اتوار, اکتوبر 4, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 277

لاک ڈاؤن کے باوجود پارٹی میں شرکت، برطانوی وزیر اعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ

0
لاک ڈاؤن کے باوجود پارٹی میں شرکت، برطانوی وزیر اعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ
لاک ڈاؤن کے باوجود پارٹی میں شرکت، برطانوی وزیر اعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ

برطانوی عوام اور اپوزیشن کی جانب سے سخت تنقید پر بورس جانسن نے آج برطانوی پارلیمنٹ سے اپنے خطاب میں لاک ڈاؤن کے دوران پارٹی میں شرکت کا اعتراف کرتے ہوئے معافی مانگی

لندن: برطانیہ میں کورونا وائرس کے باعث لگائے گئے لاک ڈاؤن کے باوجود پارٹی میں شرکت پر برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کو شدید تنقید کا سامنا ہے اور ان سے وزارت عظمیٰ کے عہدہ سے دستبردار ہونے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

خیال رہے گذشتہ چند دنوں سے برطانوی ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر متعدد تصاویر گردش کررہی ہیں جن میں بورس جانسن کو ان کی سرکاری رہائش گاہ کے گارڈن میں اپنے اسٹاف کے ساتھ جشن مناتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق یہ تصاویر مئی 2020 کی ہیں جب برطانیہ میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سخت ترین لاک ڈاؤن لگایا گیا تھا۔ اس دوران ان کے سرکاری گھر کے گارڈن میں پارٹی کا انعقاد ہوا جس میں 100 کے قریب عملے کے افراد شریک ہوئے تھے۔

جانسن نے مانگی معافی

برطانوی عوام اور اپوزیشن کی جانب سے سخت تنقید پر بورس جانسن نے آج برطانوی پارلیمنٹ سے اپنے خطاب میں لاک ڈاؤن کے دوران پارٹی میں شرکت کا اعتراف کرتے ہوئے معافی مانگی۔ تاہم وزارت عظمیٰ کا عہدہ چھوڑنے سے انکار کیا۔

بورس جانسن نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ وہ پارٹی ان کے دفتر کے عملے کے لیے تھی جس میں وہ صرف 25 منٹ کے لیے شریک ہوئے تھے تاکہ وبا کے دوران کام کرنے والے عملے کا شکریہ ادا کرسکیں۔ تاہم مجھے ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا اور شکریہ ادا کرنے کے لیے کوئی اور طریقہ اختیار کرنا چاہیے تھا۔

وزیر اعظم کے بیان پر برطانوی ارکان پارلیمنٹ حکومت پر پھٹ پڑے، ایم پی افضل خان نے کہا کہ والدہ کا اسپتال میں انتقال ہوا تو انہیں گاڑی میں بیٹھنا پڑا، ہم اپنے پیاروں کے جنازوں میں شرکت نہ کرسکے اور وزیر اعظم اور ان کے عملے نے پارٹی کرلی۔ رکن پارلیمنٹ ناز شاہ نے بھی بورس جانسن کو تنقید کا نشانہ بنایا جب کہ اپنی ساس کے انتقال کا ذکر کرتے ہوئے ایک اور رکن ایوان میں رو پڑے۔

اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بورس جانسن نے بجائے معافی مانگنے کے اپنے اقدام کا دفاع کیا ہے جو کہ انتہائی قابل افسوس بات ہے۔

اسمبلی انتخابات: دارا سنگھ کا ایس پی میں استقبال ہے: اکھلیش

0
اسمبلی انتخابات: دارا سنگھ کا ایس پی میں استقبال ہے: اکھلیش
اسمبلی انتخابات: دارا سنگھ کا ایس پی میں استقبال ہے: اکھلیش

اکھلیش نے اترپردیش اسمبلی انتخابات سے پہلے یوگی کابینہ سے بدھ کو استعفی دینے والے دارا سنگھ کے ساتھ اپنی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے ان کا ایس پی میں استقبال کیا۔

لکھنؤ: اترپردیش اسمبلی انتخابات سے پہلے یوگی کابینہ سے بدھ کو استعفی دینے والے دارا سنگھ چوہان کے استعفی کے بعد سماج وادی پارٹی (ایس پی) صدر اکھلیش یادو نے کہا کہ چوہان کا ایس پی میں استقبال ہے۔

 

حالانکہ دارا سنگھ نے وزارت سے استعفی دینے کے بعد واضح کیا ہے کہ فی الحال انہوں نے کسی پارٹی کی رکنیت حاصل نہیں کی ہے۔ جلد ہی وہ اپنے حامیوں کے ساتھ تبادلہ خیال کر کے آگے کی حکمت عملی کے بارے میں آگاہ کریں گے۔

اس درمیان اکھلیش نے دارا سنگھ کے ساتھ اپنی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے ان کا ایس پی میں استقبال کیا۔ اکھلیش نے کہا ’سماجی انصاف کی جدوجہد کے جانباز سپاہی دارا سنگھ چوہان کا ایس پی میں دل کی گہرائیوں سے استقبال ہے۔ ایس پی و اس کے معاون پارٹیاں متحد ہوکر برابر۔مساوات کی تحریک کو انتہا تک لے جائیں گے‘۔ تفریق مٹائیں گے یہ ہمارا اجتماعی عزم ہے۔ سب کو احترام سب کو مقام‘۔

اس دوران یوپی کے نائب وزیر اعلی کیشو پرساد موریہ نے بھی دارا سنگھ کو اپنے فیصلے پر دوبارہ غور کرنے کی اپیل کی اور کہا ’کنبے کا کوئی رکن بھٹک جائے تو دکھ ہوتا ہے۔ جانے والے معزز کو میں بس یہی اپیل کرونگا کہ ڈوبتی ہوئی کشتی پر سوار ہونے سے نقصان ان کا ہی ہوگا۔ بڑے بھائی دارا سنگھ جی آپ اپنے فیصلے پر دوبارہ غور کرئیے‘۔

قابل ذکر ہے کہ منگل کو یوگی کابینہ سے استعفی کے سلسلے کا آغاز کرتے ہوئے وزیر لیبر سوامی پرساد موریہ نے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا تھا۔ اس کے اگلے ہی دن دارا سنگھ نے بھی یوگی حکومت سے استعفی دے دیا۔

یوپی اسمبلی انتخابات: یوگی کابینہ کے ایک اور وزیر دارا سنگھ چوہان نے دیا استعفی

0
یوپی اسمبلی انتخابات: یوگی کابینہ کے ایک اور وزیر دارا سنگھ چوہان نے دیا استعفی
یوپی اسمبلی انتخابات: یوگی کابینہ کے ایک اور وزیر دارا سنگھ چوہان نے دیا استعفی

یوپی اسمبلی انتخابات سے عین قبل دارا سنگھ چوہان نے بھی وزارت سے استعفی دے کر بی جے پی کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا۔

لکھنؤ: یوپی اسمبلی انتخابات سے عین قبل سوامی پرساد موریہ کے بعد یوگی کابینہ کے وزیر دارا سنگھ چوہان نے بھی بدھ کو وزارت سے استعفی دے کر بی جے پی کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا۔

انہوں نے اپنا استعفی یوپی کی گورنر آنندی بین پٹیل کو سونپا۔ اپنے استعفی نامہ میں چوہان نے کہا ’وزیر کی حیثیت سے اپنے شعبے کی بہتری کے لئے میں نے حتی المقدار کوششیں کی لیکن پسماندہ طبقات، دلت و بے روزگار نوجوانوں کے تئیں حکومت کے غیر ذمہ دارانہ رویہ اور دلتوں کے ریزرویشن کے معاملے کو جس طرح سے ہینڈل کیا گیا اس سے دلبرداشتہ ہوکر وزارت سے استعفی دے رہا ہوں‘۔

اس کے بعد میڈیا سے بات چیت میں چوہان نے اعادہ کیا کہ انہوں نے ایسا قدم مجبوری میں اٹھایا ہے۔ اور یہ حقیقت ہے کہ پسماندہ طبقات، دلتوں، پچھڑوں، کسان اور بے روزگار نوجوانوں کے ساتھ انصاف نہیں ہوا ہے۔

گذشتہ 5 سالوں میں اپنے تحفظات ریاستی حکومت کے ساتھ ساتھ مرکزی قیادت کو بھی آگاہ کیا لیکن دونوں جگہ سے اسے نظر انداز کردیا گیا۔ جن غریب، مزدور، پسماندہ طبقات، کسان اور نوجوان کے آشیرواد سے حکومت بنی تھی ان کی توقعات پوری نہیں ہوئیں۔

کیا چوہان سماج وادی میں شمولیت اختیار کریں گے؟

ایک سوال آیا انہوں نے سوامی پرساد موریہ کی حمایت میں استعفی دیا ہے چوہان نے کہا موریہ ایک سینئر لیڈر ہیں لیکن استعفی دینے کا فیصلہ ان کا اپنا ہے۔ وہیں اس سوال کہ کیا وہ سماج وادی پارٹی میں شمولیت اختیار کریں گے، پر ان کا کہنا تھا کہ ’ میں اپنے حامیوں، کارکنوں اور ان تمام افراد جن کی وجہ سے میں سیاست میں ہوں ان سے تبادلہ خیال کرنے کے بعد کوئی فیصلہ کروں گا۔ دھیرے دھیرے ساری چیزیں اک دم واضح ہوجائیں گی۔

یوگی کابینہ کے لیبر منسٹر سوامی پرساد موریہ کا استعفی

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ یوگی کابینہ کے لیبر منسٹر سوامی پرساد موریہ نے گذشتہ کل استعفی دے دیا تھا۔ موریہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بی جے پی کے دیگر تین اراکین اسمبلی روشن لال ورما، برجیش پرجاپتی اور بھاگوتی ساگر نے بھی بی جے پی کی رکنیت سے استعفی دے دیا تھا۔

اگرچہ ایس پی سربراہ اکھلیش یادو نے سوامی پرساد موریہ کے ساتھ اپنی ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے ایس پی جوائن کرنے کا اشارہ دیا تھا لیکن سابق وزیر نے کہا کہ انہوں نے کابینی وزیر کی حیثیت سے استعفی دیا ہے۔ اور آگے کی حکمت عملی کے بارے میں 14جنوری کو آگاہ کریں گے۔

اجمل علی خاں سماجوادی پارٹی کی اسٹوڈینٹ ونگ کے قومی سکریٹری مقرر

0
اجمل علی خاں سماجوادی پارٹی کی اسٹوڈینٹ ونگ کے قومی سکریٹری مقرر
اجمل علی خاں سماجوادی پارٹی کی اسٹوڈینٹ ونگ کے قومی سکریٹری مقرر

اکھلیش یادو کی ہدایت پر پارٹی کی طلبہ ونگ کی قومی صدر نیہا یادو نے اجمل علی خاں کی بحیثیت قومی سکریٹری تقرری عمل میں لائی ہے۔

حیدرآباد: مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبہ ترسیل عامہ و صحافت کے پی ایچ ڈی سکالر اجمل علی خاں کو سماجوادی پارٹی کی طلبہ ونگ کا قومی سکریٹری مقرر کیا گیا ہے۔

سماجوادی پارٹی کے قومی ترجمان راجندر چودھری کی طرف سے جاری ہونے والی ایک پریس ریلیز میں یہ اطلاع دی گئی ہے۔ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو کی ہدایت پر پارٹی کی طلبہ ونگ کی قومی صدر نیہا یادو نے اجمل علی خاں کی بحیثیت قومی سکریٹری تقرری عمل میں لائی ہے۔

اترپردیش کے ضلع غازی پور کے رہنے والے اجمل خاں ایک سیاسی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے والد حیدر علی خاں المعروف ٹائیگر کو سماجوادی پارٹی کی پچھلی حکومت میں ریاستی وزیر کا درجہ ملا تھا۔ اجمل علی خاں کی خود سیاست میں کافی دلچسپی ہے اور وہ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں ہونے والی طلبہ سیاست میں خاصے سرگرم ہیں۔

انہوں نے یونیورسٹی میں پچھلے چند برسوں کے دوران ہونے والے طلبہ یونینز کے انتخابات میں بادشاہ گرکا کام کیا ہے۔ وہ آزاد یونائیٹڈ سٹوڈنٹس فیڈریشن یا اے یو ایس ایف کے بانی رکن ہیں۔ یہ تنظیم یونیورسٹی میں طلبہ کی فلاح و بہبود کے لیے سرگرم ہے۔

دریں اثنا اردو یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلبہ نے اجمل علی خاں کی سماجوادی پارٹی کی طلبہ ونگ میں بحیثیت قومی سکریٹری تقرری پر خوشی کا اظہار کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ موصوف مستقبل میں بھی طلبہ کے مسائل کی یکسوئی کا کام جاری رکھیں گے۔

اتر پردیش میں اسمبلی انتخابات کے پیش نظر منگل کو بی جے پی کی اہم میٹنگ

0

اتر پردیش میں اسمبلی انتخابات کے پیش نظر بھارتیہ جنتا پارٹی کی ایک اہم میٹنگ ہو رہی ہے۔ جس میں یہ بھی فیصلہ ہو سکتا ہےکہ قانون ساز کونسل کے رکن مسٹر آدتیہ ناتھ، مسٹر موریہ اور مسٹر شرما اس بار اسمبلی الیکشن لڑیں گے یا نہیں۔

نئی دہلی: اتر پردیش میں اسمبلی انتخابات کے پیش نظر منگل کو یہاں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی ایک اہم میٹنگ ہو رہی ہے۔

اس میٹنگ میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ، دونوں نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ، دنیش شرما، اتر پردیش بی جے پی کے الیکشن انچارج دھرمیندر پردھان، بی جے پی کے تنظیمی جنرل سکریٹری بی ایل سنتوش، اتر پردیش کے صدر سواتنتر دیو سنگھ، اترپردیش میں تنظیمی سکریٹری سنیل بنسل سمیت کئی رہنما شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق اس میٹنگ میں انتخابی حکمت عملی پر غور کیا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی پہلے دو مرحلوں کی سیٹوں کے لیے پارٹی کے ممکنہ امیدواروں کے ناموں پر غور و خوض کیا جا رہا ہے۔

میٹنگ میں یہ بھی فیصلہ ہو سکتا ہےکہ قانون ساز کونسل کے رکن مسٹر آدتیہ ناتھ، مسٹر موریہ اور مسٹر شرما اس بار اسمبلی الیکشن لڑیں گے یا نہیں۔ اگر یہ رہنما الیکشن لڑتے ہیں تو کس سیٹ سے الیکشن لڑیں گے؟

مانا جا رہا ہے کہ اس بار الیکشن میں کئی موجودہ اراکین اسمبلی کے ٹکٹ بھی کٹ سکتے ہیں۔

ملک میں کووڈ ویکسینیشن کی تعداد 152.89 کروڑ سے متجاوز

0
ملک میں کووڈ ویکسینیشن کی تعداد 152.89 کروڑ سے متجاوز
ملک میں کووڈ ویکسینیشن کی تعداد 152.89 کروڑ سے متجاوز

ملک کی 28 ریاستوں میں 4461 افراد کووڈ کی نئی شکل اومیکرون سے متاثر پائے گئے ہیں، جن میں سب سے زیادہ 1247 مہاراشٹرا میں، 645 راجستھان میں اور 546 دہلی میں ہیں۔

نئی دہلی: گزشتہ 24 گھنٹوں میں ملک بھر میں 92 لاکھ سے زیادہ افراد کو کووڈ ویکسین لگائی گئی۔ اس کے ساتھ ہی مجموعی ویکسینیشن 152.89 کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے۔

صحت اور خاندانی بہبود کی مرکزی وزارت نے منگل کو یہاں بتایا کہ ملک میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 90 لاکھ 7 ہزار 700 افراد کو کووڈ ویکسین لگائی گئی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی آج صبح 7 بجے تک 152 کروڑ 89 لاکھ 70 ہزار 294 افراد کو کووڈ ویکسین لگائی جاچکی ہے۔

وزارت نے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں کووڈ وائرس کے ایک لاکھ 68 ہزار 63 نئے مریض سامنے آئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ملک میں کورونا کے مریضوں کی تعداد آٹھ لاکھ 21 ہزار 446 ہو گئی ہے۔ یہ متاثرہ کیسز کا 2.29 فیصد ہے۔ یومیہ کیسز کی شرح 10.64 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

ملک کی 28 ریاستوں میں 4461 افراد کووڈ کی نئی شکل اومیکرون سے متاثر پائے گئے ہیں، جن میں سب سے زیادہ 1247 مہاراشٹرا میں، 645 راجستھان میں اور 546 دہلی میں ہیں۔ اومیکرون سے 1711 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔

وزارت نے کہا کہ اسی مدت میں 69959 لوگوں کو کووڈ سے شفایاب ہوئے ہیں۔ اب تک مجموعی طور پر تین کروڑ 45 لاکھ 70 ہزار 131 لوگ کووڈ سے صحت یاب ہو چکے ہیں اور یہ شرح 96.36 فیصد ہے۔

گزشتہ 24 گھنٹوں میں ملک میں 15 لاکھ 79 ہزار 928 کووڈ ٹسٹ کیے گئے ہیں اور اب تک کل 69 کروڑ 31 لاکھ 55 ہزار 280 کووڈ ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔

سپریم کورٹ مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز تقریر پر فوری سماعت کے لیے رضامند

0

مسٹر سبل نے عرضی میں مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز تقریر کو بہت اہم معاملہ قرار دیا اور جلد سماعت کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایسے وقت میں رہ رہے ہیں جب ملک میں ‘ستیہ میو جیتے‘ کے نعرے بدل چکے ہیں۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے ہری دوار اور دہلی میں ’دھرم سنسد‘ کے پروگراموں میں مبینہ طور پر مسلمانوں کے خلاف کی گئی قابل اعتراض اور اشتعال انگیز تقاریر سے متعلق عرضیوں کی جلد سماعت کی عرضی پیر کو قبول کر لی۔

چیف جسٹس این وی رمن، جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس ہیما کوہلی کی بنچ کے سامنے ’خصوصی تذکرہ‘ کے تحت سینئر وکیل کپل سبل نے پی آئی ایل پر جلد سماعت کی مانگ کی تھی۔

عدالت عظمیٰ نے پٹنہ ہائی کورٹ کے سابق جج اور سینئر وکیل انجنا پرکاش، سابق مرکزی وزیر اور سینئر ایڈوکیٹ سلمان خورشید اور دیگر کی درخواستوں پر تیزی سے سماعت کرنے پر اتفاق کیا۔ مسٹر سبل کی بات سننے کے بعد بنچ نے کہا ’’ہم اس کا جائزہ لیں گے‘‘۔

مسٹر سبل نے عرضی میں مسلمانوں کےخلاف اشتعال انگیز تقریر کو بہت اہم معاملہ قرار دیا اور جلد سماعت کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایسے وقت میں رہ رہے ہیں جب ملک میں ‘ستیہ میو جیتے‘ کے نعرے بدل چکے ہیں۔

ابھی تک کوئی گرفتاری نہیں

بنچ نے مسٹر سبل سے پوچھا کہ کیا کوئی تحقیقات ہو رہی ہے؟ اس پر انہوں نے کہا کہ ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے، لیکن ابھی تک کوئی گرفتاری نہیں ہوئی ہے اور لگتا ہے عدالت کی مداخلت کے بغیر کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔

خیال رہے گزشتہ سال 17 اور 19 دسمبر کو دہلی اور ہری دوار میں منعقدہ دو الگ الگ پروگراموں میں ہندو یووا واہنی کی طرف سے ‘دھرم سنسد‘ پر مسلمانوں کے خلاف قابل اعتراض اشتعال انگیز تقریریں کرنے کے الزامات ہیں۔ درخواستوں میں الزام لگایا گیا ہے کہ کئی ہندو مذہبی رہنماؤں نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے کی کال دی تھی۔

وکلاء، صحافیوں اور کئی سماجی کارکنوں کی طرف سے دائر درخواستوں میں خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دے کر واقعات کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

عرضی داخل کرنے والوں میں سابق جج خورشید، سینئر ایڈوکیٹ دشینت دوے اور پرشانت بھوشن شامل ہیں۔

ونکیاہندوستانی برادری سے ملک کی ترقی میں تعاون کرنے کی وینکیا نائیڈوکی اپیل

0
ونکیاہندوستانی برادری سے ملک کی ترقی میں تعاون کرنے کی وینکیا نائیڈوکی اپیل

ایم ونکیا نائیڈو نے بیرون ممالک میں مقیم ہندوستانی برادری سے ملک کی ترقی میں تعاون کرنے کی اپیل کی۔

نئی دہلی،: نائب صدر ایم ونکیا نائیڈو نے اتوار کو بیرون ممالک میں مقیم ہندوستانی برادری سے ملک کی ترقی میں تعاون کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہندوستانی عالمی فلسفے کے حقیقی نمائندے ہیں ’پرواسی بھارتیہ دوس‘ کے موقع پر یہاں جاری ایک پیغام میں مسٹر نائیڈو نے کہا کہ آزادی کے امرت مہوتسو کے موقع پراین آر آئیز کو ہندوستان کی ترقی کی کہانی میں حصہ لے کر تعاون کرنا چاہیے انہوں نے کہا ’’پرواسی بھارتیہ دوس پر بیرون ممالک میں مقیم ہندوستانی بہنوں اور بھائیوں کے لیے نیک خواہشات کا اظہارکرتا ہوں، میں آپ کے روشن اور صحت مند مستقبل کیلئے دعا گو ہوں۔ آپ ہندوستانی عالمی فلسفہ کے حقیقی نمائندے ہیں‘‘۔

دین الٰہی اور شہنشاہ اکبر کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی کوشش

0
دین الٰہی اور شہنشاہ اکبر کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی کوشش
دین الٰہی اور شہنشاہ اکبر کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی کوشش

‘صلح کل’ کی پالیسی میں ‘دین الٰہی’ کا جوہر موجود تھا جسے اکبر نے نہ صرف مذہبی مقاصد کے لیے بلکہ عام سامراجی انتظامی پالیسی اور اپنی مذہبی رواداری کے ایک حصے کے طور پر اختیار کیا تھا

مغل حکمران جلال الدین اکبر 1542 میں ہندوستان کے صوبہ سندھ کے امر کوٹ کے علاقے راجپوتانہ میں پیدا ہوئے۔ یعنی وہ پیدائشی طور پر ہندوستانی تھے۔ چوں کہ ان کی پیدائش اور پرورش ہندوستان میں ہوئی تھی، اس لیے انہوں نے مختلف مذاہب کے لوگوں کو ایک ساتھ رہتے ہوئے دیکھا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کی مخلوط ثقافت کا اکبر پر ایسا اثر ہوا کہ اقتدار ملنے کے بعد انہوں نے تمام مذاہب کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش شروع کر دی۔

اکبر نے ہندوستان کے مستقبل کو سب کے ساتھ مل جل کر رہنے سے منسلک کیا اور ہم وطنوں کے سامنے صلح کل (سب کے ساتھ امن اور ہم آہنگی) کا نظریہ پیش کیا۔ انہوں نے ‘دین الٰہی’ کے نام سے ایک پہل کی اور ہندوستان میں سب سے پہلے فتح پور سیکری میں سرو دھرم سبھا کے انعقاد کے لیے ایک خصوصی عبادت خانہ بنا کر ایک نئی مثال قائم کی گئی۔

انہوں نے تمام مذاہب کے لوگوں کو ایک ساتھ جمع کر مذہبی اتحاد قائم کرنے کی انوکھی کوشش کی۔ 580 سال قبل اکبر کی مذہبی اتحاد قائم کرنے کی اس کوشش کی مخالفت اور حمایت دونوں طرح کے ردعمل سامنے آئے تھے۔

بعض لوگوں کا خیال تھا کہ اکبر نے دنیا کے سامنے ایک نیا مذہب پیش کیا ہے، جب کہ کچھ مورخین کی رائے ہے کہ دین الہی کے ذریعے نئے مذہب کو متعارف کرانے کی بات غلط ہے۔

‘دین الٰہی’ کی تعبیر ایک الگ مذہب کے طور پر کرنا غلط

وکی پیڈیا میں دین الٰہی کی تشریح اس طرح کی گئی ہے کہ "دین الٰہی سے متعلق ایک نیا مذہب ہونے کا نظریہ ایک غلط فہمی ہے جو بعد کے برطانوی مورخین کی طرف سے ابوالفضل کے کاموں کے غلط ترجمانی کی وجہ سے پیدا ہوئی۔

تاہم، یہ بھی تسلیم کیا جاتا ہے کہ دین الٰہی کے جوہر پر مشتمل صلح کل کی پالیسی کو اکبر نے نہ صرف مذہبی مقاصد کے لیے بلکہ عام شاہی انتظامی پالیسی کے ایک حصے کے طور پر اختیار کیا تھا اور اور مذہبی ہمدردی کی اپنی پالیسی کی بنیاد بنائی۔

1605 میں اکبر کی وفات کے وقت ان کی مسلم عوام کے درمیان عدم اطمینان کا کوئی اشارہ نہیں ملتا ہے، اور حضرت عبدالحق (شیخ عبدالحق محدث دہلوی) جیسے عالم دین سے متعلق کہا جاتا ہے کہ اکبر سے ان کے قریبی تعلقات برقرار رہے۔

دین الٰہی کی تردید

تاہم صوبہ بنگال کے قاضی اور مشہور مذہبی رہنما احمد الفاروق سرہندی نے اکبر کے دین الٰہی کے خیال کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے اسلام مخالف قرار دیا۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ بعض مسلم علمائے کرام کا خیال تھا کہ اکبر ایک نئے دین کی تشکیل دے رہے ہیں، جب کہ عام لوگوں کا خیال تھا کہ اکبر کی کوشش صرف اس بات کی تھی کہ عوام ایک دوسرے کے مذہب کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کے مذہبی نظریات کو سمجھیں اور ان کا احترام کرنا سیکھیں۔

انہوں نے تمام مذاہب کے درمیان اتحاد پیدا کرنے کی کوشش کی تھی نہ کہ اختلاط کی۔ اکبر کی یہ کوشش فتح پور سیکری کی عظیم الشان عمارتوں سے آگے نہ بڑھ سکی، لیکن کم از کم ایسا ضرور ہوا کہ ہندوستان کے لوگوں کو پہلی بار سیکولرازم کے نقطہ نظر سے آشنا ہونے کا موقع ملا۔

اکبر کے دل میں صوفی بزرگوں کی عظمت

اکبر کی خصوصیت یہ تھی کہ وہ صوفی بزرگوں کا بہت احترام کرتے تھے، انہوں نے اجمیر شریف میں خواجہ اجمیریؒ کے مزار پر متعدد بار حاضری دی اور فتح پور سیکری میں شیخ سلیم چشتیؒ کے مزار کے گرد پنچ محل کے نام سے ایک عمارت بھی بنوائی۔

کہا جاتا ہے کہ شہنشاہ اکبر کو صوفی بزرگ شیخ سلیم چشتیؒ کی دعاؤں کی برکت سے اولاد نرینہ یعنی بیٹے کی پیدائش ہوئی۔ اس لیے اکبر نے اپنے پہلے بیٹے کا نام سلیم رکھا۔ اکبر کے بعد ان کا بیٹا نورالدین محمد سلیم جہانگیر کے نام سے تخت پر بیٹھا۔

جہانگیر اور ایسٹ انڈیا کمپنی

جہانگیر کے دور میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان میں قدم رکھا اور ہندوستان میں قدم جمانے کے لیے جہانگیر کو انتہائی مہنگی غیر ملکی شراب پلا کر ان کا دل جیت لیا۔ جہانگیر کے دور میں پرتگالی فوج نے ہندوستانی زائرین سے بھرا ہوا رحیمی نامی جہاز کو یرغمال بنالیا لیا جس کے بعد جہانگیر نے پرتگالیوں کے زیر قبضہ شہر دمن کا قبضہ کرلیا اور ملک میں موجود تمام پرتگالیوں اور ان کے گرجا گھروں کو گرانے کا حکم دیا۔

جہانگیر کو اپنے بیٹوں کی بغاوت کا سامنا کرنا پڑا اور اسے اپنے بڑے بیٹے خسرو مرزا کو جیل بھیجنا پڑا اور پھر اپنے دوسرے بیٹے شہزادہ خرم (شاہجہاں) سے بھی لڑنا پڑا (اس بارے میں مزید تفصیلات اگلے حصے میں فراہم کی جائیں گی)۔

جہانگیر نے اس وقت کے شیعہ اور سنی علمائے کرام کو بھی پریشان کیا۔ شیعہ عالم قاضی نور اللہ شستری کو جھوٹے الزامات میں موت کی سزا سنائی گئی تھی جب کہ اکبر نے انہیں قاضی القضاۃ کے عہدے سے نوازا تھا۔ دوسری طرف اس نے معروف سنی عالم دین احمد الفاروق سرہندیؒ کو کافی تشدد کا نشانہ بنایا تھا، یہاں تک کہ انہیں قید بھی کیا تھا۔

ویسے جہانگیر کو مذہب سے کم اور شراب، کباب اور شباب میں زیادہ دلچسپی تھی۔ انہوں نے ہی انگریزوں کو ہندوستان میں پہلی فیکٹری لگانے کی اجازت دے کر مغل حکومت کی تباہی کی کہانی کا پہلا باب لکھا تھا۔ (جاری)

1 – پہلی قسط

2 – دوسری قسط

3 – تیسری قسط

4 – چوتھی قسط

5 – پانچویں قسط

6 – چھٹی قسط

7 – ساتویں قسط

8 – آٹھویں قسط

9 – نویں قسط

10 – دسویں قسط

11 – گیارہویں قسط

12 – بارہویں قسط

13 – تیرہویں قسط

14 – چودہویں قسط

 نیٹ پی جی کاؤنسلنگ 2021 کو سپریم کورٹ کی ہری جھنڈی

0
 نیٹ پی جی کاؤنسلنگ 2021 کو سپریم کورٹ کی ہری جھنڈی
 نیٹ پی جی کاؤنسلنگ 2021 کو سپریم کورٹ کی ہری جھنڈی

 نیٹ پی جی کاؤنسلنگ کے عمل میں مسلسل تاخیر کی وجہ سے پوسٹ گریجویٹ کلاس میں داخلہ لینے والے امیدوار ڈاکٹروں کا مسلسل احتجاج جاری تھا۔ بدلتے ہوئے حالات کے پیش نظر مرکزی حکومت نے عدالت سے اس معاملے پر جلد سماعت کی درخواست کی تھی۔ عدالت نے حکومت کی درخواست منظور کرتے ہوئے سماعت کی۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعہ کو میڈیکل کے پوسٹ گریجویٹ کورس میں معاشی طور پر کمزور طبقہ (ای ڈبلیو ایس) کو دس فیصد اور دیگر پسماندہ طبقہ (او بی سی) کو 27 فیصد ریزرویشن کے ساتھ قومی اہلیتی داخلہ ٹسٹ 2021 (نیٹ پی جی) کی کاؤنسلنگ کی اجازت دے دی۔ جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ اور اے ایس بوپنا کی بینچ نے اپنے حکم میں او بی سی کے لیے 27 فیصد ریزرویشن برقرار رکھا، لیکن کہا کہ ای ڈبلیو ایس امیدواروں کے لیے مقررہ آٹھ لاکھ روپے سالانہ آمدنی معیار زیر التوا عرضیوں کے آخری نتیجے کے دائر میں ہوگا۔

تین رکنی اجے بھوشن پانڈے کمیٹی کی سفارشات منظور

عدالت عظمیٰ کی بینچ نے اپنے آخری حکم میں واضح کیا کہ اس نے اس سال کے لیے اقتصادی طور پر کمزور طبقوں کے لیے آمدنی معیار کو جاری رکھنے کے لیے مرکزی حکومت کے ذریعہ تشکیل کردہ تین رکنی اجے بھوشن پانڈے کمیٹی کی سفارشات منظور کرلی ہیں۔

اس سے پہلے سپریم کورٹ نے جمعرات کو عرضی دہندگان اور ریزرویشن کی حامی مرکزی حکومت کا موقف تفصیل سے سننے کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔

عدالت عظمیٰ کے آج کے فیصلے کے ساتھ ہی نیٹ پی جی 2021 نتائج کی بنیاد پر داخلہ کے لیے جلد کاؤنسلنگ کا عمل آگے بڑھانے میں حائل رکاوٹیں دور ہوگئیں۔

کمزور طبقوں کے خاندان کے لیے 8 لاکھ روپے تک کی سالانہ آمدنی کی حد مقرر

ریاستی سرکاری میڈیکل کالجوں میں آل انڈیا کوٹہ کی نشستوں میں معاشی طور پر کمزور طبقوں کے لیے ریزرویشن کا معیار طے کرنے پر جاری تنازع کی وجہ سے کاؤنسلنگ کا عمل رک گیا تھا۔ مرکزی حکومت نے اقتصادی طور پر کمزور طبقوں کے خاندان کے لیے 8 لاکھ روپے تک کی سالانہ آمدنی کی حد مقرر کی ہے۔

بنچ ان معیار کو طے کرنے کے طریقہ کار کو تفصیلاً جاننا چاہتا تھا۔ اس کے پیش نظر مرکزی حکومت نے 30 نومبر 2021 کو تین رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے 31 دسمبر کو اپنی رپورٹ پیش کی۔ اس رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے مرکزی حکومت نے حال ہی میں ایک حلف نامہ داخل کرکے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ ای ایس ڈبلیو امیدواروں کے لیے 8 لاکھ روپے کی حد مناسب ہے۔

عدالت نے حکومت کی درخواست منظور کرتے ہوئے سماعت کی

کاؤنسلنگ کے عمل میں مسلسل تاخیر کی وجہ سے پوسٹ گریجویٹ کلاس میں داخلہ لینے والے امیدوار ڈاکٹروں کا مسلسل احتجاج جاری تھا۔ بدلتے ہوئے حالات کے پیش نظر مرکزی حکومت نے عدالت سے اس معاملے پر جلد سماعت کی درخواست کی تھی۔ عدالت نے حکومت کی درخواست منظور کرتے ہوئے سماعت کی۔

سماعت کے دوران سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کو یقین دلایا تھا کہ حکومت نے وسیع مشاورت اور ہر پہلو پر غور کرنے کے بعد ریزرویشن نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سے عام زمرے کے طلباء کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔

سماعت کے دوران مسٹر مہتا نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ موجودہ معاملے میں اگر خاندان کے تین افراد کو سالانہ 3-3 لاکھ روپے ملتے ہیں تو ان کی آمدنی 9 لاکھ روپے سمجھی جائے گی اور وہ ا ی ڈبلیو ایس زمرہ کے تحت نہیں آئیں گے۔