اتوار, اکتوبر 4, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 290

ممتا بنرجی کی بی جے پی لیڈر سبرامنیم سوامی سے ملاقات

0
ممتا بنرجی کی بی جے پی لیڈر سبرامنیم سوامی سے ملاقات
ممتا بنرجی کی بی جے پی لیڈر سبرامنیم سوامی سے ملاقات

ترنمول کانگریس کی توسیع کے مشن پر دہلی میں ممتا بنرجی نے آج وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کرنے سے قبل بی جے پی لیڈر سبرامنیم سوامی سے ملاقات کی۔

کلکتہ: ترنمول کانگریس کی توسیع کے مشن پر دہلی میں موجود وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے آج شام 5 بجے وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کرنے سے قبل بی جے پی کے راجیہ سبھا رکن اور اپنی ہی حکومت کے خلاف تبصرہ کرنے کے لئے مشہور سبرامنیم سوامی سے ملاقات کی۔

سبرامنیم سوامی نے ممتا بنرجی سے ملاقات کرنے کے بعد کہا ہے کہ وہ اپنی سائیڈ نہیں تبدیل کر رہے ہیں۔ پہلے بھی وہ ممتا بنرجی کی طرفداری کی ہے۔ مجھے سائیڈ بدلنے کی ضرورت نہیں ہے۔

سخت گیر نظریات کی وجہ سے مشہور سبرامنیم سوامی کے حالیہ دنوں میں بی جے پی سے تعلقات میں سرد مہری آئی ہے۔ انہیں گزشتہ دنوں بی جے پی کی آل انڈیا ورکنگ کمیٹی سے ہٹا دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ وہ پہلے بھی کئی بار عوام میں ممتا کی تعریف کرچکے ہیں۔

وزارت خارجہ سے ممتا بنرجی کو روم کا دورہ کرنے کی اجازت نہیں ملنے پر سوامی نے مرکزی حکومت کی سخت تنقید کی تھی۔ کل ممتا بنرجی نے کانگریسی لیڈران کرتی آزاد، اشوک تنور اور سابق جے ڈی یو لیڈر پون ورما کو ترنمول کانگریس میں شامل کرایا تھا۔

زرعی قوانین کی واپسی: یوپی کانگریس نے منایا کسان وجے دیوس

0
زرعی قوانین کی واپسی: یوپی کانگریس نے منایا کسان وجے دیوس
زرعی قوانین کی واپسی: یوپی کانگریس نے منایا کسان وجے دیوس

ریاستی صدر اجئے کمار للو نے کہا کہ مرکزی حکومت نے کسان تحریک کو بدنام کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ کبھی ‘آندولن جی وی، کبھی خالصتانی اور کبھی موالی کہہ کر کسانوں کی جو توہین کی ہے۔ زرعی قوانین کی واپسی کے باوجود مرکزی حکومت اس کی تلافی کیسے کرے گی۔

لکھنؤ: زرعی قوانین کی واپسی کو کسان جدوجہد کی جیت قرار دیتے ہوئے کانگریس نے آج پورے اترپردیش میں کسان وجے دیوس منایا۔

اس موقع پر ریاستی کانگریس دفتر میں شہید کسانوں کی روح کی تسکین کے لئے چراغاں کیا گیا اور ان کے تصاویر پر گلپوشی کرکے دو منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ پارٹی کے ریاستی صدر اجئے کمار للو نے کہا کہ مرکزی حکومت نے کسان تحریک کو بدنام کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ کبھی ‘آندولن جی وی، کبھی خالصتانی اور کبھی موالی کہہ کر کسانوں کی جو توہین کی ہے۔ زرعی قوانین کی واپسی کے باوجود مرکزی حکومت اس کی تلافی کیسے کرے گی۔

پارٹی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے وزیر اعظم کو خط لکھ کر کہا ہے کہ مرکزی مملکتی وزیر برائے داخلی امور اجے مشرا ٹینی کے بیٹے نے لکھیم پور میں گاڑیوں سے کچل کر کسانوں کا قتل کردیا تھا جس کی تصدیق جانچ ایجنسی نے کی۔ فورنسک رپورٹ میں صاف صاف لکھا ہے کہ اس کی بندوق سے ہی واقعہ کو انجام دیا گیا ہے۔ اتنے سارے ثبوت کے بعد بھی مملکتی وزیر کو برخاست نہ کیا جانا ان کے خلاف کارروائی نہ ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ حکومت قاتلوں کو تحفظ فراہم کرکے ان کے ساتھ کھڑی ہے۔

پرینکا نے کہا کہ کسان تحریک میں جن 700 کسانوں نے پانی شہادت دی ہے ان کے اہل خانہ کو مالی تعاون دی جائے۔ ایم ایس پی کی گارنٹی دی جائے اور جو تین زرعی قوانین ہیں ان کے لئے آرڈیننس لانے کا انتظام حکومت کے ذریعہ کیا جائے۔ ان سبھی مطالبات کو حکومت جلد سے جلد پورا کرے۔

فرائض اور ذمہ داریاں نبھانے کے لیے موزوں ہیں جو بائیڈن

0
فرائض اور ذمہ داریاں نبھانے کے لیے موزوں ہیں جو بائیڈن
فرائض اور ذمہ داریاں نبھانے کے لیے موزوں ہیں جو بائیڈن

امریکی صدر جو بائیڈن اپنے فرائض اور ذمہ داریاں نبھانے کے لیے موزوں ہیں۔

واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن اپنے فرائض اور ذمہ داریاں نبھانے کے لیے موزوں ہیں۔

یہ جانکاری مسٹر بائیڈن کے معالج کیون او کونر نے وائٹ ہاؤس کو دیئے ایک میمورنڈم میں دی ہے۔ انہوں نے جمعہ کے روز کہا ’’صدر ڈیوٹی کے لیے موزوں ہیں اور بغیر کسی آرام کے اپنی تمام ذمہ داریاں نبھا سکتے ہیں‘‘۔

انہوں نے کہا کہ مسٹر بائیڈن تقریر دیتے وقت ‘گلا صاف کرنے’ کے واقعات کی بڑھتی ہوئی تعدد اور سخت گیری کا سامنا کر رہے ہیں، جس کی تفصیلی تحقیقات کی جائے گی۔ مسٹر بائیڈن کے چلنے کے انداز میں بھی تبدیلی آئی ہے اور انہوں نے ایک سال پہلے کی بنسبت کم مائع مادہ لیا ہے جس کی جانچ بھی ضروری ہے۔

متنازعہ زرعی قوانین واپس لینے کے وزیر اعظم کے اعلان پر حزب اختلاف کا رد عمل

0
متنازعہ زرعی قوانین واپس لینے کے وزیر اعظم کے اعلان پر حزب اختلاف کا رد عمل
متنازعہ زرعی قوانین واپس لینے کے وزیر اعظم کے اعلان پر حزب اختلاف کا رد عمل

متنازعہ زرعی قوانین کو منسوخ کئے جانے کے وزیر اعظم نریندر مودی کے اعلان کے ساتھ ہی جہاں حزب اختلاف نے مختلف الفاظ میں اس کا خیر مقدم کیا ہے وہیں اویسی اور ٹکیت نے کہہ دیں یہ بڑی باتیں

رپورٹ: جلیس اختر نصیری

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو تینوں متنازعہ زرعی قوانین کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا اور کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) اور زیرو بجٹ فارمنگ کی سفارش کرنے کے لیے ایک کثیر جہتی کمیٹی کے قیام کا بھی اعلان کیا۔

جناب مودی نے دیوالی اور گرو نانک دیو جی کے پرکاش تیوہار کے موقع پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے آج نئی دہلی میں کہا کہ وہ نیک نیتی کے ساتھ کسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے یہ تینوں زرعی قوانین لائے تھے۔ کافی عرصے سے اس کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ کسان بھلے ہی تعداد کم ہو، اس کی مخالفت کی۔ غالباً یہ ہمارے عزم کی کمی تھی کہ ہم انہیں ان تینوں قوانین کے بارے میں سمجھا نہ کر سکے۔

جناب مودی نے کہا کہ ان تینوں قوانین کو منسوخ کرنے کا عمل پارلیمنٹ کے اسی اجلاس میں کیا جائے گا۔ پارلیمنٹ کا اجلاس 29 نومبر سے شروع ہو رہا ہے۔ انہوں نے کسانوں سے اپیل کی کہ وہ احتجاج چھوڑ کر اپنے اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ایم ایس پی پر انتخاب کے لیے کمیٹی میں مرکزی حکومت کے نمائندوں کے علاوہ ریاستی حکومتوں، کسان تنظیموں، زرعی ماہرین اور زرعی ماہرین اقتصادیات رکھے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں کسانوں اور دیہی لوگوں کے لیے پہلے سے زیادہ محنت کرتا رہوں گا۔

بی جے پی نے کہا کہ وزیر اعظم فیصلہ ملک کے مفاد میں

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اس پر وضاحت کی ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک کے مفاد میں زرعی قوانین کو واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

بی جے پی کسان مورچہ کے صدر راجکمار چاہر نے کہا ہے کہ جناب مودی نے یقینی طور پر کسانوں کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے زرعی قوانین کو واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

قومی راجدھانی کی سرحدوں پر کسان تقریباً ایک سال سے احتجاج کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے حکومت نے تینوں نئے زرعی قوانین کو واپس لے لیا ہے۔ وزیر اعظم نے آج ملک سے اپنے خطاب میں یہ بڑا اعلان کیا۔

تین نئے زرعی قوانین کی منظوری گزشتہ سال ستمبر میں پارلیمنٹ نے دی گئی تھی۔ اس کے بعد صدر رام ناتھ کووند نے تینوں قوانین کی تجویز پر دستخط کئے تھے۔ تب سے کسانوں کی تنظیموں نے زرعی قوانین کے خلاف تحریک شروع کی ہوئی ہے۔

ٹکیت نےکسانوں کا احتجاج فوری طور پر واپس لینے سے کیا انکار

بھارتیہ کسان یونین کے ترجمان راکیش ٹکیت نے کہا ہے کہ کسانوں کا احتجاج فوری طور پر واپس نہیں ہو گا۔ انہوں نے جمعہ کو ٹوئٹ کیا ’’احتجاج فوری طور پر واپس نہیں لیا جائے گا، ہم اس دن کا انتظار کریں گے جب پارلیمنٹ میں زرعی قوانین کو منسوخ کر دیا جائے گا۔ حکومت ایم ایس پی کے ساتھ ساتھ کسانوں کے دیگر مسائل پر بھی بات کرے۔‘‘

اویسی نے حکومت کی مجبوری قرار دیا

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے قومی صدر جناب اسد الدین اویسی نے متنازعہ زرعی قوانین کے واپسی کے اعلان کو حکومت کی مجبوری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ زرعی قوانین شروع سے ہی غیر آئینی تھے۔ حکومت کی انا نے کسانوں کو سڑکوں پر آنے پر مجبور کر دیا تھا۔ اگر حکومت اتنی بچگانہ ضد نہ کرتی تو 700 سے زیادہ کسانوں کی جان نہ جاتی۔

اویسی نے ٹویٹ کرکے کسان تحریک کو مبارکباد دی ہے۔ اویسی نے کہا کہ یوپی اور پنجاب میں آنے والے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر اس کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔ انہوں نے اس حوالے سے مزید کہا کہ اس سے ظاہر ہے کہ پورے ملک میں ایک ہی الیکشن کیوں غلط ہے۔

یوپی اور پنجاب میں آنے والے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر اس کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔ اس سے ظاہر ہے کہ پورے ملک میں ایک ہی الیکشن کیوں غلط ہے۔

اسد الدین اویسی

اویسی نے کہا کہ آنے والے انتخابات اور احتجاجی تحریکوں نے ہندوستان کے وزیر اعظم کو فارم قوانین پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عوامی تحریک کو ختم نہیں کرسکتے بلکہ وہ صرف لوگوں کو ہراساں کرنے میں کامیاب رہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سی اے اے مخالف تحریک سے بھی اایسے قانونوں کی روک تھام کو یقینی بنایا گیا ہے۔ گوکہ سی اے اے کے قوانین ابھی بننا باقی ہیں لیکن کسانوں کی تحریک ان کی استقامت کی وجہ سے کامیاب ہوئی ہے۔

راہل گاندھی نے دی کسانوں کو مبارکبادی

کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے تینوں زرعی قوانین کو واپس لینے کے حکومت کے اعلان کو ناانصافی کی شکست قرار دیتے ہوئے کسانوں کو جیت کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ انیہ داتا کے ستیہ گرہ کے سامنے غرور کا سر جھکا ہے۔

راہل گاندھی نے ٹویٹ کیا ’’ملک کے ان داتا نے ستیہ گرہ سے غرور کا سر جھکا دیا۔ ناانصافی کے خلاف اس جیت پر مبارکباد! جئے ہند، جئے ہند کا کسان۔‘‘

ڈاکٹر نریش نے اسے مغرور حکومت کی شکست قرار دیا

دہلی ریاستی کانگریس کمیٹی کے سینئر ترجمان ڈاکٹر نریش کمار نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو تینوں زرعی قوانین کو واپس لینے کا اعلان کر کے کسانوں پر کوئی احسان نہیں کیا ہے، بلکہ یہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور دوسری پارٹیوں کے ان لیڈروں کی شکست ہے جو کسانوں کو دہشت گرد اور ملک دشمن کہہ رہے تھے

ایک بیان میں ڈاکٹر کمار نے کہا کہ ان قوانین کے حوالے سے مرکزی حکومت کی نیت شروع سے ہی غلط تھی اور جناب مودی کا مقصد ان قوانین کے ذریعے اپنے صنعتکار دوستوں کو فائدہ پہنچانا تھا اور اگر یہ کالے قوانین ملک میں لاگو ہوتے تو کاشتکار برادری کارپوریٹ دنیا کی غلام بن کر رہ جاتی۔

اس کا کریڈٹ کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی اور کانگریس لیڈر پرینکا واڈرا کو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان لیڈروں نے پارلیمنٹ سے لے کر سڑکوں تک کسانوں کے مفادات کے لیے جدوجہد کی اور لوگوں اور کسانوں کو ان کے بارے میں آگاہ کیا۔

ہم اس دن کا انتظار کریں گے جب پارلیمنٹ میں زرعی قوانین کو منسوخ کر دیا جائے گا

راکیش ٹکیت

انگریس کے ترجمان نے کہا کہ جس طرح مہاتما گاندھی نے ستیہ گرہ کے ذریعے متکبر برطانوی حکومت کو جھکایا تھا، اسی طرح کسانوں نے ملک بھر میں پرامن طریقے سے اپنی تحریک چلائی تھی اور اس متکبر حکومت کو سمجھادیا کہ اس کی من مانی نہیں چلے گی۔

جناب کمار نے کہا کہ ملک کے لوگ وزیر اعظم مودی سے مایوس ہو چکے ہیں اور وہ جس ترقی اور اچھے دنوں کی بات کرتے تھے وہ سب انتخابی چالیں ثابت ہوئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت مہنگائی پر قابو پانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے، ڈیزل اور پٹرول کے علاوہ کھانا پکانے کی گیس، سرسوں کے تیل اور غذائی اجناس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے ہم وطنوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے اور اس کا نتیجہ مرکزی حکومت کو حال ہی میں ہونے والے اسمبلی اور لوک سبھا کے ضمنی انتخابات میں دیکھنے کو مل گیا ہے۔

مرکزی حکومت نے ان قوانین کو واپس لے کر کسانوں پر کوئی احسان نہیں کیا ہے کیونکہ اسے اگلے سال کئی ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں اپنی شکست کا خدشہ ہے

ڈاکٹر نریش اگروال

انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے ان قوانین کو واپس لے کر کسانوں پر کوئی احسان نہیں کیا ہے کیونکہ اسے اگلے سال کئی ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں اپنی شکست کا خدشہ ہے اور اسی وجہ سے اس نے ان کالے قوانین کو واپس لینے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی ایسی کیا مجبوری ہے کہ اس نے انہیں واپس لینے کا اعلان کیا ہے اور اگر اس حکومت کی نیت ٹھیک ہوتی تو یہ قانون کبھی نہیں لاتی اور نہ ہی اس حکومت کے وزراء اپنی تقریروں میں کسانوں کو دہشت گرد قرار دیتے۔

کیپٹن امریندر نے اعلان کا خیر مقدم کیا

پنجاب کے سابق وزیر اعلی کیپٹن امریندر سنگھ نے زرعی قوانین منسوخ کرنے کے اعلان پر وزیر اعظم نریندر مودی کا شکریہ ادا کیا۔ آج اپنے ٹویٹ میں اسے بڑی خبر قرار دیتے ہوئے گرو نانک جینتی کے موقع پر پنجاب کے لوگوں کے بات مان کر زعی قوانین کو منسوخ کرنے پر وزیر اعظم کا اظہار تشکرکیا۔

دیگر ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ وہ گزشتہ ایک سال سے یہ معاملہ مرکز کے ساتھ اٹھا رہے ہیں اور وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ سے درخواست کر رہے ہیں کہ وہ لوگوں کی آوازوں کو سنیں۔

ایک اور ٹویٹ میں سابق وزیر اعلیٰ نے کسانوں کی ترقی کے لیے مستقبل میں بی جے پی کے ساتھ مل کر کام کرنے کی امید ظاہر کی اور کہا کہ ’میں پنجاب کے لوگوں سے وعدہ کرتا ہوں کہ اس وقت تک سکون سے نہیں بیٹھوں گا جب تک ہر آنکھ کا ہر آنسو نہیں پونچھ لیتا۔‘‘

واضح رہے کہ کیپٹن امریندر سنگھ، جنہوں نے چند ماہ قبل کانگریس چھوڑنے اور وزیراعلی کے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد اپنی پارٹی بنانے کا اعلان کیا تھا، بی جے پی کے ساتھ اتحاد میں الیکشن لڑنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔

کیجریوال نے کہا "کسانوں کی شہادت لازوال”

دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے زراعت کے تین قوانین کی منسوخی کو اچھی خبر قرار دیتے ہوئے کہا کہ تحریک کے دوران مرنے والے کسانوں کی شہادت ہمیشہ زندہ رہے گی۔

وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے زراعت کے تین قوانین کو منسوخ کرنے کے اعلان کے بعد جناب کیجریوال نے ٹویٹ کیا ’’آج پرکاش دیوس پر کتنی بڑی خوش خبری ملی۔ تینوں قوانین منسوخ کر دیے گئے۔ 700 سے زیادہ کسان شہید ہوئے، ان کی شہادت لازوال رہے گی۔ آنے والی نسلیں یاد رکھیں گی کہ کس طرح اس ملک کے کسانوں نے اپنی جان کی بازی لگاکر کاشتکاری اور کسانوں کو بچایا تھا۔ میرے ملک کے کسانوں کو سلام۔

واضح رہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے آج قوم سے اپنے خطاب میں تینوں زرعی قوانین کو واپس لینے کا اعلان کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ان قوانین کو واپس لینے کا عمل اس ماہ کے آخر سے شروع ہونے والے پارلیمنٹ کے اجلاس میں شروع ہو جائے گا۔

کسانوں کی کئی تنظیموں نے دہلی کی سرحدوں پر مورچے بنارکھے ہیں اور ان کے احتجاج کو تقریباً ایک سال ہونے والا ہے۔

 

کیپیٹل ہل حملہ: ٹرمپ کے حامی کو 41 ماہ قید کی سزا

0
کیپیٹل ہل حملہ: ٹرمپ کے حامی کو 41 ماہ قید کی سزا
کیپیٹل ہل حملہ: ٹرمپ کے حامی کو 41 ماہ قید کی سزا

سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامی جیکب چانسلی کو عدالت نے 41 ماہ قید کی سزا سنا دی ہے۔ جیکب چانسلی کیپیٹل ہل کی عمارت میں زبردستی داخل ہونے والوں میں شامل تھا۔

واشنگٹن: امریکہ میں کیپیٹل ہل پر حملہ میں شامل سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامی جیکب چانسلی کو عدالت نے 41 ماہ قید کی سزا سنا دی ہے۔

رپورٹس کے مطابق قدیم قبائلی کے روپ میں جیکب چانسلی کیپٹل ہل کی عمارت میں زبردستی داخل ہونے والوں میں شامل تھا۔

نیزہ اٹھائے اور سینگوں والی ٹوپی پہنے جیکب کی تصاویر دنیا بھر میں میڈیا کی زینت بنی تھیں۔

یاد رہے کہ سابق امریکی صدر کے حامیوں نے 6 جنوری کو کیپیٹل ہل پر حملہ کیا تھا۔

برطانوی میڈیا کے مطابق ملزم کو سنائی گئی سزا کیپیٹل ہل کے کسی بھی حملہ آور کو دی جانے والی سب سے سخت سزا ہے۔

اس سے قبل ایک سابق مکسڈ مارشل آرٹسٹ کو حملے کے دوران ایک پولیس افسر کو مکا مارنے پر 41 مہینوں کی سزا سنائی گئی تھی۔

خیال ریے کیپٹل حملہ میں متعدد افراد اور ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔

مدھیہ پردیش میں نائٹ کرفیو سمیت دیگر پابندیاں بھی آج رات سے ختم

0
مدھیہ پردیش میں نائٹ کرفیو سمیت دیگر پابندیاں بھی آج رات سے ختم
مدھیہ پردیش میں نائٹ کرفیو سمیت دیگر پابندیاں بھی آج رات سے ختم

مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان نے بتایا کہ ریاست میں تمام لوگ جو آخری رسومات اور جنازے میں شرکت کے خواہش مند ہیں، شریک ہوسکیں گے۔ رات کا کرفیو آج رات سے ختم ہو رہا ہے۔

بھوپال: مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان نے بتایا کہ ریاست میں کووڈ-19 تقریباً کنٹرول میں ہے۔ اس لیے ریاستی حکومت کی جانب سے ایسی پابندیوں کو ہٹانے کا فیصلہ کیا جا رہا ہے، جو اب تک نافذ تھیں۔ یہ پابندیاں کووڈ وبا کے دوران لگائی گئی تھیں۔

مسٹر چوہان نے آج یہاں سکریٹریٹ میں ریاست میں کووڈ کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے یہ ہدایات دیں۔ صحت عامہ اور خاندانی فلاح و بہبود کے وزیر پربھورام چودھری، طبی تعلیم کے وزیر وشواس سارنگ، چیف سکریٹری اقبال سنگھ بینس، ایڈیشنل چیف سکریٹری ہوم ڈاکٹر راجیش راجورا، ہیلتھ کمشنر آکاش ترپاٹھی اور دیگر افسران میٹنگ میں موجود تھے۔

میٹنگ میں مسٹر چوہان نے بتایا کہ اب تمام سماجی، سیاسی، کھیل، تفریحی، ثقافتی اور مذہبی تقریبات پوری صلاحیت کے ساتھ منعقد کی جائیں گی۔ ریاست میں مختلف مقامات پر میلوں کا انعقاد بھی کیا جا سکتا ہے۔ مذکورہ تقریبات منعقد کی جا سکیں گی اور شادی میں شرکت بغیر کسی حد کے کی جا سکے گی۔ مسٹر چوہان نے بتایا کہ ایک طویل عرصہ پابندیوں کے ساتھ گزرا ہے۔ پابندیاں ہٹانے کا فیصلہ مجموعی صورتحال پر غور و خوض کے بعد کیا گیا ہے۔

اسکول، کالج، ہاسٹل، کوچنگ کلاسز اب پوری صلاحیت کے ساتھ چلائی جا سکیں گی

وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ تمام لوگ جو آخری رسومات اور جنازے میں شرکت کے خواہش مند ہیں، شریک ہوسکیں گے۔ رات کا کرفیو آج رات سے ختم ہو رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سنیما ہال، مالز، سوئمنگ پول، جم، یوگا سنٹر، ریستوراں، کلب وغیرہ 100 فیصد گنجائش کے ساتھ کھولے جائیں گے۔ اسکول، کالج، ہاسٹل، کوچنگ کلاسز اب پوری صلاحیت کے ساتھ چلائی جا سکیں گی۔ یہ یقینی ہے کہ ہم ہر قسم کی سرگرمیاں شروع کر رہے ہیں۔ لیکن اس کی شروعات کورونا دوستانہ رویے سے ہوگی۔

مسٹر چوہان نے بتایا کہ ضروری ہے کہ انفیکشن پھیلانے کے لیے ذمہ دار کوئی کارروائی نہ کی جائے کسی بھی سطح پر کوئی لاپرواہی نہ برتی جائے، باہمی فاصلے کی احتیاط اور ماسک کا استعمال سب کے لیے ضروری ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ دکاندار میلوں میں اسی صورت میں دکان لگا سکیں گے جب انہیں دونوں ڈوزیں لگ جائیں گی۔ سینما ہال میں عملے کے لیے دونوں ڈوزیں لینا اور تماشائیوں کے لیے کم از کم ایک ڈوز لازمی ہو گی۔

میلوں کے علاوہ دکاندار کے لیے شہری اور دیہی علاقوں میں ویکسین کی دونوں خوراکیں لینا لازمی ہوگا۔ دونوں خوراکیں 18 سال سے زیادہ عمر کے طلباء اور ہاسٹل کے تمام عملے کے لیے درکار ہوں گی۔

مسٹر چوہان نے میڈیا کے ذریعے محتاط رہنے کی اپیل کی ہے۔ اگر حکومتی ٹیم کووڈ ٹیسٹ کے لیے آتی ہے تو اس کا نمونہ دینا ضروری ہے، تاکہ اگر یہ بیماری زیادہ لوگوں کو ہو رہی ہو، انفیکشن پھیل رہا ہو، تو اس کا فوری پتہ لگایا جا سکے۔ جس کی دوسری خوراک رہ جائے تو ضرور ویکسین لگوائیں۔ دونوں خوراکیں سرکاری ملازمین کے لیے لازمی ہیں۔

کولگام میں دو الگ الگ تصادم آرائیوں میں ٹی آر ایف کمانڈر سمیت 4 دہشت گرد ہلاک: آئی جی کشمیر

0
کولگام میں دو الگ الگ تصادم آرائیوں میں ٹی آر ایف کمانڈر سمیت 4 دہشت گرد ہلاک: آئی جی کشمیر
کولگام میں دو الگ الگ تصادم آرائیوں میں ٹی آر ایف کمانڈر سمیت 4 دہشت گرد ہلاک: آئی جی کشمیر

کولگام کے پمبائی اور گوپال پورہ علاقوں میں دو الگ الگ تصادم آرائیوں کے دوران 4 دہشت گرد ہلاک ہوئے ہیں۔

سری نگر: جنوبی ضلع کولگام کے پمبائی اور گوپال پورہ علاقوں میں دو الگ الگ تصادم آرائیوں کے دوران 4 دہشت گرد ہلاک ہوئے ہیں۔

آئی جی کشمیر وجے کمار نے بتایا کہ ’سیکیورٹی فورسز نے مصدقہ اطلاع موصول ہونے کے بعد بدھ کی شام کو ضلع کولگام کے پمبائی اور گوپال پورہ علاقوں کو محاصرے میں لے کر تلاشی آپریشن شروع کیا‘۔

انہوں نے کہا کہ جونہی سیکیورٹی فورسز کے اہلکار مشتبہ مقامات کے قریب پہنچے تو وہاں پر موجود ملی ٹینٹوں نے فورسز پر اندھا دھند فائرنگ شروع کی۔ چنانچہ حفاظتی عملے نے بھی جوابی کارروائی کا آغاز کیا جس دوران کئی منٹوں تک دو بدو گولیوں کا تبادلہ جاری رہا۔

آئی جی کشمیر کا مزید کہنا تھا کہ ’تصادم آرائیوں کے دوران چار ملی ٹینٹ مارے گئے جن میں سے ایک کی شناخت ٹی آر ایف کمانڈر آفاق سکندر کے بطور ہوئی ہے۔

پولیس ذرائع نے بتایا کہ جھڑپوں کے دوران مارے گئے تین ملی ٹینٹوں کی شناخت اور اُن کی تنظیمی وابستگی کے بارے میں جانچ پڑتال شروع کی گئی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پمبائی اور گوپال پورہ علاقوں میں تلاشی آپریشن جاری ہے۔

ذرائع کے مطابق گاﺅں میں اور ایک ملی ٹینٹ چھپا بیٹھا ہیں جس کو مار گرانے کی خاطر کارروائی جاری ہے۔

کچھ سوشل میڈیا اور کچھ غیر جانب دار صحافیوں کے ہاتھوں حقیقی صحافت کی باگ ڈور

0
کچھ سوشل میڈیا اور کچھ غیر جانب دار صحافیوں کے ہاتھوں حقیقی صحافت کی باگ ڈور
کچھ سوشل میڈیا اور کچھ غیر جانب دار صحافیوں کے ہاتھوں حقیقی صحافت کی باگ ڈور

‘نیشنل پریس ڈے’ یعنی قومی یوم صحافت کے موقع پر انقلابی شاعر حبیب جالبؔ کا شعر "اور سب بھول گئے حرف صداقت لکھنا – رہ گیا کام ہمارا ہی بغاوت لکھنا” بر محل ہے

تحریر: ڈاکٹر یامین انصاری

نیشنل پریس ڈے اور حرف صداقت

‘نیشنل پریس ڈے’ یعنی قومی یوم صحافت کے موقع پر اچانک انقلابی شاعر حبیب جالبؔ کی ایک نظم یاد آئی گئی۔ اگرچہ یہ نظم انھوں نے کئی دہائی پہلے لکھی تھی، لیکن اس کی معنویت آج اس سے کہیں زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ صحافت کی موجودہ صورت حال پر اس سے بہتر اور کچھ نہیں کہا جا سکتا، تو کوئی مبالغہ نہیں ہوگا۔ اس نظم کے پہلے شعر میں ہی وہ ملک کی موجودہ صحافت کی بھرپور عکاسی کرتے نظر آتے ہیں۔ نظم کے پہلے مصرعہ میں ان صحافیوں کی تصویر نظر آتی ہے، جنھیں آج ہم ’گودی میڈیا‘ کے نام سے جانتے ہیں، جبکہ دوسرے مصرعہ میں وہ صحافی نظر آتے ہیں جو تمام مشکلات اور نا مساعد حالات کے باوجود آج بھی صحافتی اصولوں پر عمل پیرا ہیں۔ صحافیوں کے تعلق سے آج حالات یہ ہو چکے ہیں کہ یا تو ’اِدھر‘ یا ’اُدھر‘۔ حبیب جالبؔ کی نظم کا مطلع بھی اسی جانب اشارہ کرتا ہے۔ وہ کہتے ہیں۔

اور سب بھول گئے حرف صداقت لکھنا
رہ گیا کام ہمارا ہی بغاوت لکھنا

اگر آج سوشل میڈیا، یو ٹیوب چینل اور غیر جانبدار صحافی نہیں ہوتے تو ملک کے عوام کو صرف حکومت کی قصیدہ خوانی پر ہی اکتفا کرنا پڑتا

ہندوستان میں پہلے’پریس کمیشن‘ نے ملک میں صحافت کی آزادی کے تحفظ اور صحافتی اصولوں کو مزید تقویت دینے کے مقصد سے ایک پریس کونسل کا تصور کیا گیا تھا۔ جس کے بعد 4 جولائی 1966ء کو پریس کونسل کا قیام عمل میں آیا۔ اس کونسل نے 16 نومبر 1966ء سے باضابطہ طور پر اپنا کام شروع کیا۔ تبھی سے ہر سال 16 نومبر کو ’نیشنل پریس ڈے‘ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ہم نے 2021 ء کا ’نیشنل پریس ڈے‘ ان حالات میں منایا، جب صحافت کے پیشے سے وابستہ افراد یا تو ’حرف صداقت‘ لکھنا بھول گئے ہیں، یا پھر انھیں ایسا کرنے پر مجبور کر دیا گیا ہے اور جو ایسا نہیں کر رہے ہیں، ان کے کام کو ’بغاوت‘ کے زمرے میں ڈال دیا جا رہا ہے، انھیں ہراساں کیا جا ہا ہے، ان پر شکنجہ کسا جا رہا ہے، جیلوں میں ڈالا جا رہا ہے۔ بہت زیادہ پیچھے جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ تری پورہ میں پیش آنے والے واقعات اور پھر ان کی خبر گیری کرنے پر کس طرح صحافیوں کو قید و بند کی صعوبتیں اٹھانا پڑ رہی ہیں، وہ سب ہمارے سامنے ہے۔

تری پورہ فسادات کے خلاف بولنے والے صحافیوں پر یو اے پی اے کے تحت مقدمہ درج

تری پورہ میں مسلمانوں پر حملوں کے بعد سوشل میڈیا پر اس کے خلاف بولنے والے تقریباً 70 افراد اور تنظیموں کے خلاف پولیس نے یو اے پی اے کے تحت معاملہ درج کیا۔ ان میں صحافیوں کے علاوہ سماجی کارکن اور وکلا بھی شامل ہیں۔ یہاں تک کہ دہلی سے تری پورہ واقعہ کی حقیقت جاننے گئیں دہلی کی دو نوجوان خاتون صحافیوں پر بھی مقدمہ درج کرکے انھیں گرفتار کر لیا گیا۔ محض بیس اور بائیس سال کی سمردھی سکونیا اور سورنا جھا کا قصور یہ تھا کہ وہ زمینی سچائی جاننے کے بعد اپنی کچھ رپورٹس اپنے ادارے ’ایچ ڈبلیو نیوز نیٹ ورک‘ کے ذریعہ منظر عام پر لائیں۔ بھلے ہی انھیں ضمانت مل گئی ہے، لیکن قانونی چارہ جوئی اور اس سے متعلق معاملات کے لئے انھیں آئندہ بھی مشکلات کا سامنا رہے گا۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ دونوں اپنی رپورٹنگ کے ذریعہ فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کا کام کر رہی تھیں۔ کاش، مقامی انتظامیہ اس وقت بھی ایسی ہی مستعدی اور سرگرمی کا مظاہرہ کرتی جب اس کے سامنے کھلے عام مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ ظاہر ہے اگر ایسا کیا ہوتا تو تری پورہ کا معاملہ قومی میڈیا سے لے کر بین الاقوامی میڈیا تک کی سرخیوں میں نہیں آتا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اس سے کچھ اور پیچھے جائیں تو کسان تحریک کے دوران ایک نوجوان صحافی مندیپ پونیا کی گرفتاری بھی قومی سطح پر سرخیوں میں رہی۔ یہ خوش قسمت تھے کہ انھیں بھی چند روز میں ضمانت مل گئی۔ لیکن کیرل کے ایک نوجوان صحافی کے ساتھ ایسا نہیں ہوا، کیوں کہ اس کا نام ’صدیق کپن‘ ہے۔ وہ ایک سال سے زائد عرصہ سے یو پی کی جیل میں قید ہیں۔ اس دوران انھوں نے اپنی ماں کو بھی کھو دیا۔

ہاتھرس اجتماعی عصمت دری و قتل معاملہ

صدیق کو گزشتہ برس پانچ اکتوبر کو ہاتھرس جاتے وقت گرفتار کیا گیا تھا۔ جہاں ایک دلت لڑکی کی اجتماعی عصمت دری کے بعد موت ہو گئی تھی اور پولیس نے رات کے اندھیرے میں اس کی آخری رسوم ادا کر دی تھیں۔ پورے ملک میں اس واقعہ پر ہنگامہ برپا ہوا تھا۔ یو اے پی اے کے تحت درج مقدمہ میں الزام لگایا گیا تھا کہ کپن اور ان کے دیگر ساتھی ہاتھرس اجتماعی عصمت دری و قتل معاملے میں فرقہ وارانہ فساد بھڑکانے اور سماجی ہم آہنگی کو خراب کرنے کی کوشش کررہے تھے۔

اس سے پہلے یوپی میں ہی راج دیپ سردیسائی اور سدھارتھ ورداراجن جیسے نامور صحافیوں پر بھی مقدمات درج کئے گئے۔ ایسے میں یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ کیا ہندوستان میں صحافت کا مطلب صرف جی حضوری اور حکومت کی مدح سرائی ہی رہ گیا ہے؟ کیا ملک میں صحافت اور اظہار رائے کی آزادی بالکل ختم ہو رہی ہے؟ کیوں کہ آج ملک میں مین اسٹریم میڈیا کا یہ حال ہے کہ حکومت سے سوال کرنے کے بجائے حزب اختلاف سے سوال کیا جا رہا ہے۔ مشہور صحافی رویش کمار نے کچھ عرصہ پہلے حالات کی بالکل صحیح عکاسی کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’جیل کی دیواریں آزاد آوازوں سے اونچی نہیں ہوسکتی ہیں، جو اظہار خیال کی آزادی پر پہرہ لگانا چاہتے ہیں، وہ دیش کو جیل میں بدلنا چاہتے ہیں۔ ‘‘اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر آج سوشل میڈیا، یو ٹیوب چینل اور غیر جانبدار صحافی نہیں ہوتے تو ملک کے عوام کو صرف حکومت کی قصیدہ خوانی پر ہی اکتفا کرنا پڑتا۔ آزاد اور غیر جانب دار صحافیوں نے کافی حد تک صحافتی اصلوں کی لاج بچا رکھی ہے۔

صحافیوں کو قید کرکے انھیں تشدد کا نشانہ بنانے ممالک کی فہرست

رواں سال کے جولائی ماہ میں صحافیوں کے تحفظ کی بین الاقوامی تنظیم ’رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز‘ نے ایسے ملکوں کے سربراہان کی فہرست جاری کی تھی، جو ان کے مطابق اپنے ملک میں سنسرشپ، صحافیوں کو قید کرکے انھیں تشدد کا نشانہ بنانے، ہراساں کرنے یا انھیں نامعلوم افراد کے ہاتھوں قتل کروا کر آزادی صحافت کو مسلسل دبانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان 37 ممالک کے سربراہان میں وزیر اعظم مودی سمیت پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان، سعودی عرب کے شہزادہ محمد بن سلمان، ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان، ایران کے رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای، چین کے صدر شی جن پنگ، روس کے ولادیمیر پوتن اور شمالی کوریا کے کم جونگ ان کے نام بھی شامل تھے۔ جبکہ ایشیا کی دو خاتون سربراہان مملکت بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ اور ہانگ کانگ کی چیف ایگزیکٹو کیری لام شامل تھیں۔ جبکہ چند یورپی ممالک کے سربراہ بھی اسی فہرست میں نظر آئے۔ ہندوستان کی اگر بات کی جائے تو اس کے علاوہ ’رپورٹرز وِدآؤٹ بارڈرز‘ کی رپورٹ میں ہندوستان کو بھی صحافت کے لیے دنیا کے خطرناک ترین ممالک میں شامل کیا گیا۔

180 ممالک میں 142 ویں نمبر پر ہندوستان

تنظیم کے ذریعہ جاری کردہ 2021ء کے ’ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس‘ میں ہندوستان کو 180 ممالک میں 142 ویں نمبر پر رکھا گیا، جو میڈیا کی آزادی کی خراب حالت کی عکاسی کرتا ہے۔ اس کے علاوہ مئی 2019ء سے اگست 2021ء کے درمیان ہندوستان میں صحافیوں پر 256 حملے ہوئے۔ نیو یارک میں واقع تنظیم ’پولیس پروجیکٹ نے ہندوستان میں صحافیوں کے خلاف تشدد پر ایک تحقیق کی، جس میں ان حملوں کا ذکر کیا گیا۔ پولیس پروجیکٹ نے مختلف موضوعات کی کوریج کے دوران پیش آنے والے واقعات کو جمع کیا ہے۔ اس کے مطابق جموں و کشمیر میں 51 واقعات، سی اے اے مخالف مظاہروں کے دوران 26، دہلی فسادات کے دوران 19 اور کورونا بحران کی کوریج کے دوران 46 واقعات رونما ہوئے۔ کسانوں کی تحریک کے دوران صحافیوں پر تشدد کے اب تک 10 واقعات ہو چکے ہیں۔ باقی 104 واقعات ملک بھر میں مختلف اوقات اور کوریج سے متعلق ہیں۔ ان سب کے باوجود ملک میں اپنے پیشے کے ساتھ انصاف کرنے والے صحافی موجود ہیں۔ ایمانداری اور دیانتداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہ حبیب جالب کے اس شعر کو جلا بخش رہے ہیں، کہ ؎

لاکھ کہتے رہیں ظلمت کو نہ ظلمت لکھنا
ہم نے سیکھا نہیں پیارے بہ اجازت لکھنا

20 مہینے بعد بنگال میں 16 نومبر سے اسکول، کالج اور یونیورسٹی کھلنے کو تیار

0
20 مہینے بعد بنگال میں 16 نومبر سے اسکول، کالج اور یونیورسٹی کھلنے کو تیار
20 مہینے بعد بنگال میں 16 نومبر سے اسکول، کالج اور یونیورسٹی کھلنے کو تیار

ایک طرف طلبا و طالبات میں اسکول و کالج کھلنے پر خوشی کا ماحول ہے تاہم انتظامیہ کیلئے صاف صفائی اور معاشرتی فاصلے کو برقرار رکھنا چیلنج سے کم نہیں ہے۔ حکومت بنگال نے اسکولوں کیلئے گائیڈ لائن جاری کیا ہے اور اس پر عمل کرنا لازمی قرار دیا ہے۔

کلکتہ: مغربی بنگال میں 20 مہینے بعد یونیورسٹی، کالج اور نویں جماعت سے بارہویں جماعت تک اسکول کل سے کھل رہے ہیں۔ گرچہ اس وقت کورونا کی صورت حال قابو میں ہے۔ تاہم اب بھی کلکتہ، شمالی 24 پرگنہ، جنوبی 24 پرگنہ اور ہوڑہ جیسے اضلاع میں کورونا کے کیسز آ رہے ہیں۔ اس کے پیش نظر حکومت نے طلبا و طالبات کو کورونا انفیکشن سے بچانے کیلئے سخت ہدایات جاری کئے ہیں۔

ایک طرف طلبا و طالبات میں اسکول و کالج کھلنے پر خوشی کا ماحول ہے تاہم انتظامیہ کیلئے صاف صفائی اور معاشرتی فاصلے کو برقرار رکھنا چیلنج سے کم نہیں ہے۔ حکومت بنگال نے اسکولوں کیلئے گائیڈ لائن جاری کیا ہے اور اس پر عمل کرنا لازمی قرار دیا ہے۔

اسکولوں کیلئے گائیڈ لائن

حکومت کے گائیڈ لائن کے مطابق طلباء اور والدین کو اسکول میں داخل ہونے سے پہلے درج ذیل ہدایات کو ذہن میں رکھنا ہوگا۔

طلباء کو کلاس شروع ہونے سے آدھا گھنٹہ پہلے اسکول و کالج پہنچنا ہوگا۔

نویں اور گیارہویں جماعت کے کلاسیس کا وقت صبح 10 بجے سے 3.30 بجے تک رہے گا۔

دسویں اور بارھویں کلاسز صبح 11 بجے سے شام 4.30 بجے تک۔

پریکٹیکل کلاسز بھی شروع ہوں گی۔

والدین فی الحال سکول میں داخل نہیں ہو سکتے!

ا سکول، کالج اور یونیورسٹی کے طلبا کو انگوٹھی، بریسلٹ یا پھر ہار پہننے کی اجازت نہیں ہوگی۔
اسکولوں کیلئے بھی گائیڈ لائن جاری کیا گیا ہے اس کے مطابق
بینچ پر دو سے زیادہ طلبہ نہیں بیٹھ سکتے۔

اگر دو طالب علم ایک بینچ پر بیٹھتے ہیں، تو ایک طالب علم اگلے بینچ پر بیٹھ سکتا ہے۔

اسکول میں، پکا ہوا مڈ ڈے میل فراہم نہیں کیا جائے گا۔

اسکول میں فی الحال کسی کھیل یا ثقافتی پروگرام کی اجازت نہیں ہے۔

ایک استاد ہمیشہ کلاس میں موجود رہے گا۔

اسکول میں جنک فوڈ نہیں کھایا جا سکتا۔

کتابیں اور پانی نہ دے سکتے ہیں نہ کسی سے لے سکتے ہیں۔

اس سے قبل حکومت نے 30 اکتوبر تک صاف صفائی مکمل کرنے کی ہدایت دی تھی اور یکم نومبر سے اساتذہ اسکول و کالج میں حاضری دینے لگے تھے۔ اسکول انتظامیہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ ہر وقت کوئی نہ کوئی استاد کلاس روم میں رہنا ضروری ہوگا۔

کشمیر میں نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے اسکل ڈیولپمنٹ کو فروغ دیا جا رہا ہے: ڈاکٹر عقیل احمد

0
کشمیر میں نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے اسکل ڈیولپمنٹ کو فروغ دیا جا رہا ہے: ڈاکٹر عقیل احمد
کشمیر میں نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے اسکل ڈیولپمنٹ کو فروغ دیا جا رہا ہے: ڈاکٹر عقیل احمد

ڈاکٹر عقیل احمد نے کہا کہ کشمیر میں نوجوانوں کے لئے روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر اسکل ڈیولپمنٹ کو متعارف کرایا جا رہا ہے۔

سری نگر: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان (این سی پی یو ایل) کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عقیل احمد کا کہنا ہے کہ کشمیر میں نوجوانوں کے لئے روزگار کے زیادہ سے زیادہ موقعے فراہم کرنے کے لئے یہاں اسکل ڈیولپمنٹ کو بھاری پیمانے پر متعارف کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ این سی پی یو ایل نے سی بی ایس ای کے ساتھ ایک معاہدہ طے کیا ہے جس کے تحت 13 مختلف کورسز کی نشاندہی کی گئی ہے جنہیں کشمیر میں شروع کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ کرافٹ ڈیولپمنٹ انسٹی ٹیوٹ کی مدد سے کشمیر میں پیپر ماشی کا ایک خصوصی سینٹر بھی شروع کیا گیا ہے جس میں چالیس بچوں نے داخلہ بھی لیا ہے۔

موصوف ڈائریکٹر نے ان باتوں کا اظہار یو این آئی اردو کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران کیا ہے۔

 کشمیر کے اندر اسکل ڈیولپمنٹ کا کام بھاری پیمانے پر

انہوں نے کہا: ’مرکزی حکومت چاہتی ہے کہ کشمیر کے اندر روزگار کے موقعے بڑھ جائیں اس کے لئے یہاں اسکل ڈیولپمنٹ کا کام بھاری پیمانے پر ہو اور جن شعبوں میں کام شروع کیا جا سکتا ہے ان میں کیا جائے‘۔

ان کا کہنا تھا: ’اس مقصد کو پورا کرنے کے لئے این سی پی یو ایل نے سی بی ایس ای کے ساتھ ایک معاہدہ طے کیا ہے جس کے تحت ٹورزم، ہینڈی کرافٹس، ٹیچنگ ٹریننگ، کوڈنگ کورسز جیسے تیرہ کورسز کی نشاندہی کی گئی ہے۔ جن کو کشمیر میں چلایا جائے گا تاکہ نوجوانوں کو روز گار مل سکے اور کشمیر میں خوشحالی پیدا ہو‘۔

ایم ڈی ٹی پی کے سب سے زیادہ سینٹرز کشمیر میں

ڈاکٹر عقیل احمد نے کہا کہ ایم ڈی ٹی پی کے سب سے زیادہ سینٹرز کشمیر میں ہی چل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کرافٹ ڈیولپمنٹ انسٹی ٹیوٹ کی مدد سے یہاں پیپر ماشی کا ایک خصوصی سینٹر بھی شروع کیا ہے جس میں چالیس بچوں نے داخلہ بھی لیا ہے اور پندرہ بچے ویٹنگ میں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگوں کو مسجدوں وغیرہ میں اعلان کر کے جانکاری فراہم کی جائے گی تو مجھے یقین ہے کہ ہمارے کورسز میں کافی تعداد میں بچے داخلہ لیں گے۔

موصوف ڈائریکٹر نے کہا کہ پیپر ماشی کشمیر کی ایک بہت بڑی صنعت کے طور پر ابھر رہی ہے اور اس کے مصنوعات بیرونی ممالک بھی بھیجے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان مصنوعات کو بڑھانے سے نہ صرف کشمیر میں ترقی ہوگی بلکہ کشمیر کے تہذیب اور ہنر کی بھی دنیا میں تشہیر ہوگی۔