اتوار, اکتوبر 4, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 280

ملک میں کورونا نے پکڑی رفتار، 22 ہزار سے زائد نئے کیسز درج

0
ملک میں کورونا نے پکڑی رفتار، 22 ہزار سے زائد نئے کیسز درج
ملک میں کورونا نے پکڑی رفتار، 22 ہزار سے زائد نئے کیسز درج

صحت اور خاندانی بہبود کی مرکزی وزارت کی طرف سے جاری اعداد و شمار کے مطابق، ملک میں اب تک کورونا کے نئے ویرینٹ اومیکرون کے کل 1431 کیس درج کئے گئے ہیں۔

نئی دہلی: ملک میں کورونا وائرس کے معاملات بہت تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا انفیکشن کے 22775 کیسز درج کیے گئے ہیں جبکہ ایک دن پہلے یہ تعداد 16764 تھی۔

نئے متاثرہ مریضوں کے ساتھ ملک میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 34861579 ہو گئی ہے۔ اس دوران کورونا سے 406 مریض جاں بحق ہوئے جن میں سے اب تک اس وبا سے مرنے والوں کی تعداد 4 لاکھ 81 ہزار 486 تک پہنچ گئی ہے۔

ویکسینیشن کی تعداد

جمعہ کو ملک میں 58 لاکھ 11 ہزار 487 کووڈ ویکسین لگائی گئیں اور اس کے ساتھ ہی کل ویکسینیشن کی تعداد ایک ارب 45 کروڑ 16 لاکھ 24 ہزار 150 ہو گئی ہے۔

اومیکرون کے کل 1431 کیسز

ہفتہ کی صبح صحت اور خاندانی بہبود کی مرکزی وزارت کی طرف سے جاری اعداد و شمار کے مطابق، ملک میں اب تک کورونا کے نئے ویرینٹ اومیکرون کے کل 1431 کیس درج کئے گئے ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 8949 مریضوں کے صحت یاب ہونے کے ساتھ ہی اس وبا سے نجات پانے والوں کی تعداد 34275312 ہوگئی ہے۔ اس دوران فعال کیسز 13420 بڑھ کر 104781 ہو گئے۔

ملک میں صحت یاب ہونے کی شرح 98.32 فیصد، ایکٹو کیسز کی شرح 0.30 فیصد اور اموات کی شرح 1.38 فیصد ہے۔ اس وقت کیرالہ میں ملک میں سب سے زیادہ ایکٹیو کیسز ہیں۔ پچھلے 24 گھنٹوں میں یہاں ایکٹیو کیسز 419 کم ہو کر 20106 پر آ گئے ہیں۔ ریاست میں 2742 مریضوں کے ٹھیک ہونے کے ساتھ ہی کورونا سے کو شکست دینے والے لوگوں کی تعداد بڑھ کر 5179277 ہو گئی ہے۔

مرنے والوں کی تعداد

اس دوران مزید 353 مریضوں کی موت کے بعد مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 47794 ہو گئی ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں کیرالہ میں کورونا انفیکشن کی وجہ سے سب سے زیادہ اموات ہوئی ہیں۔

مہاراشٹر میں اس عرصے میں 6293 ایکٹیو کیسز کے اضافے کے ساتھ فعال کیسوں کی کل تعداد بڑھ کر 28199 ہو گئی ہے، جب کہ مزید 8 مریضوں کی موت سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 141526 ہو گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی 1766 مزید مریضوں کے کورونا سے صحت مند ہونے کے ساتھ ان کی کل تعداد 6509096 ہو گئی ہے۔

ماتا ویشنو دیوی مندر میں عقیدت مندوں کے درمیان جھڑپ کی وجہ سے مچی بھگدڑ: رائے

0
ماتا ویشنو دیوی مندر میں عقیدت مندوں کے درمیان جھڑپ کی وجہ سے مچی بھگدڑ: رائے
ماتا ویشنو دیوی مندر میں عقیدت مندوں کے درمیان جھڑپ کی وجہ سے مچی بھگدڑ: رائے

ماتا ویشنو دیوی مندر میں کچھ عقیدت مندوں کے درمیان جھڑپ کی وجہ سے بھگدڑ مچ گئی تھی جس میں 12 لوگوں کی موت اور 13 دیگر زخمی ہوئے ہیں۔

نئی دہلی: مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ نتیانند رائے نے کہا ہے کہ ماتا ویشنو دیوی مندر میں کچھ عقیدت مندوں کے درمیان جھڑپ کی وجہ سے توازن بگڑنے کی وجہ سے بھگدڑ مچ گئی تھی اور واقعہ کی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔

مسٹر رائے نے کہا کہ نئے سال کی وجہ سے بھون میں زائرین کی بھیڑ بڑھ گئی تھی اور ڈھالان پر کچھ عقیدت مندوں کے درمیان جھڑپوں کی وجہ سے لوگوں کے توازن کھونے سے ایک دوسرے پر گرتے چلے گئے۔ انہوں نے کہا کہ واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے اور وزیر اعظم خود اس معاملے رابطے قائم کئے ہوئے ہیں اور صورتحال پر نظر رکھ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اب وہاں حالات معمول پر آ رہے ہیں اور انتظامات قائم کرکے تمام عقیدت مندوں کو درشن کی اجازت دی جائے گی اور کسی کو واپس نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ زخمیوں کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے اور ان کے علاج میں کوئی کوتاہی نہیں برتی جائے گی۔
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے بھی بات کی ہے اور صورتحال کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔

ایک ٹویٹ میں، انہوں نے کہا ’’ماتا ویشنو دیوی مندر میں ہونے والے افسوسناک حادثے سے دل کو بہت تکلیف ہوئی ہے۔ میں نے اس سلسلے میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا جی سے بات کی ہے۔ انتظامیہ زخمیوں کو علاج فراہم کرنے کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے۔ اس حادثے میں جان گنوانے والے لوگوں کے اہل خانہ سے میں تعزیت کا اظہار کرتا ہوں‘‘۔

واضح رہے کہ اس حادثے میں 12 لوگوں کی موت اور 13 دیگر زخمی ہوئے ہیں۔

شادی میں سادگی کی مثال قائم کی بہار ایم ایل اے اخترالایمان

0
شادی میں سادگی کی مثال قائم کی بہار ایم ایل اے اخترالایمان
شادی میں سادگی کی مثال قائم کی بہار ایم ایل اے اخترالایمان

سماج میں بڑھتے ہوۓ زبردستی مطالبہ اور نمائشی جہیز کی قبیح، حرام اور ناجائز رسم و رواج کے خلاف ایک رکن اسمبلی کا عملی جہاد

گزشتہ کل مجلس اتحاد المسلمین (بہار کے ریاستی صدر، امور اسمبلی حلقہ (سیمانچل) سے بہار اسمبلی کے رکن جناب اخترالایمان کی صاحب زادی کی شادی ہوئی۔ نماز عصر کے قبل دولہا، اپنے ابو جان اور خاندان کے چند ذمہ داران کے ساتھ ایم ایل اے صاحب کے گھر پہنچے۔ بعد نماز عصر مسجد کے مقامی نمازیوں، قریبی رشتے داروں اور طرفین کے چند مخصوص افراد کی موجودگی میں، مسجد ہی میں نکاح پڑھایا گیا۔ دولہے کی طرف سے کھجور اور مٹھائیاں تقسیم کی گئیں۔ نہ باراتی کے نکھرے اور نہ جہیز کا بوجھ ۔ خاندان، رشتے داروں اور پڑوسیوں کی طرف سے نیک خواہشات کے ساتھ اخترالایمان صاحب کی بیٹی کی رخصتی ہوگئی۔ ماشاء اللہ۔ سادگی سے دو گھنٹے میں شادی کی تقریب مکمل ہوگئی۔

مروجہ جہیز ایک قبیح رسم

موجودہ زمانے میں جہیز کا جس طرح رواج ہے۔ وہ ایک بری رسم کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ امیر و غریب ہر ایک کے لئے لازمی درجہ کی چیز ہو گئی ہے۔ جس میں لڑکی والوں کی طرف سے طول طویل فہرست کی تکمیل کی جاتی ہے اور اس کی عورتوں میں مرد اور کہیں مردوں میں فخر و مباحات کے ساتھ تعریف و تحسین کے لئے نمائش کی جاتی ہے۔ اسی لئے معاشرے میں اُسے ضروری سمجھ کر نہ دینے والوں کو گری نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ اس لئے لوگ نام آوری یا عزت بچانے کے لئے اپنی حیثیت سے زائد دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ غریب ہو جاتے ہیں، مقروض ہو جاتے ہیں اور کبھی سودی و زکاۃ کی رقم حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک غریب باپ، بیٹی کی شادی کے لئے نہ چاہتے ہوۓ بھی گاؤں گاؤں مسجد مسجد گھوم کر چندہ اکٹھا کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ مروجہ جہیز کی رقم اپنے لوازمات کے ساتھ ایک قبیح رسم بن گئی ہے، اس لئے مروجہ طریقے پر اُسے دینے سے گریز کیا جاۓ۔

جہیز کی جگہ بیٹیوں کو اپنی پراپرٹی میں حصہ دیں

مروجہ جہیز کی خرابیوں میں سے ایک بڑی خرابی یہ بھی ہے کہ لڑکیوں کو جہیز دے کر بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے وراثت سے حصہ دے دیا پھر ورثاء اس کو وراثت سے محروم بھی کر دیتے ہیں۔ اس نیت سے جہیز دینا قانون شریعت کی خلاف ورزی اور اس میں کھلی تحریف ہے۔ ہم اپنی آخرت بہتر چاہتے ہیں تو جہیز کی جگہ بیٹیوں کو اپنی پراپرٹی میں حصہ دینا شروع کریں۔ یقین جانیں اگر کسی باپ یا بھائی نے اپنی بیٹی/بہن کی شادی میں پچاسوں لاکھ بھی خرچ کر ڈالا ہو اور بیٹی/بہن کو وراثت (پراپرٹی) میں حصہ نہیں دیا ہو تو وہ کل میدان محشر میں حقوق العباد کی حق تلفی کے معاملے میں عذاب دوزخ کے مستحق قرار دیے جائیں گے۔ خدا کی پناہ!

سماج کی ایک جاہلانہ، غیر شرعی رسم کے خلاف قدم

میں دل کی گہرائیوں سے سیمانچل میں امور حلقے سے بہار کے رکن اسمبلی بڑے بھائی اخترالایمان صاحب کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے سماج کی ایک جاہلانہ، غیر شرعی رسم کے خلاف قدم اٹھانے کی ہمت دکھائی ہے اور عملی طور پر شادی کو "سادی سی تقریب” بناکر نکاح کے نبوی اور اسلامی طریقہ کو سماج کے سامنے پیش کیا ہے۔ اگر ان کو دیکھ کر ہمارے سماج کے لوگوں نے ان کی طرح سادگی سے نکاح شادی کا سلسلہ شروع کر دیا تو نیک عمل شروع کرنے کا ثواب اُنھیں برابر ملتا رہے گا۔ ان شاء اللہ

خوش گوار موڈ میں خوش مگن: منظر حسن نعیمی حسینی سرسی اسمبلی حلقہ امور ۔ 29 دسمبر 2021

ڈیلٹا، اومیکرون کے کیسز سونامی کی طرح بڑھ رہے ہیں: عالمی ادارہ صحت

0

ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس گیبریس نے اومیکرون اور ڈیلٹا ویرینٹس کو دوہرا خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے کیسز سونامی کی طرح بڑھ رہے ہیں۔

جنیوا: ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس گیبریس نے کووڈ-19 کے اومیکرون اور ڈیلٹا ویرینٹس کو دوہرا خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے کیسز سونامی کی طرح بڑھ رہے ہیں۔

مسٹر گیبریس نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا کہ کورونا کی ان دو شکلوں کے دوہرے خطرے کے باعث کیسز کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اور اسپتالوں میں مریضوں اور اموات کی تعداد میں دوبارہ اضافہ ہو گا۔

انہوں نے کہا "مجھے گہری تشویش ہے کہ ڈیلٹا کی طرح اومیکرون بھی انتہائی متعدی ہے۔ اس وائرس کے کیسز تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ یہ اس تیزی سے پھیل رہا ہے کہ ویکسینیشن کے علاوہ صحت کے رہنما اصولوں کو اپنانا بھی بہت ضروری ہو گیا ہے تاکہ وائرس کے کیسز کو کم کیا جا سکے۔

ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل نے فارماسیوٹیکل کمپنیوں اور ترقی یافتہ ممالک کے رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ کورونا کے الفا، بیٹا، گاما، ڈیلٹا اور اومیکرون کی مختلف اقسام سے سبق حاصل کریں اور 70 فیصد آبادی کو ویکسین پلانے کا ہدف مقرر کرنے کی اپیل کی۔

اومیکرون میں تیزی کے پیش نظر کیرالا میں 30 دسمبر سے 2 جنوری تک سفری پابندی

0

اومیکرون کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے 30 دسمبر کی آدھی رات سے دو جنوری کی آدھی رات تک سفری پابندیاں

تروننت پورم: کیرالا حکومت نے کورونا کے نئے ویرینٹ اومیکرون کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے 30 دسمبر کی آدھی رات سے دو جنوری کی آدھی رات تک سفری پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

تاہم، سبریمالا اور شیوگیری جانے والے عقیدت مندوں کو سفری پابندی سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ یہ اطلاع بدھ کو جاری ایک سرکاری پریس ریلیز میں دی گئی۔

پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ پابندی آج رات 11 بجے سے صبح 5 بجے تک نافذ رہے گی۔ 30 دسمبر کی رات 11 بجے کے بعد نئے سال کا جشن منانے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

نئے سال کی تقریبات کے پیش نظر ریجنل مجسٹریٹ کو تعینات کیا جائے گا جہاں رات کو بھیڑ کا امکان ہو۔

پریس ریلیز کے مطابق بار، کلب، ہوٹل اور ریستوراں اپنی استعداد کے 50 فیصد پر کام کر سکیں گے۔

گرفتار شدہ ہندو مذہبی رہنما کالی چرن مہاراج کی تحویل کے لئے مہاراشٹر پولیس رائے پور پہونچی

0

رائے پور میں ہوئی دھرم سنسد کے دوران مہاتما گاندھی کے خلاف توہین آمیز کلمات ادا کرنے والے ہندو مذہبی رہنما کالی چرن مہاراج گرفتار

ممبئی: رائے پور میں ہوئی دھرم سنسد کے دوران مہاتما گاندھی کے خلاف توہین آمیز کلمات ادا کرنے والے گرفتار شدہ ہندو مذہبی رہنما کالی چرن مہاراج کی تحویل حاصل کرنے کے لئے مہاراشٹر پولیس کا ایک خصوصی دستہ ریاست چھتیس گڑہ کے رائے پور شہر میں خیمہ زن ہے جو عدالت سے اسکی تحویل طلب کرکے اسے مہاراشٹرا لائیگا۔

تاکہ ریاست میں اسکے خلاف درج شکایات پر کاروائی کی جاسکے ریاستی وزارات داخلہ کے ذرائع نے یہ باتیں کہی۔

مہاراج کی مدھیہ پردیش میں گرفتاری

ذرائع نے یہ بھی بتلایا کہ پونہ پولیس کی ایک ٹیم کو اسوقت راے پور کے لئے روانہ کیا گیا جب اسے مہاراج کی مدھیہ پردیش میں گرفتاری کی اطلاع موصل ہوئی۔

مدھیہ پردیش کے کھجوراو شہر میں گرفتار مہاراج کو چھتیس گڑہ کے راے پور شہر کی ایک عدالت میں پیش کیا جائيگا۔ جہاں مہاراشٹرا پولیس اسکی تحویل حاصل کرنے کی درخواست دیگی۔

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں ریاستی اسمبلی کے جاری سرمائی اجلاس کے دوران نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار نے یہ اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ ریاستی حکومت کالی چرن مہاراج کے تبصروں کے بارے میں رپورٹ طلب کرے گی اور سخت کارروائی کرے گی۔

مہاتما گاندھی کے خلاف ان کے تبصروں کا معاملہ ریاستی اسمبلی میں این سی پی کے رکن نواب ملک نے اٹھایا تھا اور کہا تھا کہ کالی چرن مہاراج کا تعلق مہاراشٹر کے اکولا سے ہے۔ نیز انہوں نے بابائے ہند مہاتما گاندھی کے خلاف جو توہین آمیز کلمات ادا کئے ہے اس پر مذہبی رہنما کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرکے اسے گرفتار کرنا چاہیے۔

مہاراج کے خلاف متعدد مقامات پر ایف آئی آر درج

مہاراشٹرا میں بھی مہاراج کے خلاف متعدد مقامات پر ایف آئی آر درج ہے جسمیں پونہ، آکولہ، تھانہ اور دیگر شہر شامل ہیں۔

کل شام ریاستی کابینی وزیر جیتیندر آہواڑ نے بھی کالی چرن مہاراج کے خلاف تھانہ پولیس میں ایف آر درج کروایا تھا۔

رائے پور میں دھرم سنسد کے دوران کالی چرن مہاراج نے کہا تھا، ”اسلام کا ہدف سیاست کے ذریعے قوم پر قبضہ کرنا ہے۔ ہماری آنکھوں کے سامنے، انہوں نے (مسلمانوں نے 1947 میں قبضہ کر لیا تھا (تقسیم کا حوالہ دیتے ہوئے)… وہ پہلے ایران، عراق اور افغانستان پر قبضہ کر چکے تھے۔ انہوں نے سیاست کے ذریعے بنگلہ دیش اور پاکستان پر قبضہ کیا… میں ناتھورام گوڈسے کو سلام کرتا ہوں کہ اس نے گاندھی کو مارا۔”

رائے پور پولیس نے گزشتہ دنوں مہاراج کے خلاف ایف آئی آر درج کی تھی۔

ملک میں کووڈ انفیکشن میں تیزی سے اضافہ

0

کووڈ انفیکشن میں تیزی سے اضافہ کے درمیان، گزشتہ 24 گھنٹوں میں کووڈ کے کل 13154 معاملے درج کیے گئے ہیں

نئی دہلی: ملک میں کووڈ انفیکشن میں تیزی سے اضافہ کے درمیان، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کووڈ انفیکشن کے کل 13154 معاملے درج کیے گئے ہیں جبکہ گزشتہ روز یہ تعداد 9195 تھی۔

مرکزی وزارت صحت اور خاندانی بہبود نے جمعرات کو یہاں کہا کہ پچھلے 24 گھنٹوں میں 961 لوگ اومیکرون سے متاثر پائے گئے ہیں، جن میں دہلی میں سب سے زیادہ 263، مہاراشٹر میں 252 اور گجرات میں 97 معاملے ہیں۔

اس کے علاوہ 22 ریاستوں میں 961 لوگ اومیکرون سے متاثر ہوئے ہیں۔ ان میں سے 320 انفیکشن سے صحت یاب ہو چکے ہیں۔

وزارت نے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں ملک میں 63 لاکھ 91 ہزار 282 کووڈ ویکسین لگائی گئی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی آج صبح 7 بجے تک 143 کروڑ 83 لاکھ 22 ہزار 742 کووڈ ویکسین دی گئی ہیں۔

گزشتہ 24 گھنٹوں میں کووڈ انفیکشن کے 13154 نئے کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔

اس وقت ملک میں 82 ہزار 402 کووڈ مریض زیر علاج ہیں۔ یہ متاثرہ معاملوں کا 0.24 فیصد ہے۔ کل 9195 افراد متاثر ہوئے تھے۔

اسی مدت میں 7486 لوگ کووڈ سے نجات پا چکے ہیں۔ اب تک مجموعی طور پر تین کروڑ 42 لاکھ 58 ہزار 778 لوگ کووڈ سے صحت یاب ہو چکے ہیں۔ صحت یابی کی شرح 98.38 فیصد ہے۔

گزشتہ 24 گھنٹوں میں ملک میں 11 لاکھ 99 ہزار 252 کووڈ ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔ ملک میں کل67 کروڑ 64 لاکھ 45 ہزار 395 کووڈ ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔

الیکشن کمیشن آج اترپردیش میں چیف سکریٹری کے ساتھ انتخابی ریلیوں کی فیصلہ کن جائزہ میٹنگ کرے گا

0

الیکشن کمیشن کا اعلی سطحی وفد اترپردیش میں آئندہ اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کے پیش نظر آج ریاست کے چیف سکریٹری کے ساتھ فیصلہ کن دور کی جائزہ میٹنگ کرے گا۔

لکھنؤ: چیف الیکشن کمشنر سشیل چندرا کی قیادت والا الیکشن کمیشن کا اعلی سطحی وفد اترپردیش میں آئندہ اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کے پیش نظر آج ریاست کے چیف سکریٹری کے ساتھ فیصلہ کن دور کی جائزہ میٹنگ کرے گا۔

اس بارے میں دی گئی سرکاری اطلاع کے مطابق کمیشن کا وفد اترپردیش میں الیکشن کی تیاریوں کے سلسلے میں مختلف فریقوں کے ساتھ میراتھن میٹنگوں کے بعد جمعرات کو ریاست کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس اور چیف سکریٹری کے ساتھ فیصلہ کن میٹنگ کرےگا۔

اس سے پہلے منگل کو کمیشن کے 13 رکنی وفد نے تین روزہ جائزہ دورے میں سیاسی پارٹیوں کے نمائندوں کے علاوہ مختلف جانچ ایجنسیوں کے ساتھ میٹنگ کی۔ جبکہ بدھ کو اترپردیش کے سبھی دس بلاکس کے کمشنر اور ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کے علاوہ سبھی ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور سینئر پولیس سپریٹنڈنٹ کے ساتھ میراتھن میٹنگ کرکے ضلع سطح پر انتخابی ریلیوں کی رپورٹ لی۔

واضح رہے کہ کمیشن، الیکشن کے عمل سے جڑے سبھی فریقوں سے ملے انپٹ کی بنیاد پر جمعرات کو چیف سکریٹری کے ساتھ فیصلہ کن میٹنگ کرے گا۔ سمجھا جاتا ہے کہ بدھ کو ہی مرکزی حکومت کے ذریعہ مقرر کئے گئے ریاست کے نئے چیف سکریٹری درگا شنکر مشرا جمعرات کو عہدہ سنبھالنے کے بعد اس اہم میٹنگ میں شامل ہوسکتے ہیں۔

کمیشن سے ملی اطلاع کے مطابق میٹنگ کے بعد دوپہر 12 بجے چندرا پریس کانفرنس سے خطاب کریں گے۔اس میں پچھلے تین دنوں سے جاری انتخابی جائزہ کے نتیجوں پر غور و خوض ہوگا۔

بانکا میں ایل پی جی سلنڈر میں آگ لگنے سے 05 بچوں کی موت پر نتیش غمزدہ

0

وزیر اعلیٰ نے آفات مینجمنٹ محکمہ اور ڈی ایم، بانکا کو ہلاک بچوں کے اہل خانہ کو 4-4 لاکھ روپے کی مدد دینے کی ہدایت دی ہے۔

پٹنہ: وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے بانکا ضلع کے رجون بلاک علاقہ کے راجا بر گاﺅں میں ایک گھر میں ایل پی جی سلنڈر میں آگ لگنے سے 05 بچوں کی ہوئی موت پر گہرے صدمے کا اظہار کیا ہے۔ اور حادثہ میں ہلاک بچوں کے اہل خانہ کے تئیں اظہار ہمدردی کیا ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ حادثہ بہت افسوسناک ہے اور میں اس واقعہ سے غمزدہ ہوں۔

وزیر اعلیٰ نے آفات مینجمنٹ محکمہ اور ڈی ایم، بانکا کو ہلاک بچوں کے اہل خانہ کو 4-4 لاکھ روپے کی مدد دینے کی ہدایت دی ہے۔

’سنسد‘ دھرم کی اور پیغام قتل و غارت گری کا؟

0
’سنسد‘ دھرم کی اور پیغام قتل و غارت گری کا؟
’سنسد‘ دھرم کی اور پیغام قتل و غارت گری کا؟

اپنی گنگا جمنی تہذیب کے لئے مشہور ہندوستان جس خطرے سے دنیا کو آگاہ کرتا رہا ہے، آج وہی خطرہ خود اس کے سامنے ہے

تحریر: ڈاکٹر یامین انصاری

اس وقت ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس کا شاید ہی کسی نے تصور کیا ہوگا۔ کتنی آسانی سے اس ملک کی اصل روح کو نکالا جا رہا ہے۔ ہزاروں سال پرانی اقدار و روایات کو پامال کیا جا رہا ہے۔ کثرت میں وحدت کے تصور کو تار تار کیا جا رہا ہے۔ عدم تحمل کا کھلے عام مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔ قتل عام اور نسل کشی کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ مسلمانوں اور عیسائیوں کو مذہب کی بنیاد پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہیں مذہبی امور کی ادائیگی سے روکا جا رہا ہے، ان کی عبادتوں میں خلل ڈالا جا رہا ہے۔ اور اس کا سب سے خطرناک اور افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ملک کے حکمران یہ سب بالکل خاموشی سے دیکھ اور سن رہے ہیں۔ بالکل ایسے، جیسے شر پسندوں اور انتہا پسندوں کو در پردہ حکمرانوں کی حمایت حاصل ہے۔ کیوں کہ یہ سب سلسلہ وار اور بہت منصوبہ بند طریقے سے ہو رہا ہے۔

دہلی سے لے کر ہری دوار تک اور ہری دوار سے لے کر رائے پور تک ہونے والی ’دھرم‘ کی ’سنسد‘ میں ملک کی اکثریت کو اقلیت سے ڈرایا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی ان کی نسل کشی کے لئے ہتھیار اٹھانے کا حلف دلوایا جا رہا ہے۔ نہ قانون اور عدالتوں کا خوف، نہ پولیس اور انتظامیہ کا کوئی ڈر۔ تو کیا اب یہ مان لیا جائے کہ ’سرو دھرم سنبھاؤ‘، ’واسودیو کٹمبکم‘، ’گنگا جمنی تہذیب‘ اور’اتتھی دیو و بھوا‘ جیسے الفاظ ہندوستان میں بے معنی ہو کر رہ گئے ہیں۔

کوئی کارروائی نہ کرکے حکومتیں آخر کیا پیغام دینا چاہتی ہیں؟

اس وقت سب سے زیادہ فکر ملک کے مستقبل کی ہے۔ جو لوگ اس ملک سے واقعی محبت کرتے ہیں، یہاں کی اقدار و روایات کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں، ایک مہذب معاشرے میں زندگی گزارنا چاہتے ہیں، وہ اس وقت عجیب سی کیفیت سے دو چار ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قتل و غارت گری اور ایک فرقہ کی نسل کشی کی بات کرنے والے اسی طرح کھلے عام گھومتے رہے اور بار بار اس کو دوہراتے رہے تو وہ دن دور نہیں جب یہ ملک انارکی کا شکار ہو جائے گا۔ دہلی، ہری دوار اور رائے پور میں زہر افشانی کرنے والوں کے خلاف اب تک کوئی کارروائی نہ کرکے حکومتیں آخر کیا پیغام دینا چاہتی ہیں؟ یہی نہ کہ کوئی بھی کچھ کرتا اور کہتا رہے، اس کا کچھ نہیں بگڑنے والا ہے۔ کوئی کارروائی نہ ہونے کا ہی نتیجہ ہے کہ ایسے لوگوں کی نظر میں اب قانون کی کوئی حیثیت نہیں۔ ان کے نزدیک پولیس اور انتظامیہ اب بے معنی ہو کر رہ گئے ہیں۔

ملک کے حساس اور باشعور لوگوں کا ردعمل

یعنی اب تک ہندوستان دوسرے ملکوں کی مثالیں دے کر انتہا پسندی اور شدت پسندی سے دنیا کو آگاہ کرتا رہا ہے، اس کے خطرات خود ہمارے سامنے ہیں۔ زیادہ دور نہ جا کر ہم اپنے پڑوسی ملک پاکستان کا حشر دیکھ سکتے ہیں۔ مذہبی جنون پر سوار کچھ طاقتوں نے دنیا بھر میں اس کی کیسی شبیہ پیش کی ہے۔ انتہا پسندی اور شدت پسندی کے غلبہ کے سبب ناکامی اس کا مقدر بن چکی ہے۔ لہذا اگر ہمارے ملک میں بھی انتہا پسند طاقتوں پر لگام نہیں لگائی گئی تو ہمارا مستقبل بھی تاریک ہی نظر آرہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دھیرے دھیرے ہی صحیح ان شدت پسندوں اور تخریب کاروں کے خلاف آوازیں بلند ہونے لگی ہیں۔ سوشل میڈیا پر ملک کے حساس اور باشعور لوگوں کے ذریعہ اس پر زبردست ردعمل کے اظہار کے بعد مین اسٹریم میڈیا کا ایک طبقہ بھی اب اس پر بحث کرنے لگا ہے۔

ہری دوار کی دھرم سنسد پر سخت تنقید

کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے ہندتوادیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اپنے ٹویٹ میں متنبہ کیا ’ہندتوادی ہمیشہ نفرت اور تشدد پھیلاتے ہیں، جس کی قیمت ہندو، مسلمان، سکھ اور عیسائی چکاتے ہیں، لیکن اب اور نہیں!‘۔ سابق آرمی چیف وید پرکاش ملک نے بھی ہری دوار کی دھرم سنسد کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور متنبہ کیا کہ اس سے نہ صرف عوامی ہم آہنگی متاثر ہوگی بلکہ قومی سیکیورٹی پر بھی اس کا برا اثر پڑے گا۔

سب سے پہلے اپنی اشتعال انگیزی کے لئے مشہور سدرشن چینل کے مالک سریش چوہانکے نے ۱۹؍ دسمبر کو ملک کی راجدھانی میں ہندو یووا واہنی کے ایک پروگرا م میں لوگوں کو حلف دلایا تھا کہ وہ ہندو راشٹر کے قیام کیلئے کسی بھی طرح کی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے، وہ مریں گے بھی اور ماریں گے بھی۔ اسی طرح ہری دوار میں منعقد سہ روزہ دھرم سنسد میں نفرت کے پجاری یتی نرسنگھا نند نے مسلمانوں کے قتل عام کیلئے تلواروں کو ناکافی قراردیتے ہوئے اپنے حامیوں پر زور دیا تھا کہ وہ بہتر ہتھیار خریدیں۔ اس سہ روزہ دھرم سنسد میں سادھوؤں کے بھیس میں لوگ مسلمانوں کو قتل عام کی کھلی دھمکی اور ان کے صفائے کی متعدد شر پسندانہ تجویز پیش کرتے رہے، لیکن نہ تو ریاستی پولیس نے کوئی کارروائی اور نہ ہی مرکزی حکومت کے ذریعہ اس پر بیان آیا ہے۔

سوشل میڈیا پر بھی اٹھایا گیا سوال

دہلی، ہری دوار اور رائے پور میں منعقد دھرم سنسد میں مسلمانوں کو قتل عام کی دھمکی دینے والے ملزمین ہنوز آزاد ہیں اور پولیس نے ان کے خلاف کسی طرح کی کارروائی نہیں کی۔ آخر کارروائی ہو بھی تو کیسے، کیوں کہ ہری دوار کی دھرم سنسد میں جس سوامی پربودھا نند نے ہندوستان کے مسلمانوں کی میانمار کے روہنگیا مسلمانوں کی طرح نسل کشی اور صفائے کی تجویز پیش کی تھی، اسی سوامی کی ایک تصویر بھی وائرل ہوئی، جس میں اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی ان کے پاؤں چھو رہے ہیں۔ اسی لئے سوشل میڈیا پر بھی سوال اٹھایا گیا کہ نفرت کے جس پجاری کے پاؤں خود ایک ریاست کا وزیر اعلیٰ چھو رہا ہے، آخر اس کے خلاف کارروائی کیسے ہوگی۔

دھرم سنسد میں 20 لاکھ مسلمانوں کے قتل عام کی دھمکی

دھرم سنسد میں مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے اور کم از کم ۲۰؍ لاکھ مسلمانوں کے قتل عام کی دھمکی دینے والی سادھوی بھی چینلوں پر اپنے بیان کا دفاع کرتے ہوئے اس پر قائم نظر آئی۔ رائے پور میں کالی چرن نامی جس بھگوا دھاری نے نہ صرف بابائے قوم مہاتما گاندھی کے بارے میں بد کلامی کی، انھیں غدار بتایا گیا، بلکہ گاندھی کے قاتل ناتھو رام گوڈسے کی قصیدہ خوانی بھی کی۔ خاص بات یہ ہے کہ یہ تمام واقعات ان لوگوں کے ذریعہ انجام دئے جا رہے ہیں جو اکثریتی طبقے سے ہیں اور مذہبی چولا اوڑھے ہوئے ہیں۔

وزیر اعظم مودی ان سب پر خاموش کیوں؟

امن پسند اور انصاف پسند شہری اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے سوال کر رہے ہیں کہ آخر معمولی واقعات پر ٹویٹ کرنے والے وزیر اعظم مودی ان سب پر خاموش کیوں ہیں؟ چھوٹی چھوٹی باتوں پر ہنگامہ کھڑا کر دینے والے نیوز چینل کیوں خاموش ہیں؟ اتنے خطرناک منصوبوں پر عدالتیں از خود نوٹس کیوں نہیں لے رہی ہیں؟ ان سوالوں کے جواب تلاش کریں گے تو پائیں گے کہ واقعی شر پسندوں کے خلاف کارروائی نہ ہونے کے پیچھے کوئی مقصد ہے۔ اس سلسلہ میں دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر اور انسانی حقوق کے لئے سرگرم رہنے والے پروفیسر اپووروانند کا کہنا ہے کہ ’’جو مودی بالواسطہ طور پر اور چالاکی سے کہہ رہے ہیں، وہی بغیر کسی لاگ لپیٹ کے ’دھرم سنسد‘ میں کہا گیا۔ یہ سمجھنے میں کوئی دقت نہ ہو کہ اس دھرم سنسد اور بی جے پی کی سیاست میں رشتہ کیا ہے، وزیر اعظم مودی نے گجرات کے ایک گرودوارے میں بولتے ہوئے کہا ’سکھ گروؤں نے جن خطروں سے آگاہ کیا تھا، وہ آج بھی اسی شکل میں موجود ہیں‘‘۔

مودی سرکار کی خاموشی ایک بھیانک اور تاریک مستقل کی طرف اشارہ

اسی طرح سماجی کارکن یوگیندر یادو نے اس کو ملک سے حقیقی دشمنی قراردیا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ ’میڈیا اس پر خاموش ہے، جبکہ پولیس نے کوئی گرفتاری نہیں کی، ایسی سیاسی قیادت جو اس کو فروغ دے رہی ہے وہ پوری طرح اس ملک کو تباہ کرنے میں ملوث ہے۔ وہ نفرت انگیزی پر مبنی جرائم کو طاقت دے کر قانون کی حکمرانی کو سبوتاژ کررہی ہے۔‘ اس میں کوئی شک نہیں کہ دہلی، ہری دوار اور رائے پور کی ’دھرم سنسد‘ میں جو زہر افشانی کی گئی، اس پر بی جے پی، آر ایس ایس اور مودی سرکار کی خاموشی ایک بھیانک اور تاریک مستقل کی طرف اشارہ ہے۔ پولیس، انتظامیہ اور حکمرانوں نے ضرور مایوس کیا ہے، لیکن ملک کے مستقبل کی خاطر حساس اور سنجیدہ طبقہ کو سامنے آنا ہو گا۔

(مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں) [email protected]