اتوار, اکتوبر 4, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 304

چین اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پی 5 کا اجلاس جلد از جلد بلانا چاہتا ہے

0
چین اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پی 5 کا اجلاس جلد از جلد بلانا چاہتا ہے
چین اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پی 5 کا اجلاس جلد از جلد بلانا چاہتا ہے

اقوام متحدہ میں چین کے مستقل نمائندے ژانگ جون نے کہا ہے کہ روس، چین اور فرانس نے سلامتی کونسل پی 5 کا اجلاس بلانے کی تجویز پیش کی ہے۔

اقوام متحدہ: چین نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پی 5 یعنی روس، چین، امریکہ، فرانس اور برطانیہ کا جلد از جلد اجلاس بلانے کی منشا ظاہر کی ہے۔

اقوام متحدہ میں چین کے مستقل نمائندے ژانگ جون نے کہا ہے کہ روس، چین اور فرانس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پی 5 کا اجلاس بلانے کی تجویز پیش کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ چوٹی کانفرنس کا ایجنڈا ابھی تک تیار نہیں کیا گیا ہے اور اس کے انعقاد کا فیصلہ نہیں لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں کام جاری رہے گا۔

پنجاب: نوجوت سدھو کے استعفیٰ سے کانگریس حیران 

0
پنجاب: نوجوت سدھو کے استعفیٰ سے کانگریس حیران 
پنجاب: نوجوت سدھو کے استعفیٰ سے کانگریس حیران 

اچانک آج پارٹی عہدہ سے پارٹی صدر نوجوت سدھو کے استعفیٰ دینے کے واقعہ نے سب کو حیران کر دیا۔

چنڈی گڑھ: پنجاب کانگریس میں ہنگامہ آرائی کے کچھ ہی دن ہوئے تھے کہ اچانک آج پارٹی عہدہ سے پارٹی صدر نوجوت سدھو کے استعفیٰ دینے کے واقعہ نے سب کو حیران کر دیا۔

پارٹی ذرائع کے مطابق کانگریس میں ہر چیز کو مکمل طور پر ٹھیک نہیں کہا جا سکتا لیکن یہ کسی حد تک ٹھیک ہوگیا تھا۔ مسٹر سدھو کی قیادت میں کچھ وزراء اور ایم ایل اے کی شروع کی گئی مہم کامیاب رہی تھی اور انہوں نے کیپٹن امریندر سنگھ کو وزیر اعلیٰ کے عہدے سے ہٹوا دیا۔ پتہ نہیں وزیر اعلیٰ کسے بننا تھا لیکن تاج چرنجیت سنگھ چنی کے سر سجا اور وزرا کو لے کر اعلی کمان کی عدالت میں دو بار جانا پڑا۔ سخت محنت کے بعد وزراء کے ناموں کا فیصلہ کیا جاسکا۔

ایسا لگتا ہے کہ سب کچھ جو سدھو چاہتے تھے ان کے مطابق نہیں ہو رہا تھا۔ یہاں تک کہ وزراء کے ناموں پر رضامندی سے لے کر محکموں کی تقسیم اور انتظامی اور پولیس افسران میں ردوبدل تک اسے پسند نہیں آیا، یہ حیران کن واقعہ پیش آیا۔

اب آگے کیا ہوتا ہے، یہ تو وقت ہی بتائے گا

پنجاب میں کانگریس کو مضبوط کرنا اور اقتدار میں واپس آنا اتنا آسان نہیں جتنا اس کے لیڈر مانتے تھے۔ اگر پارٹی کی عزت بچانے کے معاملے کو سنجیدگی سے لیا جاتا تو یہ سیاسی ترقی نظر نہ آتی۔ اب آگے کیا ہوتا ہے، یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ مسٹر سدھو اپنا استعفیٰ واپس لیں گے یا نہیں۔

پارٹی کے لوگ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ انہوں نے کانگریس صدر سونیا گاندھی کو ایک خط میں یہ کیوں لکھا کہ "سمجھوتہ انسان کے کردار کے زوال کا باعث بنتا ہے اور میں پنجاب کے مستقبل اور عوام کی بھلائی پر کبھی سمجھوتہ نہیں کر سکتا۔” تاہم ایک کارکن کی حیثیت سے میں کام کرتا رہوں گا اور میں کانگریس کے ریاستی صدر کے عہدے سے استعفی دے رہا ہوں۔‘‘

کنہیا کمار اور جگنیش میوانی کانگریس میں شامل

0
کنہیا کمار اور جگنیش میوانی کانگریس میں شامل
کنہیا کمار اور جگنیش میوانی کانگریس میں شامل

کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے لیڈر کنہیا کمار اور گجرات سے رکن اسمبلی اور راشٹریہ دلت ادھیکار منچ کے کنوینر جگنیش میوانی آج کانگریس میں شامل ہوگئے۔

نئی دہلی: جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹس یونین کے سابق صدر اور کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کے لیڈر کنہیا کمار اور گجرات سے رکن اسمبلی اور راشٹریہ دلت ادھیکار منچ کے کنوینر جگنیش میوانی آج کانگریس میں شامل ہوگئے۔

کانگریس ہیڈکوارٹر میں مسٹر کنہیا کمار اور جگنیش میوانی پارٹی میں شامل ہوئے۔ دونوں کا پارٹی کا پٹکا ڈال کر استقبال کیا گیا۔

اس دوران کانگریس کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے کہا کہ یہ بہت خوشی کا لمحہ ہے کہ کنہیا کمار اور جگنیش میوانی جی ہمارے درمیان ہیں۔ دونوں کے کانگریس میں شامل ہونے سے پارٹی کو ملک میں نئی توانائی ملے گی۔ ملک میں فاسسٹ طاقتوں کے خلاف مضبوطی سے لڑائی لڑنے میں مدد ملے گی۔

اس دوران پارٹی کے لیڈر رندیپ سنگھ سرجے والا، بھکت چرن داس اور ہاردک پٹیل موجود تھے۔

مسٹر کنہیا کمار بہار کے بیگو سرائے کے رہنے والے ہیں۔ انہوں نے بیگو سرائے پارلیمانی سیٹ سے سی پی ایم کی ٹکٹ پر لو ک سبھا کا الیکشن لڑا تھا لیکن بی جے پی کے سینئر لیڈر گری راج سنگھ سے بڑے فرق سے شکست کھا گئے تھے۔ جگنیش میوانی شمالی گجرات کمیں بناس کانٹھا ضلع کے وڈگام اسمبلی حلقہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ انہوں نے 2017 کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی حمایت سے سیٹ جیتی تھی۔

دونوں لیڈروں کے پارٹی میں شامل ہونے سے پہلے کانگریس کے سینئر لیڈر منیش تیواری نے کنہیا کمار کے پارٹی میں شامل ہونے پر سوال کھڑے کئے۔ منیش تیواری نے ٹویٹ کرکے کہا کہ کچھ کمیونسٹ لیڈروں کے کانگریس میں شامل ہونے کی قیاس آرائی ہے۔ اب شاید 1973 کی کتاب ’کمیونسٹس ان کانگریس‘ کے صفحات پھر سے پلٹے جائیں۔ لگتا ہے کہ چیزیں جتنی زیادہ بدلتی ہیں، وہ اتنا ہی پہلے کی طرح بنی رہتی ہیں۔ آج اسے پھر سے پڑھتا ہوں۔

بھارتیہ جنتا پارٹی نے کانگریس کو نشانہ بنایا

بھارتیہ جنتا پارٹی نے بھی کنہیا اور جگنیش کے بہانے کانگریس کو نشانہ بنایا۔ بی جے پی کے لیڈر امت مالویہ نے ٹویٹ کرکے کہا کہ سرجیکل اسٹرائک کی برسی پر کانگریس ’بھارت تیرے ٹکڑے ہوں گے‘ والے کنہیا کمار اور جگنیش میوانی کو قبول کررہی ہے۔ یہ کوئی اتفاق نہیں ہے۔ ہندوستان کے ٹکڑے کرنے والوں کے ساتھ ہاتھ ملانا کانگریس کی عادت ہے۔

شمالی کشمیر: اوڑی سیکٹر میں دراندازی کی کوشش ناکام، ایک دہشت گرد ہلاک، ایک گرفتار

0
شمالی کشمیر: اوڑی سیکٹر میں دراندازی کی کوشش ناکام، ایک دہشت گرد ہلاک، ایک گرفتار
شمالی کشمیر: اوڑی سیکٹر میں دراندازی کی کوشش ناکام، ایک دہشت گرد ہلاک، ایک گرفتار

شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے اوڑی سیکٹر میں دراندازی کی ایک کوشش ناکام بناتے ہوئے ایک دہشت گرد کو ہلاک جبکہ دوسرے کو گرفتار کیا ہے۔

سری نگر: فوج نے شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے اوڑی سیکٹر میں دراندازی کی ایک کوشش ناکام بناتے ہوئے ایک دہشت گرد کو ہلاک جبکہ دوسرے کو گرفتار کیا ہے۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ فوج نے اوڑی سیکٹر میں ایل او سی پر دہشت گردوں کے ایک گروپ کو دراندازی کرنے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھا۔

انہوں نے بتایا کہ فوج کی طرف سے چلینج کئے جانے پر دہشت گردوں نے اندھا دھند فائرنگ کرنا شروع کر دی جس کی فوج نے جوابی کارروائی اور نتیجتاً طرفین کے درمیان تصادم چھڑ گیا۔

مذکورہ ذرائع نے بتایا کہ تصادم آرائی کے دوران ایک دہشت گرد ہلاک جبکہ دوسرے کو گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس دوران چار فوجی اہلکار بھی زخمی ہوگئے۔

قابل ذکر ہے کہ گذشتہ دس دنوں کے دوران یہ دہشت گردوں کی طرف سے دراندازی کرنے کی تیسری کوشش ہے۔

قبل ازیں 18 اور 19 ستمبر کی درمیانی شب دہشت گردوں کی ایک کوشش کو ناکام بنا دیا گیا تھا اس دوران دو فوجی اہلکار زخمی ہوگئے تھے جبکہ دہشت گرد واپس بھاگنے میں کامیاب ہوئے تھے۔

اس کے بعد اوڑی سیکٹر میں چند روز قبل ہی سیکیورٹی فورسز نے تین دراندازوں کو ہلاک کر دیا تھا۔

ڈیزل ایک بار پھر 25 پیسے اور پٹرول 20 پیسے فی لیٹر مہنگا

0
ڈیزل ایک بار پھر 25 پیسے اور پٹرول 20 پیسے فی لیٹر مہنگا

ڈیزل مسلسل تیسرے دن 25 پیسے فی لیٹر اور پٹرول 22 دنوں بعد 20 پیسے فی لیٹر مہنگا ہوگیا

نئی دہلی: بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل تین ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کا اثر گھریلو مارکیٹ پر نظر آرہا ہے۔ جہاں ڈیزل مسلسل تیسرے دن 25 پیسے فی لیٹر اور پٹرول 22 دنوں بعد 20 پیسے فی لیٹر مہنگا ہوگیا ہے۔ گزشتہ پانچ دنوں میں سے چار دن میں ڈیزل کی قیمت میں 95 پیسے فی لیٹر اضافہ ہوگیا ہے۔

اس اضافے کے بعد دارالحکومت دہلی میں ڈیزل 89.57 روپے فی لیٹر اور پٹرول 101.39 روپے فی لیٹر ہو گیا ہے۔ ڈیزل کی قیمت میں جمعہ کو 20 پیسے فی لیٹر، اتوار کو 25 پیسے، پیر کو 25 پیسے اور پھر منگل کو بھی 25 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ اس طرح پانچ دنوں میں سے چار دنوں میں 95 پیسے کا اضافہ ہوچکا ہے۔

گزشتہ پانچ ستمبر کو پٹرول کی قیمت میں 15 پیسے فی لیٹر کی کٹوتی کی گئی تھی اور اس کے بعد یہ 101.19 روپے فی لیٹر پر مستحکم تھا لیکن آج اس میں بھی 20 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔

آئل مارکیٹنگ کمپنی انڈین آئل کارپوریشن کے مطابق دہلی میں پٹرول 101.39 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 89.57 روپے فی لیٹر رہا۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تیزی

امریکہ کے تیل ذخائر کے تین سال کی کم ترین سطح پر آنے اور قدرتی گیس کی پیداوار میں کمی کی وجہ سے گزشتہ ہفتے سے ہی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تیزی بنی ہوئی ہے۔ کل ٹریڈنگ کے دوران یہ تین ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ پیر کے روز بریٹ کروڈ 79 ڈالر فی بیرل کی سطح کو عبور کر کے 79.53 ڈالر فی بیرل اور امریکی کروڈ بڑھ کر 75.43 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا ہے۔

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا روزانہ جائزہ لیا جاتا ہے اور اسی بنیاد پر ہر روز صبح 6 بجے سے نئی قیمتوں کا اطلاق ہوتا ہے۔

شہر کا نام —— پٹرول————ڈیزل

دہلی————101.39————89.57
ممبئی————107.47 ———97.21
چنئی————99.15————94.17
کولکاتہ———101.87————92.67

افغانستان کے مستقل نمائندے اسحق زئی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب سے قبل نام واپس لے لیا

0
افغانستان کے مستقل نمائندے اسحق زئی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب سے قبل نام واپس لے لیا
افغانستان کے مستقل نمائندے اسحق زئی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب سے قبل نام واپس لے لیا

پاکستانی اخبار ڈان کی رپورٹ کے مطابق مسٹر اسحق زئی کا نام پیر کو خطاب کرنے والوں کی فہرست سے ہٹا دیا گیا۔

اقوام متحدہ: اقوام متحدہ میں افغانستان کے مستقل نمائندے غلام اسحق زئی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنے خطاب سے پہلے اپنا نام واپس لے لیا۔

مسٹر اسحق زئی کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو اس کے 76 ویں سیشن کے آخری دن پیر کو خطاب کرنا تھا، لیکن اس سے پہلے ہی انہوں نے اپنا نام واپس لے لیا۔ سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کے ترجمان سٹیفن ڈوجارک نے پیر کو اس کی تصدیق کی۔

پاکستانی اخبار ڈان کی رپورٹ کے مطابق مسٹر اسحق زئی کا نام پیر کو خطاب کرنے والوں کی فہرست سے ہٹا دیا گیا۔ مسٹر ڈوجارک نے کہا ‘‘افغانستان نے عام بحث میں اپنی شرکت واپس لے لی ہے‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسٹر اسحق زئی نے اپنے خطاب سے نام واپس لینے کی کوئی وجہ نہیں بتائی۔

واضح رہے کہ طالبان نے گذشتہ ہفتے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کو ایک خط لکھا تھا، جس میں افغانستان کے نئے وزیر خارجہ عامر خان متقی کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی کارروائی میں شرکت کی اجازت دینے کی گزارش کی گئی تھی۔ خط میں زور دیکر کہا گیا کہ مسٹر اسحق زئی اب عالمی ادارے میں افغانستان کی نمائندگی نہیں کرتے ہیں۔

طالبان کی جانب سے مسٹر گوتریس کو تحریر کئے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ طالبان نے اپنے دوحہ میں قائم دفتر کے ترجمان سہیل شاہین کو اقوام متحدہ میں افغانستان کا مستقل نمائندے کے طور پر نامزد کیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ مسٹر غلام اسحق زئی افغانستان کی منتخب حکومت کے مستقل نمائندے تھے۔

بھارت بند کے پیش نظر ڈی ایم آر سی نے شری رام شرما اسٹیشن کے داخلی اور خارجی دروازے کئے بند

0
بھارت بند کے پیش نظر ڈی ایم آر سی نے شری رام شرما اسٹیشن کے داخلی اور خارجی دروازے کئے بند
بھارت بند کے پیش نظر ڈی ایم آر سی نے شری رام شرما اسٹیشن کے داخلی اور خارجی دروازے کئے بند

ڈی ایم آر سی کا یہ فیصلہ سنیکت کسان یونینوں کی جانب سے مرکز کے تین زرعی قوانین کے خلاف کئے گئے ‘بھارت بند’ کے پیش نظرکیا گیا ہے

نئی دہلی: دہلی میٹرو ریل کارپوریشن (ڈی ایم آر سی) نے پیر کو بتایا کہ زرعی قوانین کے خلاف کئے گئے ‘بھارت بند’ کے پیش نظر گرین لائن پر پنڈت شری رام شرما میٹرو اسٹیشن کے داخلی اور خارجی دروازوں کو سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر بند کر دیا گیا ہے۔

ڈی ایم آر سی کا یہ فیصلہ سنیکت کسان یونینوں کی جانب سے مرکز کے تین زرعی قوانین کے خلاف کئے گئے ‘بھارت بند’ کے پیش نظر کیا گیا ہے، جو آج صبح 6 بجے سے شام 4 بجے تک جاری رہے گا۔

ڈی ایم آر سی نے صبح ٹویٹ کیا کہ "سیکیورٹی وجوہات کے پیش نظر پنڈت شری رام شرما میٹرو اسٹیشن کے داخلی اور خارجی دروازہ کو بند کر دیا گیا ہے۔”

دریں اثنا، دہلی ٹریفک پولیس نے بھی ٹویٹ کیا کہ "بھارت بند کی وجہ سے ٹی پوائنٹ سبھاش پارک کیریج وے (دریا گنج-لال قلعہ) تا نیتا جی سبھاش مارگ کو بند کردیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ "غازی پور بارڈر کو دونوں اطراف سے آنے اور جانے والی گاڑیوں کے لیے روک دیا گیا ہے۔ اتر پردیش آنے اور جانے والے مسافر ڈی این ڈی، وکاس مارگ، سگنیچر برج، وزیر آباد روڈ وغیرہ استعمال کر سکتے ہیں۔ مہاراج پور بارڈر، اپسرا اور بھوپورہ بارڈر سے اترپردیش جانے والی گاڑیوں کے لیے قومی شاہراہ -24 اور قومی شاہراہ -9 پر ٹریفک کو روڈ نمبر 56 کی طرف موڑ دیا گیا ہے۔”

سینسیکس 60412 پوائنٹس کی ریکارڈ سطح پر، نفٹی 18 ہزار کے قریب

0
سینسیکس 60412 پوائنٹس کی ریکارڈ سطح پر، نفٹی 18 ہزار کے قریب
سینسیکس 60412 پوائنٹس کی ریکارڈ سطح پر، نفٹی 18 ہزار کے قریب

سینسیکس اب ریکارڈ سطح 60412.32 پوائنٹ پر اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی بھی خریداری کی بدولت 18 ہزار کی جانب بڑھتے ہوئے 17943.50 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ گیا۔

ممبئی: ریلائنس انڈسٹریز، ٹاٹا اسٹیل اور بینکنگ گروپ میں خریداری کی بدولت شروعاتی کاروبار میں ہی سینسیکس اب ریکارڈ سطح 60412.32 پوائنٹ پر اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی بھی خریداری کی بدولت 18 ہزار کی جانب بڑھتے ہوئے 17943.50 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ گیا۔

بی ایس ای کا 30 حصص والا سینسیکس 255 پوائنٹس کے اضافے سے 60303.79 پوائنٹس پر کھلا اور دیکھنے ہی دیکھتے یہ اب تک 60412.32 پوائنٹس کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا ہے۔ تاہم، یہ اس سطح پر زیادہ دیر تک ٹک نہیں سکا اور منافع وصولی کے دباؤ کے نیچے اترنے لگا جس سے یہ 60 ہزار پوائنٹ کی سطح سے نیچے 59982.60 پوائنٹ پر آ گیا۔ اس کی دوبارہ خریداری کی بنیاد پر یہ فی الحال 21.68 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 60070.15 پوائنٹس پر کاروبار کر رہا ہے۔

این ایس ای کا نفٹی خریداری کے زور پر 17932.20 پوائنٹس پر کھلا۔ اس کے فوراً بعد یہ 17943.50 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ گیا لیکن اس کے بعد فروخت ہوئی، جس کی وجہ سے یہ 17822.25 پوائنٹ کی نچلی سطح پر آ گیا۔ ابھی یہ 12 پوائنٹس کی کمی سے 17841.10 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہا ہے۔

کسانوں کے بھارت بند کے پیش نظر دہلی میں سخت چوکسی، لال قلعے کے گرد نقل و حرکت بند

0
کسانوں کے بھارت بند کے پیش نظر دہلی میں سخت چوکسی، لال قلعے کے گرد نقل و حرکت بند
کسانوں کے بھارت بند کے پیش نظر دہلی میں سخت چوکسی، لال قلعے کے گرد نقل و حرکت بند

کسانوں کے بھارت بند کے پیش نظر دارالحکومت دہلی میں لال قلعہ اور پارلیمنٹ کی طرف جانے والے کئی راستوں پر عام گاڑیوں کی آمدورفت پر احتیاطی اقدام کے طور پر آج صبح عارضی طور پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔

نئی دہلی: کسانوں کے بھارت بند کے پیش نظر دارالحکومت دہلی میں پیر کو سخت حفاظتی نگرانی کی جارہی ہے۔

لال قلعہ اور پارلیمنٹ کی طرف جانے والے کئی راستوں پر عام گاڑیوں کی آمدورفت پر احتیاطی اقدام کے طور پر آج صبح عارضی طور پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ جس کی وجہ سے لال قلعہ اور انڈیا گیٹ کے اطراف سے گزرنے والے راہگیروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ دہلی کے لال قلعے کے نزدیک سے اکثر گزر نے والے ماڈل ٹاؤن کے رہائشی اشوک کمار اور دلیپ سنگھ سمیت کئی لوگوں نے بتایا کہ سڑک کی ناکہ بندی کے بارے میں پہلے کوئی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔ ٹریفک پولیس کو اس بارے میں پہلے ہی آگاہ کر دینا چاہیے تھا۔

وہیں نئی دہلی کے علاوہ بیرونی دہلی، مشرقی اور شمال مشرقی اضلاع میں بھی اضافی پولیس فورس کی تعیناتی کے ساتھ ٹریفک کی خصوصی نگرانی کی جا رہی ہے۔ کسانوں کے احتجاجی مقامات ٹکری اور غازی پور بارڈر سمیت ہریانہ اور اترپردیش سے دہلی میں داخلے کے تمام راستوں پر اضافی پولیس فورس تعینات کی گئی ہے۔ دہلی پولیس کے علاوہ سیکیورٹی کے لیے مرکزی نیم فوجی دستوں کے اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

دہلی پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ صبح 10 بجے تک کہیں سے بھی کسی ناخوشگوار واقعہ رپورٹ نہیں ملی ہے۔ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے دہلی میں مناسب سیکیورٹی فورسز تعینات کی گئی ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اگرچہ انڈیا گیٹ، وجے، آئی ٹی او اور پارلیمنٹ اسٹریٹ کے علاقوں میں کسی مظاہرے کی کوئی پیشگی اطلاع نہیں ہے اور نہ ہی کوئی خفیہ اطلاع ملی ہے۔ تاہم احتیاطی تدابیر کے طور پر پورے علاقے میں اضافی پولیس فورس تعینات کرکے خصوصی سیکیورٹی نگرانی کی جا رہی ہے۔

کسان مورچے کی اپیل پر آج بھارت بند کا انعقاد

متحدہ کسان مورچے کی اپیل پر آج بھارت بند کا انعقاد صبح 6 بجے سے شام 4 بجے تک کیا گیا ہے۔ اپوزیشن کانگریس، بائیں بازو کی جماعتوں، راشٹریہ جنتا دل، وائی ایس آر کانگریس سمیت کئی سیاسی جماعتوں نے پہلے ہی اس تحریک کی حمایت کا اعلان کردیا تھا۔

کسانوں کی تحریک میں تقریباً تمام بڑی سیاسی جماعتوں کی حمایت کے پیش نظر پولیس دارالحکومت میں خصوصی چوکسی برت رہی ہے۔ جی ٹی روڈ، روہتک روڈ، اکشردھام، نوئیڈا لنک روڈ، ڈی این ڈی فلائی اوور، غازی پور روڈ، وزیر آباد روڈ سمیت قومی دارالحکومت کی کئی بڑی سڑکوں پر پولیس خصوصی نظر رکھے ہوئے ہے۔ سادہ وردی میں پولیس فورس کی ایک بڑی تعداد جگہ جگہ تعینات کی گئی ہے۔

کسان یونینوں کی بھارت بند مہم: ہم نے کوئی راستہ سیل نہیں کیا ہے: ٹکیت

0
کسان یونینوں کی بھارت بند مہم: ہم نے کوئی راستہ سیل نہیں کیا ہے: ٹکیت
کسان یونینوں کی بھارت بند مہم: ہم نے کوئی راستہ سیل نہیں کیا ہے: ٹکیت

مرکزی حکومت کے تین نئے زرعی قوانین کی مخالفت کررہی کسان یونینوں کی بھارت بند مہم صبح 6:00 بجے شروع ہوگئی ہے۔ کسان لیڈر راکیش ٹکیت نے کہا کہ ہم نے کوئی راستہ سیل نہیں کیا ہے۔ ہم صرف ایک پیغام دینا چاہتے ہیں۔ ہم دکانداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ابھی اپنی دکانیں بند رکھیں اور شام 4 بجے کے بعد کھولیں

نئی دہلی: مرکزی حکومت کے تین نئے زرعی قوانین کی مخالفت کررہی کسان یونینوں کی بھارت بند مہم صبح 6:00 بجے شروع ہوگئی ہے، جس کے سبب کئی جگہوں پر ٹریفک رکاوٹوں کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں۔

کسان تنظیموں کی جانب سے بھارت بند کے پیش نظر اترپردیش سے دہلی کے غازی پور بارڈر کی جانب سے داخل ہونے والی ٹریفک روکا گیا ہے۔ قومی دارالحکومت دہلی میں، لال قلعہ کے اطراف چوکسی بڑھا دی گئی ہے اور اس کی طرف جانے والے کچھ راستے بند کردیئے گئے ہیں۔

اس دوران کسان لیڈر راکیش ٹکیت نے ایک بیان میں کہا کہ ایمبولینس، ڈاکٹر اور ہنگامی وجوہات کے سبب سفر کرنے والوں کو گزرنے کی گزرنے دیا جائے گا۔ ہم نے کوئی راستہ سیل نہیں کیا ہے۔ ہم صرف ایک پیغام دینا چاہتے ہیں۔ ہم دکانداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنی دکانیں ابھی بند رکھیں اور شام 4 بجے کے بعد کھولیں۔

وہیں کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے کسانوں کی تحریک کی حمایت میں ٹوئٹر پر لکھا، کسانوں کا عدم تشدد ستیہ گرہ آج بھی برقرار ہے، لیکن استحصال پسند حکومت کو یہ پسند نہیں ہے۔

واضح رہے کہ تقریباً 40 تنظیموں کے متحدہ کسان مورچہ نے پیر کی صبح 6:00 بجے سے شام 4:00 بجے تک ملک بھر میں جگہ جگہ دھرنے اور مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔

کانگریس اور کچھ دیگر اپوزیشن جماعتوں نے کسانوں کے بھارت بند کی حمایت کی

کانگریس اور کچھ دیگر اپوزیشن جماعتوں نے کسانوں کے بھارت بند کی حمایت کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی مرکزی وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے کسانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ایجی ٹیشن کا راستہ ترک کرکے بات چیت کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کریں۔

کسانوں کے آج کے احتجاج کے پیش نظر مختلف مقامات پر ٹریفک میں خلل پیدا ہونے کا امکان ہے۔ ہریانہ ، اتر پردیش اور دہلی سمیت کئی دیگر ریاستوں کی پولیس نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے ہیں۔