پیر, اکتوبر 5, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 276

نرسنگھانند کی گرفتاری پر  حامی مشتعل

0

پولیس سوامی نرسنگھانند کو لیکر ہری دوار کوتوالی پہنچی جہاں ان کے پیچھے بڑی تعداد میں ان کے حامی اور دھرم سنسد کی کور کمیٹی کے اراکین کوتوالی پہنچے۔ کوتوالی میں حامیوں نے نرسنگھانند کی گرفتاری پر ہنگامہ کرنا شرو ع کردیا۔

ہری دوار: اتراکھنڈ کے ہری دوار میں ہوئی دھرم سنسد میں دیئے گئے متنازعہ بیانات کے معاملات میں سنیچر کی رات پولیس نے دوسری گرفتاری کی۔ پولیس نے جونا اکھاڑا مہامنڈلیشور اور ڈاسنا پیٹھ کے پیٹھا دیشور سوامی یتی نرسنگھانند کو گرفتار کیا ہے جس کے بعد ان کے حامی مشتعل ہوگئے۔

پولیس کے مطابق سوامی نرسنگھانند کو سروانند گھاٹ سے گرفتار کیا ہے جہاں وہ جتیندر نارائن سنگھ تیاگی کی گرفتاری کے خلاف کھانا پینا چھوڑ کر بھوک ہڑتال کر رہے تھے۔ انہوں نے اپنے انشن کو ستیہ گرہ میں تبدیل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

پولیس سوامی نرسنگھانند کو لیکر ہری دوار کوتوالی پہنچی جہاں ان کے پیچھے بڑی تعداد میں ان کے حامی اور دھرم سنسد کی کور کمیٹی کے اراکین کوتوالی پہنچے۔ کوتوالی میں حامیوں نے نرسنگھانند کی گرفتاری پر ہنگامہ کرنا شرو ع کردیا۔

اسی دوران کوتوالی پہنچی بغیر نمبر پلیٹ کی ایمبولنس سے سوامی نرسنگھانند کو اسپتال لے جانے پولیس نے کوشش کی۔ جس پر حامیوں کے ہنگامہ کے مدنظر پولیس نے لاٹھیاں مار کر انہیں منتشر کیا اور وہاں سے ایمبولنس کو روانہ کیا۔ اور بعد میں سوامی نرسنگھانند کو پولیس جیپ میں بٹھاکر ہرملاپ مشن اسپتال لے جایا گیا۔ جہاں میڈیکل کے بعد ان کو اسپتال میں داخل کرادیا گیا۔

نرسنگھانند گزشتہ تین دنوں سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہوئے جس کی وجہ سے ان کو صحت سے متعلق پریشانیاں شروع ہوگئی تھیں۔ سوامی نرسنگھانند کی گرفتاری کے بعد دھرم سنسد کے کنوینر سوامی آنند سوروپ نے ستیہ گرہ جاری رہنے کا اعلان کیا ہے۔ اور گرفتاری کی مذمت اور مخالفت کی ہے اور اکھاڑہ پریشد اکھاڑے کے سنتوں سے ہندوؤں کے ساتھ سامنے آنے کی اپیل کی ہے۔

جہانگیر سے عالمگیر تک مسلمانوں کے خون سے رنگین مغلیہ سلطنت

0
جہانگیر سے عالمگیر تک مسلمانوں کے خون سے رنگین مغلیہ سلطنت
جہانگیر سے عالمگیر تک مسلمانوں کے خون سے رنگین مغلیہ سلطنت

اس تاریخی حقیقت کو ذکر کرنے کا مقصد یہ کہ جن حکمرانوں کو ہندوؤں کا دشمن بتایا جاتا ہے ان کی بادشاہت میں خود مسلمانوں کا کس قدر خون بہایا گیا

جہانگیر کا بیٹا شاہ جہاں

جہانگیر کے بعد اس کا بیٹا شہاب الدین محمد خرم، جن کا عرفی نام شاہ جہاں تھا، آگرہ کے تخت پر بیٹھے۔ شاہ جہاں کو بھی تخت آسانی سے نہیں ملا۔ انہوں نے اپنے بھائی شہزادہ خسرو کو بے دردی سے قتل کر دیا تھا۔

شاہ جہاں سے متعلق ایک اہم بات یہ تھی کہ جب جہانگیر کی طاقتور ملکہ نورجہاں نے شاہ جہاں سے قندھار پر ایرانی حملوں کا سامنا کرنے کو کہا تو شاہ جہاں نے اپنی سوتیلی ماں کا حکم ماننے سے انکار کرتے ہوئے باپ کی فوج کے خلاف بغاوت کر دی جس کے نتیجے میں قندھار مغلوں کے ہاتھ سے نکل گیا۔

شاہ جہاں کو بھی اپنے والد کی فوج کے ہاتھوں شکست کھانی پڑی اور پھر اپنی جان بچانے کے لیے اسے میواڑ کے ہندو بادشاہ مہارانا کرن سنگھ (دوم) کی پناہ لینی پڑی۔

مہارانا کرن سنگھ نے پہلے شاہ جہاں کو دلوارہ کی حویلی میں رکھا، اور بعد میں ادے پور کے شاندار جگ مندر محل میں سکونت فراہم کی۔ بعد میں جہانگیر نے شاہ جہاں کو معاف کر دیا اور وہ آگرہ واپس چلا گئے۔

اکبر کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی

اورنگ زیب نے خود کو مغل بادشاہ کے بجائے خلیفہ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی جبکہ دارا شکوہ اپنے پردادا اکبر کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی یا صلح کل کی وراثت کی احیا کرنا چاہتے تھے۔

جہانگیر کی موت کے بعد ان کے تیسرے بیٹے شہزادہ شہریار کو تقریباً ایک سال کے لیے اقتدار ملا لیکن شاہ جہاں نے انہیں تخت سے بے دخل کرکے مغل سلطنت پر قبضہ کر لیا اور پھروہ اپنی سوتیلی ماں نورجہاں کو نظربند کردیا۔ اس نے اپنے حقیقی بھائی شہریار اور بھتیجوں سمیت ایسے تمام رشتہ داروں کو قتل کر دیا جو ان کی طاقت کے لیے خطرہ بنا سکتے تھے۔

شاہ جہاں کی فوج کا ایران کی صفوی سلطنت، جنوب کی مسلم سلطنتوں اور سکھوں کے چھٹے گرو شری ہرگوبند جی کے ساتھ بھی جھڑپیں ہوئیں اور ان کی فوجوں کا پرتگالی فوج سے بھی مقابلہ ہوا۔

مسلمانوں کا قتل

ان تاریخی حقائق کو تذکرہ کرنے کا مقصد صرف یہ بتانا ہے کہ جن حکمرانوں کو ہندوؤں کا دشمن بتایا جاتا ہے ان کی بادشاہت میں خود مسلمانوں کا کس قدر خون بہایا گیا۔ جب بھائی کو اقتدار کی خاطر اپنے بھائی کو قتل کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں ہوئی تو پھر اقتدار کے لیے خطرہ بننے والے دوسرے مذہب کے حکمرانوں کی کوئی پرواہ کیسے کرے۔

ویسے شاہ جہاں کو تاج محل جیسی عمارت کی تعمیر اور دارالحکومت آگرہ سے دہلی منتقل کرنے اور لال قلعہ اور جامع مسجد جیسی عظیم الشان عمارتوں کی تعمیر کے لیے زیادہ یاد کیا جاتا ہے۔ شاہ جہاں کا نام تاریخ میں کہیں بھی ہندوؤں پر مظالم یا مذہبی امتیاز کے لیے درج نہیں ہے۔ شاہ جہاں کے بعد ان کے بیٹوں میں اقتدار کی زبردست لڑائی ہوئی اور پھر ان کے بیٹوں کے ساتھ وہی ہوا جو انہوں نے اپنے بھائیوں کے ساتھ کیا تھا۔

شاہجہاں اور ان کے بیٹے

شاہ جہاں کے چار بیٹے تھے، دارا شکوہ، اورنگ زیب، مراد اور شجاع، اور چاروں اپنے والد کی وفات کے بعد ہندوستان کا حکمران بننے کے خواہشمند تھے، جب کہ شاہ جہاں اپنی سلطنت بڑے بیٹے دارا شکوہ کے حوالے کرنا چاہتے تھے۔

دارا شکوہ – سیکولر اور کھلے ذہن کے مالک

دارا شکوہ ایک عظیم عالم اور سیکولر سیکولر شخصیت کے مالک تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ مذہبی اتحاد کے پروگرام جسے ان کے پردادا اکبر نے شروع کیا تھا اس صلح کل کو دوبارہ شروع کیا جائے۔

1657 عیسوی میں شاہ جہاں بیمار ہو گئے جس کے بعد یہ خبر پھیل گئی کہ شاہ جہاں کا انتقال ہو گیا ہے اور دہلی میں موجود دارا شکوہ اپنے والد کی موت کو چھپا رہا ہے۔ اس کے بعد چاروں بیٹوں میں جنگیں ہو ئیں۔ بھائیوں کے درمیان اس لڑائی میں صرف اورنگ زیب رہ گئے اور باقی تین کا قتل ہوگیا۔

اورنگ زیب کا دور حکومت

شاہ جہاں اپنی بیماری سے ٹھیک ہو گئے لیکن اورنگ زیب نے انہیں گرفتار کر کے آگرہ میں قید کر دیا اور دہلی کے تخت نشیں ہوگئے۔ اورنگ زیب کا اصل نام محی الدین محمد تھا۔ انہوں نے ہندوستان پر 49 سال تک حکومت کی۔

مغل حکمرانوں میں اورنگ زیب کا دور حکومت سب سے زیادہ متنازعہ رہا۔ اس نے دنیا میں خود کو ایک متشدد مسلمان کے طور پرمتعارف کرایا اور سب کو بتانے کی کوشش کی کہ وہ بھی سرکاری خزانے سے کوئی پیسہ نہیں لیتے اور قرآن پاک کے نسخے لکھ کر اور ٹوپیاں بیچ کر اپنا خرچہ چلاتے ہیں۔ تاہم ہندوستان کے کسی مورخ نے اورنگ زیب کے نسخے نہیں دیکھے۔ ہاتھ سے لکھا ہوا قرآن امریکہ کے کسی بھی بازار میں نہیں پائے گئے اور کسی کو نہیں معلوم کہ اورنگزیب کے ہاتھ سے بنی ٹوپیاں کہاں فروخت ہوئیں۔

اسلامی قانون متعارف کرانے کی کوشش

درحقیقت اورنگ زیب اپنے بھائیوں کو قتل کرنے اور باپ کو ساڑھے سات سال تک قید رکھنے کے جرم سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لیے مغل بادشاہ کے بجائے خود کو مسلمانوں کا خلیفہ بنا کر پیش کرنا چاہتے تھے۔ اورنگ زیب نے بھی اپنے عہد میں اسلامی قانون متعارف کرانے کی کوشش کی اور شراب نوشی، جوا کھیلنے، عورتوں کے ستی ہونے اور لڑکوں کو ہیجڑہ (مخنث) بنانے پر پابندی لگا دی۔

انہوں نے جزیہ نام کا ٹیکس بھی لگایا تاکہ اس کی مملکت کو مکمل طور پر اسلامی ریاست تصور کیا جائے لیکن انہیں اس وقت شدید دھچکا لگا جب مکہ کے حکمران (جسے اشراف کہا جاتا ہے) جو کعبہ شریف نگران تھے نے اورنگ زیب کی حکومت کو اسلامی حکومت کے طور پر قبول کرنے سے انکار کر دیا اورنگزیب کی طرف سے بھیجے گئے تحائف بھی واپس کردئے گئے۔ (جاری)

1 – پہلی قسط

2 – دوسری قسط

3 – تیسری قسط

4 – چوتھی قسط

5 – پانچویں قسط

6 – چھٹی قسط

7 – ساتویں قسط

8 – آٹھویں قسط

9 – نویں قسط

10 – دسویں قسط

11 – گیارہویں قسط

12 – بارہویں قسط

13 – تیرہویں قسط

14 – چودہویں قسط

15 – پندرہویں قسط

ایس پی ایم ایل اے ناہید حسن گرفتار، 14دنوں کی عدالتی تحویل میں بھیجا گیا جیل

0

پولیس ذرائع نے یہاں بتایا کہ ایس پی امیدوار ناہید حسن کو کیرانہ ۔ شاملی مارگ سے گینگسٹر ایکٹ کے تحت گرفتار کر کے ایڈیشنل اینڈسیشن کورٹ میں پیش کیا گیا جہاں سے عدالت نے انہیں 14دنوں کی عدالتی تحویل میں جیل بھیج دیا۔

شاملی: اترپردیش کے ضلع شاملی میں ایس پی ایم ایل اے ناہید حسن کو ہفتہ کو پولیس نے گرفتار کرلیا۔

پولیس ذرائع نے یہاں بتایا کہ ایس پی امیدوار کو کیرانہ ۔ شاملی مارگ سے گینگسٹر ایکٹ کے تحت گرفتار کر کے ایڈیشنل اینڈسیشن کورٹ میں پیش کیا گیا جہاں سے عدالت نے انہیں 14دنوں کی عدالتی تحویل میں جیل بھیج دیا۔

قابل ذکر ہے کہ فروری 2021 میں پولیس انتظامیہ کی جانب سے کیرانہ ایم ایل اے چودھری ناہید حسن، ان کی ماں و سابق ایم پی تبسم حسن سمیت 42 افراد کے خلاف گینگسٹر ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔مقدمہ درج ہونے کے بعد سے ہی ناہید حسن اس معاملے میں مطلوب چل رہےتھے۔

کیرانہ کوتوالی انچارج انل کپروان نے بتایا کہ آج جمعہ کو ایس پی امیدوار ناہید حسن عدالت میں پیش ہونے کے لئے جا رہے تھے تبھی کیرانہ کوتوالی پولیس نے ان کو بائی پاس روڈ سے گرفتار کرلیا اور انہیں اڈیشنل ڈسٹرکٹ و سیشن کورٹ فاسٹ ٹریک میں پیش کیا گیا۔

وہیں ایس پی لیڈر نے گرفتاری کے بعد میڈیا نمائندوں سے کہا کہ وہی وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کی طرح ڈرنے و رونے والے نہیں ہیں۔ آنے والے 10 فروری کو کیرانہ اسمبلی حلقے کی عوام ان کے حق میں ووٹنگ کریں گے۔

ملحوظ رہے کہ 2 دن قبل سماج وادی پارٹی نے کیرانہ سے پارٹی کے موجودہ ایم ایل اے ناہید حسن کو اسمبلی انتخابات 2022 کے لئے اپنا امیدوار بنایا ہے۔

بہوجن سماج پارٹی کی جانب سے امیدواروں کی پہلی لسٹ جاری

0

بہوجن سماج پارٹی صدر مایاوتی نے اپنے یوم پیدائش کے موقع پر یہاں واقع پارٹی دفتر میں امیدواروں کی پہلی لسٹ جاری کی۔ اس میں 53 امیدواروں کے نام شامل ہیں۔

لکھنؤ: بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) نے اترپردیش کے اسمبلی انتخابات کے لئے پہلے مرحلے کے تحت 58 سیٹوں پر ہونے والے الیکشن کے لئے اپنے امیدواروں کی پہلی فہرست جاری کردی ہے۔

بی ایس پی صدر مایاوتی نے اپنے یوم پیدائش کے موقع پر یہاں واقع پارٹی دفتر میں امیدواروں کی پہلی لسٹ جاری کی۔ اس میں 53 امیدواروں کے نام شامل ہیں۔ بس ایس پی نے مغربی اترپردیش برج علاقے کی جن 53 سیٹوں پر امیدواروں کا اعلان کیا ہے ان میں 14مسلم (26فیصدی) امیدواروں کو اپنا امیدوار بنایا ہے۔

امیدواروں کی لسٹ

کیرانہ سے راجندر سنگھ اپادھیائے، شاملی سے برجیندر ملک، بڑھانا سے حاجی محمد انیس، چرتھاول سے سلمان سعید، پرقاضی(ریزرو) سے سریندر پال سنگھ، مظفر نگر سے پشپانکر پال، کھتولی سے ماجد صدیقی، میرا پور سے محمد سالم، سوالخاص سے مکرم علی عرف ننہے خان، سردھنا سے سنجیو کمار دھاما، ہستنا پور (ریزرو) سے سنجیو کمار جاٹو، کٹھور سے کشل پال ماوی عرف کیپی ماوی، میرٹھ کینٹ سے امت شرما، میرٹھ جنوب سے کنور دلشاد علی، چھپرولی سے محمد شاہین چودھری، بڑوت سے انکت شرما، لونی سے حاجی عاقل چودھری، مراد نگر حاجی ایوب ادریسی، غازی آباد سے سریش بنسل کے نام شامل ہیں۔

وہیں مودی نگر سے ڈاکٹر پونم گرگ، دھولانا سے وارث پردھان، ہاپوڑ (ریزرو) سے منیش کمار سنگھ، گڑھ مکتیشور سے محمد عارف، نوئیڈا سے کرپا رام شرما، دادری سے منویر سنگھ بھاٹی، جیور سے نریندر بھاٹی ڈاڈا، سکندرآباد سے چودھری منویر سنگھ، سیانہ سے سنیل بھاردواج، انوپ شہر سے رامیشور سنگھ لودھی، ڈبائی سے کرن پال سنگھ عرف کے پی سنگھ، شکار پور سے محمد رفیق عرف پھڈا، کھرجا (ریزرو) سے ونود کمار جاٹو، خیر سے (ریزرو) سے پریم پال سنگھ جاٹو، برولی سے نریندر شرما، اترولی سے ڈاکٹر اومویر سنگھ، چھرا سے تلک راج یادو پارٹی کے امیدوار ہیں۔

جبکہ کول سے محمد بلال، علی گڑھ سے راضیہ خان، اگلاس (ریزرو) سے سشیل کمار جاٹو، چھاتا سے سون پال سنگھ، مانٹ سے شیام سندر شرما، گوردھن راج کمار راوت، متھرا سے جگجیت چودھری، بلدیو (ریزرو) اشوک کمار سمن ایڈ، اعتماد پور سے سرویش بگھیل، آگرہ کینٹ (ریزرو) سے بھارتیندو ارون، آگرہ جنوب سے روی بھاردواج، آگرہ دیہات سے کرن پربھا کیسری، فتح پور سیکری سے ڈاکٹر مکیش کمار راجپوت، خیر گڑھ سے گنگا دھر سنگھ کشواہا، فتح آباد سے شیلندر پرتاپ سنگھ عرف شیلو، باہ سے نتن ورما پارٹی کے امیدوار بنائے گئے ہیں۔

پہلے مرحلے کی ووٹنگ 10 فروی کو ہوگی

قابل ذکر ہے کہ پہلے مرحلے میں 10 فروی کو مغربی اترپردیش اور برج علاقے کے 11 اضلاع کی 58 سیٹوں پر ووٹنگ ہوگی۔ اس سیٹوں پر امیدواروں کے لئے پرچہ نامزدگی کا اعلان ہوچکا ہے۔ نامزدگی کی آخری تاریخ 21 جنوری ہے۔ پہلے مرحلے میں مغربی اترپردیش کے مسلم اکثریتی مظفر نگر میں جن 6 سیٹوں کے لئے امیدواروں کا اعلان کیا ہے ان میں چار سیٹوں (بڑھانا، چرتھاول، کھتولی اور میرا پور) پر مسلم امیدوار انتخابی میدان میں اتارے ہیں۔

وہیں ضلع میرٹھ میں سلوا خاص اور میرٹھ جنوب، باغپت ضلع میں چھپرولی، غازی آباد ضلع میں لونی اور مراد ناگر، ہاپوڑ میں دھولانا اور گڑھ مکتیشور، علی گڑھ کے کول اور علی گڑھ جبکہ بلندشہر کے شکا پور اسمبلی سیٹ سے مسلم امیدوار انتخابی میدان میں اتارے ہیں۔

حال ہی میں ایس پی۔آر ایل ڈی اتحاد کی جانب سے مغربی اترپردیش کی 29 سیٹوں کے لئے اپنے امیدواروں کی پہلی فہرست جاری کی تھی جس میں 9 مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دئیے گئے ہیں۔ دلچسپ ہے کہ دھولانا، کول اور علی گڑھ سیٹ پر ایس پی اور بی ایس پی دونوں نے ہی مسلم امیدواروں کو انتخابی میدان میں اتارا ہے۔

نالندہ ضلع: مشتبہ حالات میں چار لوگوں کی موت

0
نالندہ ضلع: مشتبہ حالات میں چار لوگوں کی موت
نالندہ ضلع: مشتبہ حالات میں چار لوگوں کی موت

بہار میں نالندہ ضلع کے سوہسرائے تھانہ علاقے میں چار لوگوں کی مشتبہ حالت میں موت ہو گئی۔ بہار شریف کے سب ڈویژنل افسر کمار انوراگ اور صدر پولیس ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر شبلی نعمانی موقع پر پہنچے اور اہل خانہ سے ملاقات کی۔

راجگیر: بہار میں نالندہ ضلع کے سوہسرائے تھانہ علاقے میں چار لوگوں کی مشتبہ حالت میں موت ہو گئی۔

پولیس ذرائع نے ہفتہ کو یہاں بتایا کہ چھوٹی پہاڑی اور پہاڑتلی میں جمعہ کی دیر رات چار لوگوں کی مشتبہ حالات میں موت ہو گئی۔ مرنے والوں کی شناخت بھاگو مستری (55)، منا مستری (55)، دھرمیندر عرف ناگیشور (50) اور کالی چرن مستری (48) کے طور پر کی گئی ہے۔ لواحقین کا کہنا ہے کہ کل رات گئے شراب پینے سے سب کی حالت خراب ہوگئی جس کے بعد ان کی موت ہو گئی۔

ذرائع نے بتایا کہ واقعہ کی اطلاع ملنے کے بعد بہار شریف کے سب ڈویژنل افسر کمار انوراگ اور صدر پولیس ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر شبلی نعمانی موقع پر پہنچے اور اہل خانہ سے ملاقات کی۔

دریں اثنا، بہار شریف کے سب ڈویژنل افسر کمار انوراگ نے بتایاکہ زہریلی شراب پینے سے موت کی صورتحال واضح نہیں ہو پائی ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی معاملے کا انکشاف ہو پائے گا۔

کورونا کی لہر میں شدت: جموں و کشمیر میں ویک اینڈ لاک ڈاؤن

0
کورونا کی لہر میں شدت: جموں و کشمیر میں ویک اینڈ لاک ڈاؤن
کورونا کی لہر میں شدت: جموں و کشمیر میں ویک اینڈ لاک ڈاؤن

ملک بھر کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر میں بھی کورونا کے یومیہ کیسز میں ہوشربا اضافہ ہو رہا ہے جس سے لوگوں میں تشوش کی لہر پھیل گئی ہے۔ جموں و کشمیر انتظامیہ نے یونین ٹریٹری میں ’ویک اینڈ‘ لاک ڈاؤن نافذ کر دیا ہے۔

سری نگر: کورونا کے یومیہ کیسز میں درج ہو رہے ہوشربا اضافے کے پیش نظر جموں و کشمیر انتظامیہ نے یونین ٹریٹری میں ’ویک اینڈ‘ لاک ڈاؤن نافذ کر دیا ہے۔

یونین ٹریٹری میں ’ویک اینڈ‘ لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا فیصلہ چیف سکریٹری، جو محکمہ ڈیزاسٹر منیجمنٹ، ریلیف، بحالی و تعمیر نو جموں وکشمیر کی سٹیٹ ایگزیکٹیو کمیٹی کے چیئرمین بھی ہیں، نے گذشتہ شام کورونا کی موجودہ صوتحال کی تفصیلی جائزہ میٹنگ کے بعد لیا۔

سٹیٹ ایگزیکیٹو کمیٹی کی طرف سے جاری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ یونین ٹریٹری میں ’ویک اینڈس‘ پر تمام غیر ضروری سرگرمیوں پر پابندی عائد ہوگی۔ حکم نامے میں کہا گیا کہ علاوہ ازیں یونین ٹریٹری کے تمام اضلاع میں شبانہ کرفیو رات کے نو بجے سے صبح کے چھ بجے تک مسلسل جاری رہے گا۔

ایس ای سی نے حکم نامے میں کہا ہے کہ کمیونٹی لیڈروں، مارکیٹ انجمنوں و دیگر متعلقین کو ساتھ لے کر اس وبا کی لہر کو کم کرنے کے لئے تمام تر کوششیں کی جائیں گی۔ یونین ٹریٹری کے جملہ ضلع مجسٹریٹوں کو ٹیسٹنگ کو تیز تر کرنے اور دستیاب وسائل کو بھر پور طریقے سے استعمال کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔

چیف میڈیکل افسروں سے کہا گیا ہے کہ وہ رووزانہ بنیادوں پر دستیاب آر ٹی – پی سی آر سہولیات کے استعمال کی رپورٹ متعلقہ ضلع مجسٹریٹ کے دفاتر میں پیش کریں۔

قابل ذکر ہے کہ ملک بھر کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر میں بھی کورونا کے یومیہ کیسز میں ہوشربا اضافہ ہو رہا ہے جس سے لوگوں میں تشوش کی لہر پھیل گئی ہے۔ یونین ٹریٹری انتظامیہ اس لہر کی روک تھام کو یقینی بنانے کے لئے جنگی بنیادوں پر اقدام کر رہی ہے۔

جلپائی گوڑی: انجن کی خرابی کی وجہ سے ہوا ٹرین حادثہ: ریلوے

0

جلپائی گوڑی ٹرین حادثہ کی تحقیقات ابھی جاری ہے تاہم ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بیکانیر-گوہاٹی ایکسپریس کے انجن میں خرابی پیدا ہونے کی وجہ سے یہ حادثہ ہوا

کلکتہ: میناگوری ۔ جلپائی گوڑی ٹرین حادثہ کی تحقیقات ابھی جاری ہے۔ تاہم ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بیکانیر-گوہاٹی ایکسپریس کے انجن میں خرابی پیدا ہونے کی وجہ سے یہ حادثہ ہوا ہے۔ اس انجن ویپ چار کیٹیگری میں تھا۔ اس میں چار کرشن موٹرز ہیں۔

ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ انجن کی ایک کرشن موٹر خراب ہو گئی تھی۔ اس کی وجہ سے حادثہ ہوا ہے۔ کرشن انجن کو ریل لائن میں پہیے کو پکڑنے اور پہیے کو گھمانے میں مدد دیتی ہے۔

اس دوران ٹرین کے ڈرائیور اور اسسٹنٹ ڈرائیور نے بتایا کہ تمام سگنل گرین تھے۔ ٹرین 40 کلومیٹر فی گھنٹہ نہیں بلکہ 95 سے 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی تھی۔ اچانک ایک جھٹکا لگا۔ انہوں نے ایمرجنسی بریک لگائی اور ٹرین کو روک دیا۔ ڈی جی آر پی ایف نے پائلٹ اور اسسٹنٹ لوکو پائلٹ سے اس پورے معاملے میں بات کی ہے۔ کمشنر آف ریلوے سیفٹی پہلے ہی ان سے بات کر چکے ہیں۔

ریلوے کے وزیر اشونی ویشنو نے جائے حادثہ کا معائنہ کرنے کے بعد نامہ نگاروں سے کہا کہ حادثے کی وجہ ٹرین کے انجن میں مکینیکل خرابی تھی۔ ابتدائی تفتیش میں یہی بات سامنے آئی ہے۔

دریں اثنا، میناگوری، جلپائی گوڑی کے ڈومہانی میں ہولناک ٹرین حادثے میں مرنے والوں کی تعداد 9 ہو گئی ہے۔ نارتھ بنگال میڈیکل کالج، میناگوری دیہی اسپتال اور جلپائی گوڑی کے سپر اسپیشلٹی اسپتال میں 36 لوگ زیر علاج ہیں۔

بنگال کے جلپائی گوڑی میں خوفناک ٹرین حادثہ، تین افراد ہلاک

0

بیکانیر-گوہاٹی ایکسپریس کے کئی ڈبے جمعرات کی شام پانچ بجے مغربی بنگال میں جلپائی گوڑی کے ڈوموہنی میں پٹری سے اتر گئے

کولکاتا: بیکانیر-گوہاٹی ایکسپریس کے کئی ڈبے جمعرات کی شام پانچ بجے مغربی بنگال میں جلپائی گوڑی کے ڈوموہنی میں پٹری سے اتر گئے۔ اس حادثے میں تین افراد کی موت ہو گئی ہے اور متعدد افراد کے ڈبوں میں پھنسے ہونے کا اندیشہ ہے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق ٹرین نمبر 15633 جمعرات کی صبح 5.44 بجے پٹنہ ریلوے اسٹیشن سے گوہاٹی روانہ ہوئی تھی۔ یہ حادثہ مغربی بنگال میں جلپائی گوڑی نیو ڈوموہنی اور نیو میناگوری کے درمیان پیش آیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ ٹرین کے 12 ڈبے پٹری سے اتر گئے ہیں۔

ریلوے حکام جائے حادثہ پہنچ گئے ہیں۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ چکی ہیں اور ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ کئی مسافروں کے کوچوں میں پھنسے ہونے کا اندیشہ ہے، جنھیں افسران بحفاظت نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اندھیرے کے باعث ریلیف اور ریسکیو آپریشن میں مشکلات آ رہی ہیں۔

ریلوے نے حادثے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ریلوے نے ایک ہیلپ لائن نمبر 8134054999 جاری کیا ہے۔ زخمیوں کو علاج کے لیے اسپتال لے جانے کے لیے 50 سے زائد ایمبولینسیں بھیجی گئی ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے حادثے کے فوراً بعد بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی سے فون پر بات کی ہے۔ بیکانیر ایکسپریس منگل کی رات راجستھان کے بیکانیر سے روانہ ہوئی تھی۔

استعفی کا سلسلہ جاری، یوگی حکومت کے تیسرے وزیر ڈاکٹر دھرم سنگھ سینی نے دیا استعفی، اکھلیش نے کیا استقبال

0

یوگی حکومت میں محکمہ آیوش، فوڈ سیفٹی اور ڈرگ ایڈمنسٹریشن کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) ڈاکٹر دھرم سنگھ سینی نے جمعرات کو اپنے عہدے سے استعفی دے دیا۔

لکھنؤ: اترپردیش میں اسمبلی انتخابات سے پہلے بی جے پی کے اراکین اسمبلی و یوگی حکومت کے وزراء کے استعفی کا سلسلہ لگاتار جاری ہے۔ اسی کڑی میں یوگی حکومت میں محکمہ آیوش، فوڈ سیفٹی اور ڈرگ ایڈمنسٹریشن کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) ڈاکٹر دھرم سنگھ سینی نے جمعرات کو اپنے عہدے سے استعفی دے دیا۔

گذشتہ تین دنوں میں یوگی حکومت کے یہ تیسرے وزیر کا استعفی ہے۔ ضلع سہارنپور کے نکڑ سیٹ کی نمائندگی کرنے والے ڈاکٹر سینی نے گورنر آنندی بین پٹیل کو بھیجے استعفے میں کہا کہ وزیر کی حیثیت سے میں نے پوری جتن سے اپنے فرائض کی ادائیگی کی کوشش کی ہے۔ سینی بھی دیگر وزراء کی طرح بی جے پی حکومت میں دلتوں، پسماندہ طبقات اور اقلیتوں کو نظر انداز کئے جانے کا الزام لگاتے ہوئے استعفی دیا ہے۔

انہوں نے استعفی میں لکھا ’جن توقعات کے ساتھ دلتوں، پسماندہ طبقات، کسانوں، تعلیم یافتہ بے روزگار، چھوٹے اور متوسط طبقے کے کاروباریوں نے مل کر بی جے پی کو مکمل اکثریت کی حکومت بنانے کا کام کیا۔ ان کی اور دیگر عوامی نمائندوں کے تئیں لگاتار نظراندازی کے رویہ کی وجہ سے یوپی کے کابینہ سے استعفی دیتا ہوں‘۔

قابل ذکر ہے کہ منگل کو وزیر مزدور سوامی پرساد موریہ کے استعفی کے بعد بدھ کو وزیر جنگلات دارا سنگھ چوہان نے وزارت سے استعفی دے دیا تھا۔ جمعرات کو استعفی دینے والوں میں سینی کے علاوہ بی جے پی کے دو اراکین ونئے شاکیہ اور ڈاکٹر مکیش ورما بھی شامل ہیں۔

اکھلیش یادو نے کیا استقبال

ڈاکٹر سینی کے استعفی کے فیصلے کا سماج وادی پارٹی (ایس پی) سربراہ اکھلیش یادو نے استقبال کیا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر سینی کے ساتھ اپنی تصویر ٹویٹ پر شیئر کرتے ہوئے کہا ’سماجی انصاف‘ کے ایک اور سپاہی ڈاکٹر دھرم سنگھ سینی جی کے آنے سے سب کا میل۔ ملاپ ۔ملن کرنے والی ہماری ’مثبت اور پرترقی پذیر سیاست‘ کو مزید تقویت ملی ہے۔ ایس پی میں ان کا احترام و پرتپاک استقبال ہے۔ 

بائیس میں باہمی ہم آہنگی کی جیت یقینی ہے۔ 

دلچسپ ہے کہ دو دن قبل سینی نے سوامی پرساد موریہ کے دعوی کو خارج کیا تھا جس میں انہوں نے ان کے بی جے پی چھوڑ کر ایس پی میں شمولیت کا دعوی کیا تھا۔ سینی پسماندہ طبقات کے بڑے لیڈر ہیں۔ وہ چار دفعہ کے ایم ایل اے رہ چکے ہیں۔ گذشتہ بار انہوں نے ضلع سہارن پور کے ناکڑ سیٹ سے جیت درج کی تھی۔

اس سے پہلے آج ہی بی جے پی کے دو اراکین اسمبلی مکیش ورما فیروزآباد کی شکوہا آباد اور اوریا کی بدھونا سیٹ سے ونئے شاکیہ نے پارٹی کی پرائمری ممبر شپ سے استعفی دیا ہے۔

وزیر اعظم کی سیکیورٹی میں کوتاہی معاملے میں میڈیا ٹرائل اور بیان بازی پر روک لگائی جائے: گہلوت

0
وزیر اعظم کی سیکیورٹی میں کوتاہی معاملے میں میڈیا ٹرائل اور بیان بازی پر روک لگائی جائے: گہلوت
وزیر اعظم کی سیکیورٹی میں کوتاہی معاملے میں میڈیا ٹرائل اور بیان بازی پر روک لگائی جائے: گہلوت

وزیر اعلی اشوک گہلوت نے سپریم کورٹ سے اپیل کی ہے کہ وزیر اعظم کی سیکیورٹی میں کوتاہی کی تحقیقات مکمل ہونے تک میڈیا ٹرائل اور بیان بازی پر روک لگائی جائے۔

جے پور: راجستھان کے وزیر اعلی اشوک گہلوت نے سپریم کورٹ سے اپیل کی ہے کہ وزیر اعظم کی سیکیورٹی میں کوتاہی کی تحقیقات مکمل ہونے تک میڈیا ٹرائل اور بیان بازی پر روک لگائی جائے۔

مسٹر گہلوت نے بدھ کی رات سوشل میڈیا کے ذریعے کہا کہ سپریم کورٹ نے وزیر اعظم کی سیکیورٹی میں لاپرواہی کے معاملے کی تحقیقات کے لیے جسٹس اندو ملہوترا کی سربراہی میں چار رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ اب حقیقت جاننے کے لیے سب کو اس کمیٹی کی رپورٹ کا انتظار کرنا چاہیے۔

انہوں نے عدالت سے اپیل کی کہ معاملے کی تحقیقات مکمل ہونے تک میڈیا ٹرائل اور بیان بازی پر روک لگائی جائے۔