اتوار, اکتوبر 4, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 278

گوا: بی جے پی کے وفد نے پنجاب کانگریس حکومت کی برطرفی کا مطالبہ کیا

0
گوا: بی جے پی کے وفد نے پنجاب کانگریس حکومت کی برطرفی کا مطالبہ کیا

پرمود ساونت کی قیادت میں (بی جے پی) کے ایک وفد نے گورنر پی ایس سری دھرن پلئی سے وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ پنجاب کے دوران سیکورٹی میں لاپروائیوں پر پنجاب کانگریس حکومت کو برخاست کرنے کی اپیل کی ہے۔

پنجی: گوا کے وزیر اعلیٰ پرمود ساونت کی قیادت میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ایک وفد نے گورنر پی ایس سری دھرن پلئی سے وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ پنجاب کے دوران سیکورٹی میں لاپروائیوں پر پنجاب کانگریس حکومت کو برخاست کرنے کی اپیل کی ہے۔

سرکاری ذرائع نے جمعہ کو یہ اطلاع دی۔

جمعرات کی شام صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر ساونت نے کہا “یہ ملک کی تاریخ میں اس طرح کا پہلا واقعہ ہے۔ جب ایک ریاستی حکومت جو وزیر اعظم کو سیکورٹی نہیں دے سکتی تو ہم عام لوگوں کی حالت کے بارے میں کچھ بھی نہیں سوچ سکتے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے گورنر سے صدر کی مداخلت طلب کی ہے اور کانگریس حکومت کو برطرف کرکے پنجاب میں صدر راج نافذ کرنے کی درخواست کی ہے۔

وفد میں بی جے پی گوا یونٹ کے صدر سدانند شیٹ تانڈوے، ریاستی محصولات کی وزیر جینیفر مونسی راٹے، این آر آئی کمشنر نریندر سوائیکر، ایم ایل اے ٹونی فرنانڈس اور دیگر شامل تھے۔

میرے خواب میں صرف کورونا کے ستائے ہوئے متاثرین آتے ہیں: اویسی

0

اویسی نے اکھلیش کے خواب میں کرشن بھگوان اور یوگی کے خواب میں شری رام کے آنے کے دعوی کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ ان کے خواب میں صرف کورونا کے ستائے ہوئے متاثرین آتے ہیں۔

مرادآباد: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر و حیدرآباد سے رکن پارلیمان اسد الدین اویسی نے اکھلیش یادو کے خواب میں کرشن بھگوان اور یوگی آدتیہ ناتھ کے خواب میں شری رام کے آنے کے دعوی کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ ان کے خواب میں صرف کورونا کے ستائے ہوئے متاثرین آتے ہیں۔

اویسی گذشتہ دو دنوں سے مرادآباد میں مقیم تھے اور رائے بریلی روانہ ہونے سے پہلے میڈیا نمائندوں سے خطاب کررہے تھے۔ اس دوران انہوں نے کہا کہ سماج وادی پارٹی(ایس پی) سربراہ اکھلیش یادو اور اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کو دن میں ہی منگیریلال کے حسین سپنے نظر آ رہے ہیں۔

حیدرآباد سے رکن پارلیمان نے کہا کہ اکھلیش یادو کو آج کل سپنے میں کرشن بھگوان آ رہے ہیں اور وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے سپنے میں شری رام۔ میں کہنا چاہتا ہوں کہ سپنے تو ’ٹین ایجرس‘ کو آتے ہیں۔ ایم آئی ایم لیڈر نے دونوں لیڈروں کے حکومت بنانے کے دعوی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں بغیر وقت گنوائے راج بھون جا کر گورنر سے مل کر حلف کیوں نہیں لے لیتے؟

سیاست میں مسلمانوں کے شراکت داری کا ڈاٹا تیار کرنے اور جلد ہی اسے لکھنؤ سے شائع کرنے کا ذکر کرتے ہوئے اویسی نے کہا کہ اترپردیش کے مسلمانوں کی سیاست میں شراکت داری اس بار کتنی ہوگی اس سلسلے میں ایکسپرٹس سے ہر طرح کا ڈاٹا تیار کرایا گیا ہے۔ جلد ہی کھلے اسٹیج سے اسے شائع کیا جائے گا۔

اکبر اور مہارانا کے درمیان ہلدی گھاٹی کی جنگ کی کوئی مذہبی بنیاد نہیں تھی

0
اکبر اور مہارانا کے درمیان ہلدی گھاٹی کی جنگ کی کوئی مذہبی بنیاد نہیں تھی
اکبر اور مہارانا کے درمیان ہلدی گھاٹی کی جنگ کی کوئی مذہبی بنیاد نہیں تھی

اکبر کے خلاف پروپیگنڈے کی بنیادی وجہ ہلدی گھاٹی کی لڑائی میں میواڑ کے بہادر مہارانا پرتاپ کے ساتھ اکبر کی فوجوں کا تصادم ہے

اکبر اور دین الٰہی کا دور

ہمایوں کے بعد اس کا بیٹا جلال الدین اکبر تخت پر بیٹھا۔ اکبر ملک کا پہلا حکمران تھا جس نے اس ملک کے مختلف مذاہب کو اکٹھا کرنے کی کوشش کی۔ اس نے مختلف مذاہب کے مذہبی رہنماؤں کو آمنے سامنے بٹھانے اور بات چیت کرنے کی پہل کی۔

اکبر نے اس ملک میں سب سے پہلے سیکولرازم کی بات کی۔ انہوں نے دین الٰہی کے نام سے ایک نظریہ دنیا کے سامنے رکھا اور یہ بتانے کی کوشش کی کہ تمام مذاہب کا ماخذ ایک ہی ہے۔ اس کے بعد بعض مسلم علمائے کرام نے اکبر کو کافر بھی کہا اور ان پر اسلام کے سامنے ایک نئی شریعت لانے کا الزام لگایا، جب کہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ دین الٰہی کوئی نئی شریعت یا کوئی نیا مذہب نہیں تھا، بلکہ تمام مذاہب کو ساتھ لے کر چلنے کی ایک کوشش تھی۔

اپنی سیکولر پالیسیوں کی وجہ سے اکبر نے ملک کے بڑے بڑے ہندوؤں کا دل جیت لیا اور انہیں اپنے ساتھ لے لیا۔ راجہ مان سنگھ، راجہ ٹوڈر مل اور راجہ بیربل اس کے نورتنوں میں شامل تھے اور ان کی فوج ہزاروں ہندو سپاہیوں پر مشتمل تھی۔

معرکۂ ہلدی گھاٹی

اکبر کے خلاف پروپیگنڈے کی واحد وجہ ہلدی گھاٹی کے میدان میں میواڑ کے بہادر ویر مہارانا پرتاپ کے ساتھ اکبر کی فوجوں کا تصادم ہے۔ ہلدی گھاٹی کی لڑائی کو بہت سے لوگ ہندو مسلم کے چشمے سے دیکھتے ہیں، جب کہ اس معرکہ میں مذہب نام کی کوئی چیز تھی ہی نہیں۔

اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ ہلدی گھاٹی کی جنگ میں مہارانا پرتاپ کی فوج سوری خاندان کے پٹھان لیڈر حکیم خان سوری کی قیادت میں آمنے سامنے تھی اور راجپوت راجہ مان سنگھ کی کمان میں اکبر کی فوج تھی۔ قابل ذکر ہے کہ شیر شاہ سوری کی اولاد حکیم خان سوری کے ساتھ 10 ہزار پٹھان سپاہی مہارانا پرتاپ کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے کے لیے کھڑے تھے۔ اور جو بڑی فوج راجہ مان سنگھ کے ساتھ میواڑ کی فوج سے لڑنے آئی تھی، اس میں آدھے سے زیادہ فوجی ہندو تھے۔

حکیم خان اور مہارانا پرتاپ کی قربانی

خاص بات یہ ہے کہ مہارانا پرتاپ کو حکیم خان سوری پر اتنا بھروسہ تھا کہ انہوں نے حکیم خان کو اپنا خزانچی بنا لیا تھا۔ حکیم خان سوری نے مہارانا پرتاپ پر اپنی جان قربان کردی تھی لیکن اس قربانی کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس سال 28 جولائی (28 جولائی 2021) کو کچھ فرقہ پرست عناصر حکیم خان سوری کے مقبرے میں گھس گئے۔

اصل بات یہ ہے کہ جن لوگوں نے اس ملک کو فرقہ پرستی کا اکھاڑا بنا رکھا ہے وہ ہندو مسلم اتحاد کی کوئی علامت برداشت نہیں کر پاتے۔ یہ عناصر مہارانا پرتاپ کی تعریفیں گاتے ہیں، لیکن مہارانا پرتاپ کے لیے اپنی جان دینے والے ایک بہادر مسلمان جنگجو کی قبر ان سے نظر نہیں آتی۔

ایک اہم تاریخی واقعہ یہاں لکھتا چلا جاؤں تو اچھا ہو گا۔ جب مہارانا پرتاپ کے بیٹے امر سنگھ نے ہندی کے مشہور شاعر رحیم (عبدالرحیم خان خان، اکبر کے نورتنوں میں سے ایک) کو قید کیا تو مہارانا پرتاپ بیٹے سے بہت ناراض ہوئے اور رحیم اور اس کے خاندان کی فوری رہائی کا حکم دیا۔ اس کے بعد رحیم نے مہارانا پرتاپ کی تعریف میں کچھ اشعار بھی لکھے۔ کیا یہ اس ملک کے ہندو مسلم اتحاد کی تاریخ میں قابل فخر واقعہ نہیں؟

ملکہ چاند بی بی اور اکبر کی جنگ

یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ اگر اکبر سے محاذ آرائی حب الوطنی کی دلیل تھی تو ان طاقتوں کی بھی تعریف کی جانی چاہیے جنہوں نے مسلمان ہونے کے باوجود اکبر کو للکارا، ان طاقتوں میں سے ایک جنوبی ہند کی سلطنت بیجاپور کا مسلمان بھی تھا۔ خاتون حکمران چاند بی بی جس نے اکبر کی بڑی فوج کا بہادری سے مقابلہ کیا لیکن چاند بی بی کا ذکر آپ نے کم ہی سنا ہوگا۔

جن لوگوں نے تاریخ کا مطالعہ کیا ہے وہ جانتے ہیں کہ جب اکبر نے 1591ء میں جنوب کی چاروں سلاطین کو مغلیہ سلطنت کے ساتھ الحاق کرنے کا حکم بھیجا تو مسلمانوں کی ان چھوٹی حکومتوں نے اس کی سخت مخالفت کی۔

اس احتجاج کا سب سے زیادہ منہ توڑ جواب چاند بی بی کی طرف سے بھیجا گیا اور اس نے مغل کی بڑی فوج کے سامنے بھی ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا۔ چاند بی بی نے تقریباً 9 سال تک مغل فوج کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔

ظاہر ہے کہ اس جنگ میں مذہب کا کوئی مسئلہ نہیں تھا، کیونکہ یہ ایک مسلم سلطنت کا دوسری سلطنت سے ٹکراؤ تھا۔ لیکن جہاں کہیں کسی مسلمان حکمران اور ہندو حکمران کے درمیان جنگ ہوتی ہے وہاں مذہب کے نام پر تاریخ سے کھیلنے والے نت نئی کہانیاں بنانے لگتے ہیں۔

اگلے حصے میں ہم اکبر کے دین الٰہی اور صلح کل کی مخالفت پر بات کریں گے۔ (جاری)

1 – پہلی قسط

2 – دوسری قسط

3 – تیسری قسط

4 – چوتھی قسط

5 – پانچویں قسط

6 – چھٹی قسط

7 – ساتویں قسط

8 – آٹھویں قسط

9 – نویں قسط

10 – دسویں قسط

11 – گیارہویں قسط

12 – بارہویں قسط

13 – تیرہویں قسط

جنرل راوت کا ہیلی کاپٹر اچانک گھنے بادلوں میں پھنسنے کی وجہ سے گر کر تباہ ہو گیا تھا

0

جنرل بپن راوت کا ہیلی کاپٹر گزشتہ ماہ گھنے بادلوں میں پھنسنے کی وجہ سے اچانک گر کر تباہ ہو گیا تھا اور اس میں کسی تکنیکی خرابی یا تخریب کاری کی سازش نہیں تھی۔

نئی دہلی: ملک کے پہلے چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت کا ہیلی کاپٹر گزشتہ ماہ گھنے بادلوں میں پھنسنے کی وجہ سے اچانک گر کر تباہ ہو گیا تھا اور اس میں کسی تکنیکی خرابی یا تخریب کاری کی سازش نہیں تھی۔

اس حادثے کی تحقیقات کے لیے قائم کورٹ آف انکوائری نے بدھ کو وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کو پیش کی گئی رپورٹ میں یہ بات کہی ہے۔ 8 دسمبر کو کنور کے نزدیک اس حادثے میں جنرل راوت، ان کی اہلیہ اور 12 دیگر فوجی اہلکاروں کی موت ہوگئی تھی۔

ذرائع کے مطابق حادثے کی تحقیقات کے لیے تینوں سروسز کے افسران کی مشترکہ ٹیم نے رپورٹ میں حادثے کی وجوہات کے ساتھ ساتھ وی آئی پی کے ہیلی کاپٹر سفر کے حوالے سے بھی اہم سفارشات بھی دی ہیں۔

ائر مارشل مانویندر سنگھ کی رہنمائی میں ٹیم نے وزیر دفاع کو حادثے کی وجہ کا بلیو پرنٹ بھی پیش کیا۔ اس موقع پر فضائیہ کے سربراہ وویک رام چودھری اور سیکرٹری دفاع اجے کمار بھی موجود تھے۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہیلی کاپٹر کے اچانک گھنے بادلوں میں پھنسنے کی وجہ سے ایک خاص صورتحال ‘کنٹرولڈ فلائٹ انٹو ٹیرین’ پیدا ہوئی۔ جس میں گھنے بادلوں کی وجہ سے پائلٹ کو نظر نہیں آتا اور صورتحال ان کے کنٹرول سے باہر ہوجاتی ہے جس سے ہیلی کاپٹر زمین، پہاڑ یا کسی اور چیز سے ٹکرا جاتا ہے۔

تکنیکی خرابی یا ہیلی کاپٹر کے سبوتاژ کرنے کی سازش مسترد

تحقیقاتی رپورٹ میں کسی تکنیکی خرابی یا ہیلی کاپٹر کے سبوتاژ کرنے کی سازش کو مسترد کیا گیا ہے۔ تحقیقاتی ٹیم نے وی آئی پی کے سفر کے سلسلے میں اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر (ایس او پی) پر نظرثانی کی بھی سفارش کی ہے۔

تحقیقاتی ٹیم نے ایک ماہ سے بھی کم وقت میں رپورٹ پیش کرنے سے قبل تمام پہلوؤں پر شواہد اور بلیک باکس کے ساتھ ساتھ تمام حالات کا مطالعہ کیا ہے۔ تحقیقات میں پائلٹ سے جلد بازی میں کسی قسم کے رابطے کا کوئی اشارہ نہیں ملا ہے۔

واضح رہے کہ اس ہیلی کاپٹر کو خود اڑانے والے ونگ کمانڈر پرتھوی سنگھ چوہان اس حادثے میں ہلاک ہوگئے تھے اور انہیں خصوصی حالات میں بھی پرواز کرنے کا کافی تجربہ تھا۔

بلی بائی ایپ: مسلم خواتین کی تضحیک و نیلام کر نے والا ایپ تیار کرنے والے ریکیٹ کا پردہ فاش، تینوں ملزمین گرفتار

0

بلی بائی ایپ معاملہ میں تین ملزمین وشال کمار جھا 21 سالہ کو بنگلور، شویتا سنگھ 19 سالہ اور اس کے ایک دیگر ساتھی مینک راول 21 سالہ اتراکھنڈ سے گرفتار

ممبئی: مسلم لڑکیوں اور خواتین کو بلی بائی ایپ اور سوشل میڈیا پر نشانہ بنانے والے ریکیٹ کو ممبئی کے پولیس کمشنر ہیمنت ناگرالے نے بے نقاب کر نے کا دعوی کر تے ہوئے اس معاملہ میں تین ملزمین جس میں وشال کمار جھا 21 سالہ کو بنگلور، شویتا سنگھ 19 سالہ اور اس کے ایک دیگر ساتھی مینک راول 21 سالہ کو اتراکھنڈ سے گرفتار کر لیا ہے۔

اتراکھنڈ سے شویتا سنگھ اس ایپ کی خالق ہے ممبئی پولیس کی سائبر سیل نے اس معاملہ میں ہر پہلو پر جانچ شروع کردی ہے۔ ابتداء میں سائبر سیل نے جب تفتیش شروع کی تو بلی بائی ایپ پر پانچ فالووور ہی پائے گئے تھے ان پانچوں کی جانچ کی گئی تو معلوم ہوا کہ یہ پانچوں ایک دوسرے کے رابطے میں ہیں۔

پولیس نے اس معاملہ میں پہلے بنگلور کے سال دوم کے طالب علم وشال کمار کو گرفتار کیا۔ اس معاملہ میں مزید گرفتاریوں سے بھی ممبئی کے پولیس کمشنر نے انکار نہیں کیا ہے۔ 

بلی بائی ایپ کا کیس حساس نوعیت کا

ممبئی کے پولیس ہیڈکوارٹر میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ممبئی پولیس کمشنر ہیمنت ناگرالے نے کہا کہ چونکہ بلی بائی ایپ کا کیس حساس نوعیت کا ہے اس لئے تفتیشی پہلوؤں پر روشنی ڈالنے سے تفتیش متاثر ہونے کا امکان لاحق ہے۔جبکہ تفتیشی عمل کے دوران یہ معلوم ہوا کہ یہ ایپ کے معرفت مخصوص طبقہ اور فرقہ کی خواتین کو ہدف تنقید و نشانہ بنایا گیا تھا جو ان کی تضحیک کا باعث ہے۔

بلی بائی ایپ میں ملزمین نے پیج تیار کئے تھے اس میں سوشل میڈیا اور مختلف شعبہ جات سے وابستہ خواتین و لڑکیوں کی تصاویر مارف کر کے انہیں نشانہ بنایا گیا تھا جس سے ان خواتین کے جذبات کو ٹھیس پہنچی۔ انہیں تصاویر کو اس ایپ پر اپ لوڈ کیا گیا تھا۔ اس معاملہ میں پولیس نے 2 جنوری کو شکایت درج کروائی تھی۔ اس کے بعد ہی 24 گھنٹے میں ہی اس کیس میں گرفتاری عمل میں لائی گئی۔ اس سائٹ اور ایپ کو معروف بنانے کیلئے ٹوئیٹر ہینڈل کا بھی سہارا لیا گیا تھا۔

ہر پہلو پر جانچ جاری 

ممبئی کے پولیس کمشنر ہیمنت ناگرالے نے بتایا کہ بلی بائی ایپ میں ہر پہلو پر جانچ جاری ہے جن ملزمین کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے ان سے باز پرس کا سلسلہ جاری ہے۔ کئی نئے سراغ ملنے کی بھی امید ہے۔ انٹرنیٹ پر یہ تضحیک آمیز ایپ تیار کیا گیا تھا اس لئے اس کا سراغ لگانے کیلئے سائبر ٹیم نے جدوجہد مسلسل کر تے ہوئے اس معمہ کو حل کر لیا۔

ممبئی پولیس کمشنر سے جب اس ایپ کو تیار کرنے کا مقصد اور ماسٹر مائنڈ سے متعلق دریافت کیا گیا تو انہوں نے یہ کہتے ہوئے تفصیل ظاہر کرنے سے انکار کر دیا کہ یہ معاملہ انتہائی حساس ہے اور اس سے تفتیش متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی خواتین و لڑکیاں اس سے متاثر ہے وہ سائبر سیل میں شکایت درج کرواسکتی ہے۔

کشمیر یونیورسٹی کی جانب سے آج ہونے والے امتحانات ملتوی

0
کشمیر یونیورسٹی کی جانب سے آج ہونے والے امتحانات ملتوی
کشمیر یونیورسٹی کی جانب سے آج ہونے والے امتحانات ملتوی

یونیورسٹی کے کنٹرول امتحانات پروفیسر ارشاد احمد نے بتایا کہ موسمی صورتحال کے پیش نظر بدھ کے روز لئے جانے والے، (یو جی /پی جی/بی ایڈ امتحانات) کو فی الحال ملتوی کیا گیا ہے۔

سری نگر: کشمیر یونیورسٹی کی جانب سے بدھ کے روز لئے جانے والے سبھی امتحانات کو ملتوی کیا گیا ہے۔

یونیورسٹی کے کنٹرول امتحانات پروفیسر ارشاد احمد نے بتایا کہ موسمی صورتحال کے پیش نظر بدھ کے روز لئے جانے والے، (یو جی /پی جی/بی ایڈ امتحانات) کو فی الحال ملتوی کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ نئی تاریخوں کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

بتادیں کہ محکمہ موسمیات نے بدھ اور جمعرات کو بھاری برف باری کی پیشین گوئی کی ہے جس کو مد نظر رکھتے ہوئے کشمیر یونیورسٹی نے بدھ کے روز لئے جانے والے امتحانات کو فی الحال ملتوی کیا ہے۔

وادی گلوان میں ہندوستانی فوج نے لہرایا ترنگا

0

چین کو ہندوستانی فوجیوں نے وادی گلوان میں ترنگا لہرا کر دیا کرارا جواب

نئی دہلی: نئے سال کے موقع پر ہندوستانی فوجیوں کو تحفہ دیکر نمائشی جذبہ خیر سگالی کا اظہار کرنے کے بعد وادی گلوان میں چینی پرچم لہرائے جانے کا پروپیگنڈا کرنے والے چین کو ہندوستانی فوجیوں نے وادی گلوان میں ترنگا لہرا کر کرارا جواب دیا ہے۔

دفاعی ذرائع کے مطابق فوج نے سال 2020 میں مشرقی لداخ کی وادی گلوان میں ہونے والے پرتشدد جھڑپ کے بجائے ترنگا لہرا کر اپنے پرعزم ارادوں کے بارے میں واضح پیغام دیا ہے۔

چین کی سرکاری میڈیا نے نئے سال کے بعد ایک ویڈیو جاری کی جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس کے فوجیوں نے وادی گلوان میں چینی پرچم لہرایا ہے۔ جواب میں جاری کی گئی ان تصاویر میں ہندوستانی فوج کے اہلکار وادی گلوان میں ترنگا لہراتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

چین کی جانب سے وادی گلوان کی ویڈیو جاری ہونے کے بعد ہندوستان کی اپوزیشن پارٹیوں نے مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ چین کے معاملے پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔

دفاعی ذرائع نے چین کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین نے یہ ویڈیو پروپیگنڈے کے تحت جاری کی ہے اور یہ ویڈیو گلوان ویلی کے بجائے چین کی سرحد کے اندر کسی اور علاقے کی ہے۔

دارالحکومت دہلی میں ویک اینڈ کرفیو نافذ کرنے کا فیصلہ

0

دہلی حکومت نے ویک اینڈ کرفیو نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت ہفتہ اور اتوار کو رات کے کرفیو کے علاوہ دن کا کرفیو بھی ہوگا۔

نئی دہلی: ہلاکت خیز کورونا وائرس کے بڑھتے کیسز کو دیکھتے ہوئے دہلی حکومت نے ویک اینڈ کرفیو نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جس کے تحت ہفتہ اور اتوار کو رات کے کرفیو کے علاوہ دن کا کرفیو بھی ہوگا۔

دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا نے منگل کو یہ اطلاع دی۔ انہوں نے کہا کہ ویک اینڈ کرفیو لگانے کا فیصلہ ڈی ڈی ایم اے کے اجلاس میں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ضروری خدمات کے علاوہ باقی سب پر کرفیو کا نفاذ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ میٹرو اور بس کو 50 فیصد گنجائش پر چلانے کے فیصلے کے بعد دیکھا گیا کہ بس اسٹاپ اور میٹرو اسٹیشن کے سپر اسپریڈر بننے کاخدشہ ہے۔ اس لیے اب بس اور میٹرو صد فیصد گنجائش کے ساتھ چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ بس اور میٹرو میں ہر ایک کے لیے ماسک پہننا لازمی ہو گا۔

نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سرکاری دفاتر میں کام کرنے والے اب گھر سے کام کریں گے۔ جب کہ 50 فیصد صلاحیت کے ساتھ پرائیویٹ دفاتر کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے اور ضرورت کے وقت ہی گھروں سے باہر نکلیں۔ کورونا کے گائیڈ لائن پر سختی سے عمل کریں اور ماسک پہنیں۔

پاکستانی یونیورسٹی میں پرتشدد جھڑپ کے دوران 18 طلباء زخمی

0
پاکستانی یونیورسٹی میں پرتشدد جھڑپ کے دوران 18 طلباء زخمی
پاکستانی یونیورسٹی میں پرتشدد جھڑپ کے دوران 18 طلباء زخمی

یونیورسٹی نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ’’یہ طلباء تنظیموں کے درمیان جھڑپ کا افسوسناک واقعہ ہے۔ انتظامیہ اس واقعہ کی مذمت کرتی ہے اور اس کا سخت نوٹس لیا ہے۔

اسلام آباد: پاکستانی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد (آئی آئی یو آئی) میں اسلامی جمعیت طلبہ اور پشتون کونسل کے کارکنوں کے درمیان پرتشدد جھڑپ میں کم از کم 18 طلباء زخمی ہو گئے ہیں۔

مقامی میڈیا نے منگل کے روزاپنی رپورٹ میں یہ معلومات دی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کے روز یونیورسٹی میں دونوں گروپوں کے طلباء نے الگ الگ احتجاج کیا۔ پشتون کونسل کے اراکین نے الزام عائد کیا کہ آئی جے ٹی سے تعلق رکھنے والے طلباء نے ان کی ریلی پر حملہ کیا۔

پاکستانی اخبار ڈان نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ آئی جے ٹی کے طلباء نے دعویٰ کیا ہے کہ یونیورسٹی میں دو سال قبل ہوئے ان کے ایک ساتھی کے قتل کا ملزم ابھی بھی سڑکوں پر آزاد گھوم رہا ہے۔

دا فرائیڈے ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ یونیورسٹی نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ’’یہ طلباء تنظیموں کے درمیان جھڑپ کا افسوسناک واقعہ ہے۔ انتظامیہ اس واقعہ کی مذمت کرتی ہے اور اس کا سخت نوٹس لیا ہے۔

یونیورسٹی انتظامیہ صورتحال پر قابو پانے کے لیے ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔ یونیورسٹی نے کہا کہ واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک تادیبی کمیٹی تشکیل دی جائے گی‘‘۔

اومیکرون ٹسٹ کٹ کو آئی سی ایم آر نے دی منظوری

0
اومیکرون ٹسٹ کٹ کو آئی سی ایم آر نے دی منظوری
اومیکرون ٹسٹ کٹ کو آئی سی ایم آر نے دی منظوری

انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ اومیکرون کی جانچ کے لیے ایک ٹسٹ کٹ کو منظوری دے دی جسے جلد ہی مارکیٹ میں دستیاب کرایا جائے گا۔

نئی دہلی: انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) نے کووڈ-19 کی نئی شکل اومیکرون کی جانچ کے لیے ایک ٹسٹ کٹ کو منظوری دے دی ہے۔

ذرائع نے منگل کو یہاں بتایا کہ اس کٹ کو گزشتہ ہفتے مکمل جانچ کے بعد منظور کیا گیا تھا۔ اسے جلد ہی مارکیٹ میں دستیاب کرایا جائے گا۔ اس کٹ کو ’ٹاٹا میڈیکل اینڈ ڈائیگونسٹکس‘ نے تیارکیا ہے۔ اس کٹ کو گھر پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

خیال رہے ملک میں ہلاکت خیز کووڈ کے کیسز ایک بار پھر تیزی سے بڑھنا شروع ہوگئے ہیں۔ نئے ویرینٹ اومیکرون کے کیسز بھی رپورٹ ہو رہے ہیں اور عام طور پر اومیکرون وائرس کی جانچ کرنے میں کافی وقت لگتا ہے۔