اتوار, اکتوبر 4, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 281

ممبئی: جلتی ہوئی عمارت کی چھت پر پھنسے 40 افراد کو بچایا گیا، 5 زخمی

0

ممبئی فائر بریگیڈ نے جلتی عمارت سے 40 سے زائد افراد کو زندہ بچالیا۔

ممبئی: ممبئی فائر بریگیڈ نے منگل کی صبح یہاں آگ لگنے والی عمارت کی چھت پر پھنسے 40 سے زائد افراد کو زندہ بچالیا۔

بی ایم سی ڈیزاسٹر کنٹرول کے مطابق، صبح 10.15 بجے کے قریب ممبئ کے مغربی مضافاتی علاقے کاندیولی میں واقع جن کلیان نگر میں مہاڈا کی ایک پرانی 7 منزلہ عمارت کے نچلے منزلے پر نصب کئے گئے برقی میٹر روم میں آگ لگ گئ۔

نچلے منزلے پر لگنے والی آگ کو اور بھڑکتے ہوئے شعلوں کو دیکھکر عمارت کے خوف زدہ مکینوں نے چھت پر جاکر پناہ لینے میں عافیت سمجھی اسکے بعد فائر بریگیڈ کو طلب کیا گیا۔

ایم ایف بی کے فائر فائٹرز نے برقی سیڑھیوں کا استعمال کرکے چھت پر پھنسے کم از کم 40 افراد کو بچایا اور جبکہ دیگر مکین آگ کا مقابلہ کرتے رہے۔

حکام نے بتایا کہ 5 افراد دم گھٹنے سے زخمی ہوئے اور انہیں قریبی اسپتالوں میں منتقل کردیا گیا، جب کہ آگ لگنے کی وجہ کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

دہلی کے باشندے ماسک پہنے بغیر اپنے گھروں سے باہر نہ نکلیں: کیجریوال

0

کیجریوال نے لوگوں کو خبردار کیا کہ وہ ماسک کے بغیر گھر سے باہر نہ نکلیں اور کہا کہ ایسا نہ کیے جانے کی صورت میں بازار بند کرنا ہوگا۔

نئی دہلی: دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے منگل کے روز قومی راجدھانی دہلی کے لوگوں سے کووڈ-19 کے بڑھتے ہوئے معاملوں کے پیش نظر ماسک پہنے بغیر اپنے گھروں سے باہر نہ نکلنے کی اپیل کی۔ اور ایسا نہ کیے جانے پر بازاروں کو بند کرنے کی وارننگ دی۔

مسٹر کیجریوال نے نامہ نگاروں سے کہا کہ لوگوں کو بلا وجہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اب سامنے آنے والے زیادہ تر مریضوں میں خفیف علامات پائی جاتی ہیں، تاہم اس کے باوجود چوکنا رہنا ضروری ہے۔ دہلی کی موجودہ صورتحال کے بارے میں انہوں نے کہا کہ زیادہ تر مریضوں کو اسپتال جانے کی ضرورت نہیں پڑتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت دہلی اب کورونا وائرس کے خلاف لڑنے کے لیے 10 گنا زیادہ تیار ہے۔ لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ لوگ جب بھی باہر جائیں، تو وہ ماسک پہنیں۔ انہوں نے بازاروں میں بغیر ماسک کے پہنچنے والے لوگوں کی وائرل ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز پر برہمی کا اظہار کیا۔

انہوں نے لوگوں کو خبردار کیا کہ وہ ماسک کے بغیر گھر سے باہر نہ نکلیں اور کہا کہ ایسا نہ کیے جانے کی صورت میں بازار بند کرنا ہوگا۔

وزیر اعلیٰ نے گزشتہ تین دنوں میں کورونا کے مریضوں کی تعداد میں 0.5 فیصد سے زیادہ اضافے کے پیش نظر گریڈڈ ایکشن پلان کے لیول-1 کو نافذ کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ "حتمی اختیار جلد ہی پیش کیا جائے گا۔ یہ پابندیاں آپ کی بھلائی کے لیے ہیں”۔

لوگوں کو آمرانہ طریقے سے ڈرا کر تاریخ کو جھٹلانے کا کام کیا جا رہا ہے: سونیا

0
لوگوں کو آمرانہ طریقے سے ڈرا کر تاریخ کو جھٹلانے کا کام کیا جا رہا ہے: سونیا

سونیا گاندھی کہا کہ ملک کا عام شہری غیر محفوظ اور خوف محسوس کررہا ہے کیونکہ جمہوریت اور آئین کو درکنار کرکے صرف آمریت چل رہی ہے۔

نئی دہلی: کانگریس صدر سونیا گاندھی نے حکومت پر حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ آمرانہ طریقے پر چل کر تاریخ کو جھٹلا رہی ہے اور لوگوں کو ڈرا کر گنگا جمنی تہذیب کو تباہ کیا جا رہا ہے۔

محترمہ گاندھی نے منگل کو یہاں کانگریس کے 136 ویں یوم تاسیس کے موقع پر کارکنوں سے کہا کہ آج ملک کی مضبوط بنیاد کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور تاریخ کو جھوٹا بنا کر ہماری وراثت گنگا جمنا ثقافت کو تباہ کرنے کی ناپاک کوشش کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج ملک کا عام شہری غیر محفوظ اور خوف محسوس کررہا ہے کیونکہ جمہوریت اور آئین کو درکنار کرکے صرف آمریت چل رہی ہے۔ان حالات میں کانگریس خاموش نہیں رہے گی اور وراثت کو تباہ کرنے کی اجازت کسی کو نہیں دے گی۔

کانگریس صدر نے کہا کہ عام لوگ اور جمہوریت کی حفاظت کےلئے ملک مخالفت اور سماج مخالف سازشوں کے خلاف کانگریس جدوجہد کرے گی اور ہر قربانی دےگی۔

کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے بھی اس موقع پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا، ’’ہم کانگریس ہیں- وہ پارٹی جس نے ہمارے ملک میں جمہوریت قائم کی اور ہمیں اس وراثت پر فخر ہے۔کانگریس کے یوم تاسیس کی مبارکباد۔‘‘

بابر کے ہندوستان میں حملہ سے لے کر پوری مغلیہ سلطنت، سب طاقت کا کھیل تھا نہ کہ مذہبی معاملہ

0
بابر کے ہندوستان میں حملہ سے لے کر پوری مغلیہ سلطنت، سب طاقت کا کھیل تھا نہ کہ مذہبی معاملہ

ہندوستانی مسلم حکمرانوں کی تمام جنگوں کا اسلام یا مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں تھا، وہ جنگیں صرف اقتدار اور تخت کے لیے لڑی گئی تھیں جن میں لاکھوں مسلمان فوجی مارے گئے تھے

بابر وسطی ایشیا میں اندیجان (آج کا ازبکستان) میں پیدا ہوا اور چنگیز خان اور تیمور کی اولاد میں سے تھا۔ ایک بڑی سلطنت قائم کرنا اس کا خواب تھا۔ اس لیے اس نے سب سے پہلے وسطی ایشیا کے مسلمان حکمرانوں پر حملہ کیا۔ بابر نے ہندوستان پر حملہ کرنے سے پہلے سمرقند اور فرغانہ کی مسلم فوجوں کو شکست دی تھی۔

ایران کے شہنشاہ اسماعیل صفوی کی مدد سے اس نے ترکستان اور شیبانیان (آج کا قزاکستان) پر قبضہ کیا اور وہاں کے مسلمان حکمرانوں کو قتل کر دیا۔ پھر بھی سمرقند اس کے ہاتھ سے نکل گیا (ان لڑائیوں میں بابر نے کتنے مسلمان مارے اس کا حساب کسی کے پاس نہیں ہے) لیکن سمرقند میں شکست کے باوجود بابر نے ہندوستان پر حکمران لودھی حکومت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا منصوبہ بنایا تھا۔

بابر کی چالاکیاں دیکھیں کہ وہ لودھی خاندان کے مسلمان حکمران پر حملہ آور تھا لیکن سپاہیوں کو بھرتی کرنے کے لیے کہہ رہا تھا کہ وہ کفار کے خلاف جہاد کرنے جا رہا ہے۔ جب کہ بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ بابر کو میواڑ کے حکمران رانا سنگرام سنگھ (رانا سانگا) نے ابراہیم لودھی کی حکمرانی پر حملہ کرنے کے لیے اکسایا تھا۔ یقیناً اس جنگ کا بھی اسلام سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

مغل سلطنت

جب بابر نے ہندوستان پر حملہ کیا تو لودھی خاندان اس قدر کمزور ہو چکا تھا کہ سندھ اور پنجاب کو عبور کر کے دہلی کے قریب پانی پت آ گیا۔ لودھی نے بڑی فوج کے ساتھ بابر کے حملے کا مقابلہ کیا، لیکن بابر کی فوج کے پاس توپ خانہ تھا، جو ابراہیم لودھی کی ہندوستانی فوج کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا، اس جنگ میں ایک لاکھ سے زائد مسلمانوں نے بابر کے خلاف لڑتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، پھر بھی کوئی اس کی تعریف کرنے والا نہیں، بلکہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ بابر نے اس معاملے کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کے لیے لاکھوں ہندوؤں کو قتل کیا، جب کہ تاریخ کہتی ہے کہ وسطی ایشیا سے لے کر ہندوستان تک بابر نے لاکھوں مسلمانوں کا خون بہایا۔

بابر کے ہاتھوں لودھی خاندان کے خاتمے کے بعد، 1526 میں ہندوستان پر مغلوں کی حکومت تھی، جو کسی نہ کسی طریقے سے 1857 تک قائم رہی۔ بابر کے بعد اس کا بیٹا ہمایوں تخت پر بیٹھا لیکن اسے ایک مسلمان جنگجو شیر شاہ سوری نے معزول کر کے ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ شیر شاہ سوری نے ساسارام (بہار) کو اپنا دارالحکومت بنایا۔ وہ سب سے پہلے کولکاتا سے کابل تک سڑک بنانے والے تھے۔ اس نے روپیہ نامی کرنسی متعارف کروائی لیکن وہ اپنے سے پہلے حکمرانوں کے بنائے ہوئے شہروں اور قلعوں کو تباہ کرنے میں بھی بہت آگے تھا۔

کسی بھی جنگ کا تعلق مذہب سے نہیں تھا

شیر شاہ سوری نے 1540ء میں قنوج کے قریب جنگ میں مغل فوج کو شکست دی، جس کے بعد ہمایوں کو اپنی جان بچانے کے لیے ایران فرار ہونا پڑا اور وہاں 15 سال تک رہنا پڑا، بعد میں وہ شاہ تمس صفوی کی مدد سے سوری خاندان میں شامل ہو گیا۔ اسے ختم کرنے کے بعد 1555ء میں وہ دوبارہ بابر کے تخت پر بیٹھ سکتا تھا۔ ان تمام جنگوں کا اسلام یا مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں تھا، صرف تخت کی جنگ تھی جس میں مسلمان سپاہی مارے گئے تھے۔

ہمایوں کی موت 1556 میں پرانے قلعے میں لائبریری کی سیڑھیوں سے گرنے سے ہوئی۔

ایک مغل بادشاہ کا مقبرہ اور حضرت نظام الدین اولیاء کا مقبرہ

شہنشاہوں پر مسلمانوں پر ٹیکس لگانے کا الزام لگانے والوں کو دہلی میں متھرا روڈ کا چکر لگانا چاہیے۔ اس سڑک کے بائیں جانب ایک مغل بادشاہ کی قبر ہے اور اسی سڑک کے دائیں کنارے پر ایک پیر کی قبر ہے جسے دنیا حضرت نظام الدین اولیاء کے نام سے یاد کرتی ہے۔ دونوں مقبروں میں آپ کو بڑا فرق نظر آئے گا، کسی مقبرے کی خوبصورتی دیکھنے کے لیے سیاح ٹکٹ لے کر آتے ہیں، لیکن کوئی سیاح اس شہنشاہ کی قبر پر پھول تک نہیں رکھتا جس کے راستے میں پھول چڑھائے گئے، جب کہ دوسری طرف روڈ حضرت نظام الدین کے مزار پر روزانہ سینکڑوں پھولوں کی چادریں چڑھائی جاتی ہیں۔ ہزاروں لوگ سر جھکانے آتے ہیں۔ وہاں آپ کو ہندوؤں سے لے کر سکھوں اور عیسائیوں کے ساتھ ساتھ مسلمان بھی ملیں گے۔

کوئی مسلمان کسی بادشاہ کی قبر پر تعزیت کرنے نہیں جاتا اور ایک پیر کی قبر پر مسلمانوں کا ہجوم ہوتا ہے جو انسانوں سے محبت کا درس دیتا ہے، یہ فرق ہندوستانی مسلمانوں کو بابر کہنے والوں کی ذہنیت پر ایک شدید حملہ ہے۔

ہمایوں کی جنگ میں مسلمان سپاہیوں کا خون بہا، ہندوؤں کا نہیں

جب ہمایوں نے ہندوستان پر حملہ کیا اور دوبارہ اقتدار سنبھالا تو انہوں نے سوری خاندان کے لیے لڑنے والے مسلمان سپاہیوں کا خون بہایا، ہندوؤں کو نہیں مارا کیونکہ اس کے سامنے صرف ایک مسلمان فوج تھی۔ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ان میں سے کوئی بھی لڑائی ہندوؤں اور مسلمانوں کی لڑائی نہیں تھی بلکہ اقتدار کی جنگ تھی۔ اگلے حصے میں ہم اکبر کے بارے میں بات کریں گے۔ (جاری)

1 – پہلی قسط

2 – دوسری قسط

3 – تیسری قسط

4 – چوتھی قسط

5 – پانچویں قسط

6 – چھٹی قسط

7 – ساتویں قسط

8 – آٹھویں قسط

9 – نویں قسط

10 – دسویں قسط

11 – گیارہویں قسط

12 – بارہویں قسط

دہلی کا تین روزہ لاطینی ڈانس فیسٹیول رنگا رنگ رقص پیشکشوں اور سوشل نائٹس کے ساتھ اختتام پذیر

0
دہلی کا تین روزہ لاطینی ڈانس فیسٹیول رنگا رنگ رقص پیشکشوں اور سوشل نائٹس کے ساتھ اختتام پذیر

 

تین روزہ لاطینی ڈانس فیسٹیول اتوار کو IFBC اسٹوڈیو، ساکیت، نئی دہلی میں مختلف لاطینی رقص پرفارمنس کے ساتھ اختتام پذیر ہوا، اس کے بعد سمر ہاؤس کیفے، حوض خاص دہلی میں دیر رات سوشل رقص ہوا۔ یہ 24 سے 26 دسمبر تک سوشل نائٹس اور پرفارمنس نائٹس کا مکمل جشن تھا۔

نئی دہلی: اس میلے کا اہتمام ‘لیڈ اینڈ فالو’ (Lead and Follow) کے ذریعے کیا گیا تھا، جس کے سربراہ مشہور افریقی-لاطینی رقاص اور رقص کے استاد جناب سورج ہیں، اور افریقی و لاطینی رقص کے میدان میں مشہور افریقی-لاطینی رقص کے لیے مشہور ہے۔

دہلی این سی آر میں ڈانس اسکول لیڈ اینڈ فالو انڈیا نے اس دلچسپ تین روزہ لاطینی ڈانس فیسٹیول کا اہتمام کیا جس کا عنوان تھا ‘لیڈ او لاٹینو’ (Lead O’Latino)، جسے دہلی میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا ڈانس میلہ مانا جا رہاہے۔

اس تقریب میں ملک بھر سے بہت سے انتہائی باصلاحیت پیشہ ورانہ ڈانس اساتذہ نے شرکت کی جنہوں نے 200 سے زائد شرکاء کو 18 گھنٹے سے زیادہ کی گہری تربیت فراہم کی۔

انٹرایکٹو اور تفریحی سیشنز کے ساتھ، میلے میں مسابقتی مقابلہ، کنسرٹ، چیمپئن شپ، سوشل نائٹس اور بہت کچھ شامل تھا۔

اس تقریب میں افریقی-لاطینی رقص کی وسیع اقسام کا احاطہ کیا گیا تھا، جو پرمغز لاطینی ثقافت کی عکاسی کرتا تھا۔

اس ک علاوہ دہلی کے باہر سے آنے والوں کے لیے جشن کو مزید آرام دہ بنانے کے لیے، منتظمین نے "قیام و طعام پاس” (stay and food pass) کے لیے کچھ زبردست ڈیلز بھی فراہم کیے تھے۔

ساکیت میں واقع دہلی کے ایک بہترین مقام کو "فیسٹیول کی ورکشاپس اور سوشل نائٹس” کے لیے منتخب کیا گیا تھا اور تمام پروگرام 500 میٹر کے دائرے میں منعقد کیے گئے۔

یہ ایک پُرجوش اور سنسنی خیز یادگار جشن رہا جسے میں شرکاء کے لیے اپنی نوعیت کا پہلا قرار دیا جارہا ہے اور جسے روح کی غذا ہونے کے حوالے سے واقعی منفرد کہا جا سکتا ہے۔

یوپی میں ‘لڑکی ہوں لڑ سکتی ہوں’ کے نعرے سے جڑی لاکھوں لڑکیاں: پرینکا گاندھی 

0
یوپی میں 'لڑکی ہوں لڑ سکتی ہوں' کے نعرے سے جڑی لاکھوں لڑکیاں: پرینکا گاندھی 
یوپی میں 'لڑکی ہوں لڑ سکتی ہوں' کے نعرے سے جڑی لاکھوں لڑکیاں: پرینکا گاندھی 

پرینکا گاندھی نے ٹویٹ کیا، "سرکاری بسیں اور سرکاری مشینری کو استعمال کیے بغیر آج جھانسی میں 10,000 سے زیادہ لڑکیاں ‘لڑکی ہوں لڑ سکتی ہوں’ میراتھن میں دوڑ کے لیے نکلیں۔

نئی دہلی: کانگریس جنرل سکریٹری اور انچارج پرینکا گاندھی واڈرا نے کہا ہے کہ اتر پردیش میں لاکھوں لڑکیاں ‘لڑکی ہوں لڑ سکتی ہوں’ کے نعرے میں شامل ہو رہی ہیں اور اب وہ ناانصافی کو برداشت نہیں کریں گی اور اپنے حقوق کے لیے لڑیں گی۔

انہوں نے اتوار کو کہا کہ جھانسی میں اس مہم کے تحت منعقد کی گئی میراتھن میں 10,000 سے زیادہ لڑکیوں نے حصہ لیا ہے، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ریاست کی لڑکیاں اس نعرے میں شامل ہو رہی ہیں اور خود کو بااختیار محسوس کر رہی ہیں۔

مسز واڈرا نے ٹویٹ کیا، "سرکاری بسیں اور سرکاری مشینری کو استعمال کیے بغیر آج جھانسی میں 10,000 سے زیادہ لڑکیاں ‘لڑکی ہوں لڑ سکتی ہوں’ میراتھن میں دوڑ کے لیے نکلیں۔ آج ریاست کی ہر ایک لڑکی اس نعرے سے جڑی ہوئی محسوس کر رہی ہیں۔

انہوں نے لکھنؤ میں اس طرح کے پروگرام کی اجازت نہ دینے پر ریاستی حکومت پر تنقید کی اور کہا، "یوگی آدتیہ ناتھ جی لڑکیوں کی پرواز اور آواز کے اتنے خلاف ہیں کہ انہوں نے لکھنؤ میں میراتھن کی اجازت منسوخ کر دی۔ لیکن لڑکیاں برداشت نہیں کریں گی۔ لڑکیاں لڑیں گی۔”

قطر اور ترکی کے مابین ایئرپورٹ مینجمنٹ معاہدے سے طالبان نے کیا انکار

0
قطر اور ترکی کے مابین ایئرپورٹ مینجمنٹ معاہدے سے طالبان نے کیا انکار
قطر اور ترکی کے مابین ایئرپورٹ مینجمنٹ معاہدے سے طالبان نے کیا انکار

طلوع نیوز ایجنسی نے طالبان کی وزارت ٹرانسپورٹ کے ترجمان امام الدین احمدی کے حوالے سے بتایا کہ جمعرات کو طالبان کے ساتھ دونوں ممالک کے مذاکرات کاروں کی ملاقات کے بعد بھی کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہو سکا ہے۔

کابل: طالبان نے قطر اور ترکی کے ساتھ کابل اور افغانستان کے دیگر شہروں میں ہوائی اڈوں کا مشترکہ انتظام کرنے کے معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار کردیا ہے۔

ترک خبر رساں ایجنسی انادولو نے اس سے قبل اطلاع دی تھی کہ طالبان نے قطر اور ترکی کے ساتھ افغانستان میں پانچ بین الاقوامی ہوائی اڈوں کو چلانے کے منصوبے پر معاہدہ کیا ہے اور یہ کہ مشترکہ تکنیکی گروپ آنے والے دنوں میں ایک دوسرے سے ملاقات کریں گے۔

اس رپورٹ کے بعد طلوع نیوز ایجنسی نے طالبان کی وزارت ٹرانسپورٹ کے ترجمان امام الدین احمدی کے حوالے سے بتایا کہ جمعرات کو طالبان کے ساتھ دونوں ممالک کے مذاکرات کاروں کی ملاقات کے بعد بھی کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہو سکا ہے۔

مسٹر احمدی نے کہا کہ اس مسئلہ پر بات چیت جاری رہے گی۔

اومیکرون میں تیزی کے سبب ایران نے اپنی سرحدیں بند کر دیں

0
اومیکرون میں تیزی کے سبب ایران نے اپنی سرحدیں بند کر دیں
اومیکرون میں تیزی کے سبب ایران نے اپنی سرحدیں بند کر دیں

مسٹر لطیفی نے ہفتے کے روز کہا، "کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے قومی صدر دفتر کے فیصلے کے مطابق غیر ملکی شہریوں کا ایران میں داخلہ آج سے 15 دنوں کے لیے ممنوع ہے۔”

تہران: ایران نے کورونا وائرس کی نئی قسم اومیکرون کے تیزی سے بڑھتے ہوئے کیسز کی وجہ سے پڑوسی ممالک کے ساتھ اپنی سرحدیں بند کر دی ہیں۔

ایرانی کسٹمز کے ترجمان روح اللہ لطیفی نے یہ اطلاع دی۔

مسٹر لطیفی نے ہفتے کے روز کہا، "کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے قومی صدر دفتر کے فیصلے کے مطابق غیر ملکی شہریوں کا ایران میں داخلہ آج سے 15 دنوں کے لیے ممنوع ہے۔”

انہوں نے واضح کیا کہ ان ممالک میں ترکی، افغانستان، پاکستان، آذربائیجان، آرمینیا اور عراق شامل ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ صرف ان لوگوں کو ایران میں داخلے کی اجازت ہوگی جن کے پاس اسٹوڈنٹ، میڈیکل اور ورکنگ ویزا اور رہائشی اجازت نامے ہوں گے۔

ایران میں 19 دسمبر کو اومیکرون اسٹرین کا پہلا کیس سامنے آیا تھا۔ ہفتہ کو ملک کی وزارت صحت نے کووڈ-19 کے 1,100 سے زیادہ نئے کیسز درج کیے۔

پنجاب کسان تنظیموں کا الیکشن میں اترنے کا اعلان

0
پنجاب کسان تنظیموں کا الیکشن میں اترنے کا اعلان
پنجاب کسان تنظیموں کا الیکشن میں اترنے کا اعلان

پنجاب کی کسان تنظیموں نے الیکشن میں اترنے کا ذہن بناتے ہوئے آج اپنی نئی پارٹی ’سنیُکت سماج مورچہ‘ کا اعلان کیا ہے۔

چنڈی گڑھ:  پنجاب کی کسان تنظیموں نے کسان تحریک کی کامیابی کے بعد اب الیکشن میں اترنے کا ذہن بناتے ہوئے آج اپنی نئی پارٹی ’سنیُکت سماج مورچہ‘ کا اعلان کیا ہے۔

22 کسان تنظیموں نے آج یہاں ایک میٹنگ کی اور انتخابی میدان میں اترنے کے بارے میں غور و فکر کیا اور شام کو پریس کانفرنس میں اپنی نئی سیاسی پارٹی سنیُکت سماج مورچہ کا اعلان کرتے ہوئے بھارتیہ کسان یونین کے لیڈر بلبیر راجیوال کو چہرہ بنایا۔

کسانوں کی پارٹی نے تمام 117 سیٹوں پر الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا۔

کسان لیڈر کدیا نے کہا کہ اگلے چند دنوں میں مزید تنظیموں کے مورچہ میں شامل ہونے کا امکان ہے۔ پنجاب چھوڑنے کے بعد کسانوں نے اپنے حقوق کے لیے ایک سال تک طویل جنگ لڑی اور جیت گئے۔ تحریک ختم ہونے کے بعد پنجاب واپسی پر لوگوں نے ان کا پرتپاک استقبال کیا اور لوگ چاہتے ہیں کہ وہ انتخابی میدان میں اپنا ہاتھ آزمائیں۔

کسان رہنما نے کہا کہ سیاسی جماعتوں نے ہمیں لوٹا اور ہمارے مطالبات بھی پورے نہیں کیے۔ اب وقت آگیا ہے کہ کسانوں کو اپنی لڑائی خود لڑنے کے لیے انتخابی میدان میں آنا چاہیے اور اپنے مسائل خود حل کرنے کی پوزیشن میں آنا چاہیے۔

الیکشن میں اترنا ہر طبقے کا مطالبہ

مسٹر راجیوال نے کہا کہ عوام کے دباؤ کی وجہ سے ہمیں یہ فیصلہ کرنا پڑا۔ ہر طبقے کا مطالبہ ہے کہ کسانوں کو الیکشن میں اترنا چاہیے۔ ہر طبقہ اس میں حصہ داری کرے گا۔ ہم سے لوگوں کی امیدیں بڑھ گئی ہیں، اس لیے ان کے جذبات کو مدنظر رکھتے ہوئے مورچہ نے نئی پارٹی بنانے اور انتخابات میں اترنے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جہاں تک کسی بھی سیاسی پارٹی کے ساتھ انتخابی ہم آہنگی کا تعلق ہے، اس پر جلد فیصلہ کیا جائے گا۔ مزید حکمت عملی پر غور کرنے کے بعد آپ کو آگاہ کیا جائے گا۔

مسٹر راجیوال نے کہا کہ پنجاب کی نوجوان نسل منشیات کی وجہ سے برباد ہو رہی ہے اور نوجوان بچے بیرون ملک جا رہے ہیں۔ ایسے میں ہم روزگار سے منشیات کے خاتمے کے لیے سنجیدہ ہیں۔ ہم پنجاب کے عوام کو یقین دلاتے ہیں کہ کوئی بھی فیصلہ ان کے مفادات کو سامنے رکھ کر کیا جائے گا۔

ملیشیا میں سیلاب سے مرنے والوں کی تعداد 41 ہو گئی

0
ملیشیا میں سیلاب سے مرنے والوں کی تعداد 41 ہو گئی

دا سٹار اخبار نے انسپکٹر جنرل آف پولیس عکریل ثانی عبداللہ ثانی کے حوالے سے بتایا کہ مرنے والے 41 افراد میں سے 25 سیلنگور، 15 پہانگ کے رہنے والے تھے اور ایک کیلانتن کا رہنے والا تھا ۔

کوالالمپور،: ملیشیا میں سیلاب سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 41 ہو گئی ہے جبکہ آٹھ افراد ابھی تک لاپتہ ہیں۔

پولیس نے بتایا کہ اس سے قبل یہ رپورٹ آئی تھی کہ سیلاب میں 27 افراد کی موت ہو گئی ہے ۔

اس وقت سیلاب سے 26 مرد، 13 خواتین اور دو بچوں کی موت ہو گئی ہے ۔

دا سٹار اخبار نے انسپکٹر جنرل آف پولیس عکریل ثانی عبداللہ ثانی کے حوالے سے بتایا کہ مرنے والے 41 افراد میں سے 25 سیلنگور، 15 پہانگ کے رہنے والے تھے اور ایک کیلانتن کا رہنے والا تھا ۔