منگل, جولائی 7, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 281

نیتی آیوگ پورے ملک میں مقامی زبان میں تربیت دے گا

0
نیتی آیوگ پورے ملک میں مقامی زبان میں تربیت دے گا
نیتی آیوگ پورے ملک میں مقامی زبان میں تربیت دے گا

نیتی آیوگ نے اختراعات اور ہنر مندی کی ترقی کے لئے مقامی زبانوں کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے تحت 22 علاقائی زبانوں میں اختراع کرنے والوں اور کاروباری افراد کو تربیت دی جائے گی۔

نئی دہلی: نیتی آیوگ نے پورے ملک میں اختراعات اور ہنر مندی کی ترقی کے لئے مقامی زبانوں کو فروغ دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے لسانی اختراعی پروگرام شروع کیا ہے۔

نیتی آیوگ کے نائب صدر راجیو کمار نے بدھ کو یہاں بتایا کہ پورے ملک میں اختراع کرنے والوں اور کاروباری افراد کو بااختیار بنانے کے لئے اٹل انوویشن مشن کے تعاون سے اپنی طرح کا پہلا لسانی اختراعی پروگرام ورنا کیولر انوویشن پروگرام شروع کیا ہے۔ اس کے تحت 22 علاقائی زبانوں میں اختراع کرنے والوں اور کاروباری افراد کو تربیت دی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ پروگرام کے لئے ضروری صلاحیت کی تعمیر کے لئے 22 شیڈول زبانوں میں تربیت دی جائے گی۔ ہر ایک ورک فورس میں مقامی زبان کا ٹیچر، موضوع ماہرین، تکنیکی مصنف اور علاقائی اٹل انکیوبیشن سنٹر کی ٹیم کو شامل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دسمبر 2021 سے اپریل 2022 کی مدت میں ورک فورس کو تربیت دینے کے بعد مقامی سطح پر کھول دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ مقامی کاروباریوں، کاریگروں اور اختراعی ڈیزائن ماہرین کا ایک مضبوط مقامی نیٹورک بنانے میں مدد ملے گی۔

راجیہ سبھا میں کانگریس ارکان کے ہنگامہ آرائی سے کارروائی غیر معینہ مدت تک ملتوی

0
راجیہ سبھا میں کانگریس ارکان کے ہنگامہ آرائی سے کارروائی غیر معینہ مدت تک ملتوی
راجیہ سبھا میں کانگریس ارکان کے ہنگامہ آرائی سے کارروائی غیر معینہ مدت تک ملتوی

اخبار میں شائع ہونے والی خبر کے سلسلے میں راجیہ سبھا میں کانگریس کے اراکین کا شوروغل، ایوان کی کارروائی غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

نئی دہلی: کانگریس کے اراکین نے بدھ کے روز راجیہ سبھا میں ایک اخبار میں شائع ہونے والی خبر کے سلسلے میں ہنگامہ کیا۔ بعد ازاں ایوان کی کارروائی غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

صبح ضروری دستاویزات ایوان کی میز پر رکھے جانے کے بعد اپوزیشن لیڈر ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ ایک اخبار میں شائع خبر کے حوالے سے نوٹس دیا ہے۔ یہ بہت اہم اخبار ہے۔ اس دوران کانگریس کے اراکین اپنی سیٹوں کے نزدیک کھڑے تھے۔

چیئرمین ایم وینکیا نائیڈو نے کہا کہ اخبار میں شائع ہونے والی خبر کو ایوان میں پڑھا نہیں جا سکتا۔ مسٹر کھڑگے نے کہا کہ وہ اپنا نوٹ پڑھنا چاہتے ہیں۔ چیئرمین نے کہا کہ سرمائی سیشن آج ختم ہو رہا ہے۔ یہ خوشگوار نہیں رہا ہے۔ ایوان کے کام کاج کے حوالے سے مایوس کن خبریں شائع ہوئی ہیں۔ ایوان میں جو کچھ بھی ہوا اچھا نہیں ہوا۔

انہوں نے اراکین کو کرسمس، نئے سال اور پونگل کی مبارکباد دی اور اس کے بعد ایوان کی کارروائی غیر معینہ مدت تک ملتوی کرنے کا اعلان کیا۔

سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے سے متعلق بل آج اسمبلی میں ہوگا پیش

0
سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے سے متعلق بل آج اسمبلی میں ہوگا پیش
سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے سے متعلق بل آج اسمبلی میں ہوگا پیش

وزیر داخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا نے آج صبح نامہ نگاروں کو بتایا کہ سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے سے متعلق بل آج اسمبلی میں پیش کیا جائے گا اور ممکنہ طور پر کل اس پر بحث کی جائے گی۔

بھوپال: مدھیہ پردیش میں سرکاری و نجی املاک کو ہونے والے نقصان کی روک تھام اور نقصان کی وصولی بل 2021 آج مدھیہ پردیش قانون ساز اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔

وزیر داخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا نے آج صبح نامہ نگاروں کو بتایا کہ یہ بل آج اسمبلی میں پیش کیا جائے گا اور ممکنہ طور پر کل اس پر بحث کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت احتجاج، جلوس یا فرقہ وارانہ فسادات کے دوران سرکاری، عوامی اور نجی املاک کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ ہنگامہ آرائی یا مظاہروں کے ذریعے کسی بھی طرح سے املاک کو نقصان پہنچاتے ہیں ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

اومیکرون کے کل 213 معاملے، 138.96 کروڑ کووڈ ٹیکے لگائے گئے

0
اومیکرون کے کل 213 معاملے، 138.96 کروڑ کووڈ ٹیکے لگائے گئے
اومیکرون کے کل 213 معاملے، 138.96 کروڑ کووڈ ٹیکے لگائے گئے

مرکزی وزارت برائے صحت اور خاندانی بہبود نے بدھ کو یہاں بتایا کہ دہلی میں اومیکرون کے سب سے زیادہ 57 کیسز ہیں۔ مہاراشٹر میں 54 افراد اومیکرون سے متاثر پائے گئے ہیں۔

نئی دہلی: ملک میں کووڈ کی نئی قسم اومیکرون کے 15 ریاستوں میں کل 213 کیسز سامنے آئے ہیں جن میں سے 90 کو اسپتال سے فارغ کر دیا گیا ہے۔

مرکزی وزارت برائے صحت اور خاندانی بہبود نے بدھ کو یہاں بتایا کہ دہلی میں اومیکرون کے سب سے زیادہ 57 کیسز ہیں۔ مہاراشٹر میں 54 افراد اومیکرون سے متاثر پائے گئے ہیں۔

گزشتہ 24 گھنٹوں میں ملک میں 57 لاکھ 5 ہزار 39 کووڈ ٹیکے لگائے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی آج صبح 7 بجے تک 138 کروڑ 95 لاکھ 90 ہزار 670 کووڈ ٹیکے لگائے جا چکے ہیں۔

گزشتہ 24 گھنٹوں میں کووڈ انفیکشن کے 6317 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔ ملک میں ابھی 78 ہزار 190 کووڈ مریض زیر علاج ہیں۔ یہ کیسز کا 0.22 فیصد ہے۔

اسی دوران 6906 لوگ کووڈ سے صحتیاب ہوئے ہیں۔ اب تک مجموعی طور پر تین کروڑ 42 لاکھ ایک ہزار 996 افراد کووڈ سے صحتیاب ہوئے ہیں۔ شفایابی کی شرح 98.40 فیصد ہے۔

ملک میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 12 لاکھ 29 ہزار 512 کووڈ ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔ ملک میں کل 66 کروڑ 73 لاکھ 56 ہزار 171 کووڈ ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔

ٹینی کے استعفے اور اراکین پارلیمنٹ کی معطلی واپس لینے کی مانگ پر راجیہ سبھا میں اپوزیشن کا ہنگامہ جاری

0
ٹینی کے استعفے اور اراکین پارلیمنٹ کی معطلی واپس لینے کی مانگ پر راجیہ سبھا میں اپوزیشن کا ہنگامہ جاری
ٹینی کے استعفے اور اراکین پارلیمنٹ کی معطلی واپس لینے کی مانگ پر راجیہ سبھا میں اپوزیشن کا ہنگامہ جاری

ایوان میں حزب اختلا ف کے لیڈر ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ ایوان کی کارروائی چلانا ایک جمہوری عمل ہے اور اسے ضابطوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ 12 اراکین پارلیمنٹ کی معطلی واپس لی جانی چاہئے اور مسٹر ٹینی کو کابینہ سے ہٹایا جانا چاہیے۔

نئی دہلی: کانگریس سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں کے اراکین نے مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اجے مشرا ٹینی اور اراکین پارلیمنٹ کی معطلی واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے منگل کو راجیہ سبھا میں زبردست ہنگامہ کیا اور بالآخر ایوان کی کارروائی سے واک آؤٹ کیا۔

ڈپٹی چیئرمین ہری ونش نے لنچ کے بعد ایوان کی کارروائی شروع کرتے ہوئے انتخابی قانون (ترمیمی) بل 2021 پیش کرنے کے لیے قانون و انصاف کے وزیر کرن رجیجو کا نام لیا تو ایوان میں حزب اختلا ف کے لیڈر ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ ایوان کی کارروائی چلانا ایک جمہوری عمل ہے اور اسے ضابطوں کے مطابق ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ 12 اراکین پارلیمنٹ کی معطلی واپس لی جانی چاہئے اور مسٹر ٹینی کو کابینہ سے ہٹایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ بل کو بھی طے شدہ طریقہ کار کے مطابق ایوان میں پیش نہیں کیا جا رہا ہے۔ ان کی حمایت کانگریس کے آنند شرما، ڈی ایم کے کے تروچی شیوا، مارکسسٹ کمیونسٹ پارٹی کے جان برٹس اور وی شیواداسن، ترنمول کانگریس کے ڈیرک اوبرائن اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے لیڈروں نے کی۔

مسٹر ہری ونش نے کہا کہ موجودہ بل ایوان کے مقررہ ضابطوں کے مطابق پیش کیا جا رہا ہے اور کسی کو بھی ایوان کے سامنے اس موضوع کے علاوہ کسی دیگر معاملہ پر بولنے کی اجازت نہیں ہے۔ احتجاج میں کانگریس، ڈی ایم کے، بائیں بازو اور ترنمول کانگریس کے ارکان چیئرپرسن کے پوڈیم کے سامنے آ گئے۔ یہ ارکان اپنے ہاتھوں میں نعرے تحریر پلے کارڈز بھی لئے ہوئے تھے۔

شور اور نعرے بازی کے درمیان بل پر بحث

ایوان میں شور اور نعرے بازی کے درمیان بل پر بحث کی گئی لیکن وزیر کے جواب دینے سے پہلے ہی اپوزیشن نے حکومت پر اپوزیشن ارکان کی آوازوں پر توجہ نہ دینے کا الزام لگایا۔ بعد میں مسٹر کھڑگے کی قیادت میں پوری اپوزیشن نے ایوان کی کارروائی سے واک آؤٹ کردیا۔

اپوزیشن پارٹیوں کے اراکین نے منگل کو راجیہ سبھا میں ہنگامہ کیا جس کی وجہ سے ایوان کی کارروائی دوپہر دو بجے تک کے لئے ملوی کردی گئی۔

اس سے قبل صبح ضروری دستاویز ایوان کی میز پر رکھے جانے کے بعد چیئرمین ایم وینکیا نائیڈو نے جیسے ہی بزنس ایڈوائزری کمیٹی کی میٹنگ کے فیصلے کی معلومات دینی چاہی ویسے ہی کانگریس کے جے رام رمیش نے کہا کہ اپوزیشن اس میٹنگ کا حصہ نہیں تھا۔ مسٹر نائیڈو نے کہا اپوزیشن کو میٹنگ کی بائیکاٹ کا حق ہے۔ اس دوران اپوزیشن کے رہنما ملکارجن کھڑگے نے بھی کہا کہ وہ میٹنگ میں موجود نہیں تھے۔

چیئرمین نے کہا کہ اصول 267 کے تحت اراکین کے دئے گئے نوٹس کو نامنظور کردیا گیا ہے۔ انہوں نے اراکین سے ایوان کی میٹنگ چلنے دینے اور نظام برقرار رکھنے کی اپیل کی لیکن اس دوران اراکین کا شور و غل جاری رہا۔ اس کے بعد ایوان کی کارروائی دو بجے تک کے لئے ملتوی کردی گئی۔

اسٹاک مارکیٹ میں تیزی، سینسیکس اور نفٹی آج سبز نشان تک پہنچنے میں کامیاب

0
اسٹاک مارکیٹ میں تیزی، سینسیکس اور نفٹی آج سبز نشان تک پہنچنے میں کامیاب
اسٹاک مارکیٹ میں تیزی، سینسیکس اور نفٹی آج سبز نشان تک پہنچنے میں کامیاب

بی ایس ای کا 30 حصص والا حساس انڈیکس سینسیکس 497 پوائنٹس بڑھ کر 56319.01 پوائنٹس اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی 156.65 پوائنٹس بڑھ کر 16770.85 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔

ممبئی: عالمی سطح سے ملے مثبت اشاروں کے ساتھ گھریلو سطح پر ہمہ گیر خریدار کی بنیاد پر سینسیکس اور نفٹی آج سبز نشان تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔

بی ایس ای کا 30 حصص والا حساس انڈیکس سینسیکس 497 پوائنٹس بڑھ کر 56319.01 پوائنٹس اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی 156.65 پوائنٹس بڑھ کر 16770.85 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔ اس دوران چھوٹی اور درمیانی کمپنیوں میں قوت خرید بھی دیکھی گئی، جس کی وجہ سے بی ایس ای مڈ کیپ 1.43 فیصد بڑھ کر 24041.78 پوائنٹس اور اسمال کیپ 1.29 فیصد بڑھ کر 27869.12 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔

بی ایس ای کے تمام گروپ بڑھ میں رہے، جس میں میٹلز سب سے زیادہ 2.99 فیصد اور فائنانس سب سے کم 0.48 فیصد تھے۔ بی ایس ای پر کل 3431 کمپنیوں کا لین دین ہوا، جن میں سے 2281 میں اضافہ جبکہ 1036 میں کمی اور 114 میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔

عالمی سطح پر زیادہ تر اہم انڈیکس سبز رنگ میں رہے۔ برطانیہ کے ایف ٹی ایس ای میں 0.79 فیصد، جرمنی کے ڈیکس میں 0.63 فیصد، جاپان کے نکیئی میں 2.08 فیصد، ہانگ کانگ کے ہینگ سینگ میں 1.0 فیصد اور چین کے شنگھائی کمپوزٹ میں 0.88 فیصد اضافہ ہوا۔

آدھار کارڈ کو ووٹر شناختی کارڈ سے جوڑنے والے بل پر پارلیمانی مہر

0
آدھار کارڈ کو ووٹر شناختی کارڈ سے جوڑنے والے بل پر پارلیمانی مہر
آدھار کارڈ کو ووٹر شناختی کارڈ سے جوڑنے والے بل پر پارلیمانی مہر

راجیہ سبھا میں کانگریس اور پوری اپوزیشن کے واک آؤٹ کے درمیان انتخابی قانون (ترمیم) کو آدھار کارڈ کو ووٹر آئی کارڈ سے جوڑنے والے بل کو پارلیمنٹ نے منظور کرلیا۔

نئی دہلی: راجیہ سبھا میں منگل کو کانگریس اور پوری اپوزیشن کے واک آؤٹ کے درمیان انتخابی قانون (ترمیم) کو آدھار کارڈ کو ووٹر آئی کارڈ سے جوڑنے، سروسز کی ووٹنگ میں صنفی مساوات لانے اور سال میں چار بار نئے ووٹرز بنانے کے التزام کے بل 2021‘ پر پارلیمنٹ نے منظور کرلیا۔

قبل ازیں راجیہ سبھا نے بل کو صوتی ووٹ سے منظور کرتے ہوئے اسے سلیکٹ کمیٹی کو بھیجنے کی تجویز کو مسترد کر دیا لوک سبھا نے اسے پیر کو منظور کر لیا تھا۔ اپوزیشن کا کہنا تھا کہ حکومت نے اپوزیشن کو اس اہم بل کا مطالعہ کرنے کے لیے کافی وقت نہیں دیا اس لیے اسے سلیکٹ کمیٹی کو بھیجا جائے۔ اپوزیشن نے الزام لگایا کہ اس بل کے ذریعے حکومت عوام کو حق رائے دہی سے محروم کرنا چاہتی ہے۔

مرادآباد سنٹر کا تجربہ کامیاب رہا تو کشن گنج میں جامعہ ہمدرد کا سنٹر جلد۔ ڈاکٹر افشار عالم

0
مرادآباد سنٹر کا تجربہ کامیاب رہا تو کشن گنج میں جامعہ ہمدرد کا سنٹر جلد۔ ڈاکٹر افشار عالم

ڈاکٹر افشار عالم نے کہا ہے کہ جامعہ ہمدرد نے مرادآباد میں سنٹر قائم کیا ہے اور اس میں ایک ڈائرکٹرکے ساتھ پانچ اسسٹنٹ پروفیسرکی بحالی بھی کی ہے۔ وہاں پروفیشنلزم کورسز پڑھائے جائیں گے جس سے نوجوانوں کو روزگا ر ملے گا۔

نئی دہلی: جامعہ ہمدرد کے وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر افشار عالم نے کہا کہ جا معہ ہمدرد کا ایک سنٹر اترپردیش کے مرادآباد میں کھولا گیا ہے اگر یہ ہمارا تجربہ کامیاب رہا تو بہت جلد بہار کے کشن گنج میں ہمدرد کا سنٹر کھولاجائے گا۔

یہ بات انہوں نے کل یہا ں روزگار میلہ سے متعلق ایک پریس کانفرنس میں یو این آئی کے ایک سوال کے جواب کہی۔

انہوں نے کہا ہے کہ جامعہ ہمدردنے مرادآباد میں سنٹر قائم کیا ہے اور اس میں ایک ڈائرکٹرکے ساتھ پانچ اسسٹنٹ پروفیسرکی بحالی بھی کی ہے۔ وہاں پروفیشنلزم کورسز پڑھائے جائیں گے جس سے نوجوانوں کو روزگا ر ملے گا۔

انہوں نے کہاکہ اگرہمارا مراد آباد میں سنٹر کھولنے کا تجربہ کامیاب رہا تو بہت جلد بہار کے کشن گنج میں جامعہ ہمدرد کا سنٹر کھولا جائے گا۔

انہوں نے کہاکہ کیرالہ کے کنور میں سنٹر کام کر رہا ہے جس میں 1200 طلبہ زیر تعلیم ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ مہاراشٹر کے اورنگ آباد میں، پروانچل میں سمیت پانچ سنٹر کھولے جائیں گے۔

انہوں نے کہاکہ جامہ ہمدرد کے بانی حکیم عبدالحمید صاحب کا خواب تھا کہ اقلیتی علاقوں میں تعلیمی ادارے کھولے جائیں تاکہ اقلیتوں کو تعلیم کے ساتھ روزگار بھی مل سکے۔ جامعہ ہمدرد اپنے بانی کے خواب کو پورا کرنے کی سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔

انہوں نے کہاکہ ان سنٹروں میں فوڈ سے متعلق کورسیز شروع کئے جائیں گے کیوں کہ فوڈ اس وقت دنیا میں بڑی مارکیٹ کے طور پرسامنے آرہا ہے اور اس میں تعلیم یافتہ نوجوانوں کو روزگار بھی بہت جلد مل جاتا ہے۔

اس لئے وہ اس پر توجہ مرکوز کریں گے۔

اس کے علاوہ انہوں نے کہاکہ لکھنؤ میں ہندوستانی حکومت کے ساتھ مل کر بائیوڈائیورسٹی کورس چلائیں گے تاکہ اس سے بھی روزگار وسائل پیدا ہوں گے۔

انہوں نے کہاکہ 22 دسمبر کو جامعہ ہمدرد میں منعقد ہونے والا روزگار میلہ بے روزگار نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کا ایک بہترین قدم ہے۔

انہوں نے کہاکہ اس روزگار میلے میں دو ہزار سے زائد نوجوانوں کو نوکری ملنے کا امکان ہے۔

اس روزگار میلہ میں 30سے 40کمپنیاں حصہ لے رہی ہیں۔ جن میں بینکنگ، کثیر الاقوامی کمپنیاں، ہاسپٹل، منیجمنٹ اور دیگر کمپنیاں شامل ہیں۔ساتھ ہی انہوں نے کہاکہ بزنس اینڈ ا یمپلائنٹ بیورو (بی ای بی) اور ایسوسی ایشن آف مسلم پرفیشنلز (اے ایم پی)کے تعاون یہ روزگار میلہ منعقد کیا جارہا ہے۔

مسلم شہنشاہوں اور بادشاہوں نے ہندوستانی تہذیب و ثقافت کو اپنی سلطنتوں کا حصہ بنا رکھا تھا

0
مسلم شہنشاہوں اور بادشاہوں نے ہندوستانی تہذیب و ثقافت کو اپنی سلطنتوں کا حصہ بنا رکھا تھا
مسلم شہنشاہوں اور بادشاہوں نے ہندوستانی تہذیب و ثقافت کو اپنی سلطنتوں کا حصہ بنا رکھا تھا

مغلیہ سلطنت کے آغاز سے قبل ہی ہندوستان میں ہندو مسلم اتحاد کا شمع روشن ہوچکا تھا۔ کبیر اور نانک جیسی شخصیتیں ہندو مسلم اتحاد کی علامت تھیں

ہندوستان پر حکومت کرنے والے شہنشاہوں اور شہنشاہوں نے نہ تو اسلامی طریقے اختیار کیے اور نہ ہی اس قسم کی طاقت قائم کرنے کی کوشش کی جو خلافت راشدہ کے زمانے میں تھی۔ تاہم ان لوگوں نے بڑے قلعے اور شاندار مساجد تعمیر کروائیں۔

ان شہنشاہوں کے کردار میں نہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ان کے خاندان کے افراد یا صحابہ کا طرز عمل جھلکتا تھا اور نہ ہی ان کے محلات میں اسلام کی کوئی جھلک نظر آتی تھی۔ کچھ حکمرانوں نے ہندوستان کی ثقافت کو پوری طرح اپناتے ہوئے رقص، موسیقی اور دیگر فنون کو بھی فروغ دیا تھا۔

مسلم حکمرانوں کی اکثر جنگیں آپس میں ہوئیں نہ کہ ہندو حکمرانوں کے

کچھ فرقہ پرست عناصر مسلم حکمرانوں کی ہندو بادشاہوں یا حکمرانوں کے ساتھ جنگ کو ہندو مسلم جنگوں کے طور پر دیکھتے ہیں جبکہ مسلم حکمرانوں کی زیادہ تر لڑائیاں مسلم حکمرانوں کے ساتھ ہی ہوئیں۔ اگر آپ ہندوستان کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو آپ دیکھیں گے کہ مملوک سلطنت کے پہلے حکمران قطب الدین ایبک کی موت کے بعد ارم شاہ کو سلطنت ملی لیکن وہ کچھ ہی دنوں کے اندر ہی ایبک کے داماد کے ہاتھوں مارا گیا۔

پھر رضیہ سلطان کو موقع ملا لیکن رضیہ سلطان کو التونیہ نے تخت سے ہٹا دیا، التونیہ کو بہرام شاہ نے شکست دی اور بہرام شاہ کے بعد بلبن اور پھر قق آباد کا کیا حشر ہوا۔ مملوک خاندان کے بعد خلجی خاندان کو سلطنت ملی۔

مسلم سلطنت کی واپسی اور مغلیہ عہد

غیاث الدین تغلق نے خلجی خاندان کا خاتمہ کیا۔ تغلق کی سلطنت پر امیر تیمور نے حملہ کیا، ظاہر ہے تیمور نے ایک مسلمان حکمران پر حملہ کیا اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے مسلم فوج کو شمالی جانب میدان میں مارا گیا، یعنی دونوں طرف سے مسلمان مارے گئے اور اس قدر خونریزی کے بعد خود تیمور نے ہندوستان پر حکومت نہیں کی اور اپنی جگہ سید خاندان کو اقتدار سونپ کر واپس چلے گئے لیکن سید خاندان کے لوگوں نے 36 سال حکومت کرنے کے بعد خود اقتدار چھوڑ کر لودھیوں کے حوالے کر دیا۔ لودھی خاندان نے 76 سال تک ملک پر حکومت کی۔

اسی دوران بابر نے وسطی ایشیا سے ہندوستان پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا، جس کے بعد مغلیہ سلطنت کا آغاز ہوا لیکن مغلیہ سلطنت کی بات کرنے سے پہلے بتاتا چلوں کہ مغلوں کی آمد سے پہلے بھی ہندوستان میں ہندو مسلم اتحاد کے چراغ جل رہے تھے۔

مغل سلطنت کے آغاز سے پہلے ہی مسلم ہندو اتحاد مضبوط تھی

بنارس میں کبیر داس کی شکل میں ایک ایسا شاعر تھا جسے ہندو ہندو اور مسلمان اس شاعر کو مسلمان سمجھتے تھے۔ کبیر داس جی کی پرورش ایک مسلم کپڑا بُننے والے گھرانے میں ہوئی، کہا جاتا ہے کہ وہ ایک ہندو گھرانے میں پیدا ہوئے جس نے انہیں چھوڑ دیا تھا۔ کبیر داس کی شاعری ایسی تھی کہ ہندو اور مسلمان ان کی زندگی میں ان کے خلاف ہوتے تھے لیکن بعد میں انہیں اپنا آئیڈیل سمجھنے لگے۔ کبیر داس جی کی کامیاب زندگی کا یہ نمونہ تھا کہ جب ان کا انتقال مگہر میں ہوا تو ان کی آخری رسومات کے لیے مسلمانوں اور ہندوؤں میں جھگڑا ہوگیا۔

کہا جاتا ہے کہ ہندو مسلم اتحاد کی علامت بننے والے اس عظیم شاعر کی میت سے جب چادر اتاری گئی تو ان کی میت کی جگہ کچھ پھول تھے جنہیں ہندوؤں اور مسلمانوں نے آدھے حصے میں تقسیم کر کے آخری رسومات ادا کیں۔ بہت کم لوگ جانتے ہوں گے کہ کبیر داس جی کو اپنا دیوتا ماننے والوں کا ایک طبقہ ہے جسے کبیر پنتھ کہتے ہیں۔

بابا گرو نانک دیو نے ہندو مسلم اتحاد کو روشن کیا

دوسری عظیم شخصیت جس نے ہندوستان میں ہندو مسلم اتحاد کا چراغ روشن کیا اسے دنیا بابا گرو نانک دیو کے نام سے جانتی ہے۔ بابا نانک کی زندگی بھی پوری طرح انسانیت کے لیے وقف تھی، اسی لیے ہندو اور مسلمان دونوں ہی انہیں عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ ان کی زندگی ایسی تھی کہ ہندو انھیں اپنے مذہب کا مانتے تھے اور مسلمان انھیں اپنے مذہب کا مانتے تھے۔ وہ ننکانہ صاحب میں پیدا ہوئے اور پنجاب کے کرتار پور میں انتقال کر گئے۔

جب بابا گرو نانک کا انتقال ہوا تو ان کی آخری رسومات کے لیے ہندو اور مسلم برادری کے درمیان وہی تنازعہ کھڑا ہوا جو کبیر داس کی موت کے وقت ہوا تھا۔ ایک کرامت بھی ہوئی اور جسم خدا کے اس نیک بندے کے مرنے کے بعد پھول بن گیا، جس کے بعد آدھے پھول قبر میں رکھے گئے اور آدھے کو آگ کے حوالے کر دیا گیا۔

بابا نانک دیو نے بھی دنیا کو توحید اور انسانیت کا سبق دیا۔ بابا گرو نانک کو ہندو اور مسلمان اس قدر پسند کرتے تھے کہ دونوں طبقوں کے کچھ لوگ باہر نکل آئے اور بابا گرو نانک کی تعلیمات پر عمل کرنے لگے، جس کی وجہ سے ہندوستان میں ایک نئے مذہب کا وجود ہوا۔

آج ہم سب اس مذہب کو سکھ مذہب کے طور پر جانتے اور پہچانتے ہیں اور اس طبقہ کے پہلے گرو اور بانی بابا نانک دیو جی سے معروف ہیں۔

اگلے حصے میں ہم بابر کے حملے اور ابراہیم لودھی کے ان سے تصادم کی کہانی بیان کریں گے۔
(جاری)

1 – پہلی قسط

2 – دوسری قسط

3 – تیسری قسط

4 – چوتھی قسط

5 – پانچویں قسط

6 – چھٹی قسط

7 – ساتویں قسط

8 – آٹھویں قسط

9 – نویں قسط

10 – دسویں قسط

11 – گیارہویں قسط

تمل ناڈو: اسٹالن نے جے شنکر کو خط لکھ کر گرفتار ماہی گیروں کی رہائی کا مطالبہ کیا

0
تمل ناڈو: اسٹالن نے جے شنکر کو خط لکھ کر گرفتار ماہی گیروں کی رہائی کا مطالبہ کیا
تمل ناڈو: اسٹالن نے جے شنکر کو خط لکھ کر گرفتار ماہی گیروں کی رہائی کا مطالبہ کیا

مسٹر سٹالن نے ڈاکٹر جے شنکر کی توجہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں سری لنکا کی بحریہ کی جانب سے تمل ناڈو کے ماہی گیروں کو گرفتار کیے جانے کے دو واقعات کی طرف مبذول کرائی۔

چنئی: تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے پیر کو وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر سے سری لنکا کی بحریہ کی جانب سے گرفتار کیے گئے 55 ہندوستانی ماہی گیروں اور ان کی کشتیوں کی فوری رہائی کے لیے مداخلت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

مسٹر جے شنکر کو لکھے ایک نیم سرکاری خط کی کاپیاں جاری کرتے ہوئے مسٹر اسٹالن نے کہا کہ سری لنکا کی بحریہ نو ریاست کے ماہی گیروں کی جانب سے روایتی حقوق کے استعمال کو ڈرانے دھمکانے کی پالیسی سے روکنے کی بار بار کی جانے والی کوششوں کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔

انہوں نے کہا، ’میں حکومت ہند سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس سلگتے ہوئے مسئلے کو حل کرنے کے لیے ٹھوس کوششیں کرے۔ میں اس معاملے میں آپ سے مداخلت کی درخواست کرتا ہوں۔ آپ سری لنکا کی بحریہ کے زیر حراست 55 ماہی گیروں اور 73 کشتیوں کی رہائی کے لیے سری لنکا کے حکام کے سامنے یہ معاملہ اٹھا ئیں‘۔

مسٹر سٹالن نے ڈاکٹر جے شنکر کی توجہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں سری لنکا کی بحریہ کی جانب سے تمل ناڈو کے ماہی گیروں کو گرفتار کیے جانے کے دو واقعات کی طرف مبذول کرائی۔