اتوار, اکتوبر 4, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 303

کوویشیلڈ ویکسین: ہندوستان نے برطانیہ کو دیا ’جیسے کو تیسا‘ جواب

0
کوویشیلڈ ویکسین: ہندوستان نے برطانیہ کو دیا ’جیسے کو تیسا‘ جواب
کوویشیلڈ ویکسین: ہندوستان نے برطانیہ کو دیا ’جیسے کو تیسا‘ جواب

حکومت برطانیہ کے ذریعہ کووڈ کی ہندوستان میں تیار ویکسین کوویشیلڈ ویکسین کو تسلیم نہ کئے جانے کے پیش نظر حکومت نے ’مساوی سلوک‘ کی حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے ہندوستان آنے والے برٹش شہریوں پر اسی طرح کے قانون نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

نئی دہلی: حکومت برطانیہ کے ذریعہ کووڈ کی ہندوستان میں تیار ویکسین کوویشیلڈ ویکسین کو تسلیم نہ کئے جانے کے پیش نظر حکومت نے ’مساوی سلوک‘ کی حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے ہندوستان آنے والے برٹش شہریوں پر اسی طرح کے قانون نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جیسے برطانیہ جانے والے ہندوستانی شہریوں پر نافذ ہیں۔

ذرائع نے آج یہاں بتایا کہ ہندوستان میں یہ اصول 4 اکتوبر پیر سے نافذ ہوں گے اور برطانیہ سے آنے والے تمام برٹش شہریوں پر مساوی طور سے نافذ ہوں گے، چاہے انہوں نے کوئی ٹیکہ لگوایا ہو یا نہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ برٹش شہریوں کو سفر شروع کرنے سے پہلے 72 گھنٹوں کے اندر آر ٹی پی سی آر ٹیسٹ کرانا ہوگا۔ ہندوستان کے ہوائی اڈے پر اترتے ہی دوبارہ آر ٹی پی سی آر ٹیسٹ کرانا ہوگا اور آمد کے آٹھ روز بعد دوبارہ آر ٹی پی سی آر ٹیسٹ کرانا ہوگا۔

ذرائع کے مطابق برطانیہ کے شہریوں کو ہندوستان آمد کے فوری بعد گھر یا منزل کے مقام پر دس روز تک لازمی طور سے قرنطینہ میں رہنا ہوگا۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ وزارت صحت و خاندانی بہبود اور شہری ہوا بازی کی وزارت اضافی اقدامات کا اعلان بھی کرسکتی ہیں۔

یو پی ایس سی امتحانات کے حالیہ نتائج میں مسلمانوں کی نمائندگی

0
یو پی ایس سی امتحانات کے حالیہ نتائج میں مسلمانوں کی نمائندگی

یو پی ایس سی امتحانات کے حالیہ نتائج مسلمانوں کی نمائندگی کے لحاظ سے مایوس کن ضرور ہیں، لیکن یہی حالات مزید بہتری اور جد و جہد کا راستہ بھی کھولتے ہیں

تحریر: ڈاکٹر یامین انصاری

سول سرو‎سز یعنی یونین پبلک سروس کمیشن (یو پی ایس سی) کو ہندوستان کا سب سے اہم اور باوقار امتحان سمجھا جاتا ہے۔ زندگی میں کچھ کر گزرنے کا حوصلہ رکھنے والےتقریباً ہر نوجوان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ یونین پبلک سروس کمیشن کے امتحان میں کامیابی حاصل کرکے ملک و ملت کا نام روشن کرے۔

ظاہر ہے کہ اس امتحان میں کامیاب ہونے والے امیدوار سے نہ صرف یہ کہ خاندان، بلکہ عزیز و اقارب، پوری سوسائٹی اور قوم و ملت کو بہت سی امیدیں وابستہ ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہےکہ اس امتحان میں کامیاب امیدواروں کی کارکردگی اخبارات و رسائل اورمیڈیا وغیرہ میں شہ سرخیاں بنتی ہے۔ ان میں کئی ایسی کہانیاں سامنے آتی ہیں کہ جو زندگی میں کوئی مقام حاصل کرنے کا جذبہ رکھنے والے نوجوانوں کے لئے مشعل راہ ہوتی ہیں۔ کیوں کہ پر جوش اور حوصلہ مند کچھ نوجوان محدود وسائل کے باوجود اور سول سروسز وغیرہ میں کوئی خاندانی بیک گراؤنڈنہ ہونے کے باوجوداپنی کامیابی سے ہر کسی کو اپنا قائل کرلیتے ہیں۔ نہ تو غربت، نہ ہی وسائل کی کمی اور نہ ہی والدین وغیرہ کی مناسب سرپرستی کا فقدان ان کی کامیابی کی راہ میں حائل ہوتا ہے۔ ان کی سچی محنت اور لگن، کچھ کر گزرنے کا حوصلہ اور با مقصد زندگی گزارنے کا جذبہ ہی ان کی کامیابی کا اصل ضامن ہوتا ہے۔

کسی بھی ملک اور معاشرے کی ترقی میں سول سروسز میں کامیاب نوجوانوں کا کلیدی رول ہوتا ہے۔ کیوں کہ یہی لوگ افسر بن کر مختلف شعبوں میں اپنی حسن کارکردگی اور طریقہ کار سے ملک و ملت کی تعمیر و ترقی کی نئی عبارت لکھتے ہیں۔ یقیناً یہ لوگ دوسرے نوجوانوں کے لئےنئی راہیں کھولتے ہیں اور ان میں اعتماد اور جستجو کا جذبہ پیدا کرتے ہیں۔

حال ہی میں 2020 کے یو پی ایس سی کے حتمی نتائج کا اعلان کیا گیا ہے۔ سبھی کامیاب نوجوان مبارکباد کے مستحق ہیں۔ خاص طور پر وہ مسلم نوجوان جنھوں نےتمام نا مساعد حالات کے باوجود ملک کے اس باوقار امتحان میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اس مرتبہ کامیاب ہونے والے مسلم امیدواروں کی تعداد 31 ہے، جو آبادی کے لحاظ سے تقریباً 4 فیصد ہے۔ اگرچہ یہ تعداد کافی کم ہے، لیکن پھر بھی جن حالات میں ان لوگوں نے تیاری کی اور کامیابی کی منزل کو پہنچے، وہ قابل ستائش ہے۔

ویسے تو عام طور پر ہر سال مسلم طلبہ کی کامیابی کا فیصدتقریباً اس کے آس پاس ہی ہوتا ہے۔ لیکن جب کامیاب امیدواروں کی تعداد میں کمی واقع ہوتی ہے تو فکر اور مایوسی ہونا فطری ہے۔ کیوں کہ گزشتہ برس یعنی 2019 کے امتحانات میں 42 مسلم امیدوارکامیاب ہوئے تھے۔ اس لحاظ سے دیکھیں تو ایک بڑی کمی واقع ہوئی ہے۔ گزشتہ 10 سال کا تناسب دیکھیں تو یہ کمی و بیشی ہر سال ہوتی ہے۔ 2018 میں کل 759 امیدواروں میں 28 مسلم کامیاب ہوئے تھے۔ جبکہ2017 میں کل 990 میں 50 اور 2016 میں 52 مسلم امیدواروں نے کامیابی حاصل کی تھی۔ یہ تعداد یقیناً حوصلہ افزا تھی۔ اس کے بعد مسلم طلبہ اور یو پی ایس سی کی کوچنگ کا اہتمام کرنے والے اداروں کو چاہئے تھا کہ وہ اس سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے، لیکن ایسا نہ ہو سکا۔

گزشتہ 10 سال کے ریکارڈ پر نظر ڈالیں تو 2016 میں کل 1099 امیدواروں میں 52 مسلم امیدواروں کی کامیابی سب سے زیادہ تھی۔ جبکہ اس سے پہلے 2015 میں کل 1078 میں34، 2014 میں کل 1236 میں 38، 2013 میں کل 1122 میں34، 2012 میں کل 998 میں 30 مسلم امیدوار کامیاب ہوئے تھے۔ جبکہ اس سے پہلے تو مسلم امیدواروں کی اور بھی مایوس کن کارکردگی رہی۔ کیوں کہ 2011 میں کل 920 امیدواروں میں محض 21 اور 2010 میں کل 875 میں بھی محض 21 مسلم امیدوار کامیاب ہوئے، جبکہ 2009 میں کل 791 امیدواروں میں 31 مسلم امیدوار کامیاب ہو سکے۔ ان اعداد و شمار سے یہ تو ظاہر ہوتا ہے کہ مسلم امیدواروں کی کامیابی کا تناسب کافی کم ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ مسلم امیدواروں کی بڑی تعداد ناکام ہوتی ہے۔

در اصل ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ یو پی ایس سی کے اس باوقار امتحان میں کتنے مسلم طلبہ حصہ لیتے ہیں۔ کامیابی کا تناسب دیکھنے دیکھنے کے ساتھ ساتھ اس پہلو پر بھی غوروفکر کرنے کی بہت ضرورت ہے۔ پورے ملک میں پرائمری سطح سے لیکر سیکنڈری، سینئر سیکنڈری اور ہائر ایجوکشن تک مسلم طلبہ کا تناسب کتنا ہے، وہ سب کے سامنے ہے۔

سچر کمیٹی کی سفارشات میں بھی مسلمانوں کی تعلیمی صورت حال پر آئینہ دکھایا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی سچر کمیٹی کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ اعلیٰ سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کی نمائندگی بے حد کم ہے، مگر یہ تعداد اس لئے کم نہیں ہے کہ مقابلہ جاتی امتحانات میں مسلمانوں کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیں ہوتا ہے، بلکہ اس لئے ہے کہ ان امتحانات میں مسلم طلبہ بہت کم تعدادمیں شریک ہوتے ہیں۔ لہذا ملت کے بہی خواہوں اور تعلیمی میدان میں کام کرنے والے مخلص افراد یا اداروں کو اس پہلو پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے کہ مسلم نوجوانوں کو کس طرح آمادہ کیا جائے کہ وہ یو پی ایس سی اور دیگر مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کریں اور ان میں شریک ہوں۔

اس کے لئے یقیناً مسلم نوجوانوں میں بڑے پیمانے پر بیداری کرنے کی ضرورت ہے۔ آج ہندوستان کے مسلمان جس دور سے گزر رہے ہیں، وہ شاید آزاد ہندوستان میں ان کے لئے سب سے خراب دور کہا جا سکتا ہے۔ جو لوگ سیاسی محاذ آرائی اور سیاسی سرگرمیوں میں مصروف ہیں، انہیں ان کا کام کرنے دیں، لیکن تعلیمی میدان میں کام کرنے والے افراد کو اس جانب خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

مسلم طلبہ کو طالب علمی کے زمانے سے ہی یہ باور کرانا ہوگا کہ سرکاری ملازمتوں اور بالخصوص اعلیٰ سرکاری ملازمتوں میںان نوجوانوں کی شمولیت کیوں ضروری ہے۔ انہیں یہ بھی بتانا ہوگا کہ سول سروسز میں شامل ہونے والے نوجوانوں کو دیگر پیشہ وارانہ کورسز کے مقابلے میں کم پیسے صرف کرنے ہوتے ہیں۔ اگر وہ اس میں کامیاب ہوتے ہیں تو ظاہر ہے وہ اعلیٰ سرکاری افسر بنیں گے اور وہ یقیناً نہ صرف ملت کے لئے،بلکہ پورے ملک کیلئے سرمایہ ٔ افتخارہوں گے۔

ان مسلم طالب علموں کو بتانا ہوگا کہ اعلیٰ سرکاری افسران کے پاس کتنے زیادہ اختیارہوتے ہیں اور ان کے ذمہ کتنے اہم کام ہوتے ہیں۔ وہ ملازمت کے ساتھ ساتھ ملک کی خدمت بھی کرتے ہیں اور اُنہیں معاشی پریشانیوں کا سامنا بھی نہیں کرنا پڑتا ہے۔ کیوں کہ افسر بن جانے کے بعد مراعات کے ساتھ ساتھ جو عزت و وقار حاصل ہوتا ہے،وہ دوسری ملازمتوں میںحاصل نہیں ہو سکتا۔ اس طرح کی باتیں جب ہم سیکنڈری اور سینئر سیکنڈری سطح سے ہی مسلم طالب علموں کے ذہنوں میں ڈالیں گے تو یقیناً ان کے اندر ایک شوق اور جذبہ پیدا ہوگا۔ وہ یو پی ایس سی اور سول سروسز کی اہمیت و افادیت کو بھی بخوبی سمجھیں گے۔ اس کے ساتھ ہی اساتذہ اور والدین بھی ان طلبہ کی ذہن سازی میں اہم رول ادا کر سکتے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ سچر کمیٹی کی سفارشات سامنے آنے کے بعد ملت میں تعلیمی لحاظ سے بیداری پیدا ہوئی ہے اور بہت سے ادارے اور تنظیمیں اس سلسلہ میں مخلصانہ انداز میں کام بھی کر رہی ہیں۔ مسلم اکثریتی علاقوں میں تعلیم و تربیت کا انتظام بھی پہلے سے بہتر ہوا ہے، لیکن ابھی اس میں مزید کام کرنے اور اصلاحات کی ضرورت ہے۔ خاص طور پر مقابلہ جاتی امتحانات کے تعلق سے صاحب حیثیت لوگوں کو چاہئے کہ وہ ضرورت مند اور ہونہار ایسے طلبہ کی مدد کے لئے آگے آئیں جو وسائل اور پیسے کی قلت کے سبب اپنے مقاصد اور عزائم کو پورا کرنے میں ناکام رہ جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ملت کے بہی خواہ اور ذمہ دار افراد کو چاہئے کہ وہ مل کر بیٹھیں اور اس حوالے سے ایک جامع منصوبہ تیار کریں۔ بالآخر اس میں سب سے اہم کردار مسلم طالب علموں یا مسلم نوجوانوں کو ہی ادا کرنا ہوگا۔ ابھی وقت ہے کہ وہ اس سلسلہ میں سنجیدگی سے غور کریں اور اپنے آپ کو تعلیم کے لئے وقف کر دیں۔

یہاں تمہاری طرف کوئی یوں نہ دیکھے گا

یہ جادوؤں کا نگر ہے کمال کرتے رہو

(مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں)

[ادارے کا مضمون نگار کے آراء و افکار سے متفق ہونا ضروری نہیں]

کنہیا کمار اور عمر خالد: ایک سیاسی رہنما اور ایک "سیاسی قیدی”؟

0
کنہیا کمار اور عمر خالد: ایک سیاسی رہنما اور ایک "سیاسی قیدی"؟

یونیورسیٹی سیاست سے اپنی سرگرمیوں کا آغاز کرنے والے کنہیا کمار اور عمر خالد اپنے علیحدہ مقامات پر ہیں۔ ایک سیاسی رہنما بن چکا ہے تو دوسرا سلاخوں کے پیچھے ہے۔ دونوں میں فرق محض گناہ اور بے گناہی کا ہے یا کچھ اور؟

تحریر: مشتاق نوری

یہ کتنا عبرت ناک ہے اور افسوس ناک  بھی کہ کنہیا اور عمر خالد ایک ہی یونیورسٹی کے ہونہار طالب علم رہے۔ دونوں میں سیاست اور روایت کے خلاف آواز اٹھانے کا حوصلہ بہت تھا۔ دونوں نے ساتھ ساتھ ملک کے سرد و گرم کا تجربہ کیا۔ بگڑتے سنورتے حالات سے بہت کچھ سیکھا بھی۔ ان کے انقلابی نعروں کے سبب سیاست کا پارا چڑھتا اترتا بھی رہا۔ حکومت کی ناراضگیاں بھی جھیلیں۔ جب جواہرلعل نہرو یونیورسیٹی میں میڈیا کے پروپیگنڈے کے سبب کنہیا ملزم بنے تو عمر بھی لپیٹ میں آئے۔ اس نے قدم قدم پر کنہیا کا ساتھ دیا۔

معتبر ذرائع کی مانیں تو عمر خالد کی صلاحیتیں کنہیا سے کئی اعتبار سے زیادہ ہیں۔ عمر کئی لحاظ سے کنہیا سے بیس ہی ہے۔ بس دونوں کے نام میں فرق ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا نام کے اسی فرق کے سبب دونوں کے حالات علیحدہ ہیں؟

کنہیا اسی باغیانہ تیور کے سہارے کمیونسٹ پارٹی کے ٹکٹ پر بیگوسرائے سے لوک سبھا الیکشن لڑے اور ہار بھی گئے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے "اچھے دنوں” کا مذاق اڑاتے ہوئے خود اس کے اچھے دن آگئے۔ آج کانگریس کی گود میں جا بیٹھے۔

کنہیا کانگریس میں شامل

الیکشن ہارنے کے بعد جیسے دونوں کو ایک دوسرے کی ضرورت ہو۔ ایسا لگتا ہے کانگریس پہلے سے بانہیں پھیلائے کنہیا کی منتظر تھی۔ اپنی ڈوبتی نیا کو پار لگانے کے لیے جیسے راہ تک رہی تھی۔ راہل کی ناکامیوں نے تو کانگریس کی قبر ہی کھود دی تھی۔ اب وہ بھی کیا کرتی، کوئی تو چاہیے تھا جو اس کی سونی اجڑی مانگ میں پھر سے چٹکی بھر خوں رنگی سندور سجا دے۔ سو مل گیا۔

ادھر اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی عام رائے کہ بے چارا عمر خالد صرف نام کی وجہ سے جیل میں  سڑایا جارہا ہے۔ وہ بھی مبینہ ناکردہ گناہوں کی سزا۔ گناہ بے گناہی کی سزا کافی اذیت ناک ہوتی ہے۔ وہ ایسے جرم کی سزا بھگت رہا ہے جو طے ہی نہیں ہے جو اس نے کیا ہی نہیں۔ جسے آج کنہیا کی سطح کا لیڈر ہونا چاہیے وہ مبینہ طور پر محض اس لیے سلاخوں کے پیچھے دھکیلا گیا ہے کہ اس کا تعلق مذہب اسلام سے ہے۔ آج کنہیا کمار ترقی کی بلندیاں چھوتے جا رہے ہیں اور عمر خالد کو ٹھکانے لگانے کا سارا بندوبست کر دیا گیا ہے۔

یہ سیاست بھی بڑی عجیب چیز ہے۔ اپنی راہ کے روڑے کو کنارے لگانے سے دریغ نہیں کرتی۔ موجودہ سیاست میں وہ روڑا اگر مسلم نام والا ہے تو پہلی فرصت میں ٹھکانے لگایا جاتا ہے۔ یہ کتنا بھیانک ہے کہ آج کانگریس میں شامل ہو کر کنہیا اپنے سیاسی خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرنے میں تقریبا کامیاب ہوگیا ہے۔ اور عمر خالد کو اپنی قسمت پر اپنی قوم کی بے حسی پر خون کے آنسو رونا پڑ رہا ہے۔

نجیب جے این یو سے غائب

ان دونوں کا ایک اور باشعور باغیرت دوست، نام تھا نجیب۔ یہ انقلابی جدوجہد کا مالک اور اقبال کا تراشا گیا شاہین تھا۔ مگر اسے یونیورسٹی کیمپس سے غائب کر دیا گیا۔ نجیب کی ماں ہاتھ میں کلیجہ رکھے در بدر انصاف کے لیے بھٹکتی رہیں۔ چیخنے والی ماں تھک ہار کر اب بیٹھ گئی ہیں۔ پکارتے پکارتے ان کی اواز ہی گلے میں روندھ گئی۔ نجیب اب تو شاید نہیں آ سکتا۔ مگر کیا عمر جیسوں کو بھی جانے دیا جاۓ؟

آج کوئی ایسا نہیں جو عمر کی خبر گیری کرے؟ ایسا لگتا ہے جیسے سب نے اس سے پلہ جھاڑ لیا ہو۔ جیسے سب دامن بچا رہے ہوں۔ یہاں تک کہ ایک ہی مادر علمی سے تعلق رکھنے والے کنہیا بھی نام لینے سے کتراتے نظر آتے ہیں کہ کہیں ہندو سماج کے ٹھیکیدار ناراض نہ ہو جائیں۔ کیا یہ سچ نہیں کہ آج ہر میڈیا چینل کنہیا کمار کو کوریج دے رہا ہے۔ ان کے بیانات کو کو من و عن نشر کر رہا ہے۔ مگر کیا کسی نے بھی عمر جیسے لوگوں کے خلاف ہو رہی زیادتی پر سوال اٹھایا؟ کبھی میڈیا نے مسلم نام والے لوگوں کی بے گناہی پر بات کی؟ حقوق انسانی کے کارندوں نے کبھی اس کی خبر لی؟ سیکولرازم کا درس دینے والے کہیں حرکت میں نظر آئے؟

کنہیا کمار تو ترقی کی سیڑھی چڑھتے جائیں گے۔ کیوںکہ ان کا سماج ان کے ساتھ ہے۔ اب تو کانگریس بھی ان کی مائی باپ بن گئی۔ کسے خبر کل کو بھاجپا بھی پناہ گاہ بن جائے۔ وہ کانگریسی سے بھاجپائی بن جائے ۔ یہ سیاست ہے کچھ بھی خارج از امکان نہیں ہے۔ اور سیاست کو ایسے لوگوں کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔

بے گناہ نوجوان جیلوں میں بند

دہشت گردی کے الزام میں ہزاروں پڑھے لکھے مسلم نوجوان جیلوں میں سڑائے گئے۔ جیلوں میں ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک روا رکھا گیا۔ انہیں ایسے گناہوں کا عتاب جھیلنا پڑا جو ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں رہا۔ لمبے عرصے تک انصاف کے نام پر وکیلوں کی جرح کا رسمی ڈرامہ ہوتا رہا۔ تاریخ پر تاریخ آتی رہی۔ ان کے رشتے دار، بچے، والدین منتظر رہے کہ اب انصاف ملے گا تب انصاف ملے گا مگر ایسا نہ ہونا تھا نہ ہوا۔ اسی بے رحم آپا دھاپی میں کسی کے سترہ سال نکل گئے۔ کسی کے پچیس سال تو کسی کے بائیس سال۔ کسی نے جیل میں ہی دم توڑ دیا۔ اخیر میں عدالت نے یہ کہہ کر احسان کیا کہ ملزم فلاں کے خلاف کوئی ثبوت نہ ہونے کے سبب عدالت اسے باعزت بری کرتی ہے۔

کیا "باعزت بری” کرنا؟ ہہ بھی کیسا  فرمان ہے جس کے آنے میں ملزم کو اپنی زندگی کے قیمتی بیس پچیس سال جیل میں گزارنے پڑے۔ جب جیل گئے تھے تن و مند جوان تھے۔ جب جیل کی چہار دیواری سے باہر آئے تو جوانی کی بہاریں ہوا ہوچکی تھیں۔ بڑھاپے نے پیر پسار لیے تھے۔

یوپی کا ایک بے گناہ ملزم

شاید آپ کو یاد ہوگا یوپی کا ایک نوجوان اسی دہشت گردی کیس میں جیل گیا تھا، اس کی شادی کے زیادہ دن بھی نہیں گزرے تھے۔ بیوی حاملہ ہوگئی اور وہ جیل چلا گیا۔ پچیس سال بعد جب باعزت بری کا آرڈر آیا تو اس کے بیٹے کو ایک بیٹا ہوچکا تھا۔ سوچیے یہ کس قدر درد ناک لمحہ ہوگا۔ کیا ان جیسے لوگوں کے درد و کرب کو ہم محسوس نہیں کرتے؟ قتل صرف یہ نہیں ہے کہ آپ کسی پر ہتھیار سے وار کر کے سانسیں چھین لیں بلکہ سانسوں کے لیے وینٹلیٹر پر پڑے شخص کو بروقت رسپائریٹوری انہیلر نہ دینا بھی قتل ہی تو ہے۔

وہ زہر دیتا تو سب کی نگہ میں آ جاتا

سو یہ کیا کہ مجھے وقت پہ دوائیں نہ دیں

محسن کش قوم نے کبھی یہ کوشش نہیں کی کہ سرکار سے، عدلیہ سے ان جیسے بے گناہ لوگوں کے قیمتی ماہ و سال کا ہرجانہ مانگ لیا جائے۔ سوچ کر چپ رہنا کہ وہ سالہا سال جو جیل کی کال کوٹھری کی نذر ہوگئے وہ لوٹائے نہیں جاسکتے تو پھر مسلم قوم کے لڑکے کب تک کسی کے جنونی تجربہ کا ذریعہ بنی رہیں؟

یہاں ہر کسی کو اپنی پڑی ہے کسی کو کسی کے بننے بگڑنے سے کوئی سروکار نہیں۔ عمر و شرجیل جیسے لوگوں کے ساتھ بھی ایسا ہو سکتا ہے۔ آپ کے ساتھ بھی اور میرے ساتھ بھی۔ کیوں کہ ہم با غیرت و باہمت نوجوانوں کے لیے لڑنے والا کوئی نہیں ہے۔ سماج میں تماش بین تو بہت ہیں۔ یہ بے حس بے شعور قوم کی علامت ہے۔ بے حس قوم اپنے جاں بازوں، دلیروں کو بے سہارا چھوڑ کر خود کو غیروں کے رحم و کرم پر ڈال لیتی ہے۔ کیفی اعظمی نے کہا تھا کہ

کوئی تو سود چکائے کوئی تو ذمہ لے

اس انقلاب کا جو آج تک ادھار سا ہے

[ادارے کا مضمون نگار کے آراء و افکار سے متفق ہونا ضروری نہیں]

پٹرول 25 پیسے اور ڈیزل 30 پیسے فی لیٹر ہوا مہنگا

0
پٹرول 25 پیسے اور ڈیزل 30 پیسے فی لیٹر ہوا مہنگا

خام تیل کے تین سال کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے باوجود گھریلو سطح پر جمعرات کے روز ڈیزل 30 پیسے اور پٹرول 25 پیسے فی لیٹر مہنگا ہوگیا۔

نئی دہلی: بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کے تین سال کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے باوجود گھریلو سطح پر جمعرات کے روز ڈیزل 30 پیسے اور پٹرول 25 پیسے فی لیٹر مہنگا ہوگیا۔ کل ان دونوں کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی۔

منگل کے روز ڈیزل 25 پیسے فی لیٹر اور پٹرول 22 دنوں کے بعد 20 پیسے فی لیٹر مہنگا ہوگیا۔ ڈیزل کی قیمت گزشتہ سات دنوں میں سے پانچ دن میں 1.25 روپے فی لیٹر بڑھی ہے۔

یورپ میں توانائی کے بحران کی وجہ سے خام تیل میں مسلسل ساتویں دن اضافے کے بعد کل نرمی رہی۔ گزشتہ روز امریکی مارکیٹ میں کاروبار کے اختتام پر بریٹ کروڈ 2.25 ڈالر فی بیرل گر کر 78.64 ڈالر اور امریکی کروڈ کمی کے ساتھ 74.83 ڈالر فی بیرل پر رہا۔

آئل مارکیٹنگ کمپنی انڈین آئل کارپوریشن کے مطابق دہلی میں پٹرول 101.64 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 89.87 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا۔

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا یومیہ جائزہ لیا جاتا ہے اور اسی بنیاد پر ہر روز صبح 6 بجے سے نئی قیمتیں لاگو کی جاتی ہیں۔ ملک کے چار بڑے شہروں میں آج پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں مندرجہ ذیل ہیں:

شہر —————  پٹرول     ————— ڈیزل

دہلی ————— 101.64 —————— 89.87

ممبئی————— 107.71 —————— 97.52

چنئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 99.36 -—————- 94.45

کولکتہ ———— 102.17 —————— 92.97

بنگال ضمنی انتخابات: مغربی بنگال میں تین اسمبلی نشستوں کے لیے ووٹنگ جاری

0
بنگال ضمنی انتخابات: مغربی بنگال میں تین اسمبلی نشستوں کے لیے ووٹنگ جاری
بنگال ضمنی انتخابات: مغربی بنگال میں تین اسمبلی نشستوں کے لیے ووٹنگ جاری

مغربی بنگال میں بھوانی پور، شمشیر گنج اور جنگی پور اسمبلی نشستوں پر ضمنی انتخابات کے لیے ووٹنگ جمعرات کی صبح 7 بجے شروع ہوئی۔

کولکتہ: مغربی بنگال میں بھوانی پور، شمشیر گنج اور جنگی پور اسمبلی نشستوں پر ہو رہے ضمنی انتخابات کے لیے جمعرات کی صبح 7 بجے ووٹنگ شروع ہوئی۔ ان تمام نشستوں پر کورونا پروٹوکول پر عمل کرتے ہوئے شام ساڑے چھ بجے تک ووٹ ڈالے جائیں گے۔

بھوانی پور میں 98 پولنگ مراکز میں 287 بوتھ قائم کیے گئے ہیں۔ ان میں سے 269 اہم بوتھ ہیں۔ ہر بوتھ کے باہر 200 میٹر کے علاقہ تک دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے۔ بھوانی پور اسمبلی حلقہ میں کل 2،06،456 ووٹر ہیں۔ ان میں سے 95،209 مرد اور 95،209 خواتین ووٹر ہیں۔

ریاستی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی ترنمول کانگریس کے ٹکٹ پر اپنی قسمت آزما رہی ہیں۔ وہیں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے پرینکا ٹبریوال کو انتخابی میدان میں اتارا ہے، جبکہ مارکسی کمیونسٹ پارٹی (سی پی آئی ایم) شری جیو وشواس اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔

بھوانی پور حلقہ کے تمام بوتھ کو حساس قرار دیا گیا ہے۔ ان میں سے 13 بوتھ ہائی الرٹ زون میں رکھے گئے ہیں۔

انتخابات کے پیش نظر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ حالیہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے انتظامیہ نے نیم فوجی دستوں کی مزید 20 کمپنیاں بڑھا دی ہیں۔ بھوانی پور میں اب نیم فوجی دستوں کی 35 کمپنیاں گشت کر رہی ہیں۔ ای وی ایم کی حفاظت کے لیے تین اضافی کنٹرول روم قائم کیے گئے ہیں اور 141 گاڑیاں تعینات کی گئی ہیں۔ سخاوت میموریل اسکول میں دو سٹرانگ روم بنائے گئے ہیں۔

کولکتہ پولیس ہیڈ کوارٹر لال بازار شہر کی سیکیورٹی کے حوالے سے سخت

کولکتہ پولیس ہیڈ کوارٹر لال بازار شہر کی سیکیورٹی کے حوالے سے سخت ہے۔ بدھ سے یہاں اضافی فورسز کو تعینات کردیا ہے۔ مرکزی فورسز کے ساتھ کولکاتہ پولیس آج بھوانی پور حلقہ میں چوکس ہے۔ جوائنٹ کمشنر آف پولیس رینک کے پانچ اور 14 ڈپٹی کمشنر اور 14 اسسٹنٹ کمشنروں کو بھوانی پور کی سیکیورٹی کے لیے تعینات کیا گیا ہے۔

وہیں نو اسٹرائیکنگ فورس، 13 کیو آر ٹی وین، نو فلائنگ سکواڈ اور آر اے ایف کو تیار کیا گیا ہے۔ آر اے ایف میں خواتین افسران بھی شامل ہیں۔ سیکیورٹی فورسز کے اہلکار ندی پر مسلسل گشت کر رہے ہیں۔ پولیس 38 مقامات پر تلاشی لے رہی ہے۔ آج صبح 5.30 بجے سے 100 ٹریفک افسران کو تعینات کیا گیا ہے۔ صرف بھوانی پورحلقہ میں سات ناکے لگائے گئے ہیں۔ وہیں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے بائک پولیس کی ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ بھوانی پور کے بیشتر وارڈوں میں بدھ کے روز دن بھر بارش ہوئی تھی۔ ایسی صورتحال میں الیکشن کمیشن نے آفت سے نمٹنے کے لیے کئی حفاظتی اقدامات کیے ہیں۔ ای وی ایم کو پانی میں بھیگنے سے بچانے کے لیے شفاف پولی تھین بیگ فراہم کیے گئے ہیں۔ انتخابی اراکین کو رین کوٹ فراہم کیے گئے ہیں۔

چین نے افغانستان کو انسانی بنیادوں پر امدادی سامان کی ایک کھیپ سونپ دی

0
چین نے افغانستان کو انسانی بنیادوں پر امدادی سامان کی ایک کھیپ سونپ دی
چین نے افغانستان کو انسانی بنیادوں پر امدادی سامان کی ایک کھیپ سونپ دی

چین کی طرف سے عطیہ کئے گئے امدادی سامان کی ایک کھیپ بدھ کی رات کابل بین الاقومی ہوائی اڈے پر پہنچی

کابل: چین نے انسانی بنیادوں پر ہنگامی امدادی سامان کی ایک کھیپ افغانستان کو سونپ دی ہے۔

چین کی طرف سے عطیہ کئے گئے امدادی سامان کی ایک کھیپ بدھ کی رات کابل بین الاقومی ہوائی اڈے پر پہنچی، جہاں پر افغانستان میں چین کے سفیر وانگ یو نے ایک تقریب کے دوران اس سامان کو افغانستان کے پناہ گزین امور کے وزیر خلیل الرحمٰن کوسونپا۔

اس دوران مسٹر وانگ نے کہا کہ بہت سی مشکلات کے درمیان چین کم وقت میں افغانستان کے لیے انسانی بینادوں پر امدادی سامان کا انتظام کرنے میں کامیاب رہا۔ جس میں کمبل، سردیوں میں استعمال کئے جانے والے جیکٹس اور دیگر سامان شامل ہے، جس کی افغانستان کے لوگوں کو فوری ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین افغانستان کو اشیائے خوردنی سمیت دیگر امدادی سامان فراہم کرتا رہے گا۔

وہیں حقانی نے اس وقت مشکلات کا سامنا کر رہے افغانستان کے لوگوں کے لیے ہنگامی امدادی سامان فراہم کرنے پر چین کا شکریہ ادا کیا۔

واضح رہے کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق افغانستان میں لڑائی کی وجہ سے اس سال کے اوائل سے اب تک 6،34،000 سے زائد لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔ وہیں 2012 کے بعد سے تقریبا 55 55 لاکھ افراد ہجرت کر چکے ہیں۔

اگر امریکہ نے افغانستان کی فضائی حدود میں ڈرون حملے بند نہ کیے تو سنگین نتائج ہوں گے: طالبان

0
اگر امریکہ نے افغان فضائی حدود میں ڈرون حملے بند نہ کیے تو سنگین نتائج ہوں گے: طالبان
اگر امریکہ نے افغان فضائی حدود میں ڈرون حملے بند نہ کیے تو سنگین نتائج ہوں گے: طالبان

امریکہ نے افغان فضائی حدود میں ڈرون حملے کرکے امارت اسلامیہ (طالبان) کے تمام بین الاقوامی حقوق، قوانین اور قطر کی راجدھانی دوحہ میں اس کے ساتھ کئے گئے اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

کابل: طالبان نے بدھ کو امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے افغان فضائی حدود میں ڈرون حملے بند نہ کیے تو اس کے ’شدید منفی نتائج‘ ہوں گے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ٹوئٹر پر ایک بیان میں کہا ہے کہ”اسلامی امارات افغانستان‘ افغانستان کی واحد قانونی اکائی کے طور پر یہاں کی زمین اور فضائی حدود کا نگہبان ہے۔ ہم نے حال ہی میں دیکھا ہے کہ امریکہ نے افغانستان کے مقدس فضائی حدود پر اپنے ڈرون جہازوں سے حملہ کرکے امارت اسلامیہ (طالبان) کے تمام بین الاقوامی حقوق، قوانین اور قطر کی راجدھانی دوحہ میں اس کے ساتھ کئے گئے اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ ان خلاف ورزیوں پر روک لگائی جانی چاہئے۔‘‘

مسٹر مجاہد نے بتایا کہ "ہم تمام ممالک بالخصوص امریکہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ افغانستان کے ساتھ بین الاقوامی حقوق، قوانین اور وعدوں کی روشنی میں اور کسی بھی منفی نتائج سے بچنے کے لیے باہمی احترام اور عزم کے ساتھ عمل کریں۔”

امریکہ نے افغانستان میں دو ڈرون حملے اسلامک اسٹیٹ خراسان دہشت گرد تنظیم کو نشانہ بناکر کئے گئے تھے۔ جو 26 اگست کو کابل ایئرپورٹ پر مہلک خودکش حملے کا ذمہ دار تھا جس میں 13 امریکی فوجیوں سمیت 200 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

دریں اثنا 29 اگست کو ایک امریکی ڈرون حملے میں 7 بچوں سمیت 10 عام شہری ہلاک ہوئے جس نے پورے ملک میں غم و غصے کو جنم دیا۔ امریکی فوج نے اس واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے افسوسناک غلطی قرار دیا تھا۔

صحت مند معاشرے کیلئے جسمانی صحت بھی ضروری، قومی اردو کونسل میں تقسیم ِ یونانی ادویات کیمپ میں ڈائریکٹر این سی پی یو ایل کا اظہار خیال

0
صحت مند معاشرے کیلئے جسمانی صحت بھی ضروری، قومی اردو کونسل میں تقسیم ِ یونانی ادویات کیمپ میں ڈائریکٹر این سی پی یو ایل کا اظہار خیال
صحت مند معاشرے کیلئے جسمانی صحت بھی ضروری، قومی اردو کونسل میں تقسیم ِ یونانی ادویات کیمپ میں ڈائریکٹر این سی پی یو ایل کا اظہار خیال

قومی اردو کونسل میں تقسیم ِ یونانی ادویات کیمپ میں پروفیسر شیخ عقیل احمد نے کہا کہ صحت وہ انمول شئی ہے جس کے بغیر اچھی اور پُرلطف زندگی کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔

نئی دہلی: انسانی زندگی میں صحت کی اہمیت خاص طور پر کورونا عہد کے دوران صحت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے قومی اردو کونسل میں تقسیم ِ یونانی ادویات کیمپ میں ڈائریکٹر این سی پی یو ایل پروفیسر شیخ عقیل احمد نے کہا کہ صحت وہ انمول شئی ہے جس کے بغیر اچھی اور پُرلطف زندگی کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔

یہ بات انہوں نے سینٹرل کونسل فار ریسرچ اِن یونانی میڈیسن کی جانب سے قومی اردو کونسل کے صدر دفتر میں تقسیم یونانی ادویات کیمپ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ بابائے قوم مہاتما گاندھی نے کہا تھا کہ ”صحت ہی زندگی ہے“ اس لیے صحت مند معاشرے کے لیے جسمانی صحت بھی بہت ضروری ہے۔ ملک کے لوگ جس قدر صحت مند ہوں گے اسی قدر ملک کی خدمت بہتر طور پر انجام دے پائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مرکزی وزارت آیوش حکومت ہند کی طرف سے صحت بیداری مہم اور قوت مدافعت میں اضافہ کرنے والی ادویات کی تقسیم کا یہ عمل قابل تبریک و تحسین ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کا واضح مطلب ہے کہ ہندوستانی حکومت عوام کی صحت کے تئیں نہایت حساس اور بیدار ہے۔ اس لیے صحت کے محاذ پر مستعد اور متحرک ہے۔ یوگا اور فٹ انڈیا جیسے پروگرام بھی اسی بیداریِ صحت کا حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مہم سے ہمارے ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی جی کے ’صحت مشن‘ کا خواب بھی پورا ہوگا۔

مفت دوائیوں کی تقسیم کے اس عمل کے بہت مفید نتائج سامنے آئیں گے

قومی اردو کونسل کے ڈائریکٹر نے مرکزی وزارت آیوش حکومت ہند اور سی سی آر یو ایم کے ڈائریکٹر جنرل پروفیسر عاصم علی خان اور ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر راحت رضا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مفت دوائیوں کی تقسیم کے اس عمل کے بہت مفید نتائج سامنے آئیں گے۔

واضح رہے کہ مرکزی وزارتِ آیوش حکومت ہند کی طرف سے آزادی کا امرت مہوتسو کی مناسبت سے 75 ہفتوں تک قوت مدافعت میں اضافہ کرنے والی یونانی ادویات پورے ملک میں بانٹی جائیں گی۔ قومی اردو کونسل میں ادویات کی تقسیم ڈاکٹر دانش چشتی اور ڈاکٹر نعمان خان کی نگرانی میں عمل میں آئی اور اس میں ذاکر حسین اور محمد صدام نے معاونت کی۔

ڈائریکٹر این سی پی یو ایل کی ذاتی دلچسپی لینے کی وجہ سے کئی جگہوں پر بھی دوائیاں تقسیم کی جا رہی ہیں۔ جہاں پر تقسیم کا پروگرام نہیں تھا اور اسی فہرست میں قومی کونسل برائے فروغ سندھی زبان کے افسران اور ملازمین بھی ہیں جنہیں جلد ہی یونانی بوسٹر دوائیں پہنچا دی جائیں گی۔

دلت بندھو اسکیم: سابق وزیر و بی جے پی لیڈر ای راجندر کے خلاف دلتوں کا دھرنا

0
دلت بندھو اسکیم: سابق وزیر و بی جے پی لیڈر ای راجندر کے خلاف دلتوں کا دھرنا

دلت بندھو اسکیم جس کے تحت ہر دلت کے بینک کھاتہ میں ناقابل واپسی دس لاکھ روپئے کی رقم حکومت کی جانب سے جمع کروائی جا رہی ہے

حیدرآباد: دلتوں کو بااختیار بنانے اور ان کو اونچا اٹھانے کے لئے تلنگانہ حکومت کی جانب سے حال ہی میں شروع کردہ باوقار دلت بندھو اسکیم جس کے تحت ہر دلت کے بینک کھاتہ میں ناقابل واپسی دس لاکھ روپئے کی رقم حکومت کی جانب سے جمع کروائی جا رہی ہے کو روکنے کے لئے سابق وزیر و بی جے پی لیڈر ای راجندر کے الیکشن کمیشن کو مکتوب پر دلتوں نے ان کے خلاف احتجاج کیا۔

دلتوں نے اس مسئلہ پر ای راجندر پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس اسکیم کو روکنے کی خواہش کرنے کا حق ای راجندر کو نہیں ہے۔ ان دلتوں نے کریم نگر کے وینوونکا منڈل کے ولبھ پور، مامڈی پلی، جمی کنٹہ شاہراہ پر بڑے پیمانہ پر دھرنا دیا اور ای راجندر کے خلاف نعرے بازی کی۔

انہوں نے انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ دلت بندھو کو روکنے کی کوشش پر ای راجندر کی شکست یقینی ہے۔ اس دھرنے میں خواتین اور نوجوانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

واضح رہے کہ ای راجندر کو تلنگانہ کی کابینہ سے اراضیات پر غیر مجاز قبضوں کے الزامات پر برطرف کردیا گیا تھا جس کے بعد انہوں نے ٹی آر ایس کے ساتھ ساتھ اپنے حلقہ حضورآباد سے استعفی دے دیا تھا اور بی جے پی میں شمولیت اختیار کی تھی جس کے بعد اس حلقہ کا ضمنی انتخاب لازمی ہوگیا ہے۔

اسٹاک مارکیٹ فروخت کے دباؤ کی وجہ سے گر گئی

0
اسٹاک مارکیٹ فروخت کے دباؤ کی وجہ سے گر گئی
اسٹاک مارکیٹ فروخت کے دباؤ کی وجہ سے گر گئی

عالمی سطح پر موصول ہونے والے منفی اشاروں کے ساتھ ساتھ گھریلو سطح پر چو طرفہ فروخت کے دباؤ کے باعث اسٹاک مارکیٹ بدھ کو گر گئی۔

ممبئی: عالمی سطح پر موصول منفی اشاروں کے ساتھ ہی گھریلو سطح پر ہو رہی چو طرفہ فروخت کے دباؤ کے باعث بدھ کے روز اسٹاک مارکیٹ گر گئی۔ بی ایس ای کا 30 حصص کا حساس انڈیکس سینسیکس 450 پوائنٹس سے زیادہ اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی بھی 110 سے زائد پوائنٹس کی گراوٹ کے ساتھ کاروبار کر رہا ہے۔

سینسیکس 371 پوائنٹس کی گرواٹ کے ساتھ 59296.54 پوائنٹس پر کھلا۔ اس کے بعد یہ ایک بار پھر 59419.01 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا لیکن اس کے بعد شروع ہونے والی فروخت سے ابھر نہیں پایا۔ بھاری منافع وصولی کی وجہ سے 59111.41 پوائنٹس کی کم ترین سطح پر آگیا۔ تاہم اس کے بعد خریداری دیکھی گئی، جس کی وجہ سے سینسیکس 416.25 پوائنٹس پھسل کر 5951.35 پوائنٹس پر کاروبار کر رہا ہے۔

این ایس ای کا نفٹی فروخت کے دباؤ میں گرکر 17657.95 پوائنٹس پر کھلا۔ کھلنے کے فورا بعد یہ 17689.30 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ لیکن منافع وصولی کے دباؤ میں یہ 17،608 پوائنٹس کی کم ترین سطح تک کمزور ہو گیا۔ ابھی یہ 90 پوائنٹس پھسل کر 17657.80 پوائنٹس پر کاروبار کر رہا ہے۔