جمعرات, مئی 21, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 295

عراق انتخابات: نتائج سے حزب اختلاف غیر مطمئن لیکن روشن امکانات متوقع

0
عراق انتخابات: نتائج سے حزب اختلاف غیر مطمئن لیکن روشن امکانات متوقع
عراق انتخابات: نتائج سے حزب اختلاف غیر مطمئن لیکن روشن امکانات متوقع

عراق انتخابات کے نتائج سے حزب اختلاف بھلے ہی مطمئن نہ ہو، لیکن باقی دنیا میں مقتدیٰ الصدر کی کامیابی کو عراق کے لیے تازہ ہوا کا جھونکا سمجھا جا رہا ہے

تحریر: ڈاکٹر یامین انصاری

میں خوبصورتی، علم و فضل حکمت و دانشمندی کا گہوارہ رہی ہے۔ عراق اسلام اور مسلمانوں کی علمی، دینی، سیاسی، مہتم بالشان تاریخ کی حامل سر زمین بھی ہے۔ یہی وہ سر زمین ہے جہاں امام حسن بصری، رابعہ بصری، حضرت غوث الاعظم شیخ عبد القادر جیلانی، شیخ شہاب الدین سہروردی، سیدالطائفہ جنید بغدادی، ذوالنون مصری نے اسلام، عرفان و تصوف کی آبیاری کی۔ یہی وہ سر زمین ہے جہاں عباسیوں نے دنیا کی سب سے بڑی طاقت کی حیثیت سے ایک ایسی عظیم الشان سلطنت کا مرکز بنایا۔

عراق ہی وہ سر زمین ہے جس کا انتخاب چوتھے خلیفہ راشد حضرت علی ؓ نے مدینہ منورہ کے بعد اسلامی دارالسلطنت کی شکل میں کیا۔ یہیں وہ تاریخ بھی رقم ہوئی، جس میں نواسہ رسول، اہل بیت اور ان کے رفقا کو دریائے فرات کے کنارے کربلا کے میدان میں شہید کر دیا گیا۔ یہاں کے ہوش رُبا طلسماتی محلات کی آرائش و زیبائش، شعر و سخن اور الف لیلوی قصے بھی تاریخ میں اپنا اہم مقام رکھتے ہیں۔ بابل کے باغات اور دیگر مختلف قسم کے حسن و جمال عراق کا طرہ امتیاز رہے ہیں۔

اس کے ساتھ ہی عراق کی تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ یہاں کی تباہی و بربادی کی داستانیں بھی کم قابل ذکر نہیں ہیں۔ یہاں بار بار ہلاکؤوں، چنگیزوں اور امریکیوں کی شکل میں مختلف قسم کے طوفان نازل ہوتے رہے۔ تاریخی علم و فضل کی نادر کتابوں سے پُر بغداد کی لائبریریاں، عراق کے طول و عرض کو معطر رکھنے والے دجلہ و فرات کی فرحت بخش ہوائیں، بلند و بالا عمارتیں اور عراق کی تابناکی باہری طاقتوں سے کبھی برداشت نہ ہو سکی۔ غرض یہ کہ اس حسین و خوبصورت اور شان و شوکت والے ملک کو بار بار تہس نہس کیا گیا۔ جتنی بار اس کی تباہی و بربادی کی داستان لکھی گئی، اتنی ہی بار عراقی قوم نے نسل در نسل چلنے والی خداداد صلاحیتوں اور اپنی استعداد کی بنیاد پر اس خون آلود مٹی کو زرخیز کر دیا۔

عراق کی سیاسی، معاشی و سماجی، تہذیبی و ثقافتی صورت حال

تاریخ نے اور باہری طاقتوں نے عراق میں ظلم و بربریت کی جو بھی داستانیں لکھیں، لیکن دور حاضر میں اپنوں نے بھی یہاں تباہی و بربادی کے کم نشانات نہیں چھوڑے ہیں۔ پچھلی چند دہائیوں کے حالات و واقعات پر نظر ڈالنے سے ہی یہاں کی صورت حال سامنے آ جاتی ہے۔ راقم الحروف نے 2016 میں اپنے عراق دورے کے دوران عراق کی سیاسی، معاشی و سماجی، تہذیبی و ثقافتی صورت حال کو کتابوں سے نکل کر اپنی آنکھوں سے دیکھا تو تصویر اور بھی واضح طور پر سامنے آئی۔ باہری طاقتوں نے براہ راست حملہ آور ہو کر یہاں تباہی و بربادی کی جو خونی داستان رقم کی وہ اپنی جگہ، لیکن ان ہی باہری طاقتوں کے آلہ کار بن کر اندرونی طاقتوں نے عراق کی تہذیب و ثقافت اور تاریخ کو جس طرح تہس نہس کیا وہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔ مسلکی نفاق اور کچھ سیاسی طالع پسندوں کے اپنے مفسدانہ عزائم نے عراق کو خون آلود کر دیا۔

2003 میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے بیجا حملوں اور صدام حسین کے اقتدار کے خاتمے کے بعد عراق مسلسل انار کی اور غیر یقینی صورت حال سے دو چار ہے۔ سیاسی عدم استحکام یہاں کا مقدر بن چکا ہے۔ فرقہ وارانہ اور مسلکی خطوط پر تقسیم ہو چکے عراق میں اب تک کوئی ایسی سیاسی قیادت سامنے نہیں آ سکی ہے جو اس ناسور کو ختم کر سکے۔ 2003 کے بعد قائم ہونے والی حکومتوں نے یا تو اس سلسلہ میں کوئی پیش قدمی نہیں کی یا پھر انہیں کامیابی نہیں ملی۔

عراق انتخابات میں شیعہ مذہبی پیشوا مقتدیٰ الصدر کی جماعت ایک بڑی فاتح

حال ہی میں یہاں پارلیمانی انتخابات منعقد کئے گئے ہیں۔ ان انتخابات میں شیعہ مذہبی پیشوا مقتدیٰ الصدر کی جماعت ایک بڑی فاتح کے طور پر سامنے آئی ہے۔ ان کی جماعت نے 70 سے زیادہ نشستیں جیت لی ہیں۔ سابق وزیر اعظم نوری المالکی کی قیادت والی جماعت دوسرے نمبر پر ہے۔ انتخابی نتائج کے بعد بہت ممکن ہے کہ مقتدیٰ الصدر عراق کی باگ ڈور سنبھال لیں۔ پارلیمانی انتخابات کے ابتدائی نتائج سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ 2019 میں عراق میں بے روزگاری، مہنگائی اور ارباب اقتدار کی مالی بدعنوانیوں کے خلاف احتجاجی تحریک سے ابھرنے والے اصلاحات کے حامی امیدواروں نے 329 رکنی پارلیمنٹ میں کئی نشستیں حاصل کرلی ہیں۔ مگر ایران کی حمایت یافتہ جماعتوں کو انتخابات میں دھچکا لگا ہے اور انھوں نے 2018 میں منعقدہ گذشتہ انتخابات کے مقابلے میں کم نشستیں حاصل کی ہیں۔

واضح رہے کہ ایران کی حمایت یافتہ شیعہ جماعتوں سے وابستہ مسلح ملیشیا پر مظاہرین کی ہلاکتوں کے الزامات عاید کیے گئے تھے۔ ان ملک گیر مظاہروں میں کم سے کم 600 افراد شیعہ ملیشیا گروپوں کی تشدد آمیز کارروائیوں میں ہلاک ہوگئے تھے۔ مقتدیٰ الصدر کے زیر قیادت اتحاد نے 2018 کے انتخابات میں 54 نشستیں جیتی تھیں اور حکومتوں کی تشکیل میں ان کا کردار اہم رہا تھا۔ در اصل مقتدیٰ الصدر کو ایک معتدل، بے باک اور اصلاح پسند لیڈر سمجھا جاتا ہے۔ وہ عراق میں کسی بھی قسم کی غیرملکی مداخلت کے مخالف ہیں، خواہ وہ امریکہ کی طرف سے ہو، جس کے خلاف انھوں نے 2003 کے بعد محاذ آرائی کی تھی یا ہمسایہ ملک ایران کی طرف سے، جس کی انھوں نے عراق کی سیاست میں مداخلت پر تنقید کی ہے۔ مقتدیٰ الصدر اگر ایران کے دورے کرتے ہیں تو انھیں سعودی عرب جانے میں بھی کوئی قباحت نہیں ہے۔

مقتدیٰ الصدر کے انتخابی اتحاد کی کامیابی کا ایک مثبت پہلو

مقتدیٰ الصدر کے انتخابی اتحاد کی کامیابی کا ایک مثبت پہلو یہ بھی ہے کہ اس سے عراق کے دیگر عرب ممالک سے تعلقات میں مزید بہتری کے امکانات ہیں، کیوں کہ مقتدیٰ الصدر کا جھکاؤ اپنے پیش رو نوری المالکی اور حیدر العبادی کی طرح ایران کی طرف بہت زیادہ نہیں ہے۔ گزشتہ سال جولائی میں مقتدیٰ الصدر نے سعودی عرب کا دورہ بھی کیا تھا۔ اس کے علاوہ وہ سابق وزرائے اعظم حیدر العبادی اور نوری المالکی کے سخت ناقد بھی ہیں، ان کے بقول ان دونوں وزرائے اعظم نے ملک میں فرقہ وارانہ سیاست کی مضبوط بنیادیں رکھ کر عراق کو غیر معمولی نقصان پہنچایا ہے۔

راقم الحروف نے اپنے دورہ عراق کے دوران عراق کی اہم سیاسی و مذہبی شخصیات سے ملاقات کے دوران اس فرقہ واریت کو محسوس بھی کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ مقتدیٰ الصدر کو ایک امید کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ عراق ہی نہیں، باقی دنیا بھی محسوس کر رہی ہے کہ 2003 کے بعد عراق میں جس طرح کے دگرگوں حالات پیدا ہوئے ہیں، ان سے مقتدیٰ الصدر ہی آسانی سے نکال سکتے ہیں۔ سابقہ قیادتوں نے پوری دنیا کو مایوس کیا ہے۔ سیاسی عدم استحکام کے ساتھ عراق کے سامنے داعش نامی عفریت کا چیلنج بھی ہے۔ سابقہ حکومتوں نے بھلے ہی داعش کو کافی حد تک کنٹرول کرنے میں کامیابی حاصل کی، لیکن ابھی بھی اس کا چیلنج اور خطرہ برقرار ہے۔ اس خطرے سے نمٹنا کسی بھی سیاسی قیادت کے لئے آسان نہیں ہوگا۔

عراق میں صدام حسین کے زوال کے بعد پانچ پارلیمانی انتخابات مکمل

عراق میں صدام حسین کے زوال کے بعد پانچ پارلیمانی انتخابات ہو چکے ہیں۔ 2003 میں امریکہ کی قیادت میں فوجی اتحاد کی عراق پر چڑھائی اور سنی صدر صدام حسین کا تختہ الٹنے کے بعد شیعہ گروپوں اور جماعتوں کا حکومت اور حکومت سازی کے عمل میں پلڑا بھاری رہا ہے، لیکن ان سب کے باوجود عراقیوں کی زندگیوں میں خوشحالی اور امن و سکون نہیں آ سکا۔ ملک کا بنیادی ڈھانچا پوری طرح تباہ ہو چکا ہے۔ علاج و معالجے اور تعلیم کا نظام ناقص ہے، نوجوانوں کو روزگار کے مواقع میسر نہیں ہیں، عوام کو بجلی، پانی اور سڑک جیسی بنیادی چیزوں کی قلت کا سامنا ہے۔ ایسے میں ایک مضبوط، مستحکم اور غیر جانبدار حکومت ہی عراق کو ترقی اور خوشحالی کے راستے پر لے جا سکتی ہے۔

(مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں) [email protected]

اگلے ہفتے بدل سکتا ہے فیس بک کا نام

0
اگلے ہفتے بدل سکتا ہے فیس بک کا نام
اگلے ہفتے بدل سکتا ہے فیس بک کا نام

فیس بک اگلے ہفتے کمپنی کا نام تبدیل کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔

واشنگٹن: سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ فیس بک اگلے ہفتے کمپنی کا نام تبدیل کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔

امریکی ٹیک بلاگ ’دی ورج‘ نے اپنی رپورٹ میں ایک ذرائع کے حوالے سے یہ اطلاع دی ہے۔ فیس بک کے نام میں ممکنہ تبدیلی میٹاورس بنانے کی کمپنی کے منصوبوں کی عکاسی کرتی ہے۔ معروف ٹیکنالوجی کمپنی کا مقصد ہے کہ کمپنی کو سوشل میڈیا کے ذریعے زیادہ پہچانا جائے اور اس کی خامیوں کو دور کیا جائے۔

’دی ورج‘ کی رپورٹ کے مطابق فیس بک کی ری برانڈنگ کے ذریعہ مختلف سوشل میڈیا ایپس جیسے پلیٹ فارم جیسے فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ کو ایک چھتری کے نیچے لایا جا سکتا ہے۔

فیس بک کے نام تبدیلی کے حوالہ سے فیس بک کے ترجمان نے رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

ترنمول ایم ایل اے گوتم پال کو مدعو نہ کئے جانے پر اتردیناجپور کا سرسید ڈے منسوخ

0
ترنمول ایم ایل اے گوتم پال کو مدعو نہ کئے جانے پر اتردیناجپور کا سرسید ڈے منسوخ

17 اکتوبر کو علی گڑھ مسلم یونیورسیٹی کے بانی سرسید احمد خان کی یوم پیدائش پر سرسید ڈے کا انعقاد کیا جاتا ہے جس میں عموما اے ایم یو الیومنی ہی شامل ہوتے ہیں، لیکن کبھی کبھی مقامی عہدیداران کو بھی مدعو کیا جاتا ہے۔ اس تقریب میں ریاستی وزیر برائے اقلیتی امور و مدرسہ تعلیم جناب غلام ربانی بھی اہم شرکا میں شامل تھے جو خود اے ایم یو الیومنی ہیں۔

اسلام پور: مغربی بنگال کے ضلع اتر دیناج پور کے دالکولہ شہر میں سرسید ڈے کا اہتمام 17 اکتوبر کو کیا جانا تھا لیکن اسے 16 اکتوبر دیر رات منسوخ کرنا پڑا۔ کہا جاتا ہے اسٹیج تیار تھا، رضاکاران بھی حاضر تھے، چائے ناشتہ کا بھی معقول انتظام تھا، اسٹیج کے چاروں اطراف غباروں اور گلدستوں سے سجایا گیا تھا، لیکن آخری لمحات میں تقریب منسوخ کر دی گئی، کیونکہ کرندیگھی اسمبلی حلقہ سے منتخب ترنمول کانگریس کے ایم ایل اے جناب گوتم پال کا نام دعوت نامہ میں نہیں تھا۔

17 اکتوبر کو علی گڑھ مسلم یونیورسیٹی کے بانی سرسید احمد خان کی یوم پیدائش پر صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں اے ایم یو کے فارغین کے ذریعہ سرسید ڈے کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ اس پروگرام میں عموما علی گڑھ مسلم یونیورسیٹی کے فارغین ہی شامل ہوتے ہیں، لیکن کبھی کبھی دیار و اطراف کے کچھ اہم عہدیداران کو بھی مدعو کیا جاتا ہے۔

آخری لمحات میں ایونٹ کی منسوخی پر تنازعہ

اتوار کو علی گڑھ تحریک کے بانی سر سید احمد خان کی اس 204 ویں سالگرہ پر علی گڑھ کے سابق طلبا نے سرسید ڈے کے طور پر منانے کے لیے الیومنی تقریب کا اہتمام کیا تھا۔ اس موقع پر مغربی بنگال کے کابنیہ کے وزیر غلام ربانی کو بھی شامل ہونا تھا جو خود علی گڑھ مسلم یونیورسیٹی کے فارغ ہیں۔ آخری لمحات میں ایونٹ کی منسوخی پر تنازعہ ہوگیا۔

منتظمین میں سے کچھ لوگوں نے شکایت کی کہ ان کے لوگوں نے دھمکی دی کہ وہ تقریب منعقد نہیں کریں گے کیونکہ کرندھیگی ایم ایل اے گوتم پال کا نام دعوت نامے میں نہیں تھا۔ تقریب منسوخ کردی گئی تاکہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔ وہ ترنمول کے ضلعی صدر کنہیا لال اگروال سے بھی ایم ایل اے کے بارے میں شکایت کریں گے۔

انتظامیہ کمیٹی کے صدر محمد ذاکر حسین نے کہا کہ “ہر سال سرسید کی سالگرہ کے موقع پر ضلع کے سابق طلباء جمع ہوتے ہیں اور ری یونین فیسٹیول میں شامل ہوتے ہیں۔ اس پلیٹ فارم سے تعلیمی ترقی کا پیغام دیا جاتا ہے۔ اسی دن ایک شخص نے ٹویٹ بھی کیا کہ ایم ایل اے گوتم انہیں دھمکیاں دے رہا ہے اور وزیر اعلیٰ سے مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔” حالانکہ گوتم پال اس طرح کی دھمکی دینے سے انکار کرتے ہوئے ان الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ "مجھے نہیں معلوم کہ میرے نام پر کس نے دھمکیاں دیں۔

تقریب کی منسوخی کے بعد جہاں اے ایم یو کے فارغین کے درمیان کافی بے چینی پائی جا رہی ہے وہیں ترنمول کانگریس کے وزیر جناب غلام ربانی کی موجودگی کے باوجود ایک ایم ایل کے مبینہ دھمکی کی وجہ سے تقریب کی منسوخی کی وجہ سے کافی مایوسی نظر آرہی ہے۔

گجرات کی پیکیجنگ فیکٹری میں خوفناک آتشزدگی، 2 مزدور کی موت، 72 بچائے گئے

0
گجرات کی پیکیجنگ فیکٹری میں خوفناک آتشزدگی، 2 مزدور کی موت، 72 بچائے گئے
گجرات کی پیکیجنگ فیکٹری میں خوفناک آتشزدگی، 2 مزدور کی موت، 72 بچائے گئے

گجرات میں ایک پیکیجنگ کمپنی کی فیکٹری میں علی الصبح لگنے والی آگ میں کم از کم دو افراد ہلاک جبکہ 70 سے زائد مزدوروں کو بحفاظت بچا لیا گیا۔ 

سورت: گجرات میں سورت میٹروپولیٹن کے قریبی کڈودرا انڈسٹریل ایریا میں ایک پیکیجنگ کمپنی کی فیکٹری میں آج علی الصبح لگنے والی آگ میں کم از کم دو افراد ہلاک ہوگئے جبکہ 70 سے زائد مزدوروں کو بحفاظت بچا لیا گیا۔

سورت میٹروپولیٹن بلدیہ کے ڈویژنل فائر آفیسر ایشور پٹیل نے یو این آئی کو بتایا کہ سورت شہر سے تقریبا 18 کلومیٹر دور بارڈولی روڈ پر واریلی گارڈن کے قریب جی آئی ڈی سی ایریا میں واقع ڈیوا پیکیجنگ کمپنی کی پانچ منزلہ عمارت کے تہہ خانے میں علی الصبح تقریباً دو بجے ممکنہ شارٹ سرکٹ کے سبب آگ لگی۔ اس کی اطلاع فائر آفس کو شام تقریبا پونے پانچ بجے موصول ہوئی۔

انہوں نے بتایا کہ ایک جلی ہوئی لاش بیس مینٹ سے ملی جبکہ ایک خوفزدہ کارکن کی پانچویں منزل سے چھلانگ لگانے کے بعد موت ہوگئی۔ آگ سے پورا تہہ خانہ جل گیا۔ باقی عمارت کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ بیس مینٹ کے باہر واقع ایک درخت کے بھی آگ کی زدمیں آنے سے اس کی لپٹیں چوتھی منزل تک آنے لگیں تو ڈر کر ایک کارکن اوپر سے کود گیا۔ اس کی موقع پر ہی موت ہوگئی۔

امریکہ کا قطر کے ساتھ افغانستان کی صورتحال پر تبادلہ خیال

0
امریکہ کا قطر کے ساتھ افغانستان کی صورتحال پر تبادلہ خیال

امریکی وزیر خارجہ نے قطر کے وزیر خارجہ  کے ساتھ افغانستان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

واشنگٹن: امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے قطر کے وزیر خارجہ محمد بن عبدالرحمن الثانی کے ساتھ افغانستان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

مسٹر بلنکن نے افغانستان کے دارالحکومت کابل سے لوگوں کو بذریعہ طیارہ نکالنے میں مدد کرنے کے لئے قطر کا شکریہ بھی ادا کیا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے یہ معلومات دی۔

مسٹر پرائس نے اتوار کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا، ’’وزیر خارجہ انٹونی جے بلنکن نے قطرکے نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر خارجہ محمد بن عبدالرحمن الثانی کے ساتھ افغانستان کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔ مسٹر بلنکن نے علاقائی سلامتی کے امور پر مضبوط شراکت داری اور افغانستان سے امریکی شہریوں کے محفوظ انخلا میں مدد کے لیے قطرکا شکریہ ادا کیا۔

کابل سے 353 افراد کو لے کر طیارہ دوحہ کیلئے روانہ

0
کابل سے 353 افراد کو لے کر طیارہ دوحہ کیلئے روانہ
کابل سے 353 افراد کو لے کر طیارہ دوحہ کیلئے روانہ

350 سے زائد افراد کو لے جانے والی نویں انخلا کی پرواز نے دارالحکومت کابل کو چھوڑ دیا۔

کابل: افغانستان سے امریکی فوجیوں کے مکمل انخلا کے بعد 350 سے زائد افراد کو لے جانے والی نویں انخلا کی پرواز نے دارالحکومت کابل کو چھوڑ دیا۔

ایک سینئر قطری عہدیدار نے سی این این کو یہ اطلاع دی۔

طیارہ اتوار کو لوگوں کو لے کر قطر کے دارالحکومت دوحہ کے لیے کابل سے روانہ ہوا۔ افغانستان کی امریکن یونیورسٹی کے اساتذہ، عملہ اور طلبا سمیت 353 افراد مسافروں میں شامل تھے، جو افغانستان سے لوگوں کو لے جانے والے سب سے بڑے طیارے میں سوار تھے۔

عہدیدار نے کہا کہ یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ طیارے میں کتنے امریکی تھے۔ افغانستان، نیدرلینڈز، ڈنمارک اور آسٹریلیا کے شہری بھی روانہ ہونے والوں میں شامل تھے۔

یہ لوگ اپنی آخری منزل تک روانگی تک دوحہ میں رہیں گے۔

امریکی میڈیا نے رواں ماہ کے شروع میں اطلاع دی تھی کہ امریکہ کا ارادہ ہے کہ اس سال کے آخر تک افغانستان سے انخلا کی پروازیں دوبارہ شروع کی جائیں۔ جب تک یہ شروع نہیں ہوتا، امریکی محکمہ خارجہ افغانستان سے قطر کے لیے پروازوں کا بندوبست کرے گا۔

سنگھو بارڈر لنچنگ معاملہ: تین اور نہنگوں کی چھ دن کی ریمانڈ

0
سنگھو بارڈر لنچنگ معاملہ: تین اور نہنگوں کی چھ دن کی ریمانڈ
سنگھو بارڈر لنچنگ معاملہ: تین اور نہنگوں کی چھ دن کی ریمانڈ

ہریانہ میں سونی پت کی ایک عدالت نے سنگھو بارڈر پر مذہبی گرنتھ کی مبینہ طور پر بے ادبی کرنے پر لکھبیر سنگھ کو بے رحمی سے قتل کے معاملے میں مزید تین ملزمین کو آج چھ دن کے پولیس ریمانڈ پر بھیج دیا۔

سونی پت: ہریانہ میں سونی پت کی ایک عدالت نے سنگھو بارڈر پر مذہبی گرنتھ کی مبینہ طور پر بے ادبی کرنے پر لکھبیر سنگھ کو بے رحمی سے قتل کے معاملے میں مزید تین ملزمین کو آج چھ دن کے پولیس ریمانڈ پر بھیج دیا۔

اس سے پہلے، اس کیس کے ملزمان بھگونت سنگھ اور گووند پریت نے ہفتہ کی رات 9.30 بجے کنڈلی پولیس اسٹیشن میں خود سپردگی کردی۔ وہیں ایک دیگر ملزم نارائن سنگھ نے امرتسر میں خود سپردگی کی تھی۔ ان تینوں کو آج سہ پہر یہاں ایک عدالت میں پیش کیا گیا جہاں پولیس نے ان کا 14 دن کا ریمانڈ مانگا۔

استغاثہ نے دلیل دی کہ تینوں سے پوچھ گچھ کے بعد ان کے دیگر ساتھیوں کو بھی گرفتار کیا جانا ہے۔ اس کے ساتھ اس جرم میں استعمال ہونے والا اسلحہ بھی برآمد کیا جاتا ہے۔ تاہم عدالت نے استغاثہ اور دفاع کے دلائل سننے کے بعد تینوں کو چھ روزہ پولیس ریمانڈ پر بھیجنے کا حکم دیا۔ عدالت نے تینوں ملزمان کا روزانہ طبی معائنہ کرنے کا بھی حکم دیا۔

اس سے قبل اس کیس میں، ایک اور نہنگ سربجیت سنگھ کو عدالت نے گزشتہ ہفتے کے روز سات روزہ پولیس ریمانڈ پر بھیجے جانے کے احکامات جاری کئے۔ پولیس کے مطابق سربجیت نے ابتدائی تفتیش میں اپنے جرم کا اعتراف کیا ہے۔ سربجیت نے اس واقعے کے بعد جمعہ کی شام پولیس کے سامنے خود سپردگی کردی تھی۔

سنگھو بارڈر پر کسانوں کے احتجاج کے مقام کے قریب جمعرات کی رات پنجاب کے ترن تارن کے چیمہ خورد گاؤں کے لکھبیر سنگھ کو نہنگوں نے بے دردی سے قتل کر دیا تھا۔ لکھبیر پر مذہبی گرنتھ کی بے حرمتی کا الزام تھا۔

تعلیم و اخلاقیات کے علمبردار سرسید احمد خان

0
تعلیم و اخلاقیات کے علمبردار سرسید احمد خان
تعلیم و اخلاقیات کے علمبردار سرسید احمد خان

ہم میں سے کئی لوگ آج ڈاکٹر، انجینئر ہیں، مدرس یا سیاسی و سماجی کارکن ضرور ہیں لیکن یہ ہماری ذاتی کامیابی ہے۔ اگر ہم صرف اپنی خوشی سے خوش ہوجائیں تو سمجھئے ہم بے حس ہوچکے ہیں۔ سرسید اسی بے حسی کے خلاف تھے۔ اخلاقیات کے مختلف پہلوؤں پر بھی سرسید احمد خان نے سیر حاصل بحث کی ہے تو سرسید ڈے کے دسترخوان پر اگر ہم اخلاق اور ادب کا مظاہرہ نہ کریں تو اس سے یقینا سرسید کے روح کو تکلیف ہوگی۔

آج 17 اکتوبر تاریخ کا اہم ترین دن ہے کیوں کہ آج ہی کے دن ایسی شخصیت کی پیدائش ہے جسے دنیا سرسید احمد خان کے نام سے جانتی ہے۔

سرسید احمد خان کی زندگی اور ان کے کارناموں پر ڈھیر ساری کتابیں چھپ چکی ہیں۔ ان پر لکھی گئی مختلف کتابیں سرسید احمد خان کی زندگی کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالتی ہیں۔ ان کی ادبی، سماجی، سیاسی اور تعلیمی خدمات کے ساتھ ساتھ ان کی فکری بصیرت اور دانشورانہ صلاحیت ان کی زندگی کے کئی اہم گوشے ہیں۔

ہم جب بھی سرسید احمد خان کی بات کرتے ہیں تو عام طور پر تعلیم کے میدان میں ان خدمات کا تذکرہ خاص طور پر کرتے ہیں، حالانکہ سرسید احمد خان کی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے، اور آج آپ کی یوم پیدائش کے موقعہ پر ان کی زندگی کے دوسرے پہلوؤں پر اپنی معلومات کو شیئر کرنے کی کوشش کروں گا۔

سرسید کا اردو شاعری کے مزاج کو بدلنے پر زور

مثال کے طور پر مسلمانوں میں شعر و شاعری اور مشاعروں کو ہی کو لے لیجئے۔ انہوں نے اس زمانے میں اردو شاعری کے مزاج کو بدلنے پر زور دیا تھا۔ نہ صرف یہ بلکہ آسان نثر (easy prose) کے فروغ میں بھی عملی طور پر اہم رول ادا کئے تھے۔

انہوں نے جہاں مذہب اور مذہبی لوگوں پر کتابیں اور مضامین لکھے وہیں تاریخ اور سیاست جیسے اہم اور مشکل مضامین پر بھی بہت کچھ لکھا۔ آج لوگ پولیٹکس اور راجنیتی کو بڑی عجیب نظروں سے دیکھنے لگے ہیں، حالانکہ ہر فیلڈ اور ہر سبجیکٹ کی اپنی الگ اہمیت ہے۔ سیاست کو لوگ جتنا بھی برا بھلا کہہ لیں لیکن یہ بھی تو سچ ہے کہ ملک چلانے کے لئے ہمیں سیاست دانوں کی ضرورت ایسی رہتی ہے جن سے کبھی چھٹکارہ ممکن ہی نہیں۔ اور یہ سب باتیں سرسید احمد خان کی تحریروں میں واضح طور پر ملتی ہیں۔ اور ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسیٹی نے ملک اور میں جہاں ان گنت ڈاکٹر، انجینئر، سماجی و تعلیمی ماہرین، ریسرچ اسکالر پیدا کئے وہیں سیاسی رہنماؤں کی بھی ایک فوج ملک ملت کی خدمت کے لئے پیش کیا۔

آج کا میڈیا علی گڑھ مسلم یونیورسیٹی کو جس شکل میں بھی پیش کرے لیکن سچ یہ ہے کہ سرسید کی تعلیمات کی روشنی میں اے ایم یو نے ملک کی خدمت میں ایسا رول ادا کیا ہے جس کے ذکر کے بغیر ہندوستان کی کوئی بھی تاریخ نامکمل ہے۔

سرسید احمد خان کا ایک انتہائی اہم کارنامہ صحافت

یہاں میڈیا کی بات آئی تو اس بات کا تذکرہ بھی برمحل ہوگا کہ سرسید احمد خان کا ایک انتہائی اہم کارنامہ ان کی صحافت بھی ہے۔ در اصل صحافت ہی وہ ذریعہ تھا جس سے وہ عوام سے نہ صرف مخاطب ہوتے تھے بلکہ ان کے نظریات کی تشہیر میں بھی journalism نے نہایت اہم رول ادا کیا ہے۔

انہوں نے کئی میگزین اور اخبارات نکالے مگر تہذیب الاخلاق کی اشاعت ان کا وہ کارنامہ ہے کہ آج ایک صدی کے بعد بھی سر سید اور ان کے فکر کو سمجھنے میں معاون و مددگار ہے۔ تہذیب الاخلاق صرف ایک میگزین ہی نہیں تھا بلکہ علی گڑھ تحریک کا یہ ایک ہم حصہ بھی تھا۔ سرسید نے اس رسالے سے قوم کی تقدیر بدلنا چاہتے تھے۔ تہذیب الاخلاق جاری کرنے کے سلسلے میں انہوں نے محسن الملک کو ایک خط میں لکھا تھا جو خط سفرنامہ مسافران لندن (جسے شیخ اسمعیل پانی پتی نے ترتیب دیا تھا):

’’ایک اخبارخاص مسلمانوں کے فائدے کے لیے جاری کرنا تجویز کرلیا ہے اور تہذیب الاخلاق اس کا نام فارسی میں اور انگریزی میں محمڈن سوشل ریفارمر رکھ لیا ہے۔ اس کا منظر نامہ یہاں بہت خوبصورت کھدوالیا ہے، کاغذ بھی ایک برس کے لائق خرید لیا ہے۔‘‘

اس خط سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ سرسید احمد خان تہذیب الاخلاق کی اشاعت کے لئے کس حد تک سنجیدہ تھے۔

سرسید احمد خان تہذیب الاخلاق کے ذریعے مسلمانوں کی سماجی اور سیاسی پسماندگی دور کرنا چاہتے تھے، انہوں نے خود اپنے مقاصد کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پرچے میں صرف ایسے فائدہ مند مضامین چھاپے جائیں گے جو مسلمانوں سے متعلق ہیں اور جن مسائل کو عام طور پر دوسرے اخبار کور نہیں کرتے۔ ذرا غور کیجئے جہاں آج ہم میڈیا کی غلط رپورٹنگ اور yellow journalism سے پریشان ہیں اور اس بات کی ضرورت محسوس کر رہے ہیں کہ ہمارا اپنا میڈیا بھی ہونا چاہئے اس بات کے بارے میں سرسید احمد خان آج سے سو سال پہلے نہ صرف اشارہ کئے تھے بلکہ عملی طور پر اس پر کام بھی شروع کرچکے تھے۔

تہذیب الاخلاق کا مقصد مسلمانوں کے اندر اخلاق اور تہذیب کا جذبہ پیدا کرنا تھا۔ سرسید کا کہنا تھا کہ ترقی کے لئے جہاں کئی عوامل کام کرتے ہیں وہیں انسان کا اخلاق بلند ہونا بھی ضروری ہوتا ہے۔ یاد رکھیں جب تک ہمارا اخلاق بلند نہیں ہوگا ہم کسی کی مدد کرنے کے قابل نہیں ہوں گے۔ یہ ہمارا اخلاق ہی ہے جس کا مظاہرہ کرکے ہم دوسروں کی مدد کرتے ہیں، دوسروں کی ترقی سے نہ صرف خوش ہوتے ہیں بلکہ اس ترقی میں اپنا حصہ بھی لیتے ہیں۔

1857 کی پہلی جنگ آزادی

اگر ہم سرسید کے زمانے میں مسلمانوں کی زندگی کا مطالعہ کریں تو اندازہ ہوگا کہ مسلمان ہر میدان میں کافی پسماندہ تھے۔ مغلیہ سلطنت کے زوال کے بعد مسلمانوں کے طرز زندگی میں اور بھی گراوٹ آگئی تھی۔ 1857 کی پہلی جنگ آزادی (جسے بغاوت کے نام سے بھی جاتا ہے) اس میں مجاہدین آزادی کو انگریزوں کے ہاتھوں شکست ملی تھی۔ اس جنگ میں ہر مذہب اور ہر فرقے کے لوگوں نے حصہ لیا تھا۔ مگرخاص بات یہ ہے کہ انگریزوں نے اس بغاوت کو مسلمانوں سے جوڑ دیا تھا۔ اور اس کے نتیجے میں ہزاروں کی تعداد میں مسلمانوں کو شہید کردیا گیا تھا۔

سرسید احمد خان پر اس ہیبت ناک واقعہ کا گہرا اثر ہوا، یہی وجہ تھی کہ انہوں نے بغاوت کے چند برسوں بعد "اسباب بغاوت ہند” نام کی ایک کتاب لکھی تھی جس میں انہوں نے نہ صرف بغاوت کے وجوہات پر روشنی ڈالی بلکہ یہ ثابت بھی کیا کہ انگریزی حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے بغاوت کی صورت پیدا ہوئی۔

بغاوت میں ناکامی اور مسلمانوں کے شہادت نے سرسید جیسے حساس شخص کو بے چین کردیا تھا۔ انہوں نے جب مسلمانوں کی زندگی کا گہرائی سے مطالعہ کیا تو انہیں یہ اندازہ ہوا کہ دراصل مسلمان کئی سطح پر پسماندہ ہیں۔

مسلمانوں کی لائف سٹال کو بہتر بنانے کے لیے انہوں نے تعلیم پر بہت زور دیا۔ ان کا خیال تھا کہ جب تک مسلمان تعلیم کے زیور سے آراستہ نہیں ہو جاتے ان کی زندگی نہیں بدل سکتی۔ تہذیب الاخلاق میں وہ لکھتے ہیں

"ہم اپنی قوم کو بارہا بتا چکے ہیں کہ جب تک مسلمان خود اپنی تعلیم کا بوجھ خود نہیں اٹھائیں گے اس وقت تک ان کی ذلت ختم نہیں ہوسکتی۔ اس طرح ہمارے قول کی تصدیق ہوچکی ہے اور جو رہی سہی عزت باقی ہے وہ جلد ختم ہونے والی ہے۔ قوم کی جو حالت ہو نے والی ہے وہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہے۔ اس سے ہمارے دل کو تکلیف ہوتی ہے۔ اسی لئے ہم نے مسلمانوں کے لیے مدرستہ العلوم کے قائم کرنے کا بوجھ اُٹھایا ہے، مگر بہت افسوس کے بہت کم لوگوں نے اس کے ساتھ ہمدردی کی… اے مسلمانوں دیکھو! وقت چلا جاتا ہے۔ گیا وقت پھر ہاتھ نہیں آتا۔ تم سب پر فرض ہے کہ مدرستہ العلوم کی تکمیل پر توجہ دیں۔ صرف اس کو روپے کی مدد درکار ہے۔ محنت کرنے والے موجود ہیں، ہمت کرو اور چندہ سے امداد کرو۔”

سر سید کے اس قول میں دو باتیں واضح طور پر دیکھی جاسکتی ہیں۔ اقتباس کے پہلے حصے میں تہذیب الاخلاق کی اشاعت کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے تو دوسرے حصے میں انہوں نے خطیبانہ اندازمیں ہر عوام سے مالی تعاون دینے کی بات کہی ہے۔

ہماری قوم کا تعلیم سفر میں ڈراپ آؤٹ شرح بہت زیادہ ہے۔ ہم میں سے کئی لوگ آج ڈاکٹر، انجینئر ہیں، جرنلسٹ یا سماجی کارکن ضرور ہیں، اس پر ہمیں خوشی بھی ہے لیکن یہ ہماری ذاتی اور عارضی خوشی ہے۔ اگر ہم صرف اپنی خوشی سے خوش ہوجائیں تو سمجھئے ہم بے حس ہوچکے ہیں۔ سرسید اسی بے حسی کے خلاف تھے۔ سرسید اپنی ذاتی زندگی میں نہ صرف اعلی پیمانہ کے تعلیم یافتہ تھے بلکہ ایک بے حد کامیاب شخص بھی تھے۔ لیکن ان کو اپنی کامیابی کی خوشی کم اور اپنے قوم کی بری حالت سے پریشانی زیادہ تھی۔ جب ہم اپنی کامیابیوں کی خوشیوں کا ڈھنڈورہ ایسے سماج میں پیٹتے ہیں جہاں ناکام لوگوں کا ایک جم غفیر موجود ہے تو یاد رکھئے ہم اپنی کامیابی کی خوشی کے ساتھ ساتھ ان ناکام اور بے روزگار لوگوں کا کہیں نہ کہیں مذاق بھی اڑاتے ہیں جنہیں ایک معمولی جاب بھی میسر نہیں ہے۔

ہمارے قوم کی تعلیمی حالت

ہمارے قوم کی حالت تعلیمی اعتبار سے خستہ ہے۔ ہمیں جہاں خوشی ہے کہ ان گنت فارغین علی گڑھ مسلم یونیورسیٹی تعلیم و ترقی کے مختلف میدان میں خدمت کر رہے ہیں ابھی اس بات کی اور زیادہ خوشی ہے کہ ہمارے درمیان اسی علی گڑھ مسلم یونیورسیٹی کے ان گنت ہونہار پیداوار ایک اسکول ٹیچر سے لے کر بیوروکریٹ اور ممبران اسمبلی و پارلیمنٹ بلکہ وزرا کی شکل میں موجود ہیں جو یقینا تعلیم کے میدان میں سرسید احمد خان کے اسی مشن کا ایک حصہ بن سکتے ہیں جس کا آغاز آج سے سو سال قبل علی گڑھ میں ہوا تھا۔

ہوسکتا ہے کہ بہت سے لوگوں کو سرسید احمد خان کی تعلیمی تحریک بظاہر مسلمانوں کی حالت کو بہتر کرنے کی نظر آتی ہو مگر حقیقت میں وہ بلا کسی تفریق مذہب و ملت ملک اور قوم کی ترقی کی خواہش رکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ان کا تبادلہ 1885 میں غازی پور ہوا تو انہوں نے ہندو اور مسلم دونوں کے چندے سے ایک ماڈرن سٹائل کا اسکول قائم کیا۔ انہوں نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ لوگوں کو اتحاد اور امن کے ساتھ رہنا چاہیے۔

سرسید کا خیال تھا کہ مسلمانوں کی ترقی تبھی ممکن ہے جب وہ اعلی تعلیم حاصل کریں، انہوں نے مشرقی علوم کے ساتھ ساتھ مغربی علوم کی حصولیابی پر زور دیا، یہی وجہ ہے کہ قیام لندن کے دوران انہوں نے کیمبرج یونیورسٹی کا دورہ کیا اور اور وہاں کے علمی ماحول سے متاثر ہوئے۔
سرسید احمد خان نے مشترکہ تہذیب اور قومیت پر بہت زور دیا ہے۔ تہذیب الاخلاق نکالنے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ سرسید اس رسالے سے مسلمانوں کے اندر قومیت (nationalism) کا جذبہ پیدا کرنا چاہتے تھے۔

سرسید احمد خان نے خود بھی اس نیشنلٹی پر زور دیا ہے، انہوں نے تہذیب کی ترقی اور مذہبی مسائل پر گفتگو کو اہم بتایا ہے۔ انہوں نے تعصب کو انسانی زندگی اور تہذیب و تمدن کا خسارہ بتایا ہے۔ سرسید احمد خان نے رسم و رواج، ہمدردی، آزادی رائے، بچوں کی تربیت، عورتوں کے حقوق، تعلیم، یہاں تک کے کھانے پینے اور اخلاقیات کے موضوع پر مضامین لکھا وہ دراصل مسلمانوں کو ایک مہذب اور مثالی قوم بنانا چاہتے تھے۔ اب ذرا سوچئے، اخلاقیات کے ان سارے پہلوؤں پر جب سرسید احمد خان نے بات کی ہے تو سرسید ڈے کے موقعہ پر ڈائننگ ٹیبل پر اگر ہم اخلاق اور ادب کا مظاہرہ نہ کریں تو اس سے یقینا سرسید کے روح کو تکلیف ہوگی۔

غربت سے معاشرے کو پاک بنانا ہمارا ہدف ہونا چاہئے: نائیڈو

0
غربت سے معاشرے کو پاک بنانا ہمارا ہدف ہونا چاہئے: نائیڈو
غربت سے معاشرے کو پاک بنانا ہمارا ہدف ہونا چاہئے: نائیڈو

نائب صدر ایم ونکیا نائیڈو نے کہا کہ سماج میں دستیاب وسائل کو یکساں طور پر بانٹا جانا چاہئے تاکہ غربت کا خاتمہ ہو سکے۔

نئی دہلی: نائب صدر ایم ونکیا نائیڈو نے وسائل کی تقسیم پر زوردیتے ہوئے کہا کہ معاشرے کو غربت سے پاک بنانا ہمارا ہدف ہونا چاہئے۔

اتوار کو یہاں غربت کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر جاری اپنے ایک پیغام میں مسٹر نائیڈو نے کہا کہ سماج میں دستیاب وسائل کو یکساں طور پر بانٹا جانا چاہئے تاکہ غربت کا خاتمہ ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے معاشرے میں خوشحالی آ سکتی ہے۔

مسٹر نائیڈو نے اپنے پیغام میں مہاتما گاندھی کے اس اقتباس کا بھی حوالہ دیا جس میں انہوں نے کہا تھا۔ ’’غربت تشدد کی بدترین شکل ہے‘‘۔

نائب صدر جمہوریہ نے کہا ’’غربت کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر آئیے سب کے لیے معاش کے پائیدار ذرائع فراہم کرنے کی اجتماعی کوشش کریں۔ غربت سے پاک ایک مثالی اور خوشحال معاشرہ ہمارا ہدف ہے‘‘۔

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بھڑکتی ہوئی آگ

0
پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بھڑکتی ہوئی آگ
پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بھڑکتی ہوئی آگ

ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے دن 35-35 پیسے فی لیٹرکا اضافہ کیا گیا۔

نئی دہلی: بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں ریکارڈ سطح پر برقرار رہنے کے ساتھ گھریلو پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں لگنے والی آگ تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ اتوار کو ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے دن 35-35 پیسے فی لیٹرکا اضافہ کیا گیا۔

دارالحکومت دہلی میں آج پٹرول 35 پیسے فی لیٹر بڑھ کر 105.84 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 94.57 روپے فی لیٹر ہو گیا ہے۔

اس سے قبل پیر کے روز مسلسل ساتویں دن پٹرول 30 پیسے فی لیٹر اور ڈیزل 35 پیسے فی لیٹر مہنگا ہوا۔ اس کے بعد دو دن تک سکون رہا لیکن اس کے بعد سے قیمتوں میں اضافہ کا سلسلہ جاری ہے۔

قیمتوں میں اضافے کے بعد ممبئی میں پٹرول 111.77 روپے اور ڈیزل 102.52 روپے فی لیٹر ہو گیا ہے۔ مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال میں پٹرول 114.45 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 103.78 روپے فی لیٹر مہنگا ہو چکا ہے۔ جھارکھنڈ کے دارالحکومت رانچی میں پٹرول 100.25 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 99.80 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا ہے۔ رانچی میں اب بھی پٹرول پورے ملک میں سب سے سستا ہے۔

ملک کے بیشتر شہروں میں ڈیزل بھی سنچری کی طرف بڑھ رہا ہے

اس وقت ملک کے بیشتر بڑے شہروں میں پٹرول کی قیمت 100 روپے فی لیٹر سے تجاوز کرچکی ہے اور بیشتر شہروں میں ڈیزل بھی سنچری کی طرف بڑھ رہا ہے۔ کچھ شہروں میں ڈیزل 100 روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔

اس مہینے میں اب تک ان دونوں ایندھنوں کی قیمتوں میں 17 دنوں میں 14 دن اضافہ ہوا ہے۔ اس ماہ اب تک پٹرول 4.20 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 4.70 روپے فی لیٹر مہنگا ہو چکا ہے۔

بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل اب بھی اونچا رہا۔ امریکہ میں جمعہ کو ہفتے کے آخر میں خام تیل میں اضافہ ہوا۔ اس دوران برینٹ کروڈ 0.86 اضافے کے ساتھ 84.86 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔ امریکی خام تیل 1.17 ڈالر اضافے کے ساتھ 82.28 ڈالر فی بیرل رہا۔

ملک کی سرخیل آئل مارکیٹنگ کمپنی انڈین آئل کارپوریشن کے مطابق دہلی میں پٹرول 105.84 روپے فی لیٹر اورڈیزل 94.57 روپے فی لیٹر تک پہنچ چکا ہے۔

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا روزانہ جائزہ لیا جاتا ہے اور اسی بنیاد پر ہر روز صبح 6 بجے سے نئی قیمتوں کا اطلاق ہوتا ہے۔

شہر —————     پٹرول    —————  ڈیزل 
دہلی —————    105.84  —————  94.57
ممبئی -————— 111.77 —————— 102.52
چنئی —————  103.01 -—— ———- 98.92
کولکتہ ————   106.43 ——————  97.68