اتوار, اکتوبر 4, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 297

آرین خان اٹھارہ روز بعد والد شاہ رخ سے ملے

0
آرین خان اٹھارہ روز بعد والد شاہ رخ سے ملے
آرین خان اٹھارہ روز بعد والد شاہ رخ سے ملے

آرتھر روڈ جیل میں قید بالی ووڈ سپر اسٹار شاہ رخ خان کے بیٹے آرین خان کو جمعرات کے روز اپنے والد سے ملنے کا موقع ملا۔

ممبئی: کروز میں ہوئی ریو پارٹی کے تعلق سے آرتھر روڈ جیل میں قید بالی ووڈ سپر اسٹار شاہ رخ خان کے بیٹے آرین خان کو جمعرات کے روز اپنے والد سے ملنے کا موقع ملا۔ اس دوران باپ بیٹے نے 20 منٹ اکٹھے گزارے۔

دونوں کی یہ ملاقات ریاستی حکومت کے ذریعہ جیل میں بند اپنے خاندان کے ممبران سے ملنے کے لئے عائد کی گئی پابندی میں رعایت دئے جانے کے بعد ہوئی۔ اس سے دو ہفتے قبل آرین اپنی والدہ گوری خان سے ملے تھے۔ پھر جب 15 اکتوبر کو کوارنٹائن مدت ختم ہونے کے بعد انہیں جنرل بیرک میں بھیجا گیا تھا، تب انہوں نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ والدین سے بات کی تھی۔

قابل ذکر ہے کہ دو اکتوبر کو نارکوٹکس کنٹرول بیورو (این سی بی) کے ذریعہ حراست میں لئے گئے آرین خان کی ضمانت کی درخواست پر جمعرات کو بامبے ہائی کورٹ میں سماعت ہونے والی ہے۔ این سی بی نے 23 سالہ آرین کو باضابطہ طور سے 3 اکتوبر کو گرفتار کیا تھا۔

این سی بی حراست میں پہلے کچھ دنوں تک رہنے کے بعد انہیں عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا اور پھر 8 اکتوبر کو جیل کے قرنطینہ مرکز منتقل کر دیا گیا تھا۔

اس معاملے میں آرین سمیت دو دیگر ملزمان کی ضمانت کی درخواست کو عدالتوں نے کئی بار خارج کردیا ہے۔ ایک مقامی عدالت کے علاوہ این ڈی پی اے کی خصوصی عدالت نے بھی ان کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ اب آرین کے وکلاء نے نچلی عدالت کے حکم کو چیلنج کرتے ہوئے ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔

مرکزی ملازمین کے مہنگائی بھتے میں 3 فیصد اضافے کا فیصلہ

0
مرکزی ملازمین کے مہنگائی بھتے میں 3 فیصد اضافے کا فیصلہ
مرکزی ملازمین کے مہنگائی بھتے میں 3 فیصد اضافے کا فیصلہ

وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں کابینہ میں لیے گئے اس فیصلہ سے مرکزی سرکار کے 47.14 لاکھ ملازمین اور 68.62 لاکھ پنشنرز مستفید ہوں گے

نئی دہلی: حکومت نے مرکزی ملازمین اور پنشنرز کو دیوالی کا تحفہ دیتے ہوئے مہنگائی بھتے اور مہنگائی راحت میں تین فیصد کا اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں کابینہ میں لیے گئے اس فیصلہ سے مرکزی سرکار کے 47.14 لاکھ ملازمین اور 68.62 لاکھ پنشنرز مستفید ہوں گے اور اس سے خزانے پر 9488.70 کروڑ روپے کا بوجھ پڑے گا۔

مہنگائی اور راحت بھتے کی موجودہ شرح بنیادی تنخواہ/پنشن کا 28 فیصد ہے۔ ملازمین کو آج کے فیصلے کے بعد تین فیصد اضافی بھتہ ملے گا۔

ملک میں 100 کروڑ ویکسینیشن مکمل ہونے پر شاہ نے مودی کو دی مبارکباد

0
ملک میں 100 کروڑ ویکسینیشن مکمل ہونے پر شاہ نے مودی کو دی مبارکباد
ملک میں 100 کروڑ ویکسینیشن مکمل ہونے پر شاہ نے مودی کو دی مبارکباد

مرکزی وزیر امت شاہ نے وزیر اعظم مودی کی قیادت میں ملک میں 100 کروڑ ویکسینیشن مکمل ہونے کے موقع پر پوری قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے انہوں نے اس لمحہ کو تاریخی اور قابل فخر لمحہ قرار دیا ہے۔

نئی دہلی: داخلہ اور کوآپریٹو کے مرکزی وزیر امت شاہ نے وزیر اعظم مودی کی قیادت میں ملک میں 100 کروڑ ویکسینیشن مکمل ہونے کے موقع پر پوری قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے انہوں نے اس لمحہ کو تاریخی اور قابل فخر لمحہ قرار دیا ہے۔

شاہ نے ٹویٹ کیا ’’تاریخی اور قابل فخر لمحہ! آج ہندوستان نے 100 کروڑ سے زیادہ کورونا ویکسین لگانے کا ہدف حاصل کرکے ایک ریکارڈ بنایا ہے۔  نریندر مودی کی ویژنری قیادت اور مسلسل حوصلہ افزائی سے جس نے پوری دنیا کو نئے ہندوستان کی بے پناہ صلاحیتوں سے دوبارہ متعارف کرایا ہے۔

داخلہ و کوآپریٹو کے وزیر نے ملک کے تمام سائنسدانوں، محققین اور صحت کے کارکنوں کا اس کامیابی کے حصول میں ان کے تعاون پر شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ اس تاریخی کامیابی پر پوری قوم کو مبارکباد۔ میں ان تمام سائنسدانوں، محققین اور ہیلتھ ورکرز کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے بہت سے چیلنجز پر قابو پاتے ہوئے اور اس مہایگیہ میں حصہ ڈالنے کیلئے مودی جی کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، جو ہر شخص کی حفاظت اور صحت کے لیے پرعزم ہیں۔

ہندوستانی فضائیہ کا مراج لڑاکا طیارہ مدھیہ پردیش میں گر کر تباہ

0
ہندوستانی فضائیہ کا مراج لڑاکا طیارہ مدھیہ پردیش میں گر کر تباہ
ہندوستانی فضائیہ کا مراج لڑاکا طیارہ مدھیہ پردیش میں گر کر تباہ

ہندوستانی فضائیہ کا ایک مراج لڑاکا طیارہ مدھیہ پردیش کے بھنڈ علاقے میں گر کر تباہ ہوگیا۔

نئی دہلی: ہندوستانی فضائیہ کا ایک مراج لڑاکا طیارہ جمعرات کو مدھیہ پردیش کے بھنڈ علاقے میں گر کر تباہ ہوگیا۔ تاہم خوش قسمتی سے پائلٹ بروقت محفوظ طریقے سے طیارہ سے بچ نکلنے میں کامیاب رہا۔

فضائیہ کے ترجمان نے جمعرات کو بتایا کہ مراج لڑاکا طیارے نے صبح معمول کی تربیتی پرواز کی تھی لیکن یہ تکنیکی خرابی کی وجہ سے مرکزی سیکٹر میں گر کر تباہ ہوگیا۔ انہوں نے بتایا کہ طیارے کا پائلٹ بحفاظت نکلنے میں کامیاب رہا۔

حادثے کی وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی ہے تاہم ایئر فورس نے کورٹ آف انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔

تفصیلات کا ابھی انتظار ہے۔

عراق انتخابات: نتائج سے حزب اختلاف غیر مطمئن لیکن روشن امکانات متوقع

0
عراق انتخابات: نتائج سے حزب اختلاف غیر مطمئن لیکن روشن امکانات متوقع
عراق انتخابات: نتائج سے حزب اختلاف غیر مطمئن لیکن روشن امکانات متوقع

عراق انتخابات کے نتائج سے حزب اختلاف بھلے ہی مطمئن نہ ہو، لیکن باقی دنیا میں مقتدیٰ الصدر کی کامیابی کو عراق کے لیے تازہ ہوا کا جھونکا سمجھا جا رہا ہے

تحریر: ڈاکٹر یامین انصاری

میں خوبصورتی، علم و فضل حکمت و دانشمندی کا گہوارہ رہی ہے۔ عراق اسلام اور مسلمانوں کی علمی، دینی، سیاسی، مہتم بالشان تاریخ کی حامل سر زمین بھی ہے۔ یہی وہ سر زمین ہے جہاں امام حسن بصری، رابعہ بصری، حضرت غوث الاعظم شیخ عبد القادر جیلانی، شیخ شہاب الدین سہروردی، سیدالطائفہ جنید بغدادی، ذوالنون مصری نے اسلام، عرفان و تصوف کی آبیاری کی۔ یہی وہ سر زمین ہے جہاں عباسیوں نے دنیا کی سب سے بڑی طاقت کی حیثیت سے ایک ایسی عظیم الشان سلطنت کا مرکز بنایا۔

عراق ہی وہ سر زمین ہے جس کا انتخاب چوتھے خلیفہ راشد حضرت علی ؓ نے مدینہ منورہ کے بعد اسلامی دارالسلطنت کی شکل میں کیا۔ یہیں وہ تاریخ بھی رقم ہوئی، جس میں نواسہ رسول، اہل بیت اور ان کے رفقا کو دریائے فرات کے کنارے کربلا کے میدان میں شہید کر دیا گیا۔ یہاں کے ہوش رُبا طلسماتی محلات کی آرائش و زیبائش، شعر و سخن اور الف لیلوی قصے بھی تاریخ میں اپنا اہم مقام رکھتے ہیں۔ بابل کے باغات اور دیگر مختلف قسم کے حسن و جمال عراق کا طرہ امتیاز رہے ہیں۔

اس کے ساتھ ہی عراق کی تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ یہاں کی تباہی و بربادی کی داستانیں بھی کم قابل ذکر نہیں ہیں۔ یہاں بار بار ہلاکؤوں، چنگیزوں اور امریکیوں کی شکل میں مختلف قسم کے طوفان نازل ہوتے رہے۔ تاریخی علم و فضل کی نادر کتابوں سے پُر بغداد کی لائبریریاں، عراق کے طول و عرض کو معطر رکھنے والے دجلہ و فرات کی فرحت بخش ہوائیں، بلند و بالا عمارتیں اور عراق کی تابناکی باہری طاقتوں سے کبھی برداشت نہ ہو سکی۔ غرض یہ کہ اس حسین و خوبصورت اور شان و شوکت والے ملک کو بار بار تہس نہس کیا گیا۔ جتنی بار اس کی تباہی و بربادی کی داستان لکھی گئی، اتنی ہی بار عراقی قوم نے نسل در نسل چلنے والی خداداد صلاحیتوں اور اپنی استعداد کی بنیاد پر اس خون آلود مٹی کو زرخیز کر دیا۔

عراق کی سیاسی، معاشی و سماجی، تہذیبی و ثقافتی صورت حال

تاریخ نے اور باہری طاقتوں نے عراق میں ظلم و بربریت کی جو بھی داستانیں لکھیں، لیکن دور حاضر میں اپنوں نے بھی یہاں تباہی و بربادی کے کم نشانات نہیں چھوڑے ہیں۔ پچھلی چند دہائیوں کے حالات و واقعات پر نظر ڈالنے سے ہی یہاں کی صورت حال سامنے آ جاتی ہے۔ راقم الحروف نے 2016 میں اپنے عراق دورے کے دوران عراق کی سیاسی، معاشی و سماجی، تہذیبی و ثقافتی صورت حال کو کتابوں سے نکل کر اپنی آنکھوں سے دیکھا تو تصویر اور بھی واضح طور پر سامنے آئی۔ باہری طاقتوں نے براہ راست حملہ آور ہو کر یہاں تباہی و بربادی کی جو خونی داستان رقم کی وہ اپنی جگہ، لیکن ان ہی باہری طاقتوں کے آلہ کار بن کر اندرونی طاقتوں نے عراق کی تہذیب و ثقافت اور تاریخ کو جس طرح تہس نہس کیا وہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔ مسلکی نفاق اور کچھ سیاسی طالع پسندوں کے اپنے مفسدانہ عزائم نے عراق کو خون آلود کر دیا۔

2003 میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے بیجا حملوں اور صدام حسین کے اقتدار کے خاتمے کے بعد عراق مسلسل انار کی اور غیر یقینی صورت حال سے دو چار ہے۔ سیاسی عدم استحکام یہاں کا مقدر بن چکا ہے۔ فرقہ وارانہ اور مسلکی خطوط پر تقسیم ہو چکے عراق میں اب تک کوئی ایسی سیاسی قیادت سامنے نہیں آ سکی ہے جو اس ناسور کو ختم کر سکے۔ 2003 کے بعد قائم ہونے والی حکومتوں نے یا تو اس سلسلہ میں کوئی پیش قدمی نہیں کی یا پھر انہیں کامیابی نہیں ملی۔

عراق انتخابات میں شیعہ مذہبی پیشوا مقتدیٰ الصدر کی جماعت ایک بڑی فاتح

حال ہی میں یہاں پارلیمانی انتخابات منعقد کئے گئے ہیں۔ ان انتخابات میں شیعہ مذہبی پیشوا مقتدیٰ الصدر کی جماعت ایک بڑی فاتح کے طور پر سامنے آئی ہے۔ ان کی جماعت نے 70 سے زیادہ نشستیں جیت لی ہیں۔ سابق وزیر اعظم نوری المالکی کی قیادت والی جماعت دوسرے نمبر پر ہے۔ انتخابی نتائج کے بعد بہت ممکن ہے کہ مقتدیٰ الصدر عراق کی باگ ڈور سنبھال لیں۔ پارلیمانی انتخابات کے ابتدائی نتائج سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ 2019 میں عراق میں بے روزگاری، مہنگائی اور ارباب اقتدار کی مالی بدعنوانیوں کے خلاف احتجاجی تحریک سے ابھرنے والے اصلاحات کے حامی امیدواروں نے 329 رکنی پارلیمنٹ میں کئی نشستیں حاصل کرلی ہیں۔ مگر ایران کی حمایت یافتہ جماعتوں کو انتخابات میں دھچکا لگا ہے اور انھوں نے 2018 میں منعقدہ گذشتہ انتخابات کے مقابلے میں کم نشستیں حاصل کی ہیں۔

واضح رہے کہ ایران کی حمایت یافتہ شیعہ جماعتوں سے وابستہ مسلح ملیشیا پر مظاہرین کی ہلاکتوں کے الزامات عاید کیے گئے تھے۔ ان ملک گیر مظاہروں میں کم سے کم 600 افراد شیعہ ملیشیا گروپوں کی تشدد آمیز کارروائیوں میں ہلاک ہوگئے تھے۔ مقتدیٰ الصدر کے زیر قیادت اتحاد نے 2018 کے انتخابات میں 54 نشستیں جیتی تھیں اور حکومتوں کی تشکیل میں ان کا کردار اہم رہا تھا۔ در اصل مقتدیٰ الصدر کو ایک معتدل، بے باک اور اصلاح پسند لیڈر سمجھا جاتا ہے۔ وہ عراق میں کسی بھی قسم کی غیرملکی مداخلت کے مخالف ہیں، خواہ وہ امریکہ کی طرف سے ہو، جس کے خلاف انھوں نے 2003 کے بعد محاذ آرائی کی تھی یا ہمسایہ ملک ایران کی طرف سے، جس کی انھوں نے عراق کی سیاست میں مداخلت پر تنقید کی ہے۔ مقتدیٰ الصدر اگر ایران کے دورے کرتے ہیں تو انھیں سعودی عرب جانے میں بھی کوئی قباحت نہیں ہے۔

مقتدیٰ الصدر کے انتخابی اتحاد کی کامیابی کا ایک مثبت پہلو

مقتدیٰ الصدر کے انتخابی اتحاد کی کامیابی کا ایک مثبت پہلو یہ بھی ہے کہ اس سے عراق کے دیگر عرب ممالک سے تعلقات میں مزید بہتری کے امکانات ہیں، کیوں کہ مقتدیٰ الصدر کا جھکاؤ اپنے پیش رو نوری المالکی اور حیدر العبادی کی طرح ایران کی طرف بہت زیادہ نہیں ہے۔ گزشتہ سال جولائی میں مقتدیٰ الصدر نے سعودی عرب کا دورہ بھی کیا تھا۔ اس کے علاوہ وہ سابق وزرائے اعظم حیدر العبادی اور نوری المالکی کے سخت ناقد بھی ہیں، ان کے بقول ان دونوں وزرائے اعظم نے ملک میں فرقہ وارانہ سیاست کی مضبوط بنیادیں رکھ کر عراق کو غیر معمولی نقصان پہنچایا ہے۔

راقم الحروف نے اپنے دورہ عراق کے دوران عراق کی اہم سیاسی و مذہبی شخصیات سے ملاقات کے دوران اس فرقہ واریت کو محسوس بھی کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ مقتدیٰ الصدر کو ایک امید کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ عراق ہی نہیں، باقی دنیا بھی محسوس کر رہی ہے کہ 2003 کے بعد عراق میں جس طرح کے دگرگوں حالات پیدا ہوئے ہیں، ان سے مقتدیٰ الصدر ہی آسانی سے نکال سکتے ہیں۔ سابقہ قیادتوں نے پوری دنیا کو مایوس کیا ہے۔ سیاسی عدم استحکام کے ساتھ عراق کے سامنے داعش نامی عفریت کا چیلنج بھی ہے۔ سابقہ حکومتوں نے بھلے ہی داعش کو کافی حد تک کنٹرول کرنے میں کامیابی حاصل کی، لیکن ابھی بھی اس کا چیلنج اور خطرہ برقرار ہے۔ اس خطرے سے نمٹنا کسی بھی سیاسی قیادت کے لئے آسان نہیں ہوگا۔

عراق میں صدام حسین کے زوال کے بعد پانچ پارلیمانی انتخابات مکمل

عراق میں صدام حسین کے زوال کے بعد پانچ پارلیمانی انتخابات ہو چکے ہیں۔ 2003 میں امریکہ کی قیادت میں فوجی اتحاد کی عراق پر چڑھائی اور سنی صدر صدام حسین کا تختہ الٹنے کے بعد شیعہ گروپوں اور جماعتوں کا حکومت اور حکومت سازی کے عمل میں پلڑا بھاری رہا ہے، لیکن ان سب کے باوجود عراقیوں کی زندگیوں میں خوشحالی اور امن و سکون نہیں آ سکا۔ ملک کا بنیادی ڈھانچا پوری طرح تباہ ہو چکا ہے۔ علاج و معالجے اور تعلیم کا نظام ناقص ہے، نوجوانوں کو روزگار کے مواقع میسر نہیں ہیں، عوام کو بجلی، پانی اور سڑک جیسی بنیادی چیزوں کی قلت کا سامنا ہے۔ ایسے میں ایک مضبوط، مستحکم اور غیر جانبدار حکومت ہی عراق کو ترقی اور خوشحالی کے راستے پر لے جا سکتی ہے۔

(مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں) [email protected]

اگلے ہفتے بدل سکتا ہے فیس بک کا نام

0
اگلے ہفتے بدل سکتا ہے فیس بک کا نام
اگلے ہفتے بدل سکتا ہے فیس بک کا نام

فیس بک اگلے ہفتے کمپنی کا نام تبدیل کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔

واشنگٹن: سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ فیس بک اگلے ہفتے کمپنی کا نام تبدیل کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔

امریکی ٹیک بلاگ ’دی ورج‘ نے اپنی رپورٹ میں ایک ذرائع کے حوالے سے یہ اطلاع دی ہے۔ فیس بک کے نام میں ممکنہ تبدیلی میٹاورس بنانے کی کمپنی کے منصوبوں کی عکاسی کرتی ہے۔ معروف ٹیکنالوجی کمپنی کا مقصد ہے کہ کمپنی کو سوشل میڈیا کے ذریعے زیادہ پہچانا جائے اور اس کی خامیوں کو دور کیا جائے۔

’دی ورج‘ کی رپورٹ کے مطابق فیس بک کی ری برانڈنگ کے ذریعہ مختلف سوشل میڈیا ایپس جیسے پلیٹ فارم جیسے فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ کو ایک چھتری کے نیچے لایا جا سکتا ہے۔

فیس بک کے نام تبدیلی کے حوالہ سے فیس بک کے ترجمان نے رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

ترنمول ایم ایل اے گوتم پال کو مدعو نہ کئے جانے پر اتردیناجپور کا سرسید ڈے منسوخ

0
ترنمول ایم ایل اے گوتم پال کو مدعو نہ کئے جانے پر اتردیناجپور کا سرسید ڈے منسوخ

17 اکتوبر کو علی گڑھ مسلم یونیورسیٹی کے بانی سرسید احمد خان کی یوم پیدائش پر سرسید ڈے کا انعقاد کیا جاتا ہے جس میں عموما اے ایم یو الیومنی ہی شامل ہوتے ہیں، لیکن کبھی کبھی مقامی عہدیداران کو بھی مدعو کیا جاتا ہے۔ اس تقریب میں ریاستی وزیر برائے اقلیتی امور و مدرسہ تعلیم جناب غلام ربانی بھی اہم شرکا میں شامل تھے جو خود اے ایم یو الیومنی ہیں۔

اسلام پور: مغربی بنگال کے ضلع اتر دیناج پور کے دالکولہ شہر میں سرسید ڈے کا اہتمام 17 اکتوبر کو کیا جانا تھا لیکن اسے 16 اکتوبر دیر رات منسوخ کرنا پڑا۔ کہا جاتا ہے اسٹیج تیار تھا، رضاکاران بھی حاضر تھے، چائے ناشتہ کا بھی معقول انتظام تھا، اسٹیج کے چاروں اطراف غباروں اور گلدستوں سے سجایا گیا تھا، لیکن آخری لمحات میں تقریب منسوخ کر دی گئی، کیونکہ کرندیگھی اسمبلی حلقہ سے منتخب ترنمول کانگریس کے ایم ایل اے جناب گوتم پال کا نام دعوت نامہ میں نہیں تھا۔

17 اکتوبر کو علی گڑھ مسلم یونیورسیٹی کے بانی سرسید احمد خان کی یوم پیدائش پر صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں اے ایم یو کے فارغین کے ذریعہ سرسید ڈے کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ اس پروگرام میں عموما علی گڑھ مسلم یونیورسیٹی کے فارغین ہی شامل ہوتے ہیں، لیکن کبھی کبھی دیار و اطراف کے کچھ اہم عہدیداران کو بھی مدعو کیا جاتا ہے۔

آخری لمحات میں ایونٹ کی منسوخی پر تنازعہ

اتوار کو علی گڑھ تحریک کے بانی سر سید احمد خان کی اس 204 ویں سالگرہ پر علی گڑھ کے سابق طلبا نے سرسید ڈے کے طور پر منانے کے لیے الیومنی تقریب کا اہتمام کیا تھا۔ اس موقع پر مغربی بنگال کے کابنیہ کے وزیر غلام ربانی کو بھی شامل ہونا تھا جو خود علی گڑھ مسلم یونیورسیٹی کے فارغ ہیں۔ آخری لمحات میں ایونٹ کی منسوخی پر تنازعہ ہوگیا۔

منتظمین میں سے کچھ لوگوں نے شکایت کی کہ ان کے لوگوں نے دھمکی دی کہ وہ تقریب منعقد نہیں کریں گے کیونکہ کرندھیگی ایم ایل اے گوتم پال کا نام دعوت نامے میں نہیں تھا۔ تقریب منسوخ کردی گئی تاکہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔ وہ ترنمول کے ضلعی صدر کنہیا لال اگروال سے بھی ایم ایل اے کے بارے میں شکایت کریں گے۔

انتظامیہ کمیٹی کے صدر محمد ذاکر حسین نے کہا کہ “ہر سال سرسید کی سالگرہ کے موقع پر ضلع کے سابق طلباء جمع ہوتے ہیں اور ری یونین فیسٹیول میں شامل ہوتے ہیں۔ اس پلیٹ فارم سے تعلیمی ترقی کا پیغام دیا جاتا ہے۔ اسی دن ایک شخص نے ٹویٹ بھی کیا کہ ایم ایل اے گوتم انہیں دھمکیاں دے رہا ہے اور وزیر اعلیٰ سے مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔” حالانکہ گوتم پال اس طرح کی دھمکی دینے سے انکار کرتے ہوئے ان الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ "مجھے نہیں معلوم کہ میرے نام پر کس نے دھمکیاں دیں۔

تقریب کی منسوخی کے بعد جہاں اے ایم یو کے فارغین کے درمیان کافی بے چینی پائی جا رہی ہے وہیں ترنمول کانگریس کے وزیر جناب غلام ربانی کی موجودگی کے باوجود ایک ایم ایل کے مبینہ دھمکی کی وجہ سے تقریب کی منسوخی کی وجہ سے کافی مایوسی نظر آرہی ہے۔

گجرات کی پیکیجنگ فیکٹری میں خوفناک آتشزدگی، 2 مزدور کی موت، 72 بچائے گئے

0
گجرات کی پیکیجنگ فیکٹری میں خوفناک آتشزدگی، 2 مزدور کی موت، 72 بچائے گئے
گجرات کی پیکیجنگ فیکٹری میں خوفناک آتشزدگی، 2 مزدور کی موت، 72 بچائے گئے

گجرات میں ایک پیکیجنگ کمپنی کی فیکٹری میں علی الصبح لگنے والی آگ میں کم از کم دو افراد ہلاک جبکہ 70 سے زائد مزدوروں کو بحفاظت بچا لیا گیا۔ 

سورت: گجرات میں سورت میٹروپولیٹن کے قریبی کڈودرا انڈسٹریل ایریا میں ایک پیکیجنگ کمپنی کی فیکٹری میں آج علی الصبح لگنے والی آگ میں کم از کم دو افراد ہلاک ہوگئے جبکہ 70 سے زائد مزدوروں کو بحفاظت بچا لیا گیا۔

سورت میٹروپولیٹن بلدیہ کے ڈویژنل فائر آفیسر ایشور پٹیل نے یو این آئی کو بتایا کہ سورت شہر سے تقریبا 18 کلومیٹر دور بارڈولی روڈ پر واریلی گارڈن کے قریب جی آئی ڈی سی ایریا میں واقع ڈیوا پیکیجنگ کمپنی کی پانچ منزلہ عمارت کے تہہ خانے میں علی الصبح تقریباً دو بجے ممکنہ شارٹ سرکٹ کے سبب آگ لگی۔ اس کی اطلاع فائر آفس کو شام تقریبا پونے پانچ بجے موصول ہوئی۔

انہوں نے بتایا کہ ایک جلی ہوئی لاش بیس مینٹ سے ملی جبکہ ایک خوفزدہ کارکن کی پانچویں منزل سے چھلانگ لگانے کے بعد موت ہوگئی۔ آگ سے پورا تہہ خانہ جل گیا۔ باقی عمارت کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ بیس مینٹ کے باہر واقع ایک درخت کے بھی آگ کی زدمیں آنے سے اس کی لپٹیں چوتھی منزل تک آنے لگیں تو ڈر کر ایک کارکن اوپر سے کود گیا۔ اس کی موقع پر ہی موت ہوگئی۔

امریکہ کا قطر کے ساتھ افغانستان کی صورتحال پر تبادلہ خیال

0
امریکہ کا قطر کے ساتھ افغانستان کی صورتحال پر تبادلہ خیال

امریکی وزیر خارجہ نے قطر کے وزیر خارجہ  کے ساتھ افغانستان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

واشنگٹن: امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے قطر کے وزیر خارجہ محمد بن عبدالرحمن الثانی کے ساتھ افغانستان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

مسٹر بلنکن نے افغانستان کے دارالحکومت کابل سے لوگوں کو بذریعہ طیارہ نکالنے میں مدد کرنے کے لئے قطر کا شکریہ بھی ادا کیا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے یہ معلومات دی۔

مسٹر پرائس نے اتوار کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا، ’’وزیر خارجہ انٹونی جے بلنکن نے قطرکے نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر خارجہ محمد بن عبدالرحمن الثانی کے ساتھ افغانستان کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔ مسٹر بلنکن نے علاقائی سلامتی کے امور پر مضبوط شراکت داری اور افغانستان سے امریکی شہریوں کے محفوظ انخلا میں مدد کے لیے قطرکا شکریہ ادا کیا۔

کابل سے 353 افراد کو لے کر طیارہ دوحہ کیلئے روانہ

0
کابل سے 353 افراد کو لے کر طیارہ دوحہ کیلئے روانہ
کابل سے 353 افراد کو لے کر طیارہ دوحہ کیلئے روانہ

350 سے زائد افراد کو لے جانے والی نویں انخلا کی پرواز نے دارالحکومت کابل کو چھوڑ دیا۔

کابل: افغانستان سے امریکی فوجیوں کے مکمل انخلا کے بعد 350 سے زائد افراد کو لے جانے والی نویں انخلا کی پرواز نے دارالحکومت کابل کو چھوڑ دیا۔

ایک سینئر قطری عہدیدار نے سی این این کو یہ اطلاع دی۔

طیارہ اتوار کو لوگوں کو لے کر قطر کے دارالحکومت دوحہ کے لیے کابل سے روانہ ہوا۔ افغانستان کی امریکن یونیورسٹی کے اساتذہ، عملہ اور طلبا سمیت 353 افراد مسافروں میں شامل تھے، جو افغانستان سے لوگوں کو لے جانے والے سب سے بڑے طیارے میں سوار تھے۔

عہدیدار نے کہا کہ یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ طیارے میں کتنے امریکی تھے۔ افغانستان، نیدرلینڈز، ڈنمارک اور آسٹریلیا کے شہری بھی روانہ ہونے والوں میں شامل تھے۔

یہ لوگ اپنی آخری منزل تک روانگی تک دوحہ میں رہیں گے۔

امریکی میڈیا نے رواں ماہ کے شروع میں اطلاع دی تھی کہ امریکہ کا ارادہ ہے کہ اس سال کے آخر تک افغانستان سے انخلا کی پروازیں دوبارہ شروع کی جائیں۔ جب تک یہ شروع نہیں ہوتا، امریکی محکمہ خارجہ افغانستان سے قطر کے لیے پروازوں کا بندوبست کرے گا۔