترکی نے ہمارا ساتھ دیا، تعاون کرنے پر ان ممالک کے شکر گزار ہیں۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہماری کابینہ میں ہر قوم سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس میں مزید مثبت تبدیلی آئے گی۔ ہم تمام افغان عوام کی نمائندگی کرتے ہیں۔ افغان وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان پر غیر ملکی دباؤ کو مسترد کرتے ہیں، جہاں بھی نیا نظام آتا ہے وہاں اپنے اعتماد کے لوگ آتے ہیں، افغانستان میں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔

امیر خان متقی نے کہا کہ پچھلے منصوبوں کو مکمل کرنا چاہتے ہیں، ملک میں روزگار کے مواقع فراہم کرنا چاہتے ہیں۔ تاجروں سے گزارش ہے کہ کاروبار کریں تاکہ اپنے لوگوں کو فائدہ پہنچے۔

دنیا کے ساتھ مثبت تعلقات چاہتے ہیں طالبان

انہوں نے کہا کہ عالمی امداد کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ اسے مستحق افراد تک پہنچانا چاہتے ہیں۔ کوشش ہے باہر جانے والے مہاجرین واپس آئیں۔ دنیا سے اپیل ہے جو ہم سے تعاون کررہے ہیں اسے سیاست سے نہ جوڑا جائے، دنیا کے ساتھ مثبت تعلقات چاہتے ہیں۔

افغان وزیر خارجہ نے کہا کہ دنیا سے اپیل ہے کہ افغانستان کے لیے مزید انتشار والی پالیسی نہ اپنائیں۔ آئیں مثبت رائے اختیار کریں، افغانستان کو ترقی کرنے دیں۔

امیر متقی نے کہا کہ افغانستان ایک بہت بڑی مشکل سے گزرا ہے۔ چاہتے ہیں دنیا اسلامی ممالک ہماری ترقی کے شعبوں کی مدد کرے، عالمی برادری سے افغان عوام کی مدد کا مطالبہ کرتے ہیں۔